53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 53:20–21

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں ؟ )

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں ؟

ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ ابن کثیر، ابن محیصن حمید، مجاہد، سلمی اور اعشی نے ابوبکر سے ومناءۃ مد اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ کو ترک کیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے یہ نام اس سلئے دیا گیا کیونکہ وہ اس بات کے پانچ جانور ذبح کیا کرتے تھے اور اس عمل کے ذریعے اس کا قرب حاصل کیا کرتے تھے۔ منیٰ کو منیٰ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ کسائی، ابن کثیر اور ابن محیصن ھاء پر وقف کرتے جس طرح اصل قاعدہ ہے باقی تاء پر وقف کرتے وہ مصف کے خط کا اتباع کرتے۔ صحاح میں ہے : مناۃ بت کا نام ہے جو بنو بذیل اور بنو خزاعہ کا تھا یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان تھا۔ ھاء تانیث کے لئے ہے تاء پر وقف کیا جاتا ہے یہ بھی ایک لغت ہے اس سے اہم منسوب منوی ہے۔ منوۃ کا لفظ کبھی الف مقصورہ کے ساتھ ہوتا ہے جیسے عبد مناۃ ابن ادبن طائجہ۔ زید مناۃ ابن تمیم بن مر۔ اور کبھی الف ممدو وہ کے ساتھ ہوتا ہے جیسے الاھل اتی التیم بن عبدمناءۃ محل استدلال مناءۃ ہے۔ الاخری عرب تیسرے کے لئے اخری کا لفظ استعمال نہیں کرتے الاخری یہ ثانیہ کی صفت ہے اس کی توجیہ میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ خلیل نے ہا، یہ اس لئے کہا تاکہ آیات کے سرے موافق ہوجائیں (1) جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے مآرب اخری، اخیر نہیں کہا۔ حسین بن فضل نے کہا : آیت میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ بنتی ہے افرایتم اللاث والعزی الاخری و مناۃ الثالثۃ ایک قول یہ کہا گیا ہے : فرمایا ومنوۃ الثالثۃ الاخری کیونکہ مشرکوں کے نزدیک تعظیم میں اس کا مرتبہ لات و عزیٰ کے بعد تھا کلام اسی ترتیب پر ہے ہم نے ابن ہاشم سے یہ قول نقل کیا ہے کہ مناۃ تقدیم میں پ ہلے تھا اسی وجہ سے وہ ان کے نزدیک سب سے معزز تھا اللہ تعالیٰ بہت جانتا ہے۔ آیت میں حذف ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے تقدیر کلام یہ ہوگی افرایتم ھذہ الآلھۃ ھل نفعت او ضرت حتی تکون شرکاء للہ پھر شرمندگی دلانے کے انداز میں فرمایا : اللکم الذکر ولہ الانثی۔ یہ کلام ان کے قول ” فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بت اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں “ کا رد کرنے کے لئے ہے۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی۔ یہ تقسیم عدل کے خلاف اور غلط ہے اور حق سے دور ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : ضاز فی الحکم اس نے فیصلہ میں ظلم کیا۔ اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے ضازحقہ یضیزہ ضیزا یعنی اس نے حق میں کمی کی۔ بعض اوقات اسے مہموز کے انداز میں ذکر کیا جاتا ہے ضازہ یضازہ ضاز اور یہ شعر پڑھا : فقسمک مضوز وانفک راغم تیری تقسیم میں نقص ہے اور تیری ناک خاک آلود ہے۔ کسائی نے یوں باب ذکر کیا ہے ضاز یضیز ضیزا وضاز یضوز ضوزا وضاز یضاز ضازا جب وہ ظلم کرے، حد سے تجاوز کرے اور کمی کرے : شاعر نے کہا : ضازت بنو اسد بحکمھم اذ یجعلون الرس کالذنب (2) بنو اسد نے اپنے فیصلہ میں ظلم کیا کیونکہ وہ سر کو دم کی طرح بناتے ہیں۔
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

قسمۃ ضیزی ٰ یہ ناحق تقسیم ہے یہ فعلی کا وزن ہے جس طرح طوبی اور حبلی ہے یاء کی مناسبت کی وجہ سے ضاد کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ کلام عرب میں فعلی کے وزن پر صفت کا صیغہ نہیں آتا اسماء کے اوزان میں یہ وزن ہے جس طرح شعری اور دخلی ہے۔ فراء نے کہا : بعض عرت کہتے ہیں ضوزی اور ضزی۔ ابو حاتم نے ابوزید سے حکایت بیان کی ہے کہ انہوں نے عربوں کو ضنزی ہمزہ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے اس کے علاوہ علماء نے کہا : ابن کثیر نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اسے مصدر بنایا ہے جس طرح ذکری مصدر ہے یہ صفت نہیں کیونکہ صفات میں فعلی کا وزن نہیں اس کی اصل فعلی نہیں کیونکہ یہاں کوئی ایسا سبب موجود نہیں جو قلب کا تقاضا کرے یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : ضازتہ یعنی میں نے اس پر ظلم کیا۔ معنی ہوگا یہ ایسی تقسیم ہے جس میں ظلم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں ان دونوں لغتوں کے علاوہ ضیزی، ضازی، ضوزی، ضوزی بھی بیان کیا گیا ہے۔ مورج نے کہا، انہوں نے ضیزی میں ضاد کے ضمہ کو مکروہ جاتا ہے اور یائ کے وائو سے بدل جانے کا انہیں خوف ہوا اس وجہ سے انہوں نے ضاد کو کسرہ دیا، جس طرح انہوں نے کہا : ابیض کی جمع بیض ہے جب کہ اصل میں اسے بوض ہونا تھا جس طرح حمر، صفر اور خضر ہے جس نے ضازیضوز کہا تو اس سے اسم ضوزی ہوگا جس طرح شوریٰ ہے۔
Ayahs 53:23–25

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

ان ھی الا اسمآء سیمتموھا یعنی یہ بات نہیں مگر ایسے نام جن کو تم نے خود تراش لیا ہے اور ان کے نام معبود رکھ لئے ہیں۔ انتم وابآء کم تم نے اس مسئلہ میں اپنے آباء کی تقلید کی۔ مآ انزل اللہ بھا من سلطن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ ان یتبعون الا لظن خطاب سے غائب کی طرف رجوع کیا ہے، یعنی یہ لوگ ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ وما تھوی الانفس اور جس کی طرف نفوس مائلہ وتے ہیں عام قراء کی قرأت یتبعون ہے۔ عیسیٰ بن عمر، ایوب اور ابن سمیقع نے تتبعون پڑھا ہے، یہی حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس کی قرأت ہے۔ ولقد جآء ھم من ربہم الھدی ٰ یعنی رسول اللہ ﷺ کی جانب سے وضاحت آگئی ہے کہ وہ معبود برحق نہیں۔ ام للانسان ماتم کی۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی جانب سے وضاحت آگئی ہے کہ وہ معبود برحق نہیں۔ ام للانسان ماتم کی۔ یعنی جو وہ خواہش کرے یعنی اس کے لئے یہ نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس کے لئے بیٹے ہیں یعنی بیٹیوں کے سوا اس کے لئے بیٹے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے بغیر جزا کی جو وہ خواہش کرے معاملہ اس طرح نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ وہ نبوت کی خواہش کرے تو نبوت اس میں ہو کسی اور میں نہ ہو۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے انسان کی خواہش پر بت ان کی شفاعت کریں۔ یہ آیت نضر بن حرث کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : یہ ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تمام کفار کے بارے میں نازل ہوئی فللہ الاخرۃ والاولی۔ جس کے بارے میں چاہتا ہے اسے عطا کرتا ہے اور جس کے حق میں چاہتا ہے اس سے روک لیتا ہے نہ کہ جس کی انسان آرزو کرے۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

وکم من ملک فی السموت لاتغنی شفاعتھم شیاء الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشآء ویرضی۔ جو لوگ فرشتوں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں شرمندہ کیا گیا ہے۔ اس نے یہ گمان کیا کہ اس کا یہ عمل اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے گا۔ یہ بات ذہن نشین کرلو کہ فرشتے عبادت کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہونے کے باوجود وہ کسی کی شفاعت نہیں کریں گیمگر جس کے حق میں انہیں اجازت ملے گی۔ اخفش نے کہا، ملک واحد ہے اس کا معنی جمع ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے فما منکم من احد عنہ حجزین۔ (الحاقتہ) (1)
Ayahs 53:27–28

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا

ان الذین لایومنون بالاخرۃ مراد کفار ہیں جنہوں نے کہا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بت اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ لیسمون الملٓئکۃ تسبیۃ الانثی۔ یہاں تسمیہ سے پہلے کاف محذو ہے یعنی وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ فرشتے، مونث ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ومالھم بہ من علم یعنی انہوں نے اس امر کا مشاہدہ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے انہوں نے جو کچھ کہا اسے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا اور کسی کتاب میں اسے نہیں دیکھا۔ ان یتبعون یہاں ان نافیہ ہے الا الظن وہ جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے مئونث ہیں اس قول میں وہ صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

فاعرض عن من تولی عن ذکر ناز کر سے مراد قرآن اور ایمان ع ہے۔ یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا۔ یہ آیت نضر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ولید کے بارے میں نازل ہوئی۔ ذلک مبلغھم من العلم یعنی وہ اپنی دنیا کے معاملات کو دیکھتے ہیں اور اپنے دین کے معاملہ میں جاہل رہتے ہیں۔ فراء نے کہا : ان کی حقارت بیان کی یعنی یہ ان کی عقلوں کا معیار ہے اور علم کی انتہا ہے کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے کہ انہوں نے فرشتوں اور بتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چلا

ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ یعنی جو اس کے دین سے بھٹک گیا۔ وھو اعلم بمن اھتدی۔ پس وہ ہر کسی کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

وللہ ما فی السموت وما فی الارض لیجزی الذین اسآء وابما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی۔ لیجزی کا لام اس معنی کے متعلق ہے جس پر للہ ما فی السموت وما فی الارض دلالت کرتا ہے گویا فرمایا : وہ اس کا مالک ہے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے تاکہ محسن کو اس کے احسان کا بدلہ دے اور گناہگار کو اس کے گناہ کا بدلہ دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : للہ ما فی السموت وما فی الارض۔ جملہ معترضہ ہے۔ معنی ہوگا تیرا رب گمراہ کو خوب جانتا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے تاکہ اسے بدلہ دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لام عاقبہ ہے معنی بنے گا خلق کے امر کا انجام یہ ہے کہ ان میں گناہگار اور محسن ہوں گناہگار کے لئے جہنم ہے اور محسن کے لئے جنت ہے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

الذین یجتنبون کبرا الاثم والفواحش الاللمم اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الذین یجتنبون کبیر الاثم والفواحش الا اللم یہ محسنین کی صفت ہے یعنی وہ بڑے گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے جو شرک ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ اعمش، یحییٰ بن وثاب، حمزہ اور کسائی نے کبیر پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد شرک ہے۔ الفواحش سے مراد زنا ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة نسئا میں گزر چکی ہے، پھر اس سے مستثنیٰ مقنطع کی صورت میں استثناء کی۔ مسئلہ نمبر 2۔ فرمایا : الا اللمم اس سے مراد گناہ صغیر ہیں ایسے فاعال سے کوئی بھی محفوظ نہیں مگر اللہ تعالیٰ جس کی حفاظت فرمائے۔ اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس اور امام شعبی نے کہا : اللمم سے مراد زنا سے کم درجہ کے اعمال مراد ہیں (1) مقاتل بن سلیمان نے کہا، یہ آیت ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جسے نیہان تمار کہا اجتا (2) اس کی ایک دکان تھی جس میں وہ خشک کھجوریں بیچا کرتا اس کے پاس ایک عورت آئی وہ اس سے کھجوریں لینا چاتہی اس مرد نے اس عورت سے کہا، دکان کے اندر اس سے بہتر کھجوریں ہیں جب وہ دکان میں داخل ہوئی تو اس نے عورت کو بہلانا چاہا تو اس عورت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور وہ عورت واپس چلی گئی نیہان شرمندہ ہوا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کی : یا رسول اللہ ! جماع کے علاوہ آدمی جو کرتا ہے میں نے وہ کچھ کیا ہے ؟ کہا، شاید اس کا خاوناد مجاہد ہغے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ واقعہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابو سعید خدرمی، حضرت حذیفہ اور مسروق نے اسی طرح کا قول کیا ہے کہ لمم سے مراد وطی سے کم درجہ کا فعل ہے جس طرح بوسہ لینا، غمزہ کرتا، دیکھنا اور لیٹنا (3) مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت نقل کی ہے، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پائوں کا زنا چلنا ہے، شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کی تکیذب کرتی ہے۔ اگر وہ آگے بڑھے تو زنا ہے اگر پیھچے ہٹ جائے تو لمم ہے۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے حضتر ابوہریرہ نے جو کہا میں نے اس سے زیادہ لمم کے کسی شی کو زیادہ مشابہ نہیں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے انسان پر زنا کا حصہ لکھ دیا ہے وہ لامحالہ اس کو پائے گا۔ آنکھوں کا زنا دیکھنا، زبان کا زنا بولنا ہے، نفس تمنا کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے، شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کو جھٹلاتی ہے۔ “ مراد یہ ہے عظیم فاحشہ اور مکمل زنا جو دنیا میں حد اور آخرت میں عذاب کو ثابت کرتا ہے وہ شرمگاہ میں بدکاری کرنا ہے اس کے علاوہ گناہ میں ایک حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابوصالح کی روایت جو حضرت ابوہریرہ س مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’ دانسان پر زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ اسے ضرور پانے والا ہے آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا کلام ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پائوں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اسے جھٹلاتی ہے۔ “ (4) امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے۔ ثعلبی نے طائوس کی روایت نقل کی ہے جو انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے اس میں کان، ہاتھ اور پائوں کا ذکر ہے آنکھوں اور زبان کے بعد یہ زیادہ کیا :” ہونٹوں کا زنا بوسہ لینا ہے۔ “ یہ ایک قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا : آدمی گناہ کا ارادہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے۔ کہا : کیا تو نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : ان یغفر اللہ یغفر جما وای عبد لک لا الما (5) اگر اللہ تعالیٰ بخشنے کا ارادہ کرے تو سب گناہ بخش دیتا ہے تیرا کون سا بندہ ہے جس سے لغزش نہیں ہوئی۔ عمرو بن دینار نے عطا سے اس نے حضرت ابن عباس سے اسے نقل کیا ہے۔ نحاس نے کہا، اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ صحیح ترین ہے اور ازروئے اسناد کے سب سے عظیم ہے۔ شعبہ نے منصور سے اس نے مجاہد سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے الا اللمم کے بارے میں یہ کہا کہ بندہ ایک دفعہ گناہ کر بیٹھتا ہے پھر دوبارہ اس طرح نہیں کرتا۔ شاعر نے کہا ، ان تغفر اللہ تغفر جما وای عبداللک لا الما (1) اے اللہ ! اگر تو بخشے تو سب گناہ بخش دے تیرا کون سا بندہ ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ مجاہد اور حسن بصری نے یہی کہا ہے کہ وہ کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے پھر دوبارہ ایسا گناہ نہیں کرتا (2) اسی کی مثل زہری سے مروی ہے، کہا : لمم یہ ہے کہ وہ بدکاری کرے پھر توبہ کرے اور دوبارہ ایسا عمل نہ کرے۔ وہ چویر کرے یا شراب پئے پھر توبہ کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرے اس تاویل کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : والذین اذا فعلوا ا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکرو اللہ فاستغفروالذنوبھم (آل عمران : 135) پھر فرمایا : اولئک جزآء ھم مغفرۃ من ربھم (آل عمران : 136) ان کے لئے مغفرت کی ضمانت دی جس طرح اللمم کے بعد فرمایا۔ ان ربک واسع المغفرۃ اس تاویل کی صورت میں الا اللمم مستثنیٰ متصل ہے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا، اللمم سے مراد جو شرک کے علاوہ ہو (3) ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اللمم سے مراد ایسا گناہ ہے جو دو وحدوں کے درمیان ہو جو دنیا میں اس پر حد کو جاری نہیں کرتا اور نہ ہی آخرت میں عذاب کو لازم کرتا ہے پانچویں نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں، یہ ابن زید، عکرمہ ضحاک اور قتادہ نے کہا ہے، یہی عفوی اور حکم بن عتیبہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ کلبی نے کہا، اللمم کی دو صورتیں ہیں۔ ہر وہ گناہ اللہ تعالیٰ نے جس پر دنیا میں حد کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی آخرت میں عذاب کا ذکر کیا۔ (4) یہی وجہ ہے پانچ نمازیں ان کو مٹا دیی ہیں جب تک وہ کبائر اور فواحش تک نہ پہنچیں۔ دوسری توجیہ یہ ہے وہ عظیم گناہ ہے جسے انسان یکے بعد دیگرے کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ اور حضتر زید بن ثابت سے یہ بھی مروی ہے : مراد دور جاہلیت میں جو گناہ ہوئے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا، تم کل ہمارے ساتھ یہ عمل کیا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی !ٖ یہ زید بن اسلم اور ان کے بیٹے نے قول کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس زمانے کی طرح ہے : وان تجمعوابین الاختین الا ما قدسلف (النسائ : 23) ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اللمم سے مراد ہے کہ وہ کوئی گناہ کرے جو اس کی عادت نہ ہو، یہ نفطویہ نے قول کیا ہے۔ کہا، عرب کہتے ہیں ما یاتینا الا لما مایعین وہ کبھی کبھی ہمارے پاس آتا تھا۔ کہا : اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ ارادہ تو کرے اور عمل نہ کرے کیونکہ عرب یہ نہ کہتے تھے الم بنا مگر اسی وقت کہتے جب کوئی انسان عمل کرتا نہ کہ اس صورت میں کہ وہ قصد کرے اور عمل نہ کرے۔ صحاح میں ہے، الم الرجل یہ لمم سے مشتق ہے اس سے مراد چھوٹے گناہ ہیں۔ کہا اجتا ہے : وہ معصیت کے قریب ہے مگر اس میں واقع نہیں ہوا۔ جوہری کے علاوہ نے یہ شعر پڑھا : بریسب المم قبل ان یرحل الرکب زینب کے قریب ہوجا قبل اس کے کہ قافلہ کوچ کر جائے۔ عطاء بن ابی رباح نے کہا، لمم سے مراد نفس کی عادت ہے جو وقفہ وقفہ سے ہوتی ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا، جو دل میں کھٹکے۔ محمد بن حنفیہ نے کہا : بھلائی یا برائی میں سے جس کا توقصد کرے تو وہ لمم ہوگا۔ اس تاویل کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے : ان للشیطان لمۃ وللملک لمۃ بیشک شیطان کی طر سے ایک خیال آتا ہے اور فرشتے کی جانب سے خیال آتا ہے۔ یہ روایت سورة بقرہ آیت 268 میں الشیطن یعدکم الفقر کے تحت گزر چکی ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : لمم اور المامکا اصل معنی ہے انسان جب یکے بعد دیگرے کرتا ہے اس میں تعمق نہیں کرتا اور نہ ہی اس پر قائم رہتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : الممت بہ۔ جب تو اس کی زیارت کرے اور اس سے پھر جائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مافعلتہ الا لمما والما ما یعنی میں نے اسے وقفے وقفے سے کیا۔ انما زیارتک المام تیری ملاقات وقفے وقفے سے ہوتی ہے، اسی سے خیال کا آنا ہے۔ اعشی نے کہا : الم خیال من قتیلۃ بعدما قتیلہ کی جانب سے خیال وقفے وقفے سے آیا۔ ایک قول یہ کیا ہے : الا، وائو کے معنی میں ہے فراء نے اس کا انکار کیا ہے کہا، معنی ہے چھوٹے گناہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لمم سے مراد ایسی نظر ہے جو اچانک ہو۔ میں کہتا ہوں : یہ قول حقیقت سے بعید ہے یہ تو ابتداء معاف ہے اس پر مواخذہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ قصد اور اختیار کے بغیر واقع ہوتی ہے۔ سورة نور میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ لمم کا معنی جنون کی ایک قسم ہے رجل ملموم جسے جنون ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے : اصابت فلانا لمۃ من الجن کا معنی مس کرنا اور تھوڑی چیز ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ ان ربک واسع المغفرۃ جو اپنے گناہ سے توبہ کرے اور بخشش کا طالب ہو اس کے لئے وسیع مغفرت والا ہے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل نے کہا جو حضرت ابن مسعود کے فاضل اصحاب میں سے تھا : میں نے خواب میں دیکھا گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں کیا دیکھتا ہوں وہاں خیمے لگے ہوئے ہیں میں نے پوچھا، یہ کن کے لئے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ ذی کلدع اور حوشب کے لئے ہیں، یہ دونوں ان افراد میں سے تھے جنہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا۔ میں نے کہا : یہ کیسے ؟ لوگوں نے بتایا : دونوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تو اسے وسیع مغفرت والا پایا۔ ابو خالد نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ذی کلدع نے بارہ ہزار بچیوں کو آزاد کیا تھا۔ ھو اعلم بکم وہ تمہیں تمہاری ذاتوں سے بڑھ کر جانتا ہے اذا نشاکم من الارض مراد ہے تمہارے جد اعلیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور ضمیر جمع کی ذکر کی۔ ترمذی ابوعبداللہ نے کہا، ہمارے نزدیک یہ تعبیر نہیں بلکہ یہ پیدائش اس مٹی پر ہوئی جو زمین سے ابھری ہوئی تھی۔ ہم سب اس مٹی اور اسی کیچڑ پر ہیں پھر اس کیچڑ سے پانی پشتوں کی طرف نکلے ساتھ ہی ان میں نفوس پیدا کئے گئے جب کہ ان کی ہیتیں مختلف تھیں پھر مختلف ہیتوں کو ان کی پشتوں سے نکالا ان میں سے کچھ موتیوں کی طرح چمک رہے تھے کچھ ایک دوسرے سے زیادہ روشن تھے ان میں سے بعض کو ئلے کی طرح سیاہ تھے بعض ایک دوسرے سے زیادہ سیاہ تھے تو یہ انشاء (پیدائش) ہم پر اور اس پر واقع ہوئی۔ عیسیٰ بن حماد عسقلانی نے بشر بن بکر سے وہ اوزاعی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اس رات میرے اس حجرہ کے سامنے مجھ پر اولین و آخرین (اگلے پچھلے) پیشک آئے گئے۔ “ کسی کہنے والے نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ مخلوقات میں سے جو گزر چکے ہیں وہ بھی ؟ فرمایا :” ہاں، مجھ پر حضرت آدم اور ان کے علاوہ۔ “ کہا : ان کے علاوہ (1) بھی کسی کو پیدا کیا گیا ؟ لوگوں نے پوچھا : جو مردوں کی پشتوں اور مائوں کے رحموں میں ہیں ؟ فرمایا :” ہاں مٹی میں ان علاوہ (1) بھی کسی کو پیدا کیا گیا ؟ لوگوں نے پوچھا : جو مردوں کی پشتوں اور مائوں کے رحموں میں ہیں ؟ فرمایا :” ہاں مٹی میں ان کی مثالی شکلیں بنائی گئیں تو میں نے انہیں پہچان لیا جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) نے تمام نام جان لئے تھے۔ “ میں نے کہا : سورة الانعام کے آغاز میں گزر چکا ہے کہ ہر انسان کو اس قطعہ زمین کی مٹی سے پیدا کیا جاتا ہے جس میں اسے دفن کیا جاتا ہے۔ واذا انتم اجنۃ یہ جنین کی جمع ہے اس سے مراد وہ بچہ ہے جب تک پیٹ میں ہوتا ہے۔ اسے جنین اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ مکحول نے کہا : ہم اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین تھے تو ہم میں سے گرگیا جو گرگیا اور ہم باقی رہنے والوں میں سے ہیں پھر ہم دودھ پینے والے بچے ہوگئے تو ہم میں سے ہلاک ہوگیا جو ہلاک ہوگیا اور ہم باقی رہنے والوں میں سے ہوگئے پھر ہم قریب البلوغ ہوئے تو ہلاک ہوا جو ہلاک ہوا تو ہم باقی رہنے والوں میں سے ہوئے پھر ہم جوان ہوگئے تو ہلاک ہوا جو ہلاک ہوا اور ہم باقی رہنے والوں سے ہوئے پھر ہم بوڑھے ہوگئے تیرا باپ نہ رہے اس کے بعد ہم کس کا اتنظار کر رہے ہیں ؟ ابن لہیعہ نے حرث بن یزید سے وہ ثابت بن حرث انصاری سے روایت نقل کرتے ہیں : جب یہودیوں کا کوئی چھوٹا بچہ فوت ہوتا تو وہ کہتے : وہ صدیق ہے۔ یہ قول نبی کریم ﷺ تک پہچا فرمایا :” یہودیوں نے جھوٹا بولا ہے جس بچے کو اللہ تعالیٰ اس کی ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے تو وہ شقی ہوتا ہے یا سعید ہوتا ہے۔ “ (2) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے بھی اسی کی مثل مروی ہے فلاتزکوا انفسکم ان کی مدح نہ کرو اس کی ثنا نہ کرو کیونکہ یہ طریقہ رہا سے دور اور خشوع کے زیادہ قریب ہے۔ ھو اعلم بمن اتقی۔ یہ عمل کو زیادہ خالص کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچانے والا ہے۔ یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علمئا سے مروی ہے۔ حضتر حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ ہر نفس کے بارے میں آگاہ تھا کہ وہ کیا عمل کرنے والا ہے اور کس طرف جانے والا ہے (3) ؟ سورة نساء میں اس آیت کے معنی کے بارے میں کلام گزر چکی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : الم تر الی الذین یزکون انفسھم (النسائ : 49) اسے وہاں پڑھ لیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے علاوہ اس امت کے کسی فرد کا میں تزکیہ نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

افرء یت الذی تولی۔ واعطی قلیلاً واکدی۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کرنے میں مشرکین کی جہالت کو بیان کیا تو ان میں سے ایک معین شخص کو اس کے برے فعل کے ساتھ ذکر کیا۔ مجاہد، ابن زید اور مقاتل نے کہا، یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی (1) اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی اتباع کی تو بعض مشرکوں نے اسے عار دلائی اور کہا : تو نے اپنے آباء کے دین کو کیوں چھوڑ دیا، انہیں گمراہ قرار دیا اور تو نے گمان کیا کہ وہ جہنم میں ہیں ؟ اس نے کہا میں اللہ کے عذاب سے ڈر گیا ہوں۔ تو اس مشرک نے کہا، اگر وہ اپنے مال میں سے کچھ اسے دے دے اور شرک کی طرف واپس لوٹ آئے تو وہ وحید کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو اٹھا لے گا۔ ولی نے اپنے مال میں سے کچھ اسے دیا جس نے ضمانت اٹھائی پھر بخل سے کام لیا اور مال کو روک لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ مقاتل نے کہا، ولید نے قرآن کی تعریف کی پھر تعریف کرنے سے رک گیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے نازل کیا واعطی قلیلاً یعنی اپنی زبان سے کچھ بھلائی کی (2) واکدی یعنی اسے قطع کردیا اور اس سے رک گیا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : اس نے رسول اللہ ﷺ کو ایمان کا عہد دیا پھر منہ پھیرلیا، تو یہ آیت نازل ہوئی، افرء یت الذی تولی۔ حضرت ابن عباس، سدی، کلبی اور سمیب بن شریک نے ہا، یہ آیت حضرت عثمان بن عفان کے حق میں نازل ہوئی۔ وہ بھلائیک کاموں میں مال صدقہ کرتے اور خرچ کیا کرتے تھے آپ کو ان کے رضاعی بھائی عبداللہ بن ابی سرح نے کہا : یہ تم کیا کرتے ہو ؟ ممکن ہے کوئی چیز آپ کے لئے باقی نہ بچے۔ حضتر عثمان غنی نے کہا، میرے گناہ اور خطائیں ہیں جو کچھ میں کرتا ہوں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا ًطلب کرتا ہوں اور اس کی امید رکھتا ہوں۔ حضرت عبداللہ نے انہیں کہا، اپنی اونٹنی اس کے کجاوے کے ساتھ مجھے دے دو میں تیری جانب سے تمام گناہ اٹھالوں گا۔ حضرت عثمان نے اسے وہ اونٹنی عطا کردی اور اس پر گواہ بنا لیا اور جو صدقہ کیا کرتے تھے اس میں سے بعض سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، تو حضرت عثمان نے وہی فضل و احسان دوبارہ شروع کردیا، واحدی اور ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے (3) سدی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے حق میں نازل ہوئی کیو کہ وہ کبھی کبھی نبی کریم ﷺ کی موافقت کیا کرتا تھا (4) محمد بن کعب قرظی نے کہا، یہ آیت ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی اس نے کہا، اللہ کی قسم ! (حضرت) محمد مکارم اخلاق کا حکم دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان واعطی قلیلاً و اکدی کا یہی مفہوم ہے۔ ضحاک نے کہا : مراد نضر بن حرث ہے (1) جب وہ اپنے دین سیم رتد ہوا تو اس نے مہاجرین میں سے ایک فقیر کو پانچ اونٹنیاں دیں اور اس سے ضمانت لی کہ دین چھوڑنے کا بوجھ وہ مہاجر اٹھائے گا۔ اکدی کا اصل کدیۃ ہے یہ اس کے لئے بولا جاتا ہے جو ایک کنواں کھودے پھر ایسے پتھر تک جا پہنچے جس کا کھودنا اس کے لئے ممکن نہ ہو قد اکدی پھر عرب اس لفظ کو اس آدمی کے لئے استعمال کرنے لگے جو عطا کرے اور پورا نہ کرے اور جو کسی شے کو طلب کرے اور اس کے آخر تک نہ پہنچے، حطیہ نے کہا : فاعطی قلیلاً ثم اکدی عطاءہ ومن یبذل المعروف فی الناس یحمد اس نے تھوڑا دیا۔ پھر اپنے طعیہ کو روک لیا جو مال خرچ کرتا ہے لوگوں میں اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ کسائی اور دوسرے علماء نے کہا : اکدی الحافر واجبل یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ کھودنے میں پتھر یا پہاڑ تک جا پہنچے اب اس کو کھودنا ممکن نہ ہو۔ یہ جملہ بولتے ہیں : حفر و اکدی جب وہ سخت جگہ تک جا پہنچے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کدیت اصابعہ جب وہ کھودنے سے تھک جائیں۔ وکدیت یدہ جب اس کا ہاتھ تھک جائے اور کچھ کام نہ کرے۔ اکدی النبت بڑھو تڑی کم ہوجائے۔ کدت الارض تکدو کدوا وکدوافھی کا دیۃ جب وہ دیر سے نباتات اگائے۔ ابو زید سے مروی ہے : اکدیت الرجل عن الی میں نے اسے اس چیز سے لوٹا دیا۔ اکدی الرجل جب اس کی بھلائی کم ہوجائے۔
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا

واعظی قلیلاً واکدی۔ یعنی تھوڑا دینا بھی ختم کردیا۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے ؟

اعندہ علم الغیب فھویری۔ کیا اس کم کرنے والے کے پاس اس چیز کا علم ہے جو عذاب اس سے غائب ہے فھویری یعنی آخرت کا امر جو اس سے غائب ہے اسے وہ جانتا ہے کہ وہ غیر کے عذاب کو اٹھان کا ضامن بن رہا ہے اتنی جہالت اور حماقت ہی کافی ہے یہ فعل رئویت دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے جب کہ دونوں مفعول محذوف ہیں گویا فرمایا : وہ غیب کو شہادت کی طرح دیکھتا ہے۔
Ayahs 53:36–38

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی ؟

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کی جنہوں نے (حق طاعت و رسالت) پورا کیا ؟

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

ام لم ینتبا بما فی صحف موسیٰ ۔ وابراھیم الذی وفی۔ لفظ ابراہیم سے پہلے صحف کا لفظ محذوف ہے جس طرح سورة اعلیٰ میں ہے صحف ابراہیم و موسیٰ ۔ یعنی کسی نفس کو دوسرے نفس کے بدلہ میں نہیں پکڑا جائے گا جس طرح فرمایا : الا تزر وازرۃ وزراخری۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان آدمی کو انے بھائی، اپنے بیٹے اور اپنے باپ کے بدلے میں پکڑ لیا جاتا تھا، یہ ہذیل بن شرحبیل نے کہا ہے۔ ان یہ مثقلہ سے مخففہ ہے اس کا محل جر ہے کیونکہ یہ ماکا بدل ہے یا یہ محل رفع میں ہے کیونکہ ھو ضمیر مضمر ہے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ نے وفی پڑھا یعنی شد کے بغیر پڑھا۔ اس کا معنی ہے وہ اپنے قول اور عمل میں سچا ہے۔ یہ جماعت کی قرأت کی طرف راجع ہے جو وفی ہے یعنی اس پر جو فرض کیا گیا اس نے ان سب کو ادا کیا اس نے ان میں سے کسی چیز کو نہ چھوڑا۔ یہ سورة بقرہ آیت 124 میں اللہ تعالیٰ کے فرمان و اذا بتلیٓ ابرھم ربہ بکلمت فاتمھن میں گزر چکی ہے۔ توفیہ کا معنی مکمل کرنا ہے۔ ابوبکر وراق نے کہا : جس امر کا دعویٰ کیا اس کی شرط کو ادا کیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : اسلم قال اسلمت لرب العلمین۔ (بقرہ) اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کے دعویٰ کی صحت کا مطالبہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے مال، اولاد، ذات میں آزمایا تو انہیں پورا کرنے والا پایا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : وابرھیم الذی وفی۔ کا یہی مفوہم ہے یعنی اسلام کا دعویٰ کیا پھر اپنے دعویٰ کو سچ کر دکھایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے ہر روز دن کے شرع میں چار رکعات ادا کر کے اپنے عمل کو پورا کیا۔ (1) ہثیم نے اسے حضرت ابوامامہ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے۔ سہل بن سعد ساعدی نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے : کیا تمہیں نہ بتائوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم کو اس صفت کے ساتھ کیوں ذکر کیا الذی وفی کیونکہ وہ صبح اور شام کو کہا کرتے تھے : فسبحن اللہ حین تمسون و حین تصبحون۔ (الروم) سہیل بن معاذ نے یہ حضرت انس سے وہ اپنے باپ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وفی سے مراد ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے اس کو پورا کیا۔ وہ یہ فرمان ہے، الاتزر وازرۃ وزراخری۔ حضرت ابن عباس نے کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ایک آدمی کو غیر کے گناہ کے بدلے میں پکڑ لیا کرتے تھے قتل اور زخم لگانے کی صورت میں و ولی کو ولی کے بدلے میں پکڑ لیتے تھے (2) ایک آدمی کو اس کے باپ، اس کے بیٹے، اس کے بھائی، اس کے چچا، اس کے ماموں، اس کے چچا زاد بھائی، اس کے قریبی رشتہ دار، اس کی بیوی، اس کے خاوند اور اس کے غلام کے بدلے میں پکڑ لیا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا : الا تزر وازرۃ وزراخری۔ حضرت حسن بصری، قتادہ اور سعید بن جبیر نے اللہ تعالیٰ کے فرمان وفی کے بارے میں کہا، جو آپ کے حکم دیا گیا اس پر عمل کیا اور اپنے رب کے پیغامات کو پہنچایا (3) یہ تعبیر بہت اچھی ہے کیونکہ یہ عام ہے، مجاہد نے بھی اسی طرح کہا ہے : جو آپ پر فرض کیا گیا اس کو پورا پورا ادا کیا (1) ابومالک غفاری نے کہا : الاتزروازرۃ وزراخری۔ سے لے کر فبای الآء ربک تتماری۔ تک حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں ہے۔ سورة انعام آیت 164 کے آخر میں و لاتزروا زرۃ وزراخری میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

وان لیس للانسان الا ماسعی۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے (2) کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان : و الذین امنوا و اتبعتھم ذریتھم با میان الحقابھم ذریتھم (الطور : 21) کے ساتھ منسوخ ہے قیامت کے روز چھوٹا بچہ اپنے میزان کے پاس موجود ہوگا اللہ تعالیٰ آباء کو بیٹوں کے حق میں اور بیٹیوں کو آباء کے حق میں شفیع بنا لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ابآئکم وابنآء کم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعاً (النسائ : 11) اکثر علماء تاویل نے کہا، یہ آیت محکم ہے کسی کو دوسرے کا عمل نفع نہ دے گا۔ علماء کا اس پر اجماع ہے کوئی آدمی دوسرے کی جانب سے نماز نہیں پڑھے گا۔ امام مالک نے روزہ، حج اور صدقہ میت کی جانب سے جائز قرار نہیں دیا مگر آپ نے کہا، اگر اس نے حج کی وصیت کی اور فوت ہوگیا تو اس کی جانب سے حج کرنا جائز ہے۔ امام شافعی اور دوسرے علماء نے میت کی جانب سے نفلی حج کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مرومی ہے کہ انہوں نے بھائی حضرت عبدالرحمٰن کی جانب سے اعتکاف کیا اور ان کی طرف سے غلام آزاد کیا۔ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میری ماں فوت ہوگئی ہے کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کروں ؟ فرمایا :” ہاں “ عرض کی : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا :” پانی پلانا “ (3) یہ تمام بحث سورة بقرہ، سورة آل عمران اور سورة اعراف میں مفصل گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے فرمایا وان لیس للانسان الا ماسعی یہاں لام مجرور ہے عربی زبان میں اس کا معنی ملکیت اور ثابت کرنا ہے انسان کے لئے وہی ثابت ہوتا ہے جو وہ کوشش کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ بچوں کو عمل کے بغیر جنت میں داخل فرماتا ہے۔ ربیع بن انس نے کہا، وان لیس للانسان الا ماسعی یہ حکم کافر کے لئے ہے (4) جاں تک مومن کا تعلق ہے اس کے لئے اس کا اپنا عمل اور غیر کا اس کے لئے عمل ہے۔ میں کہتا ہوں : بیشمار احادیث اس قول پر دلالت کرتی ہیں کہ مومن کو غیر کی جانب سے عمل صالح کا ثواب پہنچتا ہے جو آدمی غور و فکر کرتا ہے اس کے لئے ان میں سے کثیر روایات گزر چکی ہیں۔ صدقہ میں کوئی اختلاف نہیں جس طرح حضرت عبداللہ بن مبارک سے مسلم شریف سے شروع میں روایت گزری ہے۔ صحیح میں ہے : ” جب انسان فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے صرف تین عمل باقی رہتے ہیں (5) اس میں ایک یہ ہے یا نیک بچہ جو اس کے حق میں دعا کرتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے فضل و احسان ہے، جس طرح کئی گنا بدلہ دینا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلہ میں دس سے لے کر سات سو گنا اور دس لاکھ تک اجر لکھتا ہے، جس طرح حضرت ابوہریرہ سے ہا گیا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی پر دس لاکھ نیکیوں کا اجر عطا فرماتا ہے ؟ فرمایا : میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :” اللہ تعالیٰ ایک نیکی پر بیس لاکھ نیکوں کا اجر عطا فرماتا ہے۔ “ یہ فضل و احسان ہے اور عدل کا اسلوب و ان لیس للانسان الا ماسعی ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ احتمال موجود ہے وان لیس للانسان الا ماسعی یہ صرف برائی کے ساتھ خاص ہو کیونکہ مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا تو میں اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لیتا ہوں اگر وہ اس پر عمل کرے تو میں اس کے حق میں دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا تک لکھ لیتا ہوں اور جب وہ کسی برائی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو میں اس کی خلاف کچھ بھی نہیں لکھتا اگر وہ اس پر عمل کرے تو میں صرف ایک برائی لکھتا ہوں۔ “ (1) ابوبکر وراق نے کہا : الا ماسعی کا معنی ہے مگر جس کی وہ نیت کرے۔ اس کی وضاحت نبی کریم ﷺ کے ارشاد میں ہے : یبعث الناس یوم القیامۃ علی نیاتھم لوگوں کو قیامت کے روز ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

وان سعیہ سوف یری۔ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اس کی جزا دکھائے گا۔
Ayah 53:41

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا

ثم یجزئہ الجزآء الا وفی۔ پھر اسے پورا پورا بدلہ دے گا۔ اخفش نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے جزیتہ الجزاء و جزیتہ بالجزاء دونوں جملے ایک جیسے ہیں دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان اجز علقمۃ بن سعد سعیہ لم اجزہ ببلاء یوم واحد (2) اگر میں علقمہ بن سعد کو اس کے عمل کی جزا دوں تو میں ایک دن کے امتحان کا بدلہ اسے نہ دے سکوں گا۔ اس شعر میں دونوں لغتوں کو جمع کردیا ہے۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے

وان الی ربک المنتھی۔ منتھی سے مرجع، مرد اور مصیر مراد ہے یعنی لوٹنے کی جگہ پس وہ سزا دے گا یا بدلہ دے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسی کی جانب سے احسان کا آغاز ہے اور اسی کے ہاں امان کی انتہا ہے۔ حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان و ان الی ربک المنتھی کے بارے میں فرمایا :” رب العالمین کی ذات میں کوئی سوچ و بچار نہیں ہو سکتی۔ “ (3) حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے تو رک جا۔ “ (4) میں کہتا ہوں : اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :” شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے وہ کہتا ہے فلاں کو کس نے پیدا کیا فلاں کو کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ وہ کہہ اٹھتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ جب وہ اس مقام تک پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو اور رک جائو “ (1) سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ جس نے کہا کتنا اچھا کہا : ولا تفکرن فی ذی العلا عزو جھہ فبانک تردی ان فعلت و تخذل ودونک مصنوعاتہ فاعتبربھا وقل مثل ما قال الخلیل المیجل صاحب عظمت جس کی ذات غالب ہے اس میں غور و فکر نہ کر اگر تو نے ایسا کیا تو تجھے ہلاک کردیا جائے گا اور رسوا کردیا جائے گا اس کی مصنوعات کو لو اور اس کے ساتھ عبرت حاصل کرو اسی طرح کہو جس طرح ذی شان خلیل نے کہا۔
Ayah 53:43

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے

وانہ ھو اضحک وابکی۔ واسطے ختم ہوگئے اور حقائق اللہ تعالیٰ کے لئے باقی رہ گئے اس کے سوا کوئی فاعل نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے : نہیں اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی یہ نہیں کا کہ میت کو کسی کے رونے سے عذاب ہوتا ہے (2) بلکہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کافر کے حق میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب میں اضافہ کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی رلاتا ہے اور ہنساتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ آپ سیی ہ بھی مروی ہے : نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو ہنس رہے تھے۔ فرمایا :” اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے “ (3) حضرت جبرئیل امین آپ کے پاس آئے پھر کا، اے محمد ! ﷺ اللہ تعالیٰ آپ کو فرماتا ہے : وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ان صحابہ کے پاس واپس تشریف لائے فرمایا :” میں چالیس قدم بھی نہیں چلا تھا یہاں تک کہ جبرئیل امین میرے پاس حاضر ہوئے اور ہا ان کے پاس جائیے انہیں کہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے “ یعنی ہنسنے اور رونے کے اسباب کا فیصلہ کردیا۔ عطا بنی ابی مسلم نے کہا، اسی نے خوشی عطا کی اور اسی نے غمگین کیا کیونکہ خوشی ہنسنے کا باعث ہوتی ہے اور غم رونے کو لاتا ہے۔ حضرت عمر سے کہا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہنسا کرتے تھے ؟ فرمایا : ہاں۔ اللہ کی قسم ! ایمان ان کے دلوں کو مضبوط پہاڑوں سے زیادہ اسخ کردیتا تھا (4) ۔ سورة نمل اور سروہ برأت میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کو جنت میں ہنسایا اور جہنمیوں کو جہنم میں رلایا (5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جسے چاہا دنیا میں اسے ہنسایا یعنی اسے خوش کیا اور جس کو چاہا اسے رلایا یعنی اسے غم دیا۔ ضحاک نے کہا، زمین کو نباتات کے ذریعے ہنسایا اور آسمان کو بارش کے ذریعے رلایا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : درختوں کو کلیوں کے ساتھ ہنسایا اور بادلوں کو بارش کے ساتھ رلایا۔ حضرت ذوالنوکن نے کہا : مومنوں اور عارفین کے دلوں کو پانی معرفت کے سورج کے ساتھ ہنسایا اور نافرمانوں کی ناراضگی کے ساتھ رلایا۔ محمد بن علی ترمذی نے کہا، مومن کو آخرت میں ہنسایا اور اسے دنیا میں رلایا۔ بسام بن عبداللہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کے دانتوں کو ہنسایا اور ان کے دلوں کو رلایا اور یہ شعر پڑھا : السن تضحک والا حشاء تحترق وانما ضحکھا زور و مختلق یا رب باک بعین لا دموع لھا ورب ضاحک سن مابہ رمق دانت ہنستے ہیں اور انتڑیاں جلتی ہیں بیشک ہنسنا جھوٹ و بناوٹی ہے۔ کتنے ہی ایسی آنکھ سے روتے ہیں جن کے آنسو نہیں ہوتے کتنے ہی دانتوں سے ہنستے ہیں جن میں زندگی کی رمق نہیں ہوتی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانوں سے انسان کو ہنسنے اور رونے کے ساتھ خاص کیا ہے انسان کے علاوہ کوئی ہنستا اور روتا نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صرف بندر ہنستا ہے روتا نہیں اور صرف اونٹ روتا ہے ہنستا نہیں۔ یوسف بن حسین نے کہا : طاہر مقدسی سے پوچھا گیا کیا فرشتے ہنستے ہیں ؟ جواب دیا : وہ اور عرش کے نیچے۔ جو کچھ ہے جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے وہ نہیں ہنسے۔
Ayah 53:44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے

وانہ ھوامات واحیا۔ اس نے موت اور حیات کے اسباب کا فیصلہ کردیا۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : موت وحیات کو پیدا کیا جس طرح فرمایا الذی خلق الموت والحیوۃ (ملک : 2) یہ ابن بحر کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کافر کو کفر کے ساتھ موت دی اور مومن کو ایمان کے ساتھ زندہ کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : او من کان میتاً فاحیینہ (الانعام : 122) فرمایا : انما یستجیب الذین یسمعون والمتوی یبعثکم اللہ (الانعام : 36) جس طرح پہلے گزر چکا ہے : عطا کا قول بھی اسی طرح لوٹتا ہے، اپنے عدل کے ساتھ مارا اور اپنے فضل کے ساتھ زندہ کیا اور اس کا قول بھی اسی طرف لوٹتا ہے مال روکنے اور بخل کرنے کے ساتھ موت دی اور سخاوت اور مال خرچ کرنے کے ساتھ زندہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نطفہ کو موت دی اور روح کو زندہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : آباء کو موت دی اور بیٹوں کو زندہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : حیات سے مراد سرسبزی اور موت سے مراد خشک سالی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : نیند دی اور بیدار کیا۔ ایکق ول یہ کیا گیا : دنیا میں موت دی اور دوبارہ اٹھانے کے لئے زندہ کیا۔
Ayahs 53:45–46

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

(یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے

وانہ خلق الزوجین الذکر و الانثی۔ مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہے یہاں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضتر حواء مراد نہیں کیونکہ مذکر و مونث نطفہ سے پیدا کئے گئے ہیں (جبکہ حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی تخلیق نطفہ سے نہیں ہوئی) نطفہ سے مراد قلیل پانی ہے یہ نطف الماء سے مشتق ہے جب وہ قطرہ بن کر گرے۔ تمنی۔ جسے رحم میں ٹپ کایا جاتا ہے اور بہایا جاتا ہے۔ کلبی، ضحاک اور عطا بن ابی رباح نے کہا یہ جملہ کہا اجتا ہے : منی الرجل وامنی (3) منی سے مشتق ہے منیٰ کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں خونوں کو بہایا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمنی کا معنی ہے (1) اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے، یہ ابو عبیدہ کا قول ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : منیت الشیء جب تو اس کا اندازہ لگائے منی لہ اسے مقدر کیا گیا : شاعر نے کہا : حتی تلاتی مایمنی لک المانی یہاں تک کہ تو اسے ملے جسے قادر نے تیرے لئے مقدر کیا ہے۔
Ayahs 53:47–48

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے

وان علیہ النشاہ الاخری۔ جب روحوں کو جسموں میں لوٹایا جائے گا تاکہ انہیں اٹھایا جائے۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے النشاۃ شین کے فتحہ اور الف ممودہ کے ساتھ پڑھا ہے اس نے یہ وعدہ کیا اور اس کا وعدہ سچا ہے۔ وانہ ھو اغنی و اقنی۔ ابن زید نے کہا، جس کو چاہا غنی کردیا اور جس کو چاہا فقیر بنا دیا (2) پھر اس آیت کو پڑھا یبسط الرزق لمن یشآء من عبادہ ویقدرلہ (سبا : 39) اور اس آیت کی تلاوت کی یقض ویبضط (البقرہ : 245) طبری نے اسے پسند کیا ہے۔ ابن زید سے یہ بھی مروی ہے اور مجاہد، قتادہ اور حسن بصری نے یہ کہا ہے : اغنی یعنی اسے مالدار بنا دیا (3) اقنی اسے خادم بنا دیا (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اقنی تمہارے لئے مال بنایا ہے جسے تم کماتے ہو اس کا معنی خادم بنانا بھی ہغے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے جو عطا کیا اس پر راضی کیا یعنی اسے غنی کیا پھر جو عطا کیا اس کے ساتھ راضی کیا : یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ جوہری نے کہا، قنی الرجل یقنی قنی جس طرح غنی یغنی غنی ہے۔ اقناہ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ عطا کیا جسے ذخیرہ کیا جاتا ہے یعنی مال اور چاندی۔ اقناہ اللہ یعنی اسے راضی کیا۔ قنی کا معنی رضا ہے، یہ ابو زید سے مروی ہے عرب کہتے ہیں جسے سو بکریاں عطا کی گئیں تو اسے قنی عطا کیا گیا، جسے سو بھیڑیں دی گئیں اسے غنا دی گئی، جسے سو اونٹ دیئے گئے تو اسے منیٰ دیا یا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اغناہ اللہ و اقناہ اسے وہ چیز عطا کی گئی جس سے وہ سکون حاصل کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اغنی و اقنی اس کی ذات کو غین کیا اور اپنی مخلوق کو اس کا محتاج بنا دیا (1) یہ سلیمان تیمی نے کہا۔ سفیان نے کہا، قناعت کے ساتھ غنی کیا اور رضا کے ساتھ سکون عطا کیا (2) اخفش نے کہا، اقنی یعنی محتاج کیا۔ ابن کیسان نے کہا، اسے اولاد دی۔ یہ قول تمام پہلے اقوال کی طرف راجع ہے۔
Ayah 53:49

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی شعرٰی کا مالک ہے

وانہ ھو رب الشعری۔ شعری ایسا روشن ستارہ ہے جو جوزاء کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اس کا طلوع سخت گرمی میں ہوتا ہے۔ دونوں شعری ہیں عبور جو جوزاء میں ہوتا ہے شعری غمیصاء جو ذراع میں ہوتا ہے۔ عرب گمان کرتے ہیں کہ یہ دونوں سہیل کی بہنیں ہیں۔ یہ ذکر کیا کہ وہ شعری کا رب ہے اگرچہ وہ دوسروں کا بھی رب ہے کیونکہ عرب شعری کی تعظیم بجا لاتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ شعری رب نہیں مربوب ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ کون اس کی عبادت کرتا تھا ؟ سدی نے کہا : حمیر اور خزاعہ قبیلہ اس کی عبادت کرتا تھا۔ دوسرے علماء نے کہا : سب سے پہلے جس نے اس کی عبادت کی وہ ابو کبثہ تھا جو نبی کریم ﷺ کی امہات کی جانب سے اجداد میں شامل تھا اس وجہ سے قریش کے مشرکوں نے نبی کریم ﷺ کو ابن ابی کبشہ کا نام دیا جب آپ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کے دینوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا، ہم نے ابن ابی کبشہ سے کیا پایا ہے ؟ ابوسفیان نے فتح مکہ کے روز کہا تھا جب کہ وہ ایک تنگ راستہ میں کھڑا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے لشکر اس کے پاس سے گزر رہے تھے : لقد امر امر ابن ابی کبشہ ابن ابی کبشہ کا امر قوی ہوگیا۔ جو عرب شعری کی پوجا نہ کرتے تھے وہ اس کی تعظیم کرتے اور عالم میں اس کی تاثیر کا اعتقا رکھتے تھے : شاعر نے کہا ، مضی ایلول وارتفع الحرور واخبت نارھا الشعری العبور (3) ماہ ستمبر گزر گیا اور گرمی ختم ہوگئی اور شعری عبور نے اس کی آگ کو بجھا دیا۔ ماہ ستمبر گزر گیا اور گرمی ختم ہوگئی اور شعری عبور نے اس کی آگ کو بجھا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عرب اپنی خرافات میں کہتے ہیں کہ سہیل اور شعری میاں بیوی تھے۔ سہیل نیچے اترا تو وہ یمانی ہوگیا شعری عبور نے اس کا پیچھا کیا اور کہکشاں کو عبور کیا تو اس کا نام عبور ہوگیا۔ غمیصاء کھڑی ہوئی اور سہیل کے گم ہونے پر وہ روئی یہاں تک کہ اس کی آنکھیں کیچڑ بہانے لگیں تو اس کا نام غمیصاء ہوگیا کیونکہ یہ دوسرے سے زیادہ مخفی ہوتا ہے۔
Ayah 53:50

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا

وانہ اھلک عاد الاولی۔ اس کا نام اولی رکھا کیونکہ یہ ثمود سے پہلے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ثمود، ثماد سے پہلے تھے۔ ابن زید نے کہا : اسے عاد اولی کہا گیا کیونکہ یہ پلہی امت تھی جو حضتر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہلاک ہوگئی۔ ابن اسحاق نے کہا : وہ دونوں عاد تھیں پہلی قوم عاد کو ریح صرصر (شدید ہوا) سے ہلاک کیا گیا پھر دوسری قوم عاد تھی اسے چیخ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ ایکق ول یہ کیا گیا : عاد اولی وہ عاد بن ارم بن عوض بن سام بن نوح تھی اور دوسری عاد، عاد اولی کی اولاد میں سے تھی۔ معنی قریب قریب ہے۔ ایک قول یہ کیا یا : دوسری قوم عاد جب اورن تھے وہی قوم ہود تھی۔ عام قرأت عادا اولی ہے یعنی تنوین اور ہمزہ کو واضح کیا گیا ہے۔ نافع، ابن محیصن اور ابو عمرو نے عاداً الاولی پڑھا ہے یعنی ہمزہ کی حرکت لام کو دی اور نون تنوین کو اس میں مدغم کردیا مگر قانون اور سو سی دونوں ساکن ہمزہ کو ظاہر کرتے تھے باقی قراء نے قاعدہ کے مطابق وائو سے بدل دیا ہے عرب اس قلب کو لٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں : ثم لان عناوصم لثنین اصل میں قم الآن وصم الاثنین ہے۔
Ayahs 53:51–52

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے

وثمود افما ابقی۔ ان کے ثمود، قوم صالح تھی انہیں چیخ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ اسے ثموداً اور ثمود پڑھا گیا ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ عاد پر عطف کرتے ہوئے اسے منصوب پڑھا گیا ہے۔ وقوم نوح من قبل یعنی عاد وثمود سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا۔ انھم کانوا ھم اظلم واطغی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) طویل عرصہ تک ان کے درمیان رہے یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کے ہاتھ کو پکڑتا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جاتا اور بیٹے کو کہتا : اس سے محتاط رہنا کیونکہ یہ جھوٹا ہے کیونکہ میرا باپ مجھے اس کے پاس لے گیا تھا اور اس نے مجھے وہی بات کی تھی جو میں نے تجھے کہی ہے تو بڑا کفر پر مر جاتا، چھوٹا اپنے باپ کی وصیت پر پروان چڑھتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضمیر عاد، ثمود اور قوم نوح میں سے جس کا ذکر کیا گیا ہے اس کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی وہ عربوں کے مشرکوں سے زیادہ کافر اور سرکش تھے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے گویا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : تو بھی صبر کر اچھا انجام آپ کے لئے ہے۔
Ayah 53:53

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا

والموتفکۃ اھوی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے شہر ان پر الٹ گئے ان کا اوپر والا حصہ نیچے والا حصہ بن گیا۔ یہ جملہ کہا اجتا ہے۔ افکتہ تو نے اسے الٹ دیا اور تو نے اسے پھیر دیا۔ اھوی ان بستیوں کو آسمان کی طرف اٹھانے کے بعد انہیں دھنسا دیا۔ حضرت جبریل امین نے انہیں اٹھایا پھر انہیں زمین کی طرف گرا دیا۔ مبرد نے کہا، انہیں گرنے والا بنا دیا۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : ھوی یھوی ہو یا یعنی وہ گرگیا ۔ اھوی یعنی اسے گرا دیا۔
Ayah 53:54

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر ان پر چھایا جو چھایا

فغشھا ما غشی۔ انہیں پتھروں سے چھپا دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جعلنا عالیھا سافلھا و امطرنا علیھا حجارۃ من سجیل (ہود : 82) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر تمام امتوں کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی انہیں عذاب سے ڈھانپ لیا۔ یہاں عذاب کو مبہم ذکر کیا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو ایسے عذاب سے ہلاک کیا گیا جو اس عذاب سے مختلف تھا جس عذاب سے دوسری قوم کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ایکق ول یہ کیا گیا : یہ انداز امر کی عظمت بیان کرنے کے لئے ہے۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

(اے انسان ! ) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا ؟

فبای الآء ربک تتماری۔ تم اپنے رب کی کون سی نعمتوں میں شک کرتے ہو۔ خطاب جھٹلانے والے انسان کو ہے۔ الآء سے مراد نعمتیں ہیں اس کا واحد الی الی اور الی ہے یعقوب نے تمہاری پڑھا ہے دو تائوں میں سے ایک کو دوسری میں ادغام کیا اور اسے مشدد پڑھا۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ (محمد ﷺ بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں

ھذا نذیر من النذر الاولی۔ ابن جریج اور محمد بن کعب نے کہا : اس سے یہ ارادہ کیا ہے (1) کہ حضرت محمد حق کے ساتھ خبردار کرنے والے ہیں جس کے ساتھ آپ سے پہلے انبیاء نے ڈرایا۔ اگر تم نے آپ کی اطاعت کی تو تم کامیاب ہو جائو گے بصورت دیگر تم پر وہی عذاب نازل ہوگا جو تم سے قبل رسولوں کو جھٹلانے والوں پر نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا، مراد قرآن ہے یہ اس چیز کے ساتھ خبردار کرنے والا ہے جس کے ساتھ سابقہ کتابوں نے خبردار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے سابقہ امتوں کی جو خبریں دی ہیں کہ وہ ہلاک ہوئے یہ اس امت کو ڈرانا ہے کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو سکتا ہے جو ان قوموں پر عذاب نازل ہوا۔ نذر قوم عرب میں انذار کے معنی میں ہے جس طرح نکرہ انکار کے معنی میں ہے یعنی یہ تمہیں ڈرانا ہے ابو مالک نے کہا، یہ سابقہ امتوں کے واقعات جن کے ساتھ تمہیں خبردار کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں۔ سدی نے کہا : مجھے ابوصالح نے خبر دی ہے یہ کلمات جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان ام لم ینتا بما فی صحف موسیٰ ۔ و ابراہیم سے لے کر ھذا نذیر من النذر الاولی تک سب حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں۔
Ayah 53:57

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

آنے والی (یعنی قیامت) قریب آپہنچی

از فت الازفۃ۔ قیامت قریب ہوگئی۔ اسے آزفۃ کا نام دیا کیونکہ اس کے نزدیک یہ قریب ہی واقع ہوگی جس طرح فرمایا : یرونہ بعیداً ۔ ونرئہ قریباً ۔ (المعارج) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے آزفہ کا نام دیا گیا کیونکہ یہ لوگوں کے قریب ہے اسے لوگوں کے قریب کیا تاکہ وہ اس کی تیاری کریں کیونکہ وہ امر جو واقع ہو کر رہنے والا وہتا ہے وہ قریب ہوتا ہے جس طرح کہا، ازف الترحل کوچ قریب آگیا۔ صحاح میں ہے : ازف الترحل یازف، آزف یہ فاعل کا وزن ہے۔ متآزف القصیر وہی جو قریب ہو۔ ابو زید نے کہا، میں نے ایک بدو سے پوچھا، ما المبنطی ؟ اس نے جواب دیا : المتکا کی۔ میں نے پوچھا : ما المتکا کی ؟ اس نے جواب دیا : المتآزف میں نے پوچھا : ما المتآزف ؟ اس نے جواب دیا : تو احمق ہے اور چلا گیا۔
Ayah 53:58

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا

لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اسے پیچھے یا آگے کرنے والا نہیں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا : کاشفۃ کا معنی انشکاف ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اسے ظاہر کرنے والا نہیں۔ کاشفۃ اسم ہے جو مصدر کے معنی میں ہے اس میں ھاء اسی طرح ہے جس طرح عاقبہ، عافیہ، داھیہ اور باقیہ میں ہے جس طرح عربوں کا قول ہے، مالفلان من باقیۃ یہاں باقیۃ بقاء کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کوئی بھی اسے نہیں لوٹائے گا، یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو ان کے معبودوں میں سے کوئی اسے دور نہیں رکے گا اور اس کے سوا کوئی انہیں نجات نہیں دے گا۔ قیامت کو غاشیہ کا نام دیا۔ ہے جب یہ غاشیہ ہے تو اس کا رد کرنا کشف ہوگا۔ اس تعبیر کی بنا پر کاشفہ مونث محذوف کی صفت ہوگی تقدیر کلام یہ ہوگی نفس کاشغۃ، فرۃ کاشغۃ حال کا شفۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کاشفہ، کاشف کے معنی میں ہے۔ ھاء مبالغہ کے لئے ہے جس طرح راویۃ اور واھیۃ ہے۔