Ayah 33:54آیت 54
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں داخل ہوتے وقت آپ کے آداب کا خیال رکھا کریں، لہٰذا فرمایا : (یایھا الذین امنوا لاتدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام) یعنی کھانے کے لئے داخلے کی اجازت کے بغیر نبی کریم ﷺ کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو اور نہ تم (نظرین انہ) کھانا تیار ہونے اور اس کے پکنے کا انتظار کیا کرو اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لوٹنے میں تاخیر نہ کیا کرو۔
اس کا معنی یہ ہے کہ تم دو شرائط کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں دال ہوا کرو :
(1) داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد
(2) تمہارا آپ کے گھر میں بیٹھنا ضرورت کے مطابق ہو۔
اسی لئے فرمایا : (ولکن اذا دعیتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسین لحدیث) ” لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔ “ یعنی کھانے سے پہلے یا بعد میں باتیں کرنے نہ لگ جاؤ۔ پھر اس ممانعت کی حکمت اور فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ان ذلکم) یعنی ضرورت سے زیادہ تمہارا وہاں انتظار کرنا (کان یوذی النبی) ” نبی ﷺ کو تکلیف دیتا ہے ‘ یعنی وہاں تمہارا بیٹھ کر آپ کو اپنے کام کاج اور دیگر معاملات سے روکے رکھنا، آپ پر شاق گزرتا ہے اس سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔ (فیستجی منکم) ” یعنی وہ شرم کی وجہ سے تمہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ جیسا کہ عادت جا ریہ ہے کہ لوگ۔۔۔ خاص طور پر شرفاء اور باوقار لوگ۔۔۔ لوگوں کو اپنے گھروں سے نکالتے ہوئے شرماتے ہیں (3) ” اور “ لیکن (اللہ لایستحی من الحق) ” اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔ “ شرعی معاملے میں اگر یہ تو ہم لاحق ہو کہ اس کے ترک کرنے میں ادب اور حیا ہے، تو کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ جو چیز شریعت کے خلاف ہے اس میں کوئی ادب نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا حکم دینے سے نہیں شرماتا جس میں تمہارے لئے بھلائی اور رسول ﷺ کے لئے نرمی ہو خواہ یہ حکم کیسا ہی کیوں نہ ہو۔
یہ تو تھے نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں داخل ہونے کے آداب اور رہے آپ کی ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کے آداب، تو اس میں دو امور ہیں کہ آیا ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کی کوئی حقیقی ضرورت ہے یا نہیں ؟ اگر بات چیت کرنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تو اس کو ترک کرنا ہی ادب ہے۔ اگر کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہے، جیسے ان سے کوئی چیز، مثلاً گھر کے برتن وغیرہ طلب کرنا، تو یہ چیزیں ان سے طلب کی جائیں (من ورآء حجاب) ” پرندہ کے پیچھے سے، “ یعنی تمہارے درمیان اور اوزاج مطہرات کے درمیان ایک پردہ حائل ہو، جو نظر پڑنے سے بچائے کیونکہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تو معلوم ہوا ازواج مطہرات کو دیکھنا ہرحال میں ممنوع ہے اور ان سے ہم کلام ہونے میں تفصیل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دیا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن) ” یہ تمہارے اور انکے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے “ کیونکہ یہ طریقہ کسی قسم کے شہ بے سے بعید تر ہے اور انسان شر کی طرف دعوت دینے والے اسباب سے جتنا دور رہے گا تو یہ چیز اس کے قلب کے لئے اتنی ہی زیادہ سلامتی اور پاکیزگی کا باعث ہوگی۔
بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام شرعی امور کی کثرت سے تفاصیل بیان کی ہیں، نیز یہ بھی واضح کیا ہے کہ برائی کے تمام وسائل، اسباب اور مقدمات ممنوع ہیں اور ہر طریقے سے ان سے دور رہنا مشروع ہے، پھر ایک جامع بات اور ایک عام قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ما کان لکم) اے مومنو ! تمہارے لائق ہے نہ یہ مستحسن ہے، بلکہ یہ قبیح ترین بات ہے (ان توذوا رسول اللہ) ” کہ تم رسول اللہ کو تکلیف پہنچاؤ۔ “ یعنی قول و فعل اور ان سے متعلق تمام امور کے ذریعے سے اذیت پہنچاؤ۔ (ولا ان تکحوا ازواجہ من بعدہ ابداً ) ” اور نہ (تمہارے لئے یہ حلال ہے کہ) آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ “ یہی چیز ان جملہ امور میں داخل ہے جن سے آپ کو اذیت پہنچتی ہے۔ بیشک آپ ﷺ تعظیم اور رفعت و اکرام کے مقام کے حالم ہیں آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا، اس مقام کے منفای ہے، نیز اواج مطہرات، دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں، زوجیت کا یہ رشتہ آپ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے اس لئے وہ آپ کی امت میں سے کسی کے لئے جائز نہیں۔ (ان ذلکم کان عند اللہ عظیماً ) ” یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ کا کام) ہے۔ “ امت مسلمہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے روکا تھا۔ وللہ الحمد و الشکر
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ان تبدوا شیاء) یعنی اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو (او تخفوہ فان اللہ کان بکل شیء علیماً ” یا اس کو تم چھپاؤ، تو اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ “ یعنی جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے اور وہ تمہیں خوب جانتا ہے اور وہ تمہیں اس کی جزا دے گا۔
Ayah 33:55آیت 55
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ازاج مطہرتا سے اگر کوئی چیز طلب کی جائے تو پردے کے پیچھے سے طلب کی جائے تو لفظ عام استعمال کیا جس کا اطلاق سب پر ہوتا ہے، اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ اس حکم میں سے ان محرم اقارب کو مستثنیٰ قرار دیا جائے جو یہاں مذکور ہیں کہ جن سے پر وہ نہ کرنے میں (لا جناح علیھن) ” ان پر کوئی حرج نہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے چچاؤں اور ماموؤں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ جب خالاؤں اور پھوپھیوں پر بھتیجوں اور بھانجوں سے پردہ کرنا واجب نہیں تو چچا اور ماموں سے پردہ کرنا بدرجہ اولیٰ واجب نہیں، نیز ایک دوسری آیت کا منطوق، جس میں نہایت صراحت کے ساتھ چچا اور ماموں کا ذکر ہے، اس آیت کریمہ کے مفہوم مخالف پر مقدم ہے۔
(ولا نسآء ءھن) یعنی عورتوں پر دوسری عورتوں سے پردہ نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یعنی وہ عوتریں جو دین میں ان کی ہم جنس ہیں، تو آیت کریمہ کے اس جملے کی رو سے کافر عورتیں نکل جاتی ہیں۔ اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد جنس عورت ہے، تب معنی یہ ہوگا کہ عورت عورت سے پردہ نہ کرے۔ (ولا ماملکت ایمانھن) ” اور نہ ان میں کوئی گناہ ہے جن کی وہ مالک ہیں۔ “ یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک غلام پورے کا پورا ان کی غلامی میں ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات سے حرج اور مضائقہ کو دور کردیا ہے، اس لئے اس بارے میں اور دیگر امور میں التزام تقویٰ کی شرط عائد کی ہے، نیز یہ کہ اس میں کسی حرمت شرعی کا ارتکاب نہ ہو، چناچہ فرمایا : (واتقین اللہ) یعنی اپنے تمام احوال میں تقویٰ کو کام میں لاؤ۔ (ان اللہ کان علی کل شیء شھیداً ) ” اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر گواہ ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام ظاہری و باطنی اعمال کو دیکھ رہا ہے، ان کے تمام اقوال کو سن رہا ہے اور ان کی تمام حرکات کا مشاہدہ کر رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے تمام اعملا کی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayahs 33:56–57آیت 56
ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کے کمال، اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے ہاں آپ کے بلند درجات، آپ کی بلند قدر و منزلت اور آپ کے ذکر رفیع کی طرف اشارہ ہے، چناچہ فرمایا : (ان اللہ وملٓئکتہ یصلن) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں اور ملا اعلیٰ کے سامنے اپنے نبی محمد ﷺ کی مدح و ثنا بیان کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔ تمام فرشتے آپ کی مدح و ثنا کرتے ہیں اور نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
(یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیماً ) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی اقتدا میں، آپ کے بعض حقوق کی جزا کے طور پر، اپنے ایمان کی تکمیل کے لئے، آپ کی تعظیم کی خاطر، آپ سے محبت اور آپ کے اکرام و تکریم کے اظہار کے لئے، اپنی نیکیوں میں اضافہ کرنخے اور اپنی بارئیوں کے کفارہ کے لئے اے مومنو ! تم بھی رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ رسول اللہ ﷺ پر درود کی بہتر شکل وہ ہے جو آپ نے اپنے صحابہ کرام کو سکھائی ہے۔ لہٰذا آپ نے فرمایا : (اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی آل ابراہیم انک حمید مجید، اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وع لی آل ابراہیم انک حمید مجید (1)
درود وسلام کا یہ حکم، تمام اوقات میں مشروع ہے اور بہت سے اہل علم نے اسے نماز کے اندر واجب قرار دیا ہے۔
Ayah 33:58آیت 58
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی تعظیم اور آپ پر صلوۃ وسلام کا حکم دینے کے بعد، آپ کو اذیت پہنچانے سے منع کیا اور جو آپ کو اذیت پہنچائے اس کو سخت عذاب کی وعید سنائی ہے، چناچہ فرمایا : (ان الذین یوذون اللہ ورسولہ) ” بیشک وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو “ یہ آیت کریمہ ہرق سم کی قولی و فعلی اذیت سب وشتم، آپ کی تنقیص، آپ کے دین کی تنقیص اور ہر ایسا کام جس سے آپ کو اذیت پہنچے، سب کو شامل ہے۔ (لعنھم اللہ فی الدنیا) ” ان پر دنیا میں اللہ کی پھٹکار ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں رحمت سے دور کر کے دھتکار دیا ہے۔ دنیا کے اندر ان پر لعنت یہ ہے کہ شاتم رسول کی حتمی سزا قتل ہے۔
(والاخرۃ واعدلھم عذاباً مھینا) ” اور آخرت میں بھی اور انکے لئے اللہ نے انتہائی رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔ “ اس اذیت رسانی کی جزا کے طور پر ایذا دینے والے کو درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ رسول ﷺ کو تکلیف پہنچانا کسی عام آدمی کو تکلیف پہنچانے کی مانند نہیں ہے کیونکہ بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاسکتا جب تک کہ وہ اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ آپ کی تعظیم کرنا لوازم ایمان میں شامل ہے اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپ کسی اور کی مانند نہیں۔
اہل ایمان کو بھی اذیت پہنچانا بہت بڑی برائی ہے اور اس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے اس لئے اس ایذا رسانی کے بارے میں فرمایا : (والذین یوذون المومنین والمومنت بغیر ما اکتسبوا) ” اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی وجہ سے ایذا دیں جو انہوں نے نہ کیا۔ “ یعنی ان کے کسی ایسے جرم کے بغیر، جو ان کو اذیت دینے کا موجب ہو (فقد احتملوا) تو ایذا دینے والوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھایا (بھتاناً ) ” بہت بڑا
(1) صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب :10، حدیث 3380
بہتان “ کیونکہ انہوں نے کسی سبب کے بغیر اہل ایمان کو اذیت پہنچائی (واثما مبیناً ) ” اور واضح گناہ (کا بوجھ اٹھایا) ” کیونکہ انہوں نے اہل ایمان پر زیادتی کی اور انہوں نے اس حرمت کی ہتک کی جس کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا، اس لئے عام الہ ایمان کو سب و شتم کرنا، ان کے احوال اور مرتبے کے مطابق، موجب تعزیر ہے۔ صحابہ کرام کو سب و شتم کرنے والے کے لئے اس سے بڑھ کر تعزیز ہے۔ اہل علم اور متدین حضرات کو سب وشتم کرنے والا عام لوگوں کو سب و شتم کرنے والے سے بڑھ کر تعزیر اور سزا کا مستحق ہے۔
Ayahs 33:59–63آیت 59
اس آیت کریمہ کو ” آیت حجاب “ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لئے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے، نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا : (یاھا الذین امنوا قوآ انفسکم واھلیکم ناراً (التحریم :6/66) ” اے مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کی آگ سے بچاؤ۔ “
(اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ (یدنین علیھن من جلا بیبھن) ” وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔ “ (جلباب) وہ کپڑا ہے جو عام لباس کے اوپر اوڑھ لیا جاتا ہے مثلاً دوپٹا، اوڑھنی اور چادر وغیرہ، یعنی چادر وغیرہ سے اپنے چہروں اور سینوں کو ڈھانپ لیا کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :
(ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین) ” یہ امر ان کے لئے موجب شناخت ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہیں دے گا۔ “ آیت کریمہ کا یہ جملہ عدم حجاب کی صورت میں وجود اذیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ پردہ نہیں کریں گی تو بسا اوقات ان کے بارے میں کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ یہ پاک باز عورتیں نہیں ہیں اور کوئی بدکردار شخص، جس کے دل میں مرض ہے، آگے بڑھ کر تعرض کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ ان کی اہانت بھی ہوسکتی ہے۔ شرارت پسند شخص ان کو لونڈیاں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برا سلوک کرسکتا ہے، اس لئے حجاب بدطینت لوگوں کی لالچ بھیر نظروں سے بچاتا ہے۔
(وکان اللہ غفوراً رحیماً ) ” اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ “ اس نے تمہارے گزشتہ گناہ بخش دیئے اور تم پر رحم فرمایا کہ اس نے تمہارے لئے احکام بیان فرمائے، حلال اور حرام کو واضح کیا۔ یہ عورتوں کی جہت سے برائی کا سدباب ہے۔ رہا شریر لوگوں کے شرکا سدباب، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبھم مرض) ” اگر باز نہ آئیں وہ لوگ جو منافق ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے “ یعنی شک اور شہوت کا مرض (والمرجفون فی المدینۃ) ” اور جو مدینے میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ جو اپنے دشمنوں کو ڈراتے، اپنی کثرت و قوت اور مسلمانوں کی کمزوری کا ذکر کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کا ذکر نہیں فرمایا جس کے بارے میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس سے باز آجائیں تاکہ یہ اپنے عموم کے ساتھ ان تمام برائیوں سے رک جائیں جن پر انہیں ان کے نفس اکساتے، وسوسہ پیدا کرتے اور شرک کی طرف انہیں دعوت دیتے رہتے ہیں، مثلاً : اسلام اور اہل اسلام پر سب و شتم کرنا، مسلمانوں کے بارے میں بری افواہیں پھیلانا، ان کی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا، مومن خواتین کے ساتھ برائی اور فحش رویے سے پیش آنا اور دیگر گناہ جو ان جیسے بدکردار لوگوں سے صادر ہوتے ہیں۔ (لنغرینک بھم) ہم آپ کو انہیں سزا دینے اور ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیں گے اور آپ کو ان پر تسلط اور غلبہ عطا کریں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کیا تو ان میں آپ کا مقابلہ کرنے اور آپ سے بچنے کی قوت اور طاقت نہ ہوگی۔ اس لئے فرمایا : (ثم لا یج اور ونک فیھا الا قلیلاً ) یعنی وہ مدینہ منورہ میں بہت کم آپ کے ساتھ رہ سکیں گے، آپ ان کو قتل کردیں گے یا شہر بدر کردیں گے۔
آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ان شرپسندوں کو، جن کے مسلمانوں کے اندر قیام سے مسلمانوں کو ضرر کا اندیشہ ہو، شہر بدر کیا جاسکتا ہے، اس طریقے سے بہتر طور پر برائی کا سدباب ہوسکتا ہے اور برائی سے دور رہا جاسکتا ہے۔ (ملغونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلاً ” ان پر پھٹکار برسائی گئی ہے، جہاں بھی وہ مل جائیں پکڑے جائیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔ “ یعنی جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے انہیں امن حاصل ہوگا نہ قرار، انہیں ہمیشہ قتل، قید اور عقوبتوں کا دھڑکا لگا رہے گا۔ (سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل) ” جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔ “ یعنی جو نافرمانی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، ایذا رسانی کی جسارت کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا، اسے سخت سزا دی جاتی ہے (ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاً ) ” اور البتہ آپ اللہ کی سنت میں کوئی تغیر و تبدل نہیں پائیں گے۔ “ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت کو اسباب اور اس کے مسببات کے ساتھ جاری وساری پائیں گے۔
Ayahs 33:64–68آیت 64
لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو (قل) ” آپ کہہ دیجیے “ ان سے : (انما علمھا عند اللہ) اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔
(وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریباً ) ” اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو “ یعنی قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا ؟ اور ان امور کے بارے میں تمہیں میں خیر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے ؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصف مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ (ان اللہ لعن الکفرین) ” بیشک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔ “ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کرنا ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کردیا اور سزا کے لئے یہی کافی ہے (واعدلھم سعیراً ) ” اور تیار کی ہے ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ۔ “ یعنی انکے لئے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور (لایجدون) ” وہ نہیں پائیں گے “ اپنے لئے (ولیا) ” کوئی دوست “ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں (ولا نصیراً ) ” اور نہ کوئی مددگار “ جو ان سے عذاب کو دور کرسکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انہیں گھیر لے گا۔
اس لئے فرمایا : (یوم تقلب وجوھھم فی النار) ” جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔ “ پس وہ آپ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ (یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعانا الرسولا) ” وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی “ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔
(وقالوا ربنا انا طعنا سادتنا وکبرآء نا) ” اور کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا “ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی (فاضلونا السبیلا) ” تو انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا، کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت ! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کردیا جب وہ میرے پاس آئی۔ “
جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا، چناچہ وہ کہیں گے : (ربنا اتھم ضعفین من العذاب و العنھم لعنا کبیراً ) ” اے ہمارے بر ! ان کو دگنا عذبا دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمہارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمہارے عذاب میں بھی تفاوت ہوگا۔
Ayahs 33:69–70آیت 69
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول محمد ﷺ کو جو معزز، نہایت نرم دل اور رحیم ہیں، اذیت نہ پہنچائیں۔ ان پر جو آپ کے لئے اکرام و احترام واجب ہے وہ اس کے برعکس رویے سے پیش نہ آئیں اور ان لوگوں کی مشابہت اختیار نہ کرلیں جنہوں نے کلیم الرحمٰن حضرت موسیٰ بن عمران کو اذیت پہنچائی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ان کی تکلیف وہ باتوں سے برأت دی اور ان کی برأت کو ان کے سامنے ظاہر کردیا، حالانکہ موسیٰ تہمت اور اذیت کے لائق نہ تھے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاں نہایت با آبرو، اس کے مقرب بندے، اس کے خاص رسول اور اس کے مخلص بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔
حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے جن فضائل سے سرفراز فرمایا وہ فضائل بھی ان کو اذیت رسانی سے نہ روک سکے اور ان کو ناپسندیدہ حرکات سے باز نہ رکھ سکے اس لئے اے مومنو ! تم ان کی مشابہت اختیار کرنے سے بچو۔
یہ اذیت جس کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے، حضرت موسیٰ کے بارے میں بنی اسرائیل کی بد زباین ہے۔ جب انہوں نے حضرت موسیٰ کو دیکھا کہ یہ نہایت با حیا ہیں اور اپنے ستر کا بہت خیال رکھتے ہیں تو انہوں نے مشہور کردیا کہ وہ صرف اس لئے ستر چھپاتے ہیں کہ ان کے خص بے (فوطے) متورم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بنائی ہوئی باتوں سے آپ کی برأت کرنا چاہی، چناچہ ایک روز حضرت موسیٰ نے غسل کیا اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے۔ پتھر کپڑے لے کر فرار ہونے لگا حضرت موسیٰ (اسی عریاں حالت میں) پتھر کے پیچھے بھاگے اور بنی اسرائیل کی مجالس کے پاس سے گزرے تو انہوں نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہترین تخلیق سے سرفراز فرمایا ہے۔ آپ سے ان کا بہتان زائل ہوگیا۔ (1)
(1) صحیح البخاری، الغسل، باب من اغتسل غریاناً وجدہ فی خلوۃ، ح :228
Ayahs 33:71–72آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ کھلے چھپے، اپنے تمام احوال میں تقویٰ کا التزام کریں اور درست بات کہنے پر خاص طور پر زور دیا ہے (القول السدید) اس قول کو کہتے ہیں جو صحیح اور حق کے موافق یا اس کے قریب تر ہو، مثلاً قرأت قرآن، ذکر الٰہی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، علم کا سیکھنا پھر اس کی تعلیم دینا، علمی مسائل میں حق و صواب کے حصول کی حرص، ہر اس راستے پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا جو حق تک پہنچتا ہو اور وہ وسیلہ اختیار کرنا جو حق کے حصول میں مددگار ہو۔ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں نرم اور لطیف کلام بھی قول سدید کے زمرے میں آتا ہے، کوئی ایسی بات کہنا جو خیر خواہی کو متضمن ہو، یا کسی درست تر امر کا مشورہ دینا یہ سب قول سدید میں داخل ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اور قول سدید پر مترتب ہوتے ہیں، لہٰذا فرمایا : (یصلح لکم اعمالکم) ” اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا۔ “ یعنی تقویٰ اعمال کی اصلاح کا سبب اور ان کی قبولیت کا ذریعہ ہے کیونکہ تقویٰ کے استعمال ہی سے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف پاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (انما یتقبل اللہ من المتقبین) (المائدہ :28/5) ” اللہ تعالیٰ صرف متقین ہی کا عمل قبول فرماتا ہے۔ “
تقویٰ کے وجود سے انسان کو عمل صالح کی توفیق عطا ہوتی ہے، تقویٰ ہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان کے ثواب کی مفاسد سے حفاظت کرتا ہے اور ثواب کو کئی گنا زیادہ کرتا ہے اسی طرح تقویٰ اور قول سدید میں خلل اور فساد اعمال، ان کی عدم قبولیت اور ان کے اثرات مترتب نہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ (ویغفرلکم ذنوبکم) ” اور اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا “ جو تمہاری ہلاکت کا سبب ہیں۔ تقویٰ ہی سے تمام معاملات درست اور تمام برائیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : (ومن یطع اللہ و رسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً ) ” اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بہت بڑی مراد پائے گا۔ “
Ayah 33:73آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ اس امانت کی عظمت بیان کرتا ہے جو اس نے مکلفین کے سپرد کی۔ اس امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سرافگندہ ہونا اور کھلے چھپے تمام احوال میں محارم سے اجتناب کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو بڑی بڑی مخلوقات، آسمان، زمین اور پہاڑوں وغیرہ کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا کہ اگر تم اسے قائم کرو گے اور اس کا جو حق ہے وہ ادا کرو گے تو تمہارے لئے ثواب ہے اور اگر تم اس کو قائم کرسکے نہ اسے ادا کرسکے تو تمہیں عذاب ملے گا۔
(فابین ان یحملنھا واشفقن منھا) یعنی انہوں نے اس خوف سے اس امانت کا بار اٹھانے سے انکار کردیا کہ وہ اس امانت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ کی نافرماین کے طور پر تھا نہ اس کے ثواب میں بےرغبتی کے سبب سے تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو اسی شرط کے ساتھ، انسان کے سامنے پیش کیا تو اس نے اسے قبول کر کے اس کا بار اٹھا لیا اور اس نے اپنی جہالت اور ظلم کے باوصف اس بھاری ذمہ داری کو قبول کرلیا۔ لوگ اس امانت کو قائم رکھنے اور قائم نہ رکھنے کے لحاظ سے تین اقسام میں منقسم ہیں :
(1) منافقین : جو ظاہری طور پر اس امانت کو قائم رکھتے ہیں اور باطن میں اس کو ضائع کرتے ہیں۔
(2) مشرکین : جنہوں نے ظاہری اور باطنی طور پر اس امانت کو ضائع کردیا ہے۔
(3) مومنین : جنہوں نے ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے اس امانت کو قائم کر رکھا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تینوں اقسام کے لوگوں کے اعمال اور ان کے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” تاکہ اللہ منافق مردوں اور منفاق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذبا دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ “ ہر قسم کی سائش اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے اس آیت مبارکہ کو ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کی کامل مغفرت، بےپایاں رحمت اور لامحدود جود و کرم پر دلالت کرتے ہیں۔ بایں ہمہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ اپنے نفاق اور شرک کے باعث اس مغفرت اور رحمت کے مستحق نہیں۔