Ayah 51:41(وَفِيْ عَادٍ ۔ اور عاد میں بھی ) ۔ نشان عبرت ہے جو ایک معروف قبیلہ تھا ( اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ ) جب انہوں نے اپنے نبی ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر نامبارک ہوا بھیجی جو خیر سے خالی تھی۔
Ayah 51:42(مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ ) وہ جس پر سے بھی گزرتی تو وہ اسے ریزہ ریزہ کیے بغیر نہیں چھوڑتی یعنی ریزہ ریزہ کی ہوئی بوسیدہ چیز کے مانند۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہستی جس نے قوم عاد کو ان کی قوت اور طاقت کے باوجود ہلاک کرڈالا، کامل قوت واقتدار کی مالک ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی وہ نافرمانی کرنے والوں سے انتقام لے سکتی ہے۔
Ayahs 51:43–44وَفِيْ ثَمُوْدَ ) ۔ اور ثمود میں بھی۔ ایک عظیم الشان عبرت ہے جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح کو مبعوث فرمایا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طور پر اونٹنی بھیجی مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی۔ (اِذْ قِيْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ ۔ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ ) چناچہ انہیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھا لو تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔ یعنی ہلاک کردینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آلیا (وھم ینظرون) اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
Ayah 51:45(فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ ) پس وہ اٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے (وما کانو امنتصرین) اور نہ وہ اپنے لیے کوئی مدد ہی حاصل کرسکے۔
Ayah 51:46یعنی اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کے ساتھ بھی یہی کہا جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی۔ اللہ نے ان پر آسمان اور زمین سے بےپناہ سیلاب بھیجا جسنے ان کے آخری آدمی تک کو غرق کردیا اور کافروں کا ایک بھی بستا ہوا گھر باقی نہ چھوڑا۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت اور سنت ہے جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔
Ayah 51:47اللہ تبارک وتعالی اپنی عظیم قدرت کو بیان فرماتے ہیں (والسماء بنینھا) یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ (باید) قوت سے۔ یعنی عظیم قدرت وقوت کے ساتھ۔ (وانا لموسعون) اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشتوں تک وسعت دیتے ہیں۔ نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں، سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہوا جو اسے بےنیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جو دو کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بےپایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
Ayah 51:48(وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا) ۔ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلا گھربنانا۔ باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا (فنعم الماھدون) ۔ پس کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
Ayah 51:49(وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ ) یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں۔ (لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ) ۔ شاید کہ تم ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے جوڑے بنا کر تم پر کیں غور و فکر کرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے۔
Ayah 51:50(فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ۭ ) لہذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ کو ناپسند ہے اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا۔ کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکرالٰہی کی طرف آنا۔ پس جس نے ان امور کو مکمل کیا اس نے دین کی تکمیل کرلی، اس سے خوف زائل ہوگیا اور اسے اس کی منزل مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہوگیا اللہ نے اپنی طرف اس رجوع کو فرار کے نام سے موسوم کیا کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سیانواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوزوفلاح پوشیدہ ہیں۔ پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے بھاگ کر اس کی قضا وقدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرت ہیں اس سے بھاگ کر اللہ کی پناہ لیں کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہوگا۔ (اِنِّىْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
Ayah 51:51(وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ) اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الہ نہ بناؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو، یعنی بتوں اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت اپنے خوف ورجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔
Ayahs 51:52–53اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو مشرکین کی تکذیب کے مقابلے میں تسلی دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں اس کے بارے میں مختلف بری باتیں کرتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے ایسی باتیں کہنا ہمیشہ سے ان مجرموں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عادت رہی ہے اللہ نے کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمایا جس پر اس کی قوم نے جادوگر اور مجنون ہونے کا بہتان نہ لگایا ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین وآخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے ؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کرلینا کچھ بعید نہیں۔ (بل ھم قوم طاغون) بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں ان کے دل اور اعمال کفر اور سرکشی کے سبب سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ پس ان کی سرکشی سے جنم لینے والے ان کے اقوال بھی باہم مشابہت رکھتے ہیں اور فی الواقع ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وقال الذین لا یعلمون۔۔۔ تا۔۔۔ قلوبھم۔ البقرہ 118) ۔ اور وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کہتے ہیں اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اسی طرح ان سے پہلے لوگ ان جیسی باتیں کیا کرتے تھے ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح اہل ایمان کے دل چونکہ اطاعت حق اور اس کی طلب اور کوشش میں باہم مشابہ ہیں اس لیے وہ اپنے رسولوں پر ایمان، ان کی تعظیم توقیر اور ان کے مرتبے کے لائق خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہونے میں جلدی کرتے ہیں۔
Ayah 51:54(فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ) یعنی آپ ان کی پرواہ کیجئے نہ ان کا کوئی مواخذہ کیجئے۔ اپنے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیے۔ (فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ ) ان کے گناہ پر آپ کو کوئی ملامت نہیں۔ آپ کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے جو ذمہ داری آپ کے سپرد کردی گئی تھی وہ آپ نے پوری کردی ہے اور جو پیغام دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا وہ آپ نے پہنچا دیا ہے۔
Ayah 51:55( وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ ) اور نصیحت کیجئے بلاشبہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے اور تذکیر کی دو اقسام ہیں۔
1۔ ایسے امور کے ذریعے سے تذکیر جن کی تفصیل کی معرفت حاصل نہیں، البتہ وہ فطرت اور عقل کے ذریعے سے مجمل طور پر معروف ہیں کیونکہ اللہ تبارک وتعالی نے عقل میں خیر سے محبت اور خیر کو ترجیح دینا، شر کو ناپسند کرنا اور اس سے دور بھاگنا ودیعت کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اس کے موافق ہے پس شریعت کا ہر امرونہی، تذکیر ہے، تذکیر کامل یہ ہے کہ مامورات شریعت میں بھلائی، حسن اور انسانی مصالح پوشیدہ ہیں ان کا ذکر کیا جائے اور منہیات میں جو نقصانات پنہاں ہیں ان کا ذکر کیا جائے۔
2۔ تذکیر کی دوسری قسم ان امور کے ذریعے سے تذکیر ہے جو اہل ایمان کو معلوم ہیں۔ مگر غفلت اور مدہوشی نے انہیں ڈھانپ رکھا ہے ان کو ان امور کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے ان کے سامنے ان باتوں کو مکرر بیان کیا جاتا ہے۔ تاکہ یہ باتیں ان کے ذہن میں راسخ ہوجائیں انکو تنبیہ کی جاتی ہے اور جن باتوں کی انہیں یاد دہانی ہوئی ہے ان پر عمل پیرا ہوں نیز یہ کہ ان میں نشاط اور ہمت پیدا ہو جو ان کے لیے فائدے اور بلندی کی موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ نصیحت اور تذکیر مومنوں کو فائدہ دیتی ہے کیونکہان کے پاس جو سرمایہ ایمان، خشیت الٰہی انابت الی اللہ اور اتباع رسول ہے یہ تمام اوصاف اس بات کے موجب ہیں کہ تذکیر ان کو فائدہ دے اور نصیحت ان کے دل میں اتر جائے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (فذکر ان نفعت الذکری۔۔ تا۔۔۔ الاشقی۔ الاعلی۔ 9 تا 11) اے نبی۔ آپ نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت نفع سے جو خشیت سے بہرور رہے وہ ضرور نصیحت پکڑے گا اور بدبختی کا مارا ہوا اس سے پہلوتہی کرے گا۔ جس میں ایمان کی رمق ہے نہ نصیحت قبول کرنے کی استعداد اس کو تذکیر اور نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی وہ اس شور زدہ زمین کے مانند ہے جس کو بارش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس قسم کے لوگوں کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آجائیں تو وہ پھر بھی اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
Ayah 51:56وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیائ ورسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے وہ اللہ کی عباد ہے جو اس کی معرفت اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے اور یہ چیز اللہ کی معرفت ہے وابستہ ہے بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہوگی یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ نے مکلفین کو پیدا کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ ان سے کوئی ضرورت تھی۔
Ayahs 51:57–58(مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ ) میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج اور ضروریہ اور غیرضروریہ میں اس کی محتاج ہے اسی لیے فرمایا (ان اللہ ھوالرزاق) یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے زمین و آسمان میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو وہ اس کا ٹھکانہ بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے۔ (ذوالقوۃ المتین) ۔ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم علوی اور عالم سفلی کے بڑے بڑے اجسام کو وجود بخشا، اس قدرت کے ذریعے سے وہ ظاہر و باطن میں تصرف کرتا ہے اور اس کی مشیت تمام مخلوق پر نافذ ہے۔ اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا کوئی بھاگنے والا اسے بےبس کرسکتا ہے نہ کوئی اس کے تسلط سے باہر نکل سکتا ہے یہ اس کی قوت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام کائنات کو بہم رزق پہنچایا۔ یہ اس کی قدرت وقوت ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گا جبکہ بوسیدگی نے ان کو ریزہ ریزہ کردیا ہوگا ہوائیں ان کے ذرات کو اڑا کر بکھیر چکی ہوں گی پرندے اور درندے انہیں نگل چکے ہوں گے اور وہ چٹیل بیابانوں اور سمندر میں بکھر چکے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ان کے اجساد کو جو زمین کم کر رہی ہے وہ اسے خوب جانتا ہے پاک ہے وہ ذات جو قوت والی اور طاقت ور ہے۔
Ayah 51:59وہ لوگ جنہوں نے حضرت محمد کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ان کے لیے عذاب اور سزا ہے (ذنوبا) یعنی ان کے لیے بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح ان کے ساتھی اہل ظلم اور اہل تکذیب کے ساتھ کیا گیا۔ (فلایستعجلون) اس لیے وہ عذٓب کے لیے جلدی نہ مچائیں کیونکہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ایک ہی ہے چناچہ ہر جھٹلانے والا شخص جو اپنی تکذیب پر جما ہوا ہے جو توبہ کرتا ہے نہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اس پر عذاب ضرور واقع ہوگا خواہ کچھ مدت کے لیے موخر ہوجائے۔
Ayah 51:60بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کی وعید سنائی ہے، چناچہ فرمایا۔ (فَوَيْلٌ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ ) پس کافروں کے لیے اس دن ہلاکت ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان کو مختلف قسم کے عذاب، سزاؤں، بیڑیوں کی وعید سنائی گئی ہے ان کا کوئی مددگار ہوگا نہ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہوگا۔ ہم اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔