Ayahs 58:5–6ان الذین یحآدون اللہ و رسولہ جب ممونین کا ذکر کیا جو اس کی حدود پر رکج اتے ہیں تو اس کی مخالفت کرنے والوں کا بھی ذکر کیا۔ محاورہ کا معنی دشمنی کرنا اور حدود کی مخالفت کرنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ذلک بانھم شآقوا اللہ و رسولہ (الحشر : 4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یحآدون اللہ کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی مخلافت کرتے ہیں جس طرح حدیث میں ہے من اھان لی ولیا فقد بار زنی بالمح اور بۃ جس نے میرے دوست کی اہانت کی اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا زجاج نے کہا، محادہ یہ ہے کہ تو ایسی حد میں ہو جو تیرے ساتھی کی حد کی مخالف ہو۔ اس کا اصل معنی ممانعت ہے اسی سے لفظ حدید ہے اسی سے لفظ حداد ہے، یعنی لوہار۔
کبتوا ابوعبید اور اخفش نے کہا : انہیں بلاک کردیا گیا۔ قتادہ نے کہا : انہیں ذلیل و رسوا کیا گیا جس طرح ان سے قبل لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا گیا۔ ابن زید نے کہا : انہیں عذاب دیا تھا۔ سدی نے کہا : ان پر لعنت کی گئی۔ فراء نے کہا : خندق کے روز انہیں غیظ و غضب میں مبتلا کیا گیا ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا، بدر کے روز انہیں غیض و غضب میں مبتلا کیا گیا مراد مشرک ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد منافق ہیں۔ کما کبت الذین من قبلھم
ایکقول یہ کیا گیا ہے کہ کبتوا سے مراد ہے انہیں ذلیل و رسوا کیا جائے گا یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنوں کو مدد کی بشارت ہے کلام کو ماضی کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایاج ائے کہ جس کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے وہ قریب ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مذحج کی لغت میں ہے۔
وقد النزلنا ایت بینت جنہوں نے اللہ اس کے رسول کی مخالفت کی جو ان لوگوں میں سے تھے جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے ساتھ جو ہم نے کیا اس بارے میں ہم نے آیات کو نازل کیا۔ وللکفرین عذاب مھین
یوم پر نصب عذاب مہین کی وجہ سے ہے یا ایسے فعل کے ساتھ ہے جو مضمر ہے اس کی تقدیر ہے اذکر تعظیما للیوم (1) ۔ یبعثمم اللہ جمعاً مردوں اور عورتوں کو ان کی قبروں سے ایک ہی حالت میں اٹھائے گا۔
فینبھم یعنی انہیں خبر دے گا۔ بما عملوا دنیا میں جو عمل کرتے رہے احصہ اللہ، اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کے صحیفوں کو شمار کر رکھا ہے ونسوہ وہ اسے بھول چکے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے اعمال کے صحیفوں میں یاد کرایا تاکہ حجت ان پر زیادہ بلیغ ہوجائے۔ واللہ علی کل شیء شھید۔ اللہ تعالیٰ مطلع ہے اور دیکھ رہا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 58:7الم تر ان اللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض اس پر کوئی راز مرخفی ہے اور نہ ہی اعلانیہ بات۔ مایکون من نجویٰ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے کیونکہ فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ ہے۔ ابو جعفر بن قعقاع، اعرج، ابوحیوہ اور عیسیٰ نے ماتکون پڑھا ہے کیونکہ فعل مونث ہے۔ نجوی کا معنی راز داری ہے۔ یہ مصدر ہے اور مصدر کے ساتھ کبھی صفت لگائی جاتی ہے یہ کہا جاتا ہے : قوم نجوی یعنی قوم ذونجوی اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واذھم نجوی (الاسرائ : 47)
ثلثۃ یہ مجرور ہے کیونکہ نجوی کا لفظ اس کی طرف مضاف ہے۔ فراء نے کہا، یہ نجوی کی صفت ہے اس وجہ سے مجرور ہے اگر تو چاہے تو نجوی کو اس کی طرف مضاف کر دے اگر تو فعل کو مضمر مانتے ہوئے نصب دے تو یہ جائز ہے، یہ ابن ابی عبلہ کی قرأت ہے۔ ثلثۃ اور خمسۃ حال ہونے کی حیثیت سے منسوب ہوں گے جب کہ یتناجون مضمر ہو کیونکر نجری اس پر دلالت کرتا ہے : یہ زمحشری کا قول ہے۔ ثلاثہ پر رفع پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ نجری کے محل سے بدل ہے۔ پھر یہ کہا گیا : یہ راز داری نجوی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نجوی تین افراد میں ہوتی ہے وہ کسی امر کو چھپاتے ہیں اور اس کے بارے میں مشورہ کرتے ہیں اور اسرار اسے کہتے ہیں جو بات دو افراد کے درمیان ہوتی ہے۔
الا ھو رابعھم وہ جانتا ہے اور ان کی سرگوشی کو سنتا ہے اسی چیز پر آیت اور اختتام دلالت کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نجوی نجوۃ سے مشتق ہے اس سے مراد بھری ہوئی زمین ہے دو سرگوشیاں کرنے والے سرگوشیاں کرتے ہیں اور راز داری میں تنہائی کا ماحول پیدا کرتے ہیں جس طرح زمین میں سے بلند جگہ متصل جگہوں سے الگ تھلگ ہوتی ہے آیت کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ کی قوت سماعت ہر کلام کو محیط ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے مجادلہ کو سن لیا ہے جس سے اس کے خاوند نے ظہار کیا تھا۔
ولا ادنیٰ من ذلک ولا اکثر سلام، یعقوب، ابو العالیہ، نصر اور عیسیٰ نے اسے مرفوع پڑھا ہے کیونکہ اس کا عطف من نجویٰ کے محل پر ہے جب کہ ابھی اس پر من داخل نہ ہوا کیونکہ اس کی تقدیر مایکون من نجوی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ (اکثر) یہ اس بنا پر مرفوع ہو کہ اس کا عطف لا پر ادنیٰ کے ساتھ ہو جس طرح تیرا یہق ول ہے : لاحول ولا قوۃ الا باللہ کے حول پر فتحہ اور قوۃ پر رفع پڑھا جائے۔ یہ بھی جائز ہے کہ دونوں مبتدا کی حیثیت میں مرفوع ہوں جس طرح تیرا قول : لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ میں مفصل گزر چکی ہے۔ زہری اور عکرمہ نے اکبر، باء کے ساتھ پڑھا ہے جب کہ عام قرأت ثاء اور راء کے فتحہ کے ساتھ ہے اور اس کا محل جر ہے۔ فراء نے مایکون من نجوی ثلثۃ الا ھو رابعھم ولا خمسۃ الا ھو سادسنھم کے بارے میں کہا، یہاں عدد مقصود نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ہر عدد کی صورت میں سب سے زیادہ اگٓاہ ہے خواہ عدد کم ہو یا زیادہ ہو۔ وہ راز داری یا بلند آواز سے جو کچھ کہتے ہیں سب کچھ جانتا ہے اس پر کوئی راز یا عدد یا چیز مخفی نہیں اسی وجہ سے بعض اعداد کا ذکر کیا بعض کا ذکر نہیں کیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ساتھ ان کے ساتھ ہے خواہ وہ جہاں بھی ہوں اس کا علم نہ زائد ہوگا نہ منتقل ہوگا۔ یہ آیت منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ کچھ امور راز داری سے کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا، یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل وہئی۔
ثم یننبھم بما عملوا پھر اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اچھے برے عمل کے بارے میں آگاہ کر دے گا۔ یوم القیمۃ ان اللہ بکل شیء علیم۔
Ayah 58:8اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ الم تر الی الذین نھوا عن النجوی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ یہودیوں اور منافقوں کے بارے میں ہے جیسا پہلے ہم نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مومنوں کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت یہودیوں اور منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی وہ مومنوں کو دیکھتے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے۔ مومن کہتے : شاید انہیں ہمارے مہاجر اور انصاری بھائیوں اور رشتہ داروں کے بارے میں شہادت، مصیبت اور ہزیمت کے بارے میں خبر پہنچی ہے۔ یہ امر انہیں پریشان کرتا ان کی شکایات نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں زیادہ ہوگئیں نبی کریم ﷺ نے انہیں نجوی سے منع کیا تو وہ نہ رکے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
مقاتل نے کہا، نبی کریم ﷺ اور یہودیوں کے درمیان لاتعلقی سی تھی جب کوئی مومن ان کے پاس سے گزرتا تو وہ آپس میں مشورہ کرتے یہاں تک کہ مومن کسی برائی کا گمان کرتا تو وہ مومن اپنا راستہ چھوڑ دیتا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع کیا تو وہ نہ رکے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے کہا، کوئی آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اپنی ضرورت پیش کرتا اور سرگوشی کا اندازہ اپناتا ان دنوں جنگ کا دور دور تھا صحابہ کرام یہ گمان کرتے کہ یہ آدمی آپ سے جنگ، مصیبت یا کسی اہم امر کے بارے میں سرگوشی کر رہا ہے تو اس وجہ سے صحابہ کرام گھبرا جاتے تو یہ آیت نازل ہوئی (1)
مسئلہ نمبر 2۔ حضرت ابو سعید خدرمی نے روایت نقل کی ہے : ایک روز ہم گفتگو کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے پوچھا :” یہ سرگوشیاں کیا ہیں ؟ کیا تم سرگوشی سے باز نہیں آئو گے ؟ ‘ ہم نے عرض کی : ہم نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا یا رسول اللہ ہم دجال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے جب کہ ہم ڈر رہے تھے۔ فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس امر کے بارے میں خبر نہ دوں جو میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ “ ہم نے عرض کی : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا :” شرک خفی، وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی آدمی کے ہاں مقام و مرتبہ حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرنے لگے۔ “ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ حمزہ، خلف اور رویس نے یعقوب سے وینتجون، یفتعلون کے وزن پر پڑھا ہے، یہ حضرت عبداللہ اور ان کے اصحاب کی قرأت ہے باقی قراء نے ویناجون، یتفاعلون کے وزن پر پڑھا ہے، ابوعبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذا تنا جیتم اور تتناجوا۔ نحاس نے کہا، سیبویہ نے حکایت بیان کی ہے کہ باب تفاعل اور افتعال ایک ہی معنی میں آتے ہیں جس طرح تخاصموا اور اختصموا تقاتلوا اور اقتلوا اسی وجہ سے یناجون اور ینتجون ہم معنی ہیں بالاثم والعدوان مراد جھوٹ اور ظلم ہے۔ ومصیت الرسول رسول اللہ کی مخالفت۔ ضحاک، مجاہد اور حمید نے و معصیات الرسول جمع کے صیغہ کے طور پر پڑھا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ واذا جآءوک حیوک بما لم یحبک بہ اللہ علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس کا مصداق یہودی ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور کہتے : السام علیک وہ ظاہر میں سلام اور باطن میں موت مراد لیتے نبی کریم ﷺ انہیں کہتے ” علیکم ‘ یہ ایک روایت میں ہے اور دوسری روایت میں ہے وعلیکم۔ ابن عربی نے کہا، یہ مشکل ہے (1) وہ کہا کرتے تھے : اگر محمد ﷺ نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں گالی دینے اور انہیں حقیر جاننے کے باوجود ہمیں ملہت نہ دیتا اور اس امر سے ناواقف تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حلیم ہے جو اس کو گالی دیتا ہے اس کے بارے میں جلدی نہیں کرتا تو جو اس کے نبی کو گالی دے گا اس کے بارے میں کیوں جلدی کرے گا ؟ یہ بات تو ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ” اللہ تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر اذیت پر صبر کرنے والا کوئی نہیں۔ لوگ اس کے لئے بیوی اور بچے کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ انہیں عافیت عطا فرماتا ہے اور انہیں رزق عطا فرماتا ہے “ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو ان کے رازوں کو ظاہر کرنے، ان کے باطن کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے نازل فرمایا تاکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے لئے معجزہ ہوجائے۔ قتادہ نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے کہا، السام علیکم نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دیا اور پوچھا :” کیا تم جاتنے ہو اس نے کیا کہا ؟ “ صحابہ نے عرض کی : اللہ و رسولہ اعلم۔ فرمایا :” اس نے یہ کہا، اے میرے پاس و اس لائو۔ “ صحابہ اسے واپس لائے فرمایا :” تو نے کہا السام علیکم “ اس نے کہا، ہاں اس موقع پر بنی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اہل کتاب تمہیں سلام کہیں تو کہو تجھ پر وہی جو تو نے کہا “ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
میں نے کہا، امام ترمذی نے اس کی تخریج کی ہے، کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے یہ بات ثابت ہے انہوں نے کہا : کچھ یہودی لوگ نبیک ریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا، السام علیک یا اباالقاسم ! تو میں نے کہا، السام علیکم و فعل اللہ بکم و فعل۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اے عائشہچ رک جائو اللہ تعالیٰ فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ دیکھتے نہیں وہ کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا : کیا تو نہیں دیکھتی کہ میں انہیں وہی جواب دیتا ہوں جو وہ کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وعلیکم “ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ پر سلام بھیجتا ہے اور وہ کہتے ہیں : السام علیک اور سام سے مراد موت ہے : اسے امام بخاری نے نقل کیا ہے اور امام مسلم نے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ صحیحین میں حضرت انس بن مالک سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم کہو وعلیکم “ روایت اسی طرح ہے یعنی وعلیکم۔ علماء نے اس بارے میں گفتگو کی ہے کیونکہ وائو عاطفہ شرکت کا تقاضا کرتی ہے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ انہوں نے ہمارے بارے میں جس موت کی دعا کی ہے وہ ان پر بھی واقع ہو یا یہ سامۃ سے مشتق ہے جس کا معنی اکتا جاتا ہے۔ یہ کہا اجتا ہے : سئم یسئم سامۃ وساما بعض نے کہا، وائو زائدہ ہے جس طرح شاعر کے شعر میں
لما اجرنا ساحۃ الحی واستحی
اصل کلام یہ ہے لما اجرنا استحی یہاں وائو زائدہ ہے۔ بعض نے کہا، وائو مستانفہ ہے گویا کہا : والسام علیکم۔ بعض نے کہا، یہ وائو عاطفہ ہے اور ہمیں کوئی تکلیف نہیں دیتی کیونکہ جب ہم ان کے حق میں بد دعا کرتے ہیں تو ہماری بد دعا قبول کی جاتی ہے اور ہمارے بارے میں ان کی بد دعا قبول نہیں کی جاتی، جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا زبیر نے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو کہتے ہوئے سنا کچھ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں سلام کیا تو کہا، السام علیک یا ابا القاسم ! تو فرمایا : وعلیکم حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا، میں غصے ہوگئی عرض کی : الم تسمع ماقالو ؟ کیا وہ جو کہتے ہیں آپ سنتے نہیں ؟ فرمایا :” کیوں نہیں میں نے اسے سنا ہے میں نے انہیں جواب دیا ہے۔ ان کے بارے میں ہماری بد دعا قبول کی جاتی ہے اور ان کی بد دعا ہمارے بارے میں قبول نہیں کی جاتی۔ “ امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے وائو کی روایت معنی کے اعتبار سے اچھی ہے اس کا ثبات رکھنا زیادہ صحیح ہے اور زیادہ مشہور ہے۔
اہل ذمہ کو سلام کا جواب دینے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ واجب ہے جس طرح مسلمانوں کو جواب دینا واجب ہے ؟ حضرت ابن عباس، شعبی اور قتادہ نے کہا، یہ واجب ہے۔ امام مالک اس طرف گئے ہیں کہ جواب دینا واجب نہیں، یہ اشہب نے ان سے روایت نقل کی ہے۔ اگر تو اسے جواب دے تو تو کہہ علیک ابن طائوس نے جواب میں یہ کہنا پسند کیا ہے، علاک السلام۔ یعنی سلامتی تجھ سے اٹھ چکی ہے۔ ہمارے بعض اصحاب نے کہا : السلام سین کے کسرہ کے ساتھ ہے مراد پتھر ہے۔ امام مالک نے جو کہا ہے سنت کی اتباع میں یہ الوی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسروق نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں یہودی آئے انہوں نے کہا : السام علیک یا ابالقاسم ! فرمایا : وعلیکم۔ حضرت عائشہ صدیہ نے کہا، میں نے کہا : بل علیکم السام و الذام۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے عائشہ ! فحش گفتگو کرنے والی نہ بن۔ “ حضرت عائشہ نے کہا، انہوں نے جو کہا اس کو آپ نے نہیں سنا۔ فرمایا :” انہوں نے جو کچھ کہا کیا میں نے اسے لوٹا نہیں دیا ؟ میں نے کہا وعلیکم “ ایک روایت میں ہے۔ حضرت عائشہ انہیں بھانپ گئیں تو انہیں گالیاں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے عائشہ ! رک جائو اللہ تعالیٰ فحش اور نفش کو پسند نہیں کرتا “ کچھ زائد ارشاد فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیتک و نازل فرمایا : الذام میم کی تخفیف کے ساتھ ہے جس کا معنی عیب ہے ضرب المثل میں ہے لاتعدم الحسناء ذاما۔ حسینہ عیب سے خالی ہوتی ہے۔ کبھی اس میں ہمزہ لایا جاتا ہے اور کبھی نہیں لایا جاتا یہ کہا اجتا ہے : ذامہ یذامہ جس طرح ذاب یذاب اس کا اسم مفعول مذ وم ہے یہ مہموز ہے اس سے مذءوما مدحوراً (الاعراف : 18) ہے یہ کہا جاتا ہے : ذامہ یذرمہ جس طرح رامہ، یرومہ۔
ویقولون فی انفسم لو لا یعذبنا اللہ بما نقول انہوں نے کہا : اگر حضرت محمد ﷺ نبی ہوتے تو ہم جو کچھ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور عذاب دیتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو کہتے وہ ہمیں جواب دیدتا ہے اور کہتا ہے وعلیکم السام اور سام کا معنی موت ہے اگر وہ نبی ہوتا تو ہمارے بارے میں اسکی دعا قبول کی جاتی اور ہم مر جاتے۔ یہ ان کی جانب سے تعجب کا موقع ہے کیونکہ وہ اہل کتاب تھے وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ انبیاء کبھی غضب ناک ہوتے ہیں تو جن پر وہ غضب ناک ہوتے ہیں ان کو جلدی عذاب نہیں دیا جاتا۔
حسبھم جھنم دارآخرت میں سزا کے طور پر جہنم ان کے لئے کافی ہے فبئس المصیر۔ یہ کتنا برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 58:9یا یھا الذین امنوا اذا تنا جیتم مومنوں کو اس سے منع کیا کہ وہ منافقوں اور یہودیوں کی طرح باہم سرگوشیاں نہ کریں تو فرمایا : اے مومنوچ جب تم رازی داری سے بات کرو فلاتتنا جوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول و تنا جوا یہ عام قرأت ہے یحییٰ بنت و ثاب، عاصم اور رویس نے یعقوب سے فلاتنتجوا، اتجاء سے پڑھا ہے۔ وتنا جوا بالبر برسے مراد اطاعت ہے۔ والتقویٰ اللہ تعالیٰ نے جس سے بچنے کا حکم دیا ہے اس سے بچنے کی بات کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، خطاب منافقوں کو ہے مراد ہوگا اے وہ لوگوچ جو اپنے گمان کے مطابق مومن ہیں (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والو ! واثقوا اللہ الذی الیہ تحشرون۔ یعنی آخرت میں تمہیں جس کی بارگاہ میں جمع کیا جائے گا اس اللہ سے ڈرو۔
Ayah 58:10مسئلہ نمبر 1۔ انما النجوی من الشیطن یہ نجوی شیطان کی طرف سیم زین کرنے کی وجہ سے ہے لیحزن الذین امنوا کیونکہ مومن خیال کرتے تھے سرایا (چھوٹے لشکر) میں مسلمانوں کو کوئی مصیبت واقع ہوگئی ہے یا وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اجتماع کیا کرتے تھے بعض اوقات وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مناجات کیا کرتے تھے تو مسلمان گمان کرتے تھے کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ہاں ان کے نقائص بیان کیا کرتے ہیں۔ ولیس بضآرھم یہ سرگوشیاں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ شیاً الا باذن اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے علم سے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اس کے امر سے۔ ووعلی اللہ فلیتوکل المومنون۔ یعنی انہیں اپنے امور اللہ کے سپرد کرنے اور تمام لوگ اس کی مدد کو سپرد کرنے چاہئیں اور شیطان اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے کیونکہ اسی ذات نے بندے کے امتحان اور آزمائش کی خاطر شیطان کو وساوس کے ساتھ ان پر مسلط کیا ہے اگر چاہے تو شیطان کو اس سے دور کر دے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ صحیحین میں حضر ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تین افراد ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشیاں نہ کریں “۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ و نے فرمایا : ” جب تم تین ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشیاں نہ کریں یہاں تک کہ تم لوگوں میں گھل مل جائو تاکہ وہ اکیلا غمگین نہ ہو “۔ اس حدیث میں اس منع کرنے کی علت بیان کردی ہے وہ یہ ہے کہ تیسرا آدمی اس کو پائے جس کے ساتھ وہ گفتگو کرے جس طرح حضرت ابن عمر نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ایک آدمی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے تو ایک اور آدمی آگیا جو آپ سے سرگوشی کرنا چاہتا تھا تو آپ نے اس سے رازداری سے بات نہ کی یہاں تک کہ چوتھے آدمی کو بلایا تو آپ نے اسے اور پہلے آدمی کو کہا : تم دونوں پیچھے ہوجائو اور جو سرگوشیاں کرنا چاہتا تھا اس کے ساتھ سرگوشی ی۔ اسے امام موطا نے نقل کیا ہے۔ اس میں علت پر تنبیہ بھی ہے۔ من اجل ان یحزنہ۔ یعنی اس کے دل میں ایسی بات واقع ہو جو اسے غمگین کرے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے دل میں سوچے کہ یہ بات اس کے متعلق ہے جو اسے ناپسند ہے یا انہوں نے اسے اس کے اہل نہیں سمجھا کہ وہ اسے اپنی بات میں شریک کریں اس کے علاوہ شیطان کے وساوس اور نفس کے توہمات ہوسکتے ہیں یہ سب صورتیں تب ہوسکتی ہیں کہ وہ اکیلا رہ گیا ہو جب اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہو تو وہ اس سے امن میں ہوگا اس علت کی بنا پر تمام عدد اس حکم میں برابر ہوں گے۔ چار ایک کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں اور دس ایک کو چھوڑ کر اسی طرح ایک ہزار کیونکہ یہی وجہ اس عدد میں بھی پائی جا رہی ہے بلکہ کثیر تعداد میں اس کا وجود زیادہ دقیع ہے اس لئیے اسے منع کرنا زیادہ مناسب ہے۔ تین کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ یہ پہلا وہ وعدد ہے جس میں یہ معنی پایا جاتا ہے۔ اس حدیث کا ظاہر تمام زمانوں اور احوال کو شامل ہے ؛ اسی طرف حضرت ابن عمر، امام مالک اور جمہور گئے ہیں۔ خواہ سرگوشی کسی مستحب امر میں ہو، مباح میں ہو یا واجب میں ہو کیونکہ غم اس میں واقع ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ یہ ابتداء اسلام میں تھا کیونکہ یہ حکم منافقین کے بارے میں تھا منافقی مومنوں کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشیاں کیا کرتے تھے جب اسلام عام ہوگیا تو یہ حکم ساقط ہوگیا۔ بعض نے کہا : یہ حکم سفر میں ایسے مواقع پر ہوتا ہے جس میں ایک آدمی اپنے ساتھی سے امن میں نہیں ہوتا جہاں تک شہر اور آبادی کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہاں وہ ایسے شخص کو پاتا ہے جو اس کی مدد کرسکتا ہے سفر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہاں دھوکہ کا امکان ہوتا ہے اور مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 58:11تفسیر
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا الذین امنوا ذا قیل لکم تفحو فی المجلس۔ جب اس امر کی وضاحت کی کہ یہودی آپ کو ایسے انداز میں سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا اور اس امر پر ان کی مذمت کی ساتھ ہی انہیں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حسن ادب کا حکم دیا تاکہ وہ آپ پر مجلس کو تنگ نہ کردیں اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ باہم شفقت اور محبت کا اظہار کریں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے لئے جگہ کھلی کردیں تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بات سن سکیں اور آپ کا دیدار کرسکیں۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : صحابہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں باہم مقابلہ کیا کرتے تھے تو انہیں حکم دیا کیا کہ وہ ایک دوسرے کیلئے جگہ کھلی کردیں ؛ یہ ضحاک کا قول ہے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہاں مراد قتال کی مجالس ہیں جب وہ جنگ کرنے کے لئے صف بندی کیا کرتے تھے (2) ۔ حضرت حسن بصری اور یزید بن ابی حبیب نے کہا : نبی کریم ﷺ جب مشرکوں سے جنگ کرتے تو آپ کے صحابہ پہلی صف میں کھڑا ہونے کو پسند کرتے تھے وہ ایک دوسرے کے لئے جگہ نہ چھوڑتے وہ قتال اور شہادت میں رغبت رکھتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : مقاعد للقتال (آل عمران :121) مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ صفہ میں موجود تھے جمعہ کے روز جگہ میں تنگی ہوجاتی نبی کریم ﷺ بدری مہاجرین و انصاری کی تعظیم کرتے بدری صحابہ آئے ان میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس تھے ان سے پہلے ہی لوگ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بدری صحابہ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہوگئے وہ انتظار کر رہے تھے ان سے پہلے ہی لوگ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بدری صحابہ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہوگئے وہ انتظار کررہے تھے کہ ان کیلئے جگہ کھلی کردی جائے گی تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ کھلی نہ کی یہ امر نبی کریم ﷺ کو شاق گزرا آپ کے ارد گرد جو غیر بدری صحابہ موجود تھے آپ نے انہیں فرمایا :” اے فلاح تو اٹھ، اے فلاں تو اٹھ “ اتنے افراد کا نام لیا جس قدر بدری صحابہ کھڑے تھے جس اٹھایا گیا اس پر یہ امر شاق گزرا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے چہروں سے ناگواری کے آثار محسوس کرلیے۔ منافقوں نے آنکھوں سے اشارے کیے اور یہ کہا : ان سے انصاف نہیں ہوا انہوں نے اپنے نبی کے قرب کو پسند کیا اور پہلے آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : تفسحوا کا معنی ہے کھل جائو۔
فسح فلان لاخیۃ فی مجلسہ یفسح فسحا یعنی اس کے لئے جگہ کو کھلا کردیا ؛ اسی معنی میں ان کا قول ہے بلد فسیح ولت فی کا فسحۃ شہر کھلا ہے تیرے لئے اس میں وسعت ہے فسح یفسح کا باب منع یمنع کی طرح ہے معنی ہے بیٹھنے والی جگہ کو کھلا کردیا۔ فسح یفسح فساحۃ جس طرح کرم یکرم کر امۃ یعنی کھلا ہوگیا اسی معنی میں مکان فسیح ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ سلمی، رزبن جیش اور عاصم نے فی المجالس پڑھا ہے۔ قتادہ، دائود بن ہند اور حسن بصری نے۔۔ سے اختلاف کیا ہے جب کہ باقی راء نے تفسحوا فی المجلس پڑھتا ہے۔ جس نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے تو وہ اس امر کی خبر دیتا ہے کہ ہر ایک کیلئے ایک مجلس ہے اسی طرح اگر جنگ کا ارادہ کیا جائے اس طرح یہ بھی جائز ہے کہ مسجد نبوی کا ارادہ کیا جائے۔ صیغہ جمع کا ذکر کیا کہ ہر بیٹھنے والے کے لئے ایک مجلس ہے اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ اگر مجلس سے مراد نبی کریم کی مجلس ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ جنس کے اعتبار سے جمع مراد ہو جس طرح عربوں کا قول ہے : کثر الدینار والدرھم۔
میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ یہ ہر مجلس میں عام ہے جس میں مسلمان خیر اور اجر کے لئے جمع ہوں خواہ جنگ کی مجلس ہو، ذکر کی مجلس ہو یا جمعہ کے دن کی مجلس ہو کیونکہ ہر ایک ایسی جگہ کا زیادہ حق دار ہے جس کی طرف وہ سبقت لے گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جو ایسی جگہ کی طرف سبقت لے گیا جس کی طرف پہلے کوئی سبقت نہیں لے گیا تھا تو وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے مگر وہ اپنے بھائی کیلئے جگہ وسیع کردے جب تک اس سیاذیت میں مبتلا نہ ہو کہ کہیں تنگی اسے اپنی جگہ سے ہی نہ نکال دے “۔
امام مسلم حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اتھائے پھر اس میں خود بیٹھے “ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا کہ ایک آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے اور اس میں کوئی آدمی بیٹھے، بلکہ کھل جائو اور جگہ کو وسیع کردو۔ حضرت ابن عمر ؓ اس امر کو ناپسند کرتے تھے کہ ایک آدمی اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر اسیجگہ بیٹھے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ جب لوگوں میں سے کوئی مسجد کی ایک جگہ میں بیٹھے تو کسی اور کے لئے جائز نہیں کہ اسے اٹھائے اور اس کی جگہ بیٹھے۔ امام مسلم نے ابو زبیر سے وہ حضرت جابر ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جمعہ کے روز اپنی جگہ سے نہ اٹھائے پھر اس کے بیٹھنے کی جگہ کی طرف آئے اور اس میں بیٹھ جائے بلکہ کہے کھل جائو “۔
مسئلہ۔ کسی جگہ بیٹھنے والا شخص جب اٹھے یہاں تک کہ کوئی اور اس کی جگہ بیٹھ جائے تو اس میں غوروفکر کیا جائے گا اگر وہ جگہ جس کیلئے وہ اٹھا ہے وہ امام کا کلام سننے میں پہلے کی طرح ہے تو اس کے لئے یہ مکروہ نہیں اگر وہ جگہ امام سے دور ہے تو یہ اس کے لئے مکروہ ہے کیونکہ اس میں اپنے حصہ کو فوت کرنا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ جب کوئی انسان دوسرے انسان کو کہے کہ وہ جامع مسجد کی طرف جلدی جائے وہ اس کے لئے ایک جگہ مختص کردے جہاں وہ آکر بیٹھے تو یہ مکروہ نہیں جب کہنے والا آئے تو پہلے سے موجود شخص اس کے لئے اٹھ کھڑا ہو کیونکہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت ابن سیرین کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنے غلام کو جمعہ کے روز بھیجتے کہ وہ ان کے لئے جگہ بنائے وہ غلام ان کے لئے ایک جگہ بیٹھ جاتا جب وہ آتے تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوتا۔
مسئلہ : اس صورت میں یہ مسئلہ مستنبظ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آدمی قالین یا سجادہ بھیجے تو مسجد کی کسی جگہ اس کے لئے بچھا دیا جائے تو یہ جائز ہوگا۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذا قام احدکم اور ابو عوانہ کی حدیث میں من قام من مجلس یعنی جو آدمی اپنی جگہ سے اٹھا پھر وہ اسی جگہ کی طرف لوٹا تو وہ اس جگہ بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔
ہمارے علما نے کہا : یہ روایت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس کا قول صحیح ہے جو یہ کہتا ہے کہ بیٹھنے والا اپنی جگ کے لئے خاص ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ وہاں سے اٹھ جائے کیونکہ وہاں سے اٹھنے کے بعد جب وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے تو اس سے پہلے تو بدرجہ اولی سے اسی جگہ کا مستحق ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس جگہ کا اس کے لئے خاص ہونا بطور مذب ہے کیونکہ یہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں نہ بیٹھنے سے پہلے اور نہ ہی بیٹھنے کے بعد۔ اس میں اعتراض کی گنجائش ہے وہ یہ ہے کہ کہا جائے : ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کسی کی ملکیت نہیں لیکن یہ جگہ اس کے لئے خاص رہے گی یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری ہوجائے تو وہ جگہ اسی طرح ہوجائے گی گویا وہ اس کی منفعت کا مالک ہے کیونکہ کسی دوسرے فرد کو اسے منع کردیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ مزاحمت کرے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ یفسح اللہ لکم اللہ تعالیٰ تمہاری قبروں میں وسعت پیدا کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے دلوں میں وسعت پیدا کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دنیا و آخرت میں تمہارے لئے وسعت پید اکردے گا (1) ۔
واذا قیل انشرو وافنسروانافع، ابن عامر اور عاصم نے دونوں میں شین کو مضموم پڑھا ہے اور باقی قراء نے اسے کسرہ دیا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح یعکفون اور یعرشون ہے اس کا معنی ہے نماز، جہاد اور عمل خیر کے لئے اٹھو ؛ یہ اکثر مفسرین نے کہا۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا : جب نماز کے لئے اذان کہی جائے تو نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہو اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ لوگ نماز سے سستی کیا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا : جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ ابن زید نے کہا : یہ حکم نبی کریم ﷺ کے گھر کے متعلق ہے ہر ایک آدمی یہ پسند کرتا کہ وہ سب سے آخر میں نبی کریم ﷺ کے گھر میں رہے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں نبی کریم ﷺ کی جانب سے کہا جائے اٹھو تو اٹھ جائو کیونکہ آپ کی کچھ ضروریات ہیں تو اس لئے رکے نہ رہو۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے جب تم کو معروف امر کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک کہو، یہی قول صحیح ہے کیونکہ یہ عام ہے۔ اور نشز کا معنی بلند ہونا ہے نشنوالارض سے ماخوذ ہے اس سیمراد زمین کا بلند ہونا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : نشز ینشزو ینشو جب وہ اپنی جگہ سے اوپر اٹھ جائے۔ امراۃ ناشرۃ یعنی وہ عورت جو اپنے خاوند سے علیحٰدہ اختیار کرے۔ اسی کی اصل نشتر ہے نشز کا معنی ہے جو زمین سے اوپر اٹھ جائے، نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتو العلم درجت یعنی آخر میں ثواب اور دنیا میں کرامت میں درجات بلند فرمائے گا، اللہ تعالیٰ مومن کو غیر مومن پر بلند کرے گا اور عالم کو غیر عالم پر بلند کرے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں علماء کی مدح کی ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ علماء کو ان مومنوں پر درجہ میں بلند کرے گا جن کو علم نہیں دیا گیا جب کہ وہ ان امور کو بجا لائیں جن کا انہیں حکم دیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غنی لوگ ناپسند کرتے تھے کہ ان کے ساتھ وہ آدمی مل بیٹھے جو اون کا لباس زیب تن کرتا ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں جلدی جائے تو خطاب ان کو ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک غنی کو دیکھا جو ایک فقیر سے نفرت کی وجہ سے اپنے کپڑے کو سمیٹ رہا تھا جس فقیر نے اس کے پاس بیٹھنے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے فلاں ! کیا تجھے ڈر ہوا کہ تیری غنا اس کی طرف متعدی ہوجائے گی یا اس کا فقر تیری طرف متعدی ہوجائے گی “۔
اس آیت میں اس امر کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رفعت و بلندی علم و ایمان کے ساتھ ہے مجالس میں آگے بیٹھنے کے ساتھ نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الذین اوتو العلم سے مرادہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن حکیم کو پڑھا۔ یحیٰی بن یحییٰ نے امام مالک (رح) سے روایت نقل کی ہے : یرفع اللہ الذین امنو امنکم سے مراد صحابہ ہیں۔ والذین اوتوا العلم درجب یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے عالم اور حق کے طالب کو بلند فرماتا ہے۔
میں کہتا ہوں : مسئلہ میں عموم زیادہ وقیع اور آیت کے معنی کے زیادہ مناسب ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلی دفعہ مومن کو اس کے ایمان کے ساتھ اور دوسری دفعہ اس کے علم کے ساتھ بلند فرماتا ہے۔ صحیح میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ، حضرت عبد اللہ بن عباس کو بھی بلایا صحابہ سے اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو صحابہ خاموش ہوگئے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت ہے جس بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : میں اسے وہی جانتا ہوں جو آپ جانتے ہیں۔
بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عینیہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر آئے اور اپنے بھتیجے حسر بن قیس بن حصن کے ہاں ٹھہرے لوگوں میں سے کچھ ایسے تھے جنہیں حضرت عمر اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ قراء حضرت عمر ؓ کے اصحاب مجلس اور اہل مشورہ ہوا کرتے تھے وہ بڑی عمر کے ہوتے یا جوان ہوتے۔ یہ چیز سورة اعراف کے آخر میں واقع ہوئی ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ نافع بن عبد حرث حضرت عمر سے عسفان میں ملے حضرت عمر ؓ انہیں مکہ مکرمہ کا عامل بنانا چاہتے تھے۔ پوچھا : اہل وادی پر کس کو آپ نے عامل بنایا ہے ؟ جواب دینا : ابن ابزی کو۔ پوچھا : ابن ابزی کون ہے ؟ جواب دیا : وہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے۔ پوچھا : کیا آپ نے ان پر ایک غلام کو عامل بنایا ہے ؟ جواب دیا : وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا قاری ہے، وہ فرائض کا علم رکھنے والا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : خبردار ! تمہارے نبی نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کئی لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے اور اس کے ذریعے دوسروں کو پست کرتا ہے “۔ کتاب کے شروع میں بحث گزر چکی ہے۔ علم و علماء کی فضیلت کے حوالے سے گفتگو اسی کتاب میں کئی اور مواقع پر گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ
نبی کریم ﷺ سے روایت مروی ہے کہ فرمایا : ” عالم اور عابد کے درمیان ستر درجے ہیں اور ہر درجے کے درمیان ضامر گھورے کی ستر سال کی مسافت حائل ہے “۔ نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے :” عالم کی عابد پر فضیلت اس طرح ہے جس طرح چودہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہوتی ہے “۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے : قیامت کے روز تین قسم کے افراد شفاعت کریں گے انبیاء، علماء اور شہدائ۔ اس مقام کی عظمت کو تصور کر جو نبوت اور شہادت کے درمیان واسطہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے گواہی دی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنما سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو علم، مال اور ملک میں اختیار دیا گیا تو آپ نے علم کو پسند کیا تو مال اور ملک آپ کو ساتھ میں دے دیا گیا۔
Ayah 58:12تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول، ناجیتم یعنی تم راز داری سے بات کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بیشمار مسائل پیش کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ آپ کے لئے مشکلات پیدا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نئے ارادہ کیا کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے اس پر یشانی حسن بصری نے کہا یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ سے تنہائی میں ملتے اور آپ سے سرگوشیاں کرتے تو مسلمانوں میں سے ایک قوم نے گمان کیا کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ان کے نقائص بیان کرتے ہیں تو یہ چیز ان پر شاق گزری تو اللہ تعالیٰ نے رازداری سے بات کرنے پر صدقہ کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ خلوت میں بات کرنے سے رک جائیں۔
زید بن اسلم نے کہا : یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ منافقین اور یہودی نبی کریم ﷺ سے سرگوشیاں کرتے اور کہتے : یہ کان کے کچے ہیں جو کچھ انہیں کہا جائے اسے مان لیتے ہیں، وہ کسی کو مناجات سے منع نہیں کرتے۔ یہ امر مسلمانوں پر شاق گزرتا کیونکہ شیطان ان کے نفسوں میں یہ القاء کرتا کہ ان لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کی ہے کہ کچھ لشکر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : یایھا الذین امنو اذا تناجیتم فلا تتنا جوا بالاثم والعدوان ومعصیت الرسول وہ نہ رکے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا تو اہل باطل سرگوشی کرنے سے رک گئے کیونکہ انہوں نیسرگوشی سے قبل صدقہ نہ کیا۔ ایہ امر اہل ایمان پر شاق گزرا اور وہ بھی سرگوشی کرنے سے رک گئے کیونکہ ان کی کثیر تعداد صدقہ پیش کرنے سے عاجز تھی تو اللہ تعالیٰ نے بعد والی آیت میں ان سے تخفیف فرمادی۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ابن عربی نے کہا (1): زید سے مروی اس خبر میں ایسی چیز ہے جو اس بات پر دال ہے کہ احکام مصالح کے اعتبار سے مرتب نہیں ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ذلک خیر لکم واطھر پھر اس کے خیر اور پاکیزہ ہونے کے باوجود اسے منسوخ کردیا۔ یہ معتزلہ پر عظیم رد ہے جو وہ یہ کہتے ہیں کہ احکام میں مصالح کا التزام ضروری ہے لیکن اس حدیث کا راوی عبد الرحمن جو زید کا بیٹا ہے علماء نے اسے ضعیب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمانا : ذلک خیر لکم واطھر یہ معتزل کے رد میں نص متواتر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ امام ترمذی نے علی بن علقمہ انماری سے وہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت یایھا الذی امنوا اذ ناجیتم الرسلو فقدمو بین یدی نجولکم صدقۃ نازل ہوئی تو میں نے آپ سے پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا :” دینار کے بارے میں تیری کیا رائے ہے ؟ “ میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا : ” نصف دینار ؟ “ میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا : ” میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا :” نصف دینار ؟ “ میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا ” تو کتنا ؟ “ میں نے عرض کی : جو (کے برابر وزن) فرمایا : ” تو تو بہت ہی زہد اختیار کرنے والا ہے “ تو یہ آیت نازل ہوئی ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی انجولکم صدقت کہا : میرے وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے تخفیف فرمائی۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے اسی سند سے ہی پہچانتے ہیں۔ ان کے قول شعیرہ (جو) کا معنی ہے سونے میں سے جو کا وزن۔ ابن عربی نے کہا : یہ امردو اصولی اچھے مسالوں پر راہنمائی کرتا ہے (1) عبادت پر عمل سے پہلے ہی منسوک کرنا (2) معین مقداروں میں قیاس کے ذریعے غوروفکر کرنا جب کہ امام ابوحنیفہ نے اس میں اختلاف کیا ہے۔
میں نے کہا : ظاہر یہ ہے کہ نسخ صدقہ کے فعل کے بعد ہوا۔ مجاہد سے مروی ہے کہ اس بارے میں سب سے پہلے صدقہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کیا اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ سرگوشی کی۔ ان کے بارے میں یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے انگوٹھی کا صدقہ کیا۔ قشیری اور دوسرے علماء نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہا انہوں نے کہا : کتاب اللہ میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے قبل کسی نے عمل نہیں کیا اور میرے بعد اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا وہ یہ آیت ہے یایھا الذین امنو از ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجولکم صدقۃ میرے پاس ایک دینار تھا جس کو میں نے بیچا جب میں رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرتا تو میں ایک درہم صدقہ کرتا یہاں تک کہ وہ درہم ختم ہوگئے۔ تو اسے ایک دوسری آیت کے ساتھ منسوخ کردیا گیا ءاشفقتم ان تقدمو ابین یدی نجولکم صدقت۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اسی طرح کہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو بعد والی آیت سے منسوخ کردیا۔ حضرت ابن عمر نے کہا : حضرت علی شیر خدا کے لئے تین خصوصیات ایسی تھیں اگر ان میں سے ایک بھی میرے لئے ہوتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ (1) حضرت فاطمہ ؓ سے نکاح (2) غزوہ خیبر کے موقع پر جھنڈے کا عطا کیا جانا (3) سرگوشی والی آیت۔ ذلک خیر لکم و اطھر روکنے سے یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور نافرمانیوں سے پاکی کے لئے تمہارے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم۔ اے فقرائ ! اگر تم نہ پائو تو اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔
Ayah 58:13اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ ء اشفقتم یہ جملتہ استفہامیہ ہے اور کلمہ استفہام قد کے معنی میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے تم صدقہ کرے میں بخل کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ڈرتے ہو۔ اشفاق سے مراد ناپسندیدہ چیز سے خوف کھانا ہے (1) ء یعنی تم ڈر گئے، صدقہ میں بخل کیا اور یہ امر تم پر شاق گزرا۔ ان قتدموا بین یدی نجولکم صدقت مقاتل بن حیان نے کہا : یہ حکم دس دن تک رہا پھر اسے منسوخ کردیا گیا۔ کلبی نے کہا : یہ حکم صرف ایک دن کے لئے رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ حکم دن کی چند گھڑیوں کے لئے رہا یہاں تک کہ منسوخہوگیا ؛ قتادہ نے اسی طرح کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ فاذلم تفعلوا وتاب اللہ علیکم اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ یہ خطاب ان کو ہے جس نے ایسا مال پایا جس کو وہ صدقہ کرسکتا تھا ،۔ فاقیموا الصلوۃ وتو الزکوٰۃ فرض زکوٰۃ نے اس صدقہ کو منسوخ کردیا۔ یہ امر اس پر دال ہے کہ فعل سے پہلے فسخ کرنا جائز ہے۔ حضرت علی شیر خدا سے جو مروی ہے وہ ضعیف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : فاز لم تفعلوا یہ اس امر پر دال ہے کہ کسی نے بھی کوئی چیز صدقہ نہ کی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
واطیعو اللہ ورسولہ اس کے فرائض میں اس کی اطاعت کرو اور سنن میں اس کے رسول کی اتباع کرو۔ واللہ خبیر بما تعملون۔ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔
Ayahs 58:14–16آیات۔ 14۔ 16
تفسیر
الم تر الی الذین تولو قوما غضب اللہ علیھم قتادہ نے کہا : مراد منافق ہیں جنہوں نے یہودیوں سے دوستی کی ماھم منکم ولا منھم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : منافق یہودیوں اور مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ وہ ان دونوں طبقات کے درمیان مذبذب ہیں۔ وہ مسلمانوں کی خبریں ان تک پہنچاتے تھے۔ سدی اور مقاتل نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور عبد اللہ بن نبتل منافق کے حق میں نالز ہوئی ان میں سے ایک نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا تھا پھر آپ کی گفتگو یہودیوں تک پہنچاتا تھا۔ اس اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ اپنے حجرون میں سے ایک حجرہ میں تھے کہ فرمایا : ” ابھی تم پر ایک ایسا آدمی داخل ہوگا جس کا دل جبارکا دل ہے اور وہ شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے “۔ تو عبد اللہ بن نبتل داخل ہوا۔ اس کی آنکھیں نیلی، رنگ گندم گوں، قد چھوٹا اور داڑھی کے بال تھوڑے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا بھلا کہتے ہیں ؟ “ اس نے قسم اٹھائی کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا :” تو نے ایسا کیا ہے “۔ وہ گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے آیا تو انہوں نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ انہوں نے آپ کو گالی نہیں دی تو یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اس کے ہم معنی قول کیا ہے۔ عکرمہ نے ان سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے سایہ آپ سے سمٹنے والا تھا کہ آپ نے فرمایا :” تمہارے پاس ابھی ایسا آدمی آئے گا جس کی آنکھیں نیلی ہوں گی وہ تمہیں شیطان کی آنکھ سے دیکھے گا “ ہم اسی طرح تھے کہ ایک آدمی آیا جس کی آنکھیں نیلی تھیں نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا فرمایا :” تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا بھلا کہتے ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا : مجھے چھوڑ دیں میں انہیں لے آتا ہوں۔ وہ گیا او انہیں لے آیا، ان سب نے قسم اٹھا دی کہ ایسی کوئی بات نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ یہودیوں کا ذکر قرآن حکیم میں غضب اللہ علیھم کے ساتھ کیا گیا ہے۔
اعدا اللہ لھم اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لئے جہنم میں شدید عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ درک اسفل ہے انھم ساء ما کانو یعملون۔ یعنی ان کے اعمال کتنے برے ہیں۔
اتخذوا ایمانھم جنۃ وہ قتل سے بچنے کے لئے قسم کو ڈھال بناتے ہیں۔ حضرت حسن بصری اور ابو العالیہ نے کہا : یہاں ایمانھم ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سورة المنافقون میں بھی اسی طرح ہے انہوں نے اپنے اقرار کو ڈھال بنا لیا ہے ان کی زبانیں قتل کے خوف سے ایمان لائی ہیں اور ان کے دلوں نے کفر کیا ہے۔
فلھم عذاب مھین۔ دنیا میں قتل اور آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔ صد سے مراد اسلام سے روکنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عذاب سے مراد کفر کی وجہ سے قتل ہے جب انہوں نے نفاق کو ظاہر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ عذاب خوف پیدا کرنے، مسلمانوں کو جہاد سے روکنے اور ان کو ڈرانے کی وجہ سے ہوگا۔
Ayahs 58:17–19آیات 17۔ 19
تفسیر
لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولاد ھم من اللہ شیاء یعنی اس کے عذاب سے کچھ نفع نہ دے گا۔ مقاتل نے کہا : منافقوں نے کہا (حضرت) محمد ﷺ گمان کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کی مدد کی جائے گی تو اس وقت یقینا ہم بدبخت ہوں گے اللہ کی قسم ! اگر قیامت ہوئی تو قیامت کے روز ہماری مدد کی جائے گی ہماری ذاتوں، ہماری اولادوں اور ہمارے اموال کی وجہ سے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
یوم یبعثنم اللہ جمیعا اللہ تعالیٰ انہیں جس روز دوبارہ اٹھائے گا ان کے لئے ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔ فیحلفون لہ کما یحلفون لکم وہ اس روز اسی طرح اس کے لئے قسم اٹھائیں گے جس طرح آج وہ تمہارے لئے قسم اتھاتے ہیں۔ یہ عجب امر ہے وہ ان کا قسم کے ساتھ مغالطہ پیدا کرنا ہے، جب کہ تمام معارف عیاں ہوچکے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنما نے کہا : وہ ان کا یہ قول ہے واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ (الانعام)
ویحسبون انھم علی شئی۔ یعنی انکار کرنے اور قسم اٹھانے کے ساتھ۔ ابن زید نے کہا : انہوں نے گمان کیا کہ وہ آخرت میں انہیں نفع پہنچائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دنیا میں گمان کریں گے کہ وہ بہت بڑی چیز پر قائم ہیں کیونکہ آخرت میں وہ مجبور ہو کر حق کو جانیں گے، جب کہ پہلا معنی زیادہ واضح ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” قیامت کے روز ایک منادی کرنے والا اعلان کرے گا : اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرنے والے کہاں ہیں ؟ تو قدریہ اٹھیں گے جب کہ ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی، ان کی باچھیں ایک طرف مائل ہوں گی، انکا لعاب بہہ رہا ہوگا، تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہم نے تیرے سو اکسی سورج، کسی چاند، کسی بت کی عبادت نہیں کی اور ہم نے تیرے سوا کسی کو اپنا للہ نہیں بنایا “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! انہوں نے سچ کہا، ان تک شرک ایسی جگہ سے پہنچے گا جسے وہ نہیں جانتے ہوں گے۔ پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ اللہ کی قسم ! وہ قدر یہ ہیں یہ تین دفعہ قسم اٹھائی (1) ۔
استحوذ علیھم الشیطن یعنی شیطان ان پر غالب آگیا ہے یعنی دنیا میں اپنے وسوسہ کے ساتھ ان پر غالب آگیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ ان پر قوی ہوگیا ہے۔ مفضل نے کہا : اس نے ان کا حاطہ کرلیا ہے۔ یہ چوتھے معنی کا بھی احتمال رکھتا ہے شیطان نے انہیں جمع کرلیا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : احوذ الشئی اسے جمع کردیا اور اس کے بعض کو بعض سے ملا دیا جب انہیں جمع کرلیا تو وہ ان پر غالب آگیا، ان پر قوی ہوگیا اور ان کو احاطہ میں لے لیا۔
فانسبح ذکر اللہ ذکر سے اس کے اوامر مراد ہیں۔ جب انسان طاعت کر رہا ہے تو اوامر کو بھلا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد زواجر ہیں یعنی اس کی معصیت سے جو جھڑکنے والی چیزیں تھیں، انہیں بھلا دیا۔ نسیان کبھی غفلت کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی ترک کی صورت میں ہوتا ہے یہاں دونوں وجوہ کا احتمال ہے۔
اولئک حزب الشطین حزب سے مراد طائفہ اور رھط ہے۔ الا ان حزب الشیطن ھم الخسرون۔ یعنی وہ اپنی تجارت میں خسارے پانے والے ہیں کیونکہ انہوں نے جہنم کے بدلے جنت کو بیچ دیا ہے اور گمراہی کے بدلے ہدایت کو بیچ دیا۔
Ayahs 58:20–21آیات۔ 20۔ 21
تفسیر
ان الذین یحادون اللہ ورسولہ سورت کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے اولئک فی الاذلین۔ وہ ذلیل لوگوں میں سے ہیں ان سے بڑھ کر کوئی ذلیل نہیں کتب اللہ لا غلبن یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے کہ انہیں ضرور غالب کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ؛ یہ قتادہ سے مروی ہے۔ فراء نے کہا : کتب یہ قال کے معنی میں ہے۔ انا یہ ضمیر تاکید کے لئے ہے۔ ورسلی جس کو جہاد کے حکم کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ جہاد کے ساتھ غالب آئے گا، جس کو حجت کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ حجت کے ساتھ غالب آئے گا۔ مقاتل نے کہا : مومنوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکہ مکرمہ، طائف، خیبر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر فتح دی تو ہم امید رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں فارس اور روم پر بھی فتح دے گا۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے کہا : کیا تم روم اور فارس کو ان دیہاتوں کی طرح سمجھتے ہو جن پر تم غالب آگئے ہو ؟ اللہ کی قسم ! وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور قوت میں اس سے بہت سخت ہیں جتنا تم ان کے بارے میں گمان کرتے ہو تو یہ آیت نازل ہوئی اسی کی مثل ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین۔ انھم لھم المنصورون۔ وان جندنا لھم الغلبون۔ (الصافات) ہے۔