Ayahs 59:16–17تفسیر
کمثل الشیطن اذ قال للانسان کفریہ منافقوں اور یہودیوں کے لئے ضرب المثل ہے کہ وہ بےیارومددگار چھوڑ دیتے ہیں اور مدد کے وعدہ کو پورا نہیں کرتے (1) ۔ حرف عطف کو حذف کیا کمثل الشیطان نہیں کہا کیونکہ حرف عطف اکثر حذف ہوتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : انت عاقل۔ انت کریم۔ انت عالم۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ انسان جسے شیطان نے کہا تھا تو کفر کر وہ ایک راہب تھا اس کے ہاں ایک عورت چھوڑ دی گئی جس کو سایہ کا مرض تھا تاکہ وہ اس کے حق میں دعا کرے۔ شیطان نے اس راہب کے لئے اس عمل کو مزین کیا تو راہب نے اس عورت سے وطی کی تو وہ عورت حاملہ ہوگئی پھر شرمندگی سے بچنے کے لئے اس عورت کو قتل کردیا۔ شیطان نے اس کی قوم کو اس عورت کی میت کی جگہ سے آگاہ کردیا، وہ لوگ آئے انہوں نے راہب کو نیچے اتارا تاکہ اسے قتل کریں۔ شیطان اس راہب کے پاس آیا اور اس سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اسے سجدہ کرے تو وہ لوگوں سے اسے بچالے گا۔ اس راہب نے اس کے سامنے سجدہ کیا تو شیطان نے اس برا ئت کا اظہار کردیا اور اسے ان کے سپرد کردیا “۔ اس رایت کو اسماعیل اور علی بن مدینی نے سفیان بن عینیہ سے وہ عمرو بن دینار سے وہ عروہ بن عامر سے وہ حضرت عبید بن رفاعہ زرقی سے وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں اس کو حضرت اب عباس ؓ اور وہب بن منبہ نے تفصیلاً ذکر کیا ہے، الفاظ مختلف ہیں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ راہب فترہ کے دور میں تھا جسے برصیصا کہتے۔ اس نے اپنی عبادت گاہ میں ستر سال تک عبادت کی اس عرصہ میں ایک لمحہ کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی یہاں تک کہ اس سنے ابلیس کو بھی بےبس کردیا۔ ابلیس نے سرکش شیاطین کو جمع کیا اس نے کہا : کیا میں تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں پاتا جو برصیصا کے معاملہ میں مجھے کافی ہو ؟ ابیض نے کہا : جو انبیاء کو آزمائش میں ڈالنے کی کوشش کرتا یہی وہ شیطان تھا جس نے جبریل امین کی صورت میں نبی کریم و کی خدمت میں حاضری دی تاکہ وحی کی صورت میں وسوسہ اندازی کرے۔ حضرت جبریل امین حاضر ہوگئے اور دونوں کے درمیان آگئے پھر اس شیطان کو ہاتھ سے دھکا دیا یہاں تک کہ وہ ہند کے دور دراز علاقہ میں جا پڑا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمانا : ……۔ (التکویر) میں اسی قوت کی طرف اشارہ ہے۔ ابیض نے کہا : میں اس راہب کو تیری طرف سے کافی ہوں، وہ گیاراہبوں کا لباس پہنا، سر کے درمیان سے حلق کرایا یہاں تک کہ برصیصاء کی عبادت گاہ کے پاس آیا۔ ابیض نے برصیصاء کو ندادی تو برصیصاء نے اس ابیض شیطان کو کوئی جواب نہ دیا وہ اپنی عبادت میں وقفہ نہیں کرتا تھا مگر دس دنوں میں سے ایک دن وقفہ کرتا اور دس دنوں میں سے ایک دن روزہ افطار کرتا۔ وہ دس دن، بیس دن اور اس سے زیادہ دن صوم و صال رکھتا۔ جب ابیض نے یہ دیکھا کہ وہ اسے کوئی جواب نہیں دے رہا تو وہ بھی برصیصاء کی عبادت گاہ کے نیچے والے حصہ میں عبادت کرنے لگا جس روز برصیصا نے نماز میں وقفہ کیا تو اس نے ابیض کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر عبادت کر رہا ہے اور راہبوں کی بہت ہی اچھی حالت میں ایسا کر رہا ہے تو اس نے اس امر پر شرمندگی کا اظہار کیا کہ اس نے اسے اس وقت کوئی جواب نہ دیا تھا جب اس نے اسے بلایا تھا۔ برصیصاء نے پوچھا : تیرا کیا کام ہے ؟ ابیض نے کہا : میں تیرے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اور تیرے ادب سے ادب سیکھنا چاہتا ہوں اور تیرے عمل سے اقتساب فیض کرنا چاہتا ہوں اور ہم اکٹھے عبادت کریں گے۔ برصیصاء نے کہا : میں تجھ سے اعراض کرنے والا ہوں۔ پھر اپنی عبادت کی طرف متوجہ ہوگیا اور ابیض بھی نما زکی طرف متوجہ ہوگیا۔ جب برصیصاء نے اس کی سخت محنت اور عبادت کو دیکھا تو پوچھا : تیرا کیا کام ہے ؟ ابیض نے کہا : تو مجھے اجازت دے کہ میں تیرے پاس اوپر آجائوں۔ برصیصاء نے اسے اجازت دے دی۔ ابیض اس کے ساتھ ایک سال تک رہا۔ وہ چالیس دنوں میں صرف ایک روز افطار کیا کرتا تھا اور چالیس دنوں میں عبادت میں ایک دن وقفہ کیا کرتا تھا۔ بعض اوقات وہ اس عرصہ کو چالیس روز تک بڑھا تیدا۔ جب برصیصاء نے اس کی محنت کو دیکھا تو اسے اس کے مقابلہ میں اپنا عمل تھوڑا محسوس ہوا۔ پھر ابیض نے کہا : میرے پاس ایسی دعائیں ہیں اللہ تعالیٰ جن کے ذریعے بیمار، ابتلاء زدہ اور مجنون کو شفا عطا فرماتا ہے اور وہ دعائیں برصیصاء کو سکھا دیں۔ پھر ابلیس کے پاس آگیا۔ اس سے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اس آدمی کو ہلاک کردیا ہے۔ پھر آیک آدمی سے آمنا سامنا ہوا، اس کا گلا دبایا پھر اس کے گھروالوں سے کہا جب کہ ان کے پاس ایک انسان کی شکل میں آیا : تمہارے ساتھ کو جنون کا مرض ہے کیا میں اس کا علاج کرو ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : جنیہ پر میرا کوئی اختیار نہیں بلکہ تم اسے برصیصاء کے پاس لے جائو۔ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے جب اس کے واسطہ سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کردیتا ہے اور جب اس کے واسطہ سے دعا کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ وہ دعا قبول کرتا ہے۔ لوگ برصیصاء کے پاس آئے تو شیطان اس آدمی کے پاس سے چلا گیا پھر ابیض لوگوں کے ساتھ یہی معاملہ کرتا اور برصیصاء کی طرف ان کی راہنمائی کرتا اور لوگ اس مصیبت سے نجات پا جاتے۔ پھر وہ بادشاہ کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی تک جا پہنچا جس کے تین بھائی تھے ان کا باپ بادشاہ تھا، وہ خود مرگیا اور اپنے بھائی کو اپنا نائب بنایا ان کا چچا بنی اسرائیل میں بادشاہ تھا۔ ابیض نے اس بچی کو بڑی تکلیف دی اوعر اس کا گلہ دبایا پھر ایک معالج کی حیثیت سے ان کے پاس آیا تاکہ اس کا علاج کرے، پھر کہا : اس کا شیطان بہت ہی سرکش ہے وہ قابو آنے والے نہیں بلکہ اسے برصیصاء کی طرف لے جائو اور اس کے پاس چھوڑ آئو۔ جب اس کا شیطان آئے گا، برصیصاء اس کے حق میں دعا کرے گا تو وہ لڑکی ٹھیک ہوجائے گی۔ لوگوں نے کہا : برصیصاء ہماری اس بات کو تو قبول نہیں کرتا۔ ابیض نے کہا : اس کی عبادت گاہ کے قریب ایک اور مینارہ بنادو۔ پھر اس میں اس بچی کو رکھ آئو اور اسے کہہ آئو : یہ تیرے پاس امانت ہے اس کا خیال رکھنا۔ لوگوں نے برصیصاء سے پوچھا : اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ لوگوں نے اس طرح کی عبادت گاہ بنائی اور لڑکی کو وہاں ہی چھوڑ آئے۔ جب وہ اپنی عبادت سے فارغ ہو اس نے لڑکی اور اس کے جمال کو دیکھا تو اس کے ہاتھ میں جو کچھ تھا وہ نیچے گرگیا ۔ شیطان اسی بچی کے پاس آیا اور اس کے گلے کو دبایا، اس نے عبادت میں وقفہ کیا، اس کے حق میں دعا کی تو شیطان اس کے پاس سے چلا گیا۔ پھر وہ نما زکی طرف متوجہ ہوگیا۔ شیطان اس کے پاس پھرا آیا اور اس کا گلہ دبایا۔ شیطان اس کے ستر سے پردے کو ہٹاتا اور برصیصاء کے سامنے کرتا پھر برصیصا کے پاس شیطان آیا اور کہاـ:ـ تو ہلاک ہو، اس سے لطف اٹھا تو اس کی مثل کوئی عورت نہیں پائے گا، پھر توبہ کرلینا۔ شیطان لگاتار اس کے پاس آتا رہا یہاں تک کہ اس نے اس لڑکی سے بدکاری کی وہ لڑکی حاملہ ہوگئی اور اس کا حمل ظاہر ہوگیا۔ شیطان نے اسے کہا : تو ہلاک ہو ! تو تو رسوا ہوگیا۔ کیا تیرے لیے ممکن ہے کہ تو اس کو قتل کرے پھر تو توبہ کرلے اور رسوا نہ ہو۔ اگر لوگ تیرے پاس آئیں اور تجھ سے سوال کریں تو کہہ دینا : اس کا شیطان اس کے پاس آیا تھا اور اسے لے گیا ہے۔ برصیصاء نے اسے قتل کردیا اور رات کے وقت دفن کردیا۔ شیطان نے اس لر کی کے کپڑوں کی ایک جانب کو پکڑ لیا یہاں تک کہ متی میں سے باہر نکال دیا اور برصیصا عپنی عبادت گاہ کی طرف واپس لوٹ آیا۔ پھر شیطان خواب میں اس کے بھائیوں کے پاس آیا اور کہا : برصیصاء نے تمہاری بہن کے ساتھ یہ عمل کیا ہے پھر اسے قتل کیا اور فلاں فلاں پہاڑ میں اسے دفن کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کو عجیب و غریب جانا۔ انہوں نے برصیصاء سے پوچھا : تو نے ہماری بہن کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے جواب دیا : اس کا شیطان اسے لے گیا۔ انہوں نے برصیصا کی تصدیق کی اور واپس چلے گئے۔ شیطان پھر ان کے پاس نیند میں آیا، اس نے کہا : وہ تو فلاں فلاں جگہ مدفون ہے اوعر اس کی چادر کی ایک جانب مٹی سے باہر ہے۔ وہ لوگ اس جگہ گئے اور اسے طرح پایا۔ انہوں نے برصیصاء کی عبادت گاہ کو گرا دیا، اسے نیچے اتارا اور اس کا گلا دبا دیا اور اسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔ برصیصاء نے اپنے خلاف اقرار کرلیا۔ بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ جب برصیصاء کو سولی پر لٹکایا گیا تو شیطان نے کہا : کیا تو مجھے پہنچانتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ! کہا : میں وہی تیرا ساتھی ہوں جس نے تجھے دعائیں سکھائی تھیں۔ کہا : تو اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرا، کیا تجھے حیاء نہ آئی جبکہ تو بنی اسرائیل میں سے سب سے زیادہ عبادت گزار تھا۔ پھر تیرا عمل تجھے کافی نہ ہوا یہاں تک کہ تو نے اپنے آپ کو ذلیل و رسوا کرلیا اور اپنے خلاف اقرار کرلیا اور اپنے جیسے لوگوں کو بھی ذلیل و رسوا کردیا۔ اگر تو اسی طرح مرگیا تو تیرے بعد تجھ جیسے افراد میں سے کوئی کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا۔ برصیصا نے پوچھا : میں کیا کروں ؟ اس نے کہا : تو میری ایک بات مان میں تمہیں ان سب سے نجات دلا دوں گا اور ان کی آنکھیں سلب کرلوں گا۔ برصیصا نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ ابیض نے کہا : تو مجھے ایک سجدہ کر۔ اس نے کہا : میں ایسا کرتا ہوں۔ برصیصا نے اللہ تعالیٰ کی بجائے اسے سجدہ کیا۔ ابیض نے کہا : اے برصیصا ! میں نے تجھ اسی کا ارادہ کیا تیرا انجام یہ ہوا کہ تو نے اپنے رب کا انکار کردیا، میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں (1) ۔
وہب بن منبہ نے کہا : بنی اسرائیل میں ایک عبادت گزار تھا وہ اپنے زمانہ کا سب سے زیادہ عبادت گزار تھا اس کے زمانہ میں تین بھائی تھے اور ان کی ایک بہن تھی۔ وہ نوجوان بچی تھی، اس کی کوئی اور بہن نہیں تھی۔ تینوں کو ایک فوجی مہم پر جانا پڑا وہ نہیں جانتے تھے کہ اپنی بہن کو کس کے پاس چھوڑ جائیں ؟ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کس کے پاس محفوظ رہے گی اور کس کے پاس سے اس ضائع کر بیٹھیں گے ؟ ان کی رائے اس پر متفق ہوئی کہ وہ اسے بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار کے پاس چھوڑ جائیں انہیں اس پر اعتماد تھا وہ اس کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ وہ اپنی بہن کو اس کے پاس چھوڑ جائیں، وہ اس کی عبادت گاہ اور پناہ میں رہے گی یہاں تک کہ وہ جنگ سے واپس آجائیں۔ اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ان سے اور ان کی بہن سے اللہ کی پناہ چاہی وہ لگار تار اس سے مطالبہ کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے ان کی بات مان لی۔ اس نے کہا : میری عبادت گاہ کے سامنے والے کمرے میں اسے ٹھہرا جائو۔ انہوں نے اسے کمرہ میں ٹھہرا دیا پھر وہ چلے گئے اور اسے وہاں چھوڑ دیا۔ وہ ایک زمانہ تک اس عبادت گزار کی پناہ گاہ میں رہی وہ اپنی عبادت گاہ سے اس کے لئے کھانا لاتا، اسے عبادت گاہ کے دروازہ پر رکھتا پھر دروازہ بند کردیتا اور اپنی عبادت گاہ پر چلا جاتا، پھر اسے حکم دیتا وہ اپنے کمرے سے نکلتی تو اس کے لئے جو کھانا رکھا ہوتا اسے لے لیتی۔ شیطان نے اس کے ساتھ لطیف حیلہ کیا وہ اسے بھلائی کی رغبت دلاتا اور بچی کے لئے دن کے وقت گھر سے نکلنے کو بہت برا خیال کرتا اور اسے ڈراتا کہ کوئی اسے دیکھ ہی نہ لے اور اس کی محبت میں گرفتار نہ ہوجائے۔ وہ ایک زمانہ تک اسی خیال میں رہا۔ پھر ابلیس اس کے پاس آیا، اسے بھلائی اور اجر میں رغبت دلائی اسے کہا : اگر تو خود اس کی طرف کھانا لے جائے یہاں تک کہ تو خود کھانا اس کے کمرے میں رکھ آئے تو یہ تیرے لئے بڑا اجر کا باعث ہوگا۔ وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ کھانا اس کے کمرے تک لے گیا اور کھانا اس کے کمرے میں رکھ آیا۔ وہ کافی عرصہ سے یہی کام کرتا رہا پھر اس کے پاس ابلیس آیا، اسے بھلائی کی طرف رغبت دلائی اور اسے اس پر برافگیختہ کیا اور کہا : اگر تو اس کے ساتھ کلام کرتا اور وہ تیری گفتگو سے مانوس ہوتی کیونکہ اسے سخت تنہائی کا سامنا ہے۔ وہ اس طرح کرتا رہا وہ اپنی عبادت گاہ سے اس پر جھانکتا پھر ابلیس اس کے پاس آیا کاش ! تو اس کی طرف اترتا تو اپنی عبادت گاہ کے دروازہ پر بیٹھتا اور تو اس سے بات کرتا اور وہ اپنے کمرے کے دروازے پر بیٹھتی تو یہ اس کے لئے زیادہ انس کا باعث ہوتا۔ وہ اس طرح باتیں کرتا رہا یہاں تکہ کہ اسے نیچے اتارا اور اسے اپنی عبادت گاہ کے دروازہ پر لا بٹھایا وہ اس لڑکی کے ساتھ باتیں کرتا، وہ لڑکی اپنے کمرے سے نکلتی وہ طویل عرصہ تک اسی طرح باتیں کرتے رہے، پھر ابلیس اس کے پاس آیا، اسے خیر وثواب کی رغبت دلائی جو وہ اس لڑکی کے ساتھ حسن عمل کرسکتا تھا اور کہا : اگر تو اپنی عبادت گاہ کے دروازہ سے نکلے اور اس لڑکی کے کمرہ کے دروازہ کے قریب بیٹھے تو وہ اس کے لئے زیادہ انس کا باعث ہوگا، وہ اسی طرح راغب کرتا رہا یہاں تک کہ اس عبادت گزار نے یہ عمل بھی کیا۔ وہ طویل عرصہ تک اسی طرح رہے۔ پھر ابلیس اس کے پاس آیا، اسے بھلائی کی رغبت دلائی اور جو وہ احسان اس لڑکی کے ساتھ کر رہا ہے اس کے حسن ثواب کا ذکر کیا اور اس سے کہا : اگر تو اس کے کمرے کے دروازے کے قریب چلا جائے اور وہ اپنے کمرے سے نہ نکلے۔ اس عبادت گزار نے اسی طرح کیا وہ اپنی عبادت گاہ سے نیچے اترتا اس کے کمرے کے دروازے پر بیٹھتا اور اس سے باتیں کرتا۔ وہ دونوں اسی حالت میں رہے اس کے پاس پھر ابلیس آیا کہا : اگر تو اس کے کمرے میں داخل ہو اور اس سے باتیں کرے اور وہ لڑکی کسی کے لئے بھی اپنا چہرہ ظاہر نہ کرے تو یہ تیرے لئے زیادہ بہتر ہے۔ وہ اسی طرح وسوسہ ڈالتا رہا یہاں تک کہ وہ گھر میں داخل ہوگیا، وہ سارا سارا دن اس سے باتیں کرتا رہا، جب شام ہوتی وہ اپنی عبادت گاہ میں چلا جاتا۔ پھر ابلیس اس کے پاس آیا وہ لگاتار اس لڑکی کو اس کے سامنے مزین کرکے پیش کرتا یہاں تک کہ عبادت گزار نے اس کی راب پر ہاتھ مارا اور اس کا بوسہ لیا۔ ابلیس لگاتار اسے مزین کرکے پیش کرتا رہا اور ورغلاتا رہا یہاں تک کہ اس عبادت گزارنے اس کے ساتھ بدکاری کی اور اس لڑکی کو حمل ہوگیا تو اس کا لڑکا پیدا ہوگیا۔ ابلیس نے اس کے پاس آیا اسے کہا : بتا اگر اس لڑکی کے بھائی تیرے پاس آئے جبکہ اس لڑکی نے تجھ سے یہ بچہ جنا ہے تو تو کیا کرے گا ؟ مجھے تو خوف ہے کہ تو رسوا ہوجائے گا۔ اس کے بیٹے کیطرف اٹھو اسے ذبح کردو اور اسے دفن کردو۔ یہ اپنے بھائیوں کے ڈر سے تیرا راز مخفی رکھے گی کہ جو کچھ تو نے اس کے ساتھ کی طرف اٹھوا سے ذبح کردو اور اسے دفن کردو۔ یہ اپنے بھائیوں کے ڈر سے تیرا راز مخفی رکھے گی کہ جو کچھ تو نے اس کے ساتھ کیا ہے وہ اس پر مطلع ہوں۔ اس نے اسی طرح کیا، پھر اسے کہا : کیا تیرا خیال ہے کہ یہ اس راز کو اپنے بھائیوں سے مخفی رکھے گی جو تو نے اس کے ساتھ کیا اور اسکے بیٹے کو قتل کیا ؟ اسے پکڑ لے اسے ذبح کرے اور اس کے بیٹھے کے ساتھ اسے بھی دفن کر دے۔ شیطان لگا تار اسے ورغلاتا رہا یہاں تک کہ اسے بھی ذبح کردیا اور اس کے بیٹے کے ساتھ اسے گڑھے میں پھینک دیا اور اس پر بہت بڑی چٹان ڈال دی اور اپنے گرجے میں عبادت کرنے لگا۔ وہ اس میں اس طرح رہا جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ رہے یہاں تک کہ اس کے بھائی جنگ سے واپس آئے وہ اس کے پاس آئے اور اس کے بارے میں سوال کیا۔ راہب نے اس کی خبر دی اور اس کے لئے دعا کی اور ان کے لئے رویا اور کہا : وہ بہت اچھی بچی تھی، یہ اس کی قبر ہے اسے دیکھ لو۔ بھائی قبر پر آئے اور اس کی قبر پر روئے اور اس کے لئے رحم کی دعا کی، چند روز اس کے قبر پر رہے پھر اپنے گھر چلے گئے۔ جب رات تاریک ہوگئی اور اپنے بستروں پر سوئے تو شیطان ان کے پاس ایک مسافر کی صورت میں آیا۔ ان میں سے بڑے سے ان کی بہن کے بارے میں پوچھا۔ اس نے عابد کے قول، اس کی موت اور دعا کے بارے میں بتایا اور جس طرح اس نے انہیں قبر دکھائی سب کا ذکر کیا۔ شیطان نے اسے جھٹلایا، کہا : اس نے تم سے تمہاری بہن کے بارے میں سچ نہیں بولا۔ اس نے تمہاری بہن کو حاملہ کیا اور اس کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوا اس نے بچے اور اس لڑکی کو ذبح کیا اور ایک گڑھے میں پھینک دیا جو اس نے اس دروازہ کے پیچھے بنایا تھا جو آدمی اس دروازہ سے داخل ہوتا ہے اس کی دائیں جانب یہ گڑھا ہے۔ تم چلو اور دروازے سے داخل ہوجائو وہ گڑھا اس آدمی کی دائیں جانب ہوگا جو آدمی اس میں داخل ہوتا ہے، میں نے جو کچھ تمہیں بتایا ہے تم وہاں سب کچھ پالو گے۔ وہ درمیانے کو خواب میں آیا اور اسے اس طرح بتایا پھر سب سے چھوٹے کے پاس آیا اسے بھی اس کی مثل بتایا۔ جب وہ سارے اٹھے تو ان میں سے ہر ایک نے جو خواب دیکھا تھا اس پر متعجب ہوا وہ ایک دوسرے کیطرف متوجہ ہوا۔ ان میں سے ہر ایک یہ کہہ رہا تھا : میں نے عجیب و غریب خواب دیکھا ہے اور ہر ایک نے جو خواب دیکھا تھا اس کا ذکر کیا۔ ان میں سے سب سے بڑے نے کہا : یہ خواب پریشان ہے یہ کوئی چیز نہیں چلو اور اس کو چھوڑ دو ۔ ان میں سے سب سے چھوٹے نے کہا : میں اس وقت تک نہیں جائوں گا جب تک اس جگہ کو نہ دیکھو لوں۔ وہ سب گئے یہاں تک کہ اس کمرے میں داخل ہوئے جن میں ان کی بہن رہتی تھی انہوں نے دروازہ کھولا، انہوں نے اس جگہ کو کھودا جو خواب میں ان کے لئے بیا کی گئی تھی انہوں نے اپنی بہن اور اس کے بیٹے کو ذبح شدہ پایا وہ دونوں اس گڑھے میں تھے جس طرح انکے لئے بیان کیا گیا تھا انہوں نے اس عبادت گزار سے پوچھا تو اس نے ابلیس کے قول کی تصدیق کردی کہ اس نے ان دونوں کے ساتھ وہی سلوک کیا تھا۔ انہوں نے اپنے حاکم سے اس عبادت گزار کے خلاف مدد طلب کی اسے اس کے گرجا اسے اتارا گیا اور وہ اسے لے گئے تاکہ اسے سولی پر لٹکا یا جائے۔ جب انہوں نے اسے سولی پر کھڑا کیا تو شیطان اس کے پاس آیا اور اسے کہا : تو جانتا ہے میں وہی تیرا ساتھی ہوں میں نے تجھے اس عورت کے بارے میں فتنہ میں ڈالا یہاں تک کہ تو نے اسے حاملہ کردیا، تو نے اس کو ذبح کیا اور اس کے بیٹے کو ذبح کیا اگر تو آج میری اطاعت کرے اور جس اللہ نے تجھے پیدا کیا ہے اس کا انکار کردے تو تو جس مصیبت میں ہے میں تجھے اس سے نجات عطا کردوں گا۔ اس عبادت گزار نے اللہ تعالیٰ کا نکار کردیا۔ جب اس نے کفر کرلیا تو شیطان اس کے اور اس کے ساتھیوں کے درمیان سے ہٹ گیا اور انہوں نے اسے سولی پر لٹکا دیا، کہا : اسی باتے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے منافقین کے یہودیوں کے ساتھ رویہ کی مثال بیان کی ہے۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ بنو نضیر کو مدینہ طیبہ سے جلا وطن کرے گا منافقین نے انہیں پیغام بھیجا کہ تم اپنے گھروں سے نہ نکلوا گر وہ تمہارے ساتھ جنگ کریں گے تو ہم تمہارے ساتھ ہونگے اور اگر وہ تمہیں گھروں سے نکالیں گے تو ہم تمہارے ساتھ ہونگے انہوں نے نبی کریم و کے ساتھ جنگ کی تو منافقوں نے انہیں بےیارومددگار چھوڑ دیا۔ منافقوں نے ان سے یوں براءت کا اظہار کردیا جس طر شیطان نے برصیصا عابد سے برا ئت کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد راہبت تقیہ اور خفیہ انداز کو اپناتے فاسقوں اور فاجروں نے راہبوں پر تہمتیں لگائیں یہاں تک کہ جریج راہب کا واقعہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے اسے بری کیا۔ اس کے بعد راہب پھیل گئے اور لوگوں کے لئے ظاہر ہوئے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے (1): منافقوں کو بنو نضیر کے ساتھ دھوکہ کی مثال اس طرح ہے جس طرح ابلیس کی مثال ہے جب اس نے قریش کے کفار کو کہا۔ ……(الانفال : 48) مجاہد نے کہا : یہاں انسان سے مراد تمام لوگ ہیں جن کو شیطان دھوکہ میں ڈالتا ہے۔ اذ قال للانسان کا معنی ہے یعنی اسے گمراہ کیا یہ ان تک کہ اس انسان نے کہہ دیا کہ میں کافر ہوں شیطان کا قول انی اخاف اللہ رب العلمین حقیقی معنی پر نہیں یہ صرف انسان سے براءت کے اظہار کے سلیقہ پر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان انی بری کی تاکید کے طریقہ پر ہے (2) ۔ انی کی یاء کو نافع، ابن کثیر اور ابو عمرو نے فتحہ دیا ہے اور باقی نے اسے ساکن قرار دیا ہے۔
……شیطان اور اس انسان کی عاقبت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے خالدین حال ہونے کی حیثیت میں منصوب ہے۔ جس نے آیت کو راہب اور شیطان میں خاص کیا ہے اس میں تو تثیہ ظاہر ہے جس نے اسے جنس کے لئے بنایا ہے تو اس کا معنی ہوگا دونوں فریقوں اور دونوں صنفوں کا انجام عاقبتھما کی نصب کان کی خبر ہونے کی وجہ سے ہوگی۔ کان کا اسم انھما فی النار ہے۔ حضرت حسن بصری نے فکان عاقبتھما رفع کے ساتھ پڑھا ہے تو یہ پہلے کی ضد ہے۔ اعمش نے خالد ابن فیھا رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس کا رفع اس صورت میں ہوگا کہ یہ انہ کی خبر ہے اور ظرف لغو ہے۔
Ayah 59:18آیات۔ 18
تفسیر
یایھا الذی امنوا اتقوا اللہ اس کے اوامر، نواہی، فرائض کی ادائیگی اور معاصی سے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ ولتنظر نفس ما قدمت لغد غد سے مراد یوم قیامت ہے۔ عرب زمانہ مستقل کو غد سے کنایہ تعبیر کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ غد کا ذکر اس بات پر آگاہ کرنے کے لئے ہے کہ قیامت قریب ہے ؛ جس طرح شاعر نے کہا :
وان غد اللناظرین قریب دیکھنے والوں کے لئے قیامت قریب ہے۔
حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : قیامت کو قریب کردیا یہاں تک کہ اسے غد کی طرح بنا دیا (1) ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر آنے والی چیز قریب ہے اور موت ہر صورت میں آنے والی ہے۔ ماقدمت سے مراد خیر اور شر ہے۔ واتقو اللہ اس قول کو تکرار کے لے دوبارہ ذکر کیا ہے جس طرح تیر یہ قول ہے : اعجل، اعجل، ارم، ارم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلا تقوی سابقہ گناہوں سے توبہ ہے اور دوسرے تقوی سے مراد زمانہ آئندہ میں معاصی سے بچنا ہے۔
ان اللہ خبیر بما تعملون۔ سعید بن جبیر نے کہا : جو عمل تمہاری جانب سے ہوگا اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے (2) ۔
Ayah 59:19تفسیر
ولا تکونو کالذین نسوا اللہ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے امر کو ترک کردیا (3) فانسھنم انفسھم اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا آپ بھلا دیا کہ وہ اپنے لئے بھلائی کا عمل کرے، یہ ابن حبان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حق بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نفوس کا حق بھلا دیا ؛ یہ سفیان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حق بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نفوس کا حق بھلا دیا ؛ یہ سفیان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اس کا شکر اور تعظیم ترک کرکے اس کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب دے کر بھلا دیا کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے ذکر کریں ؛ ابن عیسیٰ نے اس کا ذکر کی ا ہے۔ سہل بن عبد اللہ نے کہا : انہوں نے گناہوں کے وقت اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا اور توبہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں بھلا دیا۔ فانسھم میں اللہ تعالیٰ نے فعل کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ یہ اس امر اور نہی کی وجہ سے تھا جس کو انہوں نے ترک کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا امر اور نہی کو ترک کرنے والا پایا۔ جس کا انہوں نے ترک کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا مار اور نہی کو ترک کرنے والا پایا۔ جس طرح تیرا یہ قول ہے : احمدت الرجل جب تو نے اسے تعریف کیا گیا پایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہوں نے خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے شدائد میں انہیں بھلا دیا۔ اولئک ھم الفسقون۔ ابن جبیر نے کہا : مراد نافرمان ہیں۔ ابن زید نے کہا : وہ جھوٹے ہیں۔ فسق کا اصل معنی نکلنا ہے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گئے۔
Ayah 59:20تفسیر
” یکساں نہیں ہوسکتے دوزخی اور اہل جنت، اہل جنت ہی تو کامیاب لوگ ہیں “۔
لا یستوی اصحاب النار و اصحب الجنتہ یعنی فضیلت اور رتبہ میں ایک جیسے نہیں۔ ……یعنی جنتی مقرب و مکرم ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ آگ سے نجات پانے والے ہیں۔ سورة مائدہ آیت 100 میں ……۔ سورة سجدہ میں افمن……۔ اور سورة ص آیات 28 میں ………۔ کے ضمن میں کلام گزر چکی ہے۔ اس لئے اس کے دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayah 59:21تفسیر
لو انزلنا ……قرآن کے مواعظ میں غوروفکر کرنے پر برانگیختہ کیا جا رہا ہے اور اس امر کو واضح کیا کہ ترک تدبر میں کوئی عذر نہیں کیونکہ اس قرآن کے ساتھ اگر پہاڑوں کو خطاب کیا جاتا جبکہ ان میں عقل بھی ہوتی تو پہاڑ بھی اس کے مواعظ کو سنتے اور آپ انہیں دیکھتے کہ وہ انتہائی مضبوط ہونے کے باوجود عاجزی کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے پھٹ جاتے۔ خاشع کا معنی ذلیل ہے اور متصدع کا معنی پھٹنے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خاشعا کا معنیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے جن امور میں اپنی طاعت کا مکلف بنایا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کے حضور خشوع کرنے والے ہیں۔ متصدعا وہ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے پھٹنے والے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں سزا دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کفار کے لئے مثال کے طریقہ پر ہے۔
وتلک…… یعنی اللہ تعالیٰ اگر اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتا تو وہ پہاڑ اس کے وعدہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتا اور اس کی وعید کے سامنے پھٹ جاتا (1) ۔ اے لوگو ! جو اس کے اعجاز کے سامنے مغلوب ہو تم اس کے وعدے میں رغبت نہیں رکھتے اور اس کی وعید سے نہیں ڈرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا : خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے (2) یعنی اے محمد ﷺ ! اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ ثابت نہ رہتا اور قرآن کے نازل ہونے سے پھٹ جاتا جبکہ ہم نے اسے آپ پر نازل کیا ہے اور ہم نے آپ کو اس کے لئے ثابت کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر احسان ہے کہ آپ اس چیز کے لئے ثابت رہے جس کے لئے پہاڑ ثابت نہیں رہتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ خطاب امت کو ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر اس قرآن کے ذریعے پہاڑوں کو ڈراتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے پھٹ جاتے انسان قوت میں کم اور ثابت قدمی میں بڑھ کر ہے اگر وہ طاقت رکھے تو وہ اس کے حق کو بجا لاتا ہے اور اگر نافرمانی کرے تو اس کے اوپر قادر ہے کیونکہ اس کو ثواب کا وعدہ اور عقاب کی وعید دی گئی ہے۔
Ayah 59:22تفسیر
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ راز او علانہ امور کو جانتا ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ ما کان ( جو کچھ ہوچکا) اور مایکون جو کچھ ہونے والا ہے اس کو جانتا ہے۔ سہل نے کہا : وہ آخرت اور دنیا کو جاننے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غیب سے مراد ہے جو کو لوگ نہ جانتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے دیکھا ہوتا ہے اور شہادت سے مراد ہے جس کو لوگ جانتے ہیں اور جسے لوگوں نے دیکھا ہوتا ہے۔
Ayah 59:23تفسیر
ھو اللہ …… ہر نقص سے منزہ اور ہر عیب سے پاک۔ قدس اہل حجاز کی لغت میں سطل (ایک برتن) کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے قادرس ہے یہ لفط اس برتن کے لئے بولا جاتا ہے جس کے ساتھ کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے اور اونٹنی سے مدد لی جاتی ہے۔ سیبو یہ کہا کرتے تھے : قدوس اور سبوح دونوں میں پہلالفظ مفتوح ہے۔ اور ابو حاتم نے یعقوب سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کسائی کے نزدیک ایک فصیح بدو کو سن اجس کو ابو دینار کہتے وہ پڑھ رہا تھا۔ القدوس یعنی قاف پر فتحہ پڑھ رہا تھا۔ ثعلب نے کہا : ہر اسم جو فعول کے وزن پر ہو اس کا پہلا حرف مفتوح ہوتا ہے جس طرح سفرد، کلوب، تنور، سمود، سبو مگر السبو 3 اور القدوس کیونکہ ان دونوں میں اکثر ضمہ آتا ہے۔ بعض اوقات ان دونوں پر فتحہ آتا ہے : اسی طرح ذروح بعض اوقات اس کو فتحہ دیا جاتا ہے۔
السلم وہ نقائص سے سلامت ہے۔ ابن عربی نے کہا : علماء کا اتفاق ہے کہ لفظ السلام جب اللہ تعالیٰ کے بارے میں بولا جائے تو یہ نسبت کے معنی میں ہوگا تقدیر ہوگا ذو السلام ۃ پھر اس اسم منسوب کے ترجمہ میں اختلاف ہے۔ وہ ہر عیب سے سلامت اور ہر نقص سے بری ہے۔ ذوالسلام جنت میں اپنے بندوں کو سلام کرنے والا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سلم قولا من رب رحیم۔ (یس) مخلوق اس کے ظلم سے محفوظ ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ خطابی کا قول ہے اسے اور اسے سے قبل جو اسم ہے اس پر صفات افعال کا اطلاق ہوگا۔ یہ تعبیر کی جائے وہ عیوب و نقائص سے بری ہے تو یہ صفت ذات میں سے ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ السلام کا معنی ہے وہ اپنے بندوں کو سلام کرنے والا ہے۔ المومن وہ اپنے رسولوں کی تصدیق کرنے والا ہے کہ ان کے ہاتھوں سے معجزات کا ظہور فرماتا ہے۔ مومنوں سے ثواب کا جو وعدہ کیا اس کی تصدیق کرنے والا ہے اور کافرین کو جو عقاب کی دھمکی دی اس کو سچ کر دکھانے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مومن اسے کہتے ہیں جو اپنے اولیاء کو عذاب سے محفوظ رکھتا ہے اور اپنے بندوں کو ظلم سے محفوظ رکھتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : آمنہ یہ امان سے مشتق ہے جو خوف کی ضد ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……۔ (القریش) اس سے اسم فاعل مومن ہے۔
مجاہد نے کہا : مومن اسے کہتے ہیں جس نے اپنی وحدانیت کا اظہار اپنے اس ارشاد سے کیا : ……(آل عمران : 18) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب قیامت کا روز ہوگا اللہ تعالیٰ اہل توحید کو آگ سے نکالے گا، سب سے پہلے جہنم سے جو نکلے گا وہ وہ ہوگا جس کا نام نبی کریم ﷺ کے نام کے موافق ہوگا جب جہنم میں کوئی ایسا نہیں رہے گا جس کا نام نبی کریم ﷺ کے موافق ہو تو اللہ تعالیٰ باقی سے فرمائے گا : تم مسلمان ہو اور امین السلام ہوں تم مومنین ہو اور میں مومن ہوں تو اللہ تعالیٰ ان دو ناموں کی برکت سے انہیں جہنم سے باہر نکالے گا۔
المھیمن العزیز سورة مائدہ لیں المھیمن اور مواقع پر العزیز کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ الجبار حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد عظیم ہے (1) ۔ جبروت اللہ سے مراد اس کی عظمت ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر یہ صفت ذات ہے۔ اس معنی میں ان کا قول ہے : نخلۃ جبارۃ کھجور کا بڑا درخت۔ یہ اسم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور تقدیس پر دلالت کرتا ہے کہ نقائص اور صفات حادث اس کا لاحق ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جبر سے ماخوذ ہے جس کا معنی اصلطاح ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : جبرت العظم فجبر میں نے ہڈی کو درست کیا تو وہ ہڈی درست ہوگئی۔ یہ جبر سے فعال کے وزن پر ہے۔ جب وہ ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کردے اور فقیر کو غنی کردے۔ فراء نے کہا : یہاجبرہ علی الامر سے مشتق ہے جس کا معنی ہے اس پر غلبہ پا لیا۔ کہا : لغت میں باب افعال سے فعال کا وزن نہیں آتا مگر جباریہ اجبر سے اور دراک یہ ادرک سے استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جبار اسے کہتے ہیں جس کی سطوت کی طاقت نہ رکھی جائے۔
المتکبر وہ اپنی ربوبیت کی وجہ سے متکبر ہے، اس کی مثل کوئی نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہر برائی سے بالا ہے اور ہر نامناسب چیز جیسے حادث اور مذمت کی صفات سے عظی ہے (2) ۔ کبر اور کبریاء کا اصل معنی رکنا اور اطاعت نہ کرنا ہے۔
کبریاء اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے صفات مدح میں شمار ہوتی ہے اور مخلوق کی صفات میں صفات مذمت میں سے ہے۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کا فرمان حدیث قدسی کی صورت میں بیان کیا ہے : الکبریاء ردای العظمۃ ازاری فمن ………(3) کبریائی میری چادر اور عظمت میرا اعزاز ہے ان دونوں میں جس نے بھی مجھ سے منازعہ کیا میں اسے توڑ کر رکھ دوں گا پھر اسے آگ میں پھینک دوں گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : متکبر کا معنی بلند ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا کا معنی کبیر ہے کیونکہ وہ اس سے عظیم ہے کہ وہ کبر کا تکلف کرے۔ بعض اوقات تظلم، طلم کے معنی میں، تشتم، شتم کے معنی میں اور استقر، قر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح متکبر، کبیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ اس طرح نہیں جس طرح مخلوق کے لئے اس صیغہ کے ساتھ صفت بیان کی جاتی ہے کیونکہ جب کسی مخلوق کی اس صیغہ کے ساتھ صفت بیان کی جائے تو وہ اس میں نہیں پائی جاتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان فرمائی فرمایا : …… کرن اپنی عظمت اور جلالت کی پاکی بیان کی۔
Ayah 59:24تفسیر
ھو اللہ ……… یہاں خالق سے مراد مقدر ہے۔ الباری سے مراد پیدا کرنے والا اور ایجاد کرنے والا ہے۔ المصور صورتی بنانے وال اور مختلف ہستیوں میں ترکیب دینے والا۔ تصور، خلق اور برایۃ پر مرتب ور ان دونوں کے تابع ہے۔ تصویر کا معنی خط لگانا اور شکل بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ماں کے رحم میں تین انداز میں پیدا کیا اسے علقہ بنایا، پھر مضفہ بنایا پھر اس کی صورت بنائی یہی تشکیل ہے جس کے ذریعے صورت اور ہئیت ہوتی ہے، جس کے ساتھ اس کی پہنچان ہوتی ہے اور غیر سے اپنی علامت کے ساتھ ممتاز ہوتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین اللہ تعالیٰ کی ذات جو احسن الخالقین ہے وہ بڑی برکتوں والی ہے : بابغہ نے بھی انہیں اسماء کو اپنے شعر میں ذکر کیا ہے :
……………(1) ۔
بعض لوگوں نے خلق کو تصویر کے معنی میں کیا ہے جبکہ بات اس طرح نہیں تصویر آخری مرحلہ میں ہوتی ہے۔ تقدیر سب سے پہلے اور برایۃ یہ درمیان میں ہوتی ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……(المائدہ :110)
زبیر نے کہا :
…………
شاعر کہتا ہے : تو اندازہ لگاتا ہے جو لگاتا ہے پھر اپنے اندازہ کے مطابق اسے کر گزرتا ہے۔ تیرے سوا آدمی اندازہ لگاتا ہے جو اس کے لئے مکمل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں اس کی مراد پوری ہوتی ہے یا تو اس کے اندازہ کے تصور میں کوتاہی ہوتی ہے یا وہ اپنی مراد کو مکمل کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔ ہم نے اسکے متعلق تمام بحث الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں کردی ہے۔ الحمد اللہ
حضرت حاطب بنی ابی بلتعہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ انہوں نے الباری المصور پڑھا یعنی وہ ذات جو مختلف ہستئیوں کے ساتھ اس کو ممتاز کرتی ہے جس کی تصویر بناتی ہے (1) ؛ زمحشری نے اس کا ذکر کیا ہے۔
……۔ اس کے بارے میں گفتگو پہلے (جلد اول) میں گزر چکی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! سورة حشر کے آخری حصہ کو لازم پکڑو اس کو کثرت سے پڑھا کرو۔ “ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بارگاہ میں سوال داہریا آپ ﷺ نے اسی کو مجھ پر دہرایا۔ میں نے پھر آپ کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے پھر مجھ پر اسی قول کو دہرایا۔
حضرت جابر بن زید ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اس آیت کے مکان کی وجہ سے اللہ ہی ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے رات یا دن کے وقت سورة حشر کے آخر کو پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے اس رات یا اس دن اس کی روح قبض کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے جنت کو واجب کردیا “ (3) ۔