Ayahs 56:41–42(واصحب الشمال۔۔۔۔۔۔۔ )
واصحب الشمال ما اصحب الشمال۔ اہل نار کی منازل کا ذکر کیا اور انہیں اصحاب شمال کا نام دیا کیونکہ وہ اپنی کتابیں اپنے بائیں ہاتھ میں لیں گے۔ پھر بلاء اور عذاب میں ان کے ذکر کو بڑھ کر بیان کیا۔ فرمایا :” فی سموم، سموم سے مراد گرم ہوا ہے جو بدن کے مساموں میں داخل ہوتی ہے۔ یہاں اس سے مراد آگ کی گرمی اور اس کی لپک ہے۔ وحیم۔ گرم پانی جس کی گرمی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ جب آگ ان کے جگر اور ان کے جسم کو جلا دے گی تو وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف جلدی سے جائیں گے جس طرح ایک آدمی آگ سے بھاگ کر پانی کی طرف جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ آگ کو بجھائے تو وہ سخت گرم پاتا ہے جو گرمائش اور جوش مارنے میں انتہاء کو پہنچا ہوتا ہے۔ یہ بحث وسقواماء حمیما فقطع امعاء ھم۔ ( محمد) میں گزر چکی ہے۔
Ayah 56:43وظل من یحموم۔ وہ باد سموم سے بچنے کے لیے سایہ کی طرف جائیں گے جس طرح دنیا والے کرتے ہیں تو وہ سیاہ دھویں کا سایہ ہوگا یعنی وہ جہنم کا دھواں ہوگا جو سخت سیاہ ہوگا، یہ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے : اسی طرح لغت میں یحموم ہے سخت سیاہ۔ یہ حم سے یفعول کا وزن ہے اس سے مراد سیا چربی ہے جو آگ سے جلی ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حم سے مآخوذ ہے جس کا معنی کوئلہ ہے۔ ضحاک نے کہا : آگ سیاہ ہوگی اس کے مکین سیاہ ہوں گے اس میں جو کوئی ہوگا وہ سیاہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : آگ سیاہ ہوگی (1) ابن زید نے کہا : یحموم جہنم میں ایک پہاڑ ہے جہنمی جس کے سایہ میں پناہ چاہیں گے۔
Ayah 56:44لابارد ٹھنڈا نہیں ہوگا بلکہ گرم ہوگا کیونکہ وہ جہنم کا دھوا ہوگا۔ ولا کریم نہ آرام دہ ہوگا : ضحاک سے مروی ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس کا منظر حسین نہیں ہوگا۔ جس میں خیر نہ ہو وہ کریم نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وظل من یحموم سے مراد ہے وہ اس آگ کا سایہ ہوگا جس کے ساتھ انہیں عذاب دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” لَھُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ط “ ( الزمر : 16)
Ayahs 56:45–46انھم گانوا قبل ذلک مترفین۔ وہ اس عذاب کے مستحق اس لیے بنے ہیں کیونکہ وہ دنیا میں حرام چیز ہے لطف اندوز ہوتے ہیں مترف یعنی خوشحال : حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ سدی نے کہا : مترفین یعنی شرک کرنے والے ” وگانو یصرون علی الجنت العظیم۔ “ وہ شرک پر قاتم تھے (2) یہ حضرت حسن بصری، ضحاک اور ابن زید کا نقطہ نظر ہے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : مراد وہ بڑا گناہ ہے جس سے وہ توبہ نہیں کرتے تھے۔ شعبی نے کہا : اس سے مراد یمین غموس ہے یہ گناہ کبیرہ میں سے ہے (3) یہ جملہ بولا جاتا ہے، جنت فی یمینہ اس نے قسم کو پورا نہ کیا اس نے رجوع کرلیا۔ وہ قسم اٹھایا کرتے تھے کہ دوبارہ اٹھانے کا کوئی تصور نہیں اور وہ یہ قسم اٹھاتے تھے کہ بت اللہ تعالیٰ کا مدمقابل ہیں۔ یہی ان کا قسم توڑنا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہا : واقسموا باللہ جھد ایمانھم لا یبعث اللہ من یموت (النحل : 38) حدیث میں ہے : آپ غار حرا میں تخث کیا کرتے تھے، یعنی آپ ایسا عمل کیا کرتے تھے جس کے ساتھ آپ سے حنث ساقط ہوجائے۔ اس سے مراد گنا ہے۔
Ayahs 56:47–52وگانو یقولون ائذا متنا یہ ان کی جانب سے بعث کے امرا کو حقیقت سے بعید خیال کرنا اور اس کو جھٹلانا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل اے محمد ! انہیں کہو ان الاولین والاخرین۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم۔ اولین سے مراد تمہارے آباء، آخرین سے مراد تمہاری ذاتیں ہیں۔ میقات یوم معلوم مراد یوم قیامت ہے۔ کلام کا معنی قسم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان لمجموعون میں لام کا دخول قسم کے معنی پر دال ہے یعنی تم ضرور جمع ہو گے یہ حقیقی قسم ہے جو تمہاری باطل قسم کے خلاف ہے۔
ثم انکم ایھا الضالون ہدایت سے بھٹکے ہیء وہا المکذبون۔ بعث کو جھٹلانے والے ہو۔ لا کلون من شجر من زقوم۔ زقوم سے مراد ایسا درخت ہے جس کا منظر بڑا کر یہ ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ بھی بڑا ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ وہ ہے جس کا ذکر سورة صافات میں گزرا ہے۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 456 2 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 457 3 ؎۔ ایضاً
Ayahs 56:53–54فما لون منھا البطون۔ ھا ضمیر سے مراد شجر ہے کیونکہ شجر سے مقصود شجرہ ہی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ پہلا من زائدہ ہو یہ بھی جائز ہے کہ مفعول محذوف ہو گویا فرمایا : لا کلون من شجر من زقوم طعاما من زقوم شجر کی صفت ہے جب تو نے جار کو زائد مقدر کیا تو صفت کو معنی کے اعتبار سے نصب دے گا یا لفظ کے اعتبار سے جر دے گا۔ اگر تو مفعول کو محذوف مقدر کرے تو صفت محل جر میں ہوگی۔
فشربون علیہ ہ ضمیر سے مروز قوم، الکل یا شجر ہے کیونکہ یہ مذکر و مونث استعمال ہوتے ہیں من الحمیم۔ اس سے مراد ابلا ہوا پانی ہے جس کا جوش سخت ہو۔ یہ جہنمیوں کی پیپ یعنی بھوک کے ساتھ جو وہ زقوم کھائیں گے وہ پیاس کا باعث ہوگی۔ وہ پانی پئیں گے وہ گمان یہ کریں ڈ گے کہ یہ ان کی پیاس کو زائل کر دے گی تو وہ اسے جوش مارتا ہوا پانی پائیں گیے
Ayah 56:55فشربون شرب الھیم۔ یہ نافع، عاصم اور حمزہ کی قرأت ہے باقی قراء نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں عمدہ لعنتیں ہیں عرب کہتے ہیں : شربت شربا و شربا و شربا و شربا یعنی شین اور راء پر ضمہ ہے۔ ابو زید نے کہا : میں نے عربوں کو شین کے ضمہ، فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے فتحہ یہی صحیح مصدر ہے کیونکہ ثلاثی سے ہر مصدر فعل کے وزن پر ہوتا ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ تو اسے ایک دفعہ کے عمل کی طرف پھیر دیتا ہے تو کہتا ہے : فعلۃ جس طرح شربۃ اور ضمہ کے ساتھ یہ اس سے اسم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مفتوح اور مضموم دونوں مصدر ہیں شراب جس طرح اکل شرب جیسے ذکر اور شرب جو کسرہ کے ساتھ ہو اس سے مراد مشروب ہے جس طرح طحن مطحون کے معنی میں ہے ھیم سے مراد پیا سے اونٹ ہیں جو بیماری کی وجہ سے سیراب نہیں ہوتے، حضرت ابن عباس، عکرمہ، قتادہ، سدی اور دوسرے علماء نے یہی کہا : عکرمہ نے یہ بھی کہا ہے : اس سے مراد مریض اونٹ ہیں۔ ضحاک نے کہا : ھیم سے مراد ایسے اونٹ ہیں جنہیں کوئی بیماری لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید پیاس لا حق ہوتی ہے اس کا واحد اھیم ہے اس کی مونث ھیماء ہے اس بیماری کو ھیام کہتے ہیں۔ قیاس بن ملوح نے کہا :
یقال بہ داء الھیام اصابہ وقد علمت نفس مکان شفائھا (1)
یہ کہا جاتا ہے : اسے ہیام کی بیماری ہے جب کہ میرا نفس اس کی شفاء کے مکان سے آگاہ ہے۔
قوم ھیم پیاسے لوگ۔ ھاموا ھیاما وہ پیاسے ہوگئے عربوں میں سے کچھ اونٹوں کے بارے میں کہتے ہیں : ھائم، ھائمۃ اس کی جمع ھیم ہے۔
ضحاک، اخفش، ابن عینیہ اور ابن کسی ان نے کہا : ھیم سے مراد نرم ہموار زمین ہے جس میں ریت ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : یہ ریت کی طرح پیتے ہیں وہ پانی سے سیراب نہیں ہوتے۔ یہ کہا جاتا ہے جو سیراب نہ ہو وہ اونٹ ہو یا ریت ہو اسے ھیم اور ھیماء کہتے ہیں : صحاک میں ہے : ھیام سے مراد شدید پیاس ہے ھیام سے مراد ایسا عشق جو جنون کی طرح ہو۔ ھیام ایسی بیماری ہے جو اونٹ کو لگتی ہے تو وہ زمین میں سرگرداں رہتا ہے چرتا نہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : ناقۃ ھیمائ۔
ھیماء سے مراد ایسا جنگل ہے جس میں پانی نہ ہو۔ ھیام سے مراد ایسی ریت ہے جو ہاتھ سے بہنے سے نہیں رکتی اس کی جمع ھیم ہے جس طرح قذال اور قذل ہے۔ ھیام سے مراد پیاسے اونٹ ہیں اس کا واحد ھیمان ہے ناقۃ ھیماء جس طرح عطشان کی جمع عطاش آتی ہے۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 457
Ayah 56:56ھذا انزلھم یوم الدین۔ یہ وہ رزق ہے جو ان کے لیے تیار کیا جاتا ہے جس طرح وہ کھانا جو مہمانوں کے لیے بطور تکریم تیار کیا جاتا ہے اس میں استہزاء ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے بشرھم بعذاب الیم۔
ابو سعد ضبی کا قول ہے : جعلنا القناوالمرھفات لہ نزلا ہم نے نیزے اور باریک تلواروں کو اس کے لیے ضیافت کے طور پر تیار کیا۔
یونس بن حبیب اور عباس نے ابو عمرو سے یہ قرأت نقل کی ہے ھذا نزلھم یعنی زاء ساکن ہے سورة آل عمران کے آخر میں گفتگو اس کے بارے میں گزر چکی ہے یوم الدین۔ سے مراد یوم جزاء یعنی جہنم ہے۔
Ayah 56:57(نحن خلقلنکم فولا۔۔۔۔ )
نحن خلقنکم فلولا تصذقون۔ تم دوبارہ اٹھائے جانے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے (1) ؟ کیونکہ دوبارہ اٹھانا پہلی دفعہ پیدا کرنے کی طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ہم نے تمہارے رزق کو پیدا کیا تو تم کیوں اس کی تصدیق نہیں کرتے کہ یہ تمہارا کھانا ہے اگر تم ایمان نہیں بھی لاتے ؟
Ayahs 56:58–59افراء یتم ما تمنون۔ مراد ہے منی میں سے جو تم عورتوں کے رحموں میں ٹپکاتے ہو۔ ء انتم تخلقونہٗ کیا تم اسے سے انسان کی تصویر کشی کرتے ہو۔ ام نحن الخلقون۔ یا ہم مقدر کرنے والے اور تصویر کشی کرنے والے یہ ان کے
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 458
خلاف استدلال اور پہلی آیت کا بیان ہے یعنی جب تم نے اقرار کرلیا ہے کہ ہم اس کو پیدا کرنے والے ہیں کوئی اور پیدا کرنے والا نہیں تو تم دوبارہ اٹھائے جانے کا اعتراف کرلو۔ ابو سمال، محمد بن سمیقع اور اشہب عقلی نے پڑھا ہے تمنون یعنی تاء پر فتحہ ہے امنی اور منی دونوں لغتیں ہیں، جس طرح امذی، مذی، یمنی، یمنی، یمذی، یمذی، یہ ماوردی کا قول ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ میرے نزدیک دونوں کے معنی مختلف ہوں تو امنی کا منی ہو جب جماع سے انزال ہو اور منی سے مراد ہے جب احتلام سے انزال ہو۔ منی کو منی کہنے کی دو وجہیں ہیں (1) ایک تو اس کے امناء کی وجہ سے ہے کہ اس کو بہایا جاتا ہے (2) اس کا اندازہ لگانے کی وجہ سے۔ اس سے لفظ منا ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اس کی مقدار ہوتی ہے اسی طرح منی ہے مخلوق کی تصویر کشی کے لیے صحیح تعداد ہے۔
Ayahs 56:60–61نحن قدرنا بینکم الموت یہ بھی استدلال ہے یعنی وہ ذات جو موت دینے پر قادر ہے وہ پیدا کرنے پر قادر ہے جب وہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے۔ مجاہد، حمید، ابن محصین اور ابن کثیر نے قدر نادال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ضحاک نے کہا : معنی ہے ہم نے اہل آسمان اور اہل زمین کے درمیان برابری کردی (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے فیصلہ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے ہم نے لکھ دیا۔ معنی قریب قریب ہے۔ اس ذات کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہے گا۔
وما نحن بمسوقین۔ علی ان نبدل امثالکم اگر ہم ارادہ کریں کہ تمہاری جگہ اور پیدا کریں تو کوئی ہم پر غالب نہیں آسکتا۔ گویا نحن بمسبوقین کا معنی ہے ہم مغلوب نہیں۔ طبریٰ نے کہا : معنی ہے ہم نے تمہاری درمیان موت کو مقدر کیا ہے تاکہ ہم تمہاری موت کے بعد تمہاری جنس میں سے دوسروں کو لے آئیں اور تمہاری آ جال میں ہم مغلوب نہیں نہ کوئی متاخر آ گے ہو سکتا ہے اور نہ متقدم پیچھے ہو سکتا ہے (2)
وننشکم فی مالا تعملون۔ یعنی جن صورتوں اور بئیتوں کو تم نہیں جانتے ہم تمہیں ان میں پیدا کردیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ہم تم کو بندر اور خنزیر بنا دیں جس طرح ہم نے تم سے قبل قوموں کے ساتھ کیا ہے (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ہم تمہیں دوبارہ اٹھاتے وقت ایسی صورت میں پیدا کردیں جو ان صورتوں سے مختلف ہوں جو تمہاری دنیا میں تھیں مومن اپنے چہرے کی سفیدی کی وجہ سے خوبصورت ہوگا اور کافر اپنے چہرے کی سیاہی کی وجہ سے بد صورت ہوگا۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس کا معنی ہے یعنی سیاہ پرندوں کے پوٹوں میں ہوں گے جو برہ موت وادی میں ہوتے ہیں برہ موت یمن میں ایک وادی ہے گویا وہ آنکھیں ہیں۔ مجاہد نے کہا : فی مالا تعلمون کا معنی ہے ہم نے جس صورت میں چاہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ہم تمہیں ایسے عالم میں پیدا کریں گے جسے تم نہیں جانتے ہوگے اور ایسے مکان میں پیدا کریں گے جس کو تم نہیں جانتے۔
Ayah 56:62ولقد علمتم النشاۃ الاولی کیونکہ تم کو نطفہ سے پھر علقمہ سے پھر مضفہ سے پیدا کیا گیا جب کہ تم کچھ بھی نہ تھے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 459 2 ؎۔ تفسیر طبری، جز 27، صفحہ 230 3 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 248
فلولا تذکرون۔ تم سوچ و بچار کیوں نہیں کرتے ؟ حدیث میں ہے ” دوبارہ پیدا کرنے کے جھٹلانے والے پر بڑا تعجب ہے جب کہ وہ پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اس پر بھی تعجب ہے اور جو دوبارہ پیدا کرنے کا اقرار تو کرتا ہے مگر دار قرار کرے لیے تگ و دو نہیں کرتا “۔ عام قرأت النشاۃ ہے۔ مجاہد، حضرت حسن بصری، ابن کثیر اور ابو عمرو نے النشاء الف ممدودہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سورة عنکبوت میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
Ayahs 56:63–65( افرء یتم ما تحرثون۔۔۔۔۔۔۔۔ )
افرء یتم ما تحرثون۔ یہ دوسری دلیل ہے مجھے اس چیز کے بارے میں بتائو : جو تم اپنی زمین میں کاشت کرتے ہو تم اس میں بیچ ڈالتے ہو تم اسے کاشت کرتے ہو اور اس سے کھیتی حاصل کرتے ہو تو اس میں بالی اور دانہ بن جاتا ہے یا ہم یہ سب کچھ کرنے والے ہیں تمہارا کام بیج ڈالنا اور زمین پھاڑنا ہے جب تم اس کا اقرار کرتے ہو کہ دانے سے بالی کا نکالنا تمہارے بس میں نہیں تو تم زمین سے مردوں کو نکالنے اور انہیں دوبارہ اٹھانے سے انکار کرتے ہو۔ حرث کی نسبت ان کی طرف کی اور زرع کی نسبت اللہ تعالٰ کی طرف کی کیونکہ حرث ان کا فعل ہے اور ان کے اختیار پر جاری ہوتا ہے اور زرع اللہ تعالیٰ کا فعل ہے وہ اپنے اختیار سے اگاتا ہے ان کے اختیار سے نہیں اگاتا : اس طرح حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے :” تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چاہیے زرعت بلکہ وہ کہے : حرثت کیونکہ زارع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : کیا تم اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنتے :” ء انتم تزرعونہٗ ام نحن الزرعون۔ “ (واقعہ) جو آدمی بھی زمین میں بیج ڈالتا ہے اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ پڑھنے کے بعد یہ پڑھے ” افرء یتم ما تحرثون۔ “ پھر وہ کہے : بل اللہ الزارع و المنبت والبلغ اے اللہ ! حضرت محمد ﷺ پر رحمتیں نازل فرما ہمیں اس کا پھل عطاء فرما، اس کے ضرر سے ہمیں دور رکھ ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر بجا لانے والا بنا دے، اپنی نوازشات کا ذکر کرنے والا بنا دے اور اس میں ہمارے لیے برکت رکھ دے یا رب العالمین !
یہ کہا جاتا ہے : یہ قول اس کھیتی کے تمام آفات سے امان ہوگا، وہ کیڑا ہو، ٹڈی دل ہو یا کوئی اور چیز ہو۔ ہم نے ثقہ لوگوں سے اسے سنا ہے اس کا تجربہ کیا گیا ہے تو اسی طرح پایا گیا۔ ء انتم تزرعونہٗ یعنی تم اسے کھیتی بناتے ہو۔ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے : فلان زارع جس طرح کہا جاتا ہے حراث یعنی وہ ایسا کام کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کھیتی ہو جو کاشتکاروں کو خوش کرے۔ بعض اوقات بطور مجاز زرع کا لفظ زمین میں بیج ڈالنے اور ہل چلانے پر بھی بولا جاتا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ نہی راہنمائی کے لیے ہے یہ نہی روکنے اور واجب کرنے کے لیے نہیں اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : لا یقولون احد کم عبد و امتی ولیقل غلامی وجاریتی و فتادی و فتاتی تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے عبدی و امتی بلکہ وہ کہے غلامی، جاریتی، فتای، فتاتی۔ سورة یوسف میں اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ بعض علماء نے اس میں مبالغہ سے کام لیا اور کہا : وہ یہ نہ کہے حرثت فاصبت بلکہ کہے اعاننی اللہ فحرثت و اعطانی بفضلہ ما اصبت اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی تو میں نے کھیتی باڑی کی اس نے مجھے اپنے فضل سے نوازا تو میں نے اسے پا لیا۔
ماوردی نے کہا : یہ آیت دو امور کو متضمن ہے (1) ان پر احسان جتلایا کہ اس نے ان کی کھیتی کو اگایا یہاں تک کہ اس کے ذریعے وہ زندہ رہے تاکہ اللہ تعالیٰ نیان پر جو انعام کیا ہے اس پر وہ اس کا شکر بجا لائیں (1) ایسی دلیل جو عبرت حاصل کرنے کو لازم کرتی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو کھیتی کو اگایا جب کہ بیج نا پید ہوچکا تھا اور انتہائی بری حالت میں منتقل ہوچکا تھا کہ وہ مٹی میں مل چکا تھا یہاں تک کہ وہ سر سبز شاذات کھیتی بن گیا پھر اسے اس سے کئی گنا قوی بنا دیا جس پر وہ پہلے تھا تو جو انسان فوت ہوچکا ہے اس کو دوبارہ زندہ کرنا اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اور وہ اس پر زیادہ قادر ہے یہ دلیل فطرت سلیمہ کے لیے کافی و شافی ہے پھر فرمایا :” لو نشاء لجعلنہٗ خطاماً “ اگر ہم چاہتے تو اس کھیتی کو ریزہ ریزہ بنا دیتے (1) ۔ نظام ایسی ریزہ ریزہ چیز کو کہتے ہیں جس سے کھانے اور غذا کے طور پر کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ساتھ دو امور پر متنبہ کیا۔ (1) اللہ تعالیٰ نے ان کی کھیتی میں جو نعمتیں عطاء کیں کہ اسے ریزہ ریزہ نہیں کیا تاکہ وہ اس کا شکر بجا لائیں (2) اس کے ذریعے وہ اپنی ذات کے بارے میں عبرت حاصل کریں جس طرح جب وہ چاہتا ہے کھیتی کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے جس طرح جب وہ چاہے گا انہیں ہلاک کر دیگا تاکہ اس سے نصیحت حاصل کریں اور ایسا کرنے سے رک جائیں۔
فظلتم تفکھون۔ اس کے ضائع ہوجانے پر تم تعجب کا اظہار کرتے ہو اور جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے اس پر شرمندہ ہوتے ہو (2) یہ حضرت حسن بصری، قتادہ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ صحاک میں ہے : تفکہ کا معنی ہے اس نے تعجب کا اظہار کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے : وہ شرمندہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فظلتم تفکھون۔ یعنی تم شرمندہ ہوتے ہو۔ تفکھت بالشئی یعنی میں اس سے لطف اندوز ہوا۔ یمان نے کہا : تم اپنے خرچوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہو اس کی دلیل فاصبح یقلب کیفہ علی ما انفق فیھا (کہف : 42 )
عکرمہ نے کہا : وہ معصیت جو تم سے ہوچکی اور تمہاری سزا کا موجب ہوئی یہاں تک کہ تمہاری کھیتوں میں جا پہنچی اس پر تم ملامت کا اظہار کرتے ہو اور شرمندہ ہوتے ہو (3) ابن کیسان نے کہا : تم غمگین ہوتے ہو (4) معنی قریب قریب ہے اس میں دو لغتیں ہیں تفکھون، تفکنون۔ فراء نے کہا : نون عکل کی لغت ہے۔ صحاح میں ہے : تفکن سے مراد جو چیز فوت ہوئی اس پر شرمندگی کا اظہار کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تفکہ کا معنی ہے بےمقصد گفتگو کرنا، اسی معنی میں فکاھۃ کا لفظ ہے جو مزاح کے لیے بولا جاتا ہے جہاں تک فکاھۃ کا تعلق ہے تو یہ فکہ الرجل فھوف کہ کا مصدر ہے۔ جب وہ اچھی طبیعت کا اور مزاح کرنے والا ہو۔ عام قرأت فظلتم ہے (5) عبد اللہ نے اسے فظلتم پڑھا ہے۔ ہارون نے حسین سے وہ ابوبکر سے روایت نقل کرتے ہیں جس نے اسے فتحہ دیا وہ اصل پر ہے اصل میں ظللتم تھا پہلا نام تخفیف کے طور پر حذف کردیا گیا جس نے ظاء کو کسرہ دیا ہے اس نے پہلے لام کے کسرہ کو ظاء کی طرف منتقل کیا پھر پہلے لام کو حذف کردیا۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 460 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ ایضاً 5 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 249
Ayahs 56:66–67انا لمغر مون۔ ابوبکر اور مفضل نے ائنا دو ہمزہ کے ساتھ استفہام کی صورت میں پڑھا ہے عاصم نے اسے زربن حبیش سے روایت کیا ہے باقی قراء نے ایک ہمزہ کے ساتھ خبر کی صورت میں پڑھا ہے یعنی وہ کہتے ہیں : ہم عذاب میں ہیں (1) حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا : غرام سے مراد عذاب ہے، اس معنی میں ابن محلم کا قول ہے :
وثقت بان الفظ منی سجیۃ وان قوادی متبل بک مغوم (2)
مجھے اعتماد ہے کہ میری طرف سے یاد کھنا خصلت ہے اور میرا دل تیری وجہ سے پریشان اور عذاب میں ہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : ہمیں شوق اور جوش دلایا گیا تھا : اس معنی میں نمربن تو لب کا قول ہے :
کان رھینا بھا مغرما
وہ اس کے بدلہ میں رہن رکھا گیا ہے اور اسے جوش دلایا گیا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اغرم فلان بفلانۃ فلاں فلاں سے بہت محبت کرتا ہے : اسی سے غرام ہے یہ ایسی شر ہے جو لازم ہے۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : وہ شر کو پانے والے ہیں۔ مقاتل نن حیان نے کہا : وہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ نحاس نے کہا : ان المغرمون یہ لفظ غرام سے مشتق ہے۔ جس کا معنی ہلاکت ہے جس طرح شاعر نے کہا :
یوم النسار ویوم الجفا وکانا عذابا، کا نا غراما (3)
یوم نسار ( چشمہ کا نام) اور یوم جفار ( جگہ کا نام) دونوں عذاب اور ہلاکت تھے۔
ضحاک اور ابن کسی ان نے کہا : یہ غرم سے مشتق ہے مغرم اسے کہتے ہیں جس کا مال بغیر عوض کے چلا جائے یعنی ہمارا وہ دانہ بھی ضائع ہوگیا جو ہم نے بویا تھا۔ مرہ ہمدانی نے کہا : ہمارا محاسبہ کیا جائے گا۔
بل نحن محرومون۔ یعنی ہم نے جس شادابی کا مطالبہ کیا تھا اس سے ہمیں محروم کردیا گیا۔ محروم اسے کہتے ہیں جس کو رزق سے روک دیا گیا ہو محروم، مرزوق کی ضد ہے۔ قتادہ کے قول میں یہی محارف ہے۔ حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ انصار کی زمین کے پاس سے گزرے پوچھا :” کس چیز نے تمہیں کھیت کو کاشت کرنے سے روکا “ انہوں نے عرض کی : زمین کے بنجر ہونے نے۔ فرمایا :” ایسا نہ کہا کروکیون کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے انا الزارع میں کھیتوں کو اگانے والا ہوں، میں چاہوں گا تو میں پانی کے ساتھ کھیتی کو اگائوں، چاہوں تو ہوا کے ساتھ اگائوں اور چاہوں تو بیچ کے ساتھ اگائوں “۔ پھر اس آیت کی تلاوت کی :” افرء یتم ما تحرثون۔ ء انتم تزرعونہٗ ام نحن الوزرعون۔ “ ( الواقعہ)
میں کہتا ہوں : اس حدیث میں اور اس سے قبل کی حدیث میں وہ دلیل موجود ہے جو اس کے قول کی صحت کو ثابت کرتی ہے جس نے زارع کو لفظ کو اللہ تعالیٰ کے اسماء میں داخل کیا۔ اکثر علماء نے اس کا انکار کیا ہے ہم نے اس کی وضاحت الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں کردی ہے۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً
Ayah 56:68(افرء یتم الماء الذی۔۔۔ )
افرء یتم الماء الذی تشربون۔ تاکہ اس کے ساتھ تم اپنے آپ کو زندہ رکھو اور اس کے ساتھ اپنی پیاس کو سکون بہم پہنچائو کیونکہ مشروب کھانے کے تابع ہوتا ہے، اسی وجہ سے آپ میں کھانے کا ذکر پہلے ہوتا ہے کیا تو دیکھتا نہیں کہ تو مہمان کو کھانا کھلانے کے بعد اسے پلاتا ہے۔
ایک عرب کو مشروب پلایا گیا تو اس نے کہا : انا لا اشرب الاعلی ثمیلۃ میں نہیں پیتا مگر ہلکے پیٹ والا ہو کر۔
Ayah 56:69ء انتم انزلتموہٗ من المزن، مزن سے مراد بادل ہے اس کا واحد مرنہٗ ہے : شاعر نے کہا :
فنحن کماء المزن مافی نصابنا کھام ولا فینا یعد بخیل (1)
ہم بادل کے پانی کی طرح ہیں نہ ہماری اصل میں کوئی مال سے خالی ہے اور نہ ہی ہم میں کوئی بخیل شمار ہوتا ہے۔
یہ حضرت ابن عباس، مجاہد وغیرہما کا قول ہے کہ مزن سے مراد بال ہے۔ حضرت ابن عباس اور ثوری سے یہ مروی ہے کہ مزن سے مراد آسمان اور بادل ہے۔ صحاح میں ہے ابو زید نے کہا : مزنہ سے مراد سفید بادل ہے اس کی جمع مزمن ہے مزنہ سے مراد بارش ہے شاعر نے کہا :
الم تران اللہ انزل مزنۃ
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بارش کو نازل کیا۔
ام نحن المنزنون۔ جب تم نے پہچان لیا کہ میں نے اسے نازل کیا تو تم میرے لیے عبادت کو خاص کر کے شکر کیوں نہیں بجا لاتے اور تم دوبارہ پیدا کرنے کی میری قدرت کا کیوں انکار کرتے ہو ؟
Ayahs 56:70–72لو نشاء جعلنہ اجا جا یعنی ایسا نمکین جو ورجہ نمکین ہو : یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سخت کڑوا تم پینے، کا شت وغیرہ میں اس سے کوئی نفع حاصل نہیں کرتے۔ فلولا تشکرون۔ تو کیا تم اس کا شکر بجا نہیں لائو گے جس نے تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔
افرء یتم النار التی تورون۔ مجھے اس آگ کے بارے میں تو بتائو جسے تم تر درخت سے رگڑنے کے ساتھ نکالتے ہو۔ ء انتم انثا تم سبحر تھا جس درخت سے آگ جلائی جاتی ہے وہ مرخ اور عفار ہے : اس معنی میں ان کا قول ہے : ہر درخت میں آگ ہے مرخ اور عفار میں زیادہ ہے گویا ان دونوں نے اس سے وہ حصہ لیا جو انہیں کافی ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : کیونکہ یہ دونوں آگ کو جلدی پھیلاتے ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : اذریت النار جب تو اسے جلائے۔ وری الزند یری جب اس سے آگے نکلے اس میں ایک اور لغت بھی ہے وری الزند یری۔ یعنی ماضی اور مضارع کے عین میں کسرہ ہے۔ ام نحن المشئون۔ یا ہم پیدا کرنے والے ہیں یعنی جب تم میری قدرت کو پہچان چکے تو میرا شکر بجالائو اور دوبارہ اٹھانے پر میری قدرت کا انکار نہ کرو۔
Ayah 56:73نحن جعلنھا تذکرۃ یعنی دنیا کی آگ بڑی آگ کے لیے نصیحت ہو (1) یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ لوگوں کے لیے تاریکی سے بصیرت ہے۔ نبی کریم ﷺ سے یہ صحیح مروی ہے ” تمہاری یہ آگ جسے انسان روشن کرتے ہیں یہ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے “۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو کافی ہے فرمایا :” جہنم کی آگ انہتر گنا زائد ہے ان میں سے ہر جز دنیا کی آگ کی گری کی مثل ہے “۔
ومتا عا للمقوین۔ ضحاک نے کہا : یہ مسافروں کے لیے نفع کا باعث ہے (2) اسے یہ نام اس لیے دیا کیونکہ وہ چٹیل میدان میں اترتے جسے قوی کہتے۔ فراء نے کہا : مسافروں کو مقوبن کا جاتا جب وہ چٹیل جگہ پر ڈیرہ ڈالتے جہاں کوئی چیز نہ ہوتی : اسی طرح قوی اور قواء ہے منزل قواء ایسی جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی انس کرنے والا نہ ہوتا۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : اقوت الدار، قوت الدار جب وہ اپنے مکینوں سے خالی ہوجائے۔
عشرہ نے کہا :
حینیت من طلل تقادم عھدہٗ اقوی واقفر بعد ام الھیثم (3)
تجھے طلل کی جانب سے سلام پہنچے جس کا زمانہ پہلے گزر چکا ہے جو ام ہثیم کے بعد بےآباد ہوچکا ہے۔
یہ جملہ کہا جاتا ہے : اقول اصحابہ و قوی اصحابہ۔
اقوی اذا سافر یعنی وہ قواء اور تی میں فروکش ہوا۔ مجاہد نے کہا : للمقوین کا معنی ہے تمام لوگ سالن پکانے، روٹی پکانے، گرمائش حاصل کرنے اور روشنی حاصل کرنے میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس کے ساتھ جہنم کی آگ کو یاد دلایا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بھوکوں کے لیے ان کے کھانے کے بنانے میں فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بنا دیا (1) یہ جملہ کہا جاتا ہے : اقویت کذاوکذا یعنی میں نے اتنے عرصہ سے کوئی چیز نہیں کھائی بات فلان القواء و بات القفر جب اس نے کوئی چیز کھائے بغیر بھوکے رات گزاری۔
شاعر نے کہا :
وانی لاختار القوی طاوی الحشی
میں بھوکا رہنے کو پسند کرتا ہوں۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 461 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 250
ربیع اور سد نے کہا : المقوین سے مراد ایسے فروکش ہونے والے ہیں جن کے پاس آگے نہیں ہوتی جس کو وہ جلائیں اور اس کے ساتھ کھانا پکائیں، اسے عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔ قطرب نے کہا : مقوی اضداد میں سے ہے یہ فقیر اور غنی کے معنی میں ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : اقری الرجل جب اس کے پاس زادراہ نہ ہو اقوی جب اس کے پاس بہت زیادہ چوپائے ہوں اور مال بہت زیادہ ہو۔
مہدی نے کہا : یہ آیت تمام لوگوں کے لیے مناسب ہے کیونکہ آگ ایسی چیز ہے جس کے مسافر، مقیم غنی اور فقیر ضرورت مند ہوتے ہیں : ثعلبی نے بیان کیا ہے۔ اکثر مفسرین پہلے قول کی طرف گئے ہیں۔ قشیری نے کہا : اس سے انفاع کے اعتبار سے مسافر کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ مسا فرمقیم کی بنست اس سے زیادہ نفع حاصل کرتا ہے کیونکہ جنگل و صحرا میں رہنے والوں کو رات کے وقت آگ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ درندے اس سے دور رہیں اس کے علاوہ بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔
Ayah 56:74فسبح باسم رب العظیم۔ مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جو شریکوں کی اور دوبارہ اٹھانے سے عجز کی نسبت کی ہے اس سے اس کی پاکی بیان کر۔