68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 68:23–25

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور کوشش کیساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر (ہیں)

فانطلقوا وھم یتخافتون۔ یعنی وہ راز داری سے باتیں کر رہے تھے اپنی کلام کو وہ پست رکھ رہے تھے اور راز داری سے کام لے رہے تھے تاکہ کسی کو ان کے بارے میں علم نہ ہو، یہ عطا اورق تادہ کا قول ہے۔ یہ خفت یخفت سے مشتق ہے جب وہ ساکن ہوجائے اور کسی بات کو ظاہر نہ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپاتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ نہ لیں۔ ان کا باپ فقراء اور مساکین کو خبر دیتا تو وہ کاٹنے کے وقت حاض رہو جاتے۔ وغدوا علی حرد قدرین۔ حرد کا معنی قصد ہے اور اپنے حساب سے وہ قادر تھے۔ وہ گمان کرتے تھے وہ اپنی مراد پر قدرت رکھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے یہی معنی کیا ہیخ حرد کا معنی قصد کرنا ہے۔ حرد یحرد حرداً قصد کیا۔ تو کہتا ہے : حردت حردت تو نے قصد کیا۔ اس معنی میں راجز کا قول ہے : اقبل سیل جاء من عند اللہ یحرد حرد الجنۃ المغلۃ (1) سیلاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے آیا وہ گھنے پھلدار باغ کا قصد کر رہا تھا۔ نحاس نے یہ شعر پڑھا : قد جاء سیل جاء من امر اللہ بحرد حرد الجنۃ المغلۃ (2) اللہ تعالیٰ کے حکم سے سیلاب آیا، وہ گھنے پھلدار باغ کا قصد کر رہا تھا۔ مبرد نے کہا، مغلہ سے مراد غلہ والا۔ دوسرے علماء نے کہا، مغلہ سے مراد وہ باغ ہے جس کی جڑوں میں پانی بہتا ہے۔ اسی سے تغللت باالغالیۃ ہے اسی سے تغلیت ہے، لام کو یاء سے بدل دیا گیا۔ جس نے تغلفت کہا : اس کے نزیدک اس کا معنی ہے میں نے اسے غلاف بنایا۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا، علی حرد کوشش کرتے ہوئے (3) حضرت حسن بصری نے اس کا معنی کیا ہے، ضرورت اور فاقہ کی صورت میں۔ ابوعبیدہ اور قتیبی نے کہا، اس کا معنی روکنا ہے۔ یہ عربوں کے اس قول سے لیا گیا ہے، حاردت الابل حراداً جب اس کا دودھ کم ہوگیا۔ حرود اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کا دودھ کم ہو۔ حاردت السنۃ جس سال بارش اور فصل کم ہو۔ سدی اور سفیان نے کہا، حرد کا معنی غضب ہے۔ ابو نصیر احمد بن حاتم اصمعی کے صاحب نے کہ، اس میں تخفیف کی گئی ہے اور یہ شعر پڑھا : اذا جیاد الخیل جائت تردی مملوۃ من غضب و حرد عمدہ گھوڑے زمین پر پائوں مارتے ہوئے آئے اس حال میں کہ وہ غصہ اور غضب سے بھرے ہوئے تھے۔ ابن کسیت نے کہا، بعض اوقات اسے حرکت دی جاتی ہے تو کہتا ہے : حرد، حرداً فھومتادو خردان اسی معنی میں کہا اجتا ہے : اسدحارد، ولیوث حوارد، غصیلے شیر، ایک قول یہ کیا گیا ہے : علی حرد الگ تھلگ۔ یہ کہا جاتا ہے : حرد یحرد حرودا وہ اپنی قوم سے الگ ہوگیا اور الگ تھلگ اترا اور ان سے میل جول نہ رکھا۔ ابو زید نے کہا، رجل حرید من قوم حرداء قد حردیحر دحرودا جب وہ اپنی قوم کو ترک کر دے اور ان سے الگ تھلگ ہوجائے کو کب حرید جو دوسرے ستاروں سے الگ تھلگ ہو۔ اصمعی نے کہا، رجل حرید یگانہ اور الگ تھلگ۔ ہزیل کی لغت میں منحرد منفرد کو کہتے ہیں۔ ابو ذویب کا یہ شعر پڑھا : کانہ کو کب فی الجومنحرد گویا وہ فضا میں الگ تھلگ ستارہ ہے۔ ابو عمرو نے اسے جیم کے ساتھ پڑھا۔ اس کی تفسیر منفرد سے کی ہے۔ کہا : وہ سہیل ستارہ ہے۔ ازہری نے کہا : حرد، ان کی بستی کا نام تھا۔ سدی نے کہا، یہ ان کے باغ کا نام تھا۔ اس میں دو لغتیں ہیں۔ حرد و حرد عام قرأت سکون کے ساتھ ہے۔ ابو العالیہ اور ابن سمیقع نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دو لغتیں ہیں قدررین کا معنی ہے انہوں نے اندازہ لگایا اور اس پر عمل کیا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اپنے ہاں وہ اپنے باغ پر قادر تھے (1) شعبی نے کہا، وہ مساکین پر قادر تھے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی پانا ہے یعنی انہوں نے روکا جبکہ وہ پانے والے تھے۔
Ayahs 68:26–27

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہم (برگشتہ) بےنصیب ہیں

فلما راوھا قالوآ انا لضآلون۔ جب انہوں نے اسے جلا ہوا دیکھا اس میں کوئی چیز بھی نہ تھی۔ وہ سیاہ رات کی طرح ہوگیا تھا۔ وہ اسے دیکھ رہے تھے گویا وہ راکھ ہو۔ انہوں نے اس کو عجیب و غریب جانا اور اس میں شک کیا۔ بعض نے بعض سے کہا : انا لضآلون ہم اپنے باغ کا راستہ بھول گئے ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم صحیح راہ سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ ہم نے مساکین کو محروم رکھنے کا ارادہ کیا تھا اسی وجہ سے ہمیں سزا دی گئی۔ بل نحن محرومون۔ بلکہ ہم نے جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے ہمیں اپنے باغ سے محروم کردیا گیا ہے۔ اسباط نے حضرت ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ایاکم والمعاصی ان العبد لیذنب الذنب فیحرم بہ رزقاً کان ھیی لہ (3) معاصی سے بچو، بیشک بندہ گناہ کرتا ہے تو اسے اس رزق سے محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار وہتا ہے۔ پھر ان آیات کی تلاوت کی فطاف علیھا طآئف من ربک۔۔ الخ۔
Ayahs 68:28–32

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ایک جو ان میں فرزانہ تھا بولا کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم ہی قصوروار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع لاتے ہیں

قال اوسطھم سب سے اچھے، سب سے عادل (4) اور سب سے دانشمند نے کہا، الم اقل لکم لولا تسبحون۔ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ ان کی استثناء تسبیح ہوا کتری، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ یہ اس پر دال ہے کہ اوسط نے انہیں استثناء کا حکم دیا تھا۔ دوسرے بھائیوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ ابوصالح نے کہا، ان کی استثناء سبحان اللہ تھی (5) اس نے ان سے کہا تھا تم سبحان اللہ کیوں نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس پر شکر کیوں نہیں بجا لائے ؟ نحاس نے کہا، تسبیح کا اصل معنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ مجاہد نے تسبیح کو انشاء اللہ کی جگہ رکھا ہے کیونکہ تنزیہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر واقع نہیں ہوتی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم اپنے فعل سے استغفار کیوں نہیں کرتے اور پانی نیت کی خیانت سے توبہ کیوں نہیں کرتے۔ ان میں سے درمیانے نے انہیں یہ بات اس وقت کہی جب انہوں نے پختہ ارادہ کیا تھا، اس نے انہیں مجرموں سے انتقام لئے جانے کا ذکر کیا تھا۔ قالواسبحن ربنا انہوں نے معصیت کا اعتراف کیا اور اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی کہ وہ اپنے کسی علم میں ظالم ہو (1) حضرت ابن عباس نے یہ تعبیر کی ہے کہ انہوں نے کہا : ہم اپنے گناہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور بخشش کے طالب ہیں۔ انا کنا ظلمین۔ ہم نے مساکین کو جو مال عطا نہیں کیا اس میں ہم اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں (2) فاقبل بعضھم علی بعض یتلاومون۔ یعنی ایک دوسرے کو قسم اٹھانے پر اور مساکین کو روکنے پر ملامت کرنے لگے۔ ایک کہتا : بلکہ تو نے ہمیں اس کا مشورہ دیا۔ قالوا یویلنٓ انا کنا طغین۔ فقراء کے حق کو روک کر اور استثناء ترک کر کے ہم نے نافرمانی کی۔ ابن کیسان نے کہا، ہم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر سرکشی کی، ہم نے ان کا شکریہ ادا نہ کیا جس طرح ہمارے آباء نے اس سے پہلے نعمتوں پر شکر ادا کیا تھا (3) عسی ربنا ان یبدلنا خیراً منھا انہوں نے معاہدہ کیا اور کہا، اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بہتر عطا فرمایا تو ہم وہ کچھ کریں گے جس طرح ہمارے آباء نے کیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی اور آہ وزاری کی تو اللہ تعالیٰ نے اسی رات اس باغ سے بہتر عطا فرما دیا اور جبرائیل امین کو حکم دیا کہ اس جلے ہوئے باغ کو اکھاڑے اور شام کے علاقہ میں زعز کے مقام پر لگا دے اور شام کے علاقہ سے ایک باغ لے اور اس جلے ہوئے باغ کی جگہ لگا دے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : قوم نے اخلاص کا مظاہرہ کیا (4) اللہ تعالیٰ نے ان کی سچائی کو پہچان لیا اور بدلے میں ایک باغ عطا فرما دیا جسے حیوان کہتے۔ اس میں انگور تھے، خچر اس کے ایک گچھے کو اٹھاتا تھا۔ یمانی ابو خالد نے کہا، میں اس باغ میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ہر گچھا ایسے دیکھا جس طرح ایک حبشی مرد کھڑا ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا : باغ والوں کا یہ قول اناالی ربنا رغبون۔ میں نہیں جانتا کہ یہ ان کی جابن سے ایمان تھا یا مشرکین کا وہ قول تھا جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی تو وہ یہ قول کرتے (5) ان کے ایمان دار ہونے میں توقف کیا جائے گا۔ قتادہ سے باغ والوں کے بارے میں پوچھا گیا : کیا وہ جنتی ہیں یا دوزخی ؟ تو نے مجھے تھکا دیا ہے، اکثر لوگ یہ کہتے ہیں : انہوں نے توبہ کی اور اخلاص کا مظاہرہ کیا : قشیری نے اسے بیان کیا ہے عام قرات یبدلنا ہے اہل مدینہ اور ابو عمرو نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تبدیل سے مراد شی کو تبدیل کرنا یا اس کی حالت کو بدل دینا جبکہ شئی کی ذتا اپنی جگہ پر قائم رہے اور بادلا سے مراد ہے کسی شی کو اٹھانا اور کسی دوسری چیز کو اس کی جگہ کھنا۔ سورة نساء میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔

کذلک العذاب یعنی دنیا کا عذاب اور اموال کی ہلاکت، یہ ابن زید سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل مکہ کو نصیحت کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی دعا کی وجہ سے خشک سالی میں مبتلا کیا تھا یعنی ہم ان کے ساتھ دنیا میں اسی قسم کا معاملہ کریں گے جو بلھی ہماری حدود کو پامل اکرے گا (1) ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ اہل مکہ کے لئے مثال ہے جب وہ بدر کی طرف نکلے اور انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کو قتل کریں گے اور مکہ کی طرف لوٹیں گے یہاں تک کہ بیت اللہ شریف کا طواف کریں گے، شرب پئیں گے اور لونڈیاں ان کے پاس نغمے گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الگ کردیا، انہیں گرفتار کرلیا گیا، انہیں قتل کردیا گیا اور ان باغ والوں کی طرح انہیں شکست کھانا پڑی جب باغ والے فصل کاٹنے کے لئے نکلے تھے اور خئاب و خاسر ہوئے۔ پھر یہ قول کیا گیا ہے : وہ حق جسے باغ والوں نے مساکین سے روکا تھا، اس بارے میں احتمال ہے کہ ان پر واجب ہو اور یہ احتمال ہے کہ وہ نفل ہو۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ سورت مکی ہے تو آیت کو اہل مکہ پر جو قحط آیا یا غزوہ بدر میں جو انہیں قتل کیا گیا اس پر محمول کرنا ممکن نہیں۔
Ayahs 68:34–36

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

پرہیزگاروں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح (نعمتوں سے محروم) کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیسی تجویزیں کرتے ہو ؟

ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم۔ اس بارے میں قول پہلے گزر چکا ہے یعنی متقین کے لئے آخرت میں ایسی جنتیں ہیں جن میں خالص نعمتیں ہیں، ان میں کسی ایسی چیز کی آمیزش نہ ہوگی جو ان نعمتوں کو بدمزہ کرے جس طرح وہ دنیا کی نعمتوں کو بدمزہ کرتی تھی۔ قریش کے سردار دنیا میں اپنا حصہ دیکھتے تھے اور مسلمانوں کا حصہ کم دیکھتے تھے جب وہ آخرت کی کوئی بات سنتے اور اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جو عدے کئے ان کو سنتے تو کہتے : اگر یہ بات درست ہوگی کہ ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا جس طرح حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی گمان کرتے ہیں تو ہمارا اور ان کا حال نہ ہوگا مگر اسی طرح جس دنیا میں حال ہے ورنہ وہ ہم پر زائد نہ ہوں اور نہ انہیں ہم پر فضیلت ہوگی۔ آخری حد یہی ہوگی کہ وہ ہمارے برابر ہوں گے۔ فرمایا : افنجعل المسلمین کالمجرمین۔ مجرمین سے مراد کفار ہیں۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہا، کفار مکہ نے کہا، آخرت میں ہمیں اس سے بہتر دیا جائے گا (1) جو تمہیں دیا جائے گا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ افنجعل المسلمین کالمجرمین۔ پھر انہیں شرمنادہ کیا اور فرمایا : مالکم کیف تحکمون۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کس طرح کا ٹیڑھا حکم لگاتے ہو۔ جزا معاملہ تمہارے سپرد ہے یہاں تک کہ تم اس میں فیصلہ کرتے ہو جو تم چاہتے ہو کہ تمہارے لئے اس میں بھلائی ہے جیسی مسلمانوں کے لئے ہے۔
Ayah 68:37

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو۔

ام لکم کتب فیہ تدرسون۔ کیا تمہارے لئے کتاب ہے جس میں تم مطیع کو عاصی کی طرح پاتے ہو ان لکم فیہ لما تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو اور تم اسے چاہتے ہو۔ اصل میں ان فتح کے ساتھ تھا لیکن خبر پر لام مفتوح آنے کی وجہ سے اسے کسرہ دیا، تو کہتا ہے : علمت انک عاقل اور علمت انک لعاقل۔ ان کم لکم فیہ لما تخیرون۔ میں عامل ترسون ہے۔ لام ان کے ہمزہ کے فتح کے مانع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تدرسون پر کلام مکمل ہوگئی پھر نئی کلام شروع کی اور کہا، ان لکم فیہ لماتخیرون۔ کتاب میں تمہارے لئے وہ ہو جو تم پسند کرتے ہو یعنی تمہارے لئے ایسا نہیں دونوں فیہ میں ضمیر کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے پھر تو بیخ میں یہ اضافہ کیا ام لکم یامان یعنی پختہ وعدے ہیں۔ عل ینا بالغۃ ہم پر پختہ ہیں بالغہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی جانب سے موکد ہیں، یعنی تمعارے حق میں اللہ تعالیٰ پر پختہ وعدے ہیں جن کی وجہ سے تم نے یقین کرلیا ہے کہ وہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔
Ayahs 68:38–39

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ جو چیز تم پسند کرو گے وہ تم کو ضرور ملے گی ؟

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس چیز کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی

ان لکم لماتحکمون۔ خبر پر لام آنے کی وجہ سے ان کے ہمزہ کو کسرہ دیا۔ اس کلام کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے محل نصب کا ہے لیکن لام کی وجہ سے کسرہ دیا گیا۔ تو کہتا ہے : حلفت ان لک کذا ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلا ملای یوم القیمۃ پر مکمل ہوگی، پھر فرمایا : ان لکم لما تحکمون۔ یعنی معاملہ ایسا نہیں۔ ابن یزید نے ان لکم فیہ لماتخیرون۔ اور ان لکم لما تحکمون۔ دونوں میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت حسن بصری نے بالغۃ نصب کے ساتھ حال پڑھا ہے یا تو یہ لکم کی ضمیر سے حال ہے کیونکہ یہ ایمان کی خبر ہے کیونکہ اس میں ایک ضمیر ہے جو اس کے مناسب ہے یا یہ علینا کی ضمیر سے حلا ہے اگر آپ علینا کو ایمان کی صفت بنائیں ایمان کی ذات کے متعلق نہ کریں، کیونکہ اس میں ایک میر ہے جو اس کے مناسب ہے جس طرح جب یہ خبر بنے تو اس وقت اس میں ضمیر تھی۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ایمان سے حال ہوا گرچہ ایمان نکرہ ہے جس طرح انہوں نے حقا کو نصب دی جو متاع سے حال ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں متاع بالمعروف حقا علی المتقین۔ (البقرۃ) عام قرات بالغۃ رفع کے ساتھ ہے یہ ایمان کی صفت ہے۔
Ayahs 68:40–41

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا اس قول میں ان کے اور بھی شریک ہیں ؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو سامنے لائیں

سلھم ایھم بذلک زعیم۔ اے محمد ﷺ ان سے پوچھئے جو میرے بارے میں خود ساختہ باتیں کرتے ہیں جس بات کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اس کا کوئی ضامن ہے کہ کفار کے لئیب ھی وہ بھلائی ہے جو مسلمانوں کے لئے ہے۔ زعیم سے مراد کفیل اور ضامن ہے (1) یہ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے۔ ابن کیسان نے کہا، یہاں زعیم سے مراد حجت قائم کرنے والا اور دعویٰ کرنے والا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، زعیم سے مراد رسول ہے (2) ام لھم شرکآء اصل کلام یہ ہے الھم شرکاء یہاں میم زائد ہے۔ شرکاء کا معین شہداء ہے۔ فلیاتوابشرکآ بھم جو انہوں نے گمان کیا ہے اس پر گواہی دیں ایسے گواہ لے آئو۔ ان کانوا صدقین۔ اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ان کے لئے ممکن ہو تو وہ اپنے شریک لے آئیں۔ یہ ایسا مر ہے جس کا معنی عجز کا اظہار ہے۔
Ayahs 68:42–43

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا اور کفار سجدے کے لئے ہلائے جائیں کے تو سجدہ نہ کرسکیں گے

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ حالانکہ (اس وقت) سجدے کے لئے بلائے جاتے تھے جب کہ وہ صحیح سالم تھے

یوم یکشف عن ساق یہ جائز ہے کہ یوم میں عامل فلیاتوا ہو۔ انہیں چاہئے کہ اپنے شریک بلا لیں جس روز پنڈلی سے کپڑا اٹھایا جائے گا تاکہ شرکاء ان کے حق میں سفارش کریں۔ یہ بھی جائز ہے کہ ایک فعل مضمر کے ساتھ یوم کو صنب دی جائے تقدیر کلام یہ ہوگی اذکر یوم یکشف عن ساق اس صورت میں صدقین پر عطف ہوگا پہلی تقدیر کی صورت میں اس پر وقف نہیں ہوگا، اسے یوم نکشف بھی پڑھا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے یوم تکشف عن ساق پڑھا ہے اس صورت میں فعل معروف ہوگا۔ تکشف الشدۃ او لقیامۃ عن ساقھا جس طرح عربوں کا قول ہے شمرت الحرب عن ساقھا جنگ نے پنڈلی سے پردہ ہٹا لیا یعنی جنگ سخت ہوگئی۔ شاعر نے کہا : فتی الحرب ان عضت بہ احلرب عضھا و ان شمرت عن ساقھا الحرب شمرا (3) وہ جنگجو ہے اگر جنگ اسے کاٹے تو وہ اسے کاٹتا ہے اور اگر جنگ پنڈلی سے پردہ ہٹالے تو وہ بھی پنڈلی سے پردہ ہٹا دیتا ہے۔ راجز نے کہا ، قد کشفت عن ساقھا فشدوا وجد الحرب بکم فجدوا (1) جنگ سخت ہوگئی پس تم بھی سخت ہو جائو جنگ نے تمہارے ساتھ سختی کی پس تم بھی سختی کرو۔ ایک اور شاعر نے کہا : کشفت لھم عن ساقھا وبدا من لاشتر الصراح (2) اس نے ان کے لئیپ نڈلی کو ظاہر کردیا اور واضح شرظاہر ہوگئی۔ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور ابوالعالیہ نے یکشف مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ قرأت یکشف کے معنی کی طرف راجع ہے گویا فرمایا : یوم تکشف القیامۃ عن شدۃ اسے یوم تکشف بھی پڑھا گیا ہے اس وقت یہ اکشف سے مشتق ہوگا۔ یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ کشف میں داخل ہو۔ اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے : اکشف الرجل فھو مکشف جب اس کا اوپر والا ہونٹ الٹ جائے۔ ابن مبارک نے ذکر کیا ہے کہ اسامہ بن زید نے عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے یوم یکشف عن ساق کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جس روز کرب اور شدت عیاں ہوجائے گی (3) ابن جریج نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے : شدت امر۔ مجاہد نے کہا، قیامت کے روز یہ سب سے مشکل ساعت ہوگی (ر) ابوعبیدہ نے کہا، جب جنگ اور امر شدید ہوگا (5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : امر اپنے اصل سے ظاہر ہوگا۔ اس میں اصل یہ ہے جو آدمی کسی ایسے امر میں واقع ہو جس میں اسے محنت و کاوش کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنی پنڈلی سے کپڑا اٹھا لیتا ہے۔ ساق اور کشف کا لفظ اس کے لئے بطور مجاز استعمال ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ساقی الشئی سے مراد اس کی اصل ہے جس پر اس کا انحصار ہوتا ہے جس طرح ساق شجر اور اسق انسان۔ مراد ہوگا جس روز معاملہ کی حقیقت کو ظاہر کردیا جائے گا تو امور کے حقائق اور ان کی اصل ظاہر ہوجائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہنم کی اصلیت ظاہر کردی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، عرش کی اصلیت کو ظاہر کردیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد موت کے وقت کا قریب آنا اور بدن کا کمزور ہونا یعنی مریض اپنی پنڈلی ننگی کرے گا تاکہ اپنا ضعف دیھ کے، موذن اس کو نماز کی دعوت دے گا تو اس کے لئے کھڑا ہونا اور نکلنا ممکن نہ ہوگا۔ جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی سے پردہ ہٹائے گا “ اللہ تعالیٰ اعضاء، ابعاض، پردہ ہٹانے اور پردہ ڈالنے سے برتر ہے اس صورت میں اس کا معنی ہوگا وہ عظیم امر کو ظاہر کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے نور سے پردہ ہٹائے گا۔ حضرت موسیٰ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ عن ساق سے مراد ہے وہ عظیم نور سے پردہ ہٹائے گا تو لوگ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے۔ (6) ابولیث سمر قندی نے اپنی تفسیر میں روایت نقل کی ہے کہ خلیل بن احمد، ابن منیع سے وہ ہدبہ سے وہ حماد بن سلمہ سے وہ عدی بن زید سے وہ عمارہ قرشی سے وہ ابوبردہ سے وہ ابو موسیٰ سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا (7):” جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ قوم کے لئے اس چیز کا مثالی جنم بنایا جائے گا جس کی وہ دنیا میں عبادت کرتے تھے ہر قوم اس کے پیچھے چلی جائے گی جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اہل توحید وہیں رہ جائیں گے ان سے کہا جائے گا : تم کس کا انتظار کر رہے ہو جبکہ لوگ جا چکے ہیں ؟ وہ کہیں گے : ہمارا ایک رب تھا جس کی دنیا میں ہم عبادت کرتے تھے ہم نے اسے دیکھا نہیں تھا فرمایا : جب تم اسے دیکھو گے تو اسے پہچان لو گے ؟ وہ عرض کریں گے : ہاں۔ انہیں کہا جائے گا : تم کیسے اسے پہچان لو گے جبکہ تم نے اسے دیکھا ہی نہیں ؟ وہ عرض کریں گے : اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان کے سامنے سے حجاب ہٹا دیا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے، تو اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے۔ کچھ لوگ رہ جائیں گے ان کی پشتیں گائے کے سینگوں کی طرح ہونگی وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے وہ سجدہ کا ارادہ کریں گے تو اس کی طاقت نہ رکھیں گے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، یوم یکشف عن ساق و یدعون الیسجود فلایستطیعون۔ کا یہی معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : میرے بندوچ اپنے سروں کو اٹھا لو میں نے تمہارے ہر آدمی کے بدلے یہود و نصاریٰ میں ایک آدمی جہنم کے لئے بنا دیا ہے۔ “ ابوبردہ نے کہا، میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بیان فرمائی حضرت عمر نے فرمایا : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ کیا تیرے باپ نے تجھے یہ حدیث بیان کی ہے ؟ ابوبردہ نے تین دفعہ قسم اٹھائی۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں نے اہل توحید کے بارے میں کوئی حدیث نہیں سنی جو مجھے اس حدیث سے زیادہ محبوب ہو۔ قیس بن سکن نے کہا، حضرت عبداللہ بن مسعود نے حضرت عمر بن خطاب کے پاس یہ بیان کیا : جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ چالیس سال تک رب العالمین کے لئے کھڑے رہیں گے۔ ان کی آنکھیں کھلی ہوں گی جو آسمان کی طرف اٹھی ہوں گی، وہ ننگے پائوں ہوں گے، ننگے بدن ہوں گے، پسینہ ان کے منہ تک پہنچ رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان سے نہ کلام رکے گا اور نہ نظر رحمت فرمائے گا پھر ایک منادی کرنے والا منادی کرے گا : اے لوگو ! کیا تمہارے اس رب کی جانب سے یہ عدل نہیں ہوگا جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری تصویر بنائی، تمہیں موت عطا کی، تمہیں زندہ کیا پھر تم نے کسی اور چیز کی عبادت کی کہ ہر قوم کو اسی طرح جانے دے جس طرح وہ خود پھرے ہیں ؟ لوگ عرض کریں گے : ہاں۔ فرمایا : ہر قوم کے لئے اسے بلند کیا جائے گا جس کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کیا کرتے تھے وہ اس کی اتباع کریں گے یہاں تک کہ انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ مسلمان اور منافق وہاں ہی کھڑے رہیں گے۔ انہیں کہا جائے گا : کیا تم اسے پہچانتے ہوڈ وہ کہیں گے : اگر اس نے ہمیں پہچان کرائی تو ہم پہچان لیں گے۔ اس موقع پر ساق (عظیم نور) سے پر دہ ہٹایا جائے گا تو جو بھی اخلاص کے ساتھ عبادت کیا کرتا تھا تو وہ سجدہ ریز ہوجائے گا منفاق اسی طر رہیں گے وہ اس کی طاقت نہ رکھیں گے گویا ان کی پشتوں میں ایسی صلاخیں ہیں جن پر گوشت بھونا جاتا ہے، انہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور سجدہ کرنے والے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان، ویدعون الی السجود فلایستطیعون۔ سے یہی مراد ہے۔ خاشعۃ ابصارھم ان کی آنکھیں ذلیل اور جھکی ہوں گی۔ اسے حال ہونے کی وجہ سے نصب دی گی ہے۔ ترھقھم ذلتۃ ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مومنین اپنے سر اوپر اٹھائیں گے جبکہ ان کے چہرے برف سے بھی زیادہ سفید ہوں گے منافقوں اور کافروں کے چہرے سیاہ ہونگے یہاں تک کہ وہ تارکول سے زیادہ سیاہ ہوں گے۔ (1) میں کہتا ہوں : حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابن مسعود کی احادیث کے معنی صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی حدیث اور دسوری احادیث سے ثابت ہیں۔ وقد کانوا یدعون الی السجود وھم سلمون۔ انہیں دنیا میں سجدہ کی دعوت دی جاتی تھی جبکہ وہ صحت مند تھے۔ ابراہیم تیمی نے کہا : اذان اور اقامت کے ساتھ انہیں دعوت دی جاتی تھی تو وہ اس کا انکار کردیتے تھے۔ سعید بن جبیر نے کہا، حی علی الفلاح کی ندا سنتے تھے تو وہ اس کا جواب نہ دیتے تھے (2) کعب الاحبار نے کہا، اللہ کی قسمچ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو جماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد ہے شرع میں جس امر کا انہیں مکلف بنایا گیا ہے اس سے پیھچے رہ جاتے ہیں۔ معنی قریب قریب ہے۔ سورة بقرۃ میں نماز با جماعت کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ ربیع بن خیثمہ کو فالج کی تکلیف ہوئی تو دو آدمیوں کے سہارے انہیں مسجد کی طرف لے جایا جاتا تھا کہا گیا : اے بایزید ! کاش آپ گھر میں ہی نماز پڑھ لیتے آپ کے لئے رخصت تھی۔ فرمایا، جس نے حی علی الفلاح کی آواز سنی تو اس پر لازم ہے کہ وہ لبیک کہے اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر جانا پڑے۔ حضرت سعید بن مسیب سے کہا گیا : طارق تھے قتل کرنا چاہتا ہے اس لئے چھپ جا فرمایا : کیا ایسی جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ مجھ پر قدرت نہیں رکھے گا ؟ ان سے کہا گیا : اپنے گھر میں بیٹھ رہو۔ فرمایا : میں حی علی الفلاح کی آواز سنوں اور اس پر لبیک نہ کہوں ؟
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں کو سمجھ لینے دو ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی .

فذرنی مجھے چھوڑ دیجیے و من یکذب من مفعول معہ ہے یا ضمیر متکلم پر معطوف ہے بھذا الحدیث مراد قرآن حکیم ہے، یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم قیامت ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے یعنی میں انہیں اجازت دیتا ہوں اور ان سے اتنقام لیتا ہوں۔ پھر فرمایا، سنستدرجھم من حیث لایعلمون۔ اس کا معنی ہے ہم اس کی غفلت میں اسے پکڑ لیں گے جبکہ وہ پچانتے تک نہ ہوں گے پس انہیں بدر کے دن عذاب میں مبتلا کیا گیا (4) حضرت سفیان ثوری نے کہا، ہم ان پر نعمتیں بہائیں گے اور شکر کرنا انہیں بھلا دیں گے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کتنے ہی لوگ ہیں جن پر احسان کرنے کے ساتھ ان کے ساتھ استدراج کیا جاتا ہے (5) کتنے ہی لوگ ہیں جن کی تعریف کر کے انہیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے کتنے ہی افراد ہیں جن کے عیبوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے تو وہ دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ ابو روق نے کہا، جب بھی وہ غلطی کرتے ہیں ہم ان پر ایک نیء نعمت کرتے ہیں اور استغفار ان سے بھلا دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، ہم ان کے ساتھ مکر کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم ان کو تھوڑا پکڑ کریں گے اور اچانک ان کو اپنی گرفت میں نہیں لیں گے۔ ایک حدیث میں ہے :” بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے عرض کی : اے میرے رب ! میں نے تیری کتنی ہی نافرمانیاں کیں تو نے مجھے سزا نہ دی ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے زمانہ کے نبی کی طرف وحی کی اس آدمی سے کہو : میری کتنی ہی تیرے لئے سزائیں ہیں جن کا تو شعور تک نہیں رکھتا، بیشک تیری آنکھوں کا (خوف الٰہی میں رونے سے) خشک ہوجانا اور تیرے دل کی سختی میری جانب سے استدراج ہے اور سزا ہے اگر تو سمجھے۔ ‘ استدراج کا معنی جلدی کو ترک کرنا ہے، اس کا اصل معنی ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا ہے جس طرح تدرج ہوتا ہے اسی سے درجۃ ہے یہ ایک منزل کے بعد دوسری منزل ہے۔ استدراج فلاں فلانا فلاں نے فلاں سے چیز آہستہ ناکلی۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : درجہ الی کذا، استدرجہ دونوں کا معنی ایک ہے۔ اس نے تدریجا اسے اپنے قریب کیا تو وہ قریب ہوگیا۔ واملی لھم میں انہیں ملت دوں گا اور مدت کو ان کے لئے لمبا کر دوں گا۔ ملاوۃ زمانے کی ایک مدت کو کہتے ہیں۔ املی اللہ لہ اس کو لمبا کردیا۔ فلوان سے مراد رات اور دن ہے۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : واملی لھم میں جلدی انہیں موت نہیں دوں گا۔ معنی ایک ہی ہے۔ سورة الاعراف میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ ان کیدی متین۔ میرا عذاب قوی اور شدید ہے کوئی مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔
Ayahs 68:45–46

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ؟

کلام اسی طرف راجع ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ام لھم شرکآء کیا تم ان سے ثواب کے طالب ہو اس بات پر جو آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہو۔ وہ اس چٹی میں پڑے ہوئے ہیں وہ اس بوجھ کے نیچے دبے چلے جا رہے ہیں جو انہیں مال خرچ کرنا پڑتا ہے یعنی ان پر کوئی مشقت نہیں بلکہ وہ آپ کی متابعت کے ذریعے زمین کے خزانوں کے مالک بن جائیں گے اور جنات نعیم تک پہنچ جائیں گے۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اس سے) لپٹے جاتے ہیں ؟

ام عندھم الغیب جو چیز ان سے غائب ہے اس کا علم اس کا علم ان کے پاس ہے فھم یکتبون۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وہ کہتے ہیں کیا اس کے باعث ان پر وحی نازل کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہاں غیب سے مراد لوح محفوظ ہے کیا وہ لوح محفوظ سے لکھتے ہیں جس کے بارے وہ آپ سے مخاصمت کرتے ہیں اور وہ لکھتے ہیں کہ وہ آپ سے افضل ہیں اور انہیں سزا نہ دی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یکتبون کا معنی ہے وہ اپنے بارے میں وہ فیصلہ کرتے ہیں جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے (یونس) کی طرح نہ ہونا کہ انہوں نے خدا کو پکارا اور وہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے

فاصبر لحکم ربک اپنے رب کے فیصلہ پر صبر کیجیے (1) یہاں حکم، قضا کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : اس کا معنی ہے آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کو جو رسالت کی تبلیغ کا حکم دیا ہے اس پر صبر کیجیے۔ ابن بحر نے کہا، اپنے رب کی نصرت (میں تاخیر) پر صبر کیجیے۔ قتادہ نے کہا، جلدی نہ کیجیے اور ناراض نہ ہوں آپ ﷺ کی مدد ضرور کی جائے گی۔ ایک ضول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت، آیت سیف سے منسوخ ہے۔ ولاتکن کصاحب الحوت مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں یعنی غضب، اندرونی پریشانی اور جلد بازی میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجائیے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو صبر کی تلقین کرتا ہے اور صبر کا حکم دیتا ہے جس طرح صاحب حوت نے جلدی کی اللہ کا رسول جلدی نہیں کرتا (2) اس کی وضاحت سورة یونس، سورة انبیاء اور سورة صافات میں گزر چکی ہے۔ ذی اور صاحب کی اضافت کے بارے میں گفتگو سورة یونس میں گزر چکی ہے یہاں اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اذنادی جب حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں دعا کی لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ (3) وھو مکظوم۔ وہ غم سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ کرب سے بھرے ہوئے تھے۔ پہلا قول حضرت ابن عباس اور دوسرا مجاہد کا ہے۔ دوسرا قول عطا اور باو مالک کا ہے۔ ماوردی نے کہا، دونوں میں فرق یہ ہے کہ غم دل میں ہوتا ہے اور کرب انفاس میں ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مکظوم کا معنی محبوس ہے۔ کضم کا معنی حبس ہے یعنی روکنا۔ اسی معنی میں یہ قول ہے : فلاں کضم غیضہ فلان نے اپنا غصہ روک لیا، یہ ابن بحر کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کظلمہ سے ماخوذ ہے اس سے مراد نفس کی نالی ہے، یہ مبرد کا قول ہے۔ یہ اور دوسری چیزیں سورة یوسف میں گزر چکی ہیں۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی انکی آوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا

لولا ان تدر کہ نعمۃ من ربہ عام قرأت تدرکہ ہے۔ ابن ہر مز اور حضرت حسن بصری نے تدار کہ پڑھا ہے۔ یہ مضارع کا صیغہ ہے اس کی تاء کو دال میں ادغام کیا گیا ہے یہ حال کی حکایت کی تقدیر پر ہے۔ گویا فرمایا، لولا ان کان یقال فیہ تتدار کہ نعمۃ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے تدارکتہ پڑھا ہے یہ متن کی کتابت کے خلفا ہے تدار کہ فعل ماضی ہے مذکر ہے نعمۃ کے معنی پر محمول ہے کیونکہ نعمۃ کی تانیث غیر حقیقی ہے تدار کہ نعمۃ کے لفظ کا اعتبار کرتے ہئے پڑھا ہے۔ نعمۃ کے معنی میں یہاں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی نبوت ہے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد وہ عبارت ہے جو پہلے گزر چکی، یہ ابن جبیر کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد آپ کی یہ دعا ہے لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ یہ ابن زید کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : نعمت سے مراد مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالنا ہے، یہ ابن بحر کا قول ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد رب کی رحمت ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور ان پر نظر شقت فرمائی۔ لنبذبالعرآء وھم مذموم۔ تو انہیں پھینکا جاتا جبکہ وہ مذموم ہوتے لیکن انہیں پھینکا گیا جبکہ وہ بیمار تھے اور مذموم نہیں تھے۔ حضرت ابن عباس کے قول میں مذموم کا معنی ملیم (ملامت کیا گیا) ہے۔ بکر بن عبداللہ نے کہا، اس کا معنی گناہگار ہے (3) ایک قول یہ کیا یا ہے : مذموم کا معنی ہر بھلائی سے دور کئے گئے۔ العراء سے مراد ایسی وسیع زمین ہے جس میں پہاڑ اور درخت نہ ہوں جو اس زمین کو ڈھانپ سکیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہوتے پھر انہیں قیامت کے مدیان میں مذموم پھینک دیا جاتا اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے۔ فلولا انہ کان من المسحین۔ لتلبث فی بطنہ الی یوم یبعثون۔ (الصافات) ۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کر کے نیکوکاروں میں کردیا

فاجتبہ ربہ اسے پسند کیا اور اسے اختیار کیا۔ فجعلہ من الصلحین۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ نے ان کی طرف وحی لوٹا دی آپ کی ذات اور ان کی قوم کے بارے میں آپ کی سفارش کو قبول فرمایا اور ان کی توبہ کو قبول کیا فجعلہ من اصلحین۔ سے مراد ہے آپ کو ایک لوگوں سے زائد افراد کی طرف نبی بنا کر مبعوث کیا۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے

وان یکاد الذین کفروا ان یہ مشقلہ سے مخففہ ہے لیزلقونک یعنی وہ آپ کو نظر لگائیں۔ بابصارھم اس امر کی خبر دی کہ وہ نیب کریم ﷺ سے شدید عداوت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ آپ کو نظر لگائیں (4) تو قریش میں سے چند لوگوں نے آپ کو دیکھا اور انہوں نے کہا، ہم نے آپ کی مثل نہیں دیکھا اور ان کے جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بنی اسد میں نظر لگانے کا عام رواج تھا یہاں تک کوئی موٹی گائے یا موٹی اونٹنی ان میں سے کسی کے پاس سے گزرتی تو وہ اس کو نظر لگاتے پھر وہ کہتے : اے لونڈی ٹوکرا اور درہم لو اور اس اونٹنی کا گوشت لے آئو۔ وہی اسی حال میں ہوتی کہ موت کے لئے گر پڑتی تو اسے نحر کردیا جاتا۔ کلبی نے کہا، عربوں میں سے ایک آدمی تھا جو دو یا تین دن کھانا نہ کھاتا پھر خیمہ کا پردہ اٹھاتا اس کے پاس اونٹ یا بکری گزرتی تو وہ کہتا : میں نے اس سے بہتر اونٹ اور بکری نہیں دیکھی (1) تھوڑی دور ہی وہ چیز جاتی یہاں تک کہ وہ چیز گر جاتی۔ کفار نے اس آدمی سے سوال کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو نظر لگائیں اس نے ان کی بات مان لی جب نبی کریم تو اس نے یہ شعر پڑھا : قد کان قومک یحسبونک سیداً و اخال انک سید مغیون تیری قوم تجھے سردار گمان کرتی ہے جبکہ میرا خیال ہے کہ تو ایسا سردار ہے جس کو نظر لگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس سے محفوظ رکھا، تو یہ آیت نازل ہوئی و ان یکاد الذین کفروا الیزلقونک اسی کی مثال مادردی نے ذکر کیا ہے۔ عربوں میں یہ معملو تھا جب ان میں سے کوئی نظر لگانا چاتہا وہ اس کی ذات میں ہو یا مال میں وہ تین دن تک بھوکا رہتا (2) پھر وہ اس کے مال اور نفس کا سامنا کرتا تو وہ کہتا : اللہ کی قسم ! میں نے اس سے زیادہ قوی، اس سے زیادہ بہادر، اس سے زیادہ ملادار اور اس سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا تو اسے نظر لگ جاتی تو وہ اس کا مال ہلاک ہوجاتا اللہ تعالیٰ نے اسی آیت کو نازل فرمایا۔ قشیری نے کہا : اس میں اعتراض کی گنجائش ہے کیونکہ نظر اس وقت لگتی ہے جب کسی چیز کو اچھا خیال کیا جائے اور اس پر تعجب کا اظہار کیا جائے ناپسندیدگی اورب غض کی وجہ سے نظر نہیں لگتی، اسی وجہ سے فرمایا : یقولون انہ لمجنون۔ یعنی وہ آپ کی نسبت جنون کی طرف کرتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ قرمآن پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں، مفسرین اور لغت کے علماء کے اقوال اس پر دلالت کرتے ہیں جو ہم نے ذکر کیا ہے نظر سے ان کی مراد سرور دو عالم ﷺ کو قتل کرنا تھا۔ کسی شی کو نپاسند کرنا اس امر کے مانع نہیں کہ دشمنی کی وجہ سے کسی نظر لگائی جائے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، اعمش، ابو سلام اور مجاہد نے لیزھقونک پڑھا ہے (و) یعنی تاکہ وہ آپ کو ہلاک کریں۔ یہ قرات تفسیر کے طریقہ پر ہے یہ زھقت نفسہ ازھقھا سے مشتق ہے اہل مدینہ نے لیزلقونک کو یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، زلقہ، یزلقہ، زلقہ، یزلقہ ازلاقا جب اسے ایک طرف کردیا اور اسے دور کردیا۔ زلق راسہ یزلقہ زلقا۔ جب اس کا حلق کیا، اسی طرح ازلقہ اور زلقہ تزلیقھا ہے رجل زلق و زملق جس کی مثل ھدبہ ہے اس کی جمعہ زمالق اور زملق ہے اس سے مراد وہ مرد ہے جس کو جماع سے قبل انزال ہوجائے۔ اسے جوہری اور دوسرے علماء نے حکایت کیا ہے۔ کلمہ کا معنی ہوگا ایک طرف کرنا اور زائل کرنا۔ نبی کریم کے حق میں یہ چیز نہیں ہوگی مگر آپ ﷺ کو ہلاک کرنے اور آپ ﷺ کی موت کی صورت میں واقع ہوگی۔ ہروی نے کہا، ارادہ کیا کہ وہ اپنی نظروں کے ساتھ آپ ﷺ کو نظر لگائیں اور آپ ﷺ کو اس مقام سے زائل کردیں جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کھڑا کیا ہے وجہ آپ ﷺ سے دشمین ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وہ اپنی نظروں سے آپ ﷺ کو ہلاک کردیں (1) یہ جملہ بولا جاتا ہے : زلق السھم و زھق جب تیر آر پار ہوجائے، یہ مجاہد کا قول ہے : وہ پانی نظر کی شدت سے آپ ﷺ کو ہلاک کردیں (2) کلبی نے کہا، وہ آپ ﷺ کو پچھاڑ دیں۔ ان سے یہب یھ مروی ہے نیز سدی اور سعید بن جبیر نے کہا، آپ ﷺ جو تبلیغ کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اس سے آپ ﷺ کو پھیر دیں۔ عوفی نے کہا، وہ آپ ﷺ کو تیر ماریں۔ مورج نے کہا، وہ آپ ﷺ کو پھسلا دیں۔ نضر بن شمیل اور اخفش نے کہا، وہ آپ ﷺ کو فتنہ میں ڈال دیں۔ عبدالعزیز بن یحییٰ نے کہا، وہ آپ ﷺ کو ترچھی نظروں سے دیھکتے ہیں۔ ابن زید نے کہا، تاکہ وہ آپ ﷺ کو مس کریں۔ امام جعفر صادق نے کہا، تاکہ وہ آپ کو کھا جائیں۔ حضرت حسن بصری اور ابن کیسان نے کہا، تاکہ وہ آپ کو قتل کردیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے، صرعنی بطرفہ، قتلنی بعینہ اس نے مجھے اپنی نظر ہے پچھاڑ دیا اور اس نے مجھے اپنی نظر سے قتل کردیا۔ شاعر نے کہا ، یتقارضون اذا التقوا فی مجلس نظرا یزل مواطی الاقدام (3) جب وہ کسی مجلس میں ملتے ہیں وہ گھور کر ایسی نظر سے دیکھتے ہیں جو قدموں کو اپنی جگہ سے ہلا کر رکھ دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ تیری طرف عداوت سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ قریب ہے وہ آپ ﷺ کو گرا دیں۔ یہ سب اسی طرف رجع ہے جو ہم نے ذکر کیا۔ جامع معنی یہ ہے وہ تجھے نظر لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور (لوگو) یہ (قرآن) اہل عالم کے لئے صحت ہے

وما ھو الا ذکر للعلمین۔ حالانکہ وہ نہیں مگر سارے جہانوں کے لئے وجہ عزو شرف یعنی قرآن نہیں ہے مگر جہانوں کے لئے نصیحت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، حضرت محمد ﷺ نہیں ہیں مگر جہانوں کے لئے نصیحت جس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : اس کا معنی شرف ہے یعنی قرآن شرف ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وانہ لذکرلک و لقومک (الزخرف : 44) نبی کریم ﷺ بھی جہانوں کے لئے نصیحت ہیں (4) جہان کے لوگ آپ کی اتباع کر کے اور آپ پر ایمان لا کر شرف والے ہوگئے۔ سورۃ الحاقہ تمام کے قول میں یہ سورت مکی ہے، اس کی اکاون آیات ہیں۔ ابو زاہریہ نے حضرت ابوہریہ سے روایت نقل کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے سورة حاقہ کی گیارہ آیات کی تلاوت کی اسے دجال کے فتنہ سے پناہ دے دی گئی جس نے اس سورت کو پڑھاق یا مت کے روز سر کے اوپر سے قدموں تک اس کے لئے نور ہوگا۔ “