Ayahs 24:56–57آیت نمبر 56)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان، شرائط اور آداب کے ساتھ قائم کرنے اور اس مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا کیا اور ان کو اس مال پر خلیفہ بنایا کہ وہ یہ مال محتاجوں اور ان لوگوں پر خرچ کریں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوٰۃ کے ضمن میں کیا ہے اور یہ دو عبادات سب سے زیادہ جلیل القدر عبادات ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد، اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کی جامع ہیں پھر اس حکم پر عطف کے ساتھ عام حکم دیا، فرمایا : (واطیعو الرسول) ، ، اور اطاعت کرو رسول کی۔ ، ، یعنی او امر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا ثبوت دو ۔ (من یطع الرسول فقد اطاع اللہ) (النساء : 80/14) ، ، جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ ، ، (لعلکم) ، ، تاکہ تم ، ، یعنی جب تم ان امور کا خیال رکھو گے تو (ترحمون) ، ، رحم کیے جاؤ۔ ، ، جو کوئی رحمت کا طلب گار ہے تو اس کے حصول کا صرف یہی طریقہ ہے اور جو کوئی نماز قائم کئے، زکوٰۃ ادا کئے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کئے بغیر رحمت کی امید رکھتا ہے تو اس کی تمنائیں جھوٹی ہیں اور وہ جھوٹی آرزؤں میں گرفتار ہے۔
(لا تحسبن الذین کفرو معجزین فی الارض) ، ، نہ گمان کریں آپ کافروں کو کہ وہ (اللہ کو) زمین میں عاجز کردیں گے۔ ، ، پس اس دنیا کی زندگی میں ان کو مال و متاع سے نوازا جانا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ان کی مہلت دے رکھی ہے مگر وہ ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا، جیسا کہ فرمایا (نمتعھم فلیلاً ثمہ نضطرھم الی عذاب غلیظ) (لقمان : 24/31) ہم تھوڑے عرصے کے لئے ان کو متاع دنیا سے نوازتے ہیں پھر ان کو بےبس کر کے ایک نہایت سخت عذاب کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔ ، ، بنا بریں فرمایا وم او ھم النار ولبئس المصیر) ، ، ان کا ٹھکانا آ ( علیہ السلام) ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانا ہے۔ ، ، یعنی کافروں کا انجام بد ترین ہے، ان کا انجام شر، حسرت اور ابدی عذاب ہے۔
Ayah 24:58آیت نمبر 58
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ ان کے غلام اور نابالغ بچے اجازت طلب کر کے ان کے پاس آیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کی ہے اور یہ کہ اجازت طلب کرنے والوں کے لئے پردے کے یہ تین اوقات ہیں۔ عشاء کی نماز کے بعد جب سونے کا وقت ہوتا ہے اور فجر کی نماز کے لئے بیدر ہونے سے پہلے۔ غالب حالات میں، رات کے وقت سونے والے نے معمول کے لباس کی بجائے شب خوابی کا لباس پہنا ہوتا ہے۔۔۔ البتہ دن کے وقت، قیلولہ وغیرہ میں انسان بسا اوقات اسی معمول کے لباس ہی میں ہوتا ہے۔ اس کو اپنے اس ارشاد کے ساتھ مقید کیا ہے۔ (وحین تضعون ثیابکم من الظھیرۃ) ، ، دوپہر کے وقت جب تم (قیلولہ کے لئے) کپڑے اتارتے ہو۔ ، ، پس مذکورہ بالا تین اوقات میں تمہارے غلام اور چھوٹے بچوں کو دوسرے لوگوں کی مانند اجازت لئے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔۔۔ ان تین اوقات کے علاوہ دیگر اوقات کے بارے میں فریاما : (لیس علیکم ولا علیھم جناح بعد ھن) ، ، نہیں ہے تم پر اور نہ ان پر کوئی گناہ ان اوقات کے بعد۔ ، ، یعنی یہ غلام اور بچے دوسروں کی مانند نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے محتاج ہوتے ہیں اس لئے ان کا ہر وقت اجازت طلب کرتے رہنا ان کے لئے باعث تکلیف ہوگا۔ بنا بریں فرمایا : (طوفون علیکم بعضکم علی بعض) یعنی تمہارے کام سر انجام دینے اور تمہاری ضروریات پوری کرنے کے لئے ان کا تمہارے پاس آنا جانا رہتا ہے۔ (کذالک یبین اللہ لکم الایت) وہ تاکید کے لئے اپنی آیات کو اپنی حکمت کے ساتھ مقرون بیان کرتا ہے تاکہ شارع کی رحمت اور اس کی حکمت کی معرفت حاصل ہو۔ اس لئے فرمایا : (واللہ علیم حکیم) ، ، اور اللہ جننے والا حکمت والا ہے۔ ، ، اس کا علم تمام واجبات و مستحبات اور تمام ممکنات کا احاطہ کئے ہوئے ہے، وہ اس حکمت کو بھی خوب جانتا ہے جس کی بنا پر ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھا گیا۔ پس ہر مخلوق کو وہی تخلیق عطا کی گئی ہے جو اس کے لائق ہے اور اس نے تمام شرعی احکام عطا کئے ہیں جو اسکے مناسب حال ہیں۔ یہ متذکرہ صدر احکام بھی انہیں میں سے ہیں جنہیں اس نے خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے اور ان کے مآخذ کو اور ان کے حسن کو واضح کیا ہے۔
Ayah 24:59آیت نمبر 59
(واذا بلغ الاطفال منکم الحلم) ، ، اور جب پہنچ جائیں بچے تم میں سے بلوغت کو۔ ، ، اور یہ وہ عمر ہے جب سوتے یا جاگتے میں منی کا انزال ہوجاتا ہے۔ (فلیستاذنو کما استاذن الذین من قبلھم) ، ، تو ان کو چاہیے کہ وہ اجازت طلب کریں جیسے اجازت مانگتے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے۔ ، ، یعنی تمام اوقات میں۔ اور جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے (الذین من قبلھم) میں اشارہ فرمایا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں : (آیت) (النور : 27/24) ، ، اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔ ، ، (کذالک یبین اللہ لکم ایتہ) ، ، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ اپنے آیتیں۔ ، ، یعنی واضح کرتا ہے اور اس کے احکام کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ (واللہ علیم حکیم) ، ، اور اللہ تعالیٰ باخبر اور حکمت والا ہے۔ ، ، ان دو آیات کریمہ میں متعدد فوائد ہیں :
(1) آقا اور چھوٹے بچوں کے سرپرست کو مخاطب کیا گیا ہے کہ وہ اپنے غلاموں اور ان چھوٹے بچوں کو علم اور آداب شرعیہ کی تعلیم دیں جو ان کی سرپرستی میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اس کے خطاب کا رخ ان کی طرف ہے : (آیت) ، ، اے ایمان والو ! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں ان کو تین اوقات میں اجازت طلب کرنی چاہیے۔ ، ، اور یہ چیز ان کی تعلیم و تادیب کے بغیر ممکن نہیں اور نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔ (لیس علیکم ولا علیھم جناح بعد ھن) ، ، تم پر اور ان پر ان اوقات کے بعد کوئی گناہ نہیں ہے۔ ، ،
(2) اللہ تعالیٰ نے پردہ کی حفاظت اور اس معاملے میں ہر قسم کی احتیاط کا حکم دیا ہے، نیز اس جگہ پر جہاں انسان کے ستر کے نظر آنے کا امکان ہو وہاں غسل اور استنجاء وغیرہ سے روکا گیا ہے۔
(3) ضرورت کے وقت ستر کھولنا جائز ہے، مثلاً سونے یا بول و براز وغیرہ کے وقت۔
(4) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دنوں میں مسلمان رات کے وقت سونے کی طرح دوپہر کے وقت قیلولہ کرنے کے عادی تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں انہیں ان کی موجودہ حالت کے مطابق خطاب کیا ہے۔
(5) اس بچے کے بارے میں جو ابھی بالغ نہیں ہوا، جائز نہیں کہ اسے ستر دیکھنے کی اجازت دی جائے اور نہ ہی اس کا ستر دیکھنا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجازت طلب کرنے کا حکم ایسے معاملے میں دیا ہے جو جائز ہے۔
(6) غلام کے لئے اپنے مالک کا ستر دیکھنا جائز نہیں۔ اسی طرح مالک کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے غلام کا ستر دیکھے، جیسے ہم نے بچے کے سلسلے میں بیان کیا۔
(7) واعظ اور معلم جو علوم شرعیہ میں بحث کرتا ہے، اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ حکم بیان کرنے کے ساتھ اس کا مآخذ اور اس کی وجہ بھی بیان کر دے اور دلیل اور تعلیل کے بغیر کوئی بات نہ کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حکم مذکور بیان کرنے کے بعد اس کی علت بیان کی ہے۔ فرمایا : (ثلث عورت لکم) ، ، یہ تین اوقات تمہارے لئے پردے کے اوقات ہیں۔ ، ،
(8) یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نابالغ بچے اور غلام حکم شرعی میں مخاطب ہیں جس طرح ان کا سرپرست مخاطب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے (لیس علیکم ولا علیھم جناح بعد ھن) ، ، ان اوقات کے بعد اگر وہ اجازت لئے بغیر آئیں تو تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر۔ ، ،
(9) بجے کا لعاب پاک ہے خواہ وہ نجاست، مثلاً قے وغیرہ کے بعد کا لعاب ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (طوفون علیکم) ، ، وہ تمہارے پاس بار بار آنے والے ہیں۔ ، ، نیز جب رسول اللہ ﷺ سے بلی کے جھوٹے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : (انھا من الطوافین علیکم و الطوافات) ، ، یہ تمہارے پاس نہایت کثرت سے آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہیں۔ ، ، (اس لیے ان کا جو ٹھا جائز ہے) ۔
(01) انسان کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے زیر سایہ بچوں سے ایسی خدمت لے جس میں ان کے لئے مشقت نہ ہو۔ اس کے لئے دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (طوفون علیکم) ، ، وہ تمہارے پاس بار بار آنے والے ہیں۔ ، ،
(11) متذکرہ صدر حکم صرف ان بچوں کے لئے ہے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے۔ بالغ ہونے کے بعد تو ہرحال میں اجازت طلب کرنے کا حکم ہے۔
(21) منی کے انزال سے بلوغت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ تمام شرعی احکام جو بلوغت پر مرتب ہوتے ہیں، انزال کے ساتھ ہی لاگو ہوجاتے ہیں اور اس پر تمام امت کا اجماع ہے البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ عمر یا زیر ناف بال اگنے سے بلوغت حاصل ہوجاتی ہے یا نہیں۔
Ayah 24:60آیت نمبر 60
(والقواعد من النساء) ، ، اور بڑی بوڑھی عورتیں۔ ، ، یعنی وہ عورتیں جو شہوت اور تعلقات زن و شوہر میں رغبت نہ رکھتی ہوں۔ (التی لا یرجون نکاحاً ) جو نکاح کی خواہش مند ہوں نہ کوئی مرد ان کے ساتھ نکاح کی رغبت رکھتا ہو اور یہ اس کے بوڑھی ہونے کی وجہ سے ہو کہ کسی کو اس میں کوئی رغبت ہو نہ وہ رغبت رکھتی ہو یا اتنی بد صورت ہو کہ کسی کو اس میں رغبت نہ ہو۔ (فلیس علیھن جناح) ، ، تو ان پر کوئی گناہ اور حرج نہیں، ، (ان یضعن ثیابھن) کہ وہ اپنا ظاہری لباس یعنی چادر وغیرہ اتار دیں جس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا تھا : (ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن) (النور : 31/24) ، ، اور وہ اپنے سینوں پر اپنے دوپٹوں کی بکل مارے رہیں۔ ، ، پس ان خواتین کے لئے اپنے چہروں کو ننگا کرنا جائز ہے کیونکہ اب ان کے لئے یا ان کی طرف سے کسی فتنے کا ڈر نہیں۔
چونکہ ان خواتین کے اپنی چادر اتار دینے میں نفی حرج سے بعض دفعہ یہ وہم بھی لا حق ہوسکتا ہے کہ اس اجازت کا استعمال ہر چیز کے لئے ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس احتراز کو اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے دور کیا ہے : (غیرا متبرجت بزینۃ) ، ، وہ اپنی زینت کو ظاہر کرنے والی نہ ہوں۔ ، ، یعنی ظاہری لباس اور چہرے کے نقاب کی زینت کو لوگوں کو نہ دکھائیں اور نہ زمین پر پاؤں مار کر چلیں کہ ان کی زینت ظاہر ہو کیونکہ عورت کی مجروز ینت خواہ پردے ہی میں کیوں نہ ہو اور خواہ اس میں عدم رغبت ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ فتنہ کی باعث ہے اور دیکھنے والے کو گناہ میں مبتلا کرسکتی ہے۔ (انا یسعففن خیر لھن) ، ، اور اگر وہ احتیاط کریں تو ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ ، ، استعفاف سے مراد ہے، ان اسباب کو استعمال کر کے جو عفت کا تقاضا کرتے ہیں، عفت کا طلب گار ہونا، مثلاً نکاح کرنا اور ان امور کو ترک کرنا جن کی وجہ سے فتنہ میں پڑنے کا خوف ہو۔ (واللہ سمیع) اللہ تعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے۔ (علیم) اور وہ نیتوں اور مقاصد کو بھی خوب جانتا ہے، اس لئے ان عورتوں کو ہر قول فاسد اور قصد فاسد سے بچنا چاہیے۔
Ayah 24:61آیت نمبر 61
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی عنایات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ان کو دین کے معاملے میں کسی حرج میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس نے دین کو بےحد آسان کردیا ہے، چناچہ فرمایا : (لیس علی الاعمیٰ حرج ولا علی الاعراج حرج ولا علی المریض حرج) ، ، اندھے پر، لنگڑے پر، اور مریض پر کوئی حرج نہیں۔ ، ، یعنی ان لوگوں پر، ان امور واجبہ کو ترک کرنے میں جن کا دارو مدار ان میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے مثلاً جہاد وغیرہ جن کا دارو مدار بصارت، لنگڑے پن سے صحیح ہونا یا مریض کی صحت پر ہے اس عام معنی ہی کی وجہ سے، جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، اس میں کلام مطلق کیا گیا ہے اور اس کو مقید نہیں فرمایا جس طرح کہ اس نے اپنے اس ارشاد میں مقید فرمایا ہے۔ (ولا علی انفسکم) یعنی خود تم پر کوئی حرج نہیں (ان تاکلو من بیوتکم) ، ، اس بات میں کہ تم کھاؤ اپنے گھروں سے۔ ، ، یعنی تم پر اپنی اولاد کے گھروں میں سے کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں یہ آیت کریمہ اس حدیث صحیح کے موافق ہے۔ آپ نے فرمایا : (انت وما لک لائیک) ، ، تو اور تیرا مال تیرے باپ کی ملکیت ہے۔ ، ، ایک دوسرے حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ان اطیب ما اکلتم من کیسکم و ان اولاد کم من کیسکم) ، ، بہترین چیز جو تم کھاتے ہو، تمہاری کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی ہے۔ ، ، اور (من بیوتکم) سے مراد خود اپنا گھر نہیں ہے کیونکہ یہ تو تحصیل حاصل ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کا کلام منزہ اور پاک ہے، نیز یہ نفی حرج، ان جگہوں کے بارے میں ہے جہاں گناہ کا گمان یا وہم ہوسکتا ہے۔ رہا انسان کا اپنا گھر تو وہاں گناہ اور حرج کا ادنیٰ سا گمان بھی نہیں ہوسکتا۔
(آیت) ، ، تم پر اپنے باپوں، اپنی ماؤں، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں، اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموؤں اور اپنی خالاؤں کے گھر سے کھانے پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ، ، یہ سب لوگ معروف ہیں۔ (او ما ملکتم مفاتحہ) ، ، یا وہ (گھر) جن کی چابیوں کے تم مالک ہوئے۔ ، ، اس سے مراد وہ گھر ہیں جن میں آپ وکالت یا سرپرستی وغیرہ کی بنا پر تصرف کا اختیار رکھتے ہیں رہا۔ ، ، غلام، ، سے اس کی تفسیر کرنا تو یہ دو وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔
(1) غلام کے لئے : (ملکت مفاتحہ) ، ، نہیں کہا جاتا، بلکہ (ماملکتموہ) یا (ماملکت ایمانکم) کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اس گھر کی صرف کنجیوں کے مالک نہیں ہوتے بلکہ وہ تمام گھر کے مالک ہوتے ہیں۔
(2) غلاموں کے مکان انسان کے خود اپنے گھر سے باہر نہیں ہیں کیونکہ غلام اور اس کی ہر چیز اس کے آقا کی ملکیت ہے۔ پس یہاں نفی حرج کو بیان کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
(او صدیقکم) ، ، یا اپنے دوست کے (گھر) سے۔ ، ، یہ نفی حرج، مذکورہ بالا تمام گھروں میں، بغیر اجازت کھا پی لینے میں نفی حرج ہے اور اس کی حکتم سیاق کلام سے واضہ ہے۔ ان مذکورہ گھروں میں عادت اور عرف عام کے مطابق، قرابت قریبہ، تصرف کامل اور دوستی کی وجہ سے، کھا پی لینے کے معاملے میں مسامحت برتی جاتی ہے۔ اگر ان مذکورہ بالا گھروں میں کھا لینے میں عدم مسامحت اور بخل معلوم ہوجائے تو حکمت اور معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے کھان اپینا جائز ہے نہ حرج ہی رفع ہوتا ہے۔
(لیس علیکم جناح ان تا کلو جمیعاً او اشتاتاً ) ، ، نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ تم اکٹھے کھاؤ یا الگ الگ، ، یہ سب جائز ہے ایک گھ رکے تمام افراد کا اکٹھے مل کر کھانا یا علیحدہ علیحدہ کھانا ہر طرح سے جائز ہے۔ یہاں حرج کی نفی ہے فضیلت کی نفی نہیں ہے۔ اس لیے اکٹھے مل کر کھانا افضل ہے۔
(فاذا دخلتم بیوتاً ) ، ، جب تم داخل ہو گھروں میں۔ ، ، یہ سیاق شرط میں نکرہ ہے جو خود اپنے گھر اور دیگر گھروں کو شامل ہے، خواہ گھر میں کوئی سکونت پذیر ہو یا نہ ہو۔ جب تم ان گھروں میں داخل ہوا کرو۔ (فسلمو علی انفسکم) یعنی تم ایک دوسرے کو سلام کیا کرو، کیونکہ تمم مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے، ایک دوسرے پر مہربانی کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ عاطفت سے پیش آنے میں، فرد واحد کی مانند ہیں، لہٰذا کسی فرق و امتیاز کے بغیر تمام گھروں میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا مشروع ہے اور اجازت طلبی کے بارے میں گذشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اس کے احکام میں تفصیل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سلام کی مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ (تحیۃ من عند اللہ مبرکتہ طیبۃ) یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ ، ، یعنی تمہارا سلام جب تم گھروں میں داخل ہو، ان الفاظ میں ہونا چاہیے۔ (السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ) یا (السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین) (تحیتہ من عند اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لئے تحیہ وسلام کے طور پر مشروع کیا ہے۔ (مبرکتہ) ، ، بابرکت۔ ، ، کیونکہ یہ ہر قسم کے نقص سے سلامتی، حصول رحمت، برکت، نمو اور اضافے پر مشتمل ہے۔ (طبیتہ) ، ، پاکیزہ۔ ، ، کیونکہ ان کا شمار ان کلمات طیبہ میں سے ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں جن میں اس شخص کے لئے دلی مسرت، محبت اور مودت ہے جسے سلام کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے یہ احکام جلیلہ واضہ کرنے کے بعد فرمایا : (کذلک یبین اللہ لکم الایت) ، ، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں۔ ، ، جو احکام شرعیہ اور ان کی حکمتوں پر دلالت کرتی ہیں۔ (لعلکم تعقلون) شاید کہ تم ان آیات کو سمجھو اور اپنے دل میں ان پر غور کرو تاکہ تم عقل و فہم رکھنے والوں میں شامل ہوجاؤ کیونکہ احکام شریعہ کی معرفت عقل میں اضافہ کرتی ہے اور فہم کو نشو ونما دیتی ہے، اس لیے اس کے معانی و آداب سب سے زیادہ جلیل القدر ہیں، نیز عمل کی جزا اس کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ پس جس طرح اس نے اپنے رب کو سمجھنے اور ان آیات میں تفکر و تدبر کرنے کے لئے عقل کو استعمال کیا جن میں اسے تفکر و تدبر کی دعوت دی گئی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل میں اضافہ کردیا۔
یہ آیات کریمہ ایک عام قاعدہ و کلیہ پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ و کلیہ یہ ہے : ، ، عرف اور عادت الفاظ کی اسی طرح تخصیص کرتے ہیں، جس طرح لفظ کی تخصیص لفظ کرتا ہے۔ ، ، کیونکہ اصل یہ ہے کہ انسان کے لئے کسی دوسرے کا کھانا ممنوع ہے اس کے باوجود عرف و عادت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مذکور لوگوں کے گھروں سے کھانے کی اجازت دی ہے۔ درحقیقت ہر مسئلہ چیز کے مالک کی اجازت پر موقوف ہے، اگر قول یا عرف و عادت کے ذریعے مالک کی اجازت معلوم ہوجائے تو اس پر اقدام جائز ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ باپ کا اپنے بیٹے کے مال میں سے اتنے مال کو اپنی ملکیت میں لے لینا جائز ہے جس سے اس کو ضرر نہ پہنچے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے گھر کو باپ کے گھر سے موسوم کیا ہے۔
یہ آیت کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کسی شخص کے گھر میں تصرف کرنے والا، مثلاً اس کی بیوی اور بہن وغیرہ۔۔۔ تو عادت اور عرف کے مطابق ان کے لئے اس شخص کے گھر سے کھانا پینا اور کسی سائل کو کھلانا جائز ہے۔
اس میں کھانے میں مشارکت کے جواز پر دلیل ہے، خواہ وہ مل کر کھائیں یا متفرق طور پر، خواہ ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ کھا لیں۔
Ayahs 24:62–64آیت نمبر 62
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سی اپنے مومن بندوں کے لئے ارشاد ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوں، یعنی آپ کی ضرورت اور مصلحت مثلاً جہاد اور مشاورت وغیرہ میں، جہاں اہل ایمان کا اشتراک عمل ہوتا ہے۔۔۔ تو اس معاملے میں اکٹھے رہیں کیونکہ مصلحت ان کے اجتماع و اتحاد اور عدم تفرق و تشتت کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد آپ کے نائب کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لوٹتا ہے نہ اپنی کسی ضرورت سے دیگر مومنوں کو چھوڑ کرجاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اجازت کے بغیر نہ جانے کو موجب ایمان قرار دیا ہے اور اس فعل پر نیز رسول اللہ ﷺ اور آپ کے نائب کے ساتھ ان کے ادب پر ان کی مدح کی ہے، چناچہ فرمایا : (ان الذین یستاذنوک اولئیک الذین یومنون باللہ رسولہ) ، ، بیشک وہ لوگ جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر۔ ، ، مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپ اور آپ کا نائب ان کو اجازت دے یا نہ دے ؟ اجازت دینے کے لئے دو شرائط عائد کی گئی ہیں :
(1) یہ اجازت طلبی ان کے کسی ضروری معاملے اور ضروری کام کے لیے ہو اور اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت نہ دی جائے۔
(2) اجازت دینے میں مثیت مصلحت کے تقاضے پر مبنی ہو اور اجازت دینے والے کو ضرر نہ پہنچے۔ اس لئے فرمایا : (فاذا استاذنوک لبعض شانھم فاذن لمن شت منھم) ، ، پس جب وہ آپ سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لئے، تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دیں۔ ، ، اگر اجازت طلب کرنے والے کے پاس کوئی عذر ہو اور وہ اجازت طلب کرے اگر اس کے پیچھے بیٹھ رہنے میں اور ساتھ نہ جانے میں اس کی رائے یا شجاعت سے محرومی کی وجہ سے نقصان ہو تو صاحب امر اس کو اجازت نہ دے۔۔۔ بایں ہمہ اگر کسی نے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کی اور صاحب امر ان مذکورہ شرائط کے ساتھ اجازت دے دے، تو اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اجازت طلب کرنے والے کے لئے بخشش کی دعا کریں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس کی اجازت طلبی تقصیر پر مبنی ہو، اس لئے فرمایا : (واستغفر لھم اللہ ان اللہ غفور رحیم) ، ، اور بخشش مانگیں ان کے لئے اللہ سے، بلا شبہ اللہ غفور رحیم ہے۔ ، ، اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے کہ اس نے کسی عذر کی بنا پر اجازت طلبی کا جواز عطا کیا۔
(لا تجعلو دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً ) ، ، نہ کرو تم رسول کے بلا نے کو آپس میں جیسے ایک تمہارے دوسرے کو بلاتا ہے۔ ، ، یعنی رسول اللہ ﷺ کا تمہیں بلانا اور تمہارے رسول اللہ ﷺ کو بلانا ایسے نہ ہو جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ پس جب رسول اللہ ﷺ تمہیں بلائیں تو ان کی آواز پر لبیک کہنا تم پر فرض ہے۔ یہاں تک کہ اگر تم نماز کی حالت میں ہو تب بھی تم پر آپ کے بلانے پر جواب دینا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے سوا امت میں کوئی ایسی ہستی نہیں جس کے قول کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا واجب ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ معصوم ہیں اور ہم پر آپ کی اتباع واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یا یھا الذین امنو استجیبو للہ واللرسول اذا دعا کم لما یحییکم) (الانفال 24/18) ، ، اے ایمان والے لوگو ! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جب رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی عطا کرتی ہے۔ ، ،
اسی طرح تم رسول اللہ ﷺ کو اس طرح نہ بلاؤ جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو، یعنی رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہوتے وقت (یا محمد) ، ، اے محمد ! ، ، یا (یا محمد بن عبداللہ) ، ، اے محمد بن عبداللہ ! ، ، نہ کہو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہو۔۔۔ بلکہ آپ کو فضل و شرف حاصل ہے اور آپ دوسروں سے ممتاز ہیں اس لئے آپ سے مخاطب ہوتے وقت یہ کہا جائے، ، اے اللہ کے رسول ! ، ، ، ، اے اللہ کے نبی ! ، ،
(قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا) ، ، اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو جو کھسک جاتے ہیں تم میں سے نظر بچا کر۔ ، ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کی مدح بیان کی ہے کہ جہ وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ سے اجازت لئے بغیر واپس نہیں جاتے۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعید سنائی جنہوں نے ایسا نہیں کیا اور جازت لئے بغیر چلے گئے۔ اگرچہ ان کا چپکے سے چلے جانا تم پر مخفی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے یہی مراد ہے۔ (یتسللون منکم لواذاً ) یعنی کھسکتے اور آپ کے پاس سے جاتے وقت، لوگوں کی نظر سے چھپنے کے لئے کسی چیز کی آڑ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے وہ ان کو ان کے ان کرتوتوں کی پوری پوری جزا دے گا، اس لئے فرمایا : (فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ) ، ، پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں آپ کے حکم کی۔ ، ، یعنی جو لوگ اپنے کسی ضروری کام کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے کام کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ تب اس شخص کا کیا حال ہوگا جو اپنے کسی ضروری کام اور مشعولیت کے بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرتا ہے۔ (ان تصیبھم فتنتہ) ، ، یہ کہ پہنچے ان کو کوئی فتنہ، ، یعنی شرک اور شر (اویصیبھم عذاب الیم) ، ، یا ان کو کوئی درد ناک عذاب آلے۔ ، ،
(الا ان اللہ ما فی السموات والارض) ، ، آگاہ ہوجاؤ کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے۔ ، ، وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں وہ ان میں اپنے حکم قدری اور حکم شرعی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ (قد یعلم ما انتم علیہ) تم جو بھلائی یا برائی کرتے ہو اللہ تعالیٰ کا علم اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے، وہ تمہارے تمام اعمال کو جانتا ہے، اس کے علم نے اس کو محفوظ اور اس کے قلم نے اس کو لکھ رکھا ہے اور (کراماً کاتبین) فرشتوں نے اس کو درج کرلیا ہے۔
(و یوم یرجعون الیہ) ، ، اور جس دن لوٹائے جاؤ گے تم اس کی طرف۔ ، ، یعنی قیامت کے روز (فینبھم بما عملو) ، ، پس وہ انہیں ان کے عملوں کی خبر دے گا۔ ، ، وہ ان کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کے بارے میں ان کو اس طرح آگاہ کرے گا کہ یہ آگاہی واقع کے مطابق ہوگی۔ وہ ان کے اعضاء سے ان کے خلاف گواہی لے گا۔ وہ اس کے فضل و عدل سے محروم نہیں ہو گے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے علم کو بندوں کے اعمال کے ساتھ مقید کیا ہے اس لئے خصوصی کے بعد عموم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (واللہ بکل شیء علیم) ، ، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ، ،