12. Surah Yusuf
يوسفJoseph · 111 ayahsسراج البیان
وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader
اور میں اپنے باپ دادوں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے دین کا مطیع ہوگیا ہوں ، ہمارا کام نہیں کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں ۔ یہ ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ کا فضل ہے ، لیکن اکثر لوگ ناشکر ہیں ۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader
اسے قید خانہ کے میرے وہ رفیقو ، بھلا کیا چند جدا جدا رب بہتر ہیں ‘ یا اکیلا زبردست اللہ بہتر ہے ۔
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader
اس کے سوا جس چیز کو تم پوجتے ہو صرف چند نام ہیں ، جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں ‘ اللہ نے ان کے بارہ میں کوئی سند نازل نہیں کی ، حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے فرما دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو ، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader
اے قید خانہ کے میرے دو رفیقو ! تم میں سے ایک تو اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور اس کے سر میں سے پرندے کھائیں گے وہ کام فیصل ہوگیا جس میں تم دونوں فتوی چاہتے تھے ۔
وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader
اور حبل کی نسبت یوسف کو گمان تھا کہ وہ ان دونوں میں سے بچے گا اس سے کہا اپنے مالک پاس میرا ذکر کی جو سو شیطان نے اسے اپنے مالک کے پاس اس کا ذکر کرنا بھلا دیا ، پھر وہ قید خانہ میں کئی برس رہا (ف 1) ۔
وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader
اور بادشاہ نے کہا میں خواب میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں ، ان کو ساتھ دبلی کھا رہی ہیں ، اور ساتھ ہری بالیں ہیں ، اور دوسری سوکھی ، اسے درباریو ! میرے خواب کی مجھے تعبیر دو ، اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو (ف 1) ۔
قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader
بولے یہ تو پریشان خواب ہیں ، اور ہم اڑتے خیالوں کی تعبیر نہیں جانتے ۔
وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader
اور جو ان دونوں میں سے بچ گیا تھا یوں بولا اور اسے مدت کے بعد یاد آیا ، میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے جانے دو ۔
یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader
(جا کر کہا) اے یوسف (علیہ السلام) اے سچے آدمی سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی کھاتی ہیں اور ساتھ سبز بالیں ہیں ، اور دوسری سوکھی ، اس بارہ میں ہمیں فتوی دے کہ میں لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤں شاید ان کو معلوم ہو ۔
قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader
کہا تم سات برس پے درپے کھیتی کرو گے سو جس قدر تم کاٹو اس کو اس کی بالوں میں رہنے دو ، مگر تھوڑا نکال لو ، جو تمہارے کھانے کے کام آئے ۔
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader
پھر اس کے بعد سات برس سختی کے آئیں گے اور اس سب کو کھا جائیں گے گے جو تم نے ان برسوں کے لئے رکھا ہے ، مگر تھوڑا سا جو تم بچا رکھو ،
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگ بارش پائیں گے اور (انگور) نچوڑیں گے (ف 1) ۔
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader
اور بادشاہ لئے کہا میرے پاس اسے لے آؤ سو جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا یوسف نے کہا اپنے مالک کے پاس چلا جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے ‘ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے ، میرا رب ان کے فریب جانتا ہے ۔
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader
بادشاہ نے کہا ، اے عورتو ! تمہارا کیا حال تھا ، جب تم نے یوسف (علیہ السلام) کو پھسلایا تھا ؟ بولیں ، حاش اللہ ، ہمیں اس کی کوئی برائی معلوم نہیں ، عزیز کی عورت نے کہا اب حق ظاہر ہوگیا ، میں نے خود اس کے نفس کو پھسلایا تھا ، اور وہ سچوں میں ہے (ف 1) ۔
ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader
یہ اس لئے تاکہ وہ معلوم کرے کہ میں نے اس کی غیبت میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ اللہ خیانت کرنے والوں کا فریب چلنے نہیں دیتا ۔
وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader
اور میں ( یوسف) اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا ، بیشک نفس تو برائی پر ابھارتا ہے مگر جب میرا رب رحم کرے ، بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے ۔
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader
اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ کہ میں اسے خالص اسے اپنی خدمت میں رکھوں پھر جب یوسف سے بادشاہ نے کلام کیا تو کہا آج کے دن ہمارے پاس مرتبہ والا امانت دار ہے ۔
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) بولا مجھے ساری سر زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے میں نگہبان واقف کار ہوں
وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader
اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اس ملک میں جگہ دی زمین میں جہاں چاہتا تھا رہتا تھا ہم اپنی رحمت جسے چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں اور نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتے (ف 1)
وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader
اور ایمانداروں اور پرہیز گاروں کے لیے آخرت کا ثواب بہتر ہے
وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader
اور یوسف کے بھائی آئے پھر یوسفعلیہ السلام کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے اسے نہ پہچانا
وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader
اور جب ان کا اسباب انہیں تیار کردیا تو یوسفعلیہ السلام نے ان سے کہا اپنے اس بھائی کو جو باپ کی طرف سے ہے میرے پاس لے آنا کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا پیمانہ دیتا اور اچھا مہمان نواز ہوں (ف 1)
فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader
اگر اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو تمہارے لیے میرے پاس پیمانہ نہ ہوگا اور میرے نزدیک نہ آنا
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader
بولے اس کی بابت ہم اس کے باپ کو پھسلائیں گے اور ہم (ضرور) ایسا کریں گے
وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader
اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے جوانوں سے کہا کہ ان کا سرمایہ ان کے شلیتوں میں رکھ دو شاید جب وہ اپنے لوگوں میں واپس جائیں اسے پہچان لیں ، شاید وہ پھر آئیں ۔
فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader
پھر جب اپنے باپ کی طرف واپس گئے تو بولے اے باپ پیمانہ ہم سے روکا گیا ، تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج ، کہ ہم بھرتی لائیں ، اور ہم اس کے محافظ ہیں ۔ (ف 1)
قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader
اس نے کہا ، میں تو اس پر تمہارا اعتبار کرتا نہیں ، مگر ہاں جیسا میں نے پہلے اس کے بھائی پر تمہارا اعتبار کیا تھا ویسا ہی تمہارا اعتبار اس پر بھی کرتا ہوں سو اللہ اچھا نگہبان ہے اور وہ مہربانوں میں بڑا مہربان ہے (ف 2)
وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader
اور جب اپنا اسباب کھولا ، اپنی پونجی پھیری ہوئی پائی ، بولے اے باپ نور ہم کیا چاہیں ، یہ ہماری پونجی موجود ہے ہمیں پھیر دی گئی ۔ ہم اور خوراک اپنے اہل کے لیے لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے ۔ اور ایک اونٹ کی بھرتی زیادہ لائیں گے یہ بھرتی آسان ہے ۔
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader
بولا ، میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک اللہ کو درمیان لا کر مجھ سے عہد نہ کرو کہ تم اسے میرے پاس واپس لاؤ گے اور تم سب قید نہ ہوجاؤ پھر جب انہوں اس سے عہد کرلیا ۔ تب بولا جو باتیں ہم نے کی ہیں ان پر اللہ (کافی) کار ساز ہے ۔ (1)
وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader
اور کہا اے بیٹو ، مصر میں تم سب ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا ، اور متفرق دروازوں سے جانا ۔ اور میں تمہیں خدا کی کسی بات سے بچا نہیں سکتا ۔ حکم اللہ ہی کا ہے ۔ میں نے اس پر بھروسہ کیا اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے ۔ (ف 2)
وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader
اور جب وہ جیسے ان کو ان کے باپ نے کہا تھا علیحدہ علیحدہ ، مصر میں داخل ہوئے تو خدا کی تقدیر سے یہ احتیاط نہیں کچھ بھی نہیں بچا سکتی تھی مگر یہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کی اور یعقوب (علیہ السلام) البتہ ہماری ہماری تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader
اور جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو اس نے اپنے بھائی (بنیمین) کو اپنے پاس جگہ دی ، اور کہا کہ میں تیرا بھائی ہوں ، سو تو گمگین نہ ہونا ان کاموں سے جو وہ کرتے رہے ہیں
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader
پھر جب ان کا سامان تیار کردیا تو اپنا پیالہ اپنے بھائی کے شلیتے میں رکھ دیا پھر ایک پکارنے والا پکارا ۔ اے کا فلے والو ، تم چور ہو
قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader
وہ ان پر متوجہ ہو کر بولے ، تمہارا کیا جاتا رہا
قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader
کہا بادشاہ کا پیالہ کھو گیا ہے ، اور جو کوئی پیالہ لائے اسے ایک بار شتر (غلہ) ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں ۔
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader
بولے اللہ کی قسم ، تم جانتے ہو کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم کبھی چور نہ تھے
قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader
وہ بولے اگر تم جھوٹے نکلے تو چور کی کیا سزا ہے ؟
قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader
کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے سے نکلے وہی اس کا بدلہ ہے ۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں
فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader
پھر اس نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتے دیکھنے شروع کیے پھر اپنے بھائی کے شلیتے سے پیالہ نکالا ۔ یوں ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو داؤ بتلایا (ف 1 ) اور یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو قانون شاہی کے مطابق ہرگز نہیں لے سکتا تھا مگر جو اللہ کو منظور ہوتا ، جس کے ہم چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں ، اور ہر جاننے والے کے اوپر ایک جاننے والا ہے ۔
قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader
بھائی بولے ، اگر اس نے چوری کی تو (کیا تعجب) اس کے بھائی (یوسف) نے بھی پہلے چوری کی تھی ، یوسف نے یہ بات اپنے دل میں پوشیدہ رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی ، اور کہا تم درجہ میں بد تر ہو ، اور جو کہتے ہو اللہ خوب جانتا ہے ۔ (ف 1) (علیہ السلام)