Ayahs 37:75–82آیت 75
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول حضرت نوح کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ لوگ اس دعوت سے دور بھگاتے رہے۔ تب حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارتے وہئے دعا کی : (آیت) ” اے میرے رب ! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ “ اور فرمایا (آیت) ” اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ “
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فلنعم المجیبون) ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ وزاری کو سنتے ہیں اور خب جواب دیتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح کی دعا قبول فرمائی۔ یہ قبولیت نوح کی درخواست سے مطابقت رکھتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نوح اور آپ کے گھر والوں کو اس کرب عظیم سے نجات دی اور تمام کفار کو سیلاب میں غرق کردیا۔ آپ کی نسل اور اولاد کو تسلسل سے باقی رکھا، چناچہ تمام انسان حضرت نوح کی نسل سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے آپ کو دائمی ثنائے حسن سے سرفراز فرمایا، کیونکہ آپ نے نہایت احسن طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور مخلوق کے ساتھ احسان کیا اور محسنین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے احسان کے مطابق دنیا میں ان کی ثنائے حسن کو پھیلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (انہ من عبادنا المومنین) ’ بلا شبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ “ دلالت کرتا ہے کہ ایمان بندوں کے لئے بلند ترین منزل ہے، جو تمام شرائع اور اس کے اصول و فروع پر مشتمل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی، ان کے ایمان کی بنا پر مدح وثناء کی ہے۔
Ayahs 37:83–113آیت 83
یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو ؟ “ یہ استفہام انکاری ہے اور مقصد ان پر حجت قائم کرنا ہے۔ (ایفکا الھۃ دون اللہ تریدون) یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا جھوٹے معبودوں کی عبادت کرتے ہو، جو معبود ہیں نہ عبادت کے مستحق ہیں۔ رب کائنات کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے کہ جب تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہو، تو وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ یہ تمہارے اپنے شرک پر قائم رہنے کی وجہ سزا کی وعید ہے۔ بھلا رب العالمین کے بارے میں تمہیں کسی نقصکا گمان ہے کہ تم نے اس کے ہم اور شریک بنا ڈالے۔
حضرت ابراہیم نے ان کے بتوں کو توڑنے کا ارادہ فرمایا، چناچہ جب وہ اپنی کسی عید کے لئے باہر نکلے تو ان مشرکین کی غفلت کی بنا پر ابراہیم کو اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آگیا۔ آپ بھی ان کے ساتھ باہر نکلے (آیت) ” تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔ “ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” حضرت ابراہیم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، سوائے تین موقعوں کے، ایک موقع پر فرمایا : (انی سقیم) ” میں بیمار ہوں “ دوسرے موقع پر فرمایا : (آیت) ” بلکہ بتوں کے ساتھ یہ سلوک ان کے بڑے نے کیا ہے۔ “ اور تیسرے موقع پر اپنی بیوی کے بارے میں فرمایا :” یہ میری بہن ہے۔ “ (1)
ابراہیم کا مقصد یہ تھا کہ وہ پیچھے رہ کر ان کے خود ساختہ معبودوں کو توڑنے کے منصوبوں کی تکمیل کریں گے (آیت) ” تو وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔ “ پس ابراہیم کو موقع ملگ یا (فراغ الی الھتھم) یعنی ابراہیم جلدی سے اور چپکے سے ان کے معبودوں یعنی بتوں کے پاس گئے (فقال) اور تمسخر کے ساتھ ان سے کہا : (آیت) ” تم کھاتے کیوں نہیں ؟ تمہیں کیا ہوا ؟ تم بولتے کیوں نہیں ؟ “ وہ ہستی عبادت کے لائق کیسے ہوسکتی ہے جو حیوانتا سے بھی کم تر ہو، حیوانات تو کھا پی اور بول بھی لیتے ہیں، یہ تو پتھر ہیں، کھاپی سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔
(آیت) ” پھر ان کو اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا۔ “ یعنی حضرت ابراہیم نے نہایت قوت و نشاط کے ساتھ ان بتوں کو توڑنا شروع کیا، حتی کہ تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، سوائے ان میں سے ایک بڑے بت کے، شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
(فاقبلوا الیہ یزقون) یعنی وہ لوگ بھگاے بھاگے آپ کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں۔ تحقیق کے بعد کہنے لگے (آیت) ” ہمارے ان معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ہے ؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے۔ “ ان سے کہا گیا : (آیت) ” ایک نوجوان کو، جس کا نام ابراہیم ہے، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔ “ وہ کہتا تھا : (آیت) ” اللہ کی قسم ! میں تمہاری عدم موجودگی میں، تمہارے بتوں کی خوب خبر لوں گا۔ “ چناچہ انہوں نے ابراہیم کو زجر و توبیخ اور ملامت کی۔ آپ نے فرمایا : (آیت) ” بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو انھی سے پوچھ لو۔ انہوں نے اپنے دل میں غور کیا اور بیل : بیشک تم ظالم ہو، پھر وہ پلٹ گئے اور کہنے لگے : تو اچھی طرح
(1) صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، باب و اتخاذ اللہ ابراہیم خلیل۔۔۔ ، ح : 3358 و صحیح مسلم، الفضائل، باب فی فضائل ابراہیم خلیل ح :2381
جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا : تب کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ؟ “
(قال) اس مقام پر ابراہیم نے فرمایا : (آیت) ” یعنی کیا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے اور تراشتے ہو ؟ تم ان چیزوں کو کیسے پوجتے ہو جن کو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو چھوڑ دیتے ہو ؟ جس نے (آیت) ” تم کو اور جو تم کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔ انہوں نے کہا : اس کے لئے ایک عمارت بناؤ۔ “ یعنی اس کے لئے ایک بلند جگہ بناؤ اور وہاں آگ بھڑکاؤ (فالقوہ فی الجحیم) ” اور اسے اس الاؤ میں پھینک دو ۔ “ یہ ہمارے معبودوں کو توڑنے کی سزا ہے۔ (فارادوا بہ کیدا) انہوں نے حضرت ابراہیم کو بدترین طریقے سیق تل کرنے کا منصوبہ بنایا (آیت) ” تو ہم نے انھی کو نیچا دکھا دیا۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام بنادیا اور آگ کو حضرت ابراہیم کے لئے سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کردیا۔
(و) ” اور “ جب انہوں نے ابراہیم کے ساتھ یہ سلوک کیا اور ابراہیم نے ان پر حجت قائم کر کے ان کا عذر دو کردیا تو (آیت) ” فرمایا کہ میں تو اپنے رب کے پاس جانے والا ہوں۔ “ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر کے بابرکت زمین، یعنی سر زمین شام کی طرف جانے والا ہوں۔ (سیھدین) وہ میری اس چیز کی طرف راہنمائی فرمائے گا، جس میں میرے لئے دین و دنیا کی بھلائی ہو۔ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا (آیت) ” میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوتا ہوں اور ان ہستیوں سے بھی، جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور اپنے رب کو پکاروں گا۔ ہوسکتا ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ ہوں۔ “
(رب ھب لی) ” اے میرے رب مجھے عطا کر “ بیٹا جو (من الصلحین) ” نیک لوگوں میں سے ہو “ آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔ “ بلاشک اس سے مراد اسماعیل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ہی اسحاق کی بشارت بھی دی ہے نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاق کے بارے میں اس طرح خوش خبری سنائی ہے : (آیت) ” ہم نے اسے اسحاق کی خوش خبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ “ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاق ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو در گزر کر متضمن ہے۔
(فلما بلغ) ” پس جب پہنچا “ لڑکا (معہ السعی) یعنی حضرت ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی اتنی عمر ہوگئی، جب وہ غالب طور پر اپنے والدین کو بہت محبوب ہوتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی مشقت کم اور اس کی منفعت شروع ہوچکی ہوتی ہے تو آپ نے اس سے کہ کا (آیت) ” یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ (آیت) ” پس تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ لازمی امر ہے۔
(قال) اسماعیل نے اپنے باپ کی اطاعت، ثواب کی امید کرتے ہوئے نہایت صبر کے ساتھ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو کر کہا : (یایت افعل ماتومر) ابا جان ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام کا حکم دیا ہے اسے کر گزریئے (ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین) ” اگر اللنے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ حضرت اسماعیل نے اپنے والد محترم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے نفس کو صبر پر مجبور کریں گے اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقرون کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی۔
(فلما اسلما) جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیا، حضرت ابراہیم نے اپنے رب کی اطاعت میں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے جگر گوشے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور بیٹے نے اپنے آپ کو صبر پر مجبور کیا تو اس پر اپنے رب کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا جوئی آسان ہوگئی۔ (وتلہ للجبین) یعنی ابراہیم نے اسماعیل کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ ذبح کرنے کے لئے ان کو لٹائیں۔ اسماعیل اوندھے منہ لیٹ گئے تاکہ ذبح کے وقت ابراہیم ان کے چہرے کو نہ دیکھ سکیں۔
(ونا دینہ) یعنی اس انتہائی اضطرابی کیفیت اور دہشت ناک حالت میں، ہم نے ابراہیم کو آواز دی (آیت) ” اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ “ یعنی آپ نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا۔ آپ نے اس حکم کی تعمیل پر اپنے نفس کو آمادہ کیا، آپ نے اس حکم کی تعمیل کے لئے تمام اسباب اختیار کر لئے تھے، صرف حضرت اسماعیل کے گلے پر چھری چلانا باقی رہ گیا تھا۔ (انا کذلک نجزی المحسنین) ” بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں “ جو ہماری عبادت میں احسان کے مرتبے پر فائز ہیں اور اپنی خواہشات پر ہماری رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔
(ان ھذا) ” بیشک یہ بات “ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا (لھوالبلوآء المبین) ” البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی “ اس کے ذریعے سے ابراہیم کا اخلاص، اپنے رب کے لئے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو اسماعیل عطا فرمائے۔ حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل سے بےپناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزا محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیم کے قلب کے کسی گوشے میں، آپ کے بیٹے اسماعیل کی محبت جاگزیں تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صافک رنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کردینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔
جب ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کرلیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہوگیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا، اس لئے فرمایا : (آیت) ” بلا شبہ یہ صریح آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔ “ یعنی اسماعیل کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیم نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیل کے فدیے میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القادر عبادات میں شمار ہوتی ہے، نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لئے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔ (وترکنا علیہ فی الاخرین سلم علی ابراہیم) یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیم کی سچی مدح و ثنا کے لئے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیم کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انہیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ (سلم علی ابراہیم) یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیم پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا : (آیت) ” اے نبی ! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لئے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنہیں اس نے چن لیا۔ “
(کذلک نجزی المحسنین) ” ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ “ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں متربہ احسان پر فائز اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، ہم ان سے سختیاں دور کردیتے ہیں اور انہیں اچھی عاقبت اور ثنائے حسن سے سرفراز کرتے ہیں۔
(انہ من عبادنا المومنین) ” بلا شبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ “ حضرت ابراہیم ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انہیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :: (آیت) ” اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ “ (وبشرنہ باسحق نبیاً من الصلحین) ” اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔ “ یہ دوسری خوش خبری ہے جو حضرت اسحاق کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یعقوب کی خوش خبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاق کے وجود، ان کی بقاء، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
(وبرکنا علیہ وعلی اسحق) یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیل کی نسل سے، قوم اسرائیل اور الہ روم کو اسحاق کی نسل سے پیدا کیا۔
(ومن ذریتھا محسن و ظالم لنفسہ مبین) یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بد بھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفر و شرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (وبرکنا علیہ وعلی اسحق) تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہوا اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ اعلم