56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 56:75–81

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

مجھے تاروں کی منزلوں کی قسم

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا) ہوا ہے

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو ؟

(فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ ) اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ فلا اقسم اکثر مفسرین کے نزدیک لا زائدہ ہے (2) معنی میں قسم اٹھاتا ہوں اس کی دلل وانہ لقسم ہے فراء نے کہا : یہ نفی ہے۔ معنی ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا۔ اقسم میں قسم اٹھاتا ہوں۔ بعض اوقات ایک آدمی کہتا ہے : لا واللہ، کان کذا اس سے وہ قسم کا نفی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ پہلی کلام کی نفی کا ارادہ کرتا ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تو نے ذکر کیا بلکہ معاملہ اس طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لاء الا کے معنی میں ہے جو تنبیہ کے لیے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 462 اس کے ساتھ قرآن کی فضلیت پر متنبہ کیا تاکہ وہ اس میں غور و فکر کریں یہ شعر نہیں، جادو نہیں اور کہانت بھی نہیں جس طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ حضرت حسن بصری، بصری، حمیدی اور عیسیٰ بن عمر نے فلا قسم لام کے بعد الف کے بغیر پڑھا یہ تحقیق کے معنی پر دال ہے۔ یہ فعل حال ہے اس کا مبتداء محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی فلانا اقسم بذلک اگر اس سے مستقبل کا زمانہ مراد لیا جاتا تو نون لازم ہوتی ہے۔ جب فعل سے استقبال مراد لیا جائے تو بعض اوقات نون کو حذف کردیا جاتا ہے۔ یہ شاذ ہے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ بموقع النجوم۔ قتادہ اور دوسرے علماء کے نزدیک مواقع النجوم سے مراد ان کے گرنے اور غروب ہونے کی جگہیں ہیں۔ عطاء بن ابی رباح نے کہا : مرادان کی منازل ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : قیامت کے روز ان کا بےنور ہونا اور بکھر کر گر جانا ہے (1) ضحاک نے کہا : مراد وہ ستارے ہیں جن کے بارے میں دور جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے جب ان پر بارش ہوتی (2) ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش کی گئی۔ ماوردی نے کہا : فلا اقسم یہ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوتا ہے نفی کا معنی دیتا ہے (3) قشیری نے کہا : یہ قسم ہے اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جس چیز کا ارادہ کرے اس کی قسم اٹھا دے جب کہ ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات قدیمہ کے سوا کسی چیز کی قسم اٹھا دیں۔ میں کہتا ہوں : اس امر پر حضرت حسن بصری کی قرأت فلا قسم دلالت کرتی ہے (4) اور اسی طرح وہ قسمیں بھی دلالت کرتی ہیں کہ مخلوقات میں سے جن چیزوں کی قرآن حکیم میں مختلف مواقع پر قسم اٹھائی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مواقع النجوم سے مراد قرآن حکیم کا آیت در آیت نازل ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بالا آسمان سے لوح محفوظ سے سفرہ کا تبین پر نازل کیا سفرہ نے جبریل امین پر بیس راتوں میں نازل کیا اور جبریل امین بیس (5) سالوں تک تھوڑا تھوڑا کر کے نبی کریم ﷺ پر نازل کرتے رہے۔ حضرت جبریل امین نبی کریم ﷺ کی امت میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی مناسبت سے اسے نازل کرتے تھے : اسے ماوردی نے حضرت ابن عباس اور سدی سے روایت کیا ہے (6) ابو بکر انباری نے کہا : اسماعیل بن ابی اسحاق، قاضی حجاج بن منہال سے وہ ہمام سے وہ کلبی سے وہ ابو صالح سے اور وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ قرآن حکیم آسمان دنیا پر ایک ہی دفعہ نازل ہوا۔ پھر زمین کی طرف تھوڑا تھوڑا نازل ہوا اس کے بعد اسے پانچ پانچ اور کم و بیش کی صورت میں الگ الگ نازل کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان فلا اقسم بموقع النجوم۔ وانہٗ لقسم لو تعلمون عظیم۔ انہٗ لقراٰن کریم۔ کا یہی مفہوم ہے۔ فراء نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ مواقع النجوم سے مراد محکم القرآن ہے (7) حمزہ اور کسائی نے بموقع کا لفظ پڑھا ہے : یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود، نخعی، اعمش، ابن محیصن اور رویس نے یعقوب سے یہ روایت نقل کی ہے۔ باقی قراء نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ جس نے اسے مفرد پڑھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے جس میں واحد کو جمع کے قائم مقام رکھا جاتا ہے جس نے اسے جمع کا صیغہ پڑھا ہے تو اس کی انواع کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 463 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 463 5 ؎۔ وحی کا عرصہ بائیس سال سے کچھ اوپر ہے۔ 6 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 463 7 ؎۔ ایضاً مسئلہ نمبر 3 :۔ انہ لقراٰن کریم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھاء ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے کہ قرآن عظیم قسم ہے : یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے جس کی قسم اٹھائی ہے وہ عظیم ہے (2) وہ قرآن کریم ہے۔ مقسم علیہ کا ذکر کرلیا یعنی نجوم کے مواقع کی قسم اٹھائی کہ بیشک یہ قرآن، قرآن کریم ہے (3) یہ سحر اور کہانت نہیں، اس میں کوئی افتراء نہیں بلکہ یہ قرآن کریم اور محمود ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی نبی کے لیے معجزہ بنایا ہے۔ یہ مومنوں کے لیے بڑا معزز ہے کیونکہ یہ ان کے رب کا کلام ہے، ان کے سینوں کے لیے شفاء ہے۔ آسمان والوں کے لیے بڑا معزز ہے کیونکہ یہ ان کے رب کا کلام ہے، ان کے سینوں کے لیے شفاء ہے آسمان والوں کے لیے بڑا معزز ہے کیونکہ یہ ان کے رب کا نازل کردہ اور وحی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کریم سے مراد ہے وہ غیر مخلوق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کریم اس لیے ہے کیونکہ اس میں اخلاق اور امور کے عظیم کے معانی کا ذکر ہے (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے حافظ کی عزت کی جاتی ہے اور اس کے قاری کی تعظیم بجا لائی جاتی ہے۔ (5) مسئلہ نمبر 4 :۔ یہ فی کتب مکنون۔ مکنون کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے (6) ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ باطل سے محفوظ ہے (7) یہاں کتاب سے مراد آسمان میں کتاب ہے (8) یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ جابر بن زید اور حضرت ابن عباس سے کہا : مراد لوح محفوظ ہے (9) ۔ عکرمہ نے کہا : مراد تورات و انجیل ہے (10) ان دونوں میں قرآن کا ذکر ہے اور اس کا بھی ذکر ہے جس پر قرآن نازل ہوگا۔ سدی نے کہا : مراد زبور ہے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : مراد وہ صحف ہیں جو ہمارے ہاتھوں میں ہیں۔ مسئلہ نمبر 5 :۔ لا یمسہٗ الا المطھرون۔ لا یمسہٗ کے معنی میں اختلاف ہے کیا یہ اعضاء سے مس کرنے کے معنی ہے (11) یا اس کے معنی کو چھونا نامراد ہے ؟ اس طرح المطھرون میں اختلاف ہے کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ حضرت انس اور حضرت سعید بن جبیر نے کہا کہ اس کتاب کو مس نہیں کرتے مگر وہ جو گناہوں سے پاک ہوتے ہیں وہ فرشتے ہیں۔ ابو العالیہ اور ابن زید نے بھی یہی کہا ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو گناہوں سے پاک ہیں جس طرح ملائکہ میں سے رسل اور انسانوں میں سے رسل۔ جبریل امین جو اس کو لاتے رہے وہ مطہر ہیں اور وہ رسول جن کے پاس وہ لاتے رہے وہ بھی مطہر ہیں۔ کلبی نے کہا : 1۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 463 2۔ ایضاً 3۔ ایضاً 4۔ ایضاً 5۔ ایضاً 6۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 464 7۔ ایضاً 8۔ ایضاً 9۔ ایضاً 10۔ ایضاً 11۔ احکام القرآن لا بن العربی، جلد، صفحہ 1737 مراد سفرہ، کرام براہ ہیں۔ یہ سب ایک ہی قول ہے۔ یہ اس کی مثل ہے جو امام مالک نے اختیار کیا ہے آپ نے فرمایا : میں نے لا یمسۃ الا المطھرون کی تفسیر میں جو سب سے زیادہ قول سنا وہ یہ ہے کہ یہ اس آیت کے قائم مقام ہے جو سورة عبس میں ہے ” فسم شاء ذکرہٗ ۔ فی صحف مکرمہ۔ مرفوعۃ مطھرۃ۔ بایدی سفرۃ۔ کرام بررۃ۔ اس سے یہ ارادہ کیا ہے کہ مطہرین سے مراد وہ فرشتے ہیں جن کی صفت سورة عبس میں طہارت سے ذکر کی گئی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لا یمسۃٗ کا معنی ہے اسے لے کر نازل نہیں ہوتے مگر فرشتوں میں سے رسول جو انبیاء میں سے رسولوں پر نازل کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لوح محفوظ جو کتاب مکنون ہے اسے نہیں چھوتے مگر پاکیزہ فرشتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت اسرافیل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، قشیری نے اس کی حکایت بیان کی۔ ابن عربی نے کہا : یہ باطل ہے کیونکہ فرشتے اسے کسی وقت بھی نہیں پکڑتے اور اس تک کسی وقت بھی رسائی حاصل نہیں کرتے اگر یہ مراد تو اس میں استثناء کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ جس نے یہ کہا کتاب سے مراد وہ مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے یہ زیادہ مناسب ہے۔ امام مالک اور دوسرے علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ عمرو بن حزم کا مکتوب جو رسول اللہ ﷺ نے اسے لکھا تھا اس میں یہ خط حضرت محمد ﷺ کی جانب سے شرجیل بن عبد کلال، حرث بن عبد کلال اور نعیم بن عبد کلال کی طرف ہے جو ذی رعین معاصر اور ہمدان کے بادشاہ ہیں (1) اما بعد، آپ کے مکتوب میں تھا خبردار ! قرآن کریم نہ چھوئے مگر پاک آدمی۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : تو قرآن کو نہ چھوئے مگر اس وقت جب تو پاک ہو۔ حضرت عمر ؓ کی بہن سے حضرت عمر کے اسلام لانے کے موقع پر کہا تھا : جب کہ وہ ان کے پاس گئے اور صحیفہ منگوایا تو حضرت عمر کی بہن نے کہا : لا یمسہٗ الا المطھرون۔ اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں، حضرت عمر اٹھے، غسل کیا اور سلام لائے۔ یہ واقعہ سورة طہٰ کے شروع میں گزر چکا ہے۔ اس تعبیر کی بناء پر قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : یہاں مطہرون سے مراد احداث اور انجاس سے پاک لوگ ہیں (2) ۔ کلبی نے کہا : وہ شرک سے پاک ہوں (3) ربیع بن انس نے کہا : وہ گناہوں اور خطائوں سے پاک ہوں (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اسے موحد ہی پڑھیں : یہ محمد بن فضل اور عبدہ کا قول ہے۔ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ اس چیز سے منع کیا کرتے تھے کہ یہود و نصاریٰ میں سے کسی کو قرآن پڑھنے کا موقع دیا جائے۔ فراء نے کہا : اس کا ذائقہ اس کا نفع اور اس کی برکت قرآن پر ایمان رکھنے والا ہی ہو سکتا ہے (5) ابن عربی نے کہا : یہ امام بخاری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ذوق طعم الایمان من رضی باللہ ربا وبالا سلام دینا و بمحمد ﷺ نبینا (6) جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہو اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔ حسین بن فضل نے کہا : اس کی تفسیر اور تاویل کو کوئی نہیں پہچانتا مگر جسے اللہ تعالیٰ نے شرک اور نفاق سے پاک کرلیا ہو۔ 1۔ مؤطا امام مالک کتاب القرآن الامریا لوضو عن مس القرآن، صفحہ 185 2۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 464 3۔ ایضاً 4۔ ایضاً 5۔ ایضاً 6۔ جامع ترمذی، ما جاء فی ترک الصلوٰۃ، جلد 2، صفحہ 86 7۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 464 ابو بکر وراق نے کہا : اس پر عمل کرنے کی توفیق نہیں دی جاتی مگر سعادت مندوں کو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے ثواب کو مس نہیں کرے گا مگر مومن (7) اسے حضرت معاذ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت کا ظاہر شروع کی خبر ہے یعنی شرعی طور پر پاکیزہ لوگوں ہی اسے چھوتے ہیں اگر ان کے برعکس پایا گیا تو یہ شرع کے خلاف ہوگا : یہ قاضی ابوبکر بن عربی کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ اور اس امر کو باطل قرار دیا گیا ہے کہ اس کا لفظ تو خبر کا لفظ ہو اور اس کا معنی امر کا ہو۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ مہدوی نے کہا : یہ جائز ہے کہ یہ امر ہوا اور سین کا ضمہ اعراب کا ضمہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ نہ ہو اور سین کا ضمہ مبنی ہونے کا ضمہ ہو اور فعل مجزوم ہو۔ مسئلہ نمبر 6 :۔ علماء نے وضو کے بغیر مصحف کے چھونے میں اختلاف کیا ہے جمہور نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ حضرت عمرو بن حزم کی حدیث اس بارے میں مروی ہے : یہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید ؓ عطاء، زہری، نخعی، حکم، حماد اور فقہاء کی ایک جماعت کا مذہب ہے ان میں امام مالک اور امام شافعی بھی ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ سے مختلف روایات مروی ہیں ان سے ایک روایت یہ مروی ہے کہ محدث اسے چھو سکتا ہے۔ سلف صالحین کی ایک جماعت سے بھی مروی ہے ان میں حضرت ابن عباس، امام شافعی وغیرہ ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : اس کے ظاہر، حواشی اور جس میں مکتوب نہ ہو اس کو چھوا جاسکتا ہے جہاں تک مکتوب کا تعلق ہے اسے پاکیزہ آدمی ہی چھو سکتا ہے۔ ابن عربی نے کہا : اگر اسے کوئی تسلیم بھی کرے تب بھی یہ ان چیزوں میں سے ہے جس پر حجت غالب ہے کیونکہ ممنوع کا حریم بھی ممنوع ہوتا ہے۔ اگر اسے کوئی تسلیم بھی کرے تب بھی یہ ان چیزوں میں سے ہے جس پر حجت غالب ہے کیونکہ ممنوع کا حریم بھی ممنوع ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرو بن حزم کو جو خط لکھا اس کے خلاف قوی ترین دلیل ہے۔ امام مالک نے کہا : جو آدمی حالت طہارت میں نہ ہو نہ اسے کسی واسطہ سے اٹھائے اور نہ ہی تکیہ پر رکھ کر اٹھائے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں اور جو آدمی کسی واسطہ سے اسے اٹھاتا ہے یا کسی واسطہ سے چھوتا ہے اسے منع نہیں کیا۔ حکم، حماد اور دائود بن علی سے مروی ہے کہ مصحف اٹھانے اور اس کے چھونے میں کوئی حرج نہیں، وہ مسلمان ہو یا کافر ہو، حالت طہارت میں ہو یا حالت حدث میں ہو مگر دئود ظاہری نے اس سے اختلاف کیا ہے کہا مشرک کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اسے اٹھائے۔ وہ اس کی اباحت کا استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قیصر کو خط لکھا جب کہ یہ تو مجبوری کا موقع تھا اس میں کوئی دلیل نہیں۔ بچوں کے اسے چھونے میں دو صورتیں ہیں (1) بالغ پر قیاس کرتے ہوئے اسے منع کیا جائے گا (2 یہ جائز ہے کیونکہ اگر بچے کو اس سے روک دیا جائے گا تو قرآن کی حفاظت نہ کی جاسکے گی کیونکہ بچے کا سیکھنا صغرسنی کی عمر میں ہی ہوا کرتا ہے بچے کو اگرچہ طہارت حاصل ہوتی ہے مگر وہ کامل نہیں ہوتی، کیونکہ بچے کی جانب سے نیت درست نہیں ہوتی۔ جب اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کامل طہارت کے بغیر اسے اٹھا لے تو اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ حالت حدث میں اسے اٹھا لے۔ مسئلہ نمبر 7 :۔ تنزیل من رب العلمین۔ یعنی رب العالمین کی جانب سے نازل کی گئی ہے جس طرح ضرب الامیر اور نسبح الیمن میں مصدر اسم مفعول کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تنزیل اللہ تعالیٰ کے فرمان انہ لقرآن کریم۔ کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تنزیل یہ ھو مبتداء کی خبر ہے۔ (افبھدا الحدیث انتم۔۔۔۔ ) افبھذا الحدیث ھذا لحدیث سے مراد قرآن ہے انتم مدھنون۔ مذھنون کا معنی ہے جھٹلاتے ہو، یہ حضرت ابن عباس، عطا اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے (1) مدھن اسے کہتے ہیں جس کا ظاہر اس کے باطن کے خلاف ہو۔ گویا اسے دہن ( تیل) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ اس کے ظاہر میں نرمی اور ملاعمت ہوتی ہے۔ مقاتل بن سلیمان اور قتادہ نے کہا : مذھنون کا معنی ہے کافرون : اس کی مثل ودوا الوتد ھن فیدھنون۔ ( القلم) مورج نے کہا : مدھن سے مراد منافق یا کافر ہے جو خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے تاکہ اپنے کفر کو چھپائے۔ ادھان اور مداھنہ کا معنی جھٹلانا۔ کفر کرنا اور نفاق کرنا ہے۔ اس کا اصل معنی نرمی کرنا ہے اور جو ظاہر کرے اس کے برعکس کو اپنے اندر چھپانا ہے۔ ابو قیس بن سلت نے کہا : الحزم والقوۃ خیر من الادھان والقھۃ ولھاع احتیاط اور قوت نفاق، عاجزی اور حرص سے بہتر ہے۔ ادھن اور داھن دونوں کا معنی ایک ہی ہے، کچھ لوگوں کا نقطہ نظر ہے داھنت کا معنی ہے تو نے چھپایا اور ادھنت کا معنی ہے تو نے دھوکہ کیا۔ ضحاک نے کہا : مدھنون کا معنی ہے تم عرض کرنے والے ہو (2) مجاہد نے کہا : کفر کے باوجود کفار سے دوستی کرنے ہیں (3) ابن کیسان نے کہا : مدھن اسے کہتے ہیں جو یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کا اس پر کیا حق ہے اور حیلے بہانوں سے اسے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک لغوی نے کہا : مدھنون کا معنی ہے قرآن کو قبول کرنے میں وہ یقین کو ترک کرنے والے ہیں۔
Ayah 56:82

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو ؟

وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تم نے اپنے شکر کو جھٹلانا بنا لیا ہے۔ ہشیم بن عدی نے کہا : یہ ازدشئو کی لغت میں سے ہے ما رزق فلانہ مراد ہے اس کا شکر کیا ہے یہ مناسب ہے کہ رزق کے اسم کو شکر کی جگہ رکھا جائے کیونکہ رزق کا شکر اس میں زیادتی کا تقاضا کرتا ہے تو شکر اس معنی کی وجہ سے رزق ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وتجعلون رزقکم سے اصل مقصود ہے وتجعلون شکر رزقکم تم نے اپنے رزق کا شکر ( جو اگر تم سے پایا جاتا تو وہ تمہارے لیے رزق کی صورت میں لوٹتا) 1۔ تفسیر ماوردی جلد 5، صفحہ 464 2۔ ایضاً جلد 5، صفحہ 465 3۔ ایضاً یہ بنا لیا ہے کہ تم رزق کو جھٹلاتے ہو، ینی تم شکر کی جگہ رزق کو رکھتے ہو، جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” وَمَا کَانَ صَلَا تُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً وَّتَصْدِیَۃًط “ (الانفال : 35) یعنی وہ نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ وہ نماز کی جگہ سیٹیاں بجاتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اس میں اس امر کی وضاحت ہے کہ بندوں کو جو بھی بھلائی پہنچی ہے تو ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسے واسطوں کی جانب سے دیکھیں جس کے بارے میں عام قاعدہ ہے کہ وہ واسطے اسباب ہوں بلکہ مناسب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دیکھیں پھر اگر وہ نعمت ہے تو اس کے بالمقابل شکر کریں اور اگر وہ امر ناپسند یدہ ہو تو اس پر صبر کریں مقصود اس کے سامنے اپنی عبودیت اور عاجزی کا اظہارہو۔ حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پڑھا و تجعلون شکر کم انکم تکذبون (1) حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے : اس سے مراد ستاروں سے بارش کو طلب کرنا ہے، یہ عربوں کا قول ہے مطرنا بنوء کذاہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش کی گئی : حضرت علی شیر خدا ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسے روایت کیا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں لوگوں پر بارش کی گئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” لوگوں میں سے کچھ نے شکر گزار بندے کی حیثیت سے صبح کی اور ان میں سے کچھ نے کافر کی حیثیت سے صبح کی قالوا ھذہ رحمۃ اللہ وقال بعضھم لقد صدق نو کذا و کذا۔ انہوں نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور بعض نے کہا : فلاں فلاں ستارے نے سچ کیا (2) تو یہ آیت نازل ہوئی :” فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ۔ وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ۔ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ ۔ لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ ۔ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ ۔ “ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں نکلے وہ پیاسے ہوگئے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے بتائو اگر میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں اور تم پر بارش ہوجائے تو ممکن ہے تم کہو ھذا المطر بنوء کذا یہ بارش فلاں ستارے کی وجہ سے ہے “ (3) ۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! ان ستاروں کا وقت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، اپنے رب سے دعا کی، ہوا چلی پھر بادل آئے تو لوگوں پر بارش ہوئی نبی کریم ﷺ چلے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جب کہ آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت تھی وہ اپنے پیالے سے پانی بھر رہا تھا وہ کہہ رہا تھا ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش کی گئی، اس نے یہ نہ کہا : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو یہ آیت نازل ہوئی وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس پر شکر بجا لانے کی بجائے تم نے اپنا حصہ یہ بنا لیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو جھٹلاتے ہو اور تم یہ کہتے ہو : ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش کی گئی ہے جس طرح تو کہتا ہے : جعلت احسانی الیک اساءۃ منک الی میں نے تجھ پر جو احسان کیا تھا اس کا بدلہ تو نے میرے ساتھ برائی کرنے کو بنا دیا اور میرا تجھ پر جو انعام تھا اس کا تو نے بدلہ دیا کہ تو نے مجھے اپنادشمن بنا لیا۔ 1 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 162 2 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، بیان کفر من قال مطرنا بالنور، جلد 1، صفحہ 59 3 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 162 موطا میں حضرت زید بن خالد جہنی سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں حدیبیہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی جب کہ رات کو بارش ہوئی تھی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، فرمایا :” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں میں سے کچھ نے مجھ پر ایمان کی حالت میں صبح کی اور ستارے کے ساتھ کفر کیا۔ جس نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ مجھ پر بارش کی گئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے جس نے کہا مجھ پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش کی گئی تو وہ ستارے پر ایمان رکھنے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے “۔ امام شافعی (رح) تعالیٰ علیہ نے کہا : میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی کہے مطرنا بنوء کذا وکذا اگرچہ ہمارے نزدیک نوء ایسا وقت ہے جو مخلوق ہے نہ نقصان دیتا ہے اور نہ نفع دیتا ہے، نہ بارش برساتا ہے اور نہ بارش کو روکتا ہے جو پسند کرے تو یہ کہے : مطرنا وقت کذا کما تقول مطرنا شھر کذا ہم پر فلاں وقت بارش ہوئی جس طرح تو یہ کہتا ہے ہم پر فلاں مہینہ میں بارش کی گئی جس نے یہ کہا : مطرنا بنو کذا وہ ارادہ کرتا ہو کہ نوء نے بارش کو نازل کیا ہے جس طرح دور جاہلیت میں بعض مشرک ارادے کرتے تھے توہ کافر ہوگا۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کا خون حلال ہوگا۔ ابو عمر بن عبد البر نے کہا : جہاں تک نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی حکایت بیان کرتے ہیں اصبح من عبادی مومن بی و کافر (2) میرے نزدیک اس کے معنی کی دو صورتیں ہیں (1) وہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ نوء ہی بارش کرنے والا ہے وہی بادل کو پیدا کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا نہیں کیا وہ صریح کافر ہوگا، اس سے توبہ طلب کرنا ضرور ہوگا اگر وہ انکار کرے تو اسلام کو چھوڑنے اور قرآن کو رد کرنے کی وجہ سے اسے قتل کرنا ضروری ہوگا۔ (2) دوسری صورت میں یہ ہے وہ یہ اعتقاد رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس ستارے کے ذریعے بارش نازل فرماتا ہے یہ بارش کا سبب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے مقدر کیا ہے اور اس کے علم میں پہلے سے موجود ہے۔ اگرچہ یہ مباح صورت ہے پھر بھی اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار ہے اور اس کی لطیف حکمت سے جہالت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے بارش نازل فرماتا ہے کبھی کسی ستارے کے واسطہ سے اور کبھی کس ستارے کے واسطہ سے۔ بیشمار مواقع پر ستارے ظاہر ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ بارش نہیں ہوتی۔ یہ بارش اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے ستارے کی طرف نہیں ہوتی، اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ کہا کرتے تھے جب وہ صبح کرتے جب کہ بارش ہوچکی ہوتی۔ مطرنا بنو الفتح پھر وہ اس آیت کی تلاوت کرتے ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا مسلک لھا (فاطر : 2) ابو عمر نے کہا : میرے نزدیک یہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہے مطہرنا بفضل اللہ ورحمتہ (3) ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ بارش ہوئی۔ اس باب میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کا حضرت عباس ؓ کو ارشاد ہے جب حضرت عمر نے ان کے واسطہ سے بارش طلب کی : اے رسول اللہ ﷺ کے چچا جان ! کم یقی منھ نوء الثریا حضرت عباس نے جواب دیا : علماء گمان کرتے ہیں کہ وہ افق میں عرضاً ظاہر ہوگی سات دنوں کے بعد ابھی ساتواں دن نہیں گزرا تھا کہ ان پر بارش ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : الحمد للہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے ہے۔ 1 ؎۔ مؤطا امام مالک، کتاب الاستسقاء، الاستطار، بالعظار، صفحہ 180 2 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، بیان کفر من قال مطرنا بالنوء، جلد 1، صفحہ 59 3 ؎۔ ایضاً گویا حضرت عمر ؓ جانتے تھے کہ نوء ثریا ایسا وقت ہے جس میں بارش کی امید کی جاتی ہے تو آپ نے حضرت عباس سے سوال کیا : وہ ظاہر ہوچکا ہے یا اس میں سے کوئی باقی ہے ؟ سفیان بن عینیہ نے اسماعیل بن امیہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک سفر میں ایک آدمی سے سنا وہ کہہ رہا تھا : مطرنا عثانین الاسد۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تو نے جھوٹ بولا یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بارش ہے “۔ سفیان نے کہا : عثانین الاسد سے مراد بازو اور پیشانی ہے۔ عام قرأت تکذبون ہے جو تکذیب سے مشتق ہے، مفضل نے عاصم اور یحییٰ بن وثاب سے تکذبون نقل کیا ہے۔ اس کا معنی ہے جو پہلے بیان کرچکے ہیں کہ جس نے۔ کہا : مطرنا بنئو کذا حضرت انس بن مالک کی حدیث میں یہ بات ثبت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میری امت میں تین چیزیں ہمیشہ رہیں گی حسب ونسب پر فخر، نوحہ اور انوائ “۔ اس بارے میں صحیح مسلم کے الفاظ ہیں۔ ” میری امت میں چار امور دور جاہلیت کے ہوں گے جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے۔ حسب و نسب پر فخر، انساب میں طعن، ستاروں کے ذریعے بارش کو طلب کرنا، نوحہ کرنا “۔ (1)
Ayah 56:83

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

بھلا جب روح گلے میں آپہنچتی ہے

فلولا اذا بلغت الحلقوم۔ لو لا، ھلا کے معنی میں ہے جب نفس اور روح حلقوم تک پہنچ جائے۔ نفس کا پہلے ذکر نہیں ہوا کیونکہ معروف ہے۔ حاتم نے کہا : اذا حشر جت یوما وضاق بھا الصدر جب گھنگھروبول جائے گا اور سینہ تنگ ہوجائے گا۔ محل استدلال حشر جت کی ضمر ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے ” ملک الموت کے مددگار ہیں جو رگوں کو کاٹتے ہیں اور آہستہ آہستہ روح کو جمع کرتے ہیں یہاں تک کہ روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے تو ملک الموت اسے قبض کرلیتا ہے “ (2)
Ayah 56:84

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت کی (حالت کو) دیکھا کرتے ہو

وانتم حنیئذ تنظرون۔ تنظرون کا مفعول بہ امری اور سلطان ہے۔ یعنی تم میرا اصرار، میری سلطان دیکھ رہے ہوتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے تم میت کو دیکھ رہے ہوتے ہو تم اس کے لیے کسی چیز پر قادر نہیں ہوتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ میت کے گھر والے انتظار کررہے ہوتے ہیں کہ اس کا نفس کب نکلے گا ؟ پھر یہ کہا گیا ہے : یہ ان کے اس قول کا رد ہے جو انہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا تھا :” کَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْا ج “ (آل عمران : 156 ) 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الجنائز، فصل فی النھی عن الفخر بالاحساب والطعن فی الانساب والاستقاء جلد 1 صفحہ 303 2 ؎۔ کنزالعمال، تلقین المختصر، جلد 15، صفحہ 563، حدیث 12185 کیا جب روح حلقوم تک آپہنچی تھی تو کیا انہوں نے ان میں سے کسی کو روح کو لوٹایا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے ایسا کیوں نہ ہوا جب تم میں سے کی کا نفس نزع کے وقت حلقوم تک پہنچا جب کہ تم حاضر تھے تو تم اس کی روح کو اس کے جسم میں روک لیتے جب کہ تم اس کی طویل عمر کے حریص تھے اور اس کی بقاء سے محبت رکھتے تھے۔ یہ ان کے قول کا رد ہے :” نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ ج “ (الدھر : 24) ہم مرتے ہیں اور ہم زندہ ہوتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس آدمی کو خطاب ہے جو حالت نزع میں سے ہے یعنی تجھے جو مصیبت پہنچی ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہے تو تو نے اپنی روح کی حفاظت کیوں نہیں کی ؟
Ayah 56:85

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے

ونحن اقرب الیہ منکم، ہم قدرت، علم اور رئویت میں تمہاری بنسبت اس کے زیادہ قریب تھے۔ عامر بن عبد القیس نے کہا : میں نے کسی چیز کو نہیں دیکھا مگر میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنی بنسبت اس کے زیادہ قریب دیکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارادہ کیا کہ ہمارے بھیجے ہوئے جو اس کی روح کو قبض کرنے کے ذمہ دار تھے وہ تمہاری بنسبت اس کے زیادہ قریب تھے۔ ولکن لا تبصرون۔ یعنی تم انہیں دیکھتے۔
Ayah 56:86

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو

فلولا ان کنتم غیر مدینین۔ یہاں بھی لولا، ھلا کے معنی میں ہے یعنی اگر تمہارا محاسبہ نہیں ہونا اور تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ نہیں دیا جانا۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انا لمدینون۔ ( الصافات) یعنی ہمیں جزا دی جائے گی اور ہمارا محاسبہ ہوگا۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ غیر مدینین کا معنی ہے غیر مملوکین ولا مقھورین غیر مملوک اور غیر مغلوب ہوں۔ فراء اور دوسرے علماء نے کہا : دتہ کا معنی ہے میں اس کا مالک ہوا، حطیئہ کا شعر پڑھا : لقد دینت امر بنیک حتی ترکتھم ادق من الطحین تجھے اپنے بیٹوں کے معاملات سپرد کیے گئے یہاں تک کہ تو نے انہیں آٹے سے بھی زیادہ باریک چھوڑا۔ دانہ اسے ذلیل کیا اور اسے اپنا غلام بنایا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : دتہ فدان میں نے اسے ذلیل کیا تو وہ ذلیل ہوگیا۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں یوم الدین کے ضمن میں گزر چکی ہے۔
Ayah 56:87

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے ؟

ترجعونھا تم روح کو جسم کی طرف لوٹاتے۔ ان کنتم صدقین۔ اگر تم سچے ہو یعنی تم اسے ہر گز نہیں لوٹائو گے تو تمہارا گمان باطل ہوگیا کہ مملوک نہیں اور تمہارا محاسبہ نہیں ہوگا۔ ترجعونھا یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان فلولا اذا بکغت الحلقوم۔ اور فلولا ان کنتم غیر مدینین۔ کا جواب ہے دونوں کا ایک ہی جواب ہے : یہ فراء کا قول ہے۔ بعض اوقات عرب دو حرفوں کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کا معنی ایک ہی ہوتا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَـلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ “ ( البقرہ : 38) دونوں کا ایک جواب دیا گیا جب کہ یہ دونوں شرطیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : ایک کو حذف کیا گیا کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی فلو لا وھلا ان کنتم غیر مدینین ترجعونھا، تردون نفس ھذا المیت الی جسدہ اذا بلغت الحلقوم۔
Ayahs 56:88–89

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبو دار پھول اور نعمت کے باغ ہیں

(فاما ان کان۔۔۔۔۔۔ ) فاما ان گان میں المقربین۔ موت اور بعث کے وقت مخلوق کے طبقات کا ذکر کیا اور ان کے درجات کو بیان کیا اور کہا : اگر یہ فوت ہونے والا مقربین میں سے ہوا جو سابقوں میں (1) فروح وریحان وجنت نعیم۔ عام قرأت فروح ہے وائو پر فتحہ ہے۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کے نزدیک اس کا معنی دنیا سے راحت ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : روح سے مراد راحت ہے۔ ضحاک نے کہا : روح سے مراد استراحت ہے (2) قتبی نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے لیے قبر میں عمدہ خوشبو ہوگی۔ ابو العباس بن عطاء نے کہا روح سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرے کی طرف دیکھنا ہے۔ ریحان سے مراد اس کی کلام اور وحی کو سننا ہے وجنت نعیم اس سے مراد ہے کہ جنت میں وہ اللہ تعالیٰ سے حجاب میں نہیں ہوگا۔ حضرت حسن بصری، قتادہ، نصر بن عاصم، حجدری، ویس اور زید نے یعقوب سے یہ قرأت نقل کی ہے (3) فروح یعنی راء پر ضمہ ہے : یہ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : روح سے مراد رحمت ہے کیوکنہ مرحوم کے لیے یہ زندگی کی طرح ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے پڑھا فروخ یعنی راء پر ضمہ ہے معنی ہے اس کے لیے جنت میں بقاء اور زن دگی ہے، یہی رحمت ہے۔ وریجان مجاہد اور سعید جیر نے کہا : اس سے مراد رزق ہے۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد حمیر کی لغت میں رزق ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : خرجت اطلب ریحان اللہ میں اللہ تعالیٰ کے رزق کی تلاش میں نکلا۔ نمربن قولب نے کہا : سلا الا لہ وریحانہ یہاں بھی ریحان سے مراد رزق ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جنت ہے۔ ضحاک نے کہا : مراد رحمت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ معروف ریحان ہے جسے سونگا جاتا ہے : یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا نقطہ نظر ہے۔ ربیع 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 466 2 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 254 3 ؎۔ ایضاً بن خثیم نے کہا : وہ کے وقت ہوگا اور جنت دوبارہ اٹھائے جانے تک اس کے لیے چھپا کر رکھی جائے گی۔ ابو جوزاء نے کہا : یہ اس کی روح کے قبض کے وقت ہوگا وہ ریحان کا بنڈل پائے گا۔ ابو العالیہ نے کہا : مقربین میں سے کوئی بھی دنیا اپنی روح سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ اسے ریحان کی دو ٹہنیاں دی جائیں گی وہ ان دونوں کو سونگھے گا پھر اس کی روح قبض کی جائے گی۔ ریحان کی اصل اور اس کا اشتقاق سورة رحمن کے آغاز میں گزر چکا ہے اس میں غور و فکر کیجئے۔ ثعلبی نے روح و ریحان میں ان اقوال کے علاوہ اقوال ذکر کیے ہیں جو ہم نے ذکر کیے، جو ان کا ارادہ کرے وہاں سے دیکھ لے۔
Ayahs 56:90–91

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام

واما ان کان من اصحب الیمین۔ یعنی اگر فوت ہونے والا اصحاب یمین میں سے ہو فسلم لک من اصحب لیمین۔ تو ان میں سے کسی کو نہیں دیکھے گا مگر یہ کہ جو تو سلامتی سے محبت رکھتا ہے اس لیے ان کے بارے میں تو غمگین نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ان کی جانب سے تیرے لیے سلامتی ہے یعنی تو ان کے لیے غمگین ہونے سے سلامت ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصحاب یمین آپ کے لیے دعا کرتے ہیں اے محمد ﷺ ! اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمتیں نازل فرمائے اور تجھ پر سلام بھیجے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اے محمد ﷺ ! وہ تجھ پر سلام بھیجتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اسے بندے ! تو اس چیز سے سلامت رہے جس تو ناپسند کیا جاتا ہے مقصد تعظیم بجا لاتا ہے (1) اس تاویل کی بناء پر اسلام کے محل میں تین وقول ہیں (1) جب دنیا میں اس کی روح قبض کی جاتی ہے تو ملک الموت اسے سلام کہتا ہے : یہ ضحاک کا قول ہے (2) حضرت ابن مسعود نے کہا : جب ملک الموت آتا تاکہ مومن کی روح قبض کرے تو وہ کہتا ہے تیرا رب تجھے سلام فرماتا ہے۔ یہ بحث سورة نحل آیت 32 میں اللہ تعالیٰ کے فرمان الذین تتوقھم الملکۃ طیبین کے ضمن میں گزر چکی ہے (2) قبر میں جب اس سے سوال و جواب ہوتا ہے (3) تو منکر و نکیر اس کو سلام کہتے ہیں (3) قیامت کے روز جب اسے اٹھایا جاتا ہے تو فرشتے اسے سلام کہتے ہیں قبل اس کے کہ وہ پہنچے (4) میں کہتا ہوں : یہ احتمال موجود ہے کہ اسے تینوں مواقع پر سلام کیا جائے۔ یہ اس کے لیے اکرام کے بعد اکرام ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مبرد کے نزدیک ان کا جواب محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے مھایکون من شی فسلام لک من اصحاب الیمین، ان کان من اصحاب الیمین فسلام لک من اصحاب الیمین جواب شرط کو حذف کرلیا گیا کیونکہ ما قبل کلام اس پر دلالت کرتی ہے، جس طرح تیرے اس قول میں جواب محذوف ہے انت ظالم ان فعلت کہہ کر ما قبل کلام اس پر دلالت کر رہی ہے۔ اخفش کا مذہب ہے فاء ( کا ما بعد) اما اور ان کا جواب ہے اس کا معنی فاء اما کا جواب ہے یہ متقدمہ تقدیر کی بناء پر ان کے جواب کے قائم مقام ہے۔ فاء اس تعبیر کی بناء پر دونوں کا جواب ہے۔ زجا ج کے نزدیک اما کا معنی ہے ایک شی سے دوسری شی کی طرف نکلنا یعنی جس میں ہم ہیں اس کو چھوڑ دے اور اس کے غیر میں شروع ہوجا۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی جلد 5، صفحہ 477 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ ایضاً
Ayahs 56:92–94

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو (اسکے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور جہنم میں داخل کیا جانا

واما ان گان من المکذبین الضالین۔ یعنی بعث کا انکار کرنے والے اور ہدایت اور حق کے راستہ سے گمراہ فنزل من حمیم۔ یعنی ان کے لیے کھولتے ہوئے پانی کا رزق ہے، جس طرح فرمایا :” ثم انکم ایھا الضالون المکذبون۔ لا کلون جس طرح فرمایا : ثم ان لھم علیھا الشوبا من حمیم۔ ( الصافات) وتصلیۃ حجیم۔ جہنم میں داخل کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہنم میں رہنا اور مختلف قسم کے عذابوں کو برداشت کرنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے اضلاہ النار وصلاہ مراد ہے اسے بنا دیا کہ وہ اسے تاپے۔ یہاں مصدر، مفعول کی طرف مضاف ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے لغلان اعطاء ما فلاں کو مال دیا جاتا ہے۔ اسے وتصلیۃ تاء کے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یعنی نزل من تصلیۃ حجیم پھر ابو عمرو نے تاء کو جیم میں مدغم کیا۔ یہ بعید ہے۔
Ayah 56:95

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

یہ (داخل کیا جانا یقینا صحیح یعنی) حق الیقین ہے

ان ھذا لھو حق الیقین۔ جو ہم نے تم پر بیان کیا ہے یہ محض یقین اور حق ہے۔ حق کی یقین کی طرف اضافت درست ہے جب کہ دونوں اجیک ہی چیز ہیں کیونکہ ان دونوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ مبرد نے کہا : یہ تیرے اس قول کی طرح ہے عین القین، محض الیقین کو فیوں کے نزدیک یہ شی کو اپنی ذات کی طرف مضاف کرنے کی طرح ہے۔ بصریوں کے نزدیک مراد ہے : حق الامرالیقین او الخبر الیقین۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تاکید ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یقین کی اصل یہ ہے کہ یہ حق کی نعت ہو تو معبوث کو مجازا نعمت کی طرف مضاف کیا گیا ہے جس طرح وللدار الاخرۃ ( الانعام : 32) قتادہ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اسے اس قرآن کے بارے میں یقین پر کھڑا کرے گا جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو اس نے دنیا میں یقین کرلیا تو اس چیز نے اسے قیامت کے روز نفع دیا۔ جہاں تک کافر کا تعلق ہے اسے قیامت کے روز یقین ہوگا تو اسے یقین نفع نہیں دے گا۔
Ayah 56:96

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرتے رہو

فسبح باسم ربک العظیم۔ اللہ تعالیٰ کی ہر عیب سے پاکی بیان کرو۔ باء زائدہ ہے یعنی اپنے رب کی پاکی بیان کرو۔ اسم سے مراد مسمی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اب اپنے رب کا ذکر کرتے ہوئے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کی نماز پڑھیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنے عظیم رب کے نام کا ذکر کیجئے اور اس کی تسبیح بیان کیجئے۔ حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے جب فسبح باسم ربک العظیم۔ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں رکھ لو “ اور جب سبح اسم ربک الاعلیٰ ۔ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے اپنے سجدہ میں رکھ لو “ (1) اسے ابو دائودنے نقل کیا ہے۔ 1 ؎۔ سنن ابی دائود، کتاب الصلوٰۃ، ما یقول الرجل لی رکوعہ و سجودہ، جلد 1، صفحہ 126