Ayahs 40:61–65آیت 61
آیات کریمہ میں غور و فکر کیجیے، جو اللہ تعالیٰ کیے بےپایاں رحمت، اس کے لامحدود و فضل و کرم، اس کے لئے و جوب شکر، اس کی قدرت کاملہ، اس کی عظیم طاقت، اس کی وسیع اقتدار، تمام اشیا کو اس کے تخلیق کرنے، اس کی حیات کاملہ اور اس کی تمام صفات کاملہ اور افعال حسنہ سے موصوف ہونے کی بنا پر ہر قسم کی حمد و ثنا سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس کی کامل ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کے متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام تدابیر، ماضی، حال اور مستقبل کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو کوئی قدرت و اختیار نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود حقیقی ہے اس کے سوا جس طرح کوئی ہستی ربوبیت کی مستحق نہیں اسی طرح عبودیت کی بھی مستحق نہیں۔ یہ حقیقت اس امر کا موجب ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کے خوف اور اس پر امید سے لبریز ہوں۔
یہ دو امور ہیں جن کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کو تخلیق فرمایا اور وہ ہیں معرفت الٰہی اور عبادت الٰہی یہی دو امور ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقصد قرار دیا ہے یہی دو امور ہر قسم کی بھلائی، خیر و فلاح، دینی اور دنیاوی سعادت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، یہی دو امور اللہ کریم کی طرف سے پانے بندوں کے لئے بہترین عطیہ ہیں اور یہی دو امور علی الاطلاق لذیذ ترین چیزیں ہیں۔ اگر بندہ ان دو چیزوں سے محروم ہوجائے تو وہ ہر خیر سے محروم ہو کر ہر شر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو اپنی معرفت اور محبت سے لبریز کر دے، ہماری باطنی اور ظاہری تمام حرکات صرف اس کی رضا کے لئے اور صرف اسی کے حکم کے تابع ہوں، کوئی سوال اس کے لئے پورا کرنا مشکل ہے نہ اس کی کوئی عطا اسے لاچار کرسکتی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) “ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری خاطر رات کو سیاہ بنایا (لتسکنوا فیہ) ” تاکہ تم اس میں آرام کرسکو “ تاکہ تم اپنی حرکات سے سکون پاؤ۔ اگر یہ حرکات دائمی ہوتیں تو تمہیں نقصان پہنچتا۔ سکون کے حصول کے لئے تم اپنے بستروں میں پناہ لیتے ہو، اللہ تعالیٰ تم پر نیند طاری کردیتا ہے جس سے اناسن کا قلب و بدن آرام پاتے ہیں۔ نیند اناسنی ضروریات کا حصہ ہے اناسن اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کے وقت ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس آرام کرتا ہے، فکر مجتمع ہوتی ہے اور مشاغل کم ہوجاتے ہیں۔
(و) ” اور “ بنایا اللہ تعالیٰ نے (النھار مبصرا) ” دن کو کھلانے والا “ یعنی روشنی والا جو اپنے مدار میں رواں دواں سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے اور تم اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے روز مرہ کے دینی اور دنیاوی امور میں مشغول ہوجاتے ہو، کوئی ذکر اور قرأت قرآن میں مشغول ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی طلب علم میں مصروف ہے اور کوئی خریدو فروخت اور کاروبار کر رہا ہے کوئی معمار ہے تو کوئی لوہار سب اپنے کام اور صنعت میں مصروف ہیں۔ کوئی بری یا بحری سفر کر رہا ہے، کوئی کھیتی باڑی کے کاموں میں لگ گیا ہے تو کوئی اپنے جانوروں اور مویشیوں کے بندوبست میں مصروف ہے۔
(ان اللہ لذوفضل) ” بیشک اللہ فضل والا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم فضل و کرم کا مالک ہے جیسا کہ اس (فضل) کی تنکیر دلالت کرتی ہے۔ (علی الناس) ” تمام لوگوں پر۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان مذکورہ اور دیگر نعمتوں سے نوازا اور ان سے مصائب کو دور کیا اور یہ چیز ان پر کامل شکر اور کامل ذکر کو واجب کرتی ہے۔ (ولکن اکثر الناس لایشکرون) مگر اکثر لوگ اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے جی اس کہ فرمایا : (آیت) “” اور میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں “ جو اپنے رب کی نعمت کا اقرار کر کے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوں، اس سے محبت کرتے ہوں، ان نعمتوں کو اپنے آقا کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہو۔ (ذلکم) ’ دیہ ہے “ جس نے یہ سب کچھ کیا (اللہ ربکم) ” اللہ تمہار ارب “ جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ (خالق کل شیء ) ” ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ “ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے۔ (لا الہ الا ھو) ” اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔ “ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا : (فانی توفکون) ” پھر تم کدھر بہکے جا رہے ہو۔ “ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمہارے سامنے راہ راست کو روشن کردیا ہے ؟
(کذالک یوفک الذین کانوبایت اللہ یجحدون) ” اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔ “ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم وتعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمہیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔ “
(آیت) ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار بنایا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین کو اسکن بنایا اور زمین ہی سے تمہیں تمہارے تمام مصالح مہیا کیے۔ تم زمین پر کھیتی باڑی کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، اس کے اندر سفر اور اقامت کرتے ہو۔ (والسمآء بنآء) اور آسمان کو چھت “ یعنی آسمان کو زمین کے لئے بمنزلہ چھت بنایا جس کے نیچے تم چلتے پھرتے ہو، اس کی روشنیوں اور علامات سے فائدہ اٹھاتے ہو جن کے ذریعے سے بحرو بر کی تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ (وصور کم فاحسن صور کم) ” اس نے تمہاری شکل بنائی اور تمہاری شکلوں کو خوبصورت بنایا۔ “ پس تمام جانداروں میں بنی آدم سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ہم نے اناسن کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔ “ اگر آپ اناسن کی خوبصورتی جانچنا اور اللہ عزوجل کی حکتم کی معرفت چاہتے ہیں تو اناسن کے عضو عضو پر غور کریں کیا آپ کو کوئی ایسا عضو نظر آتا ہے، جو جس کام کے لائق ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ موجود ہو ؟
پھر آپ اس میلان پر غور کیجیے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لئے ہوتا ہے کیا آپ کو یہ میلان آدمیوں کے سوا دوسرے جانداروں میں ملے گا ؟ آپ اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اناسن کو عقل، ایمان، محبت اور معرفت سے مختص کیا ہے جو بہترین اخلاق میں خوبصورت ترین صورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔
(ورزقکم من الطیبت) ” اور تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔ “ یہ ہر قسم کی پاک ماکولات، مشروبات منکوحات، ملبواست، مسموعات اور مناظر وغیرہ کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مہیا کر رکھا ہے اور ان کے حصول کے اسباب کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ناپاک چیزوں سے روکا ہے جو ان مذکورہ طیبات کی متضاد ہیں جو قلب و بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں۔
(ذلکم) ” یہ ہے “ وہ ہستی جس نے ان تمام امور کی تدبیر کی ہے اور تمہیں ان نعمتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔
(اللہ ربکم) ” اللہ تمہارا رب ہے “ (فتبرک اللہ رب العلمین) ” پس تمام جہانوں کا پروردگار اللہ بہت ہی بابرکت ہے “ جس کی بھلائی اور احاسنات بہت زیادہ ہیں جو تمام جہانوں کی اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تربیت کرتا ہے۔
(ھو الحی) وہی زندہ ہے جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو ملزم ہے جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفات کمال اور نعوت جلال (لا ہالہ الا ھو) ” اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ (فادعوہ) ” پس تم اسی کو پکارو۔ “ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ (مخلصین لہ الدین) ” اسی کے لئے دین کو خلاص کرتے ہوئے۔ “ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ عمل ہے جس کا حکم ہر عبادت میں دیا گیا ہے جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اور ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کی لئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔ “ (آیت) ” ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔ “ یعنی تمام قولی محادمد اور مدح و ثنا، مثلاً مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا اور فعلی مجاہد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا۔ سب اللہ واحد کے لئے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف اپنے لئے عبادت کو خلاص کرنے کا حکم دیا اور اس کے دلائل وبراہین بیان فرمانے کے بعد نہایت صراحت کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت سے روکا، چناچہ فرمایا : (قل) اے نبی ! کہہ دیجیے : (آیت) ” بیشک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ “ مجھے تمام اصنام، بتوں اور ہر اس چیز کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے موقف پر ذرہ بھر شک نہیں، بلکہ مجھے اس کی حقانیت پر بصیرت کے ساتھ پورا یقین ہے، اس لئے فرمایا (آیت) ” جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں۔ “ مجھے اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ خالق کائنات کے سامنے سرافگندہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے کہ یہ تمام اعضا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ یہ علی الاطلاق سب سے بڑا ” حکم “ ہے۔ اسی طرح غیر اللہ کی عبادت سے ” نہی “ علی الاطلاق سب سے بڑی ممانعت ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس توحید کو اس دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ وہ تمہارا خلاق ہے اور اس نے تمہیں مختلف مراحل میں تخلیق کیا۔ جس طرح اس اکیلے نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم صرف اسی کی عبادت کرو۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا “ یعنی اس نے تمہارے جد امجد حضرت آدم ﷺ کو مٹی سے تخلیق فرمایا (آیت) ” پھر نطفہ سے “ یہ تمام نوع اناسنی کی ماں کے پیٹ کے اندر تخلیق کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ابتدا کا ذکر کر کے باقی تمام مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، یعنی نطفے سے خون کا لوتھڑا بننا پھر بوٹی بننا پھر ہڈیوں کا تخلیق پانا اور آخر میں روح کا پھونکا جانا۔
(ثم یخرجکم طفلاً ) ” پھر تمہیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے۔ “ اس طرح تم تخلیق الٰہی میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتے ہو، یہاں تک کہ تم عقل و بدن کی پوری قوت کو پہنچ جاؤ اور تمہارے ظاہری و باطنی قوی مکمل ہوجائیں۔ (آیت) ” پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے۔ “ یعنی بالغ ہونے سے پہلے (ولتبلغوآ) ” تاکہ تم پہنچ جاؤ “ ان مقررہ مراحل کے ذریعے سے ایک مدت مقررہ تک جہاں تمہاری عمر ختم ہوجاتی ہے۔
(آیت) ” اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔ “ شاید کہ تم اپنے احوال کو سمجھو اور تمہیں معلوم ہو کہ تمہیں ان مراحل میں سے گزارنے والی ہستی کامل قدرت کی مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سوا کوئی اور ہستی عبادت کے لائق نہیں اور تم ہر لحاظ سے ناقص ہو۔ (آیت) ” وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے “ یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ (آیت) ” اور کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بیشک یہ اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ “
(آیت) ” پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔ “ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا (آیت) ” تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ “ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 40:66–76آیت 66
(آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟
بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو رسول مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خرد مند ہیں۔
بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان تکذیب کرنے والوں کے لئے کوئی جزا نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” وہ عنقریب جان لیں گے جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔ “ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کرسکیں گے (والسلسل) ” اور زنجیریں (ہوں گی) “ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ (یسعبون، فی الحمیم) یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ (ثم فی النار یسجرون) ” پھر وہ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ “ ان کے لئے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا : (آیت) ” کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے۔ “ کیا انہوں نے تمہیں کوئی فائدہ دیا یا انہوں نے تم سے عذاب کو دور کردیا ؟ (قالوا ضلوعنا) ” وہ کہیں گے وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں “ یعنی وہ ہم سے دور ہوگئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے۔ پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے : (بل لم نکن ندعوا من قبل شیاء) ” بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔ “ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کے اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے، اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود اسختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انہوں نے ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے (آیت) ” اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔ “ یعنی اس گمراہ کے مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” اور جو لوگ اللہ کے سوا خود اسختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ “ کا معنی بھی واضح ہوجائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : (آیت) ” اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ “ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے : (آیت) ” اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔ “
اہل جہنم سے کہا جائے گا : (ذلکم) یہ عذاب جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ (آیت) ” اس وجہ سے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔ “ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کے آخر میں فرمایا : (آیت) ” جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔ “ اور جی اس کہ قارون کی قوم نے اس سے کہ کا تھا : (آیت) ” خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” کہہ دیجیے ! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔ “ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
(آیت) ” جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ۔ “ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کردیا جائے گا۔ (آیت) ” اس میں تم ہمیشہ رہو گے۔ “ وہ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ “ (آیت) ” وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو کمحبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انہیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
Ayah 40:77آیت 77
(فاصبر) اے رسول ! آپ کو دعوت دینے پر اپنی قوم کی طرف سے جو تکالیف پہنچی ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے صبر پر اپنے ایمان سے مدد لیجیے : (ان وعد اللہ حق) ” بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ “ وہ اپنے دین کی مدد اور اپنے کلمے کو غالب کرے گا اور اپنے رسولوں کو دنیا و آخرت میں اپنی نصرت سے نوازے گا، نیز دنیا و آخرت میں اپنے دشمنوں پر عذاب کے وقوع سے بھی صبر میں مدد لیجیے، اس لئے فرمایا : (آیت) ” یعنی اگر ہم نے دنیا ہی میں ان کے عذاب کا کچھ حصہ آپ کو دکھا دیا جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں (آیت) ” یا ان کو سزا دینے سے پہلے آپ کو اپنے پاس بلا لیا (آیت) ” تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ “ تو پھر ہم ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دیں گے۔ (آیت) ” اور ظالم جو کچھ کرتے ہیں آپ اللہ کو اس سے ہرگز غافل نہ سمجھیں۔ “
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے برادر انبیاء ومرسلین کا ذکر کر کے آپ کو تسلی دی ہے۔
Ayahs 40:78–80آیت 78
یعنی آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول ان کی قوموں کی طرف مبعوث فرمائے۔ جو انہیں توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کی ایذا راسنی پر صبر کرتے تھے۔ (منھم من قصصنا علیک) جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم نے آپ کو خبر دی (ومنھم من لم نقصص علیک) ” اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ پر بیان نہیں کئے۔ “ تمام انبیاء اور رسول اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہیں انکے اپنے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ تمام رسولوں میں سے کسی کے اختیار میں نہیں (آیت) ” کہ وہ کوئی نشانی، معجزہ لائے۔ “ یعنی ان رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ وہ سمعی یا عقلی نشانی لاسکیں۔ (الا باذن اللہ) مگر اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے، اس لئے رسولوں سے معجزات دکھانے کا مطالبہ کرنا، ظلم، تعنت اور تکذیب ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات کے ذریعے سے ان کی تائید کی ہے جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت پر دلالت کرتی ہیں۔
(آیت) ” پس جب اللہ تعالیٰ کا حکم رسولوں اور ان کے دشمنوں کے مابین فیصلہ کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح آجاتی ہے (آیت) ” تو ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے جو صحیح موقع پر واقع ہوتا ہے انبیاء ومرسلین اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور مذبین کی ہلاکت کے ذریعے سے صواب کی تائید کرتا ہے۔ بنابریں فرمایا (آیت) ” اور وہیں نقصان میں پڑگئے۔ “ یعنی مذکورہ فیصلے کے وقت (آیت) ” غلط کار لوگ “ یعنی وہ لوگ جن کا وصف باطل ہے، وہ جو بھی علم و عمل پیش کرتے ہیں سب باطل ہے، ان کی غرض وغایت اور مقاصد سب باطل پر مبنی ہیں، اس لئے ان مخاطبین کو اپنے باطل نظریات پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے ورنہ یہ لوگ بھی خاسرے میں پڑجائیں گے جیسے وہ لوگ خاسرے میں پڑے تھے۔ بیشک ان حضرات میں کوئی بھلائی ہے نہ ان کے لئے کتابوں میں نجات لکھی گئی ہے۔
Ayahs 40:81–84آیت 81
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احاسنات کا ذکر کترا ہے کہ اس نے ان کے لئے چوپائے پیدا کئے جن پر ان کے مفادات کا دار و مدار ہے۔ ان میں سے کچھ مویشیوں کو وہ سواری اور نقل و حمل کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ چوپایوں کا گوشت کھاتے اور ان کا دودھ پیتے ہیں۔ کچھ مویشیوں کی اون سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بالوں، پشم اور اون سے آلات اور استعملا کا اسمان بناتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں۔
(آیت) ” اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی حاجت و ضرورت کو پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے۔ “ یعنی تم ان دور دراز ملکوں میں پہنچ سکو جہاں پہنچنے کی اپنے دلوں میں ضرورت محسوس کرتے ہو اور تاکہ ان کے باعث ان کے مالکوں کو فروخت و سرور حاصل ہو۔ (آیت) ” اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کئے جاتے ہو۔ “ یعنی تم زمینی سواریوں پر سواری کرتے ہو اور کشتیاں تمہیں سمندر میں اٹھائے پھرتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مسخر کردیا اور تمہارے لئے ایسے چوپائے مہیا کردیے جن کے بغیر تمہاری یہ سواریاں مکمل نہیں ہوتیں۔ (آیت) ” اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “ جو اس کی وحدانیت اور اس کے اسماء وصفات پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو آفاق وانفس میں اپنی آیات کا مشاہدہ کرایا، بڑی بڑی نعمتوں سے بہرہ مند کیا اور ان نعمتوں کو شمار کیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں، اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں۔
(آیت) ” پھر تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی کون کون سی آیات ہیں جن کا تم اعتراف نہیں کرتے ؟ تمہارے نزدیک بھی یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تمام آیات اور تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں، تب انکار کی کوئی گنجائش اور روگردانی کا کوئی موقع باقی نہیں۔ بلکہ یہ آیات اور نعمتیں عقل مندوں پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے میں اپنی پوری کوشش صرف کریں۔
Ayah 40:85آیت 85
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کی تکذیب کرنے والوں کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین پر چل پھر کر دیکھیں اور اہل علم سے سوال کریں۔ (آیت) ” پس وہ دیکھیں “ غفلت اور بےپروائی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ فکر و استدلال کی نظر سے دیکھیں۔ (آیت) ” کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے ؟ “ یعنی قوم عاد و شمود جیسی گزشتہ قوموں کا کیا انجام ہوا ؟ جو ان سے قوت میں زیادہ، مال میں کثرت اور زمین میں آثار، یعنی مضبوط محلات، خوب صورت باغات اور بیشمار کھیتیاں چھوڑنے کے لحاظ سے بڑے تھے۔ (آیت) ” تو ان کی کمائی نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ “ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ وہ اپنے مالوں کا فدیہ دے سکے اور نہ وہ اپنے قلعوں کے ذریعے ہی سے بچ سکے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے جرم عظیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” جب ان کے رسول ان کے پاس معجزات لے کر آئے۔ “ یعنی کتب الٰہیہ، بڑے بڑے معجزات اور وہ علم نافع لے کر مبعوث ہوئے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل میں امتیاز کرتا ہے (آیت) ” تو وہ اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا۔ یہی وہ انبیاء و رسل کے دین سے متناقض اور باطل علمی نظریات ہی میں مگن رہے اور یہ معلوم ہے کہ ان کا اس کا نام نہاد علم پر خوش ہونا، اس علم پر انکی رضا اور اس کے ساتھ تمسک اور حق کے ساتھ ان کی شدید عداوت پر دلالت کرتا ہے جسے لے کر رسول مبعوث ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے باطل نظریات کو حق قرار دیا اور یہ ان تمام علوم کے لئے عام ہے جن کے ذریعے سے انبیاء و رسل کے لائے ہوئے علم کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ان کے ان علوم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ مستحق علوم فلسفہ اور منطق یونان ہیں جن کے ذریعے سے قرآن کی بہت سی آیات کو رد کیا جاتا ہے، دلوں میں قرآن کی قدر کم کی جاتی ہے۔ قرآن کے قطعی اور یقینی دلائل کو لفظی دلائل قرار دیا جاتا ہے جو یقین کا فائدہ نہیں دیتے اور ان دلائل پر اہل سفاہت اور اہل باطل کی عقل کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سب سے بڑا الحاد، ان کی مخالفت اور معارضت ہے۔ واللہ المستعان
(وحاق بھم) ” اور انہیں گھیر لیا “ (ماکانوا بہ یستھزؤن) اس عذاب نے جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ (فلما راوا باسنا) ” جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے “ تو اقرار کرنے لگے، تب ان کا اقرار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔” وہ کہنے لگے : ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں۔ “ یعنی جن بتوں اور خود اسختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا کرتے تھے، اس کا انکار کرتے ہیں اور ہم ہر اس علم و عمل سے برأت کا اظہار کرتے ہیں جو رسولوں کا مخالف ہے۔ (آیت) ” جب انہوں نے ہمارا عذبا دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ “ یعنی اس حال میں ان کا ایمان انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے (آیت) ” یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور عادت ہے (آیت) ” جو اس کے بندوں میں چلی آتی ہے۔ “ یعنی ان جھٹلانے والوں کے بارے میں، جو اس وقت ایمان لاتے ہیں جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان کا ایمان صحیح ہے نہ انکو عذاب سے نجات دلا سکتا ہے۔ یہ اضطراری اور مشاہدے کا ایمان ہے۔
وہ ایمان جو صاحب ایمان کو نجات دیتا ہے، اختیاری ایمان ہے، جو قرائن عذاب کے وجود سے پہلے پہلے، ایمان بالغیب (وخسرھنا لک) ” اور خاسرے میں پڑجاتے ہیں ایسے وقت میں “ جب ہم ہلاکت اور عذاب کو مزا چکھاتے ہیں (آیت) ” کافر لوگ “ جو اپنے دین، دنیا اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ آخرت کے گھر میں مجرد خاسرہ ہی نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسا خاسرہ گا کہ وہ نہایت شدید دائمی اور ابدی عذاب کے اندر، بدبختی میں گھرا ہوا ہوگا۔