12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsسراج البیان

Ayahs 12:38–42

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں اپنے باپ دادوں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے دین کا مطیع ہوگیا ہوں ، ہمارا کام نہیں کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں ۔ یہ ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ کا فضل ہے ، لیکن اکثر لوگ ناشکر ہیں ۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اسے قید خانہ کے میرے وہ رفیقو ، بھلا کیا چند جدا جدا رب بہتر ہیں ‘ یا اکیلا زبردست اللہ بہتر ہے ۔

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

اس کے سوا جس چیز کو تم پوجتے ہو صرف چند نام ہیں ، جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں ‘ اللہ نے ان کے بارہ میں کوئی سند نازل نہیں کی ، حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے فرما دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو ، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے قید خانہ کے میرے دو رفیقو ! تم میں سے ایک تو اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور اس کے سر میں سے پرندے کھائیں گے وہ کام فیصل ہوگیا جس میں تم دونوں فتوی چاہتے تھے ۔

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور حبل کی نسبت یوسف کو گمان تھا کہ وہ ان دونوں میں سے بچے گا اس سے کہا اپنے مالک پاس میرا ذکر کی جو سو شیطان نے اسے اپنے مالک کے پاس اس کا ذکر کرنا بھلا دیا ، پھر وہ قید خانہ میں کئی برس رہا (ف 1) ۔

ذریعہ حضوری : (ف 1) : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دونوں خواب دیکھنے والوں کو تعبیر بتلائی ایک سے کہا تو ساقی گری کے عہدہ کو سنبھالے گا اور دوسرے سے کہا تو سولی دیا جائے گا ، اور پرندے تیرا گوشت نوش نوچ کے کھائیں گے ، جس کے متعلق انہیں خیال تھا کہ یہ فرعون مصر کا ساقی ہوگا ، اس سے کہا کہ مجھے یاد رکھیو ، اور موقع پا کر بادشاہ سے میرا ذکر کی جو اتفاق کی بات ہے کہ وہ رہا ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد کو بھول گیا ، اور اس طرح مدت تک آپ کو جیل میں رہنا پڑا ۔ بعض لوگوں نے (آیت) ” فانسہ الشیطن “ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب منسوب کیا ہے یعنی یہ مقام نبوت کے منافی ہے کہ آپ پیغمبر ہو کر مصائب سے گھبرا جائیں ، اور ایک مخلوق سے اعانت کے طالب ہوں ، اس بھول کی یہ سزا تھی کہ آپ کو مدت تک جیل میں رہنا پڑا مگر یہ صحیح نہیں جیل میں رہنا کوئی محبوب شغل نہیں ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اگر رہائی کے لئے کوشش کی تو یہ بالکل جائز اور بہتر بات تھی اس میں بےصبری کی کوئی بات نہیں ۔ حل لغات : بقرات : بیل ، گائیں ۔ عجاف : جمع جحفاء ، دبلی پتلی ۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا میں خواب میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں ، ان کو ساتھ دبلی کھا رہی ہیں ، اور ساتھ ہری بالیں ہیں ، اور دوسری سوکھی ، اسے درباریو ! میرے خواب کی مجھے تعبیر دو ، اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو (ف 1) ۔

(ف 1) اللہ کی مدد اور نصرت کے عجیب ڈھنک میں ساقی گو بھول گیا ، مگر اللہ کو اپنے بندے کی بیچارگی یاد تھی ، بادشاہ نے عجیب و غریب خواب دیکھا ، اور مصاحبین سے کہا خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تمہیں علم ہے انہوں نے کہا ، یہ خیالات پریشان ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ ہم اس فن کے ماہر بھی نہیں اس وقت ساقی کو یاد آیا ، کہ جیل کی کوٹھڑی میں ایک عالم تعبیر بندے اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے ، چناچہ اس نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور کہا مجھے جیل میں جانے کی اجازت مرحمت ہو ، میں انشاء اللہ تعبیر بتلا سکوں گا ، چناچہ اس کو اجازت مل گئی ، یہ یاد رہے کہ شراب ابتدا سے حرام ہے ، یہاں صرف ایک واقعہ کا اظہار ہے کہ پادشاہ وقت شراب کا عادی تھا حلت و حرمت سے قطعی بحث نہیں ۔ حل لغات : اضغاث : جمع ضغث ، خشک وتر گھاس کا ملا ہوا گٹھہ ، احلام جمع حلم بمعنے خواب پس مجموع ، اضغاث احلام بمعنے خوابہائے پریشان کہ جن کی تعبیر درست نہ ہو بجہت احتلاط احوال معقول وغیر معقول ، امۃ : جماعت نیروان انبیاء ملت امام ، پیشوا ۔
Ayahs 12:44–49

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

بولے یہ تو پریشان خواب ہیں ، اور ہم اڑتے خیالوں کی تعبیر نہیں جانتے ۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور جو ان دونوں میں سے بچ گیا تھا یوں بولا اور اسے مدت کے بعد یاد آیا ، میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے جانے دو ۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(جا کر کہا) اے یوسف (علیہ السلام) اے سچے آدمی سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی کھاتی ہیں اور ساتھ سبز بالیں ہیں ، اور دوسری سوکھی ، اس بارہ میں ہمیں فتوی دے کہ میں لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤں شاید ان کو معلوم ہو ۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

کہا تم سات برس پے درپے کھیتی کرو گے سو جس قدر تم کاٹو اس کو اس کی بالوں میں رہنے دو ، مگر تھوڑا نکال لو ، جو تمہارے کھانے کے کام آئے ۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سات برس سختی کے آئیں گے اور اس سب کو کھا جائیں گے گے جو تم نے ان برسوں کے لئے رکھا ہے ، مگر تھوڑا سا جو تم بچا رکھو ،

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگ بارش پائیں گے اور (انگور) نچوڑیں گے (ف 1) ۔

تعبیر کا ایک اصول : (ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خوابوں کی جو تعبیریں ، بتائی ہیں ، ان کو اصل خواب کی ہیئت کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، اور معلوم ہوتا ہے کہ ان خوابوں کی یہی تعبیریں ہوسکتی ہیں ، مثلا جو شراب نچوڑ رہا ہے ، وہ ساقی ہے جس کے سر پر سے پرندے روٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ، وہ سولی دیا جائے گا اور پرندوں کا طعمہ بنے گا ، اسی طرح بادشاہ کا خواب جو قحط کی پیشگوئی ہے کس قدر واضح ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعبیر کا علم گو وجدان ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ خواب کی کیفیت اور تعبیر میں ایک ربط ہونا چاہئے ، یہ ربط جس قدر صحیح ہوگا اسی قدر صحت کا گمان غالب ہوگا ، یہ ایک اصول ہے جس نے فن تعبیر پر قدرے روشنی پڑتی ہے اور بھی بہت سی چیزیں ہیں ، جن کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور وہ تعبیر میں مدد دیتی ہیں ، مثلا خواب دیکھنے والے کے رجحانات اس کا عمل صحت اور عام حالات ، کیونکہ ان چیزوں کی رعایت کے بغیر صحیح نتیجہ پر پہنچنا قطعی درست نہیں ہوتا ۔ حل لغات : یغاث : غیث سے ہے جس کے معنے بادل کے ہیں ۔ ال رسول : ایلچی ، قاصد ۔
Ayahs 12:50–51

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ لئے کہا میرے پاس اسے لے آؤ سو جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا یوسف نے کہا اپنے مالک کے پاس چلا جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے ‘ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے ، میرا رب ان کے فریب جانتا ہے ۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے کہا ، اے عورتو ! تمہارا کیا حال تھا ، جب تم نے یوسف (علیہ السلام) کو پھسلایا تھا ؟ بولیں ، حاش اللہ ، ہمیں اس کی کوئی برائی معلوم نہیں ، عزیز کی عورت نے کہا اب حق ظاہر ہوگیا ، میں نے خود اس کے نفس کو پھسلایا تھا ، اور وہ سچوں میں ہے (ف 1) ۔

(ف 1) چوبدار جب رہائی کا مژدہ لے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، تو آپ نے فرمایا میں اس طرح جیل سے باہر آنے کے لئے طیار نہیں ، سب سے پہلے میرے جرم کی تحقیقات ہو ، اگر میں بےقصور ثابت ہوجاؤں تو پھر مجھے اس نوادش خسروانہ کے قبول کرنے میں دریغ نہ ہوگا ، ورنہ میں یہ نہیں کہلانا چاہتا کہ مجرم ہوں ، اور سزا کے دن پورے کرکے جیل سے رہائی حاصل کی ہے ۔ بادشاہ نے عورتوں کو بلایا اور پوچھا بتاؤ کیا تم یوسف (علیہ السلام) میں کوئی عیب پاتی ہو ، اور کیا تم نے یوسف (علیہ السلام) کو مائل کرنے کی کوشش کی تھی انہوں نے بالاتفاق اقرار کیا ، کہ یوسف (علیہ السلام) بےعیب ہے ، ہماری شرارت تھی کہ ہم نے اسے ورغلانا چاہا اور اسے ایک عام انسان سمجھ کر اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہا ، عزیزہ مصر نے جب دیکھا کہ حالات منکشف ہوگئے اور میری عصمت کا بھانڈا پھوٹ کر رہے گا ، تو اس نے از خود اقرار کرلیا کہ میں مجرم ہوں اور میرا یوسف بےقصور ہے ۔ اس عجیب طریق سے پورے دربار میں یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی اور حیرت انگیز عفت کا اظہار ہوگا ، اور یہی حضرت یوسف (علیہ السلام) چاہتے تھے ، غرض یہ ہے کہ اگر نفس گناہ سے آلودہ نہ ہو تو تہمتیں اور سزائیں عارضی ہوتی ہیں ، ایک وقت آتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرخرو کرتے ہیں ، اور تمام لوگ جو اس کی تذلیل میں حصہ لیتے ہیں ، نادم ہوتے ہیں اور خود ذلیل ہوتے ہیں ، تہمتوں کے بادل چھٹ جاتے ہیں ، اور حقیقت پوری شان و شوکت سے جلوہ گر ہوتی ہے ۔ حل لغات : ما خطبکن : خطب کے معنی حالت وکیفیت کے ہیں ، کلمہ رافع نزاع ۔
Ayahs 12:52–56

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ اس لئے تاکہ وہ معلوم کرے کہ میں نے اس کی غیبت میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ اللہ خیانت کرنے والوں کا فریب چلنے نہیں دیتا ۔

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں ( یوسف) اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا ، بیشک نفس تو برائی پر ابھارتا ہے مگر جب میرا رب رحم کرے ، بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے ۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ کہ میں اسے خالص اسے اپنی خدمت میں رکھوں پھر جب یوسف سے بادشاہ نے کلام کیا تو کہا آج کے دن ہمارے پاس مرتبہ والا امانت دار ہے ۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) بولا مجھے ساری سر زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے میں نگہبان واقف کار ہوں

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اس ملک میں جگہ دی زمین میں جہاں چاہتا تھا رہتا تھا ہم اپنی رحمت جسے چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں اور نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتے (ف 1)

نفس امارہ کی شورشیں ! (ف 1) نفس کا اطلاق قرآن میں کئی معنوں میں ہوا ہے نفس کے معنی خون تن کے اور عین کے ہیں اور روح یا جان کے بھی ۔ تاکید کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ، یہاں سے مراد ترغیبات کا وہ مرکزی شعور ہے جو گناہوں کی تحریک پیدا کرتا ہے اور برائی کے لیے گوناگوں جواز کے پہلو تلاش کرتا ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نفس بشری کا تقاضا تو یہی تھا کہ میں دعوت معصیت کو قبول کرتا اور بالخصوص ان حالات میں جب کہ خود عزیزہ مصر اظہار تعشق کر رہی تھی ، مگر نفس نبوی نے روکا پیغمبرانہ عقاف و عصمت آڑے آئی اور میں فسق و فجور کے دام تزویر سے صاف بچ کر نکل گیا اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا وہ دور شروع ہوا ہے جب وہ غلامی سے آقائی کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں اور عزیز مصر کے مقرب خاص پاتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہماری حکومتوں کے طریقے مختلف اور عجیب ہیں دیکھو باقاعدگی سے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے جوہروں کو نمایاں کیا ہے اور کن کن مشکلوں سے گزر کر انہوں نے اس منصب کو حاصل کیا ہے بات یہ ہے اللہ اپنے خاص بندوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتا ہے اخلاق جب اس درجہ بلند ہوں تو نصرت الہی یقینی ہے حل لغات استخلصہ : اپنے لیے چھانٹ لوں ۔
Ayahs 12:57–59

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور ایمانداروں اور پرہیز گاروں کے لیے آخرت کا ثواب بہتر ہے

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف کے بھائی آئے پھر یوسفعلیہ السلام کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے اسے نہ پہچانا

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب ان کا اسباب انہیں تیار کردیا تو یوسفعلیہ السلام نے ان سے کہا اپنے اس بھائی کو جو باپ کی طرف سے ہے میرے پاس لے آنا کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا پیمانہ دیتا اور اچھا مہمان نواز ہوں (ف 1)

(ف 1 ) اللہ کی حکمت دیکھیے وہ بھائی جو اپنے زعم میں یوسف (علیہ السلام) کو مار چکے تھے اور جو اس کے اقتدار کے دشمن تھے آج اس کے دربار میں کھڑے ہیں اور پہچانتے نہیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی بنیا میں سے ملنا چاہتے ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کو آئیندہ اپنے ساتھ لاؤ میں تمہیں اناج پورا پورا دیتا ہوں اور مہمان نواز بھی ہوں اور اگر اسے اپنے ساتھ نہ لاؤ گے تو غلہ نہیں ملے گا حل لغات المنزلین ۔ ٹھرانے والا ۔ نزول بضاعتہ ۔ پونجی ۔ بدل ۔ معیار اشتراک سکہ وغیرہ
Ayahs 12:60–63

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اگر اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو تمہارے لیے میرے پاس پیمانہ نہ ہوگا اور میرے نزدیک نہ آنا

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

بولے اس کی بابت ہم اس کے باپ کو پھسلائیں گے اور ہم (ضرور) ایسا کریں گے

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے جوانوں سے کہا کہ ان کا سرمایہ ان کے شلیتوں میں رکھ دو شاید جب وہ اپنے لوگوں میں واپس جائیں اسے پہچان لیں ، شاید وہ پھر آئیں ۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب اپنے باپ کی طرف واپس گئے تو بولے اے باپ پیمانہ ہم سے روکا گیا ، تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج ، کہ ہم بھرتی لائیں ، اور ہم اس کے محافظ ہیں ۔ (ف 1)

برائی کا جواب نیکی سے ! (ف 1) پونجی اور سرمایہ کو واپس کردینا ، کما اخلاق کی دلیل ہے ، بھائیوں نے تو مزعومہ اقتدار کی مخالفت کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ نوازش ہے کہ انہوں نے ان سے یہ احسان کیا ، اناج بھی دیا اور پونجی بھی لوٹا دی ، بات یہ ہے برائی کا بہترین انتقام نیکی ہے وہ لوگ جو بلند اخلاق کے زیور سے آراستہ ہیں ، کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے ، وہ حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے ہیں تاکہ مخالف کے دل میں خود بخود اخلاقی حس بیدار ہو ، اور وہ اپنی غلطی کو پہچانے ، اس طرح سے عداوتیں دوستی سے بدل جاتی ہیں ، اور کدورتیں دل سے زائل ہوجاتی ہیں ، اسلام اسی طرز عمل کو پسند کرتا ہے ، اور بہتر قرار دیتا ہے ۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

اس نے کہا ، میں تو اس پر تمہارا اعتبار کرتا نہیں ، مگر ہاں جیسا میں نے پہلے اس کے بھائی پر تمہارا اعتبار کیا تھا ویسا ہی تمہارا اعتبار اس پر بھی کرتا ہوں سو اللہ اچھا نگہبان ہے اور وہ مہربانوں میں بڑا مہربان ہے (ف 2)

(ف 2) حضرت یعقوب (علیہ السلام) چونکہ پہلے سے زخم خوردہ تھے ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے دل پر چھوٹ تھی ، اس لئے آسانی کے ساتھ ان کی باتوں پر اعتماد نہ کرسکے ، ہرچند انہوں نے حفاظت کا یقین دلایا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے باور نہ کیا ، اور کہا کیا تم وہی نہیں ہو ، جنہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی متعلق تم نے استعمال نہیں کئے ؟ اور اب اس بات کی کیا ضمانت ہے ، کہ بنیامین کے ساتھ تم وفا نہیں کرو گے ، اور اسے صحیح وسالم مجھ تک واپس لے آؤ گے ۔ (آیت) ” فاللہ خیر حفظا “۔ سے غرض یہ ہے کہ مجھے صرف اللہ پر بھروسہ ہے ، وہ بہترین محافظ ہے ، میں اگر تم پر بھروسہ کروں گا بھی تو محض اس لئے میرے اللہ کو بھی منظور ہے ، اگر مولا کی نظر عنایت ہے ، تو مجھے تم سے کوئی خطرہ نہیں ، اور اگر وہی آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو پھر میری ہر تدبیر ناکام ہوگی ۔
Ayahs 12:65–66

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب اپنا اسباب کھولا ، اپنی پونجی پھیری ہوئی پائی ، بولے اے باپ نور ہم کیا چاہیں ، یہ ہماری پونجی موجود ہے ہمیں پھیر دی گئی ۔ ہم اور خوراک اپنے اہل کے لیے لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے ۔ اور ایک اونٹ کی بھرتی زیادہ لائیں گے یہ بھرتی آسان ہے ۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

بولا ، میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک اللہ کو درمیان لا کر مجھ سے عہد نہ کرو کہ تم اسے میرے پاس واپس لاؤ گے اور تم سب قید نہ ہوجاؤ پھر جب انہوں اس سے عہد کرلیا ۔ تب بولا جو باتیں ہم نے کی ہیں ان پر اللہ (کافی) کار ساز ہے ۔ (1)

(ف 1) باوجود مضبوط عہد لینے کے پھر بھی اللہ پر بھروسہ کیا ہے اور اسی کو کارساز قرار دیا ہے ، جس کے معنے یہ ہیں کہ کلی طور پر اسباب پر توکل کرنا جائز نہیں ، خدا پرستی یہ ہے کہ ایک طرف ضروری تدابیر اختیار کی جائیں اور دوسری جانب یقین واثق ہو کہ ان اسباب میں خیروبرکت پیدا کرنا اللہ کا کام ہے ۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور کہا اے بیٹو ، مصر میں تم سب ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا ، اور متفرق دروازوں سے جانا ۔ اور میں تمہیں خدا کی کسی بات سے بچا نہیں سکتا ۔ حکم اللہ ہی کا ہے ۔ میں نے اس پر بھروسہ کیا اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے ۔ (ف 2)

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا خطرہ : (ف 2) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی یہ احتیاط کہ لڑکے مصر میں ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں ، اس حکمت وخرم پر مبنی ہے کہ اس طرح اہل شہر کے دلوں میں خدا جانے کیا کیا شکوک پیدا ہوں اور لوگ اجنبیوں اور مسافروں کو ایک گروہ کی شکل میں دیکھ کر کہیں شبہ میں گرفتار نہ کرا دیں ، اور قبل اس کے کہ وہ عزیز مصر تک پہنچیں مختلف بدظنیوں کا شکار نہ ہوجائیں ۔ یہ بات قرین قیاس بھی ہے ، یہ سب بھائی کنعانی تھے ، مصر ان کے لئے پردیس تھا ، اس لئے امکان تھا ، کہ لوگ انہیں اس طرح ایک ساتھ دیکھ کر شور نہ مچا دیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ ڈر تھا ، کہ کہیں میرے لڑکوں کو نظر نہ لگ جائے ، نظر کا اثر مسلم ہے ، آنکھوں میں ایسی مقناطیسی قوت ہوتی ہے ، کہ جس کو دیکھا جائے ، وہ متاثر ہوتا ہے ، حدیث میں آیا ہے ۔ ” العین حق “ یعنی نظر کا لگ جانا درست ہے ۔ آج جدید علوم میں بھی نظر کی قوت وتاثیر کو تسلیم کیا گیا ہے ، مسمریزم اسی فن کی تکمیل کا نام ہے ۔ مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے ذو علم “ کا لفظ یہ چاہتا ہے کہ مقصود کوئی بلند علم ہو ، اور وہ سیاست ہو سکتا ہے یعنی اولاد یعقوب (علیہ السلام) کا اس حالت میں اکٹھا شہر میں وارد ہونا سیاسی پیچیدگیوں کا باعث ہو سکتا تھا جسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی سیاسی بصیرت کی بنا پر معلوم کرلیا ، حل لغات : اولی الیہ ، شفقت وعزت سے جگہ دی ، السقایۃ : پیمانہ ۔ صواع : ماپنے کا پیمانہ قدح ، پیالہ ۔ زعیم : کفیل ۔
Ayahs 12:68–76

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ جیسے ان کو ان کے باپ نے کہا تھا علیحدہ علیحدہ ، مصر میں داخل ہوئے تو خدا کی تقدیر سے یہ احتیاط نہیں کچھ بھی نہیں بچا سکتی تھی مگر یہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کی اور یعقوب (علیہ السلام) البتہ ہماری ہماری تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو اس نے اپنے بھائی (بنیمین) کو اپنے پاس جگہ دی ، اور کہا کہ میں تیرا بھائی ہوں ، سو تو گمگین نہ ہونا ان کاموں سے جو وہ کرتے رہے ہیں

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب ان کا سامان تیار کردیا تو اپنا پیالہ اپنے بھائی کے شلیتے میں رکھ دیا پھر ایک پکارنے والا پکارا ۔ اے کا فلے والو ، تم چور ہو

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ ان پر متوجہ ہو کر بولے ، تمہارا کیا جاتا رہا

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

کہا بادشاہ کا پیالہ کھو گیا ہے ، اور جو کوئی پیالہ لائے اسے ایک بار شتر (غلہ) ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں ۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

بولے اللہ کی قسم ، تم جانتے ہو کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم کبھی چور نہ تھے

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

وہ بولے اگر تم جھوٹے نکلے تو چور کی کیا سزا ہے ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے سے نکلے وہی اس کا بدلہ ہے ۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر اس نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتے دیکھنے شروع کیے پھر اپنے بھائی کے شلیتے سے پیالہ نکالا ۔ یوں ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو داؤ بتلایا (ف 1 ) اور یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو قانون شاہی کے مطابق ہرگز نہیں لے سکتا تھا مگر جو اللہ کو منظور ہوتا ، جس کے ہم چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں ، اور ہر جاننے والے کے اوپر ایک جاننے والا ہے ۔

حضرت یوسف کا حسن تدبیر : (ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا مظاہرہ کریں ، اس کے بعد خود یہ سزا تجویز کی ، کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس تمہارا وہ کٹورہ مل جائے تو تم تمہاری غلامی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ، تلاشی کے بعد وہ برتن بنیامین کے سامان سے برآمد ہوا ، اور حسب معاہدہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے میر قرار پائے ، اس عجیب و غریب طریقے سے بھائی بھائی سے مل رہا ہے ، رازی داری بھی قائم ہے اور اعتراض کی بھی گنجائش نہیں ، اس سے قبل آپ معلوم کرچکے ہیں ، کہ بیامین سے حضرت یوسف (علیہ السلام) متعارف ہوچکے ہیں اور ان سے کہہ چکے ہیں کہ فکر نہ کرو ، میں تمہارا بھائی ہوں ، گویا اس ارادے سے دونوں بھائی واقف ہیں ، اللہ تعالیٰ اس تدبیر کو اپنی جانب منسوب کرتے ہیں ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے نہایت قابلیت سے اس طے شدہ تدبیر کو نبھایا ۔ ظاہر ہے اس قصہ میں کہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تنقیص کا پہلو نہیں نکلتا اور نہ تاویل کی ضرورت ہے ، اس میں سچ اور اس کے اخفاء کو جھوٹ سمجھا گیا ہے ، جس سے اعتراض پیدا ہوتے ہیں ، حالانکہ سچ اور جھوٹ کے لئے کچھ اور پہلو بھی غور ہوتے ہیں ۔ جھوٹ نتیجہ ہوتا ہے ، پست ترین جذبہ کے اظہار اور دوسروں کو دکھ دینے کا ، اور یہاں ان دونوں باتوں سے کوئی بات نہیں ، بنیامین پہلے آگاہ نہیں ، اخفاء نیک مقصد کے لئے ہے بھائی اپنے عزیز بھائی کی خاطر ایک تدبیر برروئے کار لاتا ہے اس میں کیا حرج ہے ؟ ، مقصود نیک ہے نتیجہ ومال مفید ہے ، دو بچھڑے ہوئے بھائی آپس میں مل رہے ہیں ، یہ ایک قسم کا حسین تدبیر ہے ، معاملہ فہمی ہے ، دقیقہ رسی ہے ، کہ اپنے بھائیوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ بنیامین کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سپرو کردیں ، اس میں کیا مضائقہ ہے ؟ غور طلب یہ حیثیت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اس وقت حاکم ہیں اس صورت میں ایسے اظہار تدبیر کی ضرورت ہے ، جس سے ان کی قانونی قابلیت نمایاں ہو ، نیز یہ غلط ہے کہ ہر مقام پر صادق کی پوزیشن بہتر ہے ، بعض وقت مقابلہ ہو تو ہے عقل وخرد کا ، اور سادہ سچائی کا ، جو پیش خیمہ ہوتی ہے مصیبتوں کا ، ایسے مقامات میں حزواحتیاط سے تغافل دانائی نہیں ہوتی ، پیغمبر جس قدر صادق القول ہوتے ہیں ، اسی قدر ان میں دانائی و حکمت بھی ہوتی ہے جس سے وہ مخالفین کی گھاتوں کو سمجھتے ہیں ، کھری سچائی جس کے ساتھ عقل کی آمیزش نہ ہو ، حماقت ہے ۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

بھائی بولے ، اگر اس نے چوری کی تو (کیا تعجب) اس کے بھائی (یوسف) نے بھی پہلے چوری کی تھی ، یوسف نے یہ بات اپنے دل میں پوشیدہ رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی ، اور کہا تم درجہ میں بد تر ہو ، اور جو کہتے ہو اللہ خوب جانتا ہے ۔ (ف 1) (علیہ السلام)

اس کے بھائی بھی چور تھے : (ف 1) چوری کی نسبت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب ہے ، یعنی ہو سکتا ہے کہ بنیامین نے پیمانہ چرایا ہو ، کیونکہ اس کا بھائی اسی قماش کا تھا ، یہ بہتان ہے ، اسی لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فورا تردید کردی اور فرمایا ، حقیقت اصلیہ سے اللہ کے سوا اور کوئی آگاہ نہیں ۔ غرض یہ ہے کہ اپنی بےگناہی پیش کی جائے ، اور کہا جائے کہ ہم شرفاء سے ہیں ، یہ بچہ اور اس کا بھائی البتہ خطا کار ہیں ، اس لئے ہمیں معاف فرمائیں ، ان لوگوں کو کیا معلوم تھا ، ہم کس کے دربار میں ہیں ؟ اس لئے پوری بےخوفی سے اتہام تراشا ، دروغ گوئم برروئے تو اسی کو کہتے ہیں ۔