55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 55:72–73

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

حور مقصودرت فی الخیام۔ حوریہ حوراء کی جمع ع ہے اس سے مراد ہے جس کی آنکھ کی سفیدی انتہا کی ہو ساتھ ہی ساتھ سیاہی بھی شدید ہو۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مقصورت وہ محبوس ہوں گی اور خیموں میں پوشیدہ ہوں گی وہ گلیوں میں گھومتی پھرتی نہیں ہوں گی، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت عمر نے کہا، خیمہ ایسا موتی ہوگا جو اندر سے خالی ہوگا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہا : یہ ایک فرسخ چوڑا ایک فرسخ لمبا ہوگا اس کے دروازے کے پٹ سونے کے ہوں گے۔ ترمذی حکیم ابوعبداللہ ناے حور مقصودرت فی الخیام۔ کے بارے میں کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک باول نے عرش سے بارش برسائی تو حوریں رحمت کے قطرات سے پیدا کی گئیں پھر ان میں سے ہر ایک پر نہر کے کنارے خیمہ لگا دیا گیا جن کی وسعت چالیس میل ہوگی اس کا کوئی دروازہ نہ ہوگا یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کا ولی جنت میں داخل ہوگا تو دروازہ سے خیمہ پھٹ جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ کے ولی کو علم ہوجائے کہ فرشتوں اور خدام کی نظریں اس تک نہیں پہنچیں، یہ خیموں میں بند ہیں انہیں مخلوقات کی نظروں سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ پہلی دو جنتوں میں موجود حوروں کے بارے میں فرمایا : فیھن قصرت الطرف یعنی انہوں نے اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود کر رکھا ہے ان کے بارے میں یہ ذکر نہیں کہ وہ مقصود ہیں یہ اس امر پر دال ہے کہ خیموں میں بند اعلی و افضل ہیں۔ مجاہد نے کہا، مقصورت سے مراد یہ ہے انہیں اپنے خاوند تک محدود کردیا گیا ہے وہ ان کے علاوہ کا ارادہ نہیں کریں۔ صحاح میں ہے : قصرت الشی اقصرہ قصرا میں نے اسے محبوس کردیا۔ اسی سے لفظ مقصورۃ الجامع ہے۔ قصرت الشی علی کذایہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اسے اسی چیز تک محدود کر دے غیر کی طرف تو اسے متجاوز نہ کرے۔ امراۃ قصیرۃ وقصورۃ مراد وہ عورت جو کمرے میں بند ہو اسے باہر نکلنے کی اجازت نہ ہو۔ حضرت انس سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں جنت میں ایک نہر کے پاس سے گزرا جس کے کناروں پر مر جان کے قبے تھے اس سے مجھے ندا کی گئی : السلام علیک یا رسول اللہ ! میں نے پوچھا : اے جبرئیل یہ کون ہیں ؟ حضرت جرئیل امین نے جواب دیا : یہ حورعین میں سے نوجوان عوتریں ہیں، انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ آپ کو سلام کہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا : ہم ہمیشہ رہیں گی، ہم کبھی بھی نہیں مریں گی، ہم نرم اندام ہیں، ہم سخت گیر نہیں، ہم راضی رہنے والیاں ہیں، ہم کبھی ناراض نہ ہوں گی۔ ہم معزعز خاوندوں کی بیویاں ہیں “ پھر نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی حور مقصورت فی الخیام۔ یعنی ہم محبوس ہیں یہ جس حفاظت اور کرامت کے لئے ہے۔ حضرت اسماء بنت یزید اشہلیہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم عورتیں ہیں محصور رہتی ہیں تمہارے گھروں کا سہارا ہیں، تمہاری اولادوں کو اپنے پیٹوں میں اٹھانے والی ہیں کیا ہم اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں ڈ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’ دجب تم اپنے خاوندوں کے ساتھ حسن معاملہ کرو اور ان کی رضا کی طالب ہو۔ “
Ayahs 55:74–75

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

لم یطمھن انہیں چھوا تک نہ ہوگا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ عام قرآت یطمثھن ہے۔ ابو حیوہ شامی، طلحہ بن مصرف، اعرج اور شیرازی نے کسائی سے دونوں حرفوں میں میم کو مضمون پڑھا ہے۔ کسائی ایک کو کسرہ دیتے اور دوسرے کو ضمہ دیتے اور اس میں اتخیار دیتے جب پہلے کو رفع دیتے تو دوسرے کو کسرہ دیتے اور جب پہلے کو کسرہ یدتے تو دو سے کو رفع دیتے، یہ ابو اسحاق سبیعی کی قرأت ہے۔ ابو اسحاق نے کہا، میں حضتر علی شیر خدا کے شاگردوں کے پیچھے نماز پڑھتا تو وہ میم کو رفع دیتے، میں حضتر عبدلالہ کے شاگردوں کے پیچھے نماپز ڑھتا تو وہ میم کو کسرہ دیتے۔ کسائی نے دونوں روایات پرع مل کیا یہ دونوں لغتیں ہیں طمتث، طمث جس طرح یعرشون اور یعکفون ہے۔ جس نے ضمہ دیا اس نے دونوں لغتوں کو جمع کردیا جس نے کسرہ دیا تو یہ عام لغت ہے۔ لم یطمثھن کے قول کا اعادہ نہیں کیا تاکہ اس امر کی وضاحت ہوجائے کہ خیموں میں حور مقصورات کی صفت ایسے ہی ہے جس طرح ان حوروں کی صفت ہے جو قصرت الطرف کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب وہ اپنی نظروں کو جھکانے والی ہیں تو خیموں میں بھی ان کا یہی حال ہوگا۔
Ayahs 55:76–77

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

متکین علی رفرف خضر، رفرف سے مراد وہ چادر ہے جو اس بستر پر بچھائی جاتی ہے جس کو سونے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، رفر سے مراد بستروں اور قالینوں سے زائد چیز ہے (1) ان سے یہ بھی مروی ہے : رفرف سے مراد وہ چادریں ہیں (2) جن کے زائد حصہ پر وہ ٹیک لگاتے ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ حضتر حسن بصری اور قرظی نے کہا، اس سے مراد قالین ہیں۔ ابن عینیہ نے کہا، اس سے مراد تکیے ہیں۔ ابن کیسان نے کہا، اس سے مراد چھوٹے تکیے ہیں، یہ حضرت حسن بصری کا بھی قول ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا : یہ کپڑے کی ایک طرف ہے۔ لیث نے کہا، اس سے مراد سب کپڑوں کی ایک قسم ہے جسے بچھایا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد بلند بستر ہیں (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : عربوں کے ہاں کپڑے کے جوڑے کو رفرف کہتے ہیں۔ یہ تمام اقوال قریب قریب ہیں۔ صحاح میں ہے : رفرف سے مراد سبز کپڑے ہیں جن سے چادریں بنائی جاتی ہیں اس کا واحد رفرفہ ہے۔ سعید بن جبیر اور حضرت ابن عباس نے کہا، رفرف سے مراد جنت کے باغات ہیں (4) رفرف یہ ان یرف سے مشتق ہے وہ بلند ہو اسی سے رفرۃ الطیر ہے کیونکہ وہ ہوا میں اپنے دونوں پروں کو حرکت دیتا ہے بعض اوقات نرشتر مرغ کو اسی وجہ سے رفرف کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے پھر بھگا جاتا ہے۔ رفرف الطائر جب وہ کسی چیز کے اردگرد اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے تاکہ وہ اس پر گرے۔ رفرف سے مراد خیمہ کا نچلا حصہ، قمیص کی جانب اور اس میں سے جو چیز لٹک رہی ہو، اس کا واحد رفرفہ ہے۔ نیب کریم ﷺ کے وصال کے بارے میں حدیث میں ہے : فرفع الرفرف فراینا وجھہ کا نہ و رقۃ یعنی خیمہ کی ایک جانب الٹائی گئی تو ہم نے آپ کا چہرہ دیکھا گویا وہ چاندی تھا۔ ایکق ول یہ کیا گیا : رفرف کا اصل رف النبت یرف ہے جب وہ ترو تازہ ہو، یہ ثعلبی نے حکایت بیان کی ہے۔ فتبی نے کہا، یہ لفظ کسی شی کے لئے اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب اس کا پانی زیادہ ہو یہاں تک کہ وہ جھومنے لگے۔ رف یرف رفیفا یہ مہروی نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، رفرف ایسی چیز کو کتے ہیں جب اس کا مالک اس پر بیٹھے تو وہ دائیں بائیں اوپر نیچے حرکت کرے وہ اس کے ساتھ لذت حاصلک رے جس طرح جھولا جھولتا ہے، یہ قول ترمذی حکیم نے نو اور الاصول میں بیان کیا ہے ہم نے اس کا ذکر تذکرہ میں کیا ہے۔ ترمذی حکیم نے کہا، رفرف فرش سے متربہ میں بلند ہے پہلے دو باغوں کے بارے میں فرمایا : متکین علی فرش بطآء بنھا من استمرق جب کہ یہاں فرمایا : متکین علی رفرف خضر، رفرف ایسی شی ہے جب ولی اس پر متکن ہوتا ہے تو وہ اس کے ساتھ حرکت کرتی ہے، یعنی اسے یہاں اڑ کرلے جاتا ہے اور یہاں اڑا لے جاتا ہے جہاں اس کا ارادہ ہوتا ہے جس طرح جھولا ہوتا ہے اس کی اصل رفرف بین یدی اللہ عزوجل ہے۔ حدیث معراج میں مہارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سدرۃ المنتہی تک پہنچے تو رفرف آپ کے پاس آیا آپ نے اسے جبریل امین سے لیا اور اس کے ساتھ مسند عرش کی طرف اڑ گئے۔ اس میں آپ نے ذکر کیا کہ وہ ’ ’ مجھے لے کر اڑا کبھی مجھے نیچے لے جاتا اور کبھی اوپر لے جاتا یہاں تک کہ مجھے میرے رب کے سامنے کھڑا کردیا۔ پھر جب واپسی کا وقت ہوا آپ نے اسے پکڑا تو وہ آپ کو لے کر اڑا کبھی نیچے ہوتا اور کبھی اوپر جاتا یہاں تک کہ اس نے آپ کو جبریل امین تک پہنچا دیا جب کہ جبریل امین رو رہے تھے اور حمد کے ساتھ اپنی آواز بلند کر رہے تھے “ رفرف ایک خادم ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر رہتا ہے دنو اور قرب کے محل میں اس کے خاص امور ہیں جس طرح براق ایک جانور ہے جس پر انبیاء سواری کرتے ہیں وہ اس کی زمین میں خاص ہے یہ زفرف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دو جنت والوں کے لیے مسخر کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا قرب رکھتی ہیں یہ یہ رفرف ان کا تکیہ اور بستر ہے وہ ولی کو ان نہروں کے کناروں پر لے کر اڑتا رہتا ہے جہاں وہ جنتی چاہتا ہے جہاں ان کی بیویاں خیرات حسان کے خیمے میں ہوتی ہیں پھر فرمایا :” وعبقری حسان۔ عبقری “ ان کپڑوں کو کہتے ہیں جن پر نقش و نگار ہوتے ہیں جن کو پھیلایا جاتا ہے جب ان نقوس کا خالق کہے کہ یہ حسان ہیں تو ان عباقر کے بارے میں تیرا کیا گمان ہوگا۔ حضرت عثمان ؓ حجدری، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے متکئین علی رفارف پڑھا ہے یہ جمع ہے غیر منصرف ہے، اسی طرح و عباقری حسان بھی ہے یہ رفرف اور عبقری کی جمع ہے رفرف اسم جمع ہے عبقری واحد ہے جو جمع پر دلالت کرتی ہے جو عبقری کی طرف منسوب ہے۔ جس میں کپڑے پر نقش و نگار بنائے جاتے ہیں، اس کی طرف ہر اس نقش کو منسوب کیا جاتا ہے جس کو مضبوط نقش کہا جاتا۔ یہ کہا جاتا ہے : عبقریمن کی ایک جانب ایسی بستی ہے جس میں منقش قالین بنے جاتے۔ ابن انباری نے کہا : اس میں اصل یہ ہے کہ عبقر ایک بستی ہے جس میں جن رہتے اس کی طرف ہر عمدہ چیز منسوب کی جاتی ہے۔ خلیل نے کہا : مردوں، عورتوں اور اس کے علاوہ جو بھی عمدہ چیز ہو عربوں کے ہاں اسے عقبری کہتے ہیں : اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا حضرت عمر ؓ کے بارے میں فرمان ہے : فلم ارعیقریا من الناس یفری فریۃ (1) ابو عمرو نے کہا جب کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو فرمایا : عقبری سے مراد قوم کا رئیس اور بزرگ ہے۔ جوہری نے کہا : عقبری ایسی جگہ ہے عرب یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ جنوں کا علاقہ ہے۔ لبید نے کہا : کھول و شبان کجنۃ عبقر عبقر کے جنوں کی طرح ادھیڑ عمر اور جوان ہیں۔ پھر عربوں نے اس کی طرف ہر ایسی چیز کی منسوب کیا جس کی قوت اور عمدہ 1 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب المناقب، علامات النبوۃ فی الاسلام اطراطہ، جلد 1، صفحہ 513 صنعت سے وہ متعجب ہوتے انہوں نے کہا : عبقری۔ یہ واحد اور جمع ہے حدیث میں ہے : انہ کان یسجد علی عبقری (1) وہ عبقری پر سجدہ کرتا ہے۔ اس سے مراد ایسی قالین ہے جس میں رنگ ہوں اور نقوش ہوں یہاں تک کہ انہوں نے کہا ظلم عبقری : ھدا عبقری، ھذا عبقری قوم۔ یہ جملہ اس آدمی کے لیے بولتے جو قوم میں سے قومی ہوتا۔ حدیث طیبہ میں ہے : فلم ارعبقریا یفری فریۃ میں نے قوم کو سردار کو نہیں دیکھا جو جھوٹ بولتا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے ایسی چیز کے ساتھ خطاب کیا جس سے وہ متعارف تھے اور فرمایا : عبقری حسان۔ بعض قاریوں نے اسے عباقری پڑھا ہے۔ یہ غلط ہے کیونکہ اسم منصوب کے جمع یاء نسبت کو باقی رکھتے ہوئے نہیں بنائی جاتی۔ قطرب نے کہا : یہ منسوب نہیں یہ کرسی کر اسی، بختی اور بخاتی کی طرح ہے۔ ابوبکر نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے یوں پڑھا متکئین علی رفارف خضر و عباقر حسان ثعلبی نے اسے ذکر کیا ہے (2) خضر کے ضاء کو مضمو پڑھنا بہت ہی قلیل ہے۔
Ayah 55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تمہارا پروردگار جو صاحب جلال و عظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام۔ تبرک یہ برکۃ تے تفاعل کا وزن ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ذی الجلل عظمت والا۔ یہ بحث بھی پہلے گزر چکی ہے۔ عامر نے ذوالجلال پڑھا ہے اور اسے اسم کی صفت بنایا ہے یہ اس امر کو قوت بہم پہنچاتا ہے کہ اسم میں مسمی ہے باقی قراء نے ذی الجلال پڑھا ہے انہوں نے ذمی کو ربک کی صفت بنایا ہے گویا اس کے ساتھ اس اسم کا ارادہ کیا ہے جس کے ساتھ سورت کا آغاز کیا فرمایا : الرحمن اس اسم کے ساتھ آغاز کیا اور انسان اور جنوں کی تخلیق کا ذکر کیا، آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر کیا، ان میں اپنی تدبیر کا ذکر کیا اور فرمایا : کل یوم ھو فی شان۔ پھر قیامت، اس کی ہولناکیوں اور جہنم کی صفت کا ذکر کیا پھر جنتوں کی صفت کا بیان کیا پھر سورت کے آخر میں بیان کیا تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام۔ یعنی وہ اسم جس کے ساتھ سورت کا آغاز کیا۔ گویا انہیں آگاہ کیا کہ یہ سب کچھ تمہارے لیے میری رحمت سے پیدا ہوا ہے میں نے اپنی رحمت سے تمہیں پیدا کیا، تمہارے لیے آسمان، زمین، جنت اور دوزخ بنائے یہ سب کچھ تمہارے لیے رحمن کے اسم سے وقوع پذیر ہوا تو اس اسم کی مدح کی پھر کہا : ذی الجلل والاکرام۔ یعنی وہ ذات کے اعتبار سے جلیل ہے، افعال میں کریم ہے۔ قراء نے اس میں اختلاف نہیں کیا کہ سورت کے آغاز (3) میں وجہ کی صفت بنائیں جب کہ حالت رفعی میں ہو۔ یہ اس امر پر دال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے مومن جس کو ملیں گے جب وہ اس کا دیدار کریں گے، حسن جزا، خوبصورت ملاقات اور اچھی عطاء سے خوش ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ 1 ؎۔ صحیح، قاری، کتاب المناقب، مناقب عمر بن الخطاب، ؓ ، جلد 1، صفحہ 520 2 ؎۔ درمنثور، جلد 6، صفحہ 214 3 ؎۔ مراد آیت نمبر 27 ہے۔