Ayahs 37:40–49آیت 40
(الا عباد اللہ المخلصمین) ” مگر اللہ تعالیٰ کے خلا برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لئے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا (اولئک لھم رزق معلوم) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلی القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (فواکہ) یعنی تمام اقسا مکہ پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں گے، جو اپنے رنگ اور ذائقے میں نہایت مزے دار ہوں گے (وھم مکرومون) یعنی ان کی اہانت کی جائے گی نہ ان سے حقارت سے پیش آیا جائے گا بلکہ ان کی عزت، تعظیم اور توقیر کی جائے گی۔ وہ ایک دوسرے کی تکریم کریں گے، مکرم فرشتے ان کی تکریم کریں گے، وہ جنت کے ہر دروازے سے داخل ہوں گے اور بہترین ثواب کے ذریعے سے ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ سب سے معزز اور باوقار ہستی انہیں اکرام بخشے گی اور انہیں انواع و اقسام کی تکریم سے نوازے گی جس میں قلب و روح اور بدن کے لئے نعمت ہوگی (فی جنت النعیم) ” نعمت کے باغوں میں “ یعنی وہ جنتیں جو نعمت اور سرور سے متصف ہیں، کیونکہ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں جمع ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے حاشیہ میں ان کا گزر ہوا ہے۔ وہ خلل انداز ہونے والے ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہوں گے۔
ان کے رب کے ہاں ان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے کا اکرام کریں گے۔ بیشک وہ ( سرر) ” تختوں “ پر ہوں گے۔ یہ بلند بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی جو خوبصورت اور منقش کپڑوں سے آراستہ کی گئی ہوں گی، اہل ایمان راحت، اطمینان اور فرحت کے ساتھ وہاں تکیے لگا کر بیٹھیں گے (متقبلین) ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ “ ان کے دل ہر قسم کی کدورت سے پاک ہوں گے ان کی آپس کی محبت پاک ہوگی اور وہ اس اجتماع پر آپس میں خوش ہوں گے کیونکہ چہروں کا ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونا، دلوں کے ایک دوسرے کے سامنے ہونے اور ایک دوسرے کا ادب کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیریں گے نہ پہلو تہی کریں گے بلکہ وہاں کامل ادب اور سرور ہوگا جسپر چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا دلالت کرتا ہے۔
(یطاف علیھم بک اس من معین) چاق چوبند اور مستعد لڑکے ان کی خدمت میں خوبصورت جاموں میں مشک کے ساتھ مہر شدید لذیذ مشروبات لئے آجا رہے ہوں گے، یہ جام، شراب کے ہوں گے۔ یہ شربا ہر لحاظ سے دنیا کی شراب سے مختلف ہوگی۔ اس کا رنگ (بیضآء) ” سفید ‘ اور بہترین رگن ہوگا، اس کے ذائقے میں (لذۃ للمشربین) ” پینے والوں کے لئے لذت ہوگی۔ “ اہل جنت پیتے وقت اور پینے کے بعد لذت محسوس کریں گے۔ یہ شراب ہر قسم کے برے اثرات سے پاک ہوگی اس سے ان کی عقل خرابہو گی نہ مال خراب ہوگا اور اس سے سر چکرائے گا نہ طبیعت مکدر ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل جنت کے مطعومات و مشروبات، ان کی مجالس، دیگر عام نعمتوں اور ان کی تفاصیل کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد (جنت النعیم) کے عموم کے تحت آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اس لئے بیان فرمائی تاکہ نفوس کو ان کا علم حاصل ہوا اور ان کے اندران نعمتوں کا اشتیاق پیدا ہو۔ اس کے بعد ان کی بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وعندھم قصرت الطرف عین) ” اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نیچی نگاہوں والی اور موٹی آنکھوں والی ہوں گی۔ “ یعنی اہل جنت کے پاس ان کے قریبی محلات میں خوبصورت حوریں ہوں گی، جو کامل اوصاف کی حامل اور نظریں جھکائے ہوئے ہوں گ ی۔ بیویاں یا تو اپنی عفت اور اپنے شوہر کے حسن و جمال اور اس کے کمال کی وجہ سے کسی اور طرف نہ دیکھیں گی اس لئے کہ جنت میں ان کے شوہر کے سوا ان کا کوئی اور مطلوب ہوگا نہ کسی اور میں رغبت رکھیں گی۔۔۔ یا ان کے شوہروں کی نگاہیں صرف انہی پر مرتکز ہوں گی۔ یہ چیز ان کے کامل اور بےانتہا حسن و جمال پر دلالت کرتی ہے جو اس بات کی موجب ہیں کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں انھی پر مرتکز رہیں، نیز نگاہوں کا ان پر مرکوز ہونا، نفس کے صرف انھی پر اقتصار کرنے اور ان کے ساتھ محبت پر دلالت کرتا ہے۔
آیت کریمہ میں ان دونوں معنوں کا احتمال ہے اور دونوں صحیح ہیں۔ دونوں معنی جنت میں مردوں اور عورتوں کے حسن و جمال اور ان کی ایسی باہمی محبت پر دلالت کرتے ہیں جس میں غیر کی محبت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ اہل جنت کی عفت کی دلیل ہے، نیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل جنت میں باہمی بغض اور حسد نہیں ہوگا کیونکہ اس کے تمام اسباب ختم کردیئے جائیں گے۔
(عین) یعنی وہ خوبصورت آنکھوں اور خوبصورت نگاہوں والی ہوں گی (کانھن) ” گویا کہ وہ “ یعنی حوریں (بیض مکنون) ” چھپائے ہوئے انڈے ہیں “ یہ تشبیہ ان کے حسن، ان کے رنگ کی بےانتہا خوبورصتی اور اس کی تازگی کی بنا پر دی گئی ہے، اس میں کسی قسم کی کدورت اور میلا پن نہ ہوگا۔
Ayahs 37:50–53آیت 50
اللہ تبارک و عالیٰ نے ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں، کامل مسرتوں، ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویوں اور خوش نما مجالس کا ذکر کرنے کے بعد ان میں آپس کی بات چیت اور ایک دوسرے کو ماضی کے واقعات وا حوال سنانے کا ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہیں گے حتی کہ ان میں سے ایک شخص کہے گا : (انی کان لی قرین) ” دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا “ جو قیامت کا منکر تھا اور مجھے اس بات پر ملامت کیا کرتا تھا کہ میں قیامت پر ایمان رکھتا ہوں۔
اور (قال) ” وہ کہا کرتا تھا “ مجھ سے : (آیت) ” یعنی کیا ہمیں ہمارے اعمال کی جزاو سزا دی جائے گی ؟ یعنی تم اس امر محال کی کیسے تصدیق کرتے ہو جو انتہائی تعجب خیز معاملہ ہے ؟ جب ہم مرنے کے بعد بکھر جائیں گے، مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن جائیں گے، کیا اس وقت بھی ہمارا حساب کتاب ہوگا اور ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ؟ صاحب جنت اپنے برادران جنت سے کہے گا ” یہ ہے میرا قصہ اور یہ ہے میرا اور میرے ساتھی کا معاملہ، میں ایمان پر قائم رہا اور روز قیامت کی تصدیق کرتا رہا اور وہ کفر و انکار پر جما رہا اور قیامت کو جھٹلاتا رہا، یہاں تک کہ موت نے ہمیں آلیا، پھر اس کے بعد ہمیں زندہ کیا گیا، پھر ان نعمتوں تک پہنچا جو تم دیکھ رہے ہو جن کے بارے میں رسولوں نے خبر دی تھی اور مجھے اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ میرا ساتھی عذاب میں مبتلا ہے۔
(قال ھل انتم مطلعون) ” کیا تم اسے دیکھنا چاہتے ہو “ تاکہ ہم اسے دیکھ لیں اور ہم جس نعمت و سرور میں ہیں اس میں اضافہ ہو اور یہ آنکھوں دیکھی حقیقت بن جائے۔ الہ جنت کے احوال، ان کے ایک دوسرے سے خشو ہونے اور ایک دوسرے کی موافقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کرلیں گے اور وہ اس کے ساتھ اس کے کافر ہم نشین کا حال دیکھنے جائیں گے (فاطلع) یعنی وہ اپنے ساتھی اور ہم نشین کو دیکھے گا (فی سوآء الجحیم) جہنم کے عین وسط میں اور عذاب نے اس کو گھیر رکھا ہوگا (قال) یعنی یہ صاحب جنت اس کافر ہم نشین کو ملامت اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہ اس نے اسے اس کافر کے فریب سے بچایا۔۔۔ کہے گا : (تاللہ ان کدت لتردین) اللہ کی قسم ! تو نے تو مجھے اپنے مزعومہ شبہات کا شکار کر کے ہلاک ہی کر ڈالا تھا (ولولا نعمۃ ربی) ” اور اگر میرے رب نے اسلام پر ثابت قدمی کی نعمت سے نہ نوازا ہوتا (لکنت من المحضرین) ” تو میں بھی (تمہارے ساتھ عذاب میں) حاضر کئے گئے لوگوں میں سے ہوتا۔ “
(آیت) ” کیا ہم (آئندہ بھی) نہیں مریں گے ؟ ہاں (جو) پہل بار مرن اتھا (سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا۔ “ یعنی مومن اس کافر سے نعمت کے بارے میں جو خلود جنت اور جہنم کے عذاب سے نجات کی صورت میں حاصل ہوئی ہے، پوچھے گا۔ یہ استفہام اثبات اور تقریر کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” میں معمول کا حذف ہونا اور مقام کا مقام لذت و سرور ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر اس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے جس کے ذکر سے انہیں لذت حاصل ہوتی ہے اور ان مسائل کے بارے میں سوال کریں گے جن میں نزاع اور اشکال واقع ہوا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اہل علم کو علمی مسائل میں ایک دوسرے سے سوال کر کے تحقیق و بحث کے ذریعے سے جو لذت حاصل ہوتی ہے، وہ اس لذت پر فوقیت رکھتی ہے جو دنیاوی باتوں سے حاصل ہوتی ہے، اس لئے ان کو بحث و تحقیق کے ان مسائل سے بہرہ و افر نصیب ہوگا اور جنت میں ان پر ایسے ایسے حقائق کا انکشاف ہوگا جن کی تعبیر ممکن نہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے اور ان کو متذکرہ بالا اوصاف سے موصوف کرنے کے بعد، ان کی مدح فرمائی ہے اور اہل علم میں اس جنت کا شوق ابھارا اور اس کے حصول کے لئے ان کو عمل پر آمادہ کیا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” بیشک یہ البتہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ “ جس کے ذریعے سے ہر وہ بھلائی حاصل ہوتی ہے جسے نفوس چاہتے ہیں اور ہر چیز دور ہوتی ہے جس کو نفوس ناپسند کرتے ہیں۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور کامیابی مطلوب ہوسکتی ہے ؟ یا یہ سب سے بڑا مطلوب و مقصود ہے جہاں رب ارض و سما کی رضا نازل ہوتی ہے، جہاں اہل ایمان اس کے قرب سے فرحت، اس کی معرفت سے لذت، اس کے دیدار سے مسرت اور اس سے ہم کلام ہو کر طرب و راحت حاصل کریں گے۔
(آیت) ” ایسی ہی کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ “ یہی مطلوب و مقصود سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لئے زندگی کے بہترین سانس صرف کئے جائیں اور سب سے زیادہ اس لائق ہے کہ عقل مند اصحاب معرفت اس کے لئے جدوجہد کریں۔ نہایت افسوس اور حسرت کا مقام ہے کہ دور اندیش آدمی کے اوقات میں کوئی ایسا وقت گزرے جس میں وہ ایسے عمل میں مشغول نہ ہو جو اسے اس منزل مقصود تک پہنچاتا ہے، تب اس کا کیا حال ہے جو اپنے گناہوں کے ذریعے سے ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے۔
Ayahs 37:54–74آیت 74
(اذلک خیر) اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں بہترین ہیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیئے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف ؟ کون سا کھانا اچھا ہے ؟ ؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے (ام) ” یا “ جہنمیوں کا کھانا ؟ اور وہ (آیت) ” زقوم کا درخت ہے ہم نے اسے ” فتنہ “ بنا رکھا ہے “ یعنی عذاب اور سزا (آیت) ” واسطے ظالموں کے “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ ضر ظلم کیا (آیت) ” بیشک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ “ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے۔ پودا اگنے کی بدترین جگہ پودخ کی خساست اور اس کے بدترین اوصاف پر دلالت کرتی ہے، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس جگہ کا ذکر کر کے جہاں یہ پودا اگتا ہے اور اس کے پھل کا وصف بیان کر کے ہمیں اس کی برائی سے آگاہ فرمایا ہے۔ بیشک اس کا پھل (رءوس الشیطین) ” شیطانوں کے سر “ کے مانند ہے۔ پس اس کے ذائقے کے بارے میں مت پوچھ کہ یہ جہنیموں کے پیٹ میں جا کر کیا کرے گا۔ وہ اس سے بچ سکیں گے نہ جان چھڑا سکیں گے، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” پس وہ اسی سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔ “ یہ اہل جہنم کا کھانا ہے اور کتنا بدترین کھانا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مشروب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :” پھر بلاشبہ ان کے لئے ہوگا اس کے بعد “ یعنی اس بدترین کھانے کے بعد (لشوباً من حمیم) گرم پانی، جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اور اگر وہ پانی طلب کریں گے تو ان کو ایسا پانی پلایا جائے گا جو تلچھٹ جیسا ہوگا جو ان کے منہ کو بھون کر رکھ دے گا۔ یہ بدترین مشروب اور نہایت بری آرام گاہ ہے۔ “ اور جیسا کہ فرمایا کہ : (آیت) ” اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کٹا ڈالے گا۔ “ (آیت) ” پھر ان کا لوٹنا “ یعنی انی کمنزل اور ٹھکانا (آیت) ” جہنم کی طرف ہوگا “ تاکہ وہ اس کے شدید عذاب اور سخت ترین حرارت کا مزا چکھیں جس سے بڑھ کر کوئی بدبختی نہیں۔
گویا یہ کہا گیا کہ کس چیز نے ان لوگوں کو جہنم میں پہنچایا ؟ تو فرمایا : (انھم القوا “ یعنی انہوں نے پایا (آیت) ” اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا، پس وہ انہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں۔ “ یعنی گمراہی میں تیزی سے دوڑے چلے جا رہے تھے۔ انہوں نے اس طرف التفات نہ کیا جس طرف انبیاء ومرسلین نے ان کو بلایا، نہ انہوں نے اس چیز کی طرف توجہ کی جس سے کتب الٰہیہ نے ان کو ڈرایا اور نہ انہوں نے خیر خواہی کرنے والوں کی خیر خواہی کو درخوراعتنا سمجھا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے یہ کہتے ہوئے ان کی مخالفت کی : (آیت) ” بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ “ (ولقد ضل قبلھم) ” اور ان سے پیشتر بھی گمراہ ہوگئے “ یعنی ان مخاطبین سے پہلے (آیت) ” بہت سے پہلے “ یعنی ان میں سے بہت کم لوگ تھے جو ایمان لائے اور انہوں نے راہ راست اختیار کی (آیت) ” اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے۔ “ جو ان کو ان کی بےراہ روی اور گمراہی سے ڈراتے تھے۔ (آیت) ” پس دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیا ہوا ؟ “ ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کے سوا کچھ نہ تھا۔
اس لئے ان مشرکین کو اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ انھیں بھی اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا ان لوگوں کو کرنا پڑا۔ چونکہ جن لوگوں کو ڈرایا گیا تھا، وہ سب کے سب گمراہ نہ تھے، ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو اہل ایمان تھے، جن کا دین اللہ تعالیٰ کے لئے خالص تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب اور ہلاکت سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا : (الا عباد اللہ المخلصین) ” سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے “ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص کا حامل بنایا اور ان کو ان کے اخلاص کے سبب سے، اپنی رحمت کے لئے مختص کیا۔ تب ان کا انجام قابل ستائش ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :