Ayahs 56:80–81(تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) یہ قرآن جو ان صفات جلیلہ سے موصوف ہے رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دنی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے۔ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں برسرعام اس کا اعلان کریں اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں بنابریں فرمایا (اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ) پھر تم اس کلام سے بےپروائی کرتے ہو یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکرحکیم کو مخلوق کے خوف ان کی عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو ؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔ رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس قرآن کے ذریعے سے مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھحملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایاجائے بلکہ برسرعام اس کا اعلان کیا جائے۔
Ayah 56:82(وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ ) اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔ یعنی تم اللہ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفہ تکذیب ور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہوں فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی اور تم نعمت کو ان ہسیتوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنہوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہ ادا کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمہیں اور زیادہ اپنے فضل و کرم سے سرفراز فرمائے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔
Ayahs 56:83–85(فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ ، وَاَنْتُمْ حِيْـنَىِٕذٍ تَنْظُرُوْنَ 84ۙوَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ 85) یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔
Ayahs 56:86–87(فَلَوْلَآ اِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِيْنِيْنَ ) پس اگر تم کسی کے زیرفرمان نہیں تو تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔ یعن بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمہارا حساب کتاب کرکے تمہیں جزا وسزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو تب تمہیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہوگا جو محمد کریم لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے پس تمہارا حال اور تمہارا برا انجام معلوم ہے۔
Ayah 56:88اللہ تبارک تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کے اوائل میں قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین، اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آپہنچے گا چناچہ فرمایا (فَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ) اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات ومستحبات کی ادائیگی اور محرمات ومکروہات اور بےفائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔
Ayah 56:89(فَرَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ ڏ وَّجَنَّتُ نَعِيْمٍ ) تب ان کے لیے راحت و اطمینان فرحت وسررور اور قلب روح کی نعمتیں ہوں گی۔ (ریحان) یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے۔ جو مختلف انواع کے ماکولات ومشروبت پر مشتمل ہو کہا جاتا ہے کہ ریحان سے مراد معروف خوشبو ہے تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ (وَّجَنَّتُ نَعِيْمٍ ) اور نعمتوں والی جنت ہے۔ جو دونوں امور کی جامع ہوگی اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے مقربین کی موت کے قریب کے وقت ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے (ان الذین قالوا۔۔۔ تا۔۔۔ غفور رحیم۔ حم سجدہ 30 تا 32) بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ اور جنت کی خوش خبری سے خوش ہوجاؤ جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمہارے دوست تھے اور آخرت کی زندگی میں بھی ہم تمہارے دوست ہوں گے۔ اس جنت میں تمہارے لیے ہر وہ چیز ہوگی جس کی تمہارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے یہ سب کچھ رب غفور رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرہ۔ یونس 64) انکے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوش خبری ہے کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔
Ayahs 56:90–91(وَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ ) اور اگر وہ داہنے ہاتھ والے میں سے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا۔ اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا۔ تو ان میں سے ہر ایک سے کہا جائے گا (فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ ) تمہارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمہیں سلامتی حاصل ہے یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کیا آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔
Ayah 56:92(وَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِيْنَ الضَّاۗلِّيْنَ ) اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے۔
Ayahs 56:93–94(فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيْمٍ 93ۙوَّتَصْلِيَةُ جَحِــيْمٍ 94 ) تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے اس روز ان کی ضیافت یہ ہوگی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے۔ (یغاثوا بمآء کلمھل۔۔۔ تا۔۔ مرتفقا۔ الکھف 29) تو انہیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند گرم ہو جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا ان کا مشروب کتناب را اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہوگی۔
Ayahs 56:95–96(اِنَّ ھٰذَا) یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے مثلا بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا وسزا، اور اس کی تفاصیل ( لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِ ) بلاشبہ یہی مذکور حق الیقین ہے۔ یعنی اس میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اسکی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی مشاہدہ کررہے ہوں پس انہوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ ) لہذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلندو برتر ان باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں) کرتے ہیں۔