21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی، وہ بیشک برے لوگ تھے، سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

آیت 76-77 ہمارے بندے اور رسول نوح (علیہ السلام) کی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے ان کا ذکر کیجئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور وہ ان کے اندر ساڑھے نو سو سال رہے، ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے روکتے رہے، بار بار انہیں کھلے چھپے اور شب و روز اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، تو انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور دعا کی۔ (رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولا یلدوا الا فاجرا کفارا) (نوح : 17/62، 72) ” اے میرے رب ! روئے زمین پر کسی کافر کو آباد نہ رہنے دے اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر اور کافر اولاد ہی کو جہنم دیں گے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرما لیا اور ان کو سیلاب میں غرق کردیا، ان میں سے ایک شخص کو بھی زندہ باقی نہ چھوڑا۔ صرف نوح (علیہ السلام) ان کی ذریت اور مومنین باقی رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ٹھٹھا کرنے والی قوم کے خلاف ان کی مدد فرمائی۔
Ayahs 21:78–82

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داود اور سلیمان (کاحال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصل کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چرگئیں (اور اسے روندگئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو داود کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا) اور ہم ہی ایسا کرنے والے تھے

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح کا) لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم لڑائی کے ضرر سے بچائے، پس تم کو شکر گذار ہونا چاہئے

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور دیووں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطہ مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

آیت 78 ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤد (علیہ السلام) کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجئے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انہیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ (اذیحکمن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم) یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہوگئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں۔ اس جھگڑے میں داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے مالک کردیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آجائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ففھمنھا سلیمن) یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد (علیہ السلام) کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لئے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے (وکلا) ” اور ہر ایک کو۔ “ یعنی داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کو (اتینا حکما و علما) ” دیا ہم نے حکم اور علم۔ “ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق وصواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہوجاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہوجائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا : (وسخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطیر) ” اور تابع کردیئے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔ “ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح وتحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد و ثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بےشعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہوجاتی اور یہ داؤد (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لئے فرمایا : (وکنا فعلین) یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔ ) وعلمنہ صنعٓ لبوس لکم) یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ (لتحصنکم من باسکم) یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمہاری حفاظت کرنے والی ہے۔ (فھل انتم شکرون) یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکرادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤد (علیہ السلام) کے توسط سے تمہیں عطا کی ؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر و سرابیل تقیکم باسکم کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون) (النحل : 61 / 18) ” اور تمہارے لئے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمہاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔ “ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد (علیہ السلام) کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لئے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو۔۔۔. جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں۔۔۔. اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو نرم کردیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انہیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے۔۔۔. اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد (علیہ السلام) کی جن زر ہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زر ہیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنے احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں، تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے (والنا لہ الحدید) (سبا : 43 /01) ” ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا۔ “ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کردیا تھا۔ واللہ اعلم۔ ) ولسلمین الریح) یعنی ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا کو مسخر کردیا (عاصآ) جو بہت تیز چلتی تھی (تجری بامرہ) جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ (الی الارض التی برکنا فیھا) ” اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔ “ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان (علیہ السلام) کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے، اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ (وکنا بکل شیء علمین) ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کرچکے ہیں۔ ) ومن الشیطین من یغوصون لہ و یعملون عملا دون ذلک) ” اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کردیئے تھے جو ان کے لئے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔ “ یہ چیز بھی سلیمان (علیہ السلام) کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جن اور عفریت مسخر کردیئے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لئے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سیبہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لئے (محاریب و تماثیل و جفان کالجواب و قدور رسیت) (سبا : 43 /31) ” اونچی محرابیں ( عمارتیں) تصویریں، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں “ بناتے تھے۔ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کیلئے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان (علیہ السلام) نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہوگیا جیسا کہ انشاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ) وکنا لھم حفظین) ” اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔ “ یعنی وہ سلیمان (علیہ السلام) کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مطیع کر رکھا تھا۔
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

آیت 83 یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب (علیہ السلام) کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدر و منزلت بڑھاتے ہوئے ذکر کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اپنی ذات سے راضی پایا۔ اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کردیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا : (انی مسنی الضرو انت ارحم الرحمین) ” مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ پس انہوں نے اپنے حال کے ذکر کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اب تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔ ان کے رب نے اپنی بےپایاں رحمت سے ان کی دعا قبول فرما لی اور فرمایا (ارکض برجلک ھذا مغتسل بارد و شراب) (ص : 83 /24) ” زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لئے۔ “ ایوب (علیہ السلام) نے زمین پر ایڑی ماری اور وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کردی۔ ) وانتینہ اھلہ) یعنی ہم نے ان کو ان کا مال اور اہل و عیال واپس لوٹا دیئے (ومثلھم معھم) ” اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور۔ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عافیت، اہل و عیال اور بہت سا مال عطا کیا (رحآ من عندنا) ” اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے۔ “ کیونکہ آپ نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر راضی رہے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخروی ثواب سے پہلے دنیاوی ثواب سے سرفراز کیا۔ (وذکری للعبدین) ہم نے اس واقعہ کو عبادت گزاروں کے لئے عبرت بنادیا جو صبر سے کام لیتے ہیں۔ اگر لوگ دیکھیں کہ ایوب (علیہ السلام) کس آزمائش میں مبتلا ہوئے پھر اس مصیبت کے زائل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنے بڑے ثواب سے نوازا تو صبر ہی کو اس کا سبب پائیں گے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کی ان الفاظ میں مدح فرمائی۔ (انا وجدنہ صابرا نعم العبد انہ اواب) (ص : 83 /44) ” ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ اور اپنے رب کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔ “ جب اہل ایمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو حضرت ایوب (علیہ السلام) کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

آیت 85 یعنی ہمارے چنے ہوئے بندوں، اور انبیاء ومرسلین کو بہترین اسلوب میں یاد کیجئے اور بلیغ ترین پیرائے میں ان کی مدح و ثنا کیجئے، یعنی اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے۔ (کل) یعنی تمام انبیاء جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے (من الصبرین) صبر کرنے والے تھے۔ صبر سے مراد نفس کو اس کے طبعی میلان کی طرف مائل ہونے سے روکنا ہے اور یہ صبر تین انواع پر مشتمل ہے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر (یعنی اس کے حکموں کی پابندی) کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر کرنا (یعنی اس کے حکموں کی خلاف ورزی نہ کرنا) 3۔ اللہ تعالیٰ کی تکلیف و قضا و قدر پر صبر کرنا۔ بندہ صبر کامل کے نام کا اس وقت تک مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ صبر کی مذکورہ تینوں اقسام کا حق ادا نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کو صبر کی صفت کے ساتھ موصوف کیا ہے، لہٰذا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے صبر کی ان تینوں اقسام کو پورا کیا اور صبر کا اسی طرح التزام کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا، نیز ان کو ” صلاح “ کی صفت سے موصوف فرمایا جو مشتمل ہے ” صلاح قلب “ پر جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور ہر وقت اس کی طرف انابت سے حاصل ہوتی ہے اور ” صلاح لسان “ پر جس کا مطلب ہر وقت زبان کا اللہ کے ذکر سے تر رہنا ہے اور ” صلاح جوارح “ 160 پر، جس کا مطلب جوارح (اعضاء) کو اللہ کی اطاعت میں لگائے رکھنا اور نافرمانی سے ان کو روکے رکھنا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے صبر اور صلاح کی بناء پر اپنی بےپایاں رحمت کے سائے میں سمیٹ لیا، ان کو ان کے دیگر برادر انبیاء ومرسلین میں شامل کیا اور انہیں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا ثواب عطا نہ بھی کیا ہوتا تب بھی اللہ نے جو دنیا میں ان کا ذکر بلند کیا ہے اور آئندہ لوگوں میں انہیں سچی شہرت عطا کی ہے تو ان کے فضل و شرف کے لئے یہی کافی تھا۔
Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

آیت 87 یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو ذکر جمیل اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کریں اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں، یعنی مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان کو نزول عذاب کی وعید سنائی اور عذاب کے نزول کے لئے ایک وقت مقرر کردیا۔ پس جب ان پر عذاب آیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور توبہ کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فلو لا کانت قریٓ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس لما امنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوٓ الدنیا و متعنھم الی حین) (یونس : 01 /89) ” کوئی ایسی بستی کی مثال ہے جو عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان لانے نے اس کو کوئی فائدہ دیا ہو۔ قوم یونس کے سوا۔ وہ لوگ جب ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوا کن عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک کے لئے ہم نے اس کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔ “ اور فرمایا : (وارسلنہ الی مءت الف اویزیدون۔ فامنوا فمتعنھم الی حین) (الصفت : 73 /741، 841) ” اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد کچھ زائد لوگوں کی طرف مبعوث کیا پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک وقت تک ان کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔ “ یہ ایک بہت بڑی امت تھی جو یونس (علیہ السلام) پر ایمان لائی۔ یہ واقعہ آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ مگر حضرت یونس علیہ السلام، کسی گناہ کی بنا پر، ناراضی کی حالت میں اپنے رب سے فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کتنا کونسا گناہ تھا اور اس کے تعین کی ہمیں حاجت بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (اذا بق الی الفلک المشحون۔ فساھم فکان من المدحضین۔ فالتقمہ الحوت وھو ملیم) (الصفت : 73 /041، 241) ” جب وہ فرار ہو کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف آیا۔ پس وہ قرعہ اندازی میں شامل ہوا اور ہار گیا۔ آخر مچھلی نے اس کو نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔ “ یعنی وہ قابل ملامت فعل کا ارتکاب کرنے والے تھے۔ ظاہری طور پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا جلدی کرنا، قوم پر غصہ کرنا اور ان کے پاس سے نکل بھاگنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے تھا۔ اور ان کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قدرت نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس نہیں کرسکتا، یا ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نکل بھاگیں گے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ایسا گمان پیش آنے سے کچھ مانع نہیں مگر اس طرح کہ اس کو استقرار اور استمرار حاصل نہ ہو۔۔۔. پس یونس (علیہ السلام) بھاگ کر کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے۔۔۔. اور انہوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کو سمندر میں پھینکا جائے کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اگر سب کشتی میں رہے تو کشتی ڈوب جائے گی۔ قرعہ یونس (علیہ السلام) کے نام کا نکلا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی ان کو نگل کر سمندر کی گہرائیوں میں لے کر چلی گئی۔ سمندر کی ان تاریکیوں میں حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا (لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین) ” تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔ “ پس حضرت یونس (علیہ السلام) نے اللہ کی کامل الوہیت کا اقرار کیا، اس کی ذات مقدس کو ہر نقص، ہر عیب اور ہر آفت سے منزہ اور پاک قرار دیا اور اپنے ظلم و جرم کا اعتراف کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فلو لا انہ کان من المسبحین۔ للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون) (الصفت : 73 /341، 441) ” اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتا۔ “ اسی لئے یہاں فرمایا : (فاستجبنا لہ و نجینہ من الغم) ” ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی۔ “ یعنی اس مصیبت سے نجات دی جس میں وہ مبتلا ہوگئے تھے۔ (کذلک نجی المومنین) ” اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ “ یہ ہر اس مومن کے لئے وعدہ اور بشارت ہے جو کسی مصیبت اور غم میں مبتلا ہوجائے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت سے نجات دے گا، اس کے ایمان کے سبب سے اس کی مصیبت کو دور کر دے گا۔ جیسا کہ اس نے حضرت یونس (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا۔
Ayahs 21:89–90

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

آیت 89 یعنی ہمارے بندے اور رسول زکریا (علیہ السلام) کو اس کی تعریف و تعظیم کے ساتھ اور ان مناقب و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے یاد کیجئے۔ ان جملہ فضائل میں یہ عظیم منقبت بھی شامل ہے کہ انہوں نے مخلوق کے ساتھ خیر خواہی کی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوئی۔ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا : (رب لا تذرنی فردا) ” اے رب ! مجھے تنہا نہ چھوڑنا “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہا : (مریم : 91 /4۔ 6) ” اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور پڑگئیں اور سر پر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوگیا۔ اے میرے رب ! میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی عنایت سے مجھے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب ! تو اسے ایک پسندیدہ انسان بنا۔ “ ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (رب لا تذرنی فردا) سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور مخلوق کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے لئے کوئی آپ کا قائم مقام نہ ہوگا، نیز یہ کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اس وقت تنہا تھے کوئی ان کا خلف رشید نہ تھا جو دعوت میں ان کی اعانت کرتا۔ (وانت خیر الورثین) یعنی تو باقی رہنے والوں میں سب سے بہتر ہے اور بھلائی میں میرے کسی خلف رشید سے بہتر ہے اور تو اپنے بندوں کے ساتھ مجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن اور نفس کو سکون حاصل ہو اور میرے لئے اس کا ثواب جاری رہے۔ (فاستجبنا لہ و وھبنا لہ یحی) ” پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا۔ “ جو ایسا مکرم نبی ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس نام کا کوئی شخص نہیں کیا (واصلحنا لہ زوجہ) ” اور ہم نے درست کردیا اس کے لئے اس کی بیوی کو۔ “ 160 یعنی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی بانجھ تھیں اور ان کا رحم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی زکریا (علیہ السلام) کی خاطر ان کے رحم کو درست کر کے اسے حمل کے قابل بنادیا۔ نیک ساتھی اور ہم نشین کے فوائد میں سے ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے لئے بابرکت ہوتا ہے۔ پس حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ماں باپ میں (برکت کے لئے) مشترک ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام انبیاء ومرسلین کا فرداً فرداً ذکر کرنے کے بعد ان سب کو عمومی مدح و ثنا سے نوازا ہے چناچہ فرمایا : (انھم کانوا یسرعون فی الخیرت) یعنی وہ نیکیوں میں سبقت کرتے تھے، اوقات فاضلہ میں نیکیاں کرتے تھے اور ان کی تکمیل اس طریقے سے کرتے تھے جو ان کے لائق اور ان کے لئے مناسب ہو۔ وہ مقدور بھر کسی فضیلت کو نہ چھوڑتے تھے اور فرصت کو غنیمت جانتے تھے (ویدعوننا رغبا ورھبا) یعنی ہم سے دنیا و آخرت کے مرغوب امور کا سوال کرتے تھے اور دنیا و آخرت کے ضرر رساں، خوفناک امور سے ہماری پناہ طلب کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھتے تھے، وہ غافل اور کھیل کود میں ڈوبے ہوئے تھے نہ اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور جرٓت کرتے تھے۔ (وکانوا لنا خشعین) یعنی ہمارے سامنے خشوع، تذلل اور انکساری کا اظہار کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی کامل معرفت رکھتے تھے۔
Ayahs 21:91–94

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

آیت 91 یعنی مریم علیہھا السلام کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجئے ! فرمایا، (والتی احصنت فرجھا) یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم علیھا السلام نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم علیھا السلام کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : (انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا) (مریم : 91/81) ” میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیھا السلام کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل (علیہ السلام) نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم علیھا السلام کو حمل ٹھہر گیا (وجعلنھا و ابنھا آیت للعلمین) ” اور کردیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لئے۔ “ کیونکہ حضرت مریم علیھا السلام کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم علیھا السلام کی برٓت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انہوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں۔ حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمند علیھا السلام تمام جہانوں کے لئے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آرہے ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیھم السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : (ان ھذہ امتکم آپ واحآ) یہ تمام انبیاء ومرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمہاری امت اور تمہارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بنا بریں فرمایا : (وانا ربکم) میں تمہارا رب ہوں جس نے تمہیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمہاری پرورش کی۔ جب تمہارا رب ایک، تمہارا نبی ایک اور تمہارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا۔۔۔. تو تمہارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لئے فرمایا : (فاعبدون) ” پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ پس حرف ” فاء “ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مرتب ہوتا ہے۔ مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر رہا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وتقطعوا امرھم بینھم) یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہوگئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ (کل حزب بما لدیھم فرحون (الروم : 03 /23) ” ہر ایک گروہ ان باتوں پر جو ان کے پاس ہیں خوش ہیں “ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام (علیہم السلام) کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے۔۔۔. اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہوگی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آجائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لئے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لئے فرمایا : (کل) تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ (الینا رجعون) ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔ پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا : (فمن یعمل من الصلحت) یعنی ایسے عمل کئے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ (وھو مومن) یعنی وہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ (فلا کفران لسعیہ) یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے، بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ (وانا لہ کتبون) یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کراماً کاتبین کے پاس ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہوگا۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

آیت 95 یعنی ان بستیوں کا، جنہیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی خاطر اس دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں، پس ان کے لئے واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں جنہیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا۔ اس لئے مخاطبین کو ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے جو ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔۔۔. مبادا کہ یہ اعمال انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور اس وقت اس ہلاکت سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لئے تلافی اور استدراک کے وقت اس قسم کے کاموں سے باز آجانا چاہیے۔
Ayahs 21:96–97

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور وہ کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم تھے

آیت 96 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لئے تحذیر ہے کہ وہ اپنے کفر اور معاصی پر جمے نہ رہیں۔ یاجوج و ماجوج کے کھلنے کا وقت قریب ہے اور یاجوج و ماجوج بنی آدم کے دو قبیلوں کا نام ہے۔ جب ذوالقرنین سے ان کے فساد فی الارض کا شکوہ کیا گیا تو اس نے درے کو دیوار کے ذریعے بند کر کے ان کا راستہ مسدود کردیا۔ آخری زمانے میں یہ درہ کھل جائے گا اور وہ اس طرح لوگوں کی طرف نکلیں گے جیسے اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے کہ وہ نہایت تیزی سے ہر ٹیلے سے نیچے اترتے نظر آئیں گے۔ یہ آیت کریمہ ان کی کثرت اور نہایت تیزی کے ساتھ ان کے زمین میں پھیل جانے پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت میں سرعت، یا تو اس وجہ سے ہوگی کہ وہ جسمانی اعتبار سینہایت پھرتیلے اور سریع الحرکت ہوں گے یا اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ان اسباب کی وجہ سے، جو دور کی مسافتوں کو قریب اور آسان کردیں گے۔ وہ لوگوں پر قہر بن کر ٹوٹیں گے اور اس دنیا میں ان پر غالب آجائیں گے، نیز یہ کہ کسی کے اندر ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔ (واقترب الوعد الحق) ” اور قریب آ لگے گا برحق وعدہ۔ “ یعنی قیامت کا دن، جس کے آنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے اور اس کا وعدہ سچا اور برحق ہے۔ پس اس روز گھبراہٹ، خوف اور دہلا دینے والے زلزلوں سے کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کیونکہ انہیں اپنے جرائم اور گناہوں کا علم ہوگا۔ وہ موت کو پکاریں گے اور اپنی کوتاہیوں پر ندامت اور حسرت کا اظہار کریں گے، کہیں گے : (قد کنا فی غفلٓ من ھذا) ” ہم اس عظیم دن سے غافل تھے “ پس دنیا کے لہو و لعب میں مستغرق رہے حتیٰ کہ فرشتہ اجل آگیا اور ہم قیامت کی گھاٹی میں اتر گئے۔ اگر کوئی حسرت و ندامت کی وجہ سے مرسکتا تو وہ ضرور مرتے۔ وہ کہیں گے (بل کنا ظلمین) ” بلکہ ہم ہی ظالم تھے۔ “ وہ اپنے ظلم اور اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اعتراف کریں گے۔ اس وقت حکم دیا جائے گا کہ انہیں اور ان کے ان معبودوں کو جہنم میں جھونک دو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس لئے فرمایا :
Ayahs 21:98–103

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافر اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہونگے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہوگے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کو چلانا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے، اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی ہر طرح کے عیش اور لطف میں) ہمیشہ رہیں گے

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا، اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

آیت 98 یعنی اے وہ لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو (حصب جھنم) تم سب جہنم کا ایندھن ہو (انتم لھا وردون) تمہیں اور تمہارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے۔۔۔. حالانکہ یہ پتھر ہیں، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں۔۔۔. کہ ان کا کذب و افترا واضح ہوجائے جنہوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لئے فرمایا : (لو کان ھولاء الآ ما وردوھا) ” اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔ “ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ (لیبین لھم الذی یختلفون فیہ و لیعلم الذین کفروا انھم کانوا کذبین) (النحل : 61 / 93) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو واضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں، اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ “ اور عابد و معبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔ (لھم فیھا زفیر) ” وہ جہنم میں پھٹکاریں گے “ شدت عذاب کی وجہ سے (وھم فیھا لا یسمعون) وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔ اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت کئے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیز علیہ السلام، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں۔ (ان الذین سبقت لھم منا الحسنی) ” اور وہ لوگ کہ سبقت کرگئی ان کے لئے ہماری طرف سے بھلائی۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لئے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لئے آسان کردیئے گئے ہیں۔ (اولیک عنھا) ” یہ لوگ اس سے۔ “ 160 یعنی جہنم سے (مبعدون) ” دور رکھے جائیں گے۔ “ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کرسکیں گے۔ (وھم فی ما اشتھت انفسھم خلدون) یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لئے ہمیشہ رہیں گے، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔ (لا یحزنھم الفزع الاکبر) ” نہیں غم میں ڈالے گی انہیں بڑی گھبراہٹ۔ “ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انہیں کسی قسم کا قلق نہ ہوگا اور یہ قیامت کے روز ہوگا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہوگی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انہیں کوئی غم نہ ہوگا کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے ہیں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کردیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ (وتتلقھم الملء آ) ” اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔ “ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے : (ھذا یومک الذی کنتم توعدون) ” یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ “ لہٰذا تمہیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے۔۔۔. تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمہاری منتظر ہے اس پر تمہیں ب ہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمہیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمہیں بےپایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
Ayahs 21:104–106

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے، ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکو کار بندے ملک کے وارث ہوں گے

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

آیت 104 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو، ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمہارے ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ (کما بدانا اول خلق نعیدہ) ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔ (وعدا علینا انا کنا فعلین) یعنی جو ہم نے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کے لئے ناممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ولقد کتبنا فی الزبور) ” اور ہم نے لکھا زبور میں۔ “ اور وہ ہے لکھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد ہے کتب الٰہیہ، مثلاً تورات وغیرہ (من بعد الذکر) ” ذکر (میں لکھنے) کے بعد۔ “ یعنی ہم نے کتاب سابق لوح محفوظ یعنی ام الکتاب میں لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ تمام تقدیریں ام الکتاب کے موافق واقع ہوتی ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ (ان الارض) ” بلاشبہ زمین “ 160 یعنی جنت کی زمین (یرثھا عبادی الصلحون) ” اس کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے۔ “ جو مامورات کو قائم اور منہیات سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا قول نقل فرمایا : (الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ و اور ثنا الارض نتبوا من الجآ حیث نشاء) (الزمر : 93/47) ” ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ “ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین سے مراد زمین کی خلافت ہو۔ اللہ تعالیٰ صالحین کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا اور ان کو زمین کا والی بنائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملو الصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم) (النور : 42/55) ” اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، جو ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے کہ وہ ان کو اسی طرح زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔ “
Ayahs 21:107–112

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے محمد ! ) ہم نے تم کو تمام جہاں کے لئے رحمت (بناکر) بھیجا ہے

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آئی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے، تو تم کو چاہئے کہ فرمانبردار ہوجاؤ

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم سب کو یکساں (احکام الہی) سے آگاہ کردیا ہے اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (عن) قریب (آنیوالی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(پیغمبر نے کہا) کہ اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے، اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔

آیت 107 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جاسکتا، چناچہ فرمایا (ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین) ” بیشک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لئے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء وصفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لئے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں ان کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن غنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو غنی نہ کرے اور جس کے لئے قرآن کافی نہیں، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ پھر اپنے رسول (ٓ) کی، جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا : (وما ارسلنک الا رحآ للعلمین) پس آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لئے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (قل) اے محمآ کہہ دیجئے ! (انما یوحی الی انما الھکم الہ واحد) ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ “ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لئے فرمایا (فھل انتم مسلمون) یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہو ؟۔۔۔. اگر وہ ایسا کریں تو انہیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ (فان تولوا) اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ ! (فقل اذنتکم) یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمہیں آگاہ کردیا ہے (علی سوآء) ” برابری پر۔ “ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں، اس لئے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوڑا بر سے تو یہ نہ کہنا (ما جاء نا من بشیر ولا نذیر) (الماء آ : 5 /91) ” ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔ “ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمہیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کرچکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ (وان ادری اقریب ام بعید ما توعدون) یعنی جس عذاب کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ( میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے) کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضہٓ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ (وان ادری لعلہ فتنٓ لکم و متاع الی حین) یعنی۔۔۔. شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو، تمہارے لئے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہت بڑے عذاب کا باعث ہوگا۔ (قل رب احکم بالحق) ” کہا، اے میرے رب ! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے “ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کردیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ (وربنا الرحمن المستعان علی ما تصفون) یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمن ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمہارا دین ختم ہوجائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم تو رب رحمٰن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضہٓ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمٰن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا۔۔۔. اور اس نے ایسا کیا۔ وللہ الحمد