Ayahs 56:41–42اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے چناچہ آگاہ فرمایا کہ وہ (فِيْ سَمُوْمٍ ) باد سموم میں ہوں گے۔ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کردے گی۔ (وحمیم) یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کا ٹک رکھ دے گا۔
Ayah 56:43(وَّظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ ) اور سیاہ ترین دھویں کے سائے میں ہوں گے۔ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہوگا۔
Ayahs 56:44–45(لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْمٍ ) یعنی اس میں ٹھنڈک ہوگی نہ وہ خوش گوار ہوگا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم وغم اور حزن شر ہوگا جس میں کوئی بھلائی نہ ہوگی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنہوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا چناچہ فرمایا (اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ ) یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کردیا انہوں نے دنیا کے لیے کام کیا دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے اور دنیا کی مہت ہی نے ان کو اپنے عمل درست کرنے سے غافل رکھا پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے
Ayahs 56:46–48( وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ ) یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انہیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا پس انہوں نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے (اَىِٕذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَاۗؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ 48) کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ پھر کھڑے کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی ؟ اللہ نے ان کی بات کا جواب اگلی آیت میں دیا اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayahs 56:49–50یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انہیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ نے تمام مخلوقت کے ختم ہوجانے پر ان کو ان کے اعمال کی جزا وسزا دینے کے اردے سے جو انہوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کررکھا ہے۔
Ayahs 56:51–52(ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّاۗلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ ) پھر بیشک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو رسول اکرم اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعدہ وعید کو جھٹلانے والو۔ (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ) تم تھوہر کے درخت سے ضرر کھاؤ گے۔ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔
Ayah 56:53(فَمَالِــــُٔـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ ) اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے وہ چیز جو انہیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہوگا بےانتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جارہی ہوگی قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔
Ayahs 56:54–55فَشٰرِبُوْنَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيْمِ ۔ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِيْمِ 55ۭ ) رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے وہ اس تھوہر کے کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا وہ اسے پیاسے اونٹ کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدیدی ہوگی (الھیم) سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔
Ayah 56:56(ھٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّيْنِ ) یعنی یہ کھانا اور پینا ان کی ضیافت ہوگی قیامت کے دن۔ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انہوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انہوں نے اللہ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اسنے اپنے اولیاء کے لیے تیار کررکھی تھی۔ فرمایا (ان الذین آمنو وعملوالصالحات۔۔۔۔ تا۔۔۔ حولا۔ الکھف 107، 108) بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔
Ayah 56:57پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا (نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ ) ہم ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم دوبارہ جی اٹھنے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمہیں وجود بخشا اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے بنا بریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر ان کو زجر وتوبیخ کی ہے حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
Ayahs 56:58–62یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحموں میں) ٹپکاتے ہو کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے اس کے خالق تم ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی۔ میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی ہے ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعقل قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے اس لیے الہ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے۔ چناچہ فرمایا (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ ) اور تمہیں یقنی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں تم عبرت حاصل نہیں کرتے۔ بیشک تمہاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
Ayahs 56:63–64یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انہیں اپنی توحید اپنی عبادت اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کرکے انہیں نعمتوں سے نوازا ہے اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کرسکتے۔ پس فرمایا (ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ) یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے کیا تم نے اس کی نشونما دی ہے ؟ کیا تم ہو جنہوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا ؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سرانجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے ؟ تمہارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو تمہیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمہیں کوئی قدرت واختیار نہیں اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرکے تمہاری گزران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔
Ayahs 56:65–67(لَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنٰهُ ) اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔ یعنی یہ کاشت کی کئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو (حطاما) ریزہ ریزہ کیا گیا چورا۔ جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ یہ رزق کام دیتا ہے یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے اس کے عبد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے پھر تم ہوجاتے (تفکھون) ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہونے والے جو تم پر نازل ہوئی تمہاری ساری فرحت اور مسرت اور لذت زائل ہوجاتی اور تم کہہ اٹھتے۔ (انا لمغرمون) کہ بلا شبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی جس نے ہمیں ہلاک کرڈالا پھر اس کے بعد تمہیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پر آن پڑی ؟ پھر تم کہتے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ) بلکہ ہم تو بالکل محروم ہی رہ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد وسائش بیان کر کہ اس نے تمہارے لیے کھیتی اگائی اسے باقی رکھا۔ اسے تمہارے لیے پایہ تکمیل کو پہنچایا اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہوجاتے۔
Ayahs 56:68–70جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکتا (فلو لا تشکرون) پس تم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں ؟
Ayahs 56:71–72یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اسکے درخت کو پیدا کرتے یہ تو اللہ ہی ہے جس نے سرسبز درخت سے آگ کو پیدا کیا تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے جب وہ اپنی ضرورت سے فرغ ہوجاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔
Ayah 56:73(نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً ) یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لی ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے یہ یاد دہانی ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے۔ (وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَ ) یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیستبنایا اللہ تعالیٰ نے مسافروں کے لیے مخصوص فرمایا کہ کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے پس اس میں آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔
Ayah 56:74جب اللہ تبارک وتعالی نے اپن نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمدوثنا اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح وتحمید کا حکم دیا۔ چناچہ فرمایا (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) یعن اپنے رب کی عظیم کی تنزیہ بیان کیجئے۔ جو اسما وصفات میں کامل اور بےپایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجئے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے اس کی ناشکری نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے۔
Ayahs 56:75–77اللہ تبارک وتعالی نے ستاروں کی اور ان کی منازل یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادثات کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں اور جو اس کی عظمت اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ) اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں اور ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے ہر بھلائی ور ہر علم اللہ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔
Ayah 56:78(فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ ) کتاب محفوظ میں ہے۔ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے۔ یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے یعنی یہ قرآن لوح محفوظ لکھا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اور ملا اعلی میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مرادوہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر وتبدل کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔
Ayah 56:79(لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ) اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہا اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں۔