40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 40:23–46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلا لے، مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو (نہ) بدل دے یا ملک میں فساد (نہ پیدا) کردے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے ؟ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا، اور اگر وہ سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا، بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہو

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے قوم ! آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اسکے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے میری قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور امتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

(یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے میدان سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذابِ ) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا، اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا، اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے، اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بنوا تاکہ میں اس پر چڑھ کر راستوں پر پہنچ جاؤں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کو اسکے اعمالِ بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ راستے سے روک دیا گیا تھا، اور فرعون کی تدبیر تو بیکار تھی

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو ! میرے پیچھے چلو، میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤں

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

بھائیو ! یہ دنیا کی زندگی (چند روز) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے، اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو بیشمار رزق ملے گا

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے قوم ! میرا کیا (حال) ہے کہ میں تو تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) طرف بلاتے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں، اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں، بیشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

غرض ! خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

(یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سیبغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کردیا۔ (فقالوا سحر کذاب) ” تو انہوں نے کہا : یہ تو جادو گر ہے جھوٹا۔ “ (فلما جآء ھم بالحق من عندنا) ” پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس آئے “ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰ کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انہوں نے اطاعت نہ کی۔ انہوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے : (آیت) ” جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال “ وہ یہ اسزش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کردیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہوسکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال (الا فی ضلل) ” مگر ناکام “ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ انکے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اور تباہ و برباد کردیا۔ قاعدہ : اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصے یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصے پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصے کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لئے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہوجائے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے (وما کیدھم الا فی ضلال) نہیں کہا بلکہ فرمایا : (وما کید الکفرین الا فی ضلل) (وقال فرعون) فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بیوقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلا لے۔ “ فرعون سمجھتا تھا۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔۔۔ اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰ کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰ کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا اس نے اپنی قوم کی خیر خواہی اور زمین پر ازالہ شر کے لئے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا تھا، چناچہ اس نے کہا : (انی اخاف ان یبدل دینکم) ” مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمہارے دین کو نہ بدل دے۔ “ جس پر تم چل رہے ہو (اوان یظھر فی الارض الفاسد) ” یا وہ ملک میں فاسد نہ پیدا کردے۔ “ یہ بہت ہی تعجب اخیز امر ہے کہ ایک بدترین اناسن لوگوں کی خیر خواہی کے لئے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سر انجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ”(الزخرف :30/33) ” فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بےوقوف) جانا اور انہوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔ “ (وقال موسیٰ ) ” موسیٰ نے کہا :“ جب فرعون نے یہ بڑہان کی، جس کا موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا : (انی عذت بربی و ربکم) ” میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔ “ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے (من کل متکبر لا یومن بیوم الحاسب) ” ہر متکبر سے جو حاسب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔ “ یعنی جس کا تکبر اور یوم حاسب پر عدم ایمان، اسے شر اور فاسد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون اور اس کے ہم صفات دیگر افراد داخل ہیں جی اس کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰ کو یوم حاسب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہوگی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو وہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کرسکتا۔ اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا : (اتقتلون رجلاً ان یقول ربی اللہ) ” کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ “ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو اس کا گناہ صرف یہی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں، اس لئے صاحب ایمان نے کہا : (وقد جآء کم بالبینت من ربکم) ” اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف نشانیاں بھی لے کر آیا ہے “ کیونکہ حضرت موسیٰ کے معجزات اتنے مشہور ہوگئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے، اس لئے یہ چیز حضرت موسیٰ کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی۔ تم نے اسے سے پہلے جب حضرت موسیٰ تمہارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمہیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمہارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، ان سے عقل کی بات کہی جو ہرحال میں ہر عقل مند کو مطمئن کردیتی ہے۔ (وان یک کاذبافعلیہ کذبہ وان یک صاد قایصبکم بعض الذی یعدکم) ” اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہو کر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔ “ یعنی حضرت موسیٰ کا معاملہ دو امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انہی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انہی کے ساتھ مختص ہے تمہیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انہوں نے تمہارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کئے ہیں اور تمہیں وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمہیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمہیں جہنم میں داخل کرے گا، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور اسمنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰ کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اسنے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لئے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دار و مدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے حضرت موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔ پھر وہ صاحب ایمان شخص اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰ کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چناچہ اس نے کہا : (آیت) ” ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف) ” بیشک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو “ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہو کر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ (کذاب) ” جھوٹا ہو۔ “ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا، نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔ تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰ نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انہوں نے عقلی دلائل وبراہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کردیا۔ جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معفرت الٰہی کی دلیل ہے۔ پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیر خواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انہیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا : (یقوم لکم الملک الیوم) ” اے میری قوم ! آج تمہاری بادشاہت ہے، “ یعنی دنیا کے اندر (ظہرین فی الارض) ” تم ہی اپنی سر زمین میں غالب ہو “ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہونا فذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمہیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہوجاتا ہے، حالانکہ تمہارا یہ اقتدار مکمل نہ ہوگا (فمن ینصرنا من باس اللہ) ” تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ “ (ان جآء نا) ” اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔ “ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا۔ (فمن ینصرنا) اور (ان جآء نا) تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیر خواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیر خواہ ہے اور ان کے لئے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (قال فرعون) اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰ کی اتباع سے بچانے کے لئے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” وہ اپنے قول : (ماریکم الا مآ اری) ” میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے “ میں بالکل سچا ہے مگر اسے کیا بات سوجھی ہے ؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بےوقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰ کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کردیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا (آیت) ” اور میں تو تمہیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔ “ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا اس حکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستز اد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔ (وقال الذی امن) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا “ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انہیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انہیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ ان سے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ تم پر دوسری امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔ “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔ پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔ “ یعنی جی اس کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ تھا کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ (آیت) ” اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا “ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذبا دے دے۔ اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرنے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! مجھے تمہاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔ “ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے : (آیت) ” ہم نے تو ان وعدوں کو سچاپایا جو ہم سے ہمارے رب نے کئے تھے، کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدے کئے تھے تم نے بھی انہیں سچاپایا ؟ وہ کہیں گے ہاں ! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں جی پیدا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کے (بھی) منکر تھے۔ “ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے : (آیت) ” اور جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا اس پانی ہماری طرف بھی بہا دو ، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ “ اور جب اہل جہنم، داروغہ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انہیں جواب دے گا : (انکم (مکثون) الزخرف :88/93) ” تم جہنم میں رہو گے۔ “ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے : (آیت) ” اے ہمارے رب ! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا : (آیت) ” دفع ہوجاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔ “ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا۔ (آیت) ” اپنے خود اسختہ شریکوں کو پکارو ! وہ انہیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ “ پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمع ہوئے ہیں، بنا بریں اس نے کہا : (آیت) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھگاے بھاگے پھرو گے “ یعنی جب تمہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا (مالکم من اللہ من عاصم) ” تو تمہیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ “ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کرسکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا۔ “ (آیت) ” اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں “ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ (آیت) ” اور یوسف بھی تمہارے پاس آئے۔ “ یعنی یوسف بن یعقوب (من قبل) یعنی موسیٰ کی تشریف آوری سے پہلے یوسف اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمہیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا (آیت) ” تو وہ جو لائے تھے اس کے بارے میں تم ہمیشہ شک میں رہے۔ “ یعنی حضرت یوسف کی زندگی میں (حتی اذا ھلک) ” حتی کہ جب وہ فوت ہوگئے۔ “ تو تمہارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہوگیا اور (قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولاً ) ” تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہارا گمان باطل تھا اور تمہارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بےکار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے، اس لئے فرمایا : (آیت) ” اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔ “ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انہوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰ کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، چناچہ جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ “ نیز فرمایا : (آیت) ” ہم ان کے دل ون گاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔ “ اور فرمایا : (آیت) ” اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں “ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لئے سورج، وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کرسکیں۔ (بغیر سلطن اتھم) ” بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل) آئی ہو۔ “ یعنی بغیر کسی حجت وبرہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا اسمنا نہیں کرسکتی اور یہ ممکن نہیں کہ وہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔ (کبر) یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کو متضمن ہے (مقتاعند اللہ وعندا الذین امنوا) ”(سخت) ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک “ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لئے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔ (کذلک) یعنی اس طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی (آیت) ” اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے “ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے، اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آ کر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ (قال فرعون) فرعون نے حضرت موسیٰ کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العالمین، جو عشر پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دچعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا : (یھامن ابی لی صرحاً ) ” اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ “ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں (آیت) ” موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ “ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوت میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا فرمایا : (وکذلک زبن لفرعون سوٓء عملہ) ” اور اسی طرح فرعون کے لئے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔ “ شیطان اس کی بد اعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا۔ اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں، حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔ (وصدعن السبیل) ” اور راہ راست سے روک دیا یا “ اس باطل کے سبب سے، جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ (وما کید فرعون) ” اور نہیں تھا مکر فرعون کا “ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف اسزش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰ کا موقف باطل ہے۔ (الا فی تباب) ” مگر تباہی کا۔ “ یعنی خاسرے اور ہلاکت کا شکار ہوگا اور یہ اسزش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔ (وقال الذین امن) اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! میری اتباع کرو، میں تمہیں بھلائی کا راستہ دکھاؤں گا۔ “ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فاسد کی راہ دکھاتا ہے۔ (آیت) ” اے میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم کا فائدہ ہے۔ “ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہوجائے گی، اس لئے یہ متاع دنیا تمہیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔ (وان الاخرۃ ھی دار القرار) ” اور ہمیشہ رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔ “ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمہیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمہیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔ (من عمل سیءۃ) ” جو شخص برائے کرے گا “ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا (فلا یجزی الا مثلھا) ” اسے ویاس ہی بدلہ ملے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ (آیت) ” اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت “ یعنی اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لاسن میں سے (آیت) ” اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انہیں بےحاسب رزق دیا جائے گا۔ “ یعنی ان کو بلا حد و حاسب اجر عطا کیا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اس مرد مومن نے کہا : (ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ “” اور اے میری قوم ! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔ “ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ (وتد عوننی الی النار) اور تم اللہ کے نبی موسیٰ کی اتباع ترک کر کے مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔ (وتدعوننی الی النار) اور تم اللہ کے نبی موسیٰ کی اتباع ترک کر کے مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔ پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ “ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلا علم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤنا گناہ ہے۔ (آیت) ” جبکہ میں تمہیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں “ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیر اللہ اور غیر اللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ (الغفار) ” بہت زیادہ بخشنے والا ہے “ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور آخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔ (لاجرم) یقیناً (انما تد عوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا ولا فی الاخرۃ) ” جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کے لئے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جو کسی کو نفع و نقصان پہنچائے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ (وانا مردنا الی اللہ) ” اور ہمیں اللہ کی طرف لوٹنا ہے “ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ( آیت) ” اور بیشک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جاسرت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔ جب اس شخص نے ان کی خیر خواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا : (فستذکرون ما اقول لکم) ” جو کچھ میں تمہیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔ “ یعنی تم میری اس خیر خواہی کو یاد کرو گے اور اس خیر خواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا اور تم اللہ تعالیٰ کے بےپایاں ثواب سے محروم کردیئے جاؤ گے۔ (وافوض امری الی اللہ) ” اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔ “ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمہاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہوسکتا ہے، اللہ پر بھرو اس کرتا ہوں۔ (ان اللہ بصیر بالعباد) ” یقیناً اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ “ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمہارے شر کے مقابلے میں میرے لئے کافی ہوگا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کرسکتے۔ اگر وہ تمہیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہوگی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہوگا۔ (فوقہ اللہ سیات مامکروا) ” پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔ “ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی اسزشوں سے بچا لیا جو انہوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لئے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انہیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰ کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰ نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کردیا تھا، چناچہ انہوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکرو فریب سے محفوظ رکھا، ان کی اسزشیں اور منصوبے انہی پر الٹ گئے۔ (وحاق بال فرعون سوآء العذاب) ” اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔ “ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کردیا۔ اور برزخ میں (آیت) ” وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کردو۔ “ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے ولوں کو دی جائیں گی۔
Ayahs 40:47–50

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کرے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، تو وہ کہیں گے تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (اس روز) بیکار ہوگی

آیت 47 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بےفائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور جب وہ دو زخ میں باہم جھگڑیں گے۔ “ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروں کاروں سے بیزاری اور برأت کا اظہار کریں گے۔ (فیقول الضعفوآء) ” پس کمزور کہیں گے “ یعنی پیروکار کار (للذین استکبروآ) ان قائدین سے جنہوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنہوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ (انا کنا لکم تبعا) ” ہم تمہارے تابع تھے۔ “ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا (فھل انتم معنون عنا نصیباً من النار) ” تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو ؟ “ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو (قال الذین استکبروآ) ” بڑے آدمی کہیں گے۔ “ یعنی اپنی بےبسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے : (آیت) ” ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بیشک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔ “ یعنی ہر ایک کے لئے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہوگی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔ (آیت) ” اور جو لوگ آگ میں ہوں گے وہ کہیں گے۔ “ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے (آیت) ” راحت حاصل ہو، (قالوآ) تو جہنم کے داروغے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے اور ان پر واضح کرتے ہوئے کہ سفارش اور چیخ و پکار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی یہ کہیں : (آیت) ” کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ “ جن دلائل سے تم پر حق اور صراط مستقیم واضح ہوتا اور تمہیں یہ معلوم ہوتا کہ کون سی چیز تمہیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور کون سی چیز اللہ سے دور کرتی ہے۔ (قالو) ” وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! “ اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل و معجزات کے ساتھ ہماری طرف معبوث ہوئے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت پائم ہوگئی مگر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس عناد رکھا۔ (قالوا) جہنم کے داروغے جہنمیوں سے، ان کی پکار اور سفارش سے بیزار ہو کر کہیں گے : (فادعوا) تم اللہ کو پکارو، مگر کیا یہ پکار تمہیں کوئی فائدہ دے گی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (آیت) ” یعنی ان کی دعا اور پکارا کارت جائے گی کیونکہ کفر تمام اعمال کو اسقط کردیتا ہے اور دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے۔
Ayahs 40:51–52

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

(یعنی قیامت کو بھی) جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے

آیت 51 جب اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے لئے دنیا، برزخ اور قیامت کے روز کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اہل جہنم کے، جو اس کے رسولوں سے عناد رکھتے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے، برے حال کا ذکر کیا، تو فرمایا : (انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا) ” ہم یقیناً اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔ “ یعنی ہم دنیا میں دلیل، برہان اور نصرت کے ذریعے سے اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں (آیت) ” اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ آخرت میں ان کے حق میں فیصلے کے ذریعے سے ان کی مدد کریں گے، ان کے متبعین کو ثواب سے نوازیں گے اور ان لوگوں کو سخت عذاب دیں گے جنہوں نے اپنے رسولوں کے خلاف جنگ کی (آیت) ”(جب وہ معذرت کریں گے تو) ظالموں کی معذرت اس دن انہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ “ (آیت) ” اور ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔ “ یعنی بہت برا گھر جو وہاں داخل ہونے والوں کو بہت تکلیف دے گا۔
Ayahs 40:53–55

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

عقل والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

تو صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح و شام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

آیت 53 موسیٰ ٰ اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ کو (الھدی) ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نواز جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں (آیت) ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا “ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی سے ترہیب و تخویف ہے اور یہ چیز ہر ایک کو عطا نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف (لاولی الالباب) عقل مندوں کو نصیب ہوتی ہے۔ (فاصبر) ”(اے رسول ! ) صبر کیجیے “ جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ (آیت) ” بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ “ یعنی اللہ کے وعدے میں کوئی شک و شبہ ہے نہ اس میں کسی جھوٹ کا شائبہ جس کی بنا پر صبر کرنا آپ کے لئے مشکل ہو، یہ تو خالص حق اور ہدایت ہے جس کے لئے صبر کرنے والے صبر کرتے ہیں اور اہل بصیرت اس سے تمسک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان وعد اللہ حق) ان اسباب کے زمرے میں آتا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں نا ناپسندیدہ امور سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ (واستغفر لذنبک) ” اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ “ یعنی جو آپ کے لئے فوز و فلاح اور سعادت کے حصول سے مانع ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا جو محبوب و مرغوب کے حصول کا ذریعہ ہے اور مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا جو مکر وہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے، نیز اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا خاص طور پر (بالعشی والابکار) ” صبح اور شام کو “ جو بہترین اوقات ہیں اور یہی اوقات واجب اور مستحب اور اذکار وظائف کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں تمام امور کی تعمیل میں مدد لیتی ہے۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

آیت 56 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو باطل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کا ابطال کرنے کے لئے کسی دلیل اور حجت کے بغیر جھگڑتے ہیں، ان کا یہ جلال، حق اور اس کے لانے والے کے بارے میں، ان کے سینوں میں موجود تکبر کی وجہ سے صادر ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطل نظریات کے ذریعے سے حق پر غالب آنا چاہتے ہیں اور یہی ان کا مقصد اور یہی ان کی مراد ہے مگر ان کا یہ مقصد کبھی حاصل ہوگا نہ ان کی یہ مراد کبھی پوری ہوگی۔ یہ صریح نص اور واضح بشارت ہے کہ جو کوئی حق کے خلاف بحث وجدال کرتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جو حق کے خلاف تکبر کا رویہ رکھتا ہے وہ نہایت ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ (فاستعذ باللہ) ” لہٰذا آپ (ان کی شرارتوں سے) اللہ کی پناہ مانگیے “ یعنی اللہ کی پناہ طلب کریں۔ یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ آپ کس چیز سے پناہ طلب کریں ؟ درحقیقت اس سے عموم مراد ہے، یعنی کبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں جو حق کے مقابلے میں تکبر کا موجب ہے، شیاطین جن و انس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں اور ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ (انہ ھو السمیع) وہ تمام آوازوں کو ان کے اختلاف کے باوجود سنتا ہے (البصیر) تمام مرئیات، خواہ وہ کسی بھی زمان و مکان میں ہوں، اس کی نظر میں ہیں۔
Ayahs 40:57–59

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

قیامت تو آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے

آیت 57 اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، اناسنوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے کیونکہ اناسن کی تخلیق آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لئے حیات بعد الموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعد الموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء ومرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غور و فکر نہیں کرسکتا۔ بنا بریں فرمایا : (آیت) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “ اس لئے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ اس کی پروا کرتے ہیں۔ (آیت) ” اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے وہ اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ “ یعنی جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے نیک لوگ اور وہ لوگ برابر نہیں ہوسکتے جو تکبر سے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے، اس کی غا فرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کی ناراضی کے موجب کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ (آیت) ” تم کم ہی نصیحت پکڑتے وہ “ ورنہ اگر تم معاملات کے مراتب، خیر و شر کے مقامات اور نیکو کاروں اور فاسقوں کے مابین فرق سے نصیحت پکڑتے اور تم اس کا عزم و ارادہ کرتے تو تم ضرر رساں پر نفع رساں کو، گمراہی پر ہدایت کو اور فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی سعادت کو ترجیح دیتے۔ (ان الاسعۃ لاتیۃ لاریب فیھا) ” بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ “ اس کے بارے میں انبیاء ومرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الہیہ نے بھی خبر دی ہے، جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ (ولکن اکثر الناس لایومنون) ” لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کتراتے ہیں عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے

آیت 60 یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے انہیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے دعا کریں۔۔۔ یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ۔۔۔ اور ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی دعا قبول فرمائے گا اور ان متکبرین کو وعید سنائی ہے جو تکبر کی بنا پر اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں، چناچہ فرمایا (آیت) ” جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں عنقریب وہ جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔ “ یعنی انکے تکبر کی پاداش میں ان کے لئے عذاب اور رسوائی کو اکٹھا کردیا جائے گا۔