58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے۔

آیات۔ 22 تفسیر اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔……………یعنی وہ محبت کرتے ہوں اور ان سے دوسری رکھتے ہو۔ من حاد اللہ ورسولہ اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ ولو کانو اباھ ھم سدی نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی کے حق میں نازل ہوئی وہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے پانی نوش کیا انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ آپ اپنے پانی میں سے کوئی چیز باقی چھوڑتے جسے میں اپنے باپ کو پلاتا ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کے دل کو پاکیزہ بنا دیتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے پانی چھوڑ دیا تو وہ پانی عبد اللہ بن ابی کے پاس لے آیا۔ عبد اللہ بن ابی نے کہا : یہ کیا چیز ہے ؟ بیٹے نے کہا : یہ نبی کریم ﷺ کا بچا ہوا پانی ہے تاکہ تو اسے پیے ممکن ہے اللہ تعالیٰ تیرے دل کو پاکیزہ بنائے۔ اس کے باپ نے اسے کہا : تو اپنی ماں کا بول کیوں نہیں لے آیا وہ اس پانی سے پاکیزہ تر تھا۔ بیٹا غضب ناک ہوگیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بلکہ تو اس کے ساتھ نرمی کر اور اس پر احسان کر “ (1) ۔ ابن جریج نے کہا : مجھے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ابو قحافہ نے نبی کریم ﷺ کو برا بھلا کہا ان کے بیٹے حضرت ابوبکر ؓ نے اسے ایک تھپڑ مارا اور وہ اپنے منہ کے بل گرگیا ۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا ذکر آپ سے کیا۔ فرمایا :” کیا تو نے ایسا کیا ہے ؟ آئندہ ایسا نہ کرنا “۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! اگر تلوار میرے قریب ہوتی تو میں اسے قتل کردیتا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : یہ آیت حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ احد کے موقع پر انہوں نے باپ جراح کو قتل کردیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یوم بدر کو قتل کیا تھا۔ جراح حضرت ابو عبیدہ کے سامنے آتا اور حضرت ابو عبیدہ ایک طرف ہوجاتے۔ جب یہ سلسلہ بار بار ہوا تو حضرت ابو عبیدہ نے اسے قتل کردیا جب انہوں نے اپنے باپ کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نازل فرمایا لا تجدقوما یومنون باللہ والیوم الاخر۔ واقدی نے کہا : اہل شام بھی یہ کہتے ہیں میں نے بنی حرث بن فہر کے لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا : حضرت ابو عبیدہ کے والد تو دور اسلام سے قبل فوت ہوچکے تھے۔ او ابنائھم مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں انہوں نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو دعوت مبارزت دی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اے ابوبکر ! ہمیں اپنی ذات سے لطف اندوز کر کیا تو نہیں جانتا کہ تو میرے ہاں کان اور آنکھ کی طرح ہے۔ ” آئو اخوانھم مراد حضرت مصعب بن عمیر ؓ ہیں جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کردیا تھا۔ ائو عشیرتھم مراد حضرت عمر بن خطاب ؓ ہیں جنہوں نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بدر کے دن قتل کیا تھا اور حضرت علی شیر خدا اور حضرت حمزہ ؓ عنما ہیں جنہوں نے بدر کے دن عتبہ، شیبہ ولید کو قتل کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت حاطب بنی ابی بلتعہ کے حق میں نازل ہوئی جب فتح مکہ کے سال نبی کریم ﷺ کی روانگی کے متعلق انہوں نے اہل مکہ کو خط لکھا۔ جس کی وضاحت سورة ممتحنہ کے شروع میں آئے گی۔ ان شاء اللہ۔ اس امر کو واضح کیا کہ کفار کی دوسیت کی وجہ سے ایمان میں فساد برپا ہوجاتا ہے اگرچہ وہ قریبی ہوں۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ امام مالک نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ قدر یہ سے دشمنی کی جائے اور ان کی صحبت کو ترک کردیا جائے۔ اشہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے۔ قدریہ کی صحبت میں نہ بیٹھو اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ان سے دشمنی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخریو ادون من حاد اللہ ورسولہ۔ (1) میں کہتا ہوں : اہل قدر سے مراد تمام ظلم و عدو ان والے ہیں۔ ثوری سے مروی ہے انہوں نے کہا : علماء خیال کرتے تھے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے نازل ہوئی جو سلطان کے مصاحب ہوتے تھے۔ عبد العزیز بن بن ابی دائود سے مروی ہے کہ وہ طواف میں منصور سے ملا جب منصور کو پہچانا تو اس سے دور بھاگ گیا اور اس آیت کی تلاوت کی۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ کہتے :” اے اللہ ! کسی فاجر کے لئے میرے ہاں کوئی نعمت نہ بنا، بیشک تو نے جو وحی میری طرف کی ہے میں نے اسے میں پایا ہے لا تجدقوما یومنون باللہ والیوم الاخریو ادون من حاد اللہ و رسولہ ولو کانو اباءھم او ابناءھم او اخوانھم او عشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان “۔ (2) یعنی ان کے دلوں میں تصدیق پیدا کردی۔ مراد ہے جس نے اسے دوستی نہ کی جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ کتبکا معنی ثبت کرنا ہے ؛ یہ ربیع بن انس کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جعل کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فاکتبنا مع الشھدین۔ (آل عمران) یعنی ہمیں شاہدوں کا ساتھی بنا دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کتب کا معنی جمع کرنا ہے ؛ اسی سے الکتبیہ کا لفظ ہے یعنی وہ ان میں سے نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ عام قرأت کاف کے فتحہ کے ساتھ ہے اور ایمان کا نون منصوب ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ثبت کردیا ہے۔ یہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وایدھم بروح منہ ابو العالیہ، زربن جیش اور مفصل نے عاصم سے کتب مجہول کا صیغہ پڑھا ہے اور الایمان کو نون کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ زربن حبیش نے وعشیرتھم جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اعمش نے ابوبکر سے وہ عاصم سے یہی روایت نقل کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ کتب فی قلوبھم یہ کتب عن قلوبھم کے معنی میں ہے جس طرح فرمایا : فی جزوع النخل (طہ : 71) یہ عی جزوع النخل کے معنی میں ہے۔ قلوب کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ یہ ایمان کا محل ہے۔ وایدھم یعنی انہیں قوت بہم پہنچائی اور ان کی مدد ی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : روح کا معنی نصر ہے۔ ربیع بن انس نے کہا : قرآن اور دلائل کے ساتھ ان کی مدد کی۔ ابن جریج نے کہا : نور، ایمان، برہان اور ہدایت کے ساتھ ان کی مدد ی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ روح سے مراد رحمت ہے۔ بعض نے کہا : حضرت جبریل امین کے ساتھ ان کی مدد کی (1) ۔ ویدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ؓ یہاں رضی سے مراد ہے ان کے اعمال کو قبول کیا۔ ورضوا عنہ اللہ تعالیٰ نے جو انہیں عطا کیا اس پر وہ خوش ہیں۔ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم الفلحون۔ سعید بن ابی سعید جرجانی نے اپنے بعض مشائخ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : اے میرے اللہ ! تیری جماعت کون سی ہے اور تیرے عرش کے ارد گرد رہنے والے کون ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : اے دائود ! جن کی آنکھیں جھکی ہوئی، جن کے دل پاکیزہ، جن ہاتھ ظلم سے محفوظ ہیں وہ میری جماعت اور میرے عرش کے ارد گرد رہنے والے ہیں۔