Ayahs 54:41–42(وَلَقَدْ جَاۗءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ) اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس ڈرانے والے آئے۔ اللہ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ کو بھیجا آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انہوں نے اللہ کی تمام نشانیوں کو جھٹلایا تب اللہ نے انکو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کے مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کردیا۔ ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو حضرت محمد مصطفیٰ کو جھٹلاتے ہیں بنابریں فرمایا (اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰۗىِٕكُمْ ) اے اہل عرب کیا تمہارے کافر ان کافروں سے بہتر ہیں ؟ یعنی کیا یہ لوگ جنہوں نے افضل المرسلین محمد مصطفیٰ کی تکذیب کی ہے ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے ؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں اور ان پر عذاب نازل نہ ہوجوان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شرپسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔
Ayahs 54:43–46( اَمْ لَكُمْ بَرَاۗءَةٌ فِي الزُّبُرِ ) یا تمہارے لیے سابقہ صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے ؟ یعنی کیا اللہ نے ان کتابوں میں تمہارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کررکھا ہے جو گزشتہ انبیا پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ کے وعدے اور اس کی خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے ؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے بلکہ یہ عقلا اور شرعا غیر ممکین امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی برات لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔ یہ حخمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنہوں نے افضل الانبیا سید المرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ کے ہاں تمام انبیا سے بڑھ کر ہیں صاحب تکریم ہیں جھٹلایا پس اب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں چناچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں ( نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ) ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے وہ ہزیمت اٹھائیں گے فرماتا ہے (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45) عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے اللہ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا ہے جس طرح اللہ نے خبر دی تھی پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوہ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دوچار کیا ان کے بڑے بڑے بہادر اور ان کے سر کردہ سردار قتل ہو کر ذلیل خوار ہوئے اللہ نے اپنے دین اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح ونصرت سے سرفراز فرمایا۔ بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین وآخرین جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرور کیا گیا سب کو اکٹھا کرے گا اسلیے فرمایا (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ ) بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا۔ ( وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ ) اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے یعنی بہت آفت زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جاسکتا ہے یا وہ تصور میں آسکتی ہے۔
Ayah 54:47(اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ ) یعنی وہ لوگ جنہوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ہیں یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں (فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ) وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے وہ قیامت کے روز دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ان پر آگ بھرکائی جائے گی آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہوگی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
Ayah 54:48(يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ) جس دن انہیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا چہر جو تمام اعضا میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے پس انہیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا (ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ) تم جہنم کے عذاب کی تکلیف چکھو یعنی آگ اس کے غم اس کے غیظ وغضب اور اس کے شعلوں کے عذاب کو چکھو۔
Ayahs 54:49–50(اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ) بیشک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے کے مطابق پیدا کیا۔ یہ آیت کریمہ تمام مخلوقات تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے تمام کائنات کو اللہ تعالیٰ اکیلے نے پیدا کیا اللہ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے اس نے اس کائنات کو ایسی قضاوقدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا اس کی مقدار وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کرلیا یہ سب کچھ اللہ کے لیے بہت آسان تھے اس لیے فرمایا (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ ) اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپنکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہوجا۔ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اس طرح ہوجاتی ہے جیسا کہ اس نے ارادہ کیا تھا۔
Ayah 54:51(وَلَقَدْ اَهْلَكْنَآ اَشْيَاعَكُمْ ) اور یقینا ہم تم سے پہلے تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنہوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں انہوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ( فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین وآخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے اللہ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شرپسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شرپسند لوگ بھی انہی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
Ayah 54:52(وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ ) یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سرانجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفہ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
Ayah 54:53(وَكُلُّ صَغِيْرٍ وَّكَبِيْرٍ مُّسْـتَـطَرٌ) یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے اور قضا وقدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیا کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کررکھا ہے اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ڈبل نہیں ہوسکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
Ayah 54:54(اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ ) یعنی تعمیل اور اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں (فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ) وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیہ و خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند وبالامحلات خوبصورت آرام گاہیں نہایت لذیذ ماکولات ومشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزاوسزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی یہ سب کچھ ہوگا۔
Ayah 54:55(فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ ) حقیقی عزت کی جگہ ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں۔ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت تکریم اور جودوکرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بےپایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلاجائے گا اللہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیون سے محروم نہ کرے جو اس کے سایہ رحمت میں ہیں۔ (آمین) ۔