53. Surah An-Najm
النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر القرطبی
اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader
(اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو
وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader
اور ہنستے ہو اور روتے نہیں
افمن ھذا الحدیث اس سے مراد قرآن ہے۔ یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے۔ تعجیون۔ اس کو جھٹلاتے ہوئے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے، استہزاء کرتے ہوئے ہنستے ہوئے اور وعید سے ڈرتے ہوئے روتے نہیں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ہسنتے ہوئے نہیں دیکھا گیا بلکہ صرف آپ تبسم کرتے۔ (1)
حضرت ابوہریرہ نے کہا، جب افمن ھذا الحدیث تعجبون۔ آیت نازل ہوئی تو اہل صفہ نے کہا، انا للہ وانا الیہ رجعون پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوان کے رخساروں پر بہہ پڑے جب نبی کریم ﷺ نے ان کے رونے کو سنا تو آپ کے ساتھ روتے اور ہم آپ کے رونے کی وج سیر وئے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لایلج النار من بکی من خشیۃ اللہ ولا یدخل الجنۃ مصر علی معصیۃ اللہ ولولم تذنبوا الذھب اللہ بکم ولجاء بقوم یذنبون فیغفرلھم دیر حمھم انہ ھوا لغفور الرحیم (2) جو آدمی اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے رویا جہنم میں داخل نہیں ہوگا اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں لے جائے گا اور ایک ایسی قوم لے آئے گا جو گناہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا بیشک وہ غفور و رحیم ہے۔
بنو حازم نے کہا، حضرت جبریل امین نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ ان کے پاس ایک آدمی رو رہا تھا۔ جبریل امین نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ فرمایا :” یہ فلاں ہے۔ “ حضرت جبریل امین نے کہا۔ ہم انسان کے تمام اعمال کا وزن کرتے ہیں صرف رونے کا وزن نہیں کرتے بیشک اللہ تعالیٰ ایک آنسو سے جہنم کے سمندروں کو بجھا دیتا ہے۔
وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو ؟
وانتم سبدون۔ تم لاپرواہی کرنے والے اور اعراض کرنے والے ہو (3) حضرت ابن عباس سے مروی ہے جیسے والبی اور عوفی نے آپ سے روایت کیا ہے عکرمہ نے ان سے روایت کیا حمیر کی لغت میں اس کا معنی گانا گانا ہے (4) یہ جملہ کہا اجتا ہے : سمدلنا ہمارے لئے گانا گائو جب وہ قرآن پڑھتے ہوئے سنتے تو وہ گانا گانا شروع کردیتے اور کھیل کود میں شروع ہوجاتے تاکہ وہ اسے نہ سن سکیں۔ ضحاک نے کہا : سامدون کا معنی متکبر نہیں۔ صحاح میں ہے سمد سمود اس نے تکبر کی وجہ سے اپنا سر اٹھایا۔ ہر سر اٹھان والا سامد وہتا ہے : شاعر نے کہا، سو امد للیل خفاف الازواد
اس مصرعہ میں سوامد کا معنی سر اٹھانے والے کیا ہے۔ وہ کہتا ہے : ان کے پیٹوں میں چارہ نہیں۔ ابن اعربای نے کہا، سمدت سمودا یعنی میں بلند ہوا۔ سمدت الاہل فی سیرھا نے تیزی دکھائی۔ السمود کا معنی لہو و لعب ہے السامد لہو و لعب کرنے والا۔ لونڈی کو کہا جاتا ہے : اسمدینا نغمہ کے ساتھ ہمارا دل بہلائو۔ تسمیہ الارض سے مراد ہے کہ اس میں کھاد ڈالی جائے۔ تسمید الراس سے مراد ہے اس کے بالوں کو جڑ سے اکھیڑ دینا۔ یہ تسبید میں ایک لغت ہے۔ اسماد الرجل اسمئداداغصہ کی وجہ سے اس کا جسم سوج گیا۔
حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے کہ سمدون کا معنی ہے کہ وہ نماز پڑھے بغیر بیٹھتے ہیں اور نماز کا انتظار بھی نہیں کرتے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ امام کے کھڑا ہونے سے پہلے کھڑے ہوجاتے ہیں (1) ان سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نکلے تو لوگ کھڑے ہو کر انتظار کر رہے تھے فرمایا : مالی اراکم سامدین کیا وجہ ہے میں تمہیں کھڑے ہو کر انتظار کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے (2) مہدوی نے حضرت علی شیر خدا سے روایت کیا ہے کہ آپ نماز کے لئے نکلے تو لوگوں کو کھڑے ہوئے انتظار کرتے ہوئے دیکھا فرمایا : مالکم سامدون، یہ مہدوی کا قول ہے۔ لغت میں معروف یہ ہے سمد یسمد سموداً جب وہ لاپرواہی اور اعراض کرے۔ مبرد نے کہا، سامدون کا معنی ہے خامدون یعنی ٹھنڈے۔
صالح ابو خلیل نے کہا جب نبی کریم ﷺ نے اس آیت افمن ھذا الحدیث تعجبون۔ وتضحکون ولا تبکون۔ وانتم سمدون۔ کو پڑھا تو وصال تک رسول اللہ ﷺ کو ہنستے ہوئے نہ دیکھا گیا آپ صرف تبسم فرماتے تھے، نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔
فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader
تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی) کی عبادت کرو
فاسجدوا للہ واعبدوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد سجدہ تلاوت ہے (3) یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی نے بھی یہی کہا ہے۔ سورت کے آغاز میں حضرت ابن عباس سے مروی حدیث گزر چکی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس میں سجدہ کیا اور مشرکوں نے بھی ساتھ ہی سجدہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مشرکوں نے آپ ﷺ کے ساتھ اس لئے سجدہ کیا تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جب افراء یتم اللت والعزی۔ ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ کی قرأت کی تو مشرکوں نے اس موقع پر شیاطین کی آوازوں کو سنا کہ آپ نے کہا : تلک الغرانیق العلی و شفاعتھن ترتجی۔ سعید بن جبیر کی روایت میں اسی طرح ترتجی ہے۔ ابو العالیہ کی روایت میں ہے وشفاعتھن ترضی و مثلھن لاینی ہے مشرک اس سے خوش ہوئے انہوں نے گمان کیا کہ یہ بھی صحضرت) محمد کا قول ہے جس کی وضاحت سورة حج میں گزر چکی ہے۔ جب یہ خبر حبشہ میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو پہنچی تو وہ لوٹ آئے کیونکہ انہوں نے گمان کیا تھا کہ اہل مکہ ایمان لے آئے ہیں اہل مکہ نے ان پر سختی کی اور انہیں سخت اذیتیں دیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مصائب سے چھٹکارا دلایا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد نماز میں فرض سجدہ ہے، یہی حضرت ابن عمر کا قول ہے آپ اسے لازم سجدہ (سجدہ تلاوت) خیال نہیں کرتے تھے، امام مالک کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا آخری معمول یہ تھا کہ آپ نے مفصل سورتوں میں سجدہ کرنے کو ترک کردیا تھا۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے اس کے بارے میں گفتگو سورة اعراف کے آخر میں مفصل گزر چکی ہے۔ الحمد للہ رب العلمین