54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 54:41

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ Open ayah 54:41 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے پاس بھی ڈر سنانے والے آئے

ولقد جآء ال فرعون النذر۔ آل فرعون سخے مراد قبطی ہیں۔ نذر سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہ اورن (علیہما السلام) ہیں۔ بعض اوقات جمع کا صیغہ دو افراد پرب ھی آت اعے۔ کذبوا با یتنا آیات سے مراد معجزات ہیں جو ہماری توحید اور ہمارے انبیاء کی نبوت دال ہیں وہ عصا، ید بیضا، قحط، آنکھوں کا بےنور ہونا، طوفان، ٹڈی دل، جویں، مینڈک اور خون ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : النذر سے مراد الرسل ہیں ان کے پاس حضرت یوسف علیہم السلام، ان کے بیٹے یہاں تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے۔ ایک قول یہ کی گیا ہے : نذر سے مراد نذار ہے۔
Ayah 54:42

كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ Open ayah 54:42 in the Quran reader

انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے

فاخذنھم اخذ عزیز، عزیز کا معنی ہے جو انتقام لینے میں غالب ہو۔ مقتدر۔ اس پر قادر ہو جس کا ارادہ رکے۔
Ayah 54:43

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ Open ayah 54:43 in the Quran reader

(اے اہل عرب ! ) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (پہلی) کتابوں میں کوئی فارغ خطی لکھ دی گئی ہے ؟

اکفارکم خیر من اولئکم عربوں سے خطاب کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد حضرت محمد ﷺ کیا مت کے کفار ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہمزہ استفہامیہ ہے اور استفہام انکار کے معنی میں ہے اس کا معنی نفی ہے مراد ہے تمہارے کفار ان کفار سے بہتر نہیں جو سابقہ امتوں میں تھے جنہیں ان کے کفر کے باعث ہلاک کیا گیا۔ ام لمک برآءۃ فی الزہر۔ یعنی کیا وہ کتابیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں ان میں یہ مذکور ہے کہ تمہیں عذاب سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، کیا لوح محفوظ میں تمہارے لئے عذاب سے برأت لکھی ہوئی ہے ؟
Ayahs 54:44–46

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ Open ayah 54:44 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی مضبوط ہے

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ Open ayah 54:45 in the Quran reader

عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ Open ayah 54:46 in the Quran reader

ان کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہے

ام یقولون نحن جمیع منتصر۔ یعنی ہم ایسی جماعت ہیں جن کی تعداد کی کثرت اور قوت کی وجہ سے اس پر غلبہ نہیں پایا جاسکتا۔ آیات کے سروں کی اتباع کرتے ہوئے منتصرین نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کیا اور فرمایا : سیھزم الجمع یعنی کفار مکہ کو شکست دی جائے گی۔ یہ غزوہ بدر اور دوسرے مواقع پر ہوا۔ عام قرأت سیھزم ہے یاء کے ساتھ مجہول کا صیغہ ہے اور الجمع نئاب فاعل ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ رویس نے یعقوب سے ستنھزم نون کے فتحہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ نقل کیا ہے اور الجمع کو منصوب پڑھا ہے۔ ویولون الدبر۔ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے ان کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ عیسیٰ ، ان اسحاق اور رویس نے یعقوب سے وتولنا تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے۔ الذبرا ہم جنس ہے جس طرح الدرھم اور الدینار ہے اسے واحد ذکر کیا مراد جمع ہے تاکہ آیتا کے سرے موافق رہیں۔ مقاتل نے کہا، ابوجہل نے بدر کے روز اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور وہ صف سے آگے نکلا اور کہا : آج ہم (حضرت) محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے بدلہ لیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت نحن جمیع منتصر۔ سیھزم الجمع ویولون الدبر۔ کو نازل کیا۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے کہا، جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد سیھزم الجمع ویولون الدبر۔ نازل ہوا تو میں نہیں جانتا تھا کہ کون سی جماعت شکستک ھائے گیج ب بدر کا ون تھا میں نے نبی کریم ﷺ ﷺ کو زرہ میں تیزی سے چلتے ہوئے دیکھا آپ کہہ رہے تھے : اے میرے اللہ ! بیشک قریش تیرے پاس فخر کرتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے آئے ہیں وہ تجھ سے دشمین رکھتے ہیں اور تیرے رسول سے دشمین رکھتے ہیں کل انہیں ہلاک کر دے پھر ان کلمتا کو اپنی زبان سے ادا کیا سیھزم الجمع ویولون الدبر۔ تو میں اس کا معنی سمجھ گیا۔ یہ نبی کریم ﷺ کے معجزات میں سے ہے کیونکہ حضور ﷺ نے غیب کے بارے میں خبر دی تو اسی طرح واقع ہوا جس طرح خبر دیا خنی علیہ الدھر اس پر آیا اور اسے ہلاک کردیا، اس معنی میں نابغہ کا قول ہے : اخنی علیہ الذی اخنی علی لبد اسے اسی نے ہلاک کیا جس نے لبد کو ہلاک کیا۔ اخنیت علیہ میں نے اس پر فاسد کیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس آیت کے نزول اور واقعہ بدر کے درمیان سات سال کا عرصہ حائل تھا اس تعبیر کی بنا پر آیت مکی ہے۔ بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین سے روایت مروی ہے کہا : نبی کریم ﷺ پر آیت بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر۔ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جب کہ میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔ (1) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کہا، جب کہ آپ ﷺ بدر کے روز قبہ میں موجود تھے، انشدک عھداک ووعدک اللھم ان شئت لم تعبد بعد الیوم ابدا (2) میں تھجے تیرے عہد اور وعدہ کا واسطہ دیتا ہوں اگر تو (مومنوں کی ہلاکت) چاہتا ہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ حضرت ابوبکر صدیقف نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا عرض کی : کافی ہے یا رسول اللہ ﷺ آپ نے اپنے رب سے اصرار کرلیا۔ آپ زرہ میں تھے آپ نکلے جب کہ آپ کہہ رہے تھے : سیھزم الجمع ویولون الدبر۔ بل الساعۃ موعدھم مراد یا مت ہے۔ والساعۃ ادھی وامر۔ جو انہیں بدر کے روز لاحق ہوا قیامت اس سے زیادہ سخت ہوگی۔ ادھی، داھیۃ سے مشتق ہے اس سیم راد عظیم امر ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : دھاہ امرکذا یعنی اسے مصیبت پہنچی۔ ابن کسیت نے کہا : دھتہ داھیۃ دھواء ودھیاء یہ اس کے لئے تاکید ہے۔
Ayahs 54:47–49

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ Open ayah 54:47 in the Quran reader

بیشک گناہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ Open ayah 54:48 in the Quran reader

اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے (اب) آگ کا مزہ چکھو

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ Open ayah 54:49 in the Quran reader

ہم نے ہر چیز اندازہ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے

ان المجرمین فی ضلل وسعر۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 فی ضلل یعنی حق سے دور اور سعر یعنی جلنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سعر سے مراد جنون ہے جس طرح اس سورت میں پہلے گزرا ہے۔ یوم یسحبون فی النار علی وجوھم ذوقوامس سقر۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے قریش کے مشرک آئے وہ رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ اسے امام ترمذی نے بھی نقل کیا ہے اور کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام مسلم نے طائوس سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگوں کو یہ کہتے ہئوے پایا، وہ کہہ رہے تھے ،: کل شی بقدر (1) ہر شی تقدیر کے مطابق ہے میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل شیء قدر حتی المعجزوالکیس او الکیس والعجز (2) ہر شی تقدیر کے مطابق ہے یہاں تکہ ضعف اور دانش۔ اس میں قدریہ کے مذہب کا بطلان ہے۔ ذوقوا یہ مقولہ ہے یعنی انہیں کہا جائے گا : چکھو اس کے مس سے مراد ہے جو اس کے واقع ہونے کے وقت وہ دکھ محسوس کریں گے۔ سقر جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جو منصرف نہیں کیونکہ یہ ایسا اسم ہے جو مئونث اور معرفہ ہے اسی طرح لظی اور جہنم ہے۔ عطا نے کہا : سقر جہنم کا چھٹا درجہ ہے۔ قطرب نے کہا، سقر یہ سقرتہ الشمس سے ماخوذ ہے صقرتہ اسے سیاہ کردیا۔ یوم مسقرد مصقر سخت گرم۔ مسئلہ نمبر 2۔ انا کل شیء عام قرأت میں کل نصب کے ساتھ ہے ابو سمال نے کل رفع کے ساتھ پڑھا ہے یہ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے جس نے اسے نصب دی ہے تو نصب فعل کے مضمر ہونے کی بناء پر ہے، یہ کو فیوں کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ ان فعل کو طلب کرتا ہے تو اس وجہ سے یہ صورت الوی ہے نصب اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں عموم پر دال ہے کیونکہ اگر خلقنہ جو محذوف فعل کا مفسر بن رہا ہے اس کو تو حذف کرتا اور پہلے فعل خلقنا کو ظاہر کرتا تو کلام یوں ہوتی انا خلقنا کل شیء بقدر تو خلقناہ کو شیء کی صفت بنانا صحیح نہ ہوتا کیونکہ صفت ایسی چیز میں عمل نہیں کرتی جو مصو وف سے پہلے ہو اور جو ماقبل میں عامل ہو اس کی تفسیر نہ ہوتی۔ مسئلہ نمبر 3۔ جس نقطہ نظر پر اہل سنت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اشیاء کو مقدر کیا مراد ہے اس کی مقداروں، احوال اور ازمان کو ان کے ایجاد کرنے سے پہلے جانتا ہے پھر ان میں سے ان چیزوں کو ایجاد کیا کہ وہ اسے اس طریقہ پر ایجاد کرے گا جو اس کے علم میں پہلے سے موجود تھا عالم بالا اور عالم سفلی پر کوئی امر وقوع پذیر نہیں ہوتا مگر وہ اللہ تعالیٰ کے علم، اس کی قدرت اور اس کے ارادہ سے واقع ہوتا ہے مخلوق اس میں موثر حقیقی نہیں مخلوقات اس میں صرف کسب، کاوش، نسبت اور اضافت ہوا کرتی ہے۔ یہ سب چیزیں انسان کو اس لئے حاصل ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جابن سے آسانی پیدا کرنے، اس کی قدرت، اس کی توفیق اور الہام کی وجہ سے حاصل ہوا۔ وہ پاک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی خالق ہے جس طرح قرآن و سنت کی نصوص اس بارے میں وارد ہیں بات اس طرح نہیں جس طرح قدر یہ اور دوسرے علماء نے کہا کہ اعمال ہمارے قبضہ میں ہیں اور آجال کسی اور کے قبضہ میں ہیں۔ حضرت ابوذر نے کہا، نجران کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے عرض کی : اعمال ہماری قدرت میں ہیں اور موتیں کسی اور کے قبضہ میں ہیں، تو یہ ایٓات خلقنہ بقدر تک نازل ہوئیں۔ انہوں نے کہا، اے محمد ! ﷺ وہ ہمارے خلاف ہمارے گناہ لکھتا ہے اور ہمیں عذاب دے گاڈ فرمایا :” تم قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرنے والے ہو گے۔ “ مسئلہ نمبر 4۔ ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس امت کے مجوسی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی تیماری داری نہ کرو، اگر وہ مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ میں حاضر نہ ہو، وہ تمہیں ملیں تو انہیں سلام نہ کرو۔ “ ابن ماجہ نے اسے سنن میں نقل کیا ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے دونوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میری امت میں سے دو قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں وہ مرجئہ اور قدریہ ہیں۔ “ نحاس نے سند بیانا کی ہے ابراہیم بن شریک کوفی، عقبہ بن مکرم ضبی سے وہ یونس بن بکیر سے وہ سعید بن میسرہ سے وہ حضتر انس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ قدریہ جو یہ کہتے ہیں کہ خیر و شر ہمارے ہاتھوں میں ہے میری شفاعت میں ان کا کوئی حصہ نہیں نہ میں ان میں سے ہوں اور نہ وہ مجھ سے ہیں۔ “ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عمر نے ان سے برأت کا اظہار کیا اور برأت کا اظہار کافر سے ہی کیا جاسکتا ہے پھر اس قول کے ساتھ اسے موکد کیا حضرت عبداللہ بن عمر اس کے ساتھ قسم اٹھاتے اگر ان میں سے کسی کا احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے خرچ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے صدقہ قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ وہ تقدیر پر ایمان لائے یہ ایسے ہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا منافقین کے بارے میں ارشاد ہے : وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفروا باللہ و بر سولہ (التوبہ : 54) یہ واضح ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے ہا نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” تقدیر پر ایمان غم اور حزن کو دور کردیتا ہے۔ “
Ayah 54:50

وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ Open ayah 54:50 in the Quran reader

اور ہمارا حکم تو آنکھ کے جھپکنے کی طرح ایک بات ہوتی ہے

وما امرنا الا واحدۃ یعنی ہمارا امر ایک ہی دفعہ ہوتا ہے کلمح بالبصر۔ یعنی میرا فیصلہ میری مخلوق میں آکھ جھپکنے سے بھی تیز ہوتا ہے۔ لمح کا معین تیزی سے دیکھنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے لمح البرق ببصرہ بجلی آنکھ جھپکنے برابر چمکی۔ صحاح میں ہے : لمحہ، المحہ جب اسے ہلکی نظر سے دیکھا۔ اسم لمحہ ہے لمح البرق و النجم لمحا یعنی بجلی چمکی۔
Ayahs 54:51–53

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:51 in the Quran reader

اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ Open ayah 54:52 in the Quran reader

اور جو کچھ انہوں نے کیا (انکے) اعمال ناموں میں (مندرج) ہے

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ Open ayah 54:53 in the Quran reader

(یعنی) ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے

ولقد اھلکنا اشیاعکم یعنی ہم نے سابقہ امتوں میں سے ایسے لوگوں کو قتل کیا جو کفر میں تمہارے مشابہ تھے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تمہارے پیرو کاروں اور تمہارے مددگاروں۔ فھل من مد کر۔ ہے کوئی ایسا جو نصیحت حاصل کرے۔ وکل شی فعلوہ فی الزبر۔ یعنی ان سے قبل امتوں نے بھلائی یا برائی میں سے جو بھی اعمال کئے وہ لھ کے ہوتے ہیں یہ انا کلی شیء خلقنہ بقدر۔ کا بیان ہے۔ فی الزبر۔ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کراما کاتبین کی کتابیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے وکل صغیر و کبیر مستطر۔ یعنی ہر گناہ جو چھوٹا ہو یا بڑا ہو وہ عامل کے حق میں لکھا ہوتا ہے قبل اس کے کہ وہ اس کو کرے تاکہ اسے جزا دی جائے اور جب وہ اس پر عمل کرتا ہے اس وقت اسے لکھا جاتا ہے۔ سطر یسطر سطر کا معنی لکھنا ہے، استطر بھی اس کی مثل ہے۔
Ayahs 54:54–55

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ Open ayah 54:54 in the Quran reader

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے

فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ Open ayah 54:55 in the Quran reader

(یعنی) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں

ان المتقین فی جنت ونھر۔ جب کفار کی صفت بیان کی تو مومنین کی بھی صفت بیان کی ونھر یعنی پانی، شراب، شہد اور دودھ کی نہریں (1) یہ ابن جریج کا قول ہے۔ اسے واحد ذکر کیا کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے، پھر واحد کا صیغہ کبھی تمام کی خبر دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نھر یعنی وہ روشنی اور وسعت میں ہے۔ اس سے نہار کا لفظ ہے کیونکہ وہ روشن ہوتا ہے اس معنی میں انھرت الجرح میں نے زخم کو کھلا کیا : شاعر نے کہا : ملکت بھا کفی فانھرت فتقھا (1) اس کے ساتھ میں نے اپنی ہتھیلی کو قوی کیا اور اس کے سوراخ کو کھلا کیا۔ ابو مجلز، ابونہیک، اعرج، طلحہ بن مصرف اور قتادہ نے ونھر پڑھا گویا یہ نھار کی جمع ہے ان پر رات نہیں آئے گی، جس طرح سحاب اور سحب ہے۔ فراء نے کہا، ایک عرب نے مجھے یہ شعر سنایا : ان تک لیلیا فانی نھر متی اری الصبح فلا انتظر اگر تو رات والا ہے تو میں دن والا ہوں۔ میں کب صبح دیکھوں گا پس میں اتنظار نہیں کرتا۔ ایک اور نے کہا : لولا الترید ان ھلکنا بالضمر ثرید لیل و ثرید بالنھر (2) اگر یہ دو ثریدیں نہ ہوتیں تو ہم پتلی کمر کے ساتھ ہلاک ہوجاتے رات کی ثرید اور دن کی ثرید۔ فی مقعد صدق حق کی مجلس میں جس میں کوئی چیز لغونہ ہو اور اس میں کوئی گناہ بھی نہ ہو وہ جنت ہے۔ عند ملیک مقتدر۔ جو چاہے اس پر قادر ہے۔ یہاں عند سے مراد قربت، مکان، رتبہ، کرامت اور منزلت کی عندیہ ہے، صادق نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مکان صدق کی مدح بیان کی اس میں اہل صدقہ ہی بیٹھتے ہیں۔ عثمان بتی نے پڑھا فی مقاعد صدق یعنی جمع کا صیغہ پڑھا مقاعد لوگوں کے بیٹھنے کی جگہیں ہیں وہ بازاروں میں ہوں یا کسی اور جگہ۔ عبداللہ بن بریدہ نے کہا : جنتی ہر روز اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں حاض رہوں گے وہ اس کی بارگاہ میں قرآن کی تلاوت کریں گے۔ ہر انسان اپنے بیٹھنے کی جگہ بیٹھے گا جب کہ وہ یاقوت، زبر جد، سونے اور چاندی کے منبروں پر ہوں گے سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوں گے، ان کی آنکھیں کسی چیز سے اتنی ٹھنڈی نہ ہوں گی جیسے اس طریقہ سے ٹھنڈی ہوں گی۔ انہوں نے اس سے عظیم اور اس سے بڑھ کر کسی حسین چیز کے بارے میں نہیں سنا ہوگا پھر وہ اپنی منازل کی طرف چلے جائیں گے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی کل تک معاملہ اسی طرح رہے گا۔ ثور بن یزید نے خلاد بن معد ان سے روایت نقل کی ہے ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ فرشتے قیامت کے روز مومنوں کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے : اے اللہ کے دوستو ! چلو۔ و پوچھیں گے : کہاں ؟ فرشتے کہیں گے جنت کی طرف۔ مومن کہیں گے : تم ہمیں ایسی جگہ لے جا رہے ہو جو ہمارا مقصود نہیں۔ فرشتے پوچھیں گے : تمہارا مقصود کیا ہے مومن کہیں گے : مقعد صدق عند ملیک مقتدر۔ یہ خبر خصوصی طور پر اس معنی میں مروی ہے خبر میں ہے ” ایسا طائفہ جو اللہ تعالیٰ کا عرفان رکھتا ہوگا اسے فرشتے جنت کی طرف لے جائیں گے جب کہ لوگوں کا ابھی حساب ہو رہا ہوگا۔ وہ لوگ فرشتوں سے کہیں گے کہ ہمیں کہاں لے جا رہے ہوڈ فرشتے کہیں گے : جنت کی طرف۔ لوگ کہیں گے : تم ہمیں اسی چیز کی طرف لے جا رہے ہو جو ہمارا مقصود نہیں۔ فرشتے پوچھیں گے : تمہارا مقصود کیا ہے ؟ فرشتے کہیں گے : حبیب کے ساتھ مقعد صدق جس طرح بتایا فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔