Ayahs 33:32–34آیت 32
(ینسآء النبی) ” اے نبی کی بیویو ! “ یہ تمام ازواج مطہرات سے خطاب ہے۔ (لستن کا حدمن النسآء ان اتقین) ” تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو “ کیونکہ اس طرح تمہیں تمام عورتوں پر فوقیت حاصل ہوگی اور کوئی عورت تمہارے درجے کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پس ازواج رسول نے تقویٰ کی اس کے تمام وسائل اور مقاصد کے ساتھ تکمیل کی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام حرام وسائل کو منقطع کرنے میں ان کی راہنمائی فرمائی اور فرمایا : (فلا تخضعن بالقول) ” پس تم نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔ “ یعنی مردوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یا اس وقت کہ لوگ تمہاری گفتگو سن رہے ہوں اور تم دھیمے لہجے اور رغبت دلانے والی نرم کلامی سے گفتگو کرو تو ہوسکتا ہے کہ تمہاری طرف مائل ہوجائے (الذی فی قلبہ مرض) ” وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے۔ “ یعنی شہوت زنا کا مرض۔ بیشک ایسا شخص تیار رہتا ہے اور کسی ادنیٰ سے محرک کا منتظر رہتا ہے جو اس کو متحرک کر دے کیونکہ اس کا قلب صحت مند نہیں اور صحتمند قلب میں کسی ایسی چیز کی شہوت نہیں ہوتی جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو۔ اس کیق لب کے صحت مند اور مرض سے سلامت ہونے کی وجہ سے اسباب گناہ اسے حرام شہوت کے لئے متحرک کرسکتے ہیں نہ اسے اس کی طرف مائل کرسکتے ہیں، بخلاف اس قلب کے جو مریض ہے۔ وہ اس چیز کا متحمل نہیں ہوسکتا جس کا متحمل ایک صحت مند قلب ہوسکتا ہے، وہ اس چیز پر صبر نہیں کرسکتا جس پر ایک صحت مند صبر کرسکتا ہے، لہٰذا اگر ایک ادنی سا سبب بھی اسے حرام کی طرف دعوت دے تو وہ اس کی دعوت پر لبیک کہے گا اور اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔
آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ وسائل کے احکام بھی وہی ہیں جو مقاصد کے احکام ہیں کیونکہ دھیمے لہجے میں بات کرنا اور نرم کلامی، اصل میں مباح ہیں چونکہ اس قسم کی نرم کلامی حرام کردہ امر کے لئے وسیلہ بن سکتی ہے اس لئے سا سے روک دیا گیا، اس لئے عورت کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ مردوں سے مخاطب ہوتے وقت نرم لہجے میں بات نہ کرے۔ چونکہ انہیں نرم لہجے میں بات کرنے سے روکا گیا ہے اس لئے بسا اوقات یہ وہم لاحق ہوسکتا ہے کہ انہیں درشت کلامی کا حکم ہے چناچہ اس وہم کو اس ارشاد کے ذریعے سے دور کیا گیا ہے : (وقلن قولاً معروفاً ) ” اور دستور کے مطابق بات کیا کرو۔ “ یعنی جس طرح دھیما پن اور نرم کلامی نہیں ہونی چاہیے اسی طرح درشت لہجے اور بداخلاقی پر مشتمل کلام بھی نہیں ہونا چاہیے۔
غور کیجیے کیسے ارشاد فرمایا : (فلا تخضعن بالقول) ” نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔ “ اور یہ نہیں کہا : فلا تلن بالوقل ” بات کرنے میں نرمی نہ کرو۔ “ یعنی نرم کلامی سے منع نہیں کیا بلکہ ایسی نرم کلامی ممنوع ہے جس میں مرد کے لئے عورت کی اطاعت اور اس کے انکسار کی جھلک ہو۔ اطاعت مند اور جھکنے والے کے بارے میں کسی قسم کا طمع کیا جاسکتا ہے بخلاف اس شخص کے جو کوئی ایسے نرم لہجے میں بات کرتا ہے، جس میں اطاعت اور جھکاؤ کی جھلک نہیں ہوتی بلکہ اس میں ترفع اور مدمقابل کے لئے سختی ہوتی ہے تو اس شخص کے بارے میں مدمقابل کوئی طمع نہیں کرسکتا، (ورنہ نرمی تو مطلوب ہے) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی نرم مزاجی کی مدح کرتے ہوئے فرمایا، (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم) (آل عمران :109/3) ” پس اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ انکے لئے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں۔ “ حضرت موسیٰ اور ہارون سے فرمایا : (اذھبا الی فرعون انہ طغی، فقولا لہ قولاً لتینا لعلہ یتذکر اویخشی) (طہ :33 ۔ 33/20) ” تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔ “
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد : (فطمع الذی فی قلبہ مرض) ” تو جس کے دل میں روگ ہے وہ کوئی برا خیال کرے “ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دینا، شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مردوں اور عورتوں کی مدح و ثنا اور اس کا زنا کیق ریب جانے سے منع کرنا یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ بندے کے لئے مناسب یہ ہے کہ جب وہ اپنے نفس کو اس حالت میں دیکھے کہ وہ کسی حرام فعل کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے یا کسی محبوب ہستی کا کلام سن کر خوش ہوتا ہے اور اپنے اندر طمع کے داعیے کو حرام کی طرف رخ کرتے ہوئے پاتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مرض ہے۔ وہ اس مرض کو کمزور کرنے، ردی خیالات کا قلع قمع کرنے، اس خطرناک مرض سے نفس کو محفوظ کرنے کی پوری جدوجہد کرے اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتا رہے۔ یہ بھی شرم گاہ کی حفاظت کے زمرے میں آتا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔
(وقرن فی بیوتکن) اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ تمہارے لئے زیادہ حفاظت اور سلامتی کا مقام ہے (ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی) اور بناؤ سنگار کر کے اور خوشبو لگا کر بہت زیادہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلا کرو، جیسا کہ اہل جاہلیت کی عادت تھی جن کے پاس علم تھا نہ دین۔ یہ حکم شر اور اس کے اسباب کر وکنے کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر انہیں تقویٰ اور تقویٰ کی جزئیات کا حکم دینے کے بعد، اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ عورتیں اس کی سب سے زیادہ محتاج ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس نے انہیں اطاعت کا حکم دیا، خاص طور پر نماز اور زکوۃ کا حکم دیا جن کی ضرورت ہر شخص کو ہوتی ہے۔ نماز اور زکوۃ سب سے بڑی عبادتیں اور جلیل القدر نیکیاں ہیں۔ نماز کے اندر معبود کے لئے اخلصا اور زکوۃ میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان ہے۔ پھر ان کو عمومی اطاعت کا حکم دیا، فرمایا : (واطعن اللہ ورسولہ) ” اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی۔ “ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہرق سم کا معاملہ داخل ہے، خواہ اس کا حکم وجوب کے طور پر دیا گیا ہو یا استحباب کے طور پر۔
(انما یرید اللہ) ” اللہ تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے “ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جن چیزوں کا حکم دیا اور جن امور سے منع کیا، اس کا مقصد صرف یہ ہے (لیذھب عنکم الرجس) کہ وہ تم سے گندگی، شر اور ناپاکی کو دور کر دے (اھل البیت ویطھرکم تطہیراً ) ” اے نبی کی گھر والیو ! اور تمہیں خوب پاک کردے۔ “ یہاں تک کہ تم سب طاہر اور مطہر بن جاؤ۔ پس تم ان اوامرونواہی پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو، جن کی مصلحتوں کے بارے میں تمہیں آگاہ فرمایا کہ وہ محض تمہارے فائدے کے لئے ہیں، ان اوامرونواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں کسی مشقت اور تنگی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمہارے نفوس کا تزکیہ، تمہارے اخلاق کی تطہیر اور تمہارے اعمال کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اس طرح تمہارے اجر کو بڑا کرنا مقصود ہے۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو عمل کا حکم دیا جو فعل و ترک پر مشتمل ہے تو پھر انہیں علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ بیان فرمایا، لہٰذا فرمایا : (واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ) ” اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ “ یہاں آیات الٰہی سے مراد قرآن، حکمت سے مراد قرآن کے اسرار اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپن اذکر کرنے کا حکم دیا جو تلاوت قرآن کے ذریعے سے لفظی ذکر، اس کے معانی میں غور و فکر، اس کے احکام اور اس کی حکمتوں کے استخراج، اس پر عمل اور اس کی تاویل کے ذکر کو شامل ہے۔ (ان اللہ کان لطیفاً خبیراً ) ” بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین، خبردار ہے۔ “ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کے اسرار نہاں، سینوں کے بھید، آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی تمام چیزوں اور تمام کھلے چھپے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ اس کا لطف و کرم اور خبر گیری اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اخلاص للہ اور اعمال کو چھپانے کی ترغیب دے، نیز تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی جزا دے۔ (اللطیف) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو اپنے بندے کو ایسے مخفی طریقے سے بھلائی عطا کرتی ہے اور شر سے بچاتی ہے، جس کا اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے طرح رزق عطا کرتی ہے کہ اسے اس کا ادراک تک نہیں ہوتا اور وہ اسے ایسے اسباب دکھاتی ہے جسے نفس ناپسند کرتے ہیں، مگر یہ اسباب اس کے لئے بلند درجات اور اعلیٰ مراتب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔
Ayah 33:35آیت 35
اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے ثواب اور (بفرض محال عدم اطاعت کی صورت میں) عذاب کا ذکر کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ ان جیسی کوئی عورت نہیں تو اس کے بعد، ان کے علاوہ دیگر عورتوں کا ذکر کیا۔ چونکہ عورتوں اور مردوں کا ایک ہی حکم ہے اس لئے دونوں کے لئے مشترک بیان کیا، چناچہ فرمایا : (ان المسلمین و المسلمت) ” بلاشبہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں “ یہ شریعت کے ظاہری احکام کے بارے میں ہے جبکہ وہ اسیق ائم (والمؤمنین و المومنت) ” اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں۔ “ یہ باطنی امور کے بارے میں ہے مثلاً عقائد اور اعمال قلوب وغیرہ (والقنتین) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے مرد (والقنتت) ” اور اطاعت کرنے والی عورتیں “ (والصدیقین) اور سچ بولنے والے مرد “ اپنے قول و فعل میں (والصدقت) ” اور سچ بولنے والی عورتیں “ (والصبرین) ” اور صبر کرنے والے مرد “ مصائب و آلام پر (والصبرت) اور صبر کرنے والی عورتیں “ (والخشعین) ” اور وہ مرد جو عاجزی کرتے ہیں “ اپنے تمام احوال میں، خاص طور پر عبادات میں اور عبادات میں سے خاص طور پر نمازوں میں (والخشعت) ” اور عاجزی کرنے والی عورتیں۔ “ (والمتصدقین) ” اور وہ مرد جو صدقہ دیتے ہیں “ خواہ یہ صدقہ فرض ہو یا نقل (والمتصدقت) ” اور صدقہ دینے والی عورتیں “ (والصآء ئمین) اور روزہ رکھنے والے مرد “ (والصئبت) ” اور روزہ رکھنے والی عورتیں۔ “ یہ فرض اور قنل تمام روزوں کو شامل ہے۔ (والحفظین فروجھم) زنا اور مقدمات زنا سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد (والحفظت) ” اور حفات کرنے والی عورتیں “ (والذین اللہ کثیراً ) اور اپنے اکثر اوقات میں خصوصاً مقررہ اذکار کے اوقات میں مثلاً صبح و شام یا فرض نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے مرد (والذکرت) ” اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ “
(اعد اللہ لھم) ” اللہ نے ان کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ “ یعنی ان لوگوں کے لئے جو ان صفات جمیلہ اور مناقب جلیلہ سے متصف ہیں۔ یہ امور اعتقادات، اعمال قلوب، اعمال جوارح، اقوال لسان، دوسروں کو نفع پہنچانے، بھلائی کے کام کرنے اور شر کو ترک کرنے پر مشتمل ہیں۔ جو کوئی متذکرہ صدر امور پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ ظاہری اور باطنی طور پر تمام دین کو قائم کرتا ہے یعنی وہ اسلام، ایمان اور احسان پر عمل کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی یہ جزا دی کہ ان کے گناہوں کو بخش دیا، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں (واجرا عظیماً ) اور ان کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا اندازہ صرف وہی کرسکے گا جس کو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا۔ وہ ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کے خیال کا گزر ہوا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔
Ayah 33:36آیت 36
جو شخص ایمان سے متصف ہے اس کے لئے اس کے سوا اور کچھ مناسب نہیں کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی طرف سبقت کرے، ان کی ناراضی سے بچے، ان کے حکم کی تعمیل کرے اور جس کام سے وہ روک دیں، اس سے اجتناب کرے۔ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لائق نہیں کہ (اذا قضی اللہ ورسولہ امرا) ” جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کردیں “ اور اس کی تعمیل کو لازم قرار دے دیں تو (ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم) ” ان کے لئے اس فیصلے پر عمل کا اختیار باقی رہے “ کہ آیا وہ اس کام کو کریں یا نہ کریں ؟ بلکہ مومن مرد اور مومن عورتیں جانتے ہیں کہ رسول ﷺ ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں، اس لئے وہ اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان، اپنی کسی خواہش نفس کو حجاب نہ بنائیں۔
(ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلاً مبیناً ” اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہ ہوگیا۔ “ یعنی وہ واضح طور پر گمراہ ہوگیا کیونکہ اس نے صراط مستقیم کو ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک جاتا ہے، دوسرا راستہ اختیار کرلیا جو درد ناک عذاب تک پہنچتا ہے۔
سب سے پہلے اس سبب کا ذکر کیا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے عدم معارضہ کا موجب ہے اور وہ ہے ایمان، پھر اس سے مانع کا ذکر فرمایا اور وہ ہے گمراہی سے ڈرانا، جو عذاب اور سزا پر دلالت کرتا ہے۔
Ayahs 33:37–38آیت 37
ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے ایک عام قانون مشروع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے، تمام وجوہ سے، حقیقی بیٹوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں اور ان کی بیویوں کے ساتھ، متنبیٰ بنانے والوں کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ معاملہ ان امور عادیہ میں شمار ہوتا تھا جو کسی بہت بڑے حادثے کے بغیر ختم نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ یہ قانون رسول ﷺ کے قول و فعل کے ذریعے سے وجود میں آئے اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے کوئی سبب مقرر کردیتا ہے۔
(زید بن حارثہ کو ” زید بن محمد “ کہہ کر پکارا جاتا تھا جنہیں نبی مصطفیٰ ﷺ نے اپنا متنبی بنایا تھا۔ ان کو ” زید بن محمد “ کہا جاتا رہا حتی کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (ادعوھم لابآءھم) (الاحزاب :5/33) ” ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ “ تب ان کو زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔ ان کی بیوی زینب بنت حجش رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ آپ کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا تھا کہ زید نے طلاق دے دینی ہے اور اس کے بعد اس کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا۔ اس وحی الٰہی کی وجہ سے آپ ﷺ یہ یقین رکھتے تھے کہ زید کے طلاق دینے کے بعد آپ اس سے نکاح کرلیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر کردیا کہ حضرت زینب اور حضرت زید بن حارث کے درمیان کچھ ایسے واقعات ہوئے جن کی بنا پر زید نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت زینب کو طلاق دینے کی اجازت طلب کی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ) ” جب آپ اس شخص سے، جس پر اللہ نے احسان کیا، کہہ رہے تھے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام سے سرفراز فرمایا (وانعمت علیہ) ” اور آپ نے بھی اس پر انعام کیا تھا۔ “ یعنی آپ نے اس کو آزادی عطا کر کے اور ارشاد وتعلیم کے ذریعے سے اس پر احسان فرمایا تھا۔ جب زید نبی ﷺ کے پاس اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں مشورہ طلب کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے تو آپ نے اس کی خیر خواہی کرتے اور اس کو اس کی مصلحت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (امسک علیک زوجک) ” اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ۔ “ یعنی اسے طلاق نہ دے اس کی طرف سے تمہیں جو کوئی تکلیف پہنچی ہے اس پر صبر کر (واثق اللہ) اپنے عام معاملات میں اور خاص طور پر اپنی بیوی کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر، کیونکہ تقویٰ صبر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کا حکم دیتا ہے۔ (وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ) ” اور آپ اپنے دل میں وہ بات پوشید ہر کھتے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ “ جو چیز آپ نے اپنے دل میں چھپائی ہوئی تھی وہ یہی تھی جس کی اطلاع آپ کو بذریعہ وحی دی گئی تھی کہ اگر زید زینب کو طلاق دے دے تو آپ اس سے نکاح کرلیں گے۔ (وتخشی الناس) ” اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے “ اس چیز کے عدم ظہور کے معاملے میں جو آپ کے دل میں ہے۔ (واللہ احق ان تخشہ) ” حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس سے ڈریں “ کیونکہ اس کا خوف ہر بھلائی کے عطا ہونے کا سبب اور ہر برائی کے روکنے کا ذریعہ ہے۔
(فلما قضی زید منھا وطراً ) ” پس جب زید نے اس سے اپنی ضرورت پوری کرلی۔ “ یعنی جب زید نے خشو دلی سے اور حضرت زینب میں بےرغبتی کے باعث طلاق دے دی (زوجنکھا ) ” تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا “ اور ہم نے یہ سب کچھ ایک عظیم فائدے کے لئے کیا (لکی لایکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیآئبھم) ” تاکہ مومنوں کے لئے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی حرج نہ رہے۔ “ یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے زید بن حارثہ کی مطلقہ سے نکاح کرلیا ہے جو اس سے قبل آپ کا منہ بولا بیٹا تھا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (لکی لایکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیآئبھم) تمام احوال میں عام ہے جب کہ بعض احوال میں ایسا کرنا جائز نہیں ہوتا اور وہ حالت حاجت پوری ہونے سے پہلے کی حالت ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کے ساتھ اسے مقید کردیا کہ (اذا قضوا منھن وطراً وکان امر اللہ مفعولاً ) ” جب وہ ان سے اپنی ضرورت پوری کرچکیں، اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا تھا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے اور اس کے لئے کوئی رکاوٹ اور کوئی مانع نہیں بن سکتا۔
ان آیات کریمہ سے، جو اس واقعے پر مشتمل ہیں، متعدد نکات مستنبط ہوتے ہیں :
(1) ان آیات کریمہ میں دو لحاظ سے حضرت زید بن حارثہ کی مدح کی گئی ہے۔
(ا) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپ کا نام ذکر کیا ہے جبکہ آپ کے علاوہ صحابہ میں سے کسی صحابی کا نام قرآن مجید میں مذکور نہیں۔
(ب) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زید کو نعمت سے نوازا یعنی اسلام اور ایمان کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہی ہے کہ زید ظاہری اور باطنی طور پر مسلمان اور مومن تھے ورنہ اس نعمت کو ان کے ساتھ مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں، سوائے اس کے کہ اس سے مراد نعمت خاص ہے۔
(2) جس شخص کو آزاد کیا گیا وہ و وہ آزاد کرانے والے کا ممنون نعمت ہے۔
(3) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے جیسا کہ اس کی تصریح کی گئی ہے۔
(3) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے جیسا کہ اس کی تصریح کی گئی ہے۔
(4) ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ عملی تعلیم، قولی تعلیم سے زیادہ بلیغ اور مؤثر ہے خاص طور پر جب عمل تعلیم قولی تعلیم سے مقرون ہو تو پھر ” سونے پر سہاگہ ‘ ہے۔
(5) بندے کے دل میں اپنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی اور عورت کی رغبت کا پیدا ہوجانا قابل گرفت نہیں ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ رغبت یا محبت فعل حرام سے مقرون نہ ہو۔ بندہ اس محبت پر گناہگار نہیں خواہ اس کی یہ آرزو ہی کیوں نہ ہو کہ اگر اس کا شوہر اسے طلاق دے دے تو وہ اس سے نکاح کرے گا، مگر کسی بھی سبب سے ان کے درمیان جدائی ڈالنے کے لئے کوشش نہ کرے۔
(6) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رسالت کو واضح طریقے سے پہنچا دیا۔ آپ کی طرف جو کچھ بھی وحی کیا گیا وہ سب پہنچا دیا اور کچھ بھی باقی نہیں رکھا حتی کہ وہ حکم بھی پہنچایا جس میں آپ پر عتاب کیا گیا تھا اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور وہی بات کہتے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور آپ اپنی بڑائی نہیں چاہتے۔
(7) آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہے، جب بھی کسی معاملے میں اس سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ اپنے علم کے مطابق بہترین مشورہ دے اور مشورہ طلب کرنے والے کے مفاد سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ اپنے علم کے مطابق بہترین مشورہ دے اور مشورہ طلب کرنے والے کے مفاد کو اپنی خواہش نفس اور اپنی غرض پر مقدم رکھے، خواہ اس میں اس کا اپنا خط نفس ہی کیوں نہ ہو۔
(8) جو کوئی اپنی بوی کو طلاق دینے کے لئے مشورہ طلب کرتا ہے، اس کے لئے بہترین رئاے یہ ہے کہ جہاں تک اصلاح احوال ممکن ہو، اس کو اپنی بیوی کو طلاق نہ دینے کا مشورہ دیا جائے کیونکہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا، طلاق دینے سے بہتر ہے۔
(9) یہ بات متعین ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے خوف کو لوگوں کے خوف پر مقدم رکھے اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہی زیادہ لائق اور اولیٰ ہے۔
(10) ان آیات کریمہ سے ام المومنین حضرت زینب بنت حجش کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ ان کے نکاح کی اللہ تعالیٰ نے سرپرستی فرمائی جس میں کوئی خطبہ تھا نہ گواہ۔ بنا بریں زینب رسول اللہ ﷺ کی دیگر ازواج مطہرات پر فخر کا اظہار کیا کرتی تھیں، فرمایا کرتی تھیں :” تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا ہے میرا نکاح سات آسمانوں پر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ “ (1)
(11) ان آیات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت شادی شدہ ہو اور اس کا شوہر موجود ہو تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے نہ اس کے اسباب میں کوشش کرنا جائز ہے جب تک اس کا شوہر اس سے اپنی حاجت پوری نہ کرے اور اس کی حاجت اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ طلاق کی عدت پوری نہ ہوجائے کیونکہ عورت عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی حفاظت میں ہوتی ہے خواہ کسی بھی پہلو سے ہو۔
(1) صحیح البخاری، الوتحید، باب (وکان عرشہ علی الماء) ح :8320
Ayah 33:39آیت 39
یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو کثرت ازواج کے ضمن میں آپ ﷺ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں جب کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں، چناچہ فرمایا : (مان کان علی النبی من حرج) ” نبی پر کوئی حرج نہیں ہے “ یعنی کوئی گناہ نہیں ہے (فیما فرض اللہ لہ) ” ان چیزوں میں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے جو بیویاں مقرر کی ہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے کثرت از واج کو اسی طرح مباح کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے دیگر انبیاء کے لئے مباح کیا، اس لئے فرمایا : (سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل و کان امر اللہ قدراً مقدوراً ) ” جو لوگ پہلے گزر گئے ان میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے اور اللہ کا حکم ٹھہر چکا ہے۔ “ یعنی اس کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔ پھر ذکر فرمایا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں جن کی یہ عادت اور سنت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں (الذین یبلغون رسلت اللہ) ” جو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں۔ “ جو بندوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے دلائل وبراہین کی تلاوت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ (ویخشونہ) وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرتے ہیں (ولا یخشون احداً ) ’ اور وہ (اللہ کے سوا) کسی سے نہیں ڈرتے۔ “
یہ انبیائے معصومین کی سنت میں شامل ہے جنہوں نے اپنا وظیفہ ادا کردیا اور اسے مکمل طور پر قائم کیا اور وہ وظیفہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا اور صرف اسی کی خشیت کی ترغیب دینا ہے جو ہر فعل مامور کو بجا لانے اور فعل محظور سے اجتناب کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس میں کسی طرح بھی کوئی نقص نہیں۔ وکفی باللہ حسیباً ) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا محاسبہ کرنے اور ان کے اعمال کی نگرانی کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح تمام انبیاء ومرسلین کی سنت ہے۔
Ayahs 33:40–43آیت 40
نہیں ہیں رسول اللہ (محمد) حضرت محمد ﷺ (ابا احد من رجالکم) ” تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ “ اس سے آپ ﷺ کی طرف حضرت زید بن حارثہ کا انتساب منقطع ہوگیا۔
جب یہ نفی تمام احوال میں عام ہے تو اگر لفظ کو اپنے ظاہری معنوں پر معمول کیا جائے، یعنی آپ ﷺ نسب کے اعتبار سے کسی کے باپ ہیں نہ کسی منہ بولے بٹے کے باپ ہیں جب کہ گزشتہ سطور میں یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مومنوں کے باپ ہیں اور آپ کی ازواج مطہرتا مومنوں کی مائیں ہیں، اس لئے احتراز فرمایا، تاکہ یہ نوع متذکرہ صدر عموم نہی میں داخل نہ ہو، چناچہ فرمایا : (ولکن رسول اللہ وخاتم النبین) ” بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ “ یہ آپ کا مرتبہ مطاع و متبوع کا مرتبہ ہے۔ آپ پر ایمان لانے والا آپ کی پیروی کرتا ہے، آپ کی محبت کو ہر کسی کی محبت پر مقدم کرتا ہے۔ آپ پر ایمان لانے والا آپ کی پیروی کرتا ہے، آپ کی محبت کو ہر کسی کی محبت پر مقدم کرتا ہے۔ آپ اہل ایمان کے خیر خواہ ہیں، اپنی خیر خواہی اور حسن سلوک کی بناء پر گویا آپ ان کے باپ ہیں۔ (وکان اللہ بکل شیء علیماً ) ” اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “ یعنی اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی ذمہ داری کطے عطا کرے ؟ کون اس کے فضل و کرم کا اہل اور کون اہل نہیں ہے ؟
Ayah 33:44آیت 44
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل وتحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ اور مناسب یہی ہے کہ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو گندی باتوں سے باز رکھتا ہے۔
(وسبحوہ بکرۃ واصیلاً ) اور صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو کیونکہ صبح اور شام دونوں فضیلت کے حامل اوقات ہیں اور ان میں عمل کرنا بھی نہایت سہل ہوتا ہے۔ (ھو الذی یصلی علیکم وملئکتہ لیخرجکم من الظلمت الی النور وکان بالمومنین رحمیاً ) ” وہی ہے جو تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔ “ یعنی اہل ایمان پر یہ اس کی بےپایاں رحمت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو اپنی برکت، اپنی مدح و ثنا اور فرشتوں کی دعاؤں سے نوازا جو انہیں گناہوں اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توفیق، علم اور عمل کی روشنی میں لاتی ہیں۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کو سرفراز فرمایا۔ یہ نعمت ان سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور کثرت کے ساتھ اس کے ذکر کا مطالبہ کرتی ہے جس نے ان پر رحم اور لطف و کرم کیا۔ سا کے عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے ارگرد موجود افضل ترین فرشتے اپنے رب کی تحمید کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور الہ ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : (آیت) ” اے ہمارے رب ! تو نے اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے یک پیروی کی اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب ! تو داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں، جن کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی (ان جنتوں میں داخل کر) جو نیک ہیں۔ بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے اور تو ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے اس روز برئایوں سے بچا دیا، تو تو نے اس پر رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ “
ان پر اللہ تاعلیٰ کی یہ رحمت اور نعمت دنیا میں ہے۔ ان پر آخرت میں جو رحمت ہوگی وہ جلیل ترین رحمت اور افضل ترین ثواب ہے اور یہ ہے اپنے رب کی رضا کے حصول میں فوزیاب ہونا، ان کے رب کی طرف سے سلام، اس کے کلام جلیل کا سماع، اس کے چہرہ مبارک کا دیدار اور بہت بڑے اجر کا حصول جس کو کوئی جان سکتا ہے نہ اس کی حقیقی معرفت حاصل کرسکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو وہ خود عطا کر دے، بنا بریں فرمایا : (تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجراً کریماً ) ” جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے اجر کریم تیار رکھا ہے۔ “
Ayahs 33:45–48آیت 45
یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اور وہ پانچ چیزیں ہیں :
(1) (شاھداً ) یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرہ : 173/2) ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔ “ اور فرمایا : (فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولآء شھیداً ) (النساء :31/3) ” پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کعے طور پر طلب کریں گے۔ “
(2، 3) (مبشراً و نذیراً ) یہ مبشر اور منذر کے ذکر کو، نیز جس چیز کی خوش خبری دی جائے اور جس سے ڈرایا جائے اور انذار وتبشیر والے اعمال کے ذکر کو مستلزم ہے۔ پس (المبشر) ” جس کو خوش خبری دی گئی ہو “ سے مراد اہل ایمان اور اہل تقویٰ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع اور معاصی کو ترک کیا ہے۔ ان کے لئے دنیا ہی میں ہرق سم کے دینی اور دنیاوی ثواب کی بشارت ہے جو ایمان اور تقویٰ پر مترتب ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ یہ سب کچھ اعمال کی تفاصیل تقویٰ کے خصائل اور ثواب کی اقسا مکہ ذکر کو مستلزم ہے۔ (المنذر) سے مراد مجرم، ظالم اور جاہل لوگ ہیں، جن کے لئے اس دنیا میں دینی اور دنیاوی عقوبات کے ذریعے سے ڈرانا ہے جو ظلم اور جہالت پر مترتب ہوتی ہیں اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والا درد ناک عذاب ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ جو کتاب و سنت لائے ہیں یہ جملہ تفاصیل اسی پر مشتمل ہیں۔
(ر) (داعیا الی اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لئے مبعوث فرمایا تاکہ آپ مخلوق کو ان کے رب کی طرف دعوت دیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا شوق پیدا کریں اور ان کو اس کی عبادت کا حکم دیں جس کے لئے ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ چیز ان امور پر استقامت کا تقاضا کرتی ہے جن کی دعوت دی گئی ہے اور یہ چیز ان کے اپنے رب کی، اس کی صفات مقدسہ کے ذریعے سے معرفت اور جو صفات اس کے جلال کے لائق نہیں ان صفات سے اس کی ذات مقدس کی تنزیہ جیسے امور کی تفاصیل کا تذکرہ ہے جن کی طرف انہیں دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کی مختلف انواع، قریب ترین راستے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرنے کا ذکر کیا ہے، نیز اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ دعوت الی اللہ اپنے نفس کی تعظیم کے لئے نہ ہو بلکہ خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جیسا کہ اس مقام پر بہت سے نفوس کو کبھی کبھی یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔
(5) (سراجاً منیراً ) روشن چراغ “ یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ تمام مخلوق بہت بڑی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ تھی جس سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی، نہ کوئی علم تھا کہ اس جہالت میں کوئی دلیل مل سکتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کا پردہ چاک کردیا، آپ کے ذریعے سے جہالتوں کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی اور آپ کے ذریعے سے گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔
پس اہل استقامت کے لئے راستہ واضح ہوگیا اور وہ اس راہنما ﷺ کے پیچھے چل پڑے۔ انہوں نے اس کے ذریعے سے خیر و شر، اہل سعادت اور اہل شقاوت کو پہچان لیا۔ انہوں نے اپنے رب کی معرفت کے لئے اس سے روشنی حاصل کی اور انہوں نے اپنے رب کو اس کے اوصاف حمیدہ، افعال سدیدہ اور احکام رشیدہ کے ذریعے سے پہچان لیا۔ (وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبیراً ) ” آپ مومنوں کو خوش خبری سنا دیجیے کہ ان کے لئے اللہ کے طرف سے بہت بڑا افضل ہے۔ “ اس جملے میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو خوش خبری دی گئی ہے اور وہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہیں ایمان کو مفرد طور پر ذکر کیا جائے تو اس میں عمل صالح داخل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا جن کی خوش خبری دی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا اور جلیل القدر فضل، جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا مثلاً اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت، ہدایت، قلوب، گناہوں کی بخشش، تکلیفوں کا دور ہونا، رزق کی کثرت اور ارزنی، خوش کن نعمتوں کا حصول، اپنے رب کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول میں کامیابی اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات۔ یہ وہ امور ہیں جن کے ذکر سے عمل کرنے والوں کو نشاط حاصل ہوتا ہے، جن سے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں مدد لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جیسا کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ وہ ترہیب کے مقام پر عقوبتوں کا ذکر کرتا ہے جو ان افعال پر مترتب ہوتی ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے تاکہ یہ ترہیب ان امور سے باز رہنے میں مدد دے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔
لوگوں میں سے ایک گروہ، دعوت الٰی اللہ کا کام کرنے والے انبیاء ومرسلین اور ان کے متعبین کی راہ روکنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ یہ وہ منافق ہیں جو ایمان کا اظہار کرتے ہیں جب کہ باطن میں درحقیقت کافر اور فاجر ہوتے ہیں اور وہ کفار ہیں جو ظاہر اور باطن میں کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کی اطاعت کرنے سے روکا ہے اور ان کے برے منصوبوں سے ہوشیار کیا ہے، چناچہ فرمایا : (ولا تطع الکفرین والمنفقین) ” اور کافروں اور منافوں کا کہنا نہ ماننا “ یعنی کسی بھی ایسے معاملے میں ان کی بات نہ مانیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے۔ یہ بات ان کو اذیت دینے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ حکم یہ ہے کہ آپ ان کی اطاعت نہ کیجیے۔ (ودع اذنھم) ” اور انہیں اذیت پہنچانے کو ترک کردیں “ کیونکہ یہ چیز ان کو قوبل اسلام کی طرف بلاتی ہے، آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بہت سی اذیتوں سے بچاتی ہے۔ (و توکل علی اللہ) اپنے کام کی تکمیل اور اپنے دشمن کے خذلان میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ (وکفی باللہ وکیلاً ) ” اور اللہ ہی کار ساز کافی ہے۔ “ بڑے بڑے امور اس کے سپرد کئے جاتے ہیں۔ وہ ان کا انتظام کرتا ہے اور انہیں اپنے بندے کے لئے آسان کردیتا ہے۔
Ayah 33:49آیت 49
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو آگاہ فرماتا ہے کہ جب وہ مومن عورتوں کے ساتھ نکاح کریں، پھر ان کو چھوئے بغیر طلاق دے دیں تو اس صورت میں مطلقہ عورتوں پر کوئی عدت نہیں، مگر اللہ مردوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس صورت میں بھی ان کو کچھ متاع دیں جو ان کی اس دل شکنی کا ازالہ کرے جو انہیں طلاق کی وجہ سے لاحق ہوئی ہے، نیز انہیں حکم دیتا ہے کہ وہ کسی مخاصمت، گالی گلوچ اور کسی مطالبہ وغیرہ کے بغیر اچھے طریقے سے ان کو علیحدہ کریں۔
اس آیت مبارکہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ طلاق صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو طلاق دے دے یا طلاق کو نکاح پر معلق کر دے، تو یہ طلاق واقع نہیں ہوگی، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (اذا نکحتم المومنت ثم طلقتموھن) ” جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ان کو طلاق دے دو ۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد مقرر فرمایا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نکاح سے قبل طلاق کا کوئی مقام نہیں، چونکہ طلاق ایک مکمل جدائی اور مکمل تحریم ہے اس لئے نکاح سے قبل واقع نہیں ہوسکتی۔ جب یہ بات ہے تو ظہار یا ایلا وغیرہ کا، جو کہ تحریم ناقص ہے، نکاح سے قبل واقع نہ ہونا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اہل علم کی صحیح ترین رائے ہے۔
یہ آیت کریمہ طلاق کے جواز پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی طلاق کے بارے میں خبر دی، اس پر ان کو کوئی ملامت کی نہ ان پر کوئی گرفت کی، حالانکہ آیت کریمہ اہل ایمان سے خطاب کے ساتھ صادر ہوئی ہے۔
یہ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرت ہے کہ بیوی کو چھوئے بغیر طلاق دی جاسکتی ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا : (لا جناح علیکم ان طلقتم النسآء مالم تمسوھن) (البقرۃ :236/2) ” تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنی بیویوں کو چھوئے بغیر طلاق دے دو ۔ “
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلیل ہے کہ اگر عورت کو دخول سے قبل طلاق دے دی جائے تو اس پر مجرد طلاق کی بنا پر عدت واجب نہیں ہوتی، اس کے لئے دوسرا نکاح کرنا جائز ہے، کیونکہ کوئی مانع موجود نہیں ہے۔
اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ دخول اور چھونے کے بعد طلاق دینے سے عدت واجب ہوجاتی ہے۔
کیا ” دخول “ اور ” چھونے “ سے مراد و فقط مجامعت ہے۔ جیسا کہ اس پر تو اجماع ہے ؟ یا خلوت کا بھی یہی حکم ہے خواہ اس میں مجامعت نہ ہوئی ہو جیسا کہ خلفائے راشدین کا فتویٰ ہے اور یہی صحیح ہے۔ جب بیوی کے ساتھ خلوت حاصل ہوگئی خواہ اس خلوت میں مجامعت ہوئی یا نہ ہوئی مجرد اس خلوت کی بنا پر عدت واجب ہوگی۔ (1)
اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر چھونے سے قبل عورت کو طلاق دے دی جائے، تو خوش حال خاوند پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست خاوند پر اس کی حیثیت کے مطابق اس مطلقہ بیوی کو ” متاع “ دینا واجب ہے مگر یہ اس صورت میں ہے جب مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور اگر مہر مقرر کردیا گیا ہو اور چھونے سے قبل بیوی کو طلاق دے دی گئی ہو تو نصف مہر کی ادائیگی واجب ہے، تب یہ مہر ” متاع “ کے بدل میں بھی کفایت کرتا ہے۔
اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اپنی بیوی کو دخلو سے قبل یا بعد میں طلاق دیتا ہے تو اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ نہایت اچھے اور بھلے طریقے سے طلاق دے کہ دونوں ایک دوسرے کی تعریف کریں۔ اگر دونوں ایک دوسرے میں جرح و قدح کریں اور ایک دوسرے میں کیڑے نکالیں تو یہ جدائی ” بھلے طریقے “ سے جدائی نہیں ہے۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ عدت خاوند کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (فما لکم علیھن
(1) خلوت کا معتبر قرار دینے کا مذہب جمہور علماء کا ہے اور راجح بھی یہی ہے جیسا کہ مؤلف نے وضاحت کی ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ خلوت ہوئی اور پھر مشاجرت ہوئی لیکن کسی یقینی ذریعے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مجامعت نہیں ہوئی تو عدت نہیں ہوگی۔
من عدۃ) ” تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت نہیں ہے۔ “ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر خلوت کے بعد طلاق دی ہوتی تو خاوند کے حق میں عورت پر عدت واجب تھی۔
آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اگر مفارقت خاوند کی وفات کے باعث ہو تو وہ مطلق طور پر عدت گزارے گی۔ جیسا کہ آیت کریمہ (ثم طلقموھن) ” پھر تم ان کو طلاق دو ۔ “ سے ظاہر ہوتا ہے۔
اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس بیوی کے علاوہ جس کے ساتھ خلوت نہ ہوئی ہو، دیگر بیویوں پر عدت واجب ہے، خواہ ان کے درمیان خاوند کی موت کی وجہ سے مفارقت ہوئی ہو یا اس کی زندگی میں کسی وجہ سے مفارقت ہوئی ہو۔
Ayah 33:50آیت 50
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ پر کچھ ایسی چیزیں حلال ٹھہرائیں جو مومنوں کے لئے بھی حلال ہیں اور کچھ چیزیں ایسی بھی حلال ٹھہرائیں جو صرف آپ کے لئے مختص ہیں، چناچہ فرمایا : (یاھا النب انا احلنا لک ازواجک التی اتیت اجورھن) ” اے نبی ! ہم نے تیرے لئے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں تو ان کا اجر دے چکا ہے۔ “ یعنی آپ نے جن بیویوں کو مہر عطا کردیا ہے۔ یہ ان امور میں شمار ہوتا ہے جو نبی ﷺ اور یدگر اہل ایمان کے درمیان مشترک ہیں، کیونکہ اہل ایمان کے لئے بھی ان کی وہی بیویاں مباح ہیں جن کو انہوں نے حق مہر ادا کردیا ہے۔ (و) ” اور “ اسی طرح ہم نے آپ کے لئے مباح کردیں (ما ملکت یمنک) وہ لونڈیاں جو آپ کی ملکیت ہیں۔ (مما آفاء اللہ علیک) ” ان لونڈیوں میں سے جو اللہ نے تمہیں مال غنیمت سے عطا کی ہیں۔ “ یعنی کفار کے مال غنیمت میں جو غلام یا آزاد عورتیں ہاتھ لگیں اور ان عورتوں کے خواہ خاوند ہوں یا نہوں وہ مباح ہیں۔ یہ بھی نبی ﷺ اور اہل ایمان کے درمیان مشترک ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مشترک ہے : (وبنت عمک و بنت عمتلک وبنت خالک وبنت خلتک) ” اور تمہارے چچوں کی بیٹیاں اور تمہاری پھپوھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں۔ “ اس میں قریب اور دور کے چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ، سب شامل ہیں۔ یہ مباح عورتوں کا حصر ہے۔ اس سے مفہوم مخالف یہ اخذ کیا گیا کہ ان اقارب کے علاوہ دیگر اقارب مباح نہیں ہیں جیسا کہ سورة النساء میں گزر چکا ہے۔
پس مذکورہ بالا ان چار رشتہ دار عورتوں کے سوا کوئی رشتہ دار عورت مباح نہیں خواہ وہ فروع میں سے ہوں یا اصول میں سے۔ باپ اور ماں کی فروع میں سے خواہ کتنا ہی نیچے چلے جائیں اور ان سے اوپر کی فروع اپنے صلب کی بنا پر، اس لئے کہ وہ مباح نہیں۔ (التی ھاجرن معک) ” جو آپ کے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔ “ رسول اللہ ﷺ کے لئے مذکورہ بالا عورتوں کی حلت اس قید سے مقید ہے۔ اس آیت کریمہ کی تقسیم میں منقول دو میں سے یہی قول قرین صواب ہے۔ آپ کے سوا دیگر اہل ایمان کے لئے یہ قید صحیح نہیں۔
(3) ” اور “ ہم نے آپ کے لئے حلال کردیا (امراۃ مؤمنۃ ان وھبت نفسھا للنبی) ” اس مومن عورت کو بھ جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے “ اس کے اپنا نفسہ ہبہ کردینے ہی سے (ان ارادالنبی ان یستنکھا) ” اگر نبی ﷺ بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں “ یہ آپ کے ارادے اور رغبت پر منحصر ہے۔ (خالصۃ لک من دون المومنین) ” یہ خاص آپ ہی کے لئے ہے مومنوں کے لئے نہیں۔ “ یعنی یہ ہبہ کی اباحت دیگر مومنوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں جو اپنے آپ کو ان کے لئے ہبہ کردیتی ہے۔
(قد علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم وما ملکت ایمانھم) یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ اہل ایمان پر کیا واجب ہے، ان کے لئے بیویوں اور لونڈیوں میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے اور اس حلت و حرمت کے بارے میں ہم نے ان کو آگاہ بھی کردیا ہے اور ان کے فرائض بھی واضح کردیئے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں جو احکامات دوسرے لوگوں کے مخالف ہیں وہ آپ کے لئے خاص ہیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کیا ہے۔ فرمایا : (یا یھا النبی انا احللنا لک) ” اے نبی ! ہم نے آپ کے لئے حلال کی ہیں “ نیز فرمایا : (خالصۃ لک من دون المومنین) یعنی اے نبی ! ہم نے آپ کے لئے ایسی چیزیں مباح کی ہیں جو دوسروں کے لئے مباح نہیں کیں اور آپ کو جو وسعت عطا کی ہے وہ دوسروں کو عطا نہیں کی (لکیلا یکون علیک حرج) ” تاکہ آپ پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عنایت خاص ہے۔ (وکان اللہ غفوراً رحیماً ) ” اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت اور رحمت کی صفات سے متصف ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اپنی حکمت اور انکی طرف سے عمل کے اسباب کے مطابق، اپنی مغفرت و رحمت اور اپنا جو دو احسان نازل کرتا ہے۔
Ayah 33:51آیت 51
نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ پر رحمت اور آپ کے لئے وسعت ہے کہ آپ کو اپنی ازواج مطہرات کی باریوں کی تقسیم کے ترک کرنے کو مباح فرمایا۔ اگر آپ ان کی باریاں مقرر کرتے ہیں تو یہ آپ کی نوازش ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے اپنی اواج مطہرات کے درمیان ہر چیز تقسیم کر رکھی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے :” اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے بس میں ہے اور جو میرے بس میں نہیں (اے اللہ ! ) اس پر مجھے ملامت نہ کرنا۔ “ (1) یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ترجی من تشآء منھن) اپنی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں الگ رکھیں، اس کو اپنے پاس بلائیں نہ اس کے پاس رات بسر کریں۔ (وتوی الیک من تشآء) اور جس کو چاہیں اپنے پاس بلائیں اور اس کے ہاں رات بسر کریں۔
(و) ” اور “ اس کے باوجود یہ امر متعین نہیں (من ابتغیت) جس کو چاہو اپنے پاس بلا لو (فلا جناح علیک) ” تو آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔ “ معنی یہ ہے کہ آپ کو مکمل اختیار ہے۔
بہت سے مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ حکم ان عورتوں کے بارے میں خاص ہے جو اپنے آپ کو ہبہ کریں کہ آپ کو اختیار ہے جسے چاہیں الگ رکھیں اور جسے چاہیں بلا کر اپنے پاس رکھیں، یعنی اگر آپ چاہیں تو اس عورت کو قبول کرلیں جس نے خود کو آپ کے لئے ہبہ کردیا اور اگر آپ چاہیں تو قبول نہ کریں۔ واللہ اعلم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت واضح کرتے ہوئے فرمایا : (ذلک) ” یہ “ یعنی یہ وسعت، تمام
(ۃ) سنن ابی داؤد، النکاح، باب فی القسم بین النساء، ج 2133 امام البانی نے اس حدیث کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیتے ہوئے اسے ضعیف کہا ہے لیکن اس کا پہلا جملہ (یقسم بیننا فیعدل) دوسری حسن حدیث سے ثابت ہے اور دوسرا اپنی معنی و مفہوم کے لحاظ سے درست ہے۔ جبکہ حماد بن سلمہ نے اس حدیث کو موصولا بیان کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیں الارواء 88/8 حدیث نمبر 2018
معاملے کا آپ کے اختیار میں ہونا اور اس معاملے میں آپ کا ان عورتوں پر کوئی عنایت اور نوازش کرنا (ادنی ان تقر اعینھن ولا یحزن و یرضین بما اتیتھن کلھن) ” اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم ناک نہ ہوں اور آپ جو کچھ ان کو دیں اسے لے کر وہ سب خوش رہیں “ کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ آپ نے کسی واجب کو ترک کیا ہے نہ کسی واجب حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے۔ (واللہ یعلم ما فی قلوبکم) ” اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے اللہ جانتا ہے۔ “ حقوق واجبہ و مستحبہ کی ادائیگی اور حقوق میں مزاحمت کے وقت دلوں میں جو خیال گزرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ اس لئے اے اللہ کے رسول ! آپ کے لئے یہ وسعت مشروع کی گئی ہے تاکہ آپ کی ازواج کا دل مطمئن رہے۔
(وکان اللہ علیماً حلیماً ) اور اللہ تعالیٰ وسیع علم اور کثیر حلم والا ہے۔ یہ اس کا علم ہی ہے کہ اس نے تمہارے لئے وہ چیز مشروع کی ہے جو تمہارے معاملات کے لئے درست اور تمہارے اجر میں اضافہ کرنے کی باعث ہے اور یہ اس کا حلم ہے کہ تم سے جو کو تاہیاں صادر ہوئیں اور تمہارے دلوں نے جس برائی پر اصرار کیا، اس نے اس پر تمہاری گرفت نہیں فرمائی۔
Ayahs 33:52–53آیت 52
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کی ازواج مطہرات کی قدر دانی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کے اعمال کا قدر دان ہے۔۔۔ کہ اس نے ان کو اپنے سایہ رحمت میں لے لیا اور رسول اللہ ﷺ کو انھی پر اقتصار و انحصار کرنے کا حکم دیا کیونکہ انہوں نے اللہ کے رسول اور آخرت کو چنا تھا، چناچہ فرمایا : (لا یحل لک النسآء من بعد) ” ان کے سوا اور عورتیں آپ کے لئے جائز نہیں۔ “ یعنی ان موجودہ ازواج مطہرات کے بعد (ولا ان تبدل بھن من ازواج) ” اور نہ یہ کہ آپ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلیں۔ “ یعنی ان میں سے کسی کو طلطاق دے کر، اس کی جگہ کسی اور کو نکاح میں نہ لائیں۔ اس آیت کریمہ کی بنا پر وہ طلاق اور سوکنوں سے محفوظ و مامون ہوگئیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فیصلہ فرما دیا کہ وہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔ آپ اور ان کے درمیان کبھی جدائی نہ ہوگی۔
(لو اعجبک حسنھن) ” خواہ ان (کے علاوہ کسی اور) کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے “ وہ آپ کے لیے حلال نہیں (الا ما ملکت یمینک) یعنی سوائے لونڈیوں کے جو آپ کی ملکیت میں آجائیں، وہ آپ کے لئے حلال ہیں کیونکہ لونڈیاں، بیویوں کی ناپسندیگی میں، بیویوں کو نقصان پہنچانے میں، بیویوں کے مقام پر نہیں۔
(وکان اللہ علی کل شیء رقیباً ) یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور کا نگہبان ہے اور ان تمام امور کو جانتا ہے جو اس کی طرف لوٹتے ہیں۔ وہ کامل ترین نظام اور بہترین احکام کے ساتھ ان کی تدبیر کرتا ہے۔