24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 24:32–34

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے فضل سے خوشحال کر دے گا اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے انکو بھی دو اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بےچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت

(آیت نمبر (32 اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں۔ (ایامیٰ ) سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردو زن لہذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردو زن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ‘ یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست میں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولٰی ہے۔ (والصلحین من عباد کم وا امائکم) ” اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ “ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہیں جو دینی اعتبار سے صالح ہوں کیونکہ لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دینی اعتبار سے صالح ہیں ‘ وہی لوگ ہیں جو بدکار اور زانی نہیں ہوتے ‘ ان کا آقا اس بات پر مامور ہے کہ وہ ان کا نکاح کرے ‘ یہ ان کی صالحیت کی جزا اور اس کی ترغیب ہے ‘ نیز زنا کار کا نکاح کرنے سے روکا گیا ہے۔ تب یہ اس حکم کی تائید ہے جس کا ذکر سورت کی ابتداء میں کیا گیا ہے کہ زانی اور زانیہ جب تک توبہ نہ کریں ‘ ان کا نکاح حرام ہے۔۔۔ اور آزاد مردوزن کی بجائے غلاموں کے نکاح کے لیے صالحیت کی تخصیص اس لیے ہے کہ عادۃ غلاموں میں فسق و فجور زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہوں جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نکاح کے محتاج ہوں۔ اس معنی کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ جب تک مملوک نکاح کا حاجت مند نہ ہو اس کا مالک اس کا نکاح کرنے پر مامور نہیں۔۔۔۔ اور یہ بھی کوئی بعید بات نہیں کہ اس سے دونوں ہی معنی مراد ہوں۔ واللہ اعلم (ان یکونوا فقراء) ” اور اگر ہوں گے وہ تنگ دست۔ “ یعنی خاوند اور نکاح کرنے والے (یغنھم اللہ من فضلہ ) ” تو غنی کر دے گا اللہ ان کو اپنے فضل سے۔ “ پس تمہیں یہ وہم نکاح کرنے سے نہ روک دے کہ جب تم نکاح کرلو گے تو عائل بوجھ کی وجہ سے محتاج ہوجاؤ گے۔ اس آیت کریمہ میں نکاح کی ترغیب ہے نیز نکاح کرنے والے سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے فقر کے بعد فراخی اور خوش حالی حاصل ہوگی۔ (واللہ واسع) یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بھلائی اور فضل عظیم کا مالک ہے۔ (علیم) وہ ان سب کو جانتا ہے جو اس کے دینی اور دنیاوی فضل یا کسی ایک کے مستحق ہیں اور وہ انہیں بھی جانتا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہیں۔ وہ ان سب کو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق عطا کرتا ہے۔ (ولیستعفف الذین لا یجدون نکا حا حتی یغنیھم اللہ من فضلہ) ” اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو نکاح کی طاقت نہیں رکھتے ‘ یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ ‘ ض یہ اس شخص کے لیے حکم ہے جو نکاح کرنے سے عاجز ہے۔ اللہ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ پاک بازی کو اپنا شیوہ بنائے ‘ حرام کاری میں پڑنے سے بچے اور ایسے اسباب اختیار کرے جو اسے حرام کاری سے بچائیں یعنی قلب کو ایسے خیالات سے بچائے رکھے جو حرام کاری میں پڑنے کی دعوت دیتے ہوں ‘ نیز وہ حرام کاری سے محفوظ رہنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :“ اے نوجوانو ! تم میں سے جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کرے اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے۔ “ (الذین لا یجدون نکاحا) یعنی اپنی محتاجی یا اپنے مالکوں کی محتاجی یا مالکوں کے نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اگر وہ نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور وہ اپنے نکاح کے لیے اپنے مالکوں کو مجبور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ معنی مقدر اس معنی سے بہتر ہے جو بعض لوگوں نے مراد لیا ہے کہ “ جو لوگ نکاح کا مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ “ انہوں نے مضاف الیہ کو مضاف کا قائم مقام بنایا۔ مگر یہ معنی مراد لینے میں دو رکاوٹیں ہیں۔ (1) کلام میں حذف ماننا پڑے گا ‘ جبکہ اصل عدم حذف ہے۔ (2) معنی کا اس شخص میں منحصر ہونا جس کی دو حالتیں ہوں ‘ اپنے مال کی وجہ سے غنا کی حالت اور ناداری کی حالت۔ اس صورت میں غلام اور لونڈیاں اس سے نکل جاتی ہیں اور اسی طرح وہ بھی جن کا نکاح کرانا سرپرست کے ذمے ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ (حتی یغنیھم اللہ من فضلہ) اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک دامن شخص کے لیے غنا کا وعدہ کیا ہے ‘ نیز یہ کہ وہ اس کے معاملے کو آسان کر دے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ کشادگی کا انتظار کرے تاکہ موجود حالات اس پر گراں نہ گزریں۔ (والذین یبتغون الکتب مما ملکت ایمنکم فکتبو ھم) یعنی تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو کوئی تم سے مکاتبت کا طلب گار ہو اور اپنے آپ کو خریدنا چاہے تو اس کی بات مانتے ہوئے اس سے مکاتبت کرلو (ان علمتم فیھم) ” اگر جانو تم ان میں۔ ‘ ض یعنی مکاتبت کے طلب گار غلاموں میں (خیرا) ” بھلائی “ یعنی کمانے کی طاقت اور دین میں بھلائی کیونکہ مکاتبت میں دو مصلحتوں کا حصول مقصود ہے۔ آزادی کی مصلحت اور اس معاوضے کی مصلحت ‘ جو وہ اپنے نفس کی آزادی کے لیے خوچ کرتا ہے۔ بسا اوقات وہ جدوجہد کر کے مکاتبت کی مدت کے اندر اپنے آقا کو اتنا مال مہیا کردیتا ہے جو وہ غلامی میں رہتے ہوئے نہیں کرسکتا۔ اس لیے غلام کے لیے ایک بڑی منفعت کے حصول کے ساتھ ساتھ ‘ اس مکاتبت میں آقا کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس پہلو سے مکاتبت کا حکم دیا ہے ‘ جو وجوب کا حکم ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ یا دوسرے قول کے مطابق یہ حکم استحباب کے طور پر۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مکاتبت پر ان کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ اس کے محتاج ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں ‘ چناچہ فرمایا : (واتوھم من مال اللہ الذی اتکم) ” اور تم ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ “ اس میں مکاتب کے آقا کا معاملہ بھی شامل ہے جس نے اس کے ساتھ مکاتبت کی ہے کہ وہ اس کی مکاتبت میں اس کو کچھ عطا کرے یا مکاتبت کی مقررہ رقم میں سے کچھ حصہ ساقط کر دے اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی مکاتب کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مکاتبین کے لیے زکوٰۃ میں حصہ رکھ دیا ہے اور زکوٰۃ میں سے مکاتبین کو عطا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا : (من مال اللہ الذی اتکم) یعنی جس طرح ‘ یہ مال درحقیقت اللہ کا مال ہے ‘ اس مال کا تمہارے ہاتھوں میں ہونا تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا محض عطیہ ہے ‘ اسی طح تم بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ احسان کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر غلام مکاتبت کا مطالبہ نہ کرے تو اس کے آقا کو حکم نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اس کے ساتھ مکاتبت کی ابتدا کرے ‘ جبکہ اس میں اسے کوئی بھلائی نظر نہ آئے ‘ یا اسے معاملہ برعکس نظر آئے ‘ یعنی وہ جانتا ہو کہ وہ کما نہیں سکتا اور اس طرح وہ لوگوں پر بوجھ بن کر ضائع ہوجائے گا۔ یا اسے یہ خوف ہو کہ جب بھی اس کو آزاد کردیا گیا اور اسے آزادی حاصل ہوگئی تو اسے فساد برپا کرنے کی قدرت حاصل ہوجائے گی تو ایسے غلام کے بارے میں اس کے آقا کو مکاتبت کا حکم نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کے برعکس اس کو مکاتبت سے روکا جائے گا ‘ کیونکہ اس میں متذکرہ بالا خطرہ موجود ہے جس سے بچنا چاہیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولا تکر ھوا فتیتکم) ” اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو “ (علی البغاء ) ” زنا کار بننے پر “ (ان اردن تحصنا) ” اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں۔ “ اس لیے کہ اس حالت کے سوا کسی حالت میں اسے مجبور کرنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ پاک دامن رہنا نہ چاہے تو اس صورت میں وہ بدکار ہے اور اس کے آقا پر واجب ہے کہ وہ اس کو اس بدکاری سے روک دے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے سے اس لیے روکا ہے کہ جاہلیت میں لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آقا اجرت کی خاطر اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ‘ اس لیے فرمایا : (لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا ) ” تاکہ تم تلاش کرو دنیا کی زندگی کا سامان۔ “ پس تمہارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تمہاری لونڈیاں تم سے بہتر تور پاک باز ہوں اور تم صرف دنیا کے مال و متاع کی خاطر ان کے ساتھ یہ سلوک کرو۔ دنیا کا مال بہت قلیل ہے وہ سامنے آتا ہے ‘ پھر ختم ہوجاتا ہے۔ تمہاری کمائی تمہاری پاکیزگی لطافت اور مروت ہے۔۔۔ آخرت کے ثواب و عقاب سے قطع نظر۔۔۔۔ یہ اس تھوڑے سے سامان دنیا کمانے سے کہیں بہتر ہے جو تمہارے رذالت اور خساست کے کمانے سے حاصل ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو توبہ کی طرف بلایا جن سے اپنی لونڈیوں پر جبر کرنے کا یہ گناہ سر زد ہوا ‘ چناچہ فرمایا : (ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکرھھن غفور رحیم) ” اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور کرنے کے بعد غفور رحیم ہے۔ “ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے اور ان تمام گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ جب وہ ان تمام گناہوں سے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس پر اسی طرح رحم فرمائے گا جس طرح تائب نے اپنے نفس کو عذاب سے بچا کر اپنے آپ پر رحم کیا اور جس طرح اس نے اپنی لونڈی کو ایسے فعل پر ‘ جو اس کے لیے ضرررساں تھا ‘ مجبور نہ کر کے اس پر رحم کیا۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(آیت نمبر (35 (اللہ نور السموت والارض) ” اللہ تعالیٰ (حسی اور معنوی طور پر) آسمانوں اور زمین کا نور ہے “ اللہ تعالیٰ بذات خود نور ہے اس کا حجاب نور ہے۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرہ مبارک کے انوار جلال حد نگاہ تک تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کردیں۔ اس کے نور سے عرش ‘ کرسی ‘ سورج ‘ چاند اور جنت منور ہیں۔۔۔ اسی طرح معنوی نور کا منبع بھی اللہ تعالیٰ ہے اس کی کتاب نور ہے ‘ اس کی شریعت نور ہے ‘ ایمان نور ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے مومن بندوں کے دلوں میں موجود معرفت الہی نور ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا نور نہ ہو تو گمراہیوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھا جائیں ‘ لہذا ہر وہ مقام جہاں اللہ تعالیٰ راہ نمائی فرماتا ہے اور وہ اہل ایمان کے دلوں میں ایمان اور قرآن کا نور ہے۔ (کمشکوۃ) ” ایک طاق کی مانند ہے “ (فیھا مصباح ) ” جس میں چراغ ہو شیشے کے فانوس میں رکھا ہوا ہو اور وہ فانوس “ اپنی صفائی اور خوبصورتی کی وجہ سے یوں لگے ( کانھا کو کب دری ) ” جیسے وہ چمکتا ہوا ستارہ ہو “ یعنی وہ موتی کی مانند چمکتا ہو۔ (یوقد) ” جلایا جائے “ یعنی وہ چراغ جو اس چمک دار فانون کے اندر ہے (من شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ) یعنی وہ زیتون کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے جس کا شعلہ سب سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔ (لاشرقیۃ) یعنی وہ فقط مشرقی جانب نہیں کہ دن کے آخری حصے میں اس کو سورج کی روشنی نہ پہنچتی ہو ( ولا غربیۃ) اور وہ فقط مغربی جانب بھی نہیں کہ دن کے پہلے حصے میں اس کو سورج کی روشنی حاصل نہ ہوتی ہو۔ جب یہ دونوں امور نہیں تو وہ زمین کے درمیان میں اگا ہوا ہے۔ جیسے ملک شام کا زیتون ‘ جسے صبح و شام سورج کی روشنی حاصل ہوتی ہے اس وجہ سے وہ نہایت عمدہ ہوتا ہے اور اس کا تیل انتہائی صاف ہوتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (یکاد زیتھا) ” قریب ہے کہ اس کا تیل۔ “ یعنی انتہائی صاف ہونے کی وجہ سے ( یضیء و لو لم تمسسہ نار ) ” آپ ہی روشنی دینے لگے ‘ اگرچہ اسے اگ بھی نہ چھوئے۔ “ اور جب اسے آپ چھوئے تو بہت زیادہ روشنی ہو (نور علی نور ) ” روشنی پر روشنی۔ “ یعنی آگ کی روشنی اور زیتون کے تیل کی روشنی یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور اسے مومن کے احوال کے ساتھ تطبیق دی ہے نیز یہ کہ اس کا قلب اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی فطرت جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے وہ زیتون کے پاس صاف تیل کی مانند ہے۔ پس اس کی فطرت صاف اور تعلیمات الہیہ اور اعمال مشروعہ کے لیے مستعد ہے جب۔ جب اس کے پاس علم و ایمان پہنچتا ہے تو یہ نور اس کے قلب میں روشن ہوجاتا ہے جیسے آگ چراغ کی بتی کو روشن کردیتی ہے۔ اس کا قلب برے ارادوں اور فہم کی خرابی سے پاک ہوتا ہے۔ جب قلب میں ایمان جاگزیں ہوتا ہے تو تمام کدورتوں سے پاک ہونے کی وجہ سے اس نور سے جگمگا اٹھتا ہے اور قلب کی یہ صفائی ‘ موتی کی طرح چمکتے ہوئے فانون کی مانند ہے۔ پس قلب میں نور فطرت ‘ نور ایمان ‘ نور علم اور معرفت کی صفائی ‘ موتی کی طرح چمکتے ہوئے فانون کی مانند ہے۔ پس قلب میں نور فطرت ‘ نور ایمان ‘ نور علم اور معرفت کی صفائی تمام اسباب مجتمع ہوجاتے ہے۔ اور یوں قلب میں روشنی پر روشنی بڑھتی چلی جاتی ہے اور چونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور ہر کسی میں اس نور کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ‘ اس لیے فرمایا : (یھدی اللہ لنورہ من یشاء ) ” رہنمائی کرتا ہے اللہ اپنے نور کے لیے جس کی چاہتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اپنے نور کے لیے صرف اسی کی راہ نمائی کرتا ہے جس کے متعلق اسے علم ہے کہ وہ پاک اور طیب و طاہر ہے اور یہ نور اس کی معیت میں مزید بڑھے گا۔ (ویضرب اللہ المامثال للناس ) ” اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے “ تاکہ وہ اس سے عقل و فہم حاصل کریں یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے ‘ نیز یہ مثالیں اس لیے بھی بیان کی گئی ہیں تاکہ باطل سے حق واضح ہوجائے کیونکہ ضرب الامثال معانی معقولہ کو محسواسات کے قریب کردیتی ہیں اور بندوں کو واضح طور پر ان کا علم حاصل ہوجاتا ہے۔ (واللہ بکل شیء علیم) پس اس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس لیے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ضرب الامثال اس ہستی کی بیان کی ہوئی ہیں جو تمام اشیاء کے حقائق اور ان کی تفاصیل کو جانتی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ان میں بندوں کے لیے مصلحت ہے پس تمہیں ان پر اعتراض اور ان کی مخالفت نہیں کرتی چاہیے۔ بلکہ تمہیں ان میں تدبر اور غورو فکر کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے تو نہیں جانتے۔
Ayahs 24:36–39

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

(آیت نمبر (36 یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے (فی بیوت) ” گھروں میں “ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں۔ (اذن اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے (ان ترفع ویذ کر فیھا اسمہ) ” کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔ “ ان دو امو میں مساجد کے احکام جمع کردیے گئے ہیں۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر ‘ ان میں جھاڑ و دینا ‘ ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا ‘ ان کو بچوں اور فاتراعقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے ‘ کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغو یات اور ذکر الہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا ‘ شامل ہیں۔ (ویذ کر فیھا اسمہ) ذکر میں فرض و نفل ہر قسم کی نماز ‘ قراءت قرآن ‘ تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار ‘ علم کی تعلیم و تعلم ‘ علمی مذاکرہ ‘ اعتکاف اور دیگر عبادات جن کو مساجد میں سر انجام دیا جاتا ہے ‘ سب شامل ہیں۔ اسی لیے مساجد کی آبادی دو اقسام پر مشتمل ہے۔ (1) مساجد کی تعمیر اور ان کی حفاظت کے ساتھ ان کو آباد رکھنا (2) نماز اور ذکر الہی وغیرہ سے مساجد کو آباد رکھنا۔۔۔ دونوں اقسام میں یہ قسم افضل ہے اسی لیے نماز پنجگانہ اور جمعہ کو مساجد میں مشروع کیا گیا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم و جوب کے طور پر ہے اور بعض دیگر علماء کے نزدیگ مستحب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو عبادت کے ذریعے سے مساجد کو آباد کرتے ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (یسبح لہ فیہ) ’ وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں۔ ‘ ض اخلاص کے ساتھ (بالغدو) ” دن کے ابتدائی حصے میں “ ( والاصال ) ” اور دن کے آخری حصے میں “ اللہ تعالیٰ نے ان دو اوقات کو ان کے شرف و فضیلت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ‘ نیز ان دو افقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سفر آسان اور سہل ہوتا ہے۔ اس تسبیح میں نماز وغیرہ داخل ہیں ‘ اس لیے تمام اذکار اوراد صبح اور شام کے اوقات میں مشروع کئے گئے ہیں۔ (رجال) یعنی ان مساجد میں ‘ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر دنیا ‘ اس کی لذتوں ‘ تجارت ‘ کاروبار اور اللہ سے غافل کردینے والے کسی مشغلے کو ترجیح نہیں دیتے۔ (لا تلھیھم تجارۃ ) ” ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی کوئی تجارت۔ “ اور یہ ہر اس کسب کو شامل ہے جس میں معاوضہ لینا مقصود ہو تب اس صورت میں ( ولا بیع) کا جملہ ‘ عام پر عطف خاص کے باب میں سے ہے کیونکہ دیگر کاموں کی نسبت خرید فروخت میں زیادہ مشغولیت پائی جاتی ہے۔ پس یہ لوگ ‘ اگرچہ تجارت کرتے ہیں ‘ خریدو فروخت کرتے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ اس میں کوئی ممانعت نہیں۔۔۔۔ مگر یہ تمام کام انہیں غافل نہیں کرتے کہ وہ ان امور کو ( عن ذکر اللہ وا قام الصلوۃ و ایتائ الزکوۃ) ” اللہ تعالیٰ کے ذکر نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے “ پر ترجیح دیتے ہوئے ان کو مقدم رکھیں بلکہ اس کے برعکس ان کی غایت مراد اور نہایت مقصود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کریں۔ اس اطاعت و عبادت اور ان کے درمیان جو چیز بھی حائل ہو ‘ وہ اسے دور پھینک دیتے ہیں۔ چونکہ اکثر نفوس کے لیے دنیا کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ‘ مختلف انواع کی تجارت اور مکاسب سے انہیں شدید محبت ہوتی ہے ‘ غالب حالات میں ان امور کو ترک کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور ان امور پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو مقدم رکھنے سے انہیں بہت تکلیف پہنچتی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اس کی طرف دعوت دی ہے ‘ چناچہ فرمایا ٰ (یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار) اس روز شدت ہول اور قلب و بدن کے دہشت زدہ ہونے کے باعث دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘ اس لیے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں ‘ بنا بریں ان کے لیے عمل کرنا اور عمل سے غافل کرنے والے امور کو ترک کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ (لیجزیھم اللہ احسن ما عملو ) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے۔ “ ( احسن ما عملو) سے مراد ان کے اعمال حسنہ اور اعمال صالحہ ہیں کیونکہ یہ ان کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ وہ مباح اور دیگر اعمال بجا لانے ہیں۔ ثواب صرف اسی عمل پر عطا ہوتا ہے جو عمل حسن کے زمرے میں آتا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی عملوا ویجزیھم اجرھم با احسن الذی کانوا یعملون) (الزمر (35/39:” تاکہ جو بدترین عمل انہوں نے کئے ہیں اللہ ان کو ان کے حساب سے مٹا دے اور جو انہیوں نے بہترین عمل کیے ہیں ‘ ان کے مطابق ان کو اجر عطا فرمائے۔ “ (ویزید ھم من فضلہ) یعنی وہ ان کے اعمال کے مقابلے میں بہت زیادہ جزا عطا کرے گا۔ (واللہ یرزق من یشاء بغیر حساب ) ” اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے روزی عطا فرماتا ہے۔ “ بلکہ اللہ اسے اتنا اجر عطا کرے گا کہ اس کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے اور اس کی آرزو کی بھی وہاں تک رسائی نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی شمار اور بغیر کسی ناپ تول کے اجر عطا کرے گا۔۔۔۔ اور یہ بہت زیادہ کثرت کے لیے کنایہ ہے۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی )

(آیت نمبر (40 یہ دو مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے بطلان ‘ ان کے اکارت جانے اور ان اعمال کو سر انجام دینے والوں کی حسرت کو ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمائی ہیں ‘ چناچہ فرمایا : ( والذین کفرو ) ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا “ اپنے رب کے ساتھ اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا (اعمالھم کسراب بقیعۃ ) ” ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں۔ “ یعنی ان کے اعمال کی مثال ایسا دشت بےآب ہے جہاں کوئی درخت ہو نہ نباتات (یحسبہ الظمان ماء ) ” پیاسا آدمی اسے پانی سمجھتا ہے۔ “ یعنی سخت پیاسا شخص اس سراب کو پانی سمجھتا ہے کیونکہ پیاس کے مارے شخص کو پیاس کی وجہ سے وہ تو ہم لاحق ہوتا ہے جو کسی اور کو لاحق نہیں ہوتا۔ اور یہ گمان باطل ہے لیکن پیاسا شخص اپنی پیاس بجھانے کا ارادہ کرتا ہے (حتی اذا جاء لم یجدہ شیئا) ” حتی کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو کچھ نہیں پاتا۔ “ پس اسے سخت ندامت ہوتی ہے اور امید کے منقطع ہوجانے کی وجہ سے اس کی پیاس اور بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح کفار کے اعمال سراب کی مانند ہیں۔ جاہل شخص جو معاملات کو نہیں جانتا اسے وہ اعمال اچھے دکھائی دیتے ہیں ‘ ان کی ظاہری شکل و صورت اس کو دھوکہ کے میں ڈال دیتی ہے۔ اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے انہیں بھی اچھے اعمال سمجتا ہے اور وہ اعمال کا اسی طرح محتاج ہوتا ہے جس طرح ایک پیاسا شخص پانی کا محتاج ہوتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے روز جب اپنے اعمال کا سامنا کرے گا تو ان کو ضائع شدہ اور بےفائدہ پائے گا اور حال یہ ہوگا کہ یہ اعمال اس کے حق میں ہوں گے نہ اس کے خلاف ہوں گے۔ (ووجد اللہ عندہ فوفہ حسابہ ) ” بلکہ وہ وہاں اللہ کو موجد پاتا ہے جو اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ “ اس پر اس کا معمولی سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکے گا اور وہاں تھوڑا یا زیادہ عمل مفقود نہ ہوگا۔ ( واللہ سریع الحساب) ” اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے “ پس یہ جاہل لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدے کو دور نہ سمجھیں۔ یہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کے اعمال کو سراب کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو ایسے دشث بےآب وگیاہ میں نظر آتا ہے جہاں کوئی درخت ہوتا ہے نہ نباتات۔ کفار کے دلوں کی یہی مثال ہے جن میں کوئی بھالئی اور کوئی نیکی نہیں ہوتی۔ پس وہ وہاں اعمال خیر چھوڑ دیتے ہیں ‘ ایک مانع کی وجہ سے اور وہ کفر ہے۔ کفار کے اعمال کے بطلان کو واضح کرنے کے لیے یہ دوسری مثال ہے۔ (اوکظلمت فی بحریلجی ) ” یا (ان کے عملوں کی مثال) ان اندھیروں کی سی ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہ میں ہوں۔ “ اتھاہ اور بےکراں سمندر (یغشہ موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب ظلمت بعضھا فوق بعض ) ” جس پر لہر چلی آتی ہو اور اس کے اوپر دوسری لہر اور اس کے اوپر بادل ہو ‘ غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ‘ ایک پر ایک۔ “ بحربے پایاں کی تاریکی ‘ پھر اس پر ایک دوسری کے اوپر سوار موجوں کی تاریکی ‘ پھر بادلوں کا گھٹا ٹوپ اندھیرا اور پھر سیاہ رات کا اندھیرا۔۔۔ اور جہاں یہ حال ہو تو تاریکی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ (اذا اخرج یدہ لم یکد یرھا) ” جب آدمی اپنے ہاتھ کو نکالتا ہے تو اسے ( اپنے قریب ہونے کے باوجود بھی) نہیں دیکھ پاتا “ پھر دوسری چیزوں کو کیسے دیکھ سکتا ہے۔ کفار کا بھی یہی حال ہے ‘ ان کے دلوں کو تہ درتہ تاریکیوں نے ڈھانپ رکھا ہے طبیعت کی تاریکی ‘ جس میں کوئی بھالائی نہیں ہوتی اس کے اوپر کفر کی تاریکی ‘ اس کے اوپر جہالت کی تاریکی اور اس کے اوپر ان مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے صادر ہونے والے اعمال کی تاریکی۔۔۔۔ پس کفار ان اندھیروں میں متحیر ‘ اپنی جہالت میں سرگرداں ‘ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ‘ ضلالت اور گمراہی کے راستوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی توفیق سے محروم کر کے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اور انہیں اپنا نور عطا نہیں کیا۔ (ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نو ر) ” اور جس کے حصے میں اللہ نور نہ کرے ‘ تو اس کے لیے کوئی نور نہیں۔ “ ‘ کیونکہ اس کا نفس ظالم اور جاہل ہے ‘ اس میں کوئی بھلائی اور کوئی روشنی نہیں سوائے اس بھلائی اور روشنی کے جو اس کا رب اسے عطا کر دے۔۔۔ ان دونوں تمثیلوں میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے تمام کفار کے اعمال مراد ہوں۔ دونوں تمثیلیں کفار کے اعمال پر منطبق ہوتی ہیں اور اعمال کے تعدد اوصاف کی بنا پر ان کو متعدد بیان کیا ہے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دونوں مثالیں الگ الگ گروہوں کے لیے بیان کی گئی ہوں۔ پہلی تمثیل قائدین کے لیے اور دوسری مثال پیرو کاروں کے لیے ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

(آیت نمبر (41 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے ‘ تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( الم تران اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض) ” کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ یعنی تمام حیوانات و جمادات ( والطیر ضفت) اور وہ پرندے ( جو آسمان میں) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ( کل) ” ہر ایک نے ‘ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ( قد علم صلاتہ و تسبیحہ ) ” جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔ “ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی ‘ اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ (واللہ علیم بما یفعلون) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انہیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انہیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو ‘ جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں ‘ جو جزا اور سزا کو متضمن ہیں ‘ اپنے علم کو جمع کردیا۔ آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( قد علمم صلاتہ و تسبیحہ) میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے۔۔۔ اے بندوں ! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں مطلع کیا ہے۔۔۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ( تسبح لہ السموت السبع والارض و من فیھن و ان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن الا تفقھون تسبیحھم انہ کان حلیما غفورا) ( بنی اسرائیل (44/17: ساتوں آسمان ‘ زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو ‘ مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ‘ بیشک وہ بڑا ہی برد بار اور بخشنے والا ہے۔ ‘ ض اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادت اور توحید کے پہلو سے ان کی عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی احتیاج بیان فرمائی ‘ بعد ازاں بیان فرمایا کہ وہ اقتدار ‘ تربیت اور تدبیر کے پہلو سے بھی اس کے محتاج ہیں ‘ چناچہ فرمایا : ( و للہ ملک السموت والارض ) ’ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا خالق ‘ رازق اور اس دنیا میں اپنے حکم شرعی و قدری کے ذریعے سے ان میں تصرف کرنے والا ہے اور آخرت میں حکم جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرے گا اور اس کی دلیل یہ ارشاد الہی ہے : ( والی اللہ المصیر) یعنی آخر کار تمام مخلوق کا مرجع و منتہی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔
Ayahs 24:43–44

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

(آیت نمبر (43 کیا تو نے اپنی آنکھوں کے ساتھ ‘ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ کیسے (یزجی سحابا) ” بادل کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ہانکتا ہے “ (ثم یولف) پھر وہ ان بدلیوں کو اکٹھا کرتا ہے اور ان کو پہاڑوں کی مانند گہرا ابر بنا دیتا ہے۔ (فتری الودق) تو ان بادلوں میں سے متفرق قطروں کی صورت میں بارش کو نکلتے ہوئے دیکھتا ہے تاکہ کسی ضرر کے بغیر اس بارش سے فائدہ حاصل ہو۔ پس اس بارش سے بڑے بڑے تالاب بھر جاتے ہیں ‘ دریا ٹھاٹھیں مارنے لگتے ہیں ‘ وادیاں بہہ نکلتی ہیں اور روئے زمین پر قسم قسم کی نباتات اگ آتی ہیں اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بادل میں سے ژالہ باری بھی کرتا ہے یہ ژالہ باری جہاں ہوتی ہے ہر چیز کو تلف کر کے رکھ دیتی ہے۔ (فیصیب بہ من یشاء و یصرفہ عن من یشاء) (پس وہ اپنے حکم کونی و قدری کے تقاضے اور اپنی قابل ستائش حکمت کے مطابق جس پر چاہتا ہے ژالہ باری کردیتا اور جسے چاہتا ہے اس ژالہ باری سے بچا لیتا ہے ( یکاد سنا برقہ) یعنی اس بادل میں کوندنے والی بجلی اپنی تیز روشنی کی وجہ سے ‘ قریب ہے کہ (یذھب بالابصار) ” آنکھوں کو لے جائے۔ “ وہ ہستی ‘ جس نے ان بادلوں کو اٹھایا اور ان کو اپنے ان بندوں تک پہنچایا جو اس کے محتاج ہیں اور ان کو اس طرح برسایا کہ اس بارش سے فائدہ حاصل ہو اور نقصان نہ ہو۔۔۔ کیا وہ کامل قدرت ‘ اٹل مثیت اور بےپایاں رحمت کی مالک نہیں ؟ (یقلب اللہ الیل والنھار ) ” بدلتا ہے اللہ رات اور دن کو۔ “ یعنی گرمی میں سے نکال کر سردی کی طرف لاتا ہے اور سردی سے نکال کر گرمی کی طرف لاتا ہے۔ رات میں سے دن کو اور دن میں سے رات کو نکال لاتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان دنوں کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔ (ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار) یعنی اس میں اصحاب بصیرت اور امور مطلوبہ کی گہرائی تک پہنچنے والی عقل رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے ‘ جیسے نظر قابل مشاہدہ حسی امور تک پہنچتی ہے۔ صاحب بصیرت ان مخلوقات کو عبرت اور تفکر کی نظر سے دیھتا ہے اور اس بات میں تدبر کرتا ہے کہ ان مخلوقات کی تخلیق کا کیا مقصد ہے اور روگردانی کرنے والا جاہل شخص اس کائنات پر غفلت کی نظر ڈالتا ہے ‘ جیسے جانور اشیاء کو دیکھتے ہیں۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

آیت نمبر (45 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین کے تمام جانداروں کو۔۔۔ جیسا کہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں ( من ماء) ” پانی سے “ تخلیق فرمایا ‘ یعنی تمام جان داروں کا مادہ تخلیق پانی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) (الانبیاء (30/21:” اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی ہے۔ “ پس وہ حیوانات جن کا سلسلہء تناسل جاری ہے ‘ ان کا مادہ تخلیق نطفہ کا پانی ہے جب نر مادہ کو حاملہ کرتا ہے تو اسی آب نطفہ سے تخلیق ہوتی ہے اور وہ حیوانات جو زمین سے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف پانی کی رطوبتوں سے پیدا ہوتے ہیں ‘ مثلاً حشرات الارض۔ ان میں نطفہ وغیرہ موجود نہیں ہوتا ‘ وہ ہمیشہ آب نطفہ کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔ پس مادہ تخلیق ایک ہے ‘ مگر اس سے پیدا ہونے والی مخلوق بہت سے پہلوؤں سے ( ایک دوسرے سے) مختلف ہوتی ہے۔ ( فمنھم من یمشی علی بطنہ ) ” پس ان میں سے کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے “ جیسے سانپ وغیرہ (ومنھم من یمشی علی رجلین ) ” اور کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے “ جیسے آدمی اور بہت سے پرندے ( ومنھم من یمشی علی اربع ) ” اور بعض ان میں سے چار ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ “ جیسے چوپائے اور مویشی وغیرہ۔ اصل ایک کے باوجود ان میں تنوع دلالت کرتا ہے کہ اس کی قدرت سب کو شامل اور اس کی مثیت سب میں نافذ ہے۔ بنابریں فرمایا : ( یخلق اللہ ما یشاء ) ” اللہ جو چاہتا ہے ( اور جیسی چاہتا ہے اپنی مخلوق) پیدا کرتا ہے “ (ان اللہ علی کل شیء قدیر ) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ مثلاً اللہ تعالیٰ زمین پر پانی نازل کرتا ہے ‘ یعنی پانی ایک ہی ہے ماں ‘ یعنی زمین ایک ہے مگر اس زمین سے جنم لینے والی اولاد مختلف اوصاف کی حامل اور متنوع ہے۔ فرمایا : (وٰ فی الارض قطع متجورت و جنت من اعناب و زرع و نخیل صنوان وغیرہ صنوان یسقی بماء واحد نفصل بعضھا علی بعض فی الاکل ان فی ذالک لایت لقوم یعقلون) ( الرعد (4/13” اور زمین میں الگ الگ خطے ہیں جو ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں ‘ انگور کے باغات ہیں ‘ کھیتیاں ہیں ‘ نخلستان ہیں ان میں سے کچھ ایک ہی جڑ سے دو درخت نکلے ہوئے ہیں : کچھ اکہرے ہیں ‘ جن کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر مزے میں ہم ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دے دیتے ہیں۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ “
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

(آیت نمبر (46 ہم نے اپنے بندوں پر رحم کر کے آیات بینات نازل کی ہیں ‘ جو تمام مقاصد شرعیہ ‘ آداب محمودہ اور معارف رشیدہ پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اس طرح راستے واضح ہوگئے ‘ گمرارہی میں سے راہ راست اور ضلالت میں سے ہدایت نمایاں ہوگئی۔ اس بارے میں کسی باطل پسند کے لیے شبہ کی ادنیٰ سی گنجائش باقی رہی نہ کسی متلاشی حق کے لیے کوئی اشکال باقی رہا۔۔۔ کیونکہ یہ آیات بینات اسی ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہیں جس کا علم کامل ‘ جس کی رحمت کامل اور جس کا بیان کامل ہے۔ اس کے بیان سے بڑھ کر کوئی بیان نہیں (لیھلک من ھلک عن بینۃ و یحی من حی عن بینۃ) (الانفال (42/8:” تاکہ ( اس کے بعد) جو کوئی ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ “ (واللہ یھدی من یشاء ) ” اور اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ “ ان لوگوں میں سے جن کے لیے بھلائی اور سچی عزت سبقت کرگئی ( الی صراط مستقیم) واضح اور مختصر راستے کی ‘ جو اس تک اور اس کے اکرام و تکریم والے گھر تک جاتا ہے ‘ جو علم حق ‘ اس کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو متضمن ہے۔ اس کا بیان کامل تمام مخلوق کے لیے اور سب کو شامل ہے مگر ہدایت صرف اسی کے لیے مخصوص ہے جسے وہ چاہتا ہے یہ اس کا فضل و احسان ہے اور رب کریم کا فضل و کرم کبھی منقطع نہیں ہوتا اور یہ اس کا عدل ہے۔ اس نے کسی کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہنے دی اور احسان کے مواقع کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 24:47–50

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

(آیت نمبر (47 اللہ تبارک و تعالیٰ ان ظالموں کی حالت بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں بیماری ضعف ایمان ‘ نفاق شک و ریب اور ضعف علم ہے جو اپنی زبان سے ایمان باللہ اور اطاعت کے التزام کا دعوی ٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بہت زیادہ روگردانی کرتا ہے۔ فرمایا : ( و ھم معرضون) ( الانفال (23/8:” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔ “ کیونکہ روگردانی کرنے والے کی کبھی کبھی اس امر کی طرف رجوع کی نیت ہوتی ہے جس سے اس نے روگردانی کی تھی مگر یہ ظالم اس کی طرف التفات اور اس کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس حالت کو آپ ایسے بہت سے لوگوں کے احوال کے مطابق پائیں گے جو ایمان اور اطاعت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ ضعیف الایمان ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ بہت سی عبادات کو قائم نہیں کرتے خاص طور پر ایسی عبادات جو بہت سے نفوس پر گراں گزرتی ہیں۔ مثلاً نفقات واجبہ و مستحبہ اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔ (و اذا دعو الی اللہ وا رسولہ لیحکم بینھم) جب ان کے اور کسی دوسرے شخص کے درمیان مخاصمت ہوتی ہے اور انہیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے۔ (اذا فریق منھم معرضون) ” تو ایک گروہ ان میں سے اعراض کرتا ہے۔ “ وہ جاہلیت کے احکام چاہتے ہیں اور غیر شرعی قوانین کو شرعی قوانین پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ حق ان کے خلاف ہوگا اور شریعت وہی فیصلہ کرے گی جو واقع کے مطابق ہوگا۔ (وان یکن لھم الحق یا تو الیہ) اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہوتا ہے تو شریعت کے فیصلے کو قبول کرلیتے ہیں (مذعین) ” اس کو مانتے ہوئے۔ ‘ ض ان کا شریعت کے فیصلے کو قبول کرنا اس بنا پر نہیں کہ یہ شرعی فیصلہ ہے بلکہ وہ اس فیصلے کو اس بنا پر قبول کرتے ہیں کہ یہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے تب وہ اس صورت میں قابل ستائش نہیں ہیں خواہ وہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے ہی کیوں نہ آئیں کیونکہ بندہ درحقیقت وہ ہے جو اپنے محبوب اور ناپسندیدہ امور میں اور اپنی خوشی اور غمی میں حق کی اتباع کرتا ہو اور وہ شخص جو شریعت کی اتباع اس وقت کرتا ہے جب شریعت اس کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور اگر شریعت کا حکم اس کی خواہش کے خلاف ہو تو اسے دور پھینک دیتا ہے ‘ وہ خواہش نفس کو شریعت پر مقدم رکھتا ہے ایسا شخص اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ نہیں ہے۔ ان لوگوں کی احکام شریعت سے رو گردانی پر ملامت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (افی قلوبھم مرض ) ” کیا ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے ؟ “ جس نے ان کے دلوں کو صحت کے دائرہ سے نکال دیا ‘ اس کا احساس جاتا رہا اور وہ بیمار آدمی کی طرح ہوگئے جو ہمیشہ اس چیز سے اعراض کرتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو قبول کرتا ہے جو اس کے لیے ضرر رساں ہے۔ ( ام ارتابو) یا انہیں کوئی شک ہے یا ان کے دل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے بارے میں اضطراب کا شکار ہوگئے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر تہمت لگاتے ہیں کہ وہ حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا۔ (ام یخافون ان یحیف اللہ علیھم رسولہ) ” یا وہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں ظلم و جور پر مبنی فیصلہ کرے گا حالانکہ یہ تو انہی کا وصف ہے۔ (بل اولئک ھم الظلمون ) ” بلکہ ظالم تو وہ خود ہیں۔ “ رہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ‘ تو وہ انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اور حکمت کے موافق ہے۔ ( ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون) ( المائدہ (50/5: ” یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بڑھ کر کس کا فیصلہ اچھا ہوسکتا ہے ؟ “ ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان مجرو قول کا نام نہیں ‘ بلکہ ایمان صرف اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ عمل بھی مقرون ہو۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے ایمان کی نفی کی ہے جو اطاعت سے منہ موڑتا ہے اور ہرحال میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے وجوب کو نہیں مانتا اور اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے سر افگندہ نہیں ہوتا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں بیماری اور اس کے ایمان میں شک و ریب کا شائبہ ہے ‘ نیز احکام شریعت کے بارے میں بدگمانی کرنا اور ان کو عدل و حکمت کے خلاف سمجھنا حرام ہے۔
Ayahs 24:51–52

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

(آیت نمبر (51 اللہ تبارک و تعالیٰ نے احکام شریعت سے رو گردانی کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد ‘ اہل ایمان جو مدح کے مستحق ہیں ‘ کا حال بیا کیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( انما کان قول المومنین) یعنی حقیقی مومن جنہوں نے اپنے اعمال کے ذریعے اپنے ایمان کی تصدیق کی جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے خواہ یہ فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے یا مخالف (ان یقولوا سمعنا واطعنا) ” وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ “ یعنی ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو سنا اور جس نے ہمیں اس فیصلے کی طرف بلایا ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور ہم نے مکمل طور پر بغیر کسی تنگی کے ‘ اس کی اطاعت کی۔ ( واولاک ھم المفلحون ) ” اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر فلاح کو منحصر قرار دیا ہے کیونکہ فلاح سے مراد ہے مطلوب و مقصود کے حصول میں کامیابی اور امر مکروہ سے نجات۔۔۔ صرف وہی شخص فلاح پاسکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو حکم اور ثالث بناتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اطاعت ‘ خاص طور پر حکم شریعت کی اطاعت کی فضیلت بیان کی ‘ تو تمام احوال میں اطاعت کی فضیلت کا عمومی تذکرہ کیا اور فرمایا : ( ومن یطع اللہ و رسولہ) اور جو اطاعت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی۔ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی خبر کی تصدیق اور ان کے حکم کی تعمیل کرتا ہے (ویخش اللہ) اور اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرتا ہے کہ اس کا یہ خوف معرفت سے مقرو ن ہوتا ہے ‘ بنا بریں وہ منہیات کو ترک کردیتا ہے اور خواہشات نفس کی تعمیل سے باز آجاتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : ( ویتقہ) اور تقویٰ اختیار کرتے ہوئے محظورات کو چھوڑ دیتا ہے کیونکہ تقویٰ سے ‘ علی الاطلاق ‘ مراد ہے مامورات کی تعمیل کرنا اور منہیات کو چھوڑ دینا اور جب یہ نیکی اور اطاعت سے مقرون ہو۔۔۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔۔۔ تب اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو چھوڑ کر اس کے عذاب سے بچنا ہے۔ (فاو لئک) یہی لوگ ‘ جو اطاعت الہٰی ‘ اطاعت رسول ‘ تقوائے الہٰی اور خشیت الہٰی کے جامع ہیں ( ھم الفائزون ) ” کامیاب ہیں۔ “ اسباب عذاب کو ترک کر کے ‘ اس سے نجات حاصل کر کے ‘ ثواب کے اسباب اختیار کر کے اور اس کی منزل تک پہنچ کر وہ کامیاب ہوئے۔ پس کامیابی انہیں کے لیے مخصوص ہے۔ جو کوئی ان لوگوں کے اوصاف سے متصف نہیں تو وہ ان اوضاف حمیدہ میں کوتاہی کے مطابق اس فوز و فلاح سے محروم ہوگا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مشترک حق کے بیان پر مشتمل ہے۔ رسول کے حق سے مراد اطاعت رسول ہے جو ایمان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص حق سے مراد تقویٰ اور خشیت الہٰی ہے اور تیسرا حق جو صرف رسول ﷺ کے ساتھ مختص ہے ‘ وہ ہے آپ کی مدد توقیر کرنا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان حقوق ثلاثہ کو ” سورة الفتح “ میں یوں جمع فرمایا ہے : ( لتومنوا با للہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ و تسبحوہ بکرۃ و اصیلا) ( الفتح (91/48: ” تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ‘ اس کی مدد اور توقیر کرو اور صبح و شام اس ( اللہ تعالیٰ ) کی تسبیح بیان کرو۔ “
Ayahs 24:53–54

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) بیشک خدا تمہارے اعمال سے خبردار ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے

(آیت نمبر (53 اللہ تبارک تعالیٰ ان منافقین کا حال بیان کرتا ہے جو جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں نکلے اور پیچھے گھروں میں بیٹھ رہے ‘ نیز ان کا حال بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں مرض اور ضعف ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں۔ : (لئن امرتھم) ” البتہ اگر آپ انہیں حکم دیں “ تو وہ ضرور نکلیں گے۔ “ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل لا تقسموا) ” کہہ دیجیے ! نہ قسمیں کھاؤ۔ “ یعنی ہمیں تم سے قسمیں اٹھوانے کی اور تمہارے عذروں کو توضیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں ہمیں آگاہ فرما دیا ہے اور تمہاری اطاعت گزاری سب کے سامنے ہے ‘ ہم پر مخفی نہیں ‘ ہم تمہاری سستی اور کسی عذر کے بغیر تمہاری کسل مندی کو خوب جانتے ہیں ‘ اس لیے تمہارے عذر پیش کرنے اور قسمیں اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا محتاج تو صرف وہ ہوتا ہے جس کے معاملے میں متعدد احتمالات ہوں اور اس کا حال مشتبہ ہو ایسے شخص کے لیے کبھی کبھی عذر اس کی براءت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ مگر تمہیں عذر کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ تمہارے بارے میں تو اس بات کا ڈر اور انتظار ہے کہ کب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کا غضب نازل ہوتا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : ( ان اللہ خبیر بما تعملون) ” بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ” وہ تمہیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔۔۔ یہ ہے ان کی حقیقت احوال۔ رہے رسول اللہ ﷺ تو آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ آپ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اس لیے فرمایا : ( قل اطیعوا اللہ واطیعو الرسول ) ” کہہ دیجیے ! اطاعت کرو اللہ اور رسول کی۔ “ اگر وہ اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیں تو یہ ان کی سعادت ہے۔ ( فان تولوا فا نما علیہ ما حمل ) ” پس اگر تم نے رو گردانی کی ‘ تو اس ( پیغمبر) پر وہ ( ذمے داری) ہے جو اس پر ڈالی گئی۔ “ یعنی رسالت کی ذمے داری ‘ جو اس نے ادا کردی (وعلیکم ما حملتم ) ” اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالی گئی۔ “ یعنی اطاعت کی ذمہ داری اور اس بارے میں تمہارا حال ظاہر ہوگیا ہے ‘ تمہاری گمراہی اور تمہارا استحقاق عذاب واضح ہوگیا ہے۔ ( وان تطیعوہ تہتدوا) ” اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پالو گے۔ “ اپنے قول و فعل میں راہ راست کی۔ اس کی اطاعت کے سوا تم کسی طریقے سے بھی راہ راست نہیں پاسکتے ‘ یہ ناممکن ہی نہیں بلکہ سخت محال بھی ہے۔ (وما علی الرسول الا البلغ المبین) یعنی رسول ﷺ کے ذمے تمہیں واضح طور پر پیغام الہی پہنچا دینا ہے ‘ جس میں کسی کے لیے کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور پیغام الہٰی کو واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ ہی تمہارا حساب لے گا اور تمہیں اس کی جزا دے گا۔ رسول ﷺ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اس نے تو اپنی ذمہ داری پوری کردی۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں

(آیت نمبر (55 یہ اللہ تعالیٰ کے ان سچے وعدوں میں سے ہے جن کی تاویل و تعبیر کا مشاہدہ کروایا گیا ہے۔ امت محمدیہ میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا۔ وہ زمین میں خلفاء ہوں گے اور زمین کی تمام تدبیر ان کے دست تصرف میں ہوگی۔ وہ اس دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے ‘ یعنی دین اسلام کو جو تمام ادیان پر فائق ہے ‘ مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت کے لئے اس کے فضل و شرف اور اس پر اپنی نعمت کی بنا پر دین اسلام کو پسند فرمایا، یعنی وہ اس دین کو قائم کرنے، اس کے ظاہری و باطنی قوانین کو خود اپنی ذات پر اور دوسروں پر یعنی دیگر دیان کے پیرو کاروں اور تمام کفار پر نافذ کریں گے جو مفتوح اور مغلوب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ ان میں سے جب اور جہاں کہیں ایک مسلمان ہوتا تو وہ اپنے دین کے اظہر کی قدرت نہیں رکھتا تھا اگر اظہار کرتا تو کفار کی طرف سے بیشمار اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ مسلمان من حیث الجماعت دوسروں کی نسبت بہت کم تھے روئے زمین کے تمام لوگ مسلمانوں کو اذیت دینے میں متحد تھے اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔ اس آیت کریمہ کے نزول کے وقت اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان امور کا وعدہ فرمایا جن کا اس سے قبل مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا اور وہ ہیں خلافت ارضی، زمین میں اقتدار، امامت دین پر قدرت، کامل امن، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا انہیں کسی کا خوف نہ ہوگا۔ اس امت کے اولین لوگوں نے ایمان کو قائم کیا اور دوسروں سے بڑھ کر نیک کام کئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملکوں اور قوموں پر حکمرانی عطا کی، مشرق و مغرب کو ان کے زیرنگیں کردیا، ان کو کامل امن اور کامل قدرت عطا کی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی حیران کن اور تعجب انگیز نشانی ہے۔ قیامت کے برپا ہونے تک یہ معاملہ اسی نہج پر جاری وساری رہے گا جب تک مسلمان ایمان کو قائم رکھیں گے اور اس کے تقاضوں کے مطابق نیک کام کرتے رہیں گے اس وقت تک انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق یہ چیزیں حاصل ہوتی رہیں گی۔۔۔ البتہ مسلمانوں کے ایمان اور عمل سالح میں خلل واقع ہوجانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کبھی کبھی کفار کو اقتدار عطا کر کے انہیں مسلمانوں پر مسلط کردیتا ہے۔ (ومن کفر بعد ذالک) اے مسلمانو ! اس کامل اقتدار اور تسلط کے بعد بھی اگر کوئی کفران نعمت کا ارتکاب کرتا ہے۔ (فا ولئک ھم الفسقون) ، ، تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔ ، ، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے اور بگڑے ہوئے ہیں انہوں نے اصلاح کا کوئی کام سر انجام دیا نہ ان میں بھلائی کی کوئی اہلیت ہے کیونکہ جو کوئی اپنے اقتدار، غلبہ اور موانع ایمان کے عدم وجود کے وقت ایمان کو ترق کردیتا ہے تو یہ چیز اس کے فساد نیت اور خبث باطن پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کے لیے خبث باطن کے سوا ترک دین کا کوئی داعیہ موجود نہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعلایٰ نے ہم سے پہلے بھی اہل ایمان کو خلافت ارضی عطا کی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ اسلام سے فرمایا (ویستخلفکم فی الارض فینظر کیف تعملون) (الاعراف : 129/7) ، ، اور تم کو زمین کی خلافت عطا کرے گا تاکہ دیکھے تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ، ، اور فرمایا : (آیت) (القصص : 6-6/28) ، ، ہم چہاتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جن کو زمین میں کمزور اور ذلیل بنا کر رکھا گیا ہے اور انہیں سردار بنائیں اور انہی کو (بادشاہت کا) وارث ٹھہرائیں، نیز ہم زمین میں ان کو اقتدر عطا کریں۔ ، ،