Ayah 59:9آیات۔ 9۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین تبو والدار ولایمان من قبلھم اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ الذین تبوا الدار سے مراد انصر ہیں جنہوں نے مہاجرین سے قبل مدینہ طیبہ کو اپنا وطن بنایا تھا۔ الایمان کا لفظ تبو وا کی بجائے کسی اور فعل کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ تبئوا کا تعلق مکان سے ہوتا ہے۔ من قبلھم، من تبو وا کے متعلق ہے معنی ہے جنہوں نے مہاجرین سے منصوب ہے کیونکہ تبئوک تعلق مکان سے ہوتا ہے۔ من قبلھم، منو بتو وا کے متعلق ہے معنی ہے جنہوں نے مہاجرین سے پہلے یہاں رہائش اختیار کی، ایمان کا اعتقاد رکھا اور اسکے لئے اخلاص کا مظاہرہ کیا کیونکہ ایمان ایسی چیز نہیں جس کو ٹھکانہ بنایا جائے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاجمعوا امرکم وشرکاء کم (یونس : 71) یہاں بھی تقدیر کلام یہ ہے وادشرکاء کم ابو علی، زمحشری اور دوسرے علماء نے اس کا ذکر کیا ہے۔
یہ کلام بھی اس طریقہ پر ہے علفتھا تبنا و ماء بارد ایہاں بھی ایجاز حذف کا قاعدہ ہے۔ اصل میں سقیتھا ماء باردا یہ بھی جائز ہے کہ مضاف کے حذف پر اسے محمول کیا جائے گویا یوں ارشاد فرمایا : تبوء والدار مواضع الایمان یہ بھی جائز ہے کہ اسے اس پر محمول کیا جائے جس پر تبو ادلالت کرتا ہے۔ گویا فرمایا : لزموا الدار ولزموا الایمان یہ بھی جائز ہے کہ تبوا الایمان ضرب المثل کے طریقے پر ہو جس طرح تو کہتا ہے : تبوا من بنی فلانالصمیم۔ البتواء سے مراد تمکن اور استقرار ہے۔ یہ مراد نہیں کہ انصار مہاجرین سے پہلے ایمان لائے بلکہ یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ہجرت سے پہلے ایمان لائے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے کیا اس آیت کا ماقبل آیت سے اعرابی تعلق نہیں یا اس کا ماقبل پر عطف ہے ؟ ایک قوم کی یہ رائے ہے : اس کا عطف للفقراء المھرجین پر ہے سورة حشر میں جتنی بھی آیات ہیں سب ایک دوسرے پر معطوف ہیں۔ پس اگر اس میں وہ غوروفکر کرتے اور انصاف سے کام لیتے تو جو نقطہ نظر انہوں نے اپنایا ہے اس کے خلاف پاتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ……………میں نبی نضیر اور بنی قینقاع کے بارے میں خبر دی ہے، پھر فرمایا : ……… ء اس میں خبر دی کہ یہ اموال رسول اللہ ﷺ کے لئے ہیں کیونکہ جب اموال ان سے چھڑوائے گئے ان پر کوئی گھوڑے نہیں دوڑائے گئے۔ ان کے بارے میں جو گزرا کہ قتال ہوا، ان کے درخت کاٹے گئے۔ صحابہ نے اسے چھوڑ دیا تھا اور امر ختم ہوگیا تھا۔ پھر فرمایا : ……… اس کا ماقبل کلام پر کوئی عطف نہیں اسی طرح والذین تبواء الداروا الایمان انصار کی مدح اور ان کی ثنا کا آغاز ہورہا ہے کیونکہ انہوں نے اس مال فئی کو مہاجرین کے سپرد کردیا تھا گویا فرمایا : مال فئی مہاجر فقراء کے لئے ہے۔ انصار ان سے محبت کرتے ہیں اور مال فئی جو مہاجرین کے لئے خاص کیا گیا انہوں نے اس سے حسد نہ کیا اسی طرح والذین جاء و من بعدھم نئی کلام ہے اور اس کی خبر ……… ہے۔
اسماعیل بن اسحاق نے کہا : والذین تبوا الدار اور والذین جاء و کا ماقبل پر عطف ہے۔
وہ مال فئی میں شریک ہیں، یعنی یہ مال مہاجرین اور انصار کے لئے ہے۔ مالک بن اوس نے کہا : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت پڑھی۔ انما الصدقت للفقرائ (التوبۃ :60) فرمایا : یہ ان کے لئے پھر ………(الانفال :41) فرمایا : یہ ان کے لئے، پھر ……………آیات پڑھیں۔ پھر فرمایا : اگر میں زندہ رہا تو ایک چرواہا جو حمیر کے پہاڑوں ( جو یمن کا علاقہ ہے) میں ہوگا اس کا حصہ اس کے پاس پنچے گا، اس کی پیشانی کو پسینہ سے شرابور نہ ہوناپڑے گا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت عمر ؓ نے انصار و مہاجرین کو بلایا اور اللہ تعالیٰ نے جو فتوحات عطا فرمائی تھیں ان کے بارے میں مشورہ طلب کیا فرمایا : معاملہ میں خوب غوروفکر کرو پھر اگلے روز میرے پاس آئو، آپ نے رات بھر سوچ و بچار کی تو آپ یہ حقیقت واضح ہوئی کہ یہ آیات اس معاملہ میں نازل ہوئی ہیں۔ جب وہ صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے فرمایا : میں نے گزشتہ رات ان آیات کو پڑھا جو سورة حشر میں ہے اور ان آیات کو تلاوت کیا۔ ………۔ تک پہنچا فرمایا : تک پہنچے فرمایا : یہ اموال صرف ان کے لئے نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی ………پھر فرمایا : اہل اسلام میں سے کوئی آدمی نہیں بچا جو اس میں داخل نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ امام مالک نے زندبن اسلم سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت عمر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : اگر بعد میں آنے والے لوگوں کا خیال نہ ہوتا تو کوئی بستی فتح نہ کی جاتی مگر میں اسے اس طرح تقسیم کردیتا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا۔ کثیر سندوں سے اخبار مشہورہ میں یہ موجود ہے۔ تو حضرت عمر ؓ نے عراق کا دیہاتی علاقہ، مصر اور ان کی غنیمتوں کو مجاہدین میں تقسیم کیے بغیر باقی رہنے دیا تاکہ ان اموال سے مجاہدین کے عطیات، کمزور لوگوں اور بچوں کو روزینہ کا بندوبست ہوسکے۔ حضرت زبیر ؓ ، حضرت بلال ؓ اور دوسرے صحابہ نے یہ ارادہ کیا تھا کہ مفتوحہ علاقوں کو ان میں تقسیم کردیا جائے۔ حضرت عمر ؓ ان کی اس رائے کو پسند نہ کیا۔ اور حضرت عمر ؓ نے جو کچھ کیا اس میں اختلاف کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : آپ نے عمل یہ غازیوں کی خوشنودگی سے کیا۔ جس نے اپنا حصہ بغیر قیمت کے چھوڑ دیا تاکہ مسلمانوں کے لئے باقی چھوڑے اور وہ اس پر راضی تھا وہ آپ نے لے لیا اور جس نے ایسا کرنے سے انکار کیا آپ نے اسے اس کے حصہ کی قیمت دے دی۔ کچھ نے کہا : آپ نے لوگوں کی رضا مندی کے بعد زمین کو اس طرح رہنے دیا آپ کے اس عمل کی بنیاد نبی کریم ﷺ کا فعل بنا دیا جائے گا کیونکہ آپ نے خیبر کے علاقہ کو تقسیم کیا، کیونکہ حضور ﷺ نے اسے خریدا اور جس نے اپنے حصہ کو خوشدلی سے ترک کردیا یہ اس کی تقسیم کے قائم مقام ہی ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ نے مجاہدین کو کوئی چیز دیئے بغیر اس علاقہ کو مملکت اسلامیہ کی ملکیت میں باقی رہنے دیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان …………۔ میں تاویل کردی تھی۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ زمینوں اور جاگیروں کی تقسیم میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ امام مالک نے کہا : امام کو حق حاصل ہے کہ وہ ان زمینوں کو مسلمانوں کے مصالح کے لئے وقف کردے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : امام کو اختیار حاصل ہے کہ ان زمینوں کو تقسی کردے یا مسلمانوں کی ضروریات کے لئے اسے وقف کردے۔ امام شافعی نے کہا : مجاہدین کی رضا کے بغیر امام کو وہ زمینیں روکنے کا حق نہیں بلکہ دسرے اموال کی طرح ان زمینوں کو بھی ان میں تقسیم کردے۔ جس نے خوشی دلی سے اپنا حق امام کے حوالے کردیا کہ وہ لوگوں کے مصالح کے لئے اسے وقف کردے تو اسے یہ حق حاصل ہوگا اور جو راضی نہ ہو تو وہ اپنے مال کا زیادہ حقدار ہے۔ حضرت عمر ؓ نے مجاہدین کا راضی کیا اور ان سے وہ زمینیں خرید لیں (1) ۔
میں کہوں گا : اس تعبیر کی بنا پر والذین جاء و من بعدھم ما قبل کلام سے لا تعلق ہوگا انہیں پہلوں کے حق میں دعا اور ان کی تعریف کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ ابن وہب نے کہا : میں نے امام مالک کو مدینہ طیبہ کی دوسرے علاقوں پر فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے سنا : مدینہ کو ایمان اور ہجرت کا ٹھکانہ بنایا گیا جبکہ دوسری بستیاں انہیں بزور شمشیر فتح کیا گیا۔ پھر آپ نے اس آیت و……………کی قراءت کی۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے اور اسی طرح دونوں مسجدوں مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نما زکی فضیلت کی بحث گزر چکی ہے۔ اسے کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ ……۔ مال فئی اور دوسری چیزوں کو جو مہارجین کے لئے خاص کیا گیا ہے اس پر انصار کوئی حسد نہیں کرتے ؛ اسی طرح لوگوں نے کہا : اس میں دو مضاف مقدر ہونگے تقدیر کلام یہ ہوئی مس حاجۃ من فقدما اوتوا انسان اپنے سینہ میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے جس کے ازالہ کی اسے ضرورت ہوتی ہے تو اسے حاجت کہتے ہیں مہاجرین، انصار کے گھروں میں رہتے جب نبی کریم ﷺ کو بنو نضیر کے اموال حاصل ہوئے تو آپ ﷺ نے انصار کو بلایا انہوں نے مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا کہ انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا اور اپنے اموال میں انہیں شریک کیا اس پر ان کا شکریہ ادا کیا پھر فرمایا :” اگر تم پسند کرو تو اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے جو اموال ہمیں عطا کیے ہیں وہ میں تمہارے اور ان کے درمیان تقسیم کردوں اور مسلمان اسی طرح تمہارے گھروں اور اموال میں حصہ دار رہیں اور اگر تم پسند کرو تو میں یہ اموال ان کو دے دوں اور وہ تمہارے گھروں سے نکل جائیں “۔
حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے عرض کی : نہیں بلکہ ان اموال کو مہاجرین میں تقسیم کردو اور وہ ہمارے گھروں میں ہی رہیں جس طرح وہ پہلے گھروں میں رہتے تھے۔ سب انصار نے یک زبان ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم اس پر راضی ہیں اور سر تسلیم خم کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں یوں دعا کی : اللھم الائصار و بناء الانصارای اللہ ! انصار اور انصار کی اولادوں پر رحم فرما۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ اموال مہاجرین کو دے دئیے اور انصار کے تین افراد کے سوا کسی کو کچھ نہ دیا جن کا ذکر ہم پہلے آیت 10 کے ضمن میں کرچکے ہیں۔
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا ہو ۔ مال تھوڑا ہو تو وہ اس پر قناعت کرتے ہیں اور اسی پر راضی ہوتے ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی ظاہری زندگی میں اسی طرح تھے اور آپ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد بھی اسی طرح رہے نبی کریم ﷺ نے انہیں خبردار کیا تھا فرمایا : سترون بعد اثرۃ فاصبرا حتی تلقونی عی الحوص (1) تم میرے بعد دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دیا جاتا دیکھو گے تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم حوض پر مجھے ملو۔۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ ایک آدمی کے پاس مہمان نے رات گزاری۔ اس کے پاس صرف اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کھانا موجود تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا : بچوں کو سلادو، چراغ بجھا دو اور جو کچھ تیرے پاس ہے مہمان کی خدمت میں پیش کر۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ۔ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے : ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میں بری مشقت میں مبتلا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک بیوی کے پاس آدمی بھیجا انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ! میرے پاس تو صرف پانی ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے دوسری کے پاس آدمی بھیجا انہوں نے بھی اس کی مثل عرض کی یہاں تک کہ تمام ازواج مطہرات نے یہی گزارش کی۔ نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میرے پاس تو پانی نہیں۔ فرمایا :” آج رات کو اس کی جو مہمان نوازی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے “۔ ایک انصاری اٹھا عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں (یہ خدمت سرانجام دوں گا) وہ انصاری اس مہمان کو گھر لے گیا اپنی بیوی سے کہا : کیا تیرے پاس کوئی شے ہے۔ اس نے کہا : نہیں مگر بچوں کا کھانا ہے۔ کہا : بچوں کو کسی طرح بہلا پھسلا لینا، جب ہمارا مہمان گھر میں داخل ہو تو چراغ کو بجھا دینا، میں اسے یہ ظاہر کروں گا کہ میں کھانا کھا رہا ہوں۔ جب وہ کھانا کھانے کے لئے جھکا تو عورت چراغ کی طرف اٹھی اور اسے گل کردیا۔ کہا : وہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھالیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدت میں حاضر ہوئے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ تمہارے عمل سے بہت خوش ہوا ہے “۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ حضور ﷺ اس کو کھانا کھلائیں۔ آپو کے پاس کوئی کھانا نہیں تھا جو آپ اسے کھلاتے فرمایا :” کیا کوئی ایسا آدمی نہیں جو اس کی ضیافت کرے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے “۔ ایک انصاری اٹھا جسے ابو طلحہ کہتے وہ اسے اپنے گھر لے گئے اور پہلی حدیث کی مثل حدیث نقل کی۔ اس میں آیت کے نزول کا ذکر کیا۔
مہدوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت ثابت بن قیس اور انصار کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت ثابت اس کے پاس مہمان کے طور پر آئے تھے جسے ابو المتوکل کہا جاتا۔ حضرت ابو المتوکل کے پاس اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کھانا تھا۔ آپ نے اپنی بیوی سے کہا : چراغ کو گل کر دو اور بچوں کو سلا دو جو کچھ کھانا ہے اسے مہمان کے سامنے پیش کرد ؛ نحاس نے بھی سی کی مثل ذکر یا ہے۔ کہا : حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : ایک انصاری جس کو ابو المتوکل کہا جاتا ہے کے پاس حضرت ثابت بن قیس مہمان کے طور پر ٹھہرے ان کے پاس اپنے اور بچوں کے کھانے کے سوا کوئی کھانا نہیں تھا۔ آپ نے اپنی بیوی سے کہا : چراغ کو گل کرد و اور اپنے بچوں کو سلا دو ۔ تو یہ آیت …………نازل ہوئی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عمل کرنے والے حضرت طلحہ ؓ تھے (1) ۔ قشری ابو نصر عبد الرحیم بن عبد الکریم نے ذکر کیا حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک کو ایک سرتحفہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس نے کہا : میرا فلاں بھائی اور اس کے اہل ہم سے اس کی زیادہ ضرورت رکھتے ہیں۔ اس نے وہ سر اس کی طرف بھیج دیا۔ وہ سر لگاتار ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف بھیجا جاتا رہا یہاں تک کہ وہ سات گھروں تک پہنچا اور پھر انہیں تک واپس آگیا تو یہ آیت نازل ہوئی ؛ ثعلبی نے اسے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے۔ صحابہ کرام میں سے ایک کو بکری کا سرتحفہ کے طور پر پیش کیا گیا وہ بڑے تنگدست تھے۔ اس نے وہ سر اپنے پڑوسی کو بھیج دیا۔ وہ سر سات گھروں میں سے سات افراد تک گھومتا رہا، پھر وہ پہلے کی طرف لوٹ آیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے بنی نضیر کے ساتھ جنگ کے موقعہ پر انصار سے فرمایا :” اگر تم چاہو تو میں تمہارے گھروں اور اموال کو مہاجرین کے لئے تقسیم کردوں اور تم بھی اس غنیمت میں شریک ہوجائو۔ اگر تم چاہو تو تمہارے گھر اور تمہارے اموال تمہارے پاس رہیں اور مال غنیمت میں سے کوئی چیز تمہیں نہ دیں۔ “ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
صحیحن میں حضرت انس ؓ سے روایت مروی ہے کہ ایک صحابی اپنی زمین میں سے کچھ کھجوروں کے درخت نبی کریم ﷺ کے لئے مختص کرتا یہاں تک کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ پر آپ ﷺ کو فتح ہوئی۔ اس صحابی نے جو درخت آپ ﷺ کو عطا کیے تھے وہ آپ ﷺ نے اسے واپس کردیے۔ الفاظ مسلم شریف کے ہیں۔
انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب مہاجر مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ آئے، ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ انصار زمینوں اور جائیدادوں والے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان میں یوں تقسیم کی کہ انصار ہر سال اپنے اموال کا نصف مہاجرین کو دیں گے اور مہاجرین کام اور مشقت کے ذمہ دار ہونگے۔ حضرت انس بن مالک کی ماں جسے حضرت ام سلمہ کہتے ہیں جو حضرت عبد اللہ بن ابی طلحہ کی والدہ تھی۔ یہ حضرت انس کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ حضرت انس ؓ کی والدہ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی کھجوروں کے کچھ درخت پیش کئے رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی لونڈی حضرت ام ایمن عطا کی جو حضرت اسامہ بن زیدی والدہ تھی۔
ابن شہاب نے کہا : حضرت انس بن مالک ؓ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ جب اہل خیبر کے ساتھ جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے مہاجرین نے انصار کو ان کے عطیات واپس کردئیے جو انہوں نے مہاجرین کو عطا فرمائے تھے رسول اللہ ﷺ نے میری ماں (ام انس بن مالک) کو کھجوریں واپس کردیں اور رسول اللہ ﷺ نے ام ایمن کو ان کی جگہ اپنے باغ میں سے کھجوریں عطا کیں۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ ایثار کا معنی ہے کسی غیر کو اپنی ذات اور نفس کے دنیاوی فوائد پر مقدم کرنا اور دینی منافع کی خواہش رکھنا۔ یہ چیز اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مضبوط یقین، قوی محبت اور مشقت پر صبر کری صلاحیت موجود ہو۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اثرتہ بکذا میں نے اسے اس کے ساتھ خاص کیا اور اسے فضیلت دی۔ ایثار کا مفعول یہاں محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہوئی یوثرونھم منازلھم وہ اپنے اموال اور اپنے گھروں کے بارے میں انہیں اپنی ذاتوں پر ترجیح دیتے ہیں، اس لئے نہیں کہ وہ خود غنی ہیں بلکہ انہیں اس کی سخت ضرورت ہوتی ہے جس طرح اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ اماممالک کو یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سائل نے سوال کیا جبکہ وہ روزے سے تھیں، آپ کے گھر میں صرف ایک روٹی موجود تھی۔ آپ نے اپنی لونڈی سے فرمایا : روٹی اسے دے دو ۔ اس نے عرض کی : آپ کے لئے کوئی ایس چیز نہیں جس کے ساتھ آپ روزہ افطار کریں گی۔ فرمایا : روٹی اسے دے دو ۔ لونڈی نے کہا : میں نے اسی طرح کیا۔ اس نے کہا : جب ہم نیش ام کی تو کسی گھر والے یا کسی انسان نے ہمارے لئے وہ ہدیہ بھیجا جو وہ بھیجا کرتا تھا، یعنی بکری کا بھنا ہوا گوشت جسے روٹیوں میں لپیٹا گیا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے مجھے بلایا فرمایا : اس سے کھائو یہ تیری اس روٹی سے بہتر ہے۔
ہمارے علماء نے کہا : یہ نفع مند مال میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑھنے والا فعل ہے، جتنا چاہتا ہے جلدی بدلہ دے دیتا ہے اور اس کے لئے آخرت میں جو ذخیرہ کیا ہوا ہے اس میں سے کوئی کمی نہیں کرتا۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کے لئے کسی چیز کو چھوڑتا ہے تو اس کو ناپید ہونے والا نہیں پاتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اپنے اس فعل کی وجہ سے ان لوگوں میں شامل ہوگئی ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے کہ خود انہیں ایک چیز کی سخت ضرورت ہوتی ہے اس کے باوجود وہ دوسرے ولگوں پر اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس نے یہ عمل کیا تو اس نے اپنے آپ کو نفس کے بخل سے بچا لیا اور کامل کامیابی حاصل کرلی اس کے بعد اس کے لئے کوئی خسارہ نہیں۔
شاۃ و کفنھا کا معنی ہے تمام عرب، بعض عرب یا ان میں سے بعض روسا کا یہ کھانا ہوا کرتا تھا۔ وہ بکری یا بکرے کے بچہ کی جلد جب اتار لیتے تو گندم کا آٹا اس پر مل دیتے اور کوئی حصہ خالی نہ چھوڑتے۔ پھر اسے تنور میں لٹکا دیتے اس کی چربی اسی آتے میں ہی رہتی۔ یہ ان کے نزدیک سب سے عمدہ کھانا شمار ہوتا تھ۔
امام نسائی نے حضرت نافع سے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ بیمار ہوئے اور انگور کی خواہش کی۔ ایک درہم میں ان کے لئے انگور کا گھچا خریدا گیا۔ ایک مسکین آیا اس نے سوال کیا۔ فرمایا : گچھا اسے دو دو۔ ایک آدمی اس کے پیچھگے گیا اس نے وہ انگور کا گچھا اس سے ایک درہم میں خریدا اور حضرت ابن عمر ؓ کی خدمت میں لایا۔ سائل نے ارادہ کیا کہ وہ لوٹے تو اسے روک دیا گیا۔ اگر حضرت ابن عمر کو اس بات کا علم ہوجاتا کہ یہ وہی گچھا ہے تو اسے نہ کھاتے کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک دفعہ ہاتھ سے نکلجائے تو آپ اس کی طرف نہ لوٹتے۔
حضرت عبد اللہ ابن مبارک نے ذکر کیا کہ محمد بن مطرف، ابو حازم سے وہ عبد الرحمن بن سعید بن یربوع سے وہ مالک الدار سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے چار سو دینار لیے انہیں ایک تھیلی میں رکھا پھر غلام سے کہا : یہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے پاس لے جائو، پھر کسی بہانے سے وہاں ٹھہر جانا تاکہ دیکھو آپ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ غلام وہ تھیلی لے کر وہاں گیا۔ عرض کیا : حضرت امیر المومنین کہتے ہیں انہیں اپنی ضرورت کے لئے خرچ کرو۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا : اللہ تعالیٰ امیر المومنین پر رحم کرے پھر فرمایا : اے بچی ! یہ سات دینار فلاں کو دے آئو اور یہ پانچ فلاں کو دے آئو یہاں تک کہ انہیں خرچ کردیا۔ غلام حضرت عمر کے پاس واپس آیا تو سب واقعہ عرض کیا۔ اور حضرت عمر ؓ کو پایا کہ آپ نے اسی کی مثل دینار حضرت معاذ کے لئے شمار کر رکھے ہیں۔ فرمایا : یہ دینار حضرت معاذ بن جبل کے پاس لے جائو اور وہاں بہانے سے کچھ دیر ٹھہرنا تاکہ دیکوھ کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟ غلام وہ مال لے کر ان کے پاس گیا۔ عرض کی : امیر المومنین فرماتے ہیں انہیں اپنی کسی ضرورت میں خرچ کرو۔ حضرت معاذ بن جبل نے کہا : اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ فرمایا : اے بچی ! اتنے فلاں کے گھر لے جائو، اتنے فلاں کے گھر لے جائو۔ حضرت معاذ ؓ کی بیوی کو اس کی اطلاع ہوئی عرض کی اللہ کی قسم ! ہم مساکین ہیں ہمیں بھی کچھ دو اس تھیلی میں صرف دو دینار باقی تھے وہ دونوں آپ نے اسے دے دیے غلام حضرت عمر کی طرف واپس لوٹا اور سب واقعہ بتایا۔ حضرت عمر ؓ اس وجہ سے خوش ہوئے۔ فرمایا : وہ سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
اس کی مثل واقعہ حضرت عائشہ صدیقہ کا بھی ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے آپ کی خدمت میں مال بھیجا جس کی تعداد دس ہزار دینا تھی حضرت منکدر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے…
اگر یہ سوال کیا جائے : انسان جتنے مال کا مالک ہو تمام مال صدقہ کرنے سے نہی وارد ہوئی ہے اور اس کے بارے میں صحیح احادیث ہیں۔ اس کی خدمت میں عرض کی جائے گی : یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جسے فقر کے عالم میں صبر پر اعتماد نہ ہو اور جب ضروریات کے لئے مال نہ پائے تو سوال کرنے کا خوف ہو۔ جہاں تک انصار کا تعلق ہے جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو اپنی ذاتوں پر ترجیح دیتے ہیں تو وہ اس صفت کے حامل نہیں بلکہ وہ اس طرح ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ……(البقرۃ : 177) ان کے بارے میں ایثار مال روکنے سے بہتر ہے اور جو آدمی صبر نہ کرے اور سوال کے لئے ہاتھ پھیلائے تو اس کے لئے ایثار کی بجائے مال روک لینا افضل ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے : ایک آدمی ایک انڈے کے برابر سونا لے کر حاضر ہوا۔ عرض کی : یہ صدقہ ہے۔ حضور ﷺ نے اسے پھینکا فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک وہ تمام مال لے آتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے اسے صدقہ کرتا ہے پھر لوگوں سے سوال کرنے کے لئے بیٹھ جاتا ہے “ (1) ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 9 ۔ ذات کی قربانی مال کی قربانی سے بڑھ کر ہے اگرچہ وہ آخر کار نفس کی طرف ہی لوٹ آئے مشہورو معروف ضرب الامثال میں سے یہ ہے : ……… ذات کی سخاوت سب سے بڑی سخاوت ہے۔ محبت کی تعریف میں صوفیاء کی عمدہ عبارات ہیں وہ یہ کہ یہ بھی ایثار ہے کیا تم نہیں دیکھتے جب عزیر مصر کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اپنی قربت پر آپ کو ترجیح دی کہا : انا راودتہ عن نفسہ میں نے اسے اپنے برے میں بہلانا چاہا۔ اپنی ذات کی سخاوت میں سے سب سے افضل سخاوت حضور ﷺ کی حمایت میں سخاوت ہے۔
حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے غزوہ (احد) کے موقع پر اپنے آپ کو نبی کریم کے سامنے ڈھال بنایا۔ نبی کریم ﷺ جھانکتے تھے تاکہ قوم کو دیکھیں تو حضرت ابو طحہ عرض کرتے : یا رسول اللہ ! ﷺ نہ جھانکیے کہیں وہ آپ کو تیر ہی نہ مار دیں میری گردن حاضر ہے، نہ کہ آپ کی گردن، تیر مجھے لگے نہ کہ آپ ﷺ کو۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا تو ان کا ہاتھ شل ہوگیا۔
حضرت حذیفہ عدوی نے کہا : میں جنگ یرموک کے موقع پر اپنے چچا زاد بھائی کی تلاش میں نکلا میرے پاس کچھ پانی تھا۔ میں کہہ رہا تھا ؟ اگر اس میں زندگی کی رمق ہوئی تو میں اسے پانی پلائوں گا، اچانک میں اس کے پاس تھا۔ میں نے کہا : میں تجھے پانی پلائوں ؟ اس نے سر سے اشارہ کیا : ہاں، تو اچانک میں ایک ایسے آدمی کو پاتا ہوں جو آہ آہ کہہ رہا ہے۔ میرے چچا زاد بھائی نے میری طرف اشارہ کیا کہ اس کی طرف جائو ( میں اس کی طرف گیا) تو وہ فوت ہوچکا تھا میں واپس ہشام کی طرف آیا تو وہ بھی فوت ہوچکا تھا، میں اپنے چچا زاد بھائی کی طرف لوٹا تو وہ بھی فوت ہوچکا تھا۔
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : مجھ پر کبھی کوئی آدمی اس طرح غالب نہیں آیا جس طرح بلخ کا ایک نوجوان مجھ پر غالب آیا۔ وہ حج کے ارادہ سے ہمارے پاس آیا۔ اس نے پوچھا : اے ابا یزید ! تمہارے نزدیک زہد کی کیا تعریف ہے ؟ میں نے کہا : اگر ہم کوئی چیز پاتے ہیں تو کھالیتے ہیں اور اگر نہیں پاتے تو صبر کرتے ہیں۔ اس نے کہا : ہمارے پاں بلخ کے کتوں کی یہی صورتحال ہے۔ میں نے پوچھا : تمہارے نزدیک زہد کی کیا تعریف ہے ؟ اس نے کہا : اگر ہم نہ پائیں تو شکر کرتے ہیں اور اگر ہم کوئی چیز پائیں تو دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں (1) ۔ حضرت ذوالنون مصری سے پوچھا گیا : وہ زاہد جسے انشراح صدر حاصل ہوتا ہے اس کی کیا تعریف ہے ؟ فرمایا : تین چیزیں، جمع شدہ چیز کو تقسیم کردینا، مفقود چیز کی طلب کو ترک کرنا اور روزی کے حصول کے وقت دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا۔ ابو الحسن انطا کی سے مروی ہے : ری کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات میں ان کے پاس تیس سے زائد آدمی جمع ہوگئے۔ ان کے پاس چند روٹیاں تھیں جو سب کو سیر نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے روٹیوں کے ٹکڑے کیے، چراغ کو گل کردیا اور کھانے کے لئے بیٹھ گئے۔ جب کھانے کو اٹھایا گیا تو کھانا اسی طرح تھا۔ اس کھانے میں سے کسی نے بھی کوئی چیز نہ کھائی تھی، مقصد دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا تھا۔
مسئلہ نمبر 01 ۔ ولو کان بھم خصاصۃ۔ خصاصۃ سے مراد ایسی حالت ہے جس کی وجہ سے اموال میں خلل واقع ہوجائے۔ اس کی اصل اختصاص ہے اس سے مراد کسی امر کے لئے خاص ہونا۔ خصاصۃ کا معنی ہواحاجت میں منفرد ہونا یعنی اگرچہ انہیں فاقہ اور حاجت لاحق ہو ؛ اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
اما الربیع اذا تکون خصاصۃ
جہاں تک ربیع کا تعلق ہے جب اسے حاجت لاحق ہوتی ہے۔
………۔ شیح اور بخل دونوں برابر ہیں، رجل شعیح جس کا بخل واضح ہو اس کے لئے شح، شح اور شحاصہ کا لفط استعمال ہوتا ہے : عمرو بن کلثوم نے کہا :
تر اللحز الشحیع تو انتہائی بخیل کو دیکھے گا۔
بعض اہل لغت نے شح کو بخل سے بھی زیادہ شدید قرار دیا ہے۔ صحاح میں ہے : شح سے مراد بخل کے ساتھ حرص مراد ہے۔ تو کہتا ہے :…………
آیت سے مراد ہے زکوٰۃ میں بخل کرنا اور ذوی الارحام کے ساتھ صلہ رحمی اور ضیافت وغیرہ جو فرض نہیں ان میں بخل کرنا۔ جو آدمی ان مصارف پر مال خرچ کرے اور اپنے لئے بھی کچھ روک لے تو وہ شحیح اور بخیل نہیں اور جو آدمی اپنی ذات پر زیادہ خرچ کرے اور ہم نے زکوٰۃ اور طاعات میں سے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے ان میں خرچ نہ کرے تو اس نے اپنے آپ کو بخل سے نہیں بچایا۔
اسود نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی انکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : مجھے خوف ہے کہ میں ہلاک ہو جائوں گا۔ پوچھا : کیا بات ہے ؟
اس نے عرض کی : میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ……… میں ایک بخیل آدمی ہوں، میں اپنے ہاتھ سے کوئی چیز نہیں نکالتا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : یہ وہ شح نہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کیا ہے۔ بیشک وہ شح جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا مال ظلماً کھائے، لیکن جس چیز کا تو نے ذکر کیا ہے وہ بخل ہے اور بخل بھی کتنی بری چیز ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے شح اور بخل میں فرق کیا ہے ؟ طائوس نے کہا : بخل سے مراد یہ ہے کہ انسان کے قبضہ میں جو کچھ ہے اس میں بخل کرے اور شح یہ ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں میں جو ہے اس کے بارے میں کنجوسی کرے۔ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے حلال و حرام کے طریقہ سے حاصل کرے، وہ اس میں قناعت نہیں کرتا۔
ابن جبیر نے کہا : شح سے مراد زکوٰۃ روک لینا اور حرام چیز کو ذخیرہ کرنا۔ ابن عینیہ نے کہا : شیح سے مراد ظلم ہے۔ لیث نے کہا : فرائض کو ترک کرنا اور حرام کو کردہ چیزوں کو اپنانا۔ حضرت عباس ؓ نے کہا : جو اپنی خواہش کی اتباع کرے اور ایمان کو قبول نہ کرے وہ شحیح ہے۔ ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے منع کیا ہو وہ نہ لے اور اللہ تعالیٰ نے اسے جس چیز کا حکم دیا ہے شح اسے اس چیز سے نہ روک سکے تو اللہ تعالیٰ نے اسے شح سے بچا لیا ہے۔ حضرت انس ؓ نے کہا : نبی کریم و نے ارشاد فرمایا : ………وہ آدمی جس نے زکوٰۃ دی، مہمان کی ضیافت کی اور مصیبت کے وقت کسی کو مال دیا تو وہ شح سے بری ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے۔ …………اے اللہ ! میں اپنے نفس کے شح، اس کیا سراف اور اس کے وساوس سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ابو الہیاج اسدی نے کہا : میں نے طواف میں ایک آدمی کو یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا : اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے شح سے بچا۔ وہ اس سے زیادہ کوئی دعا نہیں کر رہا تھا۔ میں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی۔ اس نے جواب دیا : جب میں نے اپنے نفس کو شح سے بچا لیا تو میں چوری نہیں کروں گا، بدکاری نہیں کروں گا اور اور اس جیسا کوئی فعل نہیں کروں گا۔ کیا دیکھتا ہوں وہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ہیں۔
میں کہتا ہوں اس پر آپ ﷺ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے :……ظلم سے بچو کیونکہ قیامت کے روز ظلم تاریکیاں ہوں گے کیونکہ قیامت کے روز ظلم تاریکیاں ہوں گے، شح سے بچو کیونکہ شح نے ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو تم سے پہلے تھے اس نے لوگوں کو برانگخیتہ کیا کہ وہ اپنے خونوں کو بہائیں اور اپنی محارم کو حلال جانیں۔ ہم نے اس کی وضاحت سورة آل عمران کے آخر میں کی ہے۔ کسری نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا : انسان کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : فقر و تنگدستی۔ کسری نے کہا : شیخ فقر سے زیادہ نقصان دینے والی ہے کیونکہ فقیر جب کوئی چیز پاتا ہے تو سیر ہوجاتا ہے اور صحیح جب پاتا ہے تو کبھی بھی سیر نہیں کرتا۔
Ayah 59:10تفسیر
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ …مراد تابعین اور قیامت تک اسلام میں داخل ہونے والے ہیں۔ ابن ابی لیلی نے کہا : لوگوں کے دین درجے ہیں (1) مہاجرین (2) انصار جن کا ذکر ان الفاط میں کیا گیا ہے۔ ……(3) بعد کے مومنین جو قیامت تک آئیں گے جن کا ذکر والذین جاء و من بعدھم کے ساتھ کیا گیا ہے، اس لئے کوشش کرو کہ ان سے باہر نہ نکلو۔ کسی نے کہا : سورج بنو، اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تو چاند بنو، اگر یہ بھی طاقت نہیں رکھتے تو روشن ستارہ بنو۔ اگر تم یہ بھی طاقت نہیں رکھتے تو چھوٹا ستارہ بن جائو اور نور کی جہت ختم نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا معنی ہے مہاجر ہی بن جائو۔ اگر تو کہتے : میں تو ایسا موقع نہیں پاتا تو انصاری بن جائو اگر تم یہ بھی نہ پائو تو ان کے اعمال جیسے اعمال کرو، اگر یہ بھی طاقت نہ رکھو تو ان سے محبت کرو اور ان کے حق میں بخشش طلب کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے حکم دیا ہے۔
حضرت مصعب بن سعد نے کہا : لوگوں کو تین منازل ہیں دو منزلیں گزر چکی ہیں اور ایک منزل باقی ہے جس پر تم ہو اس میں بہترین یہ ہے کہ جو منزل باقی ہے تو اسی منزل پر رہو۔
جعفر بن محمد بن علی اپن باپ سے وہ اپنے دادا حضرت علی بن حسین ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اس نے عرض کیا : اے رسول اللہ ﷺ کے نواسے ! آپ حضرت عثمان کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے اسے فرمایا : اے بھائی : تو اس قوم سے تعلق رکھتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : للفقراء المھجرین اس نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : اگر تو اس آیت کا مصداق نہیں تو ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : والذین تبود الدار والایمان اس نے عرض کی : نہیں، فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تو تیسری آیت کا مصداق بھی نہ بنے تو تم اسلام سے خارج ہوجائو گے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ………۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت محمد بن علی بن حسین ؓ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عراق کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ کو سب و شتم کیا پھر حضرت عثمان غنی ؓ کو بھی برا بھلا کہا اور حد سے تجاوز کیا۔ آپ نے انہیں فرمایا : کیا تم مہاجرین اولین میں سے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں، پوچھا : کیا تم انصار میں سے ہو جنہوں نے دار حجرت کو پہلے ہی ٹھکانہ بنایا ہوا تھا، انہوں نے کہا : نہیں، فرمایا : تم ان دونوں جماعتوں سے نہ ہونے کا اعلان کرچکے ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں سے بھی نہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے :………۔ اٹھ جائو اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل و رسوا کرے (1) ۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت صحابہ کرام کی محبت کے وجوب پر دلیل ہے کیونکہ ان کے بعد جو لوگ بھی ہونگے مال فئی میں انکا حصہ اس صورت میں ہے جب تک وہ لوگ صحابہ کی محبت، ان کی حمایت اور بخشش طلب کرنے پر قائم رہیں گے جس نے ان سب کو گالیاں دیں یا ان میں سے ایک کو گالیاں دیں یا ان میں کسی شر کا اعتقاد رکھا تو مال فئی میں ان کا کوئی حق نہیں : یہی چیز امام مالک اور دوسرے علماء سے بھی مروی ہے۔ امام مالک نے کہا : جو آدمی حضرت محمد ﷺ کے اصحاب میں سی کسی سے بھی بغض رکھتا ہے یا اس کے دل میں ان کے بارے میں کوئی کینہ ہے تو مسلمانوں کے مال فئی میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی (2) ۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ علماء کے اقوال میں سے صحیح یہ ہے کہ منقولہ اموال کو تقسیم کردیا جائے اور جائیداد اور زمین کو تمام مسلمانوں کی ضروریات کے لئے باقی رکھا جائے جس طرح حضرت عمر ؓ نے کیا مگر یہ کہ والی اجتہاد کرے، وہ امر نافذ کرے اور اس کا عمل اس میں جاری وساری ہوجائے کیونکہ لوگوں کا اس میں اختلاف تھا یہ آیت اس بارے میں فیصلہ کرنیوالی ہے کیونکہ اللہ تعاولیٰ نے فئی کے بارے میں خبر دی اور اسے تین طائفوں کے لئے بنایا، مہاجرین، انصار یہ تو معلوم و مشہور ہیں، ………یہ آیت تابعین اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے عام ہے۔
حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم ﷺ قبرستان کی طرف تشریف لے گئے، فرمایا : السلام علیکم دار قوم مومنین و انا ان شاء التدبکم لاحقون وددت ان رایت اخواتنا، اے مومن قوم کے گھر (والو ! ) تم پر سلام ہو ہم انشاء اللہ تمہیں لاحق ہونے والے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ فرمایا : بلکہ تم میرے صحابہ ہو ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے میں حوض پر پہلے جا کر ان کا انتظام کرنے والا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے واضح کیا کہ ان کے بھائی وہ ہیں جو انکے بعد آئیں گے (3) ۔ بات اس طرح نہیں جس طرح سدی اور کلبی نے کہی کہ جنہوں نے اس کے بعد ہجرت کی۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : والذین جاء و من بعد چم سے مراد ہے جس نے ہجرت کے ختم ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ کا قصد کیا اور مدینہ آیا۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ یقولون حالہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے۔ ……… اس میں دو وجوہ ہیں۔ 1 : انہیں حکم دیا گیا کہ اہل کتاب میں سے جو جو مومن اس امت سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کیلئے بخشش طلب کرو۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ ان کے لئے بخشش کے طلب گار ہوں تو انہوں نے ان کو گالیاں دیں۔ انہیں حکم دیا گیا کہ وہ مہاجرین و انصار میں سے اولون ساتھیوں کے لئے بخشش طلب کریں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے صحابہ کیلئے بخشش طلب کرنے کا حکم دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انہیں آزمائش میں ڈالا جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : تمہیں تو یہ حکم دیا گیا کہ تم حضرت محمد ﷺ کے صحابہ کے لئے بخشش طلب کرو تو تم نے انہیں گالیاں دیں۔ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” یہ امت بلاک نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس کے بعد والا پ ہے والے کو لعنت کرے گا “۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں تو کہو : اللہ تعالیٰ تم میں سے سب سے شریر پر لعنت کرے “۔ عوام بن حوشب نے کہا : میں نے اس امت کے متقدمین کو پایا وہ کہتے : رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے محاسن بیان کرو تاکہ تمہارے دل ان سے محبت کرنے لگیں اور ان کے درمیان جو تنازعات پیدا ہوئے ان کا ذکر نہ کرو کہ تم لوگوں کو بھی ایسی باتیں کرنے پر جری بنا دو گے۔ شعبی نے کہا : یہ یہودیوں اور نصاری، رافضیوں پر ایک خصلت میں فضیلت رکھتے ہیں۔ یہودیوں سے پوچھا جائے : تمہارے ملت میں سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں ؟ وہ کہتے ہیں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحاب نصاری سے پوچھا جائے : تمہارے ملت میں سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں ؟ وہ جواب دیں گے : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابہ۔ رافضیوں سے پوچھا جائے تمہاری ملت میں سے سب سے برئے کون ہیں ؟ وہ کہیں گے : حضرت محمد ﷺ کے صحابہ۔ لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ان کے لئے استغفار کریں تو رافضیوں نے انہیں برا بھلا کہا۔ قیامت تک ان پر تلوار سونتی جاتی رہے گی نہ ان کے لئے جھنڈا قائم ہوگا اور نہ ان کے قدم ثابت ہونگے اور نہ ان کی جمعیت اکٹھی ہوگی۔ جب وہ جنگ کی آگ بھڑکائیں گے اللہ تعالیٰ ان کے خون بہانے اور ان کی حجت کو پست کرنے کے ساتھ سے بھی دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں گمراہ کن خواہشات سے محفوظ رکھے۔ غل سے مراد کینہ اور حسد ہے۔
Ayah 59:11تفسیر
منافقوں نے یہودیوں کے ساتھ مدد کا جو وعدہ کیا اس سے یہودیوں کے دھوکہ کھانے پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ منافق نہ کسی دین پر اعتقاد رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی کتاب پر اعتقاد رکھتے ہیں ان منافقین میں سے عبد اللہ بن ابی سلول، عبد اللہ بن نبتل اور رفاعہ بن زید تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رافعہ بن تابوت اور اوس بن قیظی تھے۔ وہ انصار میں سے تھے لیکن انہوں نے منافقت کی اور بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہودیوں سے کہا : ……۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قول بنو نضیر نے بنو قریظہ سے کیا تھا۔ اور ولا نطیع فیکم احدا ابدا میں احد سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے یعنی ہم تمہارے ساتھ جنگ کرنے میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔ اس میں علم غیب کی جہت سے نبی کریم ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلیل موجود ہے کیونکہ یہودیوں کو نکالا گیا اور منافقین نہ نکلے ان کے ساتھ جنگ کی گئی اور منافقین نے ان کی مدد نہ کی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 59:12آیات۔ 12۔
تفسیر
یعنی وہ شکست کھا کر پیٹھ پھیرجائیں گے پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خوشی خوشی ان کی مدد نہ کریں گے۔ اگر وہ مجبوراً مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کی ہمیشہ مدد نہیں کریں گے۔ یہ تعبیر اس وقت ہوگی جب دونوں ضمیروں کا مصداق ایک ہو۔ اگر مصداق مکتلف ہو تو اس کا معنی ہے اگر یہودیوں نے منافقین کی مدد کی تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ……… اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اگر یہودیوں کو نکالا گیا تو منافق ان کے ساتھ نکلیں گے۔ ولئن قوتلو الا ینصرونھم اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بھی تھا کہ اگر ان سے قتال کیا گیا ہے تو منافق ان کی مدد نہ کریں گے۔ پھر فرمایا : ……تو یہ گفتگو اس انداز میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……(الانعام : 28) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی یہ ہے ولئن نصروھم یعنی اگر ہم چاہیں کہ وہ ان کی مدد کریں تو یہ امر ہم انکے لئے مزین کردیں گے لیولن الادبار۔
Ayah 59:13آیات۔ 13
تفسیر
لاانتم یعنی اسے مسلمانوں کی جماعت ! اشد رھبۃ فی صدورھم من اللہ تم بنو نضیر کے سینوں میں اللہ تعالیٰ کی نسبت زیادہ ہیبت والے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : منافقین کے سینوں میں تم زیادہ ہیبت والے ہو۔ یہ بھی احتمال موجود ہے کہ ضمیر دونوں جماعتوں کے لئے ہو یعنی یہ دونوں طبقات اللہ تعالیٰ کی نسبت تم سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ ……۔ وہ اللہ تالیٰ کی عظمت اور قدرت کی قدر نہیں سمجھتے۔
Ayah 59:14آیات۔ 14
تفسیر
لا یقاتلونکم جمیعا وائو ضمیر سے مراد یہودی ہیں۔ الا فی قری محصنۃ وہ دیواروں اور گھروں کی اوٹوں میں رہتے ہوئے تم سے جنگ کریں گے وہ گمان کرتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں انہیں تم سے محفوظ رکھیں گی۔ اومن وراء جدر (دیواروں کے پچھے وہ وہ بزدلی اور خوف کی وجہ سے ان کے پیچھے چھپے ہیں۔ عام قرأ ت جدر ہے جو جمع کا صیغہ ہے ؛ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : فی قری محصنۃ کی طرح ہے۔ اور قری جمع کا صیغہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، ابن کثیر، ابن محیصن اور ابو عمرو نے جدار واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ مکہ کے ایک قاری نے اسے جدر پڑھا ہے یہ بھی جدار میں ایک لغت ہے یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی ہو وہ اپنے باغوں اور درختوں کی اوٹ سے لڑیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اجدر النخل جب موسم بہار میں کھجور کی کونپلیں پھوٹین جدر سے مراد بوٹی ہے، اس کی واحد جدرہ ہے اسے جدر پڑھا گیا ہے۔ جو جدار کی جمع ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کے واحد میں الف اس طرح ہو جس طرح کتاب میں الف ہے اور جمع میں الف اس طرح ظراف میں الف ہے۔ اس کی نقل ناقۃ ھجان ونوق ھجان ہے کیونکہ تثنیہ میں ھجانان ہے پھر واحد اور جمع کا لفط لفظاً ایک دوسرے کے مشابہ اور معنی میں مختلف ہیں ؛ یہ ابن جنی نے قول کیا ہے۔
بایھم بینھم شدید یعنی ان کی ایک دوسرے کے حق میں عداوت شدید ہے۔ مجاہد نے کہا : معنی ہے وہ سخت گفتگو کرتے ہیں اور یوں دھمکیاں دیتے ہیں۔ لنفعلن کذا اسدی نے کہا : مراد ان کے دلوں کا اختلاف ہے وہ ایک امر پر متفق نہیں ہوتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب دشمن سے ملاقات نہیں ہوتی تو وہ اپنے آپ کو شدت اور باس کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن جب دشمن سے ملاقات ہوتی تو شکست کھاجاتے ہیں۔
تحسبھم جمیعا وقلوبھم شی مراد یہود و منافقین ہیں ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد منافقین ہیں۔ ثوری نے کہا : مراد مشرک اور اہل کتاب ہیں۔ قتادہ نے کہا : تم ان کے بارے میں گمان کرو گے کہ وہ ایک امر اور رائے پر مجتمع ہیں جبکہ ان کے دل مختلف ہیں۔ اہل باطل کی آراء مختلف ہیں ان کی شہادتیں مختلف ہیں، ان کی خواہشات مختلف ہیں اور وہ اہل حق کی عداوت میں مجتمع ہیں۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : یہ ارادہ کیا کہ منافقین کا دین، یہودیوں کے دین کے خلاف ہے۔ یہ اس لئے واضح کیا تاکہ ان کے خلاف مومنوں کے دل قوی ہوجائیں : شاعر نے کہا :
ھی الیوم شتی وھی امس جتمع
وہ آج مختلف ہے اور وہ کل مجتمع تھی۔
حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں وقلوبھم اثبت ہے یعنی ان کے دل اختلاف میں بہت شدید ہیں۔ ……۔ ان میں یہ اختلاف اور کفر اس وجہ سے ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے، اس کی مدد سے اللہ تعالیٰ کے امر کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 59:15آیات۔ 15
تفسیر
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد بنو قینقاع ہیں۔ قتادہ نے کہا : مراد بنو نضیر ہیں (1) ۔ بنو قریظہ سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان پر قدرت عطا فرمائی۔ مجاہد نے کہا : غزوہ بدر کے موقع پر قریش کے کفار مراد ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ ہر اس قوم کے بارے میں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بنو نضیر سے قبل اس کے کفر کی وجہ سے انتقام لیا۔ وبال کا معنی ان کے کفر کی جزا ہے۔ جس نے کہا : وہ بنو قریظہ ہیں تو اس نے وبال امر ھم کی تعبیر ان کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ کے حکم پر اپنے قلعوں سے نیچے آنا ہے۔ حضرت سعد بن معاذ نے ان کے جنگجو افراد کو قتل کرنے اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لینے کا حکم دیا ؛ یہ ضحاک کا قول ہے۔ جس نے کہا : مرا دبنو نضیر ہیں اس نے کہا : وبال سے مراد ان کی جلا وطنی ہے، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے واقعہ کے درمیان دو سال کا عرصہ حائل تھا۔ غزوہ بدر کا واقعہ غزوہ بنو نضیر سے چھ ماہ پہلے ہوا تھا ؛ اسی وجہ سے فرمایا : قریباً ایک قوم کا کہنا ہے کہ بنو نضیر کا واقعہ غزوہ احد کے بعد ہوا تھا۔ ……۔ آخرت میں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔