Ayahs 21:36–41آیت 36-41
یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے ( اھذا الذی یذکر الھتکم) یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمہارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پیروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو ۔۔۔۔ یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپ ﷺ کی تحقیر ہے جو آپ ﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ وہ اکمل افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص اللہ، غیر اللہ کی عبادت مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔
ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لئے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انہوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ ہی سے وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں، اس لئے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے ؟
اس لئے فرمایا (وھم بذکر الرحمن ھم کفرون) ” اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں “۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ( الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمٰن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
) خلق الانسان من عجل) یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لئے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کردی گئی ہے۔ کفار تکذیب وعناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں (متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) ” کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔ “ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لئے ایک وقت مقرر کردیتا ہے۔ (فاذا جاء اجلھم لا یستاخرون سے آپ ولا یستقدمون) (الاعراف : 7 /43) ” جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لئے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔ “
اور اسی لئے فرمایا : (س اور یکم ایتی) یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انہیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا (فلا تستعجلون) اس لئے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ (متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لئے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
(لو یعلم الذین کفروا) ” کاش جان لیں کافر “ یعنی اپنی بری حالت کو ” حین لا یکفون عن وجوھھم النار ولا عن ظھورھم) ” کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔ “ جب عذاب انہیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا (ولا ھم ینصرون) ” اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے۔ “ یعنی کوئی ان کی مدد کرسکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کرسکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کرسکیں گے۔
) بل تاتیھم) ” بلکہ آجائے گی ان کے پاس۔ “ یعنی آگ (بغآ فتبھتھم) ” اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔ “ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انہیں ہکا بکا کردیں گے۔ (فلا یستطیعون ردھا) ” پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ “ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ (ولا ھم ینظرون) یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انہیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لئے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انہوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ٓکے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا (اھذا الذی یذکر الھتکم) تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چناچہ فرمایا : (ولقد ساتھ زی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا منھم ما کانوا بہ یستھزء ون) ” اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنہوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔ “ یعنی ان عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہوگئے، اس لئے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہوجائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
Ayahs 21:42–44آیت 42-44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بےبسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنہوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لئے۔۔۔. کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بےپایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چناچہ فرمایا : (قل من یکلوکم) یعنی کون تمہاری حفاظت کرتا ہے (بالیل) ” رات کو۔ “ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو (والنھار) ” اور دن کو۔ “ یعنی تمہارے زمین میں پھیل جانے اور تمہاری غفلت کے وقت (من الرحمن) ” رحمن کے مقابلے میں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمہاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمہاری حفاظت کرتا ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہاری حفاظت کرنیوالا نہیں۔
) بل ھم عن ذکر ربھم معرضون) ” بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں۔ “ اسی لئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انہوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا، تو یقیناً انہیں رشد و ہدایت عطا کردی جاتی اور ان کے معاملے میں انہیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔
) ام لھم الآ تمنعھم من دوننا) یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں، تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ (لایستطیعون نصرا نفسھم ولا ھم منا یصحبون) ” نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیئے جاتے ہیں۔ “ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کے باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا : (بل متعنا ھولاء و اباء ھم حتی طال علیھم العمر) ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہوگئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہوگئی، جس سے ان کے دل سخت ہوگئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہوگیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انہیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہوگئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لئے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔
بنا بریں فرمایا : (افلا یرون انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا) یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کر رہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہوگا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں۔ (افھم الغلبون) ” کیا پس وہ غالب ہیں۔ “ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لئے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
Ayahs 21:45–46آیت 45-46
(قل) اے محمد آپ) تمام لوگوں سے کہہ دیجئے (انما انذرکم بالوحی) یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمہارے پاس لایا ہوں وہ پانی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمہیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمہیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کرو گے، تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضہٓ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی طرف سے ہے۔
) ولا یسمع الصم الدعاء) یعنی بہرہ کسی قسم کی آواز نہیں سن سکتا کیونکہ اس کی سماعت خراب ہوچکی ہے جس طرح آواز کا سننا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آواز کو قبول کرنے والا مقام و محل موجود ہو۔ اسی طرح وحی قلب و روح کے لئے زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کا سبب ہے لیکن اگر قلب ہدایت کی آواز کو قبول نہیں کرتا، تو وہ ہدایت اور ایمان کی نسبت سے اس بہرے کی مانند ہے جو آوازوں کو نہیں سن سکتا۔ یہ مشرکین بھی ہدایت اور ایمان کی آواز سننے سے بہرے ہیں اس لئے ان کا ہدایت کو قبول نہ کرنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں خاص طور پر اس حالت میں کہ ابھی تک ان کو عذاب اور اس کی تکلیف نے چھوا نہیں۔
) ولئن مستھم نفحٓ من عذاب ربک) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھولے (لیقولن یویلنا انا کنا ظلمین) ” تو پکاراٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی ! ہم تو ظالم تھے۔ “ یعنی وہ پکاریں گے : ہائے ہم تباہ و برباد ہوگئے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہوگی۔
Ayah 21:47آیت 47
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عدل پر مبنی حکم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، قیامت کے روز جب وہ اپنے بندوں کو جمع کرے گا تو ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ نہایت عدل کے ساتھ وزن کرنے والی ترازوئیں قائم کردی جائیں جن پر ذرہ بھر وزن بھی واضح ہوجائے گا۔ یہ ترازوئیں نیکیوں اور برائیوں کا وزن کریں گی۔
) فلا تظلم نفس) ” پس کسی نفس پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر (شیئا) ” کچھ بھی۔ “ یعنی کسی شخص کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی نہ کسی شخص کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ (وان کان مثقال حآ من خردل) ” اور اگر ہوگا (عمل) رائی کے دانے کے برابر۔ “ جو کہ سب سے چھوٹی اور حقیر سی چیز ہے یعنی رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی یا بعدی ہوگی (اتینا بھا) ہم اسے سامنے حاضر کردیں گے تاکہ اس پر اس کے مرتکب کو جزا دی جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (فمن یعمل مثقال ذآ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذآ شرایرہ) (الزلزال : 99/7، 8) ” جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کا ارتکاب کیا ہوگا وہ اسے دیکھ لے گا۔ “ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرٓ ولا کبیرٓ الا احصھا ووجدوا ما عملوا حاضرا) (الکھف : 81/94) ” وہ کہیں گے کہ ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس میں لکھنے سے رہ گیا ہو اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے۔ “
) وکفی بنا حسبین) اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد خود اپنا نفس کریمہ ہے اور وہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔ یعنی اللہ اپنے بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے، ان اعمال کو کتاب میں درج کر کے ان کی حفاظت کرتا ہے، وہ ان اعمال کی مقدار کے مطابق ثواب اور ان کے استحقاق کا بھی علم رکھتا ہے اور وہ عمل کرنے والوں کو ان کی جزا عطا کرے گا۔
Ayahs 21:48–49آیت 48-49
اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سیان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت وبیان کے لئے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تو رات اور قرآن کریم، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اصلاً اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو تبعاً تورات عطا فرمائی (الفرقان) جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے (وضیاء) نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔
) وذکراللمتقین) ” اور نصیحت ہے متقین کے لئے۔ “ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لئے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیر و شر کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ” ذکر “ کے ساتھ اس لئے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ” متقین “ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (الذین یخشون ربھم بالغیب) یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیئے گئے ان کا التزام کرتے ہیں۔ (وھم من الس آپ مشفقون) اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں۔۔۔. پس انہوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا
یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پروارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔ (وھذا) ” اور یہ “ یعنی قرآن کریم 160 (ذکر مبرک انزلنہ) ” مبارک ذکر ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔ “ 160 پس اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو خود جلیل القدر اوصاف سے موسوم کیا ہے۔
(1) قرآن حکیم ” ذکر “ ہے۔ تمام مطالب میں قرآن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور اس کے افعال، اس کے انبیاء و اولیاء کی صفات اور احکام جزا، جنت اور جہنم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس لئے بھی ” ذکر “ کہا ہے کہ قرآن۔۔۔. اخبار صادقہ کی تصدیق، ان امور کا حکم دینا جو عقلاً حسن ہیں اور ان امور سے روکنا جو عقلاً قبیح ہیں، جیسی صفات کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی عقل و فطرت میں ودیعت کررکھی ہیں ان کی یاددہانی کراتا ہے۔
(2) قرآن کریم کا ” مبارک “ (یعنی بابرکت) ہونا اس میں بھلائی کی کثرت، بھلائی کی نشونما اور اس میں اضافے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی چیز بابرکت نہیں کیونکہ ہر بھلائی، ہر نعمت، دینی، دنیاوی اور اخروی امور میں ہر اضافہ اسی کے سبب سے ہے اور اس پر عمل کے آثار ہیں۔
جب ” ذکر “ بابرکت ہو تو اس کو قبول کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس جلیل القدر نعمت کا شکر ادا ہو، اس کو قائم کیا جاسکے اور اس کے الفاظ و معانی کو سیکھ کر اس سے برکت حاصل کی جائے اور اس رویے سے متضاد رویہ، یعنی اس سے روگردانی کرنا، اسے درخور اعتنا نہ سمجھنا، اس کا انکار کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا سب سے بڑا کفر، شدید ترین جہالت اور سخت ظلم ہے، اس لئے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے (افانتم لہ منکرون) کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
Ayahs 21:50–73آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔
) وکنا بہ علمین) ” اور ہم اسکو جانتے تھے۔ “ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لئے منتخب کیا، انہیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انہیں اپنے لئے چن لیا اس لئے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ و قومہ ماھذہ التماثیل) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟ “ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پر خود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے (التی انتم لھا عکفون) جن پر تم ان کی عبادت کے لئے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو۔۔۔. یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے ؟ تمہاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضافع کردیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے ؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو اسی کی عبادت کرتے ہو، تو انہوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بےبس ہو اور جسے ادنیٰ سا بھی شبہ نہ ہو، چناچہ انہوں نے کہا : (وجدنا اباء نا) ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء ومرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں۔۔۔. اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : (لقد کنتم انتم وآباؤکم فی ضلل مبین) یعنی تم اور تمہارے آباؤ اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو ؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لئے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں، تم اور تمہارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
(قالوا) انہوں نے تعجب اور ابراہیم (علیہ السلام) کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں اور ان کے آباؤ اجداد کو بیوقوف قرار دیا تھا۔ (اجئتنا بالحق ام انت من اللعبین) یعنی کیا وہ بات جو تم نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے ؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟۔۔۔. پس انہوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو رد کردیا، انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو اس بنا پر رد کردیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) لے کر آئے ہیں وہ ایک بیوقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چناچہ فرمایا : (بل ربکم رب السموت والارض الذی فطرھن وانا علی ذلکم من الشھدین) ” بلکہ تمہارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کردیا۔
عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں، فرشتوں، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں۔۔۔. کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے۔۔۔. مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے ؟
نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنا بریں ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : (وانا علی ذلکم) ” اور میں اس پر “ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ (من الشھدین) ” گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ “ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے ؟
چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کردیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لئے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بےبسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بےاختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بےبسی اور بےاختیاری کا خود اقرار کریں، اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : (وتا للہ لا کی دن اصنامکم) یعنی تمہیں لاجواب کرنے کے لئے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا (بعد ان تولوا مدبرین) ” جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔ “ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لئے چلے جاؤ گے۔
چناچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے (فجعلھم جذذا) اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کردیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لئے ان سب کو توڑ دیا۔ (الا کبیرا لھم) سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لئے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔
ذرا اس عجیب ” احتراز “ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبیٓ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاب فرماتے : (الی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ” اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف “ اور (الی العظیم) ” یعنی بڑی ہستی کی طرف “ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔
یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (الا کبیرا لھم) ” ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ “ اور یہ نہیں فرمایا (کبیرا من اصنامھم) ” ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو “ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے۔ البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جاسکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں۔
(لعلھم الیہ یرجعون) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لئے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا : (فرجعوا الی انفسھم) ” پس انہوں نے اپنے دل میں غور کیا۔ “
جب انہوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے : (من فعل ھذا بالھتنا انہ لمن الظلمین) ” ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے ؟ یقیناً وہ ظالموں میں سے ہے۔ “ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کو ت وڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبدوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ (قالوا سمعنا فتی یذکرھم) یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقیناً اسی نے ان بتوں کو توڑا ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہوگئی کہ یہ سب کچھ ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا ہے (قالو فاتوا بہ) تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ (علی اعین الناس) یعنی لوگوں کے سامنے (لعلھم یشھدون) یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم (علیہ السلام) چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہوجائے، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مقابلے کیلئے ایک دن مقرر کرنے کے لئے کہا تھا، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (موعدکم یوم الزینٓ و ان یحشرا الناس ضحی) (طہ : 02 / (95 ” تمہاریلئے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔ “
جب لوگ اکٹھے ہوگئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی حاضر کیا گیا تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پوچھا ( ءانت فعلت ھذا) ” کیا تو نے یہ کیا ہے ؟ “ 160 یعنی بتوں کو توڑا ہے (بالھتنا یابرھیم) یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرٓت ہوئی ؟
ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا (بل فعلہ کبیر ھم ھذا) یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمہارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لئے فرمایا : (فسئلوھم ان کانوا ینطقون) ” ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں۔ “ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا ؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا ؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمہیں جواب دیں۔۔۔. میں، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کرسکتے ہیں، کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں۔
(فرجعوا الی انفسھم) ” پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔ “ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انہوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کرلیا۔ (فقالوا انکم انتم الظلمون) ” اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔ “ پس اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصد حاصل ہوگیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہوگئی۔ مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ (نکسوا علی رء وسھم) ” اوندھے ہوگئے اپنے سروں کے بل۔ “ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی ہوگئی اور ان کے خواب پریشان ہوگئے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے : (لقد علمت ما ھولاء ینطقون) تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے ؟
اس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی زجر و توبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لئے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (افتعبدون من دون اللہ ما لا ینفعکم شیئا ولا یضرکم) ” کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کرسکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو ؟ “
(اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ) ” تْف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔ “ یعنی تم کتنے گمراہ، تمہاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمہارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ (افلا تعقلون) کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو ؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لئے جانوروں کا حال تمہارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو لاجواب کردیا، اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کرسکے تو آپ کو سزا دینے کے لئے قوت استعمال کی، چناچہ وہ کہنے لگے : (حرقوہ وانصروا الھتکم ان کنتم فعلین) یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں، اسے آگ میں ڈال دو ۔۔۔. ان کی ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود ان کی مدد کے محتاج ہیں، پھر بھی انہوں نے بےبس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ پس جب انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا : (ینارکونی بردا وسلم ا علی ابراھیم) اے آگ ! ” ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ “ اور آگ سلامتی کیساتھ ٹھنڈی ہوگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
(وارادو بہ کیدا) ” انہوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔ “ 160 یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا (فجعلنھم الاخسرین) ” پس ہم نے انہی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کردیا۔ “ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کردیا اور اس کے برعکس خلیل (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کردیا۔
(ونجینہ ولوطا) ” اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔ “ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے (الی الارض التی برکنا فیھا للعلمین) ” اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لئے برکت رکھی ہے۔ “ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ” بابل “ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے (وقال انی ذاھب الی ربی) (الصفت : 73/99) ” انہوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں۔ “
سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل (علیہ السلام) کی ہجرت کے لئے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
) ووھبنا لہ) ” اور ہم نے عطا کئے اسے۔ “ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے (اسحق و یعقوب) ” اسحاق اور یعقوب بن اسحاق (علیہ السلام) “ (نافآ) ” مزید “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے بوڑھا ہوجانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ (ومن ورآء اسحاق یعقوب) (ھود : 11 /17) ” اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ “ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیل (علیہ السلام) ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جد امجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام، فضیلت والی امت عربی کے جد امجد ہیں۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیٓ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں۔
) وکلا) ” اور ہر ایک کو۔ “ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کو (جعلنا صلحین) ” ہم نے نیک بنایا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں۔۔۔. چلنے والے ان کی راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔
) یھدون بامرنا) یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ (واوحینا الیھم فعل الخیرت) ” اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔ “ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔
) واقام الصلوٓ وایتاء الزکوٓ) ” اور نماز قائم کرنے اور زکوٰٓ ادا کرنے کی۔ “ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لئے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کرلیا اور جس نے ان دونوں عبادات کو ضائع کردیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکوٰٓ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ (وکانوا لنا عبدین) ” اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔ “ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چناچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
Ayahs 21:74–75آیت 74-75
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول لوط (علیہ السلام) کی مدح وثناء ہے کہ وہ شریعت کا علم رکھتے تھے، نیز یہ کہ وہ لوگوں کے درمیان صواب اور راستی کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قوت کی طرف مبعوث فرمایا وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے انہیں ان کی بدکاریوں اور فواحش سے روکتے تھے۔ پس وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر انہوں نے ان کی دعوت پر لبیک نہ کہی۔ تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کردیا (کانوا قوم سوء فسقین) کیونکہ وہ بڑے ہی برے اور فاسق لوگ تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے داعی کو جھٹلایا اور انہیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات اس بستی سے دور نکل جائیں، چناچہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر اس بستی سے دور نکل گئے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی وجہ سے ہوا۔
ارشاد فرمایا : (وادخلنہ فی رحمتنا) ” اور ہم نے اس کو داخل کرلیا اپنی رحمت میں۔ “ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوجاتا ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہوجاتا ہے جو ہر قسم کے خوف سے مامون ہیں، جو ہر قسم کی بھلائی، سعادت، نیکی، مسرت اور مدح و ثنا سے بہرہ ور ہیں۔ یہ اس لئے کہ لوط (علیہ السلام) ان صالحین میں سے ہیں، جن کے اعمال درست اور احوال پاک ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام فاسد امور کو درست فرما دیا اور بندے کا درست ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت میں اس کے داخل ہونے کا سبب ہے جیسے بندے کا فاسد ہونا اس کے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور خیر سے محروم ہونے کا سبب ہے۔
صالحیت کے اعتبار سے انبیاء کرام (علیہ السلام) سب سے بڑے لوگ ہیں اس لئے صالحیت کے ساتھ ان کا وصف بیان فرمایا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا مانگی : (وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین) (النمل : 72 /91) ” مجھے اپنی رحمت سے اپنے صالح بندوں میں شامل کر۔ “