12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsسراج البیان

Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ بولے ، اے عزیز ، اس کا ایک باپ ہے جو بہت بڈھا اور بڑی عمر کا ہے سو اس کے بدلے میں ہم سے ایک کو پکڑ لے ہم تجھے نیک شخص دیکھتے ہیں (ف 2)

(ف 2) جب اس حربہ کو بھی انہوں نے چلتا ہوا نہ دیکھا ، تو دوسری صورت اختیار کی لگے لجاجت کرنے ، کہنے لگے کہ اس کا بوڑھا باپ غم وفراق میں گھل رہا ہوگا ، آپ ہم میں سے کسی ایک کو اپنے مقدمے میں رکھ لیجئے ، اور بنیامین کو چھوڑ دیجئے ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قاعدہ کا جواب دیا ، کہ یہ کیونکر ممکن ہے ، ہم تو اسی کو گرفتار کریں گے ، جس کے پاس سے ہمارا مال نکلا ہے ، ہم ظلم کا ارتکاب نہیں کرسکتے ۔
Ayahs 12:79–82

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

کہا ، اللہ کی پناہ ، ہم سوائے اس کے جس کے پاس سے ہم نے اپنا مال پایا ہے اور کسی کو پکڑیں اگر ہم ایسا کریں تو ہم بےانصاف ہوئے

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب وہ اس سے ناامید ہوئے تو اکیلے صلاح کرنے بیٹھے ۔ جو ان میں بڑا تھا بولا ، کیا تم نہیں جانتے کہ اس کے بارہ میں تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لیا ہے ، اور پہلے تم یوسفعلیہ السلام کے بارہ میں (بھی) قصور کر ہی چکے ہو ۔ تو میں تو اس ملک سے ہرگز نہ سرکوں گا جب تک میرا باپ مجھے حکم نہ دے ، یا اللہ میرا فیصلہ کرے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم باپ کے پاس چلے جاؤ ، اور کہو ۔ کہ اے باپ تیرے بیٹے نے چوری کی ۔ اور ہم نے وہی گواہی دی ، جو ہم جانتے تھے ۔ اور ہم پوشیدہ بات کے نگہبان نہ تھے

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور اس شہر (والوں) سے پوچھ ، جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے (پوچھ) جس میں ہم آئے ہیں ، اور ہم ضرور سچے ہیں ۔ (ف 1)

(ف 1) بالآخر یہ لوگ مایوس ہوگئے ، اور انہوں نے دیکھا کہ اب کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی ، اب بنیامین کا یہاں سے چھڑا لے جانا ناممکن ہے ، اس لئے اب اس سوچ میں پڑگئے کہ ابا کو کیا جواب دیں گے ، یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے پہلے ہی بدنام ہیں ، اب اور بھی بھرم کھل جائے گا ، ہم ابا کو یقین دلا کر لائے تھے ، کہ پوری پوری حفاظت کریں گے ، اب کس منہ سے کہیں گے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکا ، صلاح ومشورہ کے بعد قرار پایا کہ اصل واقع ان کے گوش گزار کردیا جائے ، اور کہہ دیا جائے کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے ، ہم کیا جانتے تھے کہ یہ اس طرح چور بنے گا ، ہمیں غیب کی کیا خبر تھی ، جو پہلے سے معلوم کرلیتے ، ہم کہیں گے آپ اپنی تسلی کے لئے قافلہ سے دریافت فرما لیجئے ، مصر سے تحقیق کیجئے ، ہم اس معاملہ میں بالکل سچے ہیں ، غرض یہ تھی کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے جھوٹے معاملہ کو ہم نے سچائی کا رنگ دے دیا تھا ، اور باپ کو باور کرانے کی کوشش کی تھی ، اس موقع پر تو ہمیں بالکل کسی فریب کی ضرورت نہیں ہمیں سچائی پر پورا اعتماد ہے ، ڈر کی کوئی وجہ نہیں ، یہ ایک قسم کی تسلی تھی ، جس سے انہوں نے اس سانحہ کو فراموش کرنے کی کوشش کی اور دل میں اس کی اہمیت گھٹانا چاہی ۔ حل لغات : فلن ابرح الارض : افعال ناقصہ میں سے ہے ، یہاں ترک کے معنوں میں مستعمل ہے ۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) بولا ، ہرگز نہیں بلکہ تمہارے والوں نے ایک بات گھڑلی ہے ۔ اب صبر بہتر ہے ۔ امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لائے گا ، وہی ہے خبردار حکمتوں والا ۔ (ف 1)

(ف 1) جب یہ لوگ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے ، اور انہوں نے یہ داستان غم سنائی ، تو آپ نے نہایت تاسف کے ساتھ اس خبر کو سنا ، مگر یقین نہ ہوا ، کیونکہ یہی لوگ تھے جنہوں نے اس سے قبل یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی جھوٹ بولا تھا ، فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو ، تم نے یہ قصہ گھڑ لیا ہے ، میں بہرحال صبر کا پتھر چھاتی پر رکھتا ہوں ، اور اس صدمہ کو برداشت کرتا ہوں ، مجھے خدا سے امید ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین دونوں بھائی بالآخر مجھ سے ضرور ملیں گے ، ۔ اور اللہ تعالیٰ ضرور ملاقات کا سامان بہم پہنچائیں گے ، یہ عجیب بات ہے کہ وجدان صحیح سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں ، اور بنیامین بھی ان کے پاس ہیں ، اور دونوں اکٹھے میرے پاس آئیں گے ، اور میر کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنیں گے ، مگر انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس دفعہ یہ لوگ بےقصور ہیں ، دور کی خبر معلوم ہوجاتی ہے ، مگر قریب کے حالات سے آگاہ نہیں ، اس لئے کہ غیب کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ، وہ جس قدر چاہتا ہے ، اپنے بندوں کو غیب سے مطلع کردیتا ہے ۔ انبیاء کا علم ووجدان جس سے ان کو غیوب پر اطلاع ہوتی ہے محض وقتی ہوتا ہے ، یہ ضرور نہیں کہ ہر وقت انہیں ہر چیز کا علم ہو ، البتہ اللہ کے منشاء کے مطابق وہ ضروریات کے متعلق کچھ نہ کچھ جانتے رہتے ہیں ، یہی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) مدت تک اصل حالات سے آگاہ نہیں ہوئے ۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہا اے افسوس یوسف (علیہ السلام) پر ۔ اور اس کی آنکھیں گم سے سفید ہوگئی تھیں اور وہ بارے غم کے اپنے آپ کو گھونٹ لیا تھا (ف 2)

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا غم ! (ف 2) باپ کا بیٹے کے فراق میں رونا اور غم کھانا قدرتی بات ہے ، مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) صرف یوسف (علیہ السلام) کے باپ ہی نہیں ، بلکہ ایک قوم کے بھی باپ ہیں ، جن کی جانب ان کو خلعت نبوت دے کر مبعوث کیا گیا ہے ، اس لئے غیر موزوں بات ہے کہ ایک پیغمبر اپنے بیٹے کے فراق میں ملت کے درد کو بھول جائے ۔ بات اصل یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) تبلیغ و اشاعت کے فرائض مدت سے ادا کر رہے تھے ، اور پیرانہ سالی میں سہارے کی ضروت تھی اپنی اولاد میں یوسف (علیہ السلام) کے سوا کوئی اہل نظر نہ آتا تھا ، جو قوم کا بہترین قائد بن سکے ، اس لئے اس کی گمشدگی کا غم نسبتا زیادہ ہوا ہے ، اور یہ غم واندوہ یوسف (علیہ السلام) کے لئے اس حیثیت سے نہیں ، کہ وہ پیارا بیٹا ہے ، بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ آپ کا بہترین وارث ہے ، اس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں ، یہ دراصل دین وملت کا ہی غم تھا ، جس سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) متاثر تھے ۔ حل لغات : (آیت) ” وابیضت عینہ : یعنی اخر ورقت ، آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ کظیم : جو اندر ہی اندر گھٹتا رہے ۔ اور اظہار غم نہ کرے ۔ (غصہ کا ضبط کرنے والا) اس سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صبر کے اندازہ ہو سکتا ہے ، روح اللہ : اللہ کی رحمت ، یہ یا تو بربتائے عقیدہ ہے ، کہ مسلمان کسی وقت بھی مایوس نہ ہو ، اور یا فراست پیغمبرانہ ہے کہ امید کا دیا قلب و دماغ میں روشن ہے ۔
Ayahs 12:85–92

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بولے ۔ اللہ کی قسم ، تو یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ نہ چھوڑے گا ، جب تک تو کل یا مر نہ جائے گا

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

بولا ۔ میں اپنی بیقراری اور غم کی شکایت اللہ ہی کی طرف کرتا ہوں ، اور میں اللہ سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹو ، جاؤ، اور یوسفعلیہ السلام اور اس کے بھائی کی تلاش کرو ، اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ، اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے بولے ، اے عزیز ہم پر اور ہمارے گھرانے پر سختی آ پڑی ہے اور ہم ناقص پونجی لائے ہیں ، سو تو ہمیں پورا پیمانہ دے اور ہمیں خیرات دے ، اللہ خیرات دینے والوں کو ثواب دیتا ہے

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا تمہیں کچھ خبر ہے تم نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جبکہ تم جاہل تھے

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے ، کیا سچ ، (مچ) تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہے ؟ کہا ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ، اللہ نے ہم پر فضل کیا ۔ بیشک جو ڈرتا اور صبر کرتا ہے ، تو اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

بولے ، اللہ کی قسم ، خدا نے تمہیں ہم پر برگزیدہ کیا ۔ اور بیشک ہم خطاوار تھے

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

بولا ۔ آج تم پر کچھ الزام نہیں ۔ خدا تمہیں معاف کرے ۔ اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے ۔ (ف 1)

برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت : (ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں ہو ، یوسف (علیہ السلام) کا کمال یہ ہے کہ باوجود اس علم کے کہ بھائیوں نے تکلیف دی ہے ، ان کا جانب سے معذرت کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ یہ جب کی بات ہے ، کہ تم نادان تھے ، اور بھائیوں کا اخلاق یہ ہے کہ فورا غلطی کا اعتراف کرلیتے ہیں ، اور مانتے ہیں کہ اللہ نے تم پر بڑا کرم کیا ہے اور یقینا تمہیں ہم پر فضیلت دی ہے ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ بھائی نادم ہیں اور اپنے کئے پر پچھتا رہے ہیں ، تو نہایت فراخدلی کے ساتھ کہا جاؤ ، آج کے دن تم پر کوئی عتاب نہیں کیا جائے گا میں تم سب کو خالص دل سے معاف کرتا ہوں ۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

میرا یہ کرتا لے جاؤ ، اور اسے میرے باپ کے منہ پر ڈال دو ، کہ وہ بینا ہو کر چلا آئے گا اور اپنا سارا گھرانہ میرے پاس لے آؤ۔ (ف 2)

(ف 2) قمیص دینے سے غرض یہ تھی کہ باپ کو تسلی ہو اور وہ اس نشانی کو دیکھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگانی کا یقین کرلیں ، انہیں معلوم ہوجائے کہ واقعی میرا بیٹا یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے ۔ حل لغات : تثریب : سرزنش ، ملامت ۔ یات بصیرا : آگاہ ہوجائے گا ، معلوم کریگا محاورہ ہے ۔
Ayahs 12:94–95

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ نکلا تو ان کے باپ نے کہا ، کہ مجھے یوسف (علیہ السلام) کی بو آتی ہے ۔ اگر تم مجھے بہکا ہوا نہ بتلاؤ

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

لوگ بولے ، اللہ کی قسم تو اپنی قدیمی غلطی میں ۔ (ف 1)

(ف 1) ادھر یہ قافلہ یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن لے کر چلتا ہے ادھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو القاء ہوتا ہے کہ ارض مصر سے خوشخبری لے کر قاصد آ رہا ہے ، فرماتے ہیں کہ میں یوسف (علیہ السلام) کی بو سونگھ رہا ہوں ، مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ وہ زندہ ہے اور وہ آرہا ہے ، آس باس بیٹھے ہوئے لوگ جن کی بصیرت کو تاء ہے کہتے ہیں ، یہ آپ کا جنون ہے اب یوسف (علیہ السلام) کہاں ؟ اتنے میں قاصد آپہنچتا ہے ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) فرط مسرت میں کہہ اٹھتے ہیں کیا میں نے پہلے سے تمہیں نہیں بتا دیا تھا کہ میرے مولا نگاہ کرم کرتے والے ہیں ، بیٹے معافی مانگتے ہیں اور شفیق باپ ان کو معاف کردیتا ہے ، اور بھول جاتا ہے کہ ان لوگوں نے تو بڑھاپے میں مجھے دکھ پہنچایا ہے ۔ حل لغات : ضللک القدیم : شوق وجنون کی وارفتگی ، قدیم غلطی ۔
Ayahs 12:96–99

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب بشارت دینے والا آگیا تو اس نے کرتہ اس کے منہ پر ڈالا سو وہ بینا ہوگیا ، کہا کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں خدا سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بولے اے ہمارے باپ ہمارے گناہوں کے لیے اللہ سے مغفرت مانگ ، بیشک ہم خطاکار تھے

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

کہا ، عنقریب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مگفرت مانگوں گا بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا انشاء اللہ مصر میں امن سے داخل ہو ۔ (ف 1)

والدین کی عزت افزائی : (ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے اقتدار بخشا ہے ، اور وہ اس وقت عرش عزت پر متمکن ہیں ، بھائیوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہمارا بھائی مسند حکومت پر فائز ہے ، باپ تک اطلاع پہنچ چکی ہے کہ تیرا بیٹا مصر میں برسراقتدار ہے ۔ سب یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کے لئے جمع ہیں ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب کو شرف باریابی بخشا ، والدین کی انتہائی عزت کی ، اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ، اور وہ خواب پورا ہوا ، بھائی اس وقت اعتراف فضیلت کے طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے اور کنعانی آداب وتعظیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے اظہار فضیلت کیا ۔ ممکن ہے اس وقت تعظیم کے لئے سجدہ روا ہو اب یہ ناجائز ہے کیونکہ اس سے شرک پھیلتا ہے ، اسلام میں یہ خاص صفت ہے کہ اس نے ان راستوں کو مسدود کردیا ہے جن راستوں سے شرک آسکتا تھا ، تمام مظنات شرک کی رعایت کی ہے اور ہر ایسی بات سے روک دیا ہے جس سے شرک پھیلنے کا ضحیف احتمال بھی ہو ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ، ابا ، آج خواب کی تعبیر پوری ہوچکی ہے ، اللہ نے مجھ پر احسان کیا ہے جیل سے رہائی دلائی آن کو مجھ تک پہنچایا ، اور بھائیوں سے بھی ملاپ نصیب ہوا جب کہ شیطان نے جدائی ڈال دی تھی ۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر چڑہایا اور سب اس کے آگے سجدہ میں گر پڑے تو اس نے کہا ، اے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے ، میرے رب نے اسے سچ کیا اور اس نے مجھ پر احسان کیا ۔ جب مجھے قید خانے سے نکالا ۔ (ف 2) اور تمہیں جنگل سے یہاں لے آیا ۔ اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں جھگڑا ڈال دیا تھا ۔ بیشک میرا رب تدبیر کرنے والا ہے جو چاہے بیشک وہی جاننے والا اور حکمت والا ہے

(ف 2) خالص اسلام یہ ہے کہ جس طرح دکھ اور تکلیف میں انسان اللہ کو اٹھتے بیٹھتے یاد کرتا ہے ، اور ہر پہلو خدا کا نام لیتا ہے ، اسی طرح مسرت کے وقت بھی اس کے احسانات کو بھول نہ جائے ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی خدا پرستی کا بہترین نمونہ ہے ۔ آپس نے تارک کنوئیں میں اسے پکارا عزیزہ مصر کے دواین ومحل میں اسے یاد کیا ، اور آج جبکہ وہ سر پر آرائے سلطنت ہیں ، اللہ کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ، یقینا خدا پرستی کا یہی وہ بلند مقام ہے جو انبیاء کے لئے مخصوص ہے ۔ حل لغات : تاویل : انجام ۔ نتیجہ ، لطیف : مہربان ، لطف وکرم والا ۔
Ayahs 12:101–103

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے رب تونے مجھ کو بادشاہی دی اور باتوں یعنی خوابوں کی تعبیر سکھلائی اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ۔ تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے ۔ مجھے اسلام پر موت دے ، اور نیکوں میں شامل کر

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف بذریعہ وحی پہنچاتے ہیں اور تو تو ان کے پاس نہ تھا جب وہ اپنے مشورہ پر متفق ہوئے اور وہ مکر کر رہے تھے

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اگرچہ تو حرص کرے بھی تو اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں (ف 1)

پیغمبر کی آرزو : (ف 1) یعنی اس میں کچھ شبہ نہیں کہ جہاں تک تمہاری آرزو اور خواہش کا تعلق ہے ، وہ یہی ہے کہ یہ لوگ ایمان وعمل صالح کی دولت سے مالا مال ہوجائیں ، مگر ان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے ، کہ رحمت خداوندی سے بہرحال دور رہیں ، اب ہدایت پائیں ، تو کیونکر ؟ تو سبب ونوررحمت اور غایت شفقت کے یہی چاہتا ہے کہ ان میں کوئی شخص بھی جہنم میں نہ جائے مگر انکو ضد ہے کہ جہنم میں ہی جائیں گے ، ایسی حالت میں اصلاح کی کب توقع ہو سکتی ہے ، فرمایا اصل مرض یہ ہے کہ دلوں پر غفلت وبے توجہی کے پردے پڑے ہیں ، ورنہ یہاں آسمان اور زمین کی مخلوق میں ہر چیز بجائے خود ایک آیت اور دلیل ہے ، اگر یہ غور وفکر سے کام لیں اور خدا دماغ پر زور ڈالیں ، تو انہیں معلوم ہوجائے کہ یہ کونین کی نعمتیں جو حضرت انسان کو میسر ہیں ، مفت میں نہیں ہیں ۔ بلکہ یہ متقاضی ہیں حمد و ستائش اور شکر ومدح کی ، مگر یہ ہیں کہ کمال بےالتفاتی سے گزر جاتے ہیں ، انہیں محسوس تک نہیں ہوتا کہ اس عالم کو کتم عدم سے وجود میں لانے والا خدا ہم سے عبادت کا متوقع ہے ، اور وہ عبادت بھی محض ہماری اصلاح کے لئے ہے ، فرمایا آخر یہ لوگ اس درجہ مطمئن کیوں ہیں ، کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا عذاب ان پر نہیں آئے گا جو ان کو ڈھانپ لے یا ناگہاں قیامت نہیں آئے گی ، یہ بےخوفی ، یہ بےپرواہی اور تغافل آخر کیوں ہے ؟ حل لغات : اجر : یعنی دنیوی معاوضہ :
Ayahs 12:104–108

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تو اس پر ان سے کچھ اجرت نہیں مانگتا یہ تو ایک نصیحت ہے ساری دنیا کے لیے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں بہتیری نشانیاں ہیں ۔ جن پر یہ لوگ گزرتے ہیں ۔ اور کچھ دھیان نہیں کرتے

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر ساتھ شریک بھی کرتے ہیں

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا وہ امن میں ہیں کہ اللہ کا عذاب آ کر ان پر چھا نہ جائے گا ۔ یا اچانک بیخبر ی میں ان کے لیے وہ گھڑی نہ آجائے گی

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

تو کہ میری یہ راہ ہے ، میں اللہ کی طرف بینائی پر بلاتا ہوں ، میں بھی اور جس نے میری تابعداری کی وہ بھی ، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں (ف 1)

اہل حق کا مسلک : (ف 1) علی بصیرۃ سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کا مسلک دلیل اور برہان پر مبنی ہوتا ہے ، وہ جن چیزوں پر اعتقاد رکھتے ہیں ، ان کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں وہ دنیا میں بصیرت و دانش کی تبلیغ کے لئے تشریف لاتے ہیں ، اور دماغوں سے جہل ونادانی اور تقلید آباء کے زنگاروں کو یک قلم دور کردیتے ہیں ، اس لئے ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے ، کہ خود ان کے اپنے پاس دلیل وعقل کی روشنی نہ ہوگی ، اسلام تو نام ہی عقل و فکری بالیدگی کا ہے ، اس کے کشت زار ہدایت میں تقلید وجہل کا زقوم کبھی پیدا نہیں ہوتا ، اور نہ مسلمان بےعقلی کی باتوں کو تسلیم کرتا ہے ۔ حل لغات : غاشیۃ : ڈھانپ لینے والا عذاب ۔ بغتۃ : اچانک ، ناگہان ۔ رجالا : مرد ، یعنی انبیاء جب بھی آئے کہ موت بشری میں آئے ، اور کبھی انہوں نے یہ دعوی نہیں کیا ، کہ ان کا تعلق عالم انسانی سے نہیں ہے ۔
Ayahs 12:109–110

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور جو تجھ سے پہلے ہم نے بھیجے ، وہ بھی آدمی تھے ۔ بستیوں کے باشندے ان کی طرف ہم نے وحی بھیجی تھی ۔ کیا یہ ( اہل مکہ) زمین میں نہیں پھرے کہ اپنے سے پہلوں کے انجام پر فکر کرتے ! بیشک آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے ، کیا تم سمجھتے نہیں

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک جب رسول ناامید ہو گے اور (دوسرے) لوگوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹے وعدے ہوئے ہیں ، تب ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی ، پھر جسے ہم نے چاہا ۔ بچا لیا گیا ۔ اور ہمارا عذاب مجرموں سے لوٹایا نہیں جاتا (ف 1)

انبیاء کی ناامیدی : (ف 1) حق وصداقت کی راہ میں بیشمار آزمائشیں ہیں ، حتی کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی آزمایا جاتا ہے ، جب وہ اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، تو مخالفوں کے طوفان بپا ہوتے ہیں ، بغض و فساد کے شعلے خرمن صبر و استقامت پر گرتے ہیں ، اور انسانی بدبختی و محرومی کا وہ مظاہرہ ہوتا ہے ، کہ ہدایت بھی شرم سے اپنا بچہ لیتی ہے ، بڑے بڑے پاکبازوں کے پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں ، عین اس وقت انبیاء (علیہم السلام) دل میں سوچتے ہیں کہ یا اللہ تیری نصرتیں کہاں ہیں ؟ تیری شفقتیں ، اور مہربانیاں کیوں جلوہ گر ہو کر ہم بےکسوں کی دستگیری نہیں کرتیں ؟ کیا ہمیں اذیتوں اور تکلیفوں کے لئے تنہا چھوڑ دیا جائے گا اور تیری بخشش وکرم کا ہاتھ ہماری طرف نہیں بڑھے گا ؟ ٹھیک اس وقت مایوسیوں کے ابر سے امید ونصرت کا افتاب طلوع ہوتا ہے اور یہ ثابت کردیا جاتا ہے کہ مجرموں کا سزا سے بہرہ مند ہونا بہر آئینہ قطعی اور یقینی ہے ۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

البتہ ان کے قصوں میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے ۔ کچھ بناوٹی بات نہیں ہے ۔ لیکن اس کلام کی تصدیق ہے ، جو اس کے پہلے ہے ۔ اور ہر شئے کی تفصیل ہے ۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے (ف 2)

تفصیل کی تفصیل ! (ف 2) ارشاد فرمایا کہ ان قصص میں صاحب عقل وخرد لوگوں کے لئے عبرت وموعظت کے اسرار پہناں ہیں ، یہ افتراء اور جھوٹ نہیں بلکہ کتب سابقہ کے مضامین ہیں ، جن کو ان کی اصلی حالت میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس پیغام رشد وہدایت میں دین کی تمام گتھیوں کو سلجھایا گیا ہے ، اور تمام مسائل کو اس طرح بسط و تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ کہ دلوں میں شکوک و شبہات کے کانٹے اب باقی نہیں رہنا چاہئیں یہ واضح رہے ، کہ یہاں جس تفصیل کا ذکر ہے ، وہ اصول سے تعلق رکھتی ہے ، یعنی ضروریات دین کو استیعاب سے بیان کیا گیا ہے ، اور کسی بنیادی اور ضروری مسئلہ کو تشنہ وضاحت نہیں رہنے دیا گیا یہ مقصد نہیں کہ اس میں وہ تفصیلات بھی مذکور ہیں جن کی جستجو ہمیں محنت کے دفتروں میں کرنی چاہئے یا جو جزئیات و فروع سے متعلق ہیں ۔ حال لغات : استایئس : یاس سے ہے ناامید ہوگیا ۔ ظنوا : وہم و گمان سے لے کر خیال غالب اور یقین کے جلب مراتب تک ظن کا لفظ بولا جاتا ہے ۔