Ayahs 38:44–47اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کے بارے میں یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سوکوڑے ماریں گے اس کے سبب کے بارے میں چار اقوال ہیں : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے حکامیت بیان کی ہے کی ابلیس ایک طبیب کی صورت میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا جس نے حضت ایوب علیہ السما کے علاج معالہ کے لئے اسے دعوت دی تو ابلیس نے کہا : میں اس کا اس شرط پر علاج کروں گا کہ جب وہ صحت مند ہوجائے تو وہ یہ کہے : تو نے مجھے شفا دی ہے ‘ اس کے سوا میں اس سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا بیوی نے اس بارے میں حضرت ایوب (علیہ السلام) سے مشورہ کیا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ میں ضرور اسے ماروں گا فرمایا : تو ہلاک ہو وہ تو شیطان تھا۔
-2 سعید بن مسیب نے بیان کیا : پہلے جتنی روٹیاں وہ لاتی تھی اس سے زائد وہ روٹیاں لائی تو آپ کو اس کی خیانت کا خوف ہوا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ وہ ضرور اسے ماریں گے۔
-3 جو یحییٰ بن سلام اور دوسرے علماء نے کہا ہے : شیطان نے اسے گمراہ کیا کہ وہ حضرت ایوب کو مجبور کرے کہ وہ ایک بکری کا بچہ اس کی عبادت کے طور پر ذبح کرے اور وہ صحت یاب ہوجائے ‘ بیوی نے اس کا ذکر ان سے کیا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ اگر وہ صحت مند ہوگئے تو اسے سو کوڑے ماریں گے۔
-4 اس نے اپنی مینڈھیاں دو روٹیوں کے عوض بیچیں جب اس نے کوئی چیز نہ پائی کہ وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے پاس لے جائے حضرت ایوب علیہ اسلام جب اٹھنے کا ارادہ کرتے تو وہ ان مینڈھیوں کا سہارا لیتے اسی وجہ سے آپ نے اس کو مارنے کی قسم اٹھائی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو شفا دی تو اسے حکم دیا کہ ایک گھٹالیں اور اس کے ساتھ ماریں۔ آپ نے چھوٹی ٹہنیاں لیں ان کی تعداد سو پوری کی اور اسے ایک ہی دفعہ مارا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضغث سے مراد گھاس کا مٹھا ہے جس میں تر اور خشک تنکے ملے ہوتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کھجور کی ٹہنی جس میں چھوٹی چھوٹی شاخیں ہیں۔
مسئلہ نمبر -2 یہ آیت اس بات کو ضمن میں لئے ہوئے ہے کہ مرد کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ادب سکھانے کے لئے مارے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے غلطی کی تو آپ نے قسم اٹھائی کہ اسے سو کوڑے ماریں گے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کھجوروں کے گچھے سے ماریں ‘ یہ حدود میں جائز نہیں اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم اس لئے دیا کہ وہ حد ادب سے بڑھ کر اپنی بیوی کو نہ ماریں اس کی وجہ سے یہ ہے کہ خاوند کۃ ے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ادب سے بڑھ کر اپنی بیوی کو مارے اسی وجہ سے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : و اضربو ھن ضربا عیر مبرج جس طرح سورة نساء میں گذر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر -3 علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے : کہا یہ حکم عام ہے یا صرف حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خاص ہے۔ مجاہد سے مروی ہے کہ یہ حکم صرف حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خاص تھا۔ مہدوی نے عطا بن ابی رباح سے روایت نقل کی ہے کہ وہ اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم باقی ہے جب کسی نے سوشاخوں کے ساتھ ایک ہی دفعہ مارا تو وہ آدمی بری ہوجائے گا ‘ امام شافعی نے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے ‘ اسی کی مثل ایک اپاہج کے بارے میں حکم دیا جس سے ایک لونڈی حامل ہوگئی تھی اور آپ نے حکم دیا کہ آپ شاخوں کا گچھا ماریں جس میں چھوٹی سو شاخیں ہوں وہ ایک ہی دفعہ ماریں۔
قشیری نے کہا : عطا سے کہا گیا آج بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا : قرآن نازل نہیں کیا گیا مگر اس لئے تاکہ آج اس پر عمل کیا جائے اور اس کی پیروی کی جائے۔ ابن عربی نے کہا : عطا سے یہ روایت کی گئی ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لئے خاص حکم تھا۔ ابو زید نے ابن قاسم سے وہ امام مالک سے رایت نقل کرتے ہیں جس نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اپنے غلام کو سوکوڑے مارے گا اس نے ان کو جمع کیا اور پھر ایک ہی دعہ اسے مارا تو وہ بری نہ ہوگا۔ ہمارے بعض علماء نے کہا : امام مالک اللہ تعالیٰ نے اس فرمان سے استدلال کرتے لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھا جا) المائدہ (48: یہ حکم ہماری شریعت کے ساتھ منسوخ ہے۔ ابن منزر نے کہا : ہم نے حضرت علی شیر خدا ؓ ‘ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے ولید بن عقبہ کو ایسی چھڑی سے مارا جس کی دو شاخیں تھیں اسے چالیس ضربیں لگائیں امام مالک نے اس کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی : فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدہ) النور (2: یہ اصحاب الرائی کا نقطہ نظر ہے۔ امام شافعی نے ایک حدیث سے استدلال کیا ہے اس کی سند میں گفتگو کی گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
میں کہتا ہوں : وہ حدیث جس سے امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے استدلال کیا ہے اسے ابودائود نے اپنی سنن میں رایت کیا ہے۔ احمد بن سعید ہمدانی ‘ ابن وہب سے وہ یونس سے وہ اپنی شہاب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے بیان کیا ہے کہ انہیں ایک انصاری صحابی نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک آدمی بیمار ہوا یہاں تک کہ بہت ہی کمزور ہوگیا وہ محض ہڈی پر چمڑا ہی رہ گیا کسی کی لونڈی اس کے پاس آئی ‘ اس کے دل میں لونڈی کے لئے میلان پیدا ہوا اور اس سے اپنی خواہش پوری کر بیٹھا جب اس کی قوم کے افراد اس کے پاس آئے تاکہ اس کی عیادت کریں تو اس مریض نے انہیں سب واقعہ بیان کردیا اور کہا : میرے لئے حضور ﷺ سے فتوی طلب کرو میں سے ایک لونڈی سے خواہش پوری کی ہے جو میرے پاس داخل ہوئی تھی انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا انہوں نے عرض کی : ہم نے کسی میں ایسی تکلیف نہیں دیکھی جو اس کو لاحق اگر ہم اسے آپ کے پاس اٹھا کر لائیں تو اس کی ہڈیاں الگ الگ ہوجائیں وہ محض ہڈیوں پر چمڑا ہی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ سو چھوٹی شاخص لائیں اور ایک ہی دفعہ اسے ماریں۔ امام شافعی نے کہا : جب ایک آدمی نے کہا میں فلاں کو سو کوڑے ماروں گا یا سو ضربیں لگائوں گا اس نے ضربا شدیدا کا ذکر نہیں کیا اور دل میں اس کی نیت بھی نہ کی تو اس کے لئے وہی ضرب کافی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ حانث نہ ہوگا۔
ابن منزر نے کہا : جب ایک آدمی قسم اٹھائے کہ وہ اپنے غلام کو سو کوڑے مارے گا اور اس نے اسے ہلکے ہلکے کوڑے مارے تو وہ قسم سے بری ہوجائے گا ‘ یہ امام شافعی ‘ ابو ثورا اور اصحاب رائے کا نقطہ نظر ہے۔ امام مالک نے کہا : ضرب وہی ہے جو درد دے۔
مسئلہ نمبر -4 ولا تحنث یہ ارشاد اس عمل پر دلیل ہے کہ قسم میں استثناء حکم کو ختم نہیں کرتی اگرچہ وہ متراخی ہی کیوں نہ ہو اس کے بارے میں بحث سورة مائدہ میں گذر چکی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : حنث فی یمینہ بحنث جب اس نے قسم کو پورا نہ کیا ہو کو فیوں کے نزدیک وائوزائدہ ہے کلام یوں ہے فاضرب لاتحنث۔
مسئلہ نمبر -5 ابن عربی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان فاضرب بہ ولا تحنث دو وجہوں میں سے ایک پر دلالت کرتا ہے (1) ان کی شریعت میں کفارہ نہ تھا اس میں صرف قسم سے بری ہونا اور قسم توڑنا تھا (2) ان سے نذر صادر ہوئی تھی قسم صادر نہ ہوئی تھی جب نذر معین ہو تو امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر کفارہ نہیں۔ امام شافعی نے کہا : ہر نذر میں کفارہ ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ قول کہ ان کی شریعت میں کفارہ نہ تھا یہصحیح نہیں کیونکہ حضرت ایوب (علیہ السلام) جب آٹھ سال تک مصیبت میں رہے جس طرح ابن شہاب کی روایت میں ہے تو آپ کے دو صحابہ نے کہا : تیقت آپ نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے میرا گمان نہیں کسی کو اس کی خبر ہوئی ہو۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کہا : میں نہیں جانتا تم کیوں کہتے ہو سوائے اس کے کہ میرا رب جانتا ہے کہ وہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا جو ایک دوسرے کی مدد کرتے تو ہر ایک قسم اٹھاتا یا جماعت کے پاس سے گزرتا جو آپس میں مدد کر رہے ہوتے ‘ میں ان کی قسموں کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا تاکہ ان میں سے کوئی بھی گناہ گار نہ ہو وہ اس کا ذکر کرتا ہے یا ذکر نہیں کرتا مگر حق کے ساتھ۔ تو آپ نے اپنے رب کے حضور یہ ندا کی : انی مسنی الضرو انت ارحم الرحمنک۔ ) الانبیائ ( اور حدیث کا ذکر کیا یہ حدیث تجھے یہ فائدہ پہنچاتی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے زمانہ میں کفارہ تا جس کے بغیر اجازت کے کفارہ ادا کیا تو اس نے اس کی طرف سے فریضہ ادا کیا اور دوسرے سے کفارہ ساقط ہوگیا۔
مسئلہ نمبر -6 بعض جاہل زاہدوں اور صوفیوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو جو یہ ارشاد فرمایا : ارکض برجلک اس میں رقص کا جواز ہے۔ ابو فرج نے کہا : یہ تو غیر ذمہ دارانہ استدلال ہے کیونکہ اگر آپ کو پائوں مارنے کا حکم خوش سے ہوتا تو اس میں کوئی شبہ ہو سکتا تھا آپ کو پائوں مارے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ پانی نکلے۔
ابن عقیل نے کہا : وہ آدمی جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو اس کے بارے میں کہاں دلالت موجود ہے کہ جب مصیبت رفع ہو تو وہ زمین پر اپنا پائوں مارے تاکہ پانی کا چشمہ ابل پڑے کہ یہ رقص کا اعجاز ہے اگر یہ جائز ہو کہ پائوں کو حرکت دینا یہ اسلام میں رض کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ تو یہ بھی جائز ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے صادر ہوا اضرب بعصاک الحجر) البقرہ (60: تو اس میں یہ دلالت ہوتی کہ دشمن کو شاخوں سے مرا جائے ہم شرع کے ساتھ اس کھیل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔
بعض کوتاہ اندیشوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی شیر خدا سے فرمایا : انت منی و انا مک تو آپ ایک ٹانک پر چلے آپ نے حضرت جعفر سے فرمایا : اشبھت خلقی و خلقی تو وہ ایک ٹانک پر چلے آپ نے حضرت زید سے فرمایا : انت اخونا و مولانا تو وہ ایک ٹانگ پر چلے ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حبشیوں نے جنگی کرتب دکھائے جب کہ نبی کریم ﷺ انہیں دیکھ رہے تھے اس کا جواب یہ ہے جہاں تک ” حجل “ کا تعلق ہے یہ چال کی ایک نوع ہے جو خوشی کے موقع پر اپنائی جاتی ہے یہ چال اور رقص کہاں۔ اسی طرح حبشیوں کا ” زفن “ یہ بھی چال کی ایک صورت ہے جو جنگ کے موقع پر اپنائی جاتی ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ انا وجدنہ صابرا یعنی ہم نے اسے آزمائش میں صابر پایا۔ نعم العبد انہ واواب۔ وہ توبہ کرنے والے ‘ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور مطیع ہیں۔ سفیان سے ان دو افراد کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان میں سے ایک کو آزمایا گیا تو اس نے صبر کیا دوسرے پر انعام کیا گیا اس نے شکر کیا تو فرمایا : دونوں برابر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں بندوں کی طرف کی ہے ان میں سے ایک صابر تھا اور دوسرا شاکر تھا دونوں پر ایک جیسی تعریف کی حضرت ایوب علیہ اسلام کی تعریف میں کہا : نعم العبد انہ اواب۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تعریف میں کہا گیا : نعم العبد اواب۔۔
میں کہتا ہوں : صاحب القوت نے اس کلام کو رد کیا ہے اور حضرت ایوب علیہ اسلام کے واقعہ سے اس فقیر کی غنی پر فضیلت کا ذکر کیا ہے اور طویل گفتگو جس کے ذریعے اپنی کلام کو قوی کیا ہم نے اس کا ذکر کتاب منہج العباد رمحجۃ السالکین و الزھاد میں کیا ہے ان پر یہ امر مخفی رہا کہ آزمائش سے قبل اس کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) غنی انبیاء میں سے تھے آپ کے امتحان آپ کے مال اور اولاد کے چلے جانے اور جسم میں پڑی بیماری کی صورت میں ہوا تھا اسی طرح دوسرے انبیاء نے بھی صبر کیا جو بھی ان پر امتحان آیا اور انہیں آزمائش میں ڈالا گیا۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) جس کیفیت میں امتحان میں داخل ہوئے اس کیفیت میں اس سے نکلے نہ ان کی حالت بدلی اور نہ ہی ان کی گفتگو بدلی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) معنی مقصود میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ جمع ہوئے وہ تبدیلی کا نہ ہوتا تھا جس میں بعض لوگ بعض پر فضیلت رکھتے ہیں اس اعتبار سے غنی شاکر اور فقیر صبر برابر ہیں بات اسی طرح ہے جس طرح سفیان نے کہی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
ابن شہاب نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نکلے جب وہ اپنی حاجت کے لئے اس کی طرف نکلا کرتے تھے تو اللہ نے ان کی طرف وحی کی : اپنا پائوں زمین کی طرف مارو ‘ یہ ٹھنڈا پانی ہے اور مشروب ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا گوشت ‘ بال اور جلد خوبصورت ترین انداز میں لوٹا دی پھر اس پانی کو پیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی پیت میں جود درد دیا کمزوری تھی اس کو دور کردیا اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ان کے لئے سفید کپڑے اتارے ایک کو آپ نے تہبند بنایا اور دوسری کو چادر بنایا پھر چلتے ہوئے اپنے گھر کی طرف آئے اور بیوی پر آنے میں دیر کی وہ بیوی آئی یہاں تک کہ آپ کو ملی جب کہ وہ آپ کی پہچان نہیں رہی تھی اس نے آپ کو سلام کیا پوچھا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے : کیا تو نے اس آزمائش میں پڑے آدمی کو دیکھا ہے : آپ نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ بیوی نے کہا : اللہ کے نبی حضرت ایوب (علیہ السلام) ۔ اللہ کی قسم ! میں کسی کو تجھ سے بڑھ کر اس سے زیادہ مشابہ نہیں دیکھا جب وہ تندرست تھے فرمایا : میں ایوب ہوں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایک گھٹا لیا اور بیوی کو مارا۔ ابن شہاب نے گمان کیا ہے : وہ گھٹا ثمامہ بوٹیکا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل اور ان کی مثل ان کی طرف لوٹا دیئے ایک بادل آیا وہ اس جگہ سونے کے ساتھ برسا جہاں گندم صاف کی جاتی یہاں تک کہ اس جگہ کو بھر دیا ایک دوسرا بادل اسی جگہ کی طرف آیا جہاں جو صاف کیے جاتے اور قطانیہ) چنے کی قسم کے دانے ( صاف کیے جاتے وہ چاندی کے ساتھ برسا یہاں کہ وہ بھر گیا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے عبدنا پڑھا ہے یہ سند صحیح کے ساتھ ثابت ہے۔ ابن عینیہ نے عمرو سے وہ عطا سے روایت نقل کرتے ہیں وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتا ہیں ‘ یہ مجاہد حمید ابن محیصن اور ابن کثیر کی قراءت ہے اس قراءت کی بنا پر ابراھیم ‘ عبدنا سے بدل ہوگا اور اسحاق و یعقوب اس پر معطوف ہونگے اس صورت میں ابراہیم اور مابعد اس کا بدل ہونگے۔
عربی لغت کے مطابق اس کی شرح یہ ہوگی جب تو کہے : رایت اصحابنا زیدا و عمرو خالدا تو اس صورت میں زید ‘ عمرو ‘ خالد بدل ہونگے وہی اصحاب ہیں جب تو کہے : رایت صاحبنا زیدا عمرا و خالدا تو صرف زید بدل ہوگا عمرو اور خالد کا عطف صاحبنا پر ہو وہ وہ مصاحبت میں داخل نہیں مگر اس کے علاوہ دلیل سے مگر اسے یہ علم ہے و اسحاق و یعقوب عبودیت میں داخل ہیں۔
جس نے یہ کہا تھا کہ ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں حضرت اسماعیل علیہ اسلام نہیں اس نے اسی آیت سے استدلال کیا جس طرح ہم نے اپنی کتاب الاعلام بمولدالنبی (علیہ السلام) میں زکر کیا ہے ‘ یہی قول صحیح ہے۔
اولی الایدی والابصار نحاس نے کہا جہاں تک الابصار کا تعلق ہے اس کی تاویل پر تو اتفاق ہے کہ یہاں بصائر سے مراد دین اور علم میں بصیرتیں ہیں جہاں تک الایدی کا تعلق ہے تو اس کی تاویل میں اختلاف ہے۔ اہل تفسیر کہتے ہیں اس سے مراد قوت ہے ایک قوم کہتی ہے : الای یہ ہد کی جمع ہے جس سے مراد نعمت ہے وہ نعمتوں والے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ انعام و احسان کرنے والے لوگ ہیں انہوں نے احسان کیا اور بھلائی کو آگے بھیجا ‘ یہ طبری کا نقطہ نظر ہے۔
وانھم عند نا لمن المصطفین الاخیا ر۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اون اس سے پاک کیا اور اپنی رسالت کے لئے پسند کیا مصطفین یہ مصطفیٰ کی جمع ہے اصل میں مصتفی تھا۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔ ان اللہ اصطفی لکم الدین۔ آیت 132 ۔ اخیار یہ خیر کی جمع ہے۔
اعمش ‘ عبدالوارث ‘ حسن بصری اور عیسیٰ ثقفی نے اولی الایدیاء کے بغیر پڑھا ہے یہ وقف اور وصل کی صورت میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں وہ قوی تھے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی جماعت کی قراءت کے مطابق ہو اور یاء تخفیف کے طور پر حذف ہو۔
انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار۔ عام قراء کی قراءت بخالصۃ تنوین کی صورت میں ہے ‘ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا اختیار ہے۔ نافع ‘ شیبہ ‘ ابو جعفر اور ہشام نے اب عامر سے بخالصۃ ذکری الدار ضافت کی صورت میں پڑھا ہے جس خالص پر تنوین پڑھی ہے اس نے ذکری الدار کو بدل بنایا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی : انا اخلھنا ہم بان یذکر والدار الاخرۃ ہم نے انہیں خالص کیا کہ وہ دار آخرت کو یاد کریں ‘ اس کے لئے تیاری کریں ‘ اس میں رغبت کریں اور لوگوں میں رغبت دلائیں۔
یہ بھی جائز ہے کہ خالصۃ ‘ خلص کا مصدر ہو ذکری رفع کے محل میں ہو کیونکہ یہ فاعل ہے معنی ہوگا ہم نے انہیں خالص کیا یعنی میں نے ان کے لئے دارآخرت کے ذکر کو خالص کیا۔ یہ بھی جائز کہ خالصۃ ‘ اخلصت کا مصدر ہوتا زیادتی حذف ہوگئی اس صورت میں ذکری محل نصب میں ہوگا تقدیر کلام یوں ہوگی بان اخلصوا ذکری الدار۔
دار سے مراد دنیا لینا بھی جائز ہے معنی یہ ہوگا وہ دنیا سے نصیحت حاصل کریں اس میں زہد اپنائیں تاکہ ان کے لئے اچھی تعریف خالص ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و جعلنالھم لسان صدق) مریم (50: یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد دار آخرت ہو اور مخلوق کو یاد لا کر نصحیت کی گئی جس نے خالصہ کو الدار کی طرف مضاف کیا ہے تو اس صورت میں یہ الاخلاص کے معنی میں مصدر ہے الذکر مفعول بہ ہے جو فائل کی طرف مضاف ہے اور خالصہ یہ مصدر ہے خلوص کے معنی میں ہے یعنی میں نے ان کے لئے دار کا ذکر خالص کردیا۔ دار سے مراد دنیا ہو یا آخرت ہو جس طرح پہلے گذرا ہے۔
ابن زین نے کہا : معنی ہوگا وہ آخرت کا ذکر کرتے ہیں وہ اس میں رغبت رکھتے ہیں اور دنیا میں زہد اختیار کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : معنی ہے ہم نے ان کے لئے جنت کا ذکر کیا۔
Ayahs 38:48–5448 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔
حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی ‘ صدیق اور شہید۔ مفتحۃ ترکیب کلام میں حال بن رہا ہے۔
الابواب کو رفع دیا گیا ہے کیونکہ یہ نائب الفاعل ہے۔ زجاج نے تقدیر کلام یوں کی ہے مفتحۃ لھم الابواب منھا فراء نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے مفتحۃ لھم ابوابھا یعنی ابواب پر الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ فراء نے اس قراءت کو بھی جائز قرار دیا ہے مفتحۃ لھم الابواب یعنی الابواب کو نصب دی ہے۔ فراء نے کہا : اصل میں مفتحۃ الابواب ہے پھر تو تنوین لایا اور الابواب کو نصب دی۔
فراء اور سیبویہ نے یہ شعر پڑھا :
و ناخذ بعدہ بذناب عیش اجب اظھر لیس لہ سنام
ہم اس کے بعد زندگی کی دموں کو پکڑنے والے ہونگے کمزوری کی وجہ سے جس کی کہ ان نہیں۔
یہاں مفتحۃ فرمایا مفتوحۃ نہیں فرمایا کیونکہ انہیں حکم کے ساتھ کھولا گیا ہے ہاتھ لگانے سے وہ نہیں کھلے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یوں کہا جاتا ہے انفتحی فتنفتخ ‘ انغلقی فتنغلق (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرشتے ان کے لئے دروازے کھولیں گے۔
متکین فیھا یہ حال ہے جسے عامل پر مقدم کردیا گیا ہے عامل یدعون ہے یعنی وہ جنات میں طلب کرتے ہوں گے ‘ جب کہ وہ ٹیک لگائے ہوں گے ‘ رنگا رنگ پھل اور کثیر مشروب کیونکہ کلام دلالت کر رہی ہے اس لیے کثیر کا لفظ حذف کردیا گیا ہے۔
و عندھم قصرت الطرف ایسی بیویاں ہونگی جو اپنی نظریں خاوندوں تک محدود رکھتی ہیں کسی اور طرف نظر نہیں کرتیں سورة الصافات میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ اتراب۔ ہم عمران کی عمریں ایسی ہوں گی گویا سب ایک ہی دن میں پیدا ہوئی ہیں وہ حسن ‘ جوانی میں برابر اور تینتیس سال کی ہونگی۔
اتراب ‘ ترب کی جمع ہے یہ قاصرات کی صفت ہے کیونکہ قاصرات نکرہ ہے اگرچہ معرفہ کی طرف مضاف ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ الف لام اس پر داخل ہوتا جس طرح شاعر نے کہا :
من القاصرات الطرف لو دب محول من الذر فوق الاتب منھا لاثرا
وہ جھکی نظروں والی ہیں اگر ایک باریک چیونٹی ان کی قمیض کے اوپر سے گذرے تو وہ بھی اثر چھوڑ جاتی ہے۔
ھذا ما توعدون لیوم الحساب۔ یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ عام قراءت تاء کے ساتھ ہے ما وعدون ایھا المومنون یعنی اے مومنو ! یہ وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ‘ ابن کثیر ‘ ابن محیصن ‘ ابو عمرو اور یعقوب نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے (1) ‘ یہ سلمی کی قراءت ہے۔ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وان للمتقین لحسن ماب۔ پس یہ خبر لیوم الحساب میں لام ‘ فی کے معنی میں ہے۔ اعشی نے کہا
المھیین مالھم لزمان السوء حتی اذا افاق افاقو ا
وہ ذلیل و رسوا ہیں برے زمانے میں ان کے لئے کچھ بھی نہیں جب زمانہ کو افاقہ ہوتا ہے تو انہیں افاقہ ہوتا ہے۔
اس شعر میں لام ‘ فی کے معنی میں ہے۔
ان ھذا الرز قناما لہ من نفاد۔ یہ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمیشہ ہونگی ختم نہ ہو نگی جس طرح فرمایا : عطاء غیر مجذوذ۔ ) ہود ( فلھم اجر غیر ممنون۔ ) التین (
Ayahs 38:55–6155 ۔ 61:۔ جب متقین کا ذکر کیا تو سرکشوں کے انجام کا بھی ذکر کیا۔ زجا ج نے کہا : ھذا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے الامرھذا اس وجہ سے ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : ھذا پر وقف اچھا ہے پھر تو و ان للطغین سے کلام کا آغاز کرے گا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
ماب۔ سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف وہ لوٹیں گے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی : جہنم یصلونھا فبئس البھاد۔ انہوں نے جو اپنے لئے ٹھکانہ تیار کیا ہے وہ کتنا برا ہے یا یہ بستر ان کے لئے کتنا برا ہے اسی سے بچے کا پنگھوڑا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے بئس موضع المھاد۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی یہ ہے کہ جس کی صفت بیان کی گئی ہے وہ ان متقین کے لئے ہے پھر فرمایا کہ سرکشوں کے لئے لوٹنے کی بری جگہ ہے ‘ تو اس صورت میں ھذا پر وقف کیا جائے گا۔
ھذا فلیذ وقوہ حمیم و غساق۔ ھذا مبتدا ہونے کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اس کی خبر حمیم ہے کلام میں تقویم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہے ھذا حمیم و غساق فلید و قوہ ‘ فلیذو قوۃ پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی جائز ہے کہ ھذا مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہو اور فلیذو قوہ خبر ہو فعل پر فاء اس لیے آئی ہے کیونکہ ھذا میں الذی کا معنی پایا جاتا ہے اس صورت میں فلیذ وقوہ پر عطف کیا جائے گا اور حمیم کو اس تقدیر کی بناء پر رفع دیا جائے گا ھذا حمیم۔
نحاس نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ معنی الامرھذا جمیم اور غساق کو جب تو خبر نہ بنائے تو ان دونوں کا رفع اس تقدیر پر ہوگا ھو حمیم و غساق فراء نے اس تعبیر کی بنا پر دونوں کو رفیع دیا۔ منہ حمیم و منہ غساق اور یہ شعر پڑھا :
حتی اذا ما اضاء الصبح فی غلس و غودر البقل ملوی و محصود
جب تاریکی میں صبح روشن ہوئی سبزیوں کو چھوڑ دیا گیا ان میں سے کچھ لپٹی ہوئی تھیں اور کچھ کٹی ہوئی تھیں۔
محل استدلال ملوی و محصود ہے اصل میں منہ ملوی اور منہ محصود تھا۔
ایک اور شاعر نے کہا :
لھا متاع و اعوان عدون بہ قتب و غرب اذا ما افرغ انحسفا
یہ بھی جائز ہے کہ ھذا محل نصب میں ہو اور فعل مضمر جس کی تقفسیر فلیذو قوہ بیان کرتا ہے اور حمیم و غساق سے تو نئی کلام شروع کرے گا تقدیر کلام یوں ہوگی الامرحمیم و غساق۔
اہل مدینہ ‘ اہل بصرہ میں بعض کو فیوں کے نزدیک غساق میں قراءت سین کی تخفیف کے ساتھ ہے۔ یحییٰ بن و ثاب ‘ اعمش ‘ حمزہ اور کسائی نے عشاق تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اخفش کے قول میں دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں کا معنی مختلف ہے جس نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے تو اس صورت میں یہ محض اسم ہوگا جیسے عذاب ‘ جواب ‘ صواب ‘ جس نے اسے مصدر پڑھا ہے اس نے کہا : یہ اصل میں اسم مبالغہ ہے جو مبالغہ کے طریقہ پر فعال کی طرف نقل کیا گیا ہے جیسے ضراب ‘ قتال یہ غسق بغسق سے فعال کے وزن پر ہے اس سے اسم فاعل غساق اور غاسق کے وزن پر آتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد سخت ٹھنڈک ہے جو انہیں اپنی ٹھنڈک کے ساتھ خوفزدہ کرے گی۔ مجاہد اور مقاتل نے کہا : اس سے مراد ایسی براف ہے جس کی ٹھنڈک انتہائی کو پہنچی ہوئی ہوگی (1) ۔ دوسرے علماء نے کہا : گاڑھی پیپ ہوگی اگر اس میں کوئی چز مشرق میں گرے تو جو مغرب میں ہوگا وہ اس کی وجہ سے بدبو دار ہوجائے گا اگر اس میں کوئی چیز مغرب میں گرے تو جو مشرق میں ہیں اس سے بدبودار ہوجائیں گے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے جو بدکاروں کی شرمگاہوں اور کافروں کے گوشتوں اور ان کی جلدوں سے کچ لہو اور پیپ میں سے بدبو دار چیز نکلے گی۔ محمد بن کعب نے کہا : یہ جہنمیوں کا نچڑن ہے ‘ یہ قول لغت کے زیادہ مشابہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : غسق الجرح یغسق غسقا یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب اس سے زیادہ پانی نکلے۔ شاعر نے کہا :
اذا ما تذکرت الحیاۃ و طیبھا الی جرسی دمع من اللیل غاسق
جب میں نے زندگی اور اس کی اچھائی کو ظاہر کیا تو آنکھ سے ٹھنڈا آنسو بہہ پڑا۔
یہ کہا جاتا ہے لیل غاسق کیونکہ وہ دن سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ سدی نے کہا : غساق سے مراد وہ چیز ہے جو ان کی آنکھوں اور آنسئوں سے بہے جسے وہ حمیم) کھولتے ہوئے پانی ( کے ساتھ پیتے ہیں۔ ابن زید نے کہا : حمیم سے مراد ان کی آنکھوں کے آنسو ہیں جو جہنم کے حوضوں میں جمع ہونگے جسے وہ پیئیں گے۔ صد یدا سے کہتے ہیں جو ان کے چمڑوں سے نکلے گی۔ اس قول کو ختیار کرنے کی بناء پر غساق سیال کی طرح ہوگا۔ کعب نے کہا : غساق جہنم میں ایک چشمہ ہے جس میں بچھو اور سانپ وغیرہ کا زہر اس کی طرف بہتا رہے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ظلمت اور سواد سے ماخوذ ہے ‘ غسق سے مراد رات کی تاریخ کا آغاز ہے قدغسق الیل اس وقت کہتے ہیں جب وہ تاریک ہوجائے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لو ان دلوا من غساق یہراق فی الدنیا لا نتن اھل لدنیا اگر غساق کا ایک ڈول دنیا میں بہایا جائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں گے۔
میں کہتا ہوں : یہ پہلے اشتقاق کے زیادہ مناسب ہے جس طرح ہم نے بیان کیا مگر یہ احتمال موجود ہے کہ غساق بہنے کے ساتھ سیاہ ہوجائے تو دونوں اشتقاق صحیح ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
و اخر من شکلۃ ازواج۔ ابو عمرو نے و اخر پڑھا ہے یہ آخری کی جمع ہے جس طرح کبری کی جمع کبر آتی ہے۔ باقی قراء نے اسے و آخر مفرو مذکر پڑھا ہے ابو عرو نے و آخر نے کا انکار کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ازواج جمع کی خبر واحد سے نہیں لگائی جاتی ہے۔ عاصم حجدری نے و اخر کا انکار کیا ہے اگر یہ واخر ہوتا تو کلام یوں ہوتی من شکلھا دونوں امر لازم نہیں قراءتیں صحیح ہیں و اخر ہو تو معنی یہ ہوگا حمیم اور غساق کے سوا دوسرا عذاب۔
من شکلۃ قتادہ نے کہا : اسی کی مثل حضرت ابن مسعود نے کہا : وہ زمہر یر ہے واخر مرفوع ہے (1) کیونکہ یہ مبتدا ہے آزواج یہ دوسرا مبتدا ہے من شکلۃ یہ اس کی خبر ہے اور جملہ) آخر ( کی خبر ہے یہ بھی جائز ہے کہ واخر مبتدا ہو اور اس کی خبر مضمر ہو جس پر یہ کلام دلالت کرتی ہے ھذا فلیذ و قوۃ حمیم و غساق۔ کیونکہ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ یہ انہیں کے لئے ہے گویا یہ کلام کی ولھم آخر تو اس صورت میں من شکلۃ آزواج ‘ اخر کی صفت ہوگی پس مبتدا صفت کے ساتھ خاص ہوجائے گا آزواج ظرف کے ساتھ مرفوع ہے۔ جس نے واخر پڑھا اس نے ارادہ کیا عذاب کی اور قسموں کا ‘ جس نے اسے جمع کا صیغہ پڑھا اور زمہر یر کا ارادہ کیا تو زمہریر کی کئی جنسیں بتائیں تو اس جمع ذکر کیا کیونکہ جنس مختلف ہیں یا ان سے ہر چیز کو زمہر یر بنا دیا پھر اس کی جمع بنائی جس طرح عربوں نے کہا : شابت مفارقہ یاء جمع کا صیغہ ہے کیونکہ کلام میں جمع کے جواز پر دلالت موجود ہے کیونکہ زمہریہ جو سردی کی انتہاء کو کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں جمع کے مقابل ہے : ھذا فلیذ و قوہ حمیم و غساق۔ شکلۃ میں ضمیر جائز ہے کہ وہ حمیم یا غساق کی طرف لوٹے یا اس معنی کی طرف لوٹے جو ہم نے و اخر من شکلہ میں ذکر کیے ہیں آخر کو جب جمع کے صیغہ کی حیثیت سے پڑھیں گے تو یہ مبتدا ہونے کی حیثیت میں مبتدا ہوگا من شکلہ اس کی صفت ہوگا اس میں ضمیر مذکر ہے جو مبتدا کی طرف لوٹتی ہے اور ازواج مبتدا کی خبر ہے یہ جائز نہیں کہ اس تقدیر پر اسے محمول کیا جائے و لھم اخر ‘ من شکلۃ اس کی صف ہو اور ازواج ظرف کے ساتھ مرفوع ہے جس طرح یہ افراد میں جائز ہے کیونکہ جب ازواج مرفوع ہو تو صفت میں کوئی ضمیر نہ ہوگی ‘ یہ ابو علی نے کہا۔ ازواج کا معنی عذاب کی اصناف و الوان ہیں۔ یعقوب نے کہا : جب شکل شین کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی مثل ہوگا اور جب شین کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ایسی عورت ہوگا جو اچھی گفتگو کرنے والی ‘ اچھے مزاج اور ہئبت والی ہوگی۔
ھذا فوج مقتحم معکم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب قائدین جہنم میں داخل ہوں گے (1) پھر ان کے بعدان کے پیروکار داخل ہونگے تو خازن ‘ سرداروں کو کہیں گے : انکی منازل آگ میں خوشگوار نہ ہوں گی۔ الرجب کا معنی وسعت ہے اسی سے رحبۃ المسجد ہے یعنی مسجد کا صحن۔ یہ دعا کے لئے لفظ استعمال کیا جاتا ہے اسی وجہ سے نصب دی جاتی ہے نابغہ نے کہا :
لا مرحبا بغد ولا اھلا بہ ان کان تفریق الاحبۃ فی غد
کل کو نہ مرحبا ہے اور نہ ہی اہلا وسہلا ہے اگر کل دوستوں کے درمیان جدائی ہوئی ہے۔
ابوعبید نے کہا : عرب کہتے ہیں لا مرحبابک۔ نہ تیرے لیے زمین خوشگوار ہوئی اور نہ ہی وسیع ہوئی۔
انھم صالو النار۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قائدین کا قول ہے یہ جہنم میں داخل ہونے والے ہیں جس طرح ہم نے انہیں جہنم میں داخل کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ملائکہ کا قول ہے یہ ان کے قول ھذا فوج مقتحم معکم اور قالو بل انتم لا مرحبا بکم کے ساتھ متصل ہے ‘ یہ متبعین کا قول ہے۔ نقاش نے بیان کیا ہے کہ پہلی جماعت مشرکین ہے کے سردار اور بدر کے روز انہیں کھانا کھلانے والوں کی ہوگی ‘ دوسری جماعت بدر میں ان کی اتباع کرنے والوں کی ہوگی۔ آیت کا ظاہر اس پر دال ہے کہ یہ ہر تابع اور متبوع کو عام ہے۔
انتم قدمتموہ لنا یعنی تم نے ہمیں عصیان کی طرف دعوت دی فبئس القرار ہمارا اور تمہارا ٹھکانہ کتنا برا ہے قالو ربنا من قدم لنا ھذا پیرو کاروں نے کہا : فراء نے کہا : فراء نے کہا : جس نے ہمارے لئے اس عمل کو جائز قرار دیا اور اس کی سنت قائم کی۔ دوسرے علماء نے کہا : جس نے ہمارے حق میں عذاب کو مقدر کیا کہ ہمیں معاصی کی طرف دعوت دی فردہ عذابا ضعفا فی النار۔ یعنی ان کے حق میں اس وجہ سے بھی عذاب مقدر ہے کہ انہوں نے ہمیں اس امر کی طرف بلایا تو اس طرح ان کے حق میں یہ دگنا ہوجائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : عذابا ضعفا سے مراد چھوٹے بڑے سانپ ہیں (1) اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ربنا ھٔولاء اصلونا فاتھم عذابا ضعفا من النار) الاعراف (38:
Ayahs 38:62–6462 ۔ 64:۔ و قالو یعنی مشرکین کے اکابر نے کہا : کیا وجہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو یہاں نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم شریر شمار کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : وہ اشرار سے مراد حضرت محمد ﷺ کے صحابہ لیتے۔ ابو جہل کہے گا : بلال کہاں ہے ‘ صہیب اور عمار کہاں ہے ؟ وہ فردوس میں ہونگے۔ ابو جہل پر تعجب ہے وہ بیچارہ مسکین ‘ اس کا بیٹا حضرت عکرمہ مسلمان ہوگیا اس کی بیٹی جو یریہ مسلمان ہوگئی اس کی ماں مسلمان ہوگئی اور اس کا بھائی مسلمان ہوگیا جب کہ اس نے کفر کیا۔ شاعر نے کہا :
و نورا اضاء الارض شرقا و مغربا و موضع رجلی منہ اسود مظلم
وہ نور جس نے زمین کے مشرق و مغرب کردیا اور میرے قدم کی جگہ اس سے تاریک و سیاہ ہے۔
اتخذنھم سخریا مجاہد نے کہا : ہم نے دنیا میں ان کا مذاق اڑایا تو ہم نے غلطی کی آم زغت عنھم الابصار۔ یا ہماری آنکھیں سے پھر گئی ہیں تو ہم ان کا مکان نہیں جانتے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے یہ سب کچھ کیا تھا ‘ انہوں نے صحابہ کا مذاق اڑایا اور دنیا میں ان کی آنکھیں ان کی آنکھیں ان سے پھر گئی تھیں کیونکہ وہ انہیں حقیر خیال کرتے تھے (2) ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : امر زاغت عنھم الابصار کا معنی ہے کیا وہ ہمارے ساتھ جہنم میں ہی ہیں ہم انہیں دیکھتے نہیں ابن کثیر ‘ اعمش ‘ ابو عمرو ‘ حمزہ اور کسائی من الاشرار۔ اتخذنہم پڑھا کرتے تھے یعنی ہمزہ وصلی کو حذف کرتے تھے۔ ابو جعفر ‘ شیبہ ‘ نافع ‘ عاصم اور ابن عامر اتخذناھم پڑھا کرتے تھے یعنی ہمزہ استفہام کا ہمزہ قطعی پڑھتے اور ہمزہ وصل ساقط ہوگیا کیونکہ اب اس سے استفناء ثابت ہوچکی ہے جس نے الف کے حذف کے ساتھ پڑھا تو وہ الاشرار پر وقف نہیں کرے گا کیونکہ اتخذنا ھم حال ہے۔ نحاس اور سبحستانی نے کہا : یہ رجال کی صفت ہے ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ لغت نہ تو ماضی کا صیغہ ہوتا ہے نہ ہی مستقبل کا صیغہ ہوتا ہے۔
جس نے اتخذناھم ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے اس نے الاشرار پر وقف کیا۔ فراء نے کہا : یہاں استفہام تو بیخ اور تعجب کے لئے ہے جب تو اتخذناھم کو استفہام کے ساتھ پڑھے تو ام تسویہ کے لئے ہوگا جب تو استفہام کے بغیر پڑھے تو یہ بل کے معنی میں ہوگا۔ ابو جعفر ‘ نافع شیبہ ‘ مفضل ‘ ہبیرہ ‘ یحییٰ ‘ اعمش ‘ حمزہ اور کسائی نے سخرنا پڑھا ہے باقی نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبیدنے کہا : جس نے اس کو کسرہ دیا اس نے اسے ھزء سے بنایا ہے اور جس نے اس کو ضمہ دیا اس کے معنی تخسیر کیا۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔
ان ذلک لحق تخاصم اھل النار۔ لحق ان کی خبر اور تخاصم یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہوگا ھو تخاصم یہ بھی جائز ہے کہ یہ حق سے بدل ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ خبر کے بعد خبر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ذلک سے بدل ہو معنی ہوگا جہنمیوں کا جہنم میں جھگڑا حق ہے جس طرح یہ قول : لا مرحبا بکم اور اس جیسے دوسرے اقوال۔
Ayahs 38:65–7065 ۔ 70:۔ قل انما انا منذر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے وما الہ الہ کا معنی معبود ہے اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں العزیز الغفار۔ پر رفع صفت ہونے کے اعتبار سے ہے اگر تو پہلے کو نصب دے تو اسے بھی نصب دے گا پہلے کو رفع اور مابعد کو مدح کے طور پر نصب دینا بھی جائز ہے العزیز کا معنی محفوظ ہے جس کی کوئی مثل نہ ہو الغفار سے مراد جو مخلوقات کے گناہوں کو بخشنے والا ہو۔
قل ھو نبوا اعظم۔ اے محمد ! انہیں کہو حساب ‘ ثواب اور عقاب کے بارے میں جو تمہیں ڈرا رہا ہوں یہ عظیم الشان خبر ہے مناسب نہیں کہ اسے ہلکا جانا جائے ‘ یہ قتادہ نے معنی کیا ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : عم یتساء لون۔ عن النباالعظیم۔ ) النسائ ( حرکت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد قتادہ نے کہا : اس سے مراد قرآن حکیم ہے (1) جس نے تمہیں اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے وہ عظیم الشان خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نباء عظیم سے مراد عظم منفعت ہے۔
ما کان لی من علم بالملا الاعلی اذیختصمون۔ ملا اعلی سے مراد ملائکہ ہیں (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کے قول کے مطابق فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں اس وقت جھگڑا کیا تھا جب آپ کی تخلیق کیا گیا فرشتوں نے کہا : اتجعل فیھا من یفسد فیھا) البقرۃ (30: ابلیس نے کہا : انا خیر منہ اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کے واقعات کی خبر دی اللہ تعالیٰ کی تائید کے بغیر اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا نبی کریم ﷺ کی صداقت پر معجزہقائم ہے انہیں کیا ہوگیا کہ قرآن حکیم میں تدبر کرنے سے اعراض کرتے ہیں جب کہ وہ تدبر کر کے آپ کی صداقت کی پہچان سکتے تھے اسی وجہ سے اس قول کو ‘ اس قول : قل ھو نبوا عظیم۔ انتم عنہ معرضون۔ جوڑا ہے۔ دوسرا قول جسے ابو اشہب نے حضرت حسن بصری ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے رب ! نے مجھ سے پوچھا : اے محمد ﷺ فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفارات اور درجات میں جھگڑ رہے ہیں پوچھا : کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی : جماعت کے لئے قدموں پر چل کر جانا ‘ سخت سردی میں اچھی وضو کرنا اور نماز کے بعد مساجد میں مساجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنا ‘ پوچھا : درجات کیا ہیں ؟ میں عرض کی سلام کو عام کرنا ‘ کھانا کھلانا ‘ رات کی وقت نماز پڑھنا جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں (1) ۔ امام ترمذی سے اسی معنی میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس کے بارے میں کہا : حدیث غریب ہے۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے اس کے بارے میں کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) ہم نے اسے مکمل طور پر کتاب الاسنی فی شرع اسماء اللہ الحسنی میں تحریر کہا ہے اور ہم نے اس کے اشکال کو بیان کیا ہے۔ الحمد اللہ۔ سورة یس میں مساجد کی طرف چلنے کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے قدم سیاست کا کفارہ بنتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ملا اعلی سے مراد فرشتے ہیں یختصمون میں ضمیر دونوں فرقوں کے لئے ہے اس سے مراد ان لوگوں کا قول ہے جنہوں کہا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور جس نے یہ کہا وہ ایسے معبود ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ملا علی سے مراد قریش ہیں ان کے اختصام سے مراد ان کا راز داری سے جھگڑا کرنا ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو آگاہ کردیتا ہے۔
ان یو حی الی الا الما انا نذیر مبین۔ میری طرف اندار کی وحی کی جاتی۔ ابو جعفر بن قعقاع نے اسے الاانما پڑھا ہے کیونکہ وحی بھی ایک قول ہے گویا کہا : میرے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میں واضح خبر دار کرنے والا ہوں۔ جس نے ہمزہ کو فتحہ دیا اس نے اسے محل رفع میں رکھا ہے کیونکہ یہ نائب الفاعل ہے۔ فراء نے کہا : گویا آپ نے کہا میری طرف انداز کے سوا وحی نہیں کی گئی۔ نحاس نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ انما محل نصب میں ہو۔
Ayahs 38:71–7471 ۔ 74:۔ اذ کا تعلق یختصمون کے ساتھ معنی یہ ہے جب وہ جھگڑ رہے تھے تو مجھے ملا اعلی کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اذ قال یہ اذیختصمون سے بدل ہے تختصمون مخدوف کے متعلق ہے کیونکہ معنی ہے جس ملا اعلی والے جھگڑ رہے تھے تو مجھے ان کی گفتگو کا کچھ علم نہ تھا فاذا سویتہ اذا یہ ماضی کے فعل کو مستقل کی طرف پھیر دیتا ہے کیونکہ یہ حروف شرط کے مشابہ ہے اس کا جواب حرف شرط کے جواب جیسا ہوتا ہے یعنی جب میں نے اسے پیدا کیا من روحی سے مراد ایسی روح ہے جس کا میں مالک ہوں میرے سوا کوئی اس کا مالک نہیں یہ اضافت کا معنی ہے سورة النساء آیت 171 میں و روح منہ کے ًضمن میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے۔
سجدین۔ حال کی حیثیت سے منصوب ہے یہ اسلام کا سجدہ تھا سجدہ عبادت نہ تھا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ انہوں نے حکم کی اطاعت کی اور اس کے سمانے عاجزی کرتے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ کیا الا ابلیس ابلیس جہالت کی بناء پر سجدہ سے رک گیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ استکبار کے طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے رکنا کفر ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے امر سے استکبار کیا تھا اس لئے وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔
Ayahs 38:75–8375 ۔ 83:۔ مامنعک کس نے تجھے حکم بجا لانے سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا کہ تو سجدہ کرے لما خلقت بیدی اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کا اظہار کا تھا اگرچہ وہ ہر شے کا خالص ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح ‘ بیت ‘ ناقہ اور مساجد کو مضاف کیا لوگوں سے اسی طریقہ سے خطاب کیا جس طرح لوگ اپنے معمولات میں آگاہ تھے کیونکہ مخلوقات میں سے ریئس اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا مگر اس شے کی عظمت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہاں بھی ید کا ذکر اسی معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں ید کا ذکر تاکید کے لئے اور زائد ہے اس کے معنی ہے لما خلقت انا جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : و یبقی وجہ بک) الرحمن (27: اس سے مراد یبقی ربک ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں ید کے ذکر میں یہ دلیل ہے کہ یہاں یہ لفظ نعمت ‘ قوت اور قدرت کے معنی میں نہیں یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی ذات کی صفات میں سے دو صفتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : یہاں ید سے مراد قدرت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : مالی بھذا الا مرید اس کام کو بجا لانے کی مجھ میں طاقت نہیں و مالی بالحمل الثقیل ید ان اس بوجھ کو اٹھانے میں میری طاقت نہیں ‘ اس معنی پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ بالا جماعت پیدا کرنا قدرت کے ساتھ ہی واقع ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا :
تحملت من عفراء مالیس لی بہ والاللحیال الرسیات یدان
میں نے عفراء سے یہ تکلیفیں اٹھائیں جن کو اٹڑھانے کی مجھ میں طاقت نہ تھی اور نہ ہی مضبوط پہاڑوں کو طاقت تھی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : لما خلقت بیدی کا معنی ہے جسے میں نے واسط کے بغیر پیدا کیا کہا : تو نے سجدہ کرنے سے تکبر کیا یا تو اپنے رب پر تکبر کرنے والوں میں سے ہے۔ محمد بن صالح ‘ شبل سے وہ ابن کثیرہ اور اہل مکہ سے بیدی استکبرت الف موصولہ کے ساتھ جملہ خبر یہ کے طور پر پڑھا ام کنت من ام منقطع ہے جو بل کے معنی میں ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح ام یقولون افتریہ) ہود (13: ہے جس نے ہمزہ استفہام پڑھا ہے تو اس کے نزدیک ام متصلہ ہوگا اور اس کے مابعد ہمزہ کے مابعد کا معاون ہوگا ہمزہ استفہام تقدیر و توبیخ کے لئے ہوگا یعنی جب تو نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کیا کیا تو نے اپنے آپ کو بڑا جانا یا تو اس قوم سے ہے جو تکبر کرتے ہیں تو تو نے بھی اس وجہ سے تکبر کیا۔
قال انا خیر منہ فراء نے کہا : عربوں سے کچھ کہتے ہیں انا اخیر منہ و اشرمنہ اصل یہی ہے مگر کثرت استعمال کی وجہ سے ہمزہ حذف ہوگیا۔
خلقتنی من نار و خلقنہ من طین۔ اس نے آگ کو مٹی پر فضیلت دی جب کہ یہ اسکی جانب سے جہالت تھی کیونکہ جواہر ایک دوسرے کی ہم جنس ہیں۔ اس نے قیاس کیا تو اس نے قیا میں خطا کی۔ سورة الاعراف میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
تو جنت سے نکل جا اور تو شہا بچوں سے رجم کیا جانے والا ہے تیرے لئے میری رحمت سے دوری قیامت کے دن تک کے لئے ہے۔ اس نے کیونکہ کفر پر اصرار کیا اس لئے اس امر کی وضاحت کیی کیونکہ لعنت تو اس روز منقطع ہوجاتی ہے پھر جب جنم میں اسے داخل کردیا جائے گا تو اسکے حق میں لعنت کا ثابت ہونا ظاہر ہوجائے گا قال رب فانظرانی الی یوم یبعثون۔ ملعون نے تو یہ ارادہ کیا تھا کہ اسے موت نہ آئے تو اس کی گزارش قبول نہ کی گئی یہ وہ دن ہے جس میں مخلوق کو موت لاحق ہوئی اس کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے اسے مہلت دی گئی۔
قال فبعزتک لا غوینھم اجمعین۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سبب دستکارا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم اٹھائی کہ شہوات کو مزین کرنے اور ان پر شبہات وارد کرنے کے لئے انسانوں کو گمراہ کرے گا لاغوینھم کا معنی ہے میں انہیں معاصی کی طرف بلائوں گا جب کہ یہ معلوم ہے کہ وہ وسوسہ کے سوا کسی چیز پر رسائی نہیں رکھتا اگر وہ وسوسہ نہ کرتا تو وہ کسی کی زندگی میں فساد نہیں ڈال سکتا تھا مگر اسی کے لئے ایسا کرسکتا ہے جو اپنی اصلاح نہیں کرتا اسی وجہ سے فرمایا : زندگی عبادت منھم المخلصین۔ یعنی وہ لوگ مستثنی ہیں جن کو تو نے اپنی عبادت کے لئے خالص کردیا ہے اور جس کو تو نے مجھ سے محفوظ کردیا ہے۔ سورة الحجر میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے