55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 55:33–36

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس ! اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

سنفرغ لکم ایھا الثقلن۔ یوں کہا جاتا ہے : میں نے اپنی کوششیں خرچ کیں۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا کام نہیں جس سے فارغ ہو۔ اس کا معنی ہے ہم تمہیں جزا دینے اور تمہارا حساب لینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ یہ ان کے لئے دھمکی ہے جس طرح جب کوئی دھمکی کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے : یعنی میں تیرا قصد کرتا ہوں۔ فرغ قصد کے معنی میں ہے۔ ابن انباری نے اس کی مثل معاملہ میں پڑھا : خبردار ! اب میں نے نمیر کا قصد کیا۔ نحاس نے کہا : میں نے بیٹری میں قید غلام کا قصد کیا۔ حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ نے جب لیلۃ العقبہ کو انصار سے بیعت لی شیطان نے چیخ ماری : میں مقیم لوگو ! یہ مذمم (نعوذ باللہ) تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لئے بنی قبلہ سے بیعت لے رہا ہے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” یہ عقبہ کا شیطان ہے خبردار ! اللہ کی قسم ! اے اللہ کے دشمن ! لاتفرغن لک میں تیرے معاملہ کو باطل کرنے کا قصد کرتا ہوں “ (2) یہ قتبی ‘ کسائی اور دوسرے علماء کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے پر وعدہ کیا اور فجور پر دھمکی دی ‘ پھر فرمایا ہم نے تم سے جو وعدہ کیا ہے اس کا قصد کریں گے اور جس سے ہم نے جو وعدہ کیا ہوگا ہر ایک تک وہ پہنچائیں گے یعنی میں اسے تقسیم کرتا ہوں اور اس سے فارغ ہوتا ہوں ‘ یہ حسن بصری ‘ مقاتل اور ابن زید کا قول ہے۔ حضرت عبداللہ اور حضرت ابی نے سنفرع الیکم پڑھا ہے۔ اعمش اور ابراہیم نے اسے سیفرغ لکم پڑھا ہے یا پر ضمہ اور راء پر فتحہ ہے یہ مجہول کا صیغہ ہے۔ ابن شہاب اور اعرج نے سنفرغ لکم پڑھا ہے یعنی نون اور راء مفتوح ہے۔ کسائی نے کہا : یہ تمیم کی لغت ہے وہ کہتے فرغ یفرغ اور فرغ یفرغ بھی حکایت کیا ہے دونوں کو ہیرہ نے حجص سے انہوں نے عاصم سے روایت کیا ہے۔ جعفی نے ابو عمر و سے سیفرغ یا اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن ہرمز سے بھی روایت کی گئی ہے۔ عسیٰ ثقفی سے سنفرغ لکم یعنی نون کے کسرہ اور راء کے فحہ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے سیفرغ لکم یاء کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تہامہ کی لغت ہے۔ ثقلان سے مراد جن و انس ہے۔ ان دونوں کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ زمین میں جو بھی مخلوق ہے ان کی بنسبت ان دونوں کو عظمت شان حاصل ہے کیونکہ انہیں احکامکا مکلف بنایا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ یہ زندہ اور مردہ حالت میں زمین پر بوجھ ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الزلزال) اس معنی میں ان کا قول ہے اعطہ ثقلہ ثقل کا معنی وزن ہے۔ بعض اہل معانی نے کہا : ہر شی جس کی قدر اور وزن ہو جس میں مقابلہ کیا جاتا ہو تو وہ ثقل ہوتا ہے اس وجہ سے شتر مرغ کے انڈے کو ثقل کہتے ہیں کیونکہ اس کو پانے والا اور اس کو شکار کرنے والا جب اسے حاصل کرلیتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ امام جعفر صادق نے کہا : دونوں کو ثقلین کہا گیا کیونکہ دونوں گناہوں کی وجہ سے بوجھل ہوتے ہیں (1) فرمایا سنفرغ لکم ‘ کم ضمیر کو جمع ذکر کیا پھر فرمایا : ایۃ الثقلن کیونکہ دونوں فریق ہیں اور ہر فریق جمع ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان استعتب نہیں فرمایا کیونکہ یہ دونوں ایسے فریق ہیں جو جمع کی حالت میں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النمل) اور ارشاد ہے : ( الحج :19) اگر ارشاد ہوتا سنفرغ لکما اور استعتب تو یہ بھی جائز ہوتا۔ اہل شام نے پڑھا ایۃ الثقلان ھا کو ضمہ دیا باقی قراء نے اسے فتحہ دیا ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ : یہ سورت ‘ احقاف اور قل اوحی اس امر پر دلیل ہیں کہ جن مخاطب ہیں مکلف ہیں ‘ مامور ہیں ‘ منہی ہیں انہیں ثواب دیا جائے گا ‘ انہیں سزا دی جائے گی ‘ وہ انسانوں کے برابر ہیں ‘ ان کا مومن انسانوں کے مومن کی طرح ہے ‘ ان کا کافر انسانوں کے کافر کی طرح ہے ‘ ہمارے اور ان کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں۔ ابن مبارک نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں جویبر نے ضحاک سے ذکر کیا ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کو حکم دے گا تو وہ اپنے مکینوں کے ساتھ پھٹ جائے گا اس کے فرشتے اس کی اطراف میں چلے جائیں گے یہاں تک کہ ان کا رب انہیں حکم دے گا تو وہ زمین کی طرف اتریں گے وہ زمین اور اہل زمین کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کے قریبی آسمان کو حکم دے گا وہ اتریں گے تو پہلی صف کے پیچھے صف میں کھڑے ہوجائیں گے پھر تیسرے آسمان پھر چوتھے پھر پانچویں پھر چھٹے پھر ساتویں آسمان کو حکم دے گا ‘ پھر بلند ترین مرتبہ والا فرشتہ اترے گا جو بڑے جاہ و جلال میں ہوگا اس کی بائیں جانب جہنم ہوگی لوگ اس کی خوفناک آواز کو سنیں گے وہ زمین کی کسی طرف میں نہیں آئیں گے مگر وہاں فرشتوں کی صفیں پائیں گے اللہ تعالیٰ کے فرمان : کا یہی مطلب ہے۔ سلطان کا معنی عذر ہے۔ ضحاک نے بھی یہ کہا : اس اثناء میں کہ لوگ بازاروں میں ہوں گے آسمان کھل جائے گا ‘ فرشتے اتریں گے جن اور انسان بھاگیں گے فرشتے انہیں گھیر لیں گے اللہ تعالیٰ کے فرمان : لاتنفذون الا بسلطن سے یہی مراد ہے۔ میں کہتا ہوں : اس تاویل کی بناء پر یہ اس دنیا میں ہوگا۔ ابن مبارک نے جو ذکر کیا ہے وہ آخرت میں ہوگا۔ ضحاک سے یہ بھی مروی ہے : اگر تم طاقت رکھتے ہو تو موت سے بھاگو تو بھاگ جائو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے جانو تو اسے جان لو (1) تم ہرگز نہیں جان سکو گے مگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے مبینہ کے ساتھ۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ کا معنی ہے مجھے تم پر جو غلبہ اور قدرت ہے اس وجہ سے تم نہ نکل سکو گے۔ قتادہ نے کہا : تم ملک کے بغیر نہیں نکل سکو گے جب کہ تمہارے لئے کوئی ملک نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے اس میں باء الی کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (یوسف :100) یہاں بی الی کے معنی میں ہے : شاعر نے کہا : میں بنا الینا کے معنی میں ہے۔ ہمارے ساتھ برا سلوک کر یا اچھا سلوک کر کوئی ملامت نہ ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے فانفذو اعجز بیان کرنے کے لئے امر کا صیغہ ذکر کیا گیا : (2) اگر تم نکلتے تو تم پر آگ کا شعلہ بھیجا جاتا اور تمہیں ایسا عذاب اپنی گرفت میں لے لیتا جو باہر نکلنے سے مانع ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کلام کا تعلق باہر نکلنے سے نہیں بلکہ یہ خبر دی کہ وہ نافرمانوں کو آگ کے ساتھ عذاب دے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے تم نے اپنے رب کی نعمتوں کو جھٹلایا تو وہ تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دے گا یہ اس تکذیب کی سزا ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے تم نے اپنے رب کی نعمتوں کو جھٹلایا تو وہ تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دے گا یہ اس تکذیب کی سزا ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مخلوقات کو فرشتوں کے ساتھ اور آگ کی زبان کے ساتھ گھیر لیا جائے گا پھر انہیں ندا کی جائے گی۔ : حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کے نزدیک شواظ سے مراد ایسا شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو۔ نحاس سے مراد ایسا دھواں جس میں شعلہ نہ ہو۔ اس معنی میں امیہ بن ابی صلت کا قول ہے وہ حضرت حسان بن ثابت ؓ کی ہجو کرتا ہے تفسیر ثلبی اور ماوردی بن ابی صلت میں ہے صحاح میں ہے اور ابن انباری کی الوقف والا بتدا میں ہے امیہ بن خلف نے کہا : وہ ہمیشہ شعلوں کو پھونکے مارتا تھا۔ حضرت حسان بن ثابت نے اسے جواب دیا۔ میں نے تیری ایسے اشعار سے ہجو کی جو شعلہ کی طرح بھڑک رہا ہے اور تو اس کے سامنے عاجزی کے ساتھ سر جھکا گیا۔ مجاہد نے کہا : شواظ سے مراد سبز شعلہ ہے جو آگ سے منقطع ہوجاتا ہے۔ (4) ضحاک نے کہا : ایسا دھواں جو شعلہ سے نکلتا ہے یہ مکڑی کا دھواں نہیں (5) یہ سعید بن جیر نے کہا ایک قول یہ کیا گیا : سے مراد آگ اور دھواں ہے یہ ابو عمرو کا قول ہے۔ اخفش نے اسے بعض عربوں سے اسے بیان کیا ہے۔ ابن کثیر نے شواظ پڑھا ہے۔ (6) باقیقراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح مسوار اور ضوار گائیوں کے ریوڑ کو کہتے ہیں۔ ہے اس کا عطف شواظ پر ہے۔ ابن کثیر ‘ ابن محصین ‘ مجاہد اور ابو عمرو نے ونحاس جر کے ساتھ پڑھا ہے اس کا عطف النار پر ہے۔ مہدوی نے کہا : جس نے شواظ کا معنی ایسا شعلہ لیا ہے جس میں دھواں نہیں ہوتا تو وہ بہت ہی بعید ہے یہ اس وقت تک جائز نہیں ہوتا جب تک موصوف کو حذف نہ کیا جائے ‘ گویا کہا : کا لفظ شواظ پر معطوف ہے یہ ایسا جملہ ہے جو شی کی صفت ہے اور شی کو حذف کردیا گیا اور من کو حذف کیا گیا ہے کیونکہ اس کا ذکر فی نار میں گزر چکا ہے جس طرح علی ان کے قول میں مذوف محذوف ہے اس تعبیر کی بناء پر نحاس من محذوف کی وجہ سے مجرور ہوگا۔ مجاہد ‘ حمید ‘ عکرمہ اور ابو عالیہ نے ونحاس پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح شواظ اور شواظ نحاس کا معنی طبیعت اور اصل بھی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : اسی طرح نحاس بھی ہے یعنی وہ اچھے حسب والا ہے۔ مسلم بن جندب نے ونحس پڑھا ہے (1) حنظلہ بن مرہ بن نعمان انصاری نے ونحس ‘ نار پر عطف کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ نحاس کسرہ کے ساتھ ہو یہ نحس کی جمع ہے جس طرح صعب و صعاب ہے ونحس رفع کے ساتھ شواظ پر معطوف ہے حضرت حسن بصری سے ونحس ہے یہ نحس کی جمع ہے یہ بھی جائز ہے اس کی اصل و نحوس ہو اس کی وائو کو حذف کرکے قصر کا قاعدہ جاری کیا گیا جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے ونحس پڑھا ہے نون مفتوح ہے حاء مضموم ہے اور سین مشدد ہے یہ حس یحس حسا سے مشتق ہے جب وہ اسے جڑ سے اکھیڑ دے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (آل عمران :152) ہم عذاب کے ساتھ قتل کریں گے پہلی قرأت کی بنا پر ونحاس وہ پگھلا ہوا تانبا ہے جو ان کے سروں پر بہایا جائے گا یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر سے یہ مروی ہے کہ نحاس سے مراوایسا دھواں ہے جس میں شعلہ نہیں ہوتا۔ خلیل کے قول کا یہی معنی ہے کلام عرب میں یہ اسی معنی کے ساتھ معروف ہے۔ نابغہ بن جعدہ نے کہا : وہ تلوں کے تیل کے چراغ کی روشنی کی روشنی دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں دھواں نہیں بنایا۔ اصمعی نے کہا : میں نے ایک بدو کو کہتے ہوئے سنا سلیط شام میں تلوں کے تیل کو کہتے ہیں اس میں دھواں نہیں ہوتا۔ مقاتل نے کہا : یہ پگھلے ہوئے تانبے کے پانچ دریا ہوں گے جو عرش کے نیچے سے جہنمیوں کے سروں پر بہہ رہے ہوں گے تین دریا رات کے برابر اور دو دریا دن کے برابر ہوں گے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : نحاس سے مراد سفید تانبا ہے۔ ضحاک نے کہا : ابالے گئے تیل کی تلچھٹ ہے۔ کسائی نے کہا : مراد ایسی آگ ہے جس پر سخت ہوا چل رہی ہوگی۔ یعنی وہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے مراد جن و انس ہیں۔
Ayahs 55:37–38

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فاذا انشقت السماء۔۔۔۔۔۔ قیامت کے روز جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الدھان سے مراد تیل ہے ‘ یہ مجاہد ‘ ضحاک اور دوسرے علماء سے مروی ہے معنی ہوگا وہ صاف تیل کی طرح ہوجائے گا۔ اس تعبیر کی بنا پر دھان ‘ دھن کی جمع ہوگا۔ سعید بن جبیر اور قتادہ نے کہا : معنی ہے وہ سرخ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ گلاب کی طرح سرخ اور تیل کی طرح جاری ہوگا ‘ یعنی پھٹنے کے ساتھ پگھل جائے گا یہاں تک کہ جہنم کی آگ کی گرمی سے سرخ ہوجائے گا اور اپنی نری اور پگھلنے کی وجہ سے تیل کی طرح ہوجائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے : الدھان سے مراد سرخ جلد ہے (1) ابو عبید اور فراء نے یہ ذکر کیا ہے یعنی آسمان آگ کی گری کی شدت کی وجہ سے چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ سرخ گھوڑے کی طرح ہوجائے گا۔ کمیت گھوڑے کو ورد کہتے ہیں جب وہ مختلف رنگ اختیار کرے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : فرس ورد موسم بہار میں کمیت اصفر (زرد) ہوتا ہے (2) موسم سرما کے آغاز میں کمیت احمر (سرخ) ہوتا ہے جب موسم سرما سخت ہوجائے تو وہ کمیت اغبر (منیالا) ہوتا ہے۔ فراء نے کہا : فرس ورد یہ کا ارادہ کیا۔ یہ گھوڑا موسم بہار میں زردی مائل سرخ ہوتا ہے جب سردی سخت ہوتی ہے تو گلابی سرخ ہوتا ہے اور جب اس کے بعد کا موسم ہوتا ہے تو وہ مٹیالا گلابی ہوتا ہے۔ آسمان کے مختلف رنگوں کے اپنانے کو گلابی گھوڑے کو رنگ بدلنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کالدھان کا معنی ہے وہ تیل انڈیلنے کی طرح ہوگا کیونکہ جب تو اسے انڈیلتا ہے تو تو اس میں مختلف رنگ دیکھتا ہے۔ زید بن اسلم نے کہا : معنی ہے وہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ گزرے گا اور آئے گا۔ زجاج نے کہا : وائ ‘ راء اور دال یعنی ورد کا اصل معنی آنا ہے یہ اس کے قریب ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ وردہ گھوڑے کے رنگ بدلتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : آج وہ سبز ہے عنقریب اس کا رنگ سرخ ہوگا۔ یہ ثقلبی نے حکایت بیان کی ہے۔ ماوردی نے کہا : متقدمین نے گمان کیا ہے آسمان کا اصل رنگ سرخ ہے زیادہ رکاوٹوں اور مسافت کی دوری کی وجہ سے اس کا رنگ نیلا دکھائی دیتا ہے۔ (3) لوگوں نے اسے بدن کی رگوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے یہ خون کی سرخی کی طرح سرخ ہوتی ہیں رکاوٹ کی وجہ سے نیلی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو آسمان قیامت کے روز دیکھنے والوں کے قریب ہونے اور رکاوٹوں کے اٹھ جانے کی وجہ سے سرخ دکھائی دے گا کیونکہ یہی اس کا اصل رنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 55:39–40

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے۔ (القصص) قیامت کے کئی مقامات ہیں کیونکہ وہ دن لمبا ہوگا بعض مقامت پر اس سے سوال کیا جائے گا اور بعض مواقع پر سوال نہیں کیا جائے گا یہ عکرمہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے جب وہ جہنم میں قرار پذیر ہوجائیں گے تو ان سے سوال نہیں کیا جائے گا۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : ان سے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے گناہوں کو ان پر محفوظ کر رکھا ہے اور فرشتوں نے انہیں لکھ رکھا ہے عوفی نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور حضرت حسن بصری اور مجاہد سے بھی یہ نقل کیا ہے (1) معنی ہے فرشتے ان کے بارے میں نہیں پوچھیں گے کیونکہ وہ انہیں ان کے چہروں سے پہچانتے ہیں اس کی دلیل مابعد کلام ہے یہ قول مجاہد کے ذریعہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ان سے اس آیت (الحجر) اس آیت کی تفسیر میں بھی مروی ہے وہ ان سے نہیں پوچھے گا تاکہ انہیں پہچانے کیونکہ وہ ان کے بارے میں ان کی بنسبت زیادہ جانتا ہے بلکہ وہ ان سے سوال کرے گا : تم نے یہ عمل کیوں کیا ؟ یہ سوال شرمندہ کرنے کے لئے ہوگا۔ ابو العالیہ نے کہا : غیر مجرم سے مجرم کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ قتادہ نے کہا : پہلے سوال ہوگا پھر لوگوں کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضاء ان کے اوپر گواہ کے طور پر کلام کریں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بندے سے ملاقات کرے گا اور فرمائے گا۔ اے فلاں ! کیا میں نے تجھے معزز نہیں بنایا ‘ تجھے سردار نہیں بنایا ‘ میں نے تیری شادی نہیں کی ‘ میں نے تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے اور میں نے تجھے نہیں چھوڑا کہ تو سردار بنے اور اپنی قوم سے چھوتا حصہ وصول کرے بندہ عرض کرے گا : کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو گمان رکھتا تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرنے والا ہے ؟ وہ عرض کرے گا : نہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : تو میں تجھ کو بھلاتا ہوں جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا ہے۔ پھر دوسرے سے ملاقات کرے گا تو اللہ اسے اس کی مثل ارشاد فرمائے گا ‘ پھر تیسرے سے ملاقات کرے گا تو اسے اسی طرح ارشاد فرمائے گا۔ وہ عرض کرے گا : اسے میرے رب ! میں تجھ پر ‘ تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا میں نے نمازیں پڑھیں ‘ میں نے روزے رکھے ‘ میں نے صدقہ کیا اور جس قدر وہ طاقت رکھے گا اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے گا۔ وہ کہے گا : ماہنا اذا پھر اسے کہا جائے گا : اب ہم اپنا گواہ تجھ پر بھیجتے ہیں۔ وہ دل میں سوچے گا وہ کون ہے جو مجھ پر گواہی دے گا ؟ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔ اس کی ران ‘ اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں کو کہا جائے گا : تو بول : تو اس کی ران ‘ اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے بارے میں بولیں گی۔ یہ اس لئے ہوگا کہ وہ جان لے کہ وہ خود گناہوں کی وجہ سے اس کا مستحق بنا ہے وہی منافق ہے یہ وہی شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہے “ (2) یہ حدیث حم السجدہ وغیرہ میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 55:41–45

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یعرف المجرمون بسیماھم۔ حضرت حسن بصری نے کہا : چہرے کی سیاہی اور آنکھوں کی زردی (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (طہٰ ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آل عمران :106) یعنی فرشتے ان کی پیشانیوں کو پکڑ لیں گے یعنی ان کے سروں کے اگلے حصہ کے بالوں اور ان کے قدموں سے پکڑ لیں گے اور انہیں جہنم میں پھینک دیں گے۔ نواصی ناصیہ کی جمع ہے۔ ضحاک نے کہا : اس کی پیشانی اور اس کے قدموں کو اس کی پشت کے پیچھے ایک زنجیر میں جمع کردیا جائے گا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : آدمی کی دونوں ٹانگوں کو پکڑا جائے گا اور ان دونوں اور اس کی پیشانی کو جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے گی ‘ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ معاملہ اس کے ساتھ اس لئے کیا جائے گا تاکہ وہ اس کے عذاب کے لئے شدید ہو اور اس کے بھوننے میں زیادہ کردار کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرشتے انہیں منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے کبھی اس کی پیشانی پکڑیں گے اور اسے منہ کے بل گھسیٹیں گے اور کبھی انکے قدم پکڑیں گے اور اسے سر کے بل گھسیٹیں گے۔ انہیں کہا جائے گا : یہ وہ آگ ہے جس کے بارے میں تمہیں خبر دی گئی اور تم نے اس کو جھٹلایا۔ قتادہ نے کہا : وہ گردش کر رہے ہوں گے کبھی حمیم اور کبھی حجیم کے درمیان۔ جحیم کا معنی آگ ہے اور حمیم کا معنی شراب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : آن میں تین توجیہیں ہیں (1) جس کی گرمائش انتہا کو پہنچی ہوئی ہو یہ حضرت ابن عباس سعید بن جبیر اور سدی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : ان سے مراد ہے اسے پکایا گیا ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ وہ ارشاد فرماتا ہے جب وہ آگ سے پناہ طلب کریں گے تو ان کی مدد اس سے کی جائے گی۔ کعب نے کہا : ان جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جس میں جہنمیوں کی پیپ جمع ہوجائے گی وہ اپنے طوقوں کے ساتھ اس میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ ان کے جوڑا الگ الگ ہو جائین گے پھر وہ اس سے نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جدید صورت بنائی ہوگی تو انہیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی معنی ہے۔ کعب سے یہ بھی مروی ہے۔ وہ حاضر ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کے پینے کا وقت آگیا ہے اور وہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ (2) قیادت کی ہولناکی اور مجرمین کے عتاب کے ذکر میں جو نعمت ہے وہ یہ ہے کہ اس میں معاصی سے جھڑک اور طاعات میں ترغیب ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ رات کے وقت آپ ایک نوجوان کے پاس آئے جو پڑھ رہا تھا۔ نوجوان اسی پر رک گیا اور آنسوئوں نے اس کا گلا گھونٹ دیا وہ کہنے لگا : میرا اس دن پر افسوس ہے جس میں آسمان پھٹ جائے گا میرا افسوس ! نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے نوجوان ! تجھے پر اس کی مثل افسوس۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! آسمان کے فرشتے بھی تیرے رونے سے رو پڑے۔
Ayahs 55:46–47

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اسکے لئے دو باغ ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ولمن خاف مقام ربہ جنتان۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: جب جہنمیوں کے احوال کا ذکر کیا تو نیکو کاروں کے لئے جو تیار کیا اس کا بھی ذکر کیا معنی ہے وہ اپنے رب کے حضور حساب کے لئے کھڑا ہونے سے ڈرا تو اس نے معصیت کو ترک کیا۔ مقام مصدر ہے قیام کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے رب کے اپنیاوپر کھڑا ہونے سے ڈرا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جھانگ رہا ہے اور اس پر مطلع ہے اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ مجاہد اور ابراہیم نخعی نے کہا : اس سے مراد وہ آدمی ہے جو معصیت کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کی پکڑ کے خوف سے معصیت کو ترک کردیتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: یہ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ جس نے اپنی بیوی سے کہا : اگر میں جنتی نہیں تو تجھے طلاق۔ کہ وہ حانث نہیں ہوگا اگر اس نے معصیت کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے اور اس کا حیاء کرتے ہوئے اس کو ترک کر دے : یہی قول سفیان ثوری کا ہے اور اس پر فتوی دیا۔ محمد بن علی ترمذی نے کہا : ایک جنت اپنے رب سے خوف کی وجہ سے ہے اور ایک جنت اپنی شہوت کو ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جو فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنے رب سے ڈرا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مقام سے مراد موضع ہے یعنی وہ اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونے کی جگہ سے ڈرے جس طرح بات پہلے گزر چکی ہے۔ (2) یہ بھی جائز ہے کہ مقام بندے کے لئے ہو پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف کردیا جائے یہ اس طرح ہے جس طرح بات پہلے گزر چکی ہے (2) یہ بھی جائز ہے کہ مقام بندے کے لئے ہو پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف کردیا جائے یہ اس طرح ہے جس طرح اس ارشاد میں اجل کا لفظ ہے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا : یعنی جو ڈرا اس کے لئے علیحدہ دو جنتیں ہیں پس ہر ڈرنے والے کے لئے دو جنتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے دو جنتیں تمام ڈرنے والوں کے لئے ہیں۔ پہلا قول زیادہ نمایاں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : جنتان سے مراد جنت کے عوض میں دو باغ ہیں ہر باغ سو سال کی مسافت جتنا ہے ہر باغ کے وسط میں نور کا ایک گھر ہے اس گھر میں سے ہر ایک چیز تروتازگی کے عالم میں جھوم رہی ہے اس کا قرار ثابت ہے اور اس کے درخت ثابت ہیں۔ اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے اور ثعلبی نے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دو جنتوں سے مراد ہے ایک جنت تو وہ ہے جو اس کے لئے پیدا کی گئی اور ایک جنت وہ ہے جس کا وہ وارث بنا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک جنت اس کی منزل ہوگی اور دوسری اس کی بیویوں کی منزل ہوگی جس طرح دنیا کے روسا کا معمول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دو جنتوں میں سے ایک اس کا مسکن اور دوسرا اس کا باغ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے دو جنتوں میں سے ایک اس کے نچلے محل اور دوسری اس کے بالائی محلات ہیں۔ مقاتل نے کہا : وہ دونوں جنت عدن اور جنت نعیم ہوگی۔ فراء نے کہا : یہ ایک جنت ہے آیات کے سروں کی وجہ سے اسے تثنیہ ذکر کیا۔ قتبی نے اس کا انکار کیا اور کہا : یہ کہنا جائز نہیں کہ آیات کے سروں کی رعایت سے جہنم کے داروغے بیس ہیں فرمایا : وہ انیس ہیں نیز یہ فرمایا : ابوجعفر نحاس نے کہا : فراء نے کہا بعض اوقات جنت ایک ہوتی ہے اور شعر میں اسے تثنیہ ذکر کیا جاتا ہے یہ قول اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں بڑا غلط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ جنتان اور اس ارشاد کے ساتھ اس کی صفت بیان کرتا ہے فیھا یہ فول کرنے والا ظاہر کو چھوڑتا ہے اور کہتا ہے : یہ جائز ہے ایک جنت ہو اور شعر سے استدلال کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جنتیں دو ہیں تاکہ ایک ہت سے دوسری جہت کی طرف منتقل ہونے کے ساتھ اس کے مرور میں اضافہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت خصوصی طور پر حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں نازل ہوئی جب ایک روز جنت کا ذکر کیا حین ارلفت اور آگ کا ذکر کیا حین برزت ‘ یہ عطا اور ابن شوذب کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : ایک روز آپ نے پیاس کی حالت میں دودھ پیا تو وہ اچھا لگا آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو بتایا گیا کہ وہ حلال نہ تھا تو آپ نے قے کردی جب کہ رسول اللہ ﷺ آپ کو دیکھ رہے تھے فرمایا : اللہ تعالیٰ رجھ پر رحم فرمائے تیرے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے اور اس آیت کو آپ پر تلاوت کیا۔
Ayahs 55:48–49

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ذواتا افنان۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہا : وہ پھل کی مختلف اقسام والے ہوں گے۔ افنان کا واحد فن ہے۔ مجاہد نے کہا : افنان سے مراد ٹہنیاں ہیں اس کا واحد فنن ہے ! نابغہ نے کہا : اس کبوتر کا رونا جو بچے کو بلا رہی ہے جو دکھی ہے شاخوں پر نغمے گا رہی ہے۔ محل استدلال لفظ فنن ہے۔ ایک اور شاعر دو پرندوں کی صفت بیان کرتا ہے : دونوں پرندوں نے بان درخت کی ٹہنیوں کی چوٹیوں پر رات گزاری۔ اور ایک شاعر نے کہا : کبوتری ٹہنیوں پر بیٹھ کر کبوتر کو بلا رہی ہے۔ فنن کی جمع افنان اور اس کی جم افانین ہے ایک آدمی چکی کی صفت بیان کرتا ہے : اس کی ایسی لگام ہے جو درخت کی شاخوں سے ہے۔ ایسا درخت جو شاخوں والا ہے فنوا بھی خلاف قیاس ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے۔ جنتی بےریش ‘ آنکھوں میں سرمہ لگائے اور ان کے سروں پر بالوں کا گچھا ہوگا۔ حدیث میں مراد اولوفنن ہے۔ یہ افنان کی جمع ہے افنان فنن کی جمع ہے اس سے مراد بالوں کا گچھا ہے اسے ٹہنی کے ساتھ تشبیہ دی ہے ‘ اسے ہر وی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ دو دوسروں کی بنسبت زیادہ فضیلت والے ہوں گے یہ قتادہ کا قول ہے مجاہد اور عکرمہ سے یہ اسی طرح مروی ہے کہ افنان سے مراد دیواروں پر شاخوں کا سایہ ہے۔
Ayahs 55:50–51

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان میں دوچشمے بہہ رہے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یعنی ان دونوں باغوں میں جاری چشمے ہوں گے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جنتیوں پر زیادتی اور کرامت کے ساتھ پانی جاری کئے ہوں گے حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری سے یہ قول مروی ہے : وہ میٹھا پانی جاری کئے ہوں گے دونوں چشموں میں سے ایک تسنیم اور دوسرا سلسبیل ہوگا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے۔ دو چشمے ہوں گے جس طرح دنیا میں ہوتے ہیں ان کا پانی کئی گنا زیادہ ہوگا ان کے سنگریزے سرخ یا قوت اور سبز زبر جد کے ہوں گے ‘ ان کی مٹی کو فور کی ہوگی ‘ ان کا کیچڑ خوشبودار کستوری کا ہوگا ‘ اس کے کنارے زعفران کے ہوں گے۔ عطیہ نے کہا : ان میں سے ایک ایسے پانی کا ہوگا جو بدبودار نہیں ہوگا اور دوسرا شراب کا ہوگا جو پینے والوں کے لئے لذت کا باعث ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ دونوں چشمے کستوری کے پہاڑ سے نکلیں گے ابوبکر وراق نے کہا : دونوں جنتوں میں دو چشمے ہوں گے جو دونوں ان کے لئے جاری ہوں گے جن کی دونوں آنکھیں اللہ تعالیٰ کے خوف سے جاری رہتی تھیں۔
Ayahs 55:52–55

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

(اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استر اطلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

زوجن کا معنی ہے دو قسم کے، دونوں میٹھے ہوں گے جن سے لذت حاصل کی جائے گی حضرت ابن عباس نے کہا : دنیا میں کوئی میٹھا یا کڑوا درخت نہیں ہوگا مگر وہ جنت میں میٹھا ہوگا یہاں تک کہ تنبہ بھی میٹھا ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دو قسم کے پھل تر اور خشک ہوں گے فضلیت اور خوشبو میں یہ دوسرے سے کم درجہ کا نہیں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارادہ کیا گیا ہے کہ یہ دو جنتیں ان دو جنتوں سے فضلیت والی ہیں جو ان سے مرتبہ میں کم ہیں کیونکہ یہاں کا ذکر کیا جو پانی بہار رہے ہوں گے۔ نضح کی صورت میں جری کی بنسبت پانی کم نکلتا ہے گویا فرمایا : ان دونوں جنتوں میں ہر پھل کی ایک قسم ہے اور اس جنت میں ہر پھل کی دو قسمیں ہیں۔ حال ہونے کی حیثیت سے منسوب ہے۔ یہ فراش کی جمع ہے۔ ابو حیوہ نے فرش راء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ بطانہ کی جمع ہے اس کا معنی نچلے والا حصہ ہے۔ استبرق سے مراد موٹا اور کھردرا ریشم ہے۔ جب اس کا نیچے والا حصہ جو زمین کے ساتھ لگا ہوتا ہے وہ اس طرح ہے تو اس کے اوپر والے حصہ کا کیا عالم ہوگا : یہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوہریرہ ؓ کا نقطہ نظر ہے۔ سعید بن جبیر سے پوچھا گیا : جب اس کے نیچے والا حصہ موٹے ریشم کا ہے تو اس کے اوپر والا حصہ کیسا ہوگا ؟ فرمایا : یہی تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (السجدۃ 17) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تمہارے لئے اس کے نچھلے حصہ کو بیان کیا تاکہ تمہارے دل اس کی طرف مائل ہوں جہاں تک اس کے ظواہر کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا حدیث طیبہ میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” ان کا ظاہر ایسا نور ہوگا جو چمک رہا ہوگا “ (1) حضرت حسن بصری سے مروی ہے : اس کا نیچے والا حصہ استبرق کا ہوگا اور اس کا ظاہر جامد نور کا ہوگا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے : بطائن ہی اس کا ظاہر ہے۔ یہ فراء کا قول ہے : قتادہ سے مروی ہے : عرب ظہر کو بطن کہتے ہیں وہ کہتے ہیں جسے ہم دیکھتے ہیں کیونکہ وہ ظاہر ہے ابن قتیتبہ وغیرہ نے اس کا انکار کیا ہے انہوں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا مگر دو متساوی چہروں میں جائز ہے جب ان میں سے ہر ایک قوم کی طرف پشت کرے جس طرح ایک دیوار تیرے اور ایک قوم کے درمیان حائل ہو اسی طرح آسمان کا معاملہ ہے : جنی اسے کہتے ہیں جو درخت سے کاٹا جاتا ہے یہ لفظ بولا جاتا ہے یہ فعیل کا وزن ہے جب اسے کاٹا جائے۔ شاعر نے کہا : یہ میرا چنا ہوا پھل ہے اور اس کا بہترین اس میں ہے۔ اسے جنی بھی پڑھا گیا ہے دان اس کا معنی قریب ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : درخت قریب ہوگا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا ولی اسے چن لے گا چاہے کھڑا ہوا ہو، چاہے بیٹھا ہوا ہو، چاہے لیٹا ہوا ہو کوئی دوری اور کوئی کانٹا اس کے ہاتھ کو واپس نہیں کرے گا۔
Ayahs 55:56–57

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ھن ضمیر سے مراد دو مذکور باغات ہیں۔ زجاج نے کہا : فرمایا : نہیں کہا کیونکہ دونوں جنتیں اور جو نعمتیں ان کے لئے تیار کی گئی ہیں وہ مراد ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ھن ضمیر فرش کی طرف لوٹ رہی ہے جس کے بطائن استبرق کے ہیں یعنی ان فرش میں اطرف ہوں گی یعنی ایسی عورتیں ہوں گی جو نظریں جھکائے ہوئے ہوں گی جنہوں نے اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھا ہوگا وہ کسی اور کو نہ دیکھیں گی۔ سورة الصافات میں یہ بحث گزر چکی ہے طرف کو واحد ذکر کیا جبکہ یہ جمع کی طرف منسوب ہے کیونکہ یہ مصدر کے معنی میں ہے سے مشتق ہے پھر آنکھ کو یہ نام دیا تو واحد و جمع کو اس سے ادا کیا گیا جس طرح ان کا قول ہے : مسئلہ نمبر 2: ان خاوندوں سے پہلے کسی نے ان کے ساتھ جماع نہیں کیا۔ فراء نے کہا طمث سے مراد اختضاض ہے اختضاض سے مراد خود بہاتے ہوئے وطی کرنا ہے۔ طمشا کا معنی ہے جب وہ پہلی دفعہ وطی کرے اور اس کا پردہ بکارت زائل کرے “ اس معنی میں یہ قول کیا گیا ہے حائضہ عورت، فراء کے علاوہ دوسرے علماء نے اس مسئلہ میں مخالفت کی ہے وہ کہتا ہے : اس کا معنی ہے جس صورت میں بھی اس نے وطنی کی مگر فراء کا قول زیادہ مشہور اور معروف ہے کسائی نے کہا : میم کے ضمہ کے ساتھ (1) یہ جملہ بولا جاتا ہے طمشت جب حائضہ ہوئی اس میں ایک لغت ہے اس سے اسم فاعل آتا ہے فرزدق نے کہا : وہ میرے ہاں واقع ہوئیں مجھ سے قبل ان سے کسی نے جماع نہ کیا تھا وہ شتر مرغ کے انڈے سے زیادہ صحت مند تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں کسی نے نہیں چھوا تھا (3) ابو عمرو نے کہا : الطمشت سے مراد چھوٹا ہے۔ یہ ہر اس چیز میں بولا جاتا ہے جس کو چھوا جاتا ہے چراگاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل اس چرا گاہ کو کسی نے نہیں چھوا۔ اس اونٹنی کو کسی ڈھنگے نے مس نہیں کیا۔ مبرو نے کہا : ان سے قبل کسی انسان اور جن نے انہیں مسخر نہیں کیا (1) طمشت کا معنی مسخر کرنا اور کام لینا ہے حضرت حسن بصری نے کہا : جان ہمزہ کے ساتھ ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ جن انسانوں کی طرح جماع کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوگا جنت میں ان کے لئے جن عورتیں ہو نگی (2) ضمرہ نے کہا : ان میں سے دو مومنوں کے لئے حورعین میں سے بیویاں ہوں گی انسان عورتیں انسانوں کے لئے اور جن عورتیں جنوں کے لئے ہوں گی ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے جنت میں مومن جنوں کو جنات میں سے جو حورعین عطا فرمائے گا انہیں کسی جن نے نہیں چھوا ہوگا اور جنت میں انسانوں میں سے مومنوں کو انسیات میں سے جو حورعین عطا فرمائے گا اسے کسی انسان نے چھوا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن دنیا میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل سے عورتوں سے جماع نہیں کرتا، یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : سورة نمل میں یہ قول گزر چکا ہے اور الاسراء میں یہ قول گزر چکا ہے کہ یہ جائز ہے کہ وہ انسانوں میں سے عورتوں سے شادی کریں مجاہد نے کہا : جب کوئی جماع کرے اور بسم اللہ نہ پڑھے تو جن اس کے ذکر کے ساتھ لپٹ جاتا ہے اور اس کے ساتھ جماع کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کا یہی معنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حورعین کی صفت بیان کی ہے کہ ان سے پہلے ان سے کسی انسان اور کسی جن نے جماع نہیں کیا یہ تجھے آگاہ کرتا ہے کہ انسانوں میں سے عورتوں سے جن جماع کرتے ہیں اور حورعین اس عیب سے بری ہوتی ہیں اور پاک ہوتی ہیں کا معنی جماع ہے۔ ترمذی حکیم نے اسے مکمل ذکر کیا ہے، اسے مہدوی، ثعلبی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 55:58–61

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

کانھن الیاقوت والمرجان۔ امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : ” اہل جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت کی پنڈلی کی سفیدی ستر حلوں سے دکھائی دے گی۔ یہاں تک کہ اس کا گودا بھی دکھائی دے گا۔ “ (3) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ جہاں تک یاقوت کا تعلق ہے وہ پتھر ہے اگر تو اس میں دھاگہ ڈالے پھر اسے صاف کرے تو وہ تو تجھے اس لڑی کو دکھا دے گا اسے موقف روایت کیا گیا ہے عمرو بن میمون نے کہا : حورعین میں سے ایک عورت ستر حلے پہنے گی اس کی پنڈلی کا مغز انکے باہر دکھائی دے گا جس طرح سفید جام میں سرخ شراب دکھائی دتی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : وہ یاقوت جیسی شفاف اور مرجان جیسی سفید ہوں گی (1) ھل کلام میں چار صورتوں میں آتا ہے کبھی قد کے معنی میں ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الدھر 1) استفہام کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الاعراف 44) امر کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (المائدہ) نفی و انکار کے معنی میں آتا ہے (النحل 35) عکرمہ نے کہا : جس نے کہا جنت کے علاوہ اس کی کوئی جز انہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جس نے کہا اور حضرت محمد ﷺ جو پیغام لائے اس پر عمل کیا تو اس کی جزا جنت ہی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جس نے دنیا میں احسان کیا آخرت میں اس کی جزا یہ ہے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے : یہ ابن زید کا قول ہے (2) حضرت انس نے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پڑھا پھر فرمایا : ’ کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ “ صحابہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں : فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جس پر توحید کے ساتھ انعام کیا گیا اس کا بدلہ صرف جنت ہے “ حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کو پڑھا فرمایا :” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جس پر میں نے اپنی معرفت اور اپنی توحید کا انعام کیا اس کی جزا نہیں مگر یہ کہ میں اسے اپنی جنت اور اپنی رحمت کے ساتھ اپنی خاص بارگاہ میں رہائش دوں “ صادق نے کہا، جس پر میں نے ازل میں احسان کیا اس کی جزا نہیں مگر یہ کہ میں ابد میں اس پر احسان کو یاد رکھوں حضرت محمد بن حنیفہ اور حضرت حسن بصری نے کہا : یہ فاجر پر دنیا میں جاری کی گئی ہے اور نیک کے لئے آخرت میں جاری کی گئی ہے۔
Ayahs 55:62–65

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

دونوں خوب گہرے سبز

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ومن دونھما جنتان۔ یعنی ان کے لئے ان پہلی دو جنتوں کے علاوہ دو اور جنتیں بھی ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ان دونوں سے درجہ کم ہوں گی ابن زید نے کہا : فضلیت میں کم ہوں گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ تمام جنتی اس کے لئے ہیں جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا پہلی دو جنتوں میں کھجور کے اور دوسرے درخت ہوں گے اور دوسری دو میں کھیتیاں اور نباتات ہوں گی اور جو اسے نوش کریں گی ماوردی نے کہا : یہ بھی احتمال موجود ہے (1) سے مراد ایسی جنتیں ہیں جو ان کے پیرو کاروں کے لئے ہوں کیونکہ پیروکاروں کا مرتبہ اس سے کم ہوتا ہے ان میں سے ایک جنت (باغ) حورعین کے لئے اور دوسرا باغ ایسے بچوں کے لئے ہوگا جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے تاکہ مذکر مونثوں سے الگ رہیں۔ ابن جریج نے کہا : وہ باغ کل چار ہوں گے دو باغ سابقین مقربین کے لئے ہوں گے جن کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں ابن زید نے کہا : پہلے دونوں باغ سونے کے ہوں گے جو مقربین کے لئے ہوں گے اور دوسرے دو چاندی کے ہوں گے جو اصحاب یمین کے لئے ہوں گے (2) میں کہتا ہوں : حلیمی ابو عبداللہ حسن بن حسین اپنی کتاب منہاج الدین میں اسی طرف گئے ہیں اس نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان آیات کی تفسیر میں کہا ہے کہ وہ دونوں باغ مقربین کے لئے ہیں اور یہ دونوں اصحاب یمین کے لئے ہیں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے اس کی مثل مروی ہے “ جب اللہ تعالیٰ نے دونوں باغوں کی صفت بیان کی تو دونوں میں فرق کی طرف اشارہ کیا پہلے دو باغوں کے بارے میں فرمایا : اور دوسرے دو باغوں کے بارے میں فرمایا : یعنی دونوں فوارہ کی صوت میں جاری ہیں لیکن وہ جاری کی طرح نہیں کیونکہ نفح، جری سے کم ہے پہلے دو باغوں کے بارے میں فرمایا۔ اس کو عام ذکر خاص ذکر نہیں کیا دوسرے دو باغوں کے بارے میں فرمایا۔ اس میں من کل نہیں کا دو باغوں کے بارے میں کہا سے مراد ریشم ہے دوسرے دو باغوں کے بارے میں فرمایا عبقری سے مراد جس میں نقش و نگار ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ د یباج وشی سے اعلیٰ ، زفرف خیمہ کا ایک حصہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ فرش جو ٹیک لگانے کے لئے تیار کئے جاتے ہیں وہ خیمہ کے زائد حصہ سے افضل ہوتے ہیں پہلے دو باغوں میں حوروں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا : اور دوسرے دو باغوں کے بارے میں فرمایا : یہ حسن یاقوت و مرجان کے حسن جیسا نہیں ہوتا پہلے دو باغوں کے بارے میں فرمایا اور دوسرے دو باغوں کے بارے میں فرمایا یعنی دونوں سبز ہیں گویا وہ دونوں زیادہ سبز ہونے میں سیاہ ہیں پہلے دونوں باغوں کے بارے میں فرمایا : ان میں ٹہنیاں زیادہ ہوں گی اور دوسرے دو کے بارے میں صرف یہ فرمایا : وہ سبز ہیں اس تمام بحث میں وہ معنی محقق ہوجاتا ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے کہ یہ دو باغ ان دو باغوں سے درجہ کم ہوں گے ممکن ہے جس تفاوت کا ذکر نہیں کیا گیا جس طرح پہلے دو باغوں والوں کا ذکر کیا گیا ؟ تو اسے کہا جائے گا : چاروں باغ اس آدمی کے لئے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتا ہے مگر جو ڈرنے والے ہیں ان کے کئی مراتب ہیں پہلے دو باغ ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں میں بلند مرتبہ رجھتے ہیں اور دوسرے دو باغ ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے خوف کھانے میں ان میں سے کم مرتبہ ہیں۔ ضحاک کا مذہب یہ ہے کہ پہلے دو باغ سونے اور چاندی سے بنے ہیں اور دوسرے دو یاقوت اور زمرد کے ہیں وہ دونوں پہلوں سے افضل ہیں یعنی ان کے سامنے اس قول کی طرف ابو عبداللہ ترمذی حکیم نو اور الاصول میں کئے گئے ہیں کا معنی ہے عرش سے قریب اور ان دونوں باغوں کو پہلے دو باغوں پر فضلیت دی گئی ہے جس کا ذکر ہم بعد میں کریں گے مقاتل نے کہا : پہلے دو باغ جنت عدن اور جنت نعیم ہے اور دوسرے دو باغوں سے مراد جنت فردوس اور جنت ماوی ہے۔ دونوں سیراب ہونے کی وجہ سے سر سبز ہیں یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے مجاہدنے کہا : دونوں سیاہ ہیں (1) لغت میں دہمہ سے مراد سیاہ ہے (2) یہ جملہ بولا جاتا ہے یعنی اس میں آسمانی رنگ گہرا ہوگیا یہاں تک کہ اس میں سے وہ سفیدی بالکل ختم ہوگئی جو اس میں موجود تھی جب وہ اس سے بھی زیادہ ہوگیا یہاں تک کہ سیاسی سخت ہوگئی تو وہ جون ہوگئی گھوڑا سیاہ ہوگیا وہ سیاہ ہوگئی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وہ سبز رنگ شدت کی وجہ سے سیاہ ہوگئے عرب ہر سبز چیز کو اسود کہتے ہیں۔ عراق کے دیہاتی علاقوں کو سواد کہتے ہیں کیونکہ وہ بڑے سر سبز و شاداب ہوتے ہیں تاریک رات کو اخضر کہتے ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی جمعیت کو ہلا کردے۔
Ayahs 55:66–67

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فیہما عینن نضا ختن۔ پانی سے جوش مار رہے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : خاء کے ساتھ جو نضخ ہے اس میں حاء کے ساتھ جو نضح ہے سے جوش زیادہ ہوتا ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے وہ خیر و برکت سے جوش مار رہے ہوں گے یہی قول حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا : حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس اور حضرت انس ؓ سے یہ مروی ہے : وہ چشمے اولیاء پر ان کے جنت کے گھروں میں کستوری، عنبر اور کافور کا چھڑکاؤ کر رہے ہوں گے جس طرح بارش کا چھڑکاؤ ہوتا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : وہ مختلف قسم کے پھل اور پانی کا چھڑکاؤ کریں گے۔ ترمذی نے کہا : علماء نے کہا مختلف قسم کے پھل، مختلف قسم کی نعمتوں، مزین عورتوں، زین ڈالے گئے گھوڑوں اور رنگ دار کپڑوں کا چھڑکا ﷺ کر رہے ہوں گے۔ ترمذی نے کہا : یہ کلام اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ نضخ میں جری کی نسبت پانی کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلے چشمے پھوٹیں گے پھر رواں دواں ہوجائیں گے۔
Ayahs 55:68–69

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فیہما فاکہۃ و نخل و رمان اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ایک عالم نے کہا : نخل (کھجور) اور رمان (انار) فاکہہ میں سے نہیں کیونکہ کسی چیز کا عطف اس کی اپنی ذات پر نہیں ہوتا۔ چیز کا عطف اس کے غیر پر ہوتا ہے۔ یہ کلام کا ظاہر معنی ہے جمہور نے کہا : یہ دونوں فاکہہ کی قسم میں سے ہیں نخل اور رمان کا دوبارہ ذکر ان دونوں کی فضیلت کے لیے کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی (البقرہ :238) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : من کان عدوا للہ وملائکتہ ورسلہ وجبریل ومیکال (البقرہ :98) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان دونوں کو مکرر اس لیے ذکر کیا کیونکہ کھجور اور انار اس وقت میں ان کے نزدیک اس حیثیت میں تھے جس طرح اس دور میں ہمارے نزدیک گندم ہے کیونکہ کھجور ان کی عام خوراک تھی اور انار پھل کی حیثیت رکھتا تھا ان دونوں کی ضرورت کی بنا پر ان کو کثرت سے لگایا جاتا تھا ان کے نزدیک فواکہ مختلف پھلوں کو کہتے جن کو دیکھ کر وہ خوش ہوتے۔ پہلے فاکہہ کا ذکر کیا پھر نخل اور رمان کا ذکر کیا کیونکہ مدینہ طیبہ سے لے کر مکہ مکرمہ کے قریبی ممالک یعنی یمن کے علاقہ میں یہ کثرت سے ہوتے ان دونوں کو فواکہ سے نکال دیا اور فواکہ کا علیحدہ ذکر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں کو الگ ذکر کیا کیونکہ کھجور کا پھل فاکہۃ اور کھانا ہے اور رمان فاکہہ اور دوا ہے تفکہ کے لیے انہیں خالص نہیں کیا گیا : یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا نقطہ نظر ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ جب کسی نے قسم اٹھائی کہ وہ فاکہہ نہیں کھائے گا اس نے انار یا تر کھجور کھائی وہ حانث نہیں ہوگا۔ صاحبین اور لوگوں نے ان کی مخالفت کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جنت میں انار پالان ڈالے گئے اونٹ کی طرح ہوجائے گا۔ ابن مبارک نے کہا : سفیان، حماد سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جنت کی کھجوروں کے تنے سبز زمرد کے، شاخوں کے کاٹ دینے کے بعد ان کے تنے سرخ سونے کے، اس کی شاخیں جنتیوں کی چادریں ہوں گی انہیں سے ان کے چھوٹے کپڑے اور حلے ہوں گے ان کے پھل مٹکوں اور ڈولوں جیسے ہوں گے۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھے، مکھن سے زیادہ نرم ان میں کوئی گٹھلی نہ ہوگی۔ مسعودی نے عمرو بن مرہ سے وہ ابوعبید سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جنت کی کھجور جڑ سے لے کر شاخ تک پھل سے بھری ہوگی، اس کے پھل مٹکوں کی مثل ہوں گے جب کبھی اس کا پھل توڑا جائے گا اس کی جگہ دوسرا آجائے گا۔ اس کا پانی کھائی کے بغیر جاری ہوگا گچھا بارہ ہاتھ ہوگا۔
Ayahs 55:70–71

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فیھن خیرت حسان۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبرۃ خیرت سے مراد عورتیں ہیں۔ اس کی واحد خیرۃ ہے معنی ہے ذوات خیر خیر والیاں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لفظ خیرات ہے خیرات کے معنی میں ہے پھر اس میں تخفیف کی گئی جس طرح ھین اور لین ہے۔ ابن مبارک نے کہا، اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے وہ سعید بن عامر سے روایت نقل کرتے ہیں اگر خیرت حسان میں سے ایک خیرہ آسمان کے سامنے آئے تو ہر چیز کو روشن کر دے اور اس کے چہرے کی روشنی، سورج اور چاند پر غالب آجائے وہ اوڑھنی جو اس پہنائی جاتی ہے وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ حسان وہ شکل و صورت میں بہتر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حسان تو وہ کون ہوگا جو ان کے حسن کا اندازہ لگائے، زہری اورق اتدہ نے کہا، وہ اچھے اخلاق والی اور خوبصورت چہروں والی ہوں گی، یہی چیز حضرت ام سلمہ کی حدیث سے نیب کریم ﷺ سے مروی ہے (1) ابوصالح نے کہا، کیونکہ وہ کنواری اور باکرہ ہوں گی۔ قتادہ ابن سمیقع، ابو رجائ، عطاردی اور بکر بن حبیب سہمی نے خیرات شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : خیرات یہ خیر کی جمع ہے معنی ہے خیر والیاں (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے مختارات، ترمذی نے کہا، خیرات وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار کے ساتھ ان کی صورتوں کو حسین و جمیل بنایا۔ جب حسن کا خالق کسی شی کی حسن کے ساتھ تعریف کرے تو غور کر واں حسن کا کیا عالم ہوگا۔ پہلی دو جنتوں میں موجود حوروں کے بارے میں فرمای : قصرت الطرف، کا نھن الیاقوت و المرجان۔ تو غور کر خیرہ جو اللہ تعالیٰ کی چنی ہوئی ہے اور قاصرات الطرف میں کیا فرق ہو گاڈ حدیث طیبہ میں ہے : حور عین میں سے بعض بعض کے ہاتھ پکڑیں گی وہ ایسی آوازوں سے گائیں گی مخلوق نے ان سے اچھی آواز نہ سنی ہوگی اور نہ اس کی مثل آواز سنی ہوگی۔ ہم راضی ہیں ہم کبھی نارضا نہیں ہوتیں۔ ہم ہمیشہ مقیم رہیں گے ہم کبھی بھی کوچ نہ کریں گے ہم ہمیشہ زندہ رہیں گی ہم کبیھ بھی نہیں مریں گی۔ ہم ہمیشہ نرم اندام رہیں گی کبھی سخت رویہ اختیار نہ کریں گی۔ ہم خیرات و حسان میں اپنے خاوندوں کے ہاں محبوب ہیں۔ “ امام ترمذی نے حضرت علی سے اس کی ہم معنی روایت نقل کی ہے (3) حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا، حورعین جب یہ بات کریں گی تو دنیا میں ان کی مومن بیویاں انہیں جواب دیں گی : ہم نمازیں پڑھتی تھیں جب کہ تم نے نمازیں نہیں پڑھیں، ہم نے روزے رکھے اور تم نے روزے نہیں رکھے، ہم نے وضو کئے اور تم نے وضو نہ کئے، ہم نے صدقے کئے اور تم نے صدقے نہ کئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا : اللہ کی قسم دینا میں ان کی مومن بیویاں ان پر غالب آ اجئیں گی۔ مسئلہ نمبر 2 اس میں اختلاف ہے کہ حسن و جمال میں کون بڑھ کر ہوگا حوریں یا انسانوں کی نسل سے ان کی بیویاں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حوریں، کیونکہ قرآن و سنت میں ان کی صفت بیان کی گئی ہے کیونکہ حضور ﷺ نے میت پر جنازہپ ڑھتے ہوئے ایک دعا میں کہا، وابدلہ زوجا خیرا من زوجہ۔ اس کی بیوی سے بہتر اسے بیوی عطا فرما۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انسان کی نسل سے عوتریں حوروں سے ستر گنا زیادہ سحین ہوں گی۔ ایک مرفوع روایت اس بارے میں مروی ہے ابن مبارک نے یہ ذکر کیا ہے۔ رشدین، ابن نعم سے وہ حبان بن ابی جبلہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” نیا کی عورتوں میں سے جو جنت میں داخل ہوں گی وہ دنیا میں اعمال کرنے کی وجہ سے حورعین پر فضیلت ولای ہوں گی۔ “ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حورعین جن کا ذکر قرآن میں ہے وہ انبیاء اور ممونین کی مومن بیویاں ہیں جنہیں آخرت میں دوبارہ اس سے بھی زیادہ حسین صورت میں پیدا کیا جائے گا، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ مشہور یہ ہے کہ حورعین دین کی عورتیں نہیں ہیں انہیں جنت میں ہی پیدا کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لم یطمئھن انس قبلھم ولا جآن۔ جب ہ دنیا کی اکثر عوتریں ایسی ہیں جن کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کئے گے ہوں گے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جنت کے رہائشیوں میں سے بہت کم عورتیں ہوں گی۔ ‘ ان میں سے ہر ایک عورت کو نہیں پائے گا جب کہ حورعین کا وعدہ تمام کے لئے ہے اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ دنیا کی عورتوں کے علاوہ ہیں۔