Ayahs 68:40–41(سلھم ایھم بذالک زعیم) ۔ یعنی ان سے پوچھو کہ اس دعوی کی کون ذمہ داری اٹھاتا ہے جس کا بطلان واضح ہے کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسے لے کر آگے بڑھے اور نہ وہ اس میں ضامن ہی بن سکتا ہے۔
Ayahs 68:42–45یعنی جب قیامت کا دن ہوگا اور ایسے ایسے زلزلے اور ہولناکیاں ظاہر ہوں گی جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتیں، باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے اور ان کو جزا وسزا دینے کے لیے تشریف لائے گا، پس وہ اپنی مکرم پنڈلی کو ظاہر کرے گا جس سے کوئی چیز مشابہت نہیں رکھتی، لوگ اللہ تعالیٰ کا جلال اور عظمت دیکھیں گے جس کی تعبیر ممکن نیہں۔ یہی وہ وقت ہوگا جب ان کو سجدے کے لیے کہا جائے گا مومن اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے جو (دنیا میں) اپنی مرضی اور اختیار سے سجدہ کیا کرتے تھے۔
منافق اور فاجر سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ان کی کمریں ایسی ہوجائیں گی جیسے گائے کے سینگ جو جھک نہ سکیں گے، یہ جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہے کیونکہ دنیا کے اندر انہیں سجدہ کرنے، توحید اور عبادت کے لیے بلایا جاتا، درآنحالیکہ وہ صحیح سلامت ہوتے تھے اور ان میں کوئی بیماری نہ ہوتی تھی تو وہ تکبر اور استکبار سے سجدے سے انکار کردیتے تھے اس دن ان کے حال اور برے انجام کے بارے میں مت پوچھ کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہوگا، کلمہ عذاب ان پر حق ثابت ہوگا، ان کے تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے اور قیامت کے روز ندامت اور اعتذار کوئی فائدہ نہ دیں گے پس اس آیت میں ایسی چیزوں کا بیان ہے جو قلوب کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈراتی ہیں اور مدت امکان کے اندر تدارک کی موجب ہیں لہذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعنی چھوڑو مجھے قرآن کو جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو ان کی جزا میرے ذمہ ہے ان کے لیے جلدی نہ مچا، پس (سنستدرجھم من حیث لایعلمون) ۔ عنقریب ہم انہیں تدریج کیساتھ پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا ہم انہیں مال اور اولاد کی کثرت سے بہر مند کرتے ہیں ہم ان کے رزق اور اعمال کو زیادہ کرتے ہیں تاکہ وہ فریب میں مبتلا رہیں اور ایسے کاموں پر جمے رہیں جو ان کو نقصان پہنچائیں گے یہ ان کے خلاف اللہ کی چال ہے اور اپنے دشمنوں کے خلاف اللہ کی چال بہت مضبوط اور طاقت ور ہوتی ہے جو ان کو نقصان پہنچانے اور سزا دینے میں بہت کارگر ہے۔
Ayah 68:46(ام تسئلھم اجرا فھم من مغرم مثقلون) ۔ ان کے آپ سے دوربھاگنے اور آپ کی تصدیق نہ کرنے کا کوئی سبب نہیں جو اس کا موجب ہو کیونکہ آپ تو ان کے مال میں سے کوئی تاوان لیے بغیر، جو ان پر بوجھ ہو، محض ان کے مصالح کی خاطر ان کو تعلیم دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔
Ayahs 68:47–49(ام عندھم الغیب فھم یکتبون) ۔ ان کے پاس غیب کا علم نہیں کہ وہ اس بات کو پاچکے ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ثواب سے بہرور ہوں گے یہ معاملہ جیسا بھی ہے ان کا حال تو ایک معاند اور ظالم کا سا ہے پس اس کے سوا کچھ باقی نہیں کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا جائے اور جو کچھ ان سے صادر ہو رہا ہے اس پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ان کو بار بار دعوت دی جائے۔ اس لیے فرمایا (فاصبر لحکم ربک) یعنی اللہ تعالیٰ نے شرعا اور قدرا جو فیصلہ کیا ہے اس پر صبر کیجئے حکم قدری یہ ہے کہ ایذا پر صبر کیا جائے اور ناراضی اور بےصبری کے ساتھ ان کا سامنا نہ کیا جائے حکم شرعی کو قبول کیا جائے اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے اور اس کے امر کی اطاعت کی جائے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولاتکن کصاحب الحوت) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا، اور وہ ہیں یونس بن متی (علیہ السلام) یعنی اس حال میں حضرت یونس کی مشابہت اختیار نہ کیجئے جو حال مچھلی کے پیٹ میں ان کے محبوس ہونے کا باعث بنا اور وہ ہے اپنی قوم پر ان کا عدم صبر جو آپ سے مطلوب تھا اور اپنے رب سے ناراض ہو کر جانا، حتی کہ آپ کشتی میں سوار ہوئے، جب کشتی بوجھل ہوگئی تو کشتی والوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کشتی کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ان میں سے کسی کو سمندر کے اندر پھینکا جائے۔ پس حضرت یونس کے نام پر قرعہ پڑا (فالتقمہ الحوت وھو ملیم۔ الصافات 142) ۔ پس ان کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے۔
(اذ نادی وھو مکظوم) یعنی انہوں نے پکارا جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے اور ان پر دروازہ بند کردیا گیا تھا یا یہ کہ انہوں نے پکارا اور وہ ہم وغم سے لبریز تھے، چناچہ کہا، (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ الانبیاء 87) ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یونس کی دعا قبول فرمائی چناچہ مچھلی نے انہیں، جب کہ وہ بیمار تھے چٹیل میدان میں ڈال دیا۔ اللہ نے ان پر کدو کی بیل اگا دی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا (لولا ان تدار کہ نعمۃ من ربہ لنبذ بالعراء) ۔ اگر اس کے رب کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال سیے جاتے۔ یعنی انہیں چٹیل میدان میں ُ پھینک دیا جاتا (العراء) سے مراد (ہر قسم کی نباتات سے) خالی زمین ہے۔
وھو مذموم) ۔ اور وہ برے حال میں ہوتے، مگر اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دیا، ان کو اس حال میں پھینک دیا کہ وہ ممدوح تھے اور ان کی یہ حالت پہلی حالت سے بہتر ہوگئی۔
Ayahs 68:50–52(فاجتبہ ربہ) ۔ پس اللہ نے ان کو منتخب کرلیا اور ان کو ہر کدورت سے پاک کردیا (فجعلہ من الصالحین) اور ان کو نیکوکاروں میں سے کردیا۔ یعنی وہ لوگ جن کے اعمال واقوال اور نیت واحوال درست ہیں۔ ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی، پس اپنے رب کے فیصلے پر ایسا صبر کیا کہ کائنات میں کوئی شخص صبر کے اس درجے کو نہیں پاسکتا۔ اللہ نے انجام کار آپ کے لیے متعین کردیا (والعاقبۃ للمتقین۔ الاعراف 128) ۔ اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے۔ آپ کے دشمنوں کو اس میں اس چیز کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا جو ان کو بری لگتی تھی حتی کہ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ آپ کو غصے کی نظر سے گھور کر دیکھیں، حسد، کینہ اور غیظ وغضب کی بنا پر آپ کو نظر لگادیں یہ تھی اذیت فعلی میں ان کی انتہائے قدرت اور اللہ آپ کا حافظ وناصر تھا۔ رہی اذیت قولی تو جو جی میں آتا تھا اس کے مطابق مختلف باتیں کہتے تھے کبھی کہتے تھے کہ یہ مجنون ہے کبھی کہتے تھے شاعر ہے اور کبھی کہتے تھے جادوگر ہے اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا (وماھوا الاذکر للعالمین) یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم جہان والوں کے لیے نصیحت کے سوا کچھ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں نصیحت حاصل کرتے ہیں۔۔ اور ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے۔