Ayah 38:26اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 انا جعلنک خلیفۃ فی الارض ہم نے تمہیں مالک بنایا تاکہ تو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے تاکہ تو اپنے سے قبل انبیاء اور صالحین کی نیابت کرے۔ سورة بقرہ میں خلفیہ اور اس کے متعلقہ احکام مفصل گذر چکے ہی۔ الحمد اللہ۔
مسئلہ نمبر -2 فاحکم بین الناس بالحق لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرو (1) ۔ یہ امرو جوب کے لئے ہے یہ کلام اپنے ماقبل کے ساتھ مربوط ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو عتاب اس وجہ سے کیا گیا تھا کیونکہ آپ نے ایک خاوند سے اس کی عورت کا مطالبہ کیا تھا یہ عدل نہ تھا اس کے بعد انہیں فرمایا گیا : لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرو اور اپنی اس خواہش کی اقتدا نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے امر کے خلاف ہے کہ وہ تجھے جنت کے راستے سے گمراہ کر دے جو لوگ اس راستہ کو چھوڑ دیتے ہیں ان کے لئے جہنم میں درد ناک عذاب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے راستہ پر چلنے کو ترک کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان نسوا سے مراد ہے انہوں نے ایمان کو ترک کردیا یا اس پر عمل کو ترک کردیا (1) تو وہ بھولنے والوں کی طرح ہوگئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ حکم حضرت دائود (علیہ السلام) کے لئے ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ حکم حضرت دائود (علیہ السلام) کے لئے ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ حکم اس وقت ہوا جب ان کی توبہ قبول ہوگئی اور ان کی خطا معاف کردی۔
مسئلہ نمبر -3 فیصلوں کے بارے میں اصل احکام یہ ہیں یدا ‘ ود اناک جعلنک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق۔ و ان احکم بینھم بما انزل اللہ) المائندہ (49: لتحکم بین الناس بما ارئک اللہ) النسائ (105: یا یھا الذین امنو کونوا قو میں للہ شھداء بالقسط) المائدہ (8: اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر -4 حضرت ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : بدا ود انا جعلنک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ کے بارے میں کہا : اگر دو آدمی جھگڑا لے کر تیرے پاس آئیں ان دونوں میں سے کسی کے متعلق تمہارے دل میں میلان ہو تو اپنے دل میں یہ خواہش نہ کر کہ حق اس کے لئے ہوتا کہ وہ اپنے مد مقابل پر غالب آجائے اگر تو نے ایسا کیا تو میں تیرا نام نبوت سے خارج کر دوں گا پھر نہ تو تو میرا خلیفہ ہوگا اور نہ ہی اہل کرامت ہوگا۔ یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حق کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے اور وہ دنوں فریقوں میں سے کسی فریق کی طرف قرابت نفع کی امید کی وجہ سے میلان نہ رکھے اور نہ کسی سبب کی طرف رجحان رکھے جو میلان کا تقاضا کریں جیسے صحبت ‘ دوستی اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان بن دائود محض اس وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوئے کیونکہ ان کے پاس دو فریق آئے تو حضرت سلیمان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حق فلاں کے لئے ہو۔
عبدالعزیز بن سداد نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ بنی اسرائیل کے دور میں ایک قاضی تھا وہ اپنی کوشش سے اس مقام تک جا پہنچا کہ اپنے رب سے اس کا مطالبہ کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اور اس کے درمیان علامت بنا دے۔ جب وہ حق کا فیصلہ کرے تو وہ اس سے پہچان جائے۔ جب وہ کوتاہی کرے تب بھی اسے پہچان لے۔ اسے کہا گیا : اپنے گھر داخل ہوجا پھر دیوار کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو لمبا کر پھر دیکھ تیری انگلیاں کہاں تک پہنچتی ہیں وہاں ایک خط کھینچ لے جب تو مجلس قضا سے اٹھے تو اس خط کی طرف اس کی طرف ہاتھ کو لمبا کر جب تو نے حق کے ساتھ فصلہ کیا ہوگا تو تو وہاں تک پہنچ جائے گا اگر تو نے حق میں کوتاہی کی ہوگی تو تیری انگلیاں نیچے رہ جائیں گی۔
وہ صبح کو قضا کے لئے جاتا جب کہ وہ مجتہد تھا وہ حق کے ساتھ ہی فیصلہ کرتا جب مجلس سے اٹھتا اور فارغ ہوتا نہ کھانا کھاتا اور نہ پانی پیتا نہ گھر والوں کا کوئی کام کرتا یہاں تک کہ اس خط کے پاس آتا جب اس خط تک پہنچ جاتا تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا اور اللہ تعالیٰ سے اہل ‘ کھانے اور پینے میں جس چیز کو حلال کیا تھا اس تک رسائی حاصل کرتا جب ایک دن وہ مجلس قضا میں مصروف تھا تو وہ آدمی اس کے پاس آئے جو اس سے فیصلہ کے طالب تھے اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ دونوں اس کے پاس) قضیبہ ( پیش کرنا چاہتے ہیں ان میں سے ایک اس کا دوست تھا اس قاضی کا دل اس محبت کی وجہ سے متحرک ہوا کہ حق اس کے دوست کے حق میں ہوتا کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے جب دونوں نے گفتگو کی تو حق دوست کے خلاف چلا گیا تو اس نے دوست کے خلاف فیصلہ کردیا۔ جب وہ مجلس قضا سے اٹھا تو اس خط کی طرف گیا جس طرح ہر روز جایا کرتا تھا کہ تو اس نے خط کی طرف ہاتھ بڑھایا تو خط دور چلا گیا یہاں تک وہ چھتک تک سمت گیا وہ اس تک نہیں پہنچ پا رہا تھا تو وہ سجد میں گرگیا وہ کہہ رہا تھا : اے میرے رب ! میں نے کوئی گناہ کا کام نہیں کیا اور نہ میں نے ارادہ کیا ہے جو ہے اسے میرے لیے واضح کر دے۔ اسے کہا گیا : کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے دل کی خیانت پر آگاہ نہیں جب تو نے چاہا تھا کہ حق تیرے دوست کے حق میں ہوتا کہ تو اس کے حق میں فیصلہ کرے ‘ تو اس کا ارادہ کیا تھا اور تو نے یہ پسند کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے حق حقدار کو لوٹا دیا جب کہ تو یہ ناپسند کرتا تھا۔
لیث سے مروی ہے : حضرت عمر بن خطا ؓ کی خدمت میں دو آدمی جھرا لے کر حاضر ہوئے ‘ آپ نے ان دونوں کو اٹھا دیا ‘ پھر وہ واپس لوٹے تو آپ نے دونوں کو اٹھا دیا پھر وہ لوٹے تو آپ نے دونوں کے درمیان فصلہ کردیا تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی۔ فرمایا : وہ دونوں میرے پاس آئے تو میں نے ان دونوں میں سے ایک کے حق میں وہ چیز پائی جو میں نے دوسرے کے حق میں نہ پائی تھی تو میں نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو ناپسند کیا ‘ وہ پھر واپس آئے تو میں نے ایک کے لیے کچھ ایسے ہی جذبات پائے وہ پھر آئے جب کہ وہ چیز جا چکی تھی تو میں نے دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا۔
شعبی نے کہا : حضرت عمر ؓ اور حضرت ابی کے درمیان کوئی جھگڑا تھا دونوں نے حضرت زید بن ثابت سے فیصلہ کرانا چاہا جب دونوں حضرت زید بن ثابت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت زید نے حضرت عمر کو اپنے تکیہ کی طرف اشارہ کیا حضرت عمر ؓ نے کہا : یہ تیرا پہلا ظلم ہے ‘ مجھے اور اسے ایک ہی مجلس ہی بٹھائو ‘ تو دونوں حضرت زید کے سامنے بیٹھ گئے۔
مسئلہ نمبر -5 یہ آیت اس امر سے منع کرتی ہے کہ حاکم اپنے علم سے فیصلہ کرے کیونکہ حاکموں کو اور یہ اجازت دی جائے کہ وہ اپنے علم کے مطابق فیصلہ کریں تو جب ان میں سے کوئی اپنے دوست کی حفاظت اور اپنے دشمن کی ہلاکت کا ارادہ کرے گا تو وہ اپنے فیصلہ کے بارے میں اپنے علم کا دعوی کر دے گا۔ اس کی مثل صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے ‘ اس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں : اگر میں کسی آدمی کو دیکھوں کہ اس پر حدود اللہ میں سے کوئی حد جاری ہوتی ہے تو میں اس کا مواخذہ نہ کروں گا یہاں تک کہ کوئی اور آدمی میرے پاس گواہی دے۔
روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : فلاں کے خلاف میرے دعوی کا فیصلہ کردیئے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میرا فلاں پر حق ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اگر تو یہ ارادہ کرے کہ میں تیرے حق میں گواہی دوں تو ٹھیک ہے جہاں تک فیصلہ کا تعلق ہے تو میں ایسا نہیں کروں گا۔
صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قسم اور ایک گواہ کی وجہ سے فیصلہ کیا۔
یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک گھوڑا خریدا تو بیچنے والے نے انکار کردیا حضور ﷺ نے اپنے علم کی بنا پر اس کے خلاف فہصلا نہ کیا حضرت خذیمہ اٹھے انہوں نے حضور ﷺ کے حق میں گواہی دی تو حضور ﷺ نے فیصلہ کیا اس حدیث کو ابودائود اور دوسرے علماء نے بامن کیا ہے۔ سورة بقرۃ میں یہ بحث گذر چکی ہے (1) ۔
Ayahs 38:27–2927 ۔ 29:۔ باطلا سے مراد ہے مقصد اور کھیل تماشا ہے یعنی ہم نے آسمان اور زمین کو محض امر صحیح کے لئے پیدا یا ہے وہ ہماری قدرت پر دلالت ہے یہ کفار کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو باطل پیدا کیا ہے۔
کفار کو شرمندہ کرنے کے لئے فرمایا : ام نجعل الذین آمو۔ ام میں میم زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہے انجعل الذین اس آیت میں مرجہ کا رد ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں : یہ جائز ہے کہ مفسد ‘ صالح کی طرف ہو یا اس کے درجہ میں بلند ہو بعد والی کلام نجعل المتقین کالفجار بھی اس طرح ہے یعنی کیا ہم سرور دو عالم ﷺ کے صحابہ کو کفار کی طرح بنا دیں گے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ متقین ‘ فجار اور کفار کو عام ہے۔ یہ تعبیر سب سے اچھی ہے جو دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں ان کا بھی اس میں رد ہے جنہوں نے مطیع اور عاصی کا ٹھکانا ایک چیز بنایا ہے۔
کتب یہ خبر ہے اس کا مبتدا مخدوف ہے لیدبرو اصل میں لیتدبروا تھا تاء کو دال میں مدغم کیا گیا ہے اس میں یہ دلیل ہے کہ قرآن کے معانی کی معرفت واجب ہے اور اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا تیز پڑھنے سے افضل ہے جس طرح ہم نے کتاب التذکار میں بیان کیا ہے تیز پڑھنے کی صورت میں تدبر نہیں ہو سکتا۔
حضرت حسن بصری ؓ نے کہا : آیابت میں تدبر سے مراد ان کی اتباع ہے (2) عام قراءت لیدبروا ہے۔ ابو جعفر اور شیبہ نے لید بروا یعنی دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ‘ حضرت علی شیر خدا کی قراءت بھی یہی ہے اصل میں لتندبروا تھا تخفیف کی وجہ سے ایک تاء حذف ہے۔
اولوا الالبات سے مراد اصحاب عقول ہیں اس کا واحد لب ہے اس کی جمع الب بھی آتی ہے جس طرح بوس کی جمع ابوس آتی ہے اور نعم کی جمع انعم آتی ہے۔ ابو طالب نے کہا :
قلبی الیہ مشرف الالب
محل استدلال الب ہے بعض اوقات ضرورت شعری کی بنا پر تضعیف کو ظاہر کرتے ہیں کمیت نے کہا :
الیکم ذوی آل النبی تطلعت نوازع من قلبی ظماء والبب محل استدلال البب ہے۔
Ayahs 38:30–3330 ۔ 33:۔ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر کرچکے تو حضرت سلیمان السلام کا ذکر کیا۔ اواب کا معنی مطیع ہے الجیاد کا معنی گھوڑے ہیں یہ جواد کی جمع ہے جس کا معنی گھوڑا ہے جس طرح انسان کو جواد کہتے ہیں جب وہ طبعا بہت ہی سخی ہو یہ کہا جاتا ہے : قوم اجواد خیل جیادیہ بھی کہا جاتا ہے : جاد الرجل بما لہ یجود جو دا فھو جواد۔ یعنی آدمی اپنے مال کے ساتھ سخاوت کرتا ہے قوم جواد جس طرح قذال کی جمع قذل آتی ہے یہاں وائو کو ساکن کردیا گیا ہے کیونکہ یہ حرف علت ہے اس کی جمع اجواد ‘ اجاود ‘ جرداء بھی آتی ہے اسی طرح یہ کہتے ہیں : امراۃ جواد ‘ نسوۃ جود جس طرح نوار اور نور آتی ہے شاعر نے کہا :
صناع یا شفاھا حصان بشکرھا جواد بقوت البطن والعرق زاخر
محل استدلال جواد ہے جب اسے شدید بھوک لگی ہوتی ہے تب اپنے بطن کی قوت کو بھی سخاوت کرنے والی ہے اور تو کہتا ہے : سرنا عقۃ عقبتین جو ادین و عقبا جیادا۔ یہ کہا جاتا ہے : جادالفرس یعنی وہ خوبصورت ہوگیا یجود جو دۃ فھو جواد یہ جواد کا لفظ مذکر اور مٔونث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسے یوں بھی استعمال کیا جاتا ہے خیل جیادو اجیا دوا جاوید۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد لمبی گردن والے ہیں یہ جید سے مشتق ہے جس کے معنی گردن ہے کیونکہ گھوڑوں میں گردنوں کا لمبا ہونا ان کی عمدگی کی صفات ہیں الصفنت میں دو وجہیں ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی صفوں سے مراد ان کا کھڑا ہونا۔ قتبی اور فراء نے کہا کہ کلام عرب میں صافن سے مراد کھڑا ہونا ہے وہ گھوڑے ہوں یا کوئی اور چیز ہوا اسی معنی میں نبی کریم ﷺ سے روایت مروی ہے من سرہ ان یقوم لہ الرجال صفونا قلیتبوا مقعدہ من النار (1) جسے یہ بات خوش کرے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے ہی راہیں تو وہ اپنا ٹھکانے جہنم میں بنالے قطرب نے بھی یہی معنی بیان کیا ہے اور نابغہ کا قول ذکر کیا ہے :
لنا قبۃ مضروبۃ بفنائھا عتاق المھاری والجیاد الصوافن (2)
ہمارا ایک قبہ تھا جوان کے صحن میں لگا ہوا تھا اعلی نسل کے بچھیرے اور ہمیشہ کھڑے رہنے والے عمدہ گھوڑے ‘ یہ قتادہ کا قول ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ صفون سے مراد یہ ہے کہ دونوں اگلے پائوں میں سے ایک کے کھر کو اٹھانا یہاں تک کہ باقی تین پائوں پر کھڑا ہونا جس طرح شاعر نے کہا :
الف الصفون فما یزال کا نہ ‘ مما یقوم علی الثلاث کسیرا
عمرو بن کلثوم نے کہا :
ترکنا الخیل عاکفۃ علیہ مقلدژ اعن تھا صفونا
” ہم نے گھوڑوں کو اس پر جھکے ہوئے دیکھا ہے ان کی لگامیں ان کا قلادہ تھیں وہ تین پائوں پر کھڑے تھے “ یہ مجاہد کا قول ہے۔ کلبہ نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اہل دمشق و نصیبین سے جنگ کی تو ان سے ایک ہزار گھوڑے پائے (3) ۔
مقاتل نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ سے ایک ہزار گھوڑوں کے وارث ہوئے ان کے والد نے یہ گھوڑے عمالقہ سے حاصل کیے تھے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ ایسے گھوڑے تھے جو سمندر سے نکلے تھے (4) ان کے پر تھے یہ ضحاک کا قول ہے۔ وہ ایسے گھوڑے تھے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے سمندر سے نکالے گئے تھے وہ منقوش تھے وہ پہلے پروں والے تھے۔ ابن زید نے کہا : شیطان نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے سمندر سے گھوڑے نکالے تھے جن کے پر تھے حضرت علی شیر خدا ؓ نے بھی اسی طرح کہا : وہ بیس گھوڑے تھے جو پروں والے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ سو گھوڑے تھے ایک روایت میں ابراہیم تیمی سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ گھوڑے بیس ہزار تھے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
انی احببت حب الخیر عن ذکر رابی۔ الخیر سے مراد گھوڑے ہیں عرب انہیں یہی نام دیتے ہیں وہ راء اور لام کو یکے بعد دیگرے لاتے ہیں تو کہتا ہے : انھملت العین ‘ انھمرت ختلف و خترت جب تو دھوکہ دے۔ دونوں جگہ پر لام اور راء ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ فراء نے کہا : کلام عرب میں خیر اور خیل ایک ہی چیز ہے۔ نحاص نے کہا : حدیث طیبہ میں ہے کہ الخیل معقود فی نواصیھا الخیر الی یوم القیامۃ (5) گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے بھلائی رکھی دی گئی ہے گویا گھوڑوں کو خیر اسی وجہ سے کہا جاتا ہے حدیث میں ہے کہ جب زید الخیل نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا انت زید الخیر وہ حقیقت میں زید بن مہلبل شاعر تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں خبر اس لئے نام دیا گیا کیونکہ اس کی ذات میں کئی منافع تھے۔ حدیث طیبہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدام علیہ السما پر تمام جانور پیش کیے ان سے کہا گیا : ان میں سے ایک کا انتخاب کرلیں تو انہوں نے گھوڑا پسند کیا تو انہیں کہا گیا : تم نے اپنی ذات کو اختیار کیا ہے تو اسی وجہ سے اس کا نام خیر پڑگیا اور اسے خیل کا نام دیا گیا کیونکہ یہ قوت اور غلبہ کے ساتھ موسوم ہے۔ اسے فرس اس لئے نام دیا گیا کیونکہ یہ فضا کی مسافتوں کو چیرتا ہے جس طرح شیر شکار کو چیر پھاڑ دیتا ہے اور ان مسافتوں کو یوں طے کرتا ہے جس طرح وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے ہر شے کو لقمہ بنا لیتا ہے۔ اسے عربی نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ حضرت آدم علیہ اسلام کے بعد حضرت اسماعیل علی السلام کو بیت اللہ شریف کی تعمیر کو جزاء کے طور پر دیا گیا حضرت اسماعیل عربی تھے تو یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے لئے عطیہ تھا تو اس گھوڑے کو عربی کہا گیا : لفظ حب فراء کے قول کے مطابق مفعول سے معنی ہے انی اثر حب الخیر فالھانی عن ذکر ربی میں نے گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی تو اس محبت نے مجھے میرے رب کے ذکر سے غافل کردیا۔
دوسرے علماء اسے مفعول مطلق تسلیم کرتے ہیں جو مفعول کی اضافت ہے تو تقدیر کلام یہ ہوگی یعنی احببت الخیر حبا فالھانی عن ذکر ربی ایک قول یہ کیا گیا : احببت کا معنی ہے میں بیٹھ گیا اور پیچھے ہٹ گیا ‘ یہ عربوں کے اس قول سے ما خوذ ہے احب البعیریہ جملہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ بیٹھ جائے تو پیچھے ہٹ جائے احبب فلان اس نے اپنا سر جھکایا۔ ابوزید نے کہا یہ جملہ بولا جاتا ہے : بعیر محب ‘ و قداء حب احبابا یہ اس وقت بولتے ہیں جب اسے کوئی مرض لا حق ہو یا عضو ٹوٹ جائے وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے یہاں تک کہ وہ درست ہوجائے یا معر جائے۔ ثعلب نے کہا : بعیر حسیر کے لئے کہا جاتا ہے محبت معنی ہوگا تو میرے رب کے ذکر سے بیٹھ گیا اس تعبیر کی بناء پر حب کا لفظ مفعول لہ ہوگا۔ ابو فتح ہمدانی نے کتاب التبیان میں یہ ذکر کیا ہے۔ احببت یہ لزمت کے معنی میں ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
مثل بعیر السواء اذا حبا
اس برے اونٹ کی مثل جب وہ ایک جگہ کو لازم پکڑے۔
حتی توارت الحجاب۔ یعنی سورج چھپ گیا۔ یہاں ذکر کے بغیر ضمیر ذکر کی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما ترک علی ظھر ما من دابۃ) فاطر (45: اس میں ھاضمیر سے مراد الارض ہے عرب کہتے ہیں : ھاجبت باردۃ معنی ہے ھاجت الریح باردۃ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فلولا اذا بلغت الحلقوم۔ ) الواقعۃ ( یعنی نفس حلقوم تک جا پہنچا اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : انھا ترمی بشرر کالقصر۔ ) المرسلات ( یہاں نار کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔ زجاج نے کہا : ضمیر کا ذکر کرنا جائز نہیں جب کسی چیز کا ذکر ہوا ہو یا دلیل کا ذکر ہوا ہو یہاں دلیل موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
بالعشی عشی سے مراد زوال کے بعد کا وقت ہے تواری سے مراد آنکھوں سے چھپ جانا ہے ‘ حجاب سے مراد سبز پہاڑ ہے جو تمام مخلوق کو محیط ہے (1) ‘ یہ قتادہ اور کعب کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جبل قاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ ایسا پہاڑ ہے جو قاف کے علاوہ ہے۔ حجات سے مراد رات ہے۔ اسے حجات اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس چیز کو چھپا لیتی ہے جو اس میں ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حتی توارت سے مراد گھوڑے دوڑ میں چھپ جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک گول میدان تھا جس میں گھوڑوں میں مقابلہ کرایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مسابقت میں آپ کی آنکھ سے چھپ جاتے کیونکہ سورج کا پہلے ذکر نہیں ہوا۔
نحاس نے ذکر کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نماز میں تھے آپ کی خدمت میں گھوڑے لائے گئے تاکہ آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں جو غنیمت کے طور حاصل وئے تھے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا یہاں تک کہ گھوڑے چھپ گئے اصطبلوں کی دیواروں نے انہیں چھپا دیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ردوھا علی فطفق مسحا یعنی ان پر ہاتھ پھیرنے لگ اس کے معنی میں دول قول ہیں : آپ ان کی گردنوں اور پنڈلوں پر ہاتھ پھیرنے لگے تاکہ ان کی تکریم کا اہتمام کریں اور یہ بتا نا چاہتے تھے کہ معزز آدمی کے لئے یہ کوئی قبیح نہیں وہ اپنے گھوڑوں کے ساتھ یہ معاملہ کرے۔ اس قول کے کرنے والے نہ یہ کہا : وہ کیسے قتل کرسکتے ہیں ؟ جب کہ اس میں مال برباد کرنا اور جس کا کوئی گناہ نہ ہوا اسے سزا دینا لازم آتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہاں مسح سے مراد قتل کرنا ہے آپ کو قتل کی اجازت دی گئی تھی۔ حضرت حسن بصری ‘ کلبی اور مقاتل نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پہلی نماز پڑھی اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئے جب کہ گھوڑے آپ پر پیش کیے جا رہے تھے وہ ایک ہزار گھوڑے تھے ایک پر نوسو گھوڑے پیش کیے جا چکے تھے تو آپ نماز عصر کے لئے متوجہ ہوئے جب کہ سورج غروب ہوچکا تھا اور نماز فوت ہوگئی تھی آپ کی ہیبت کی وجہ سے آپ کو آگاہ نہ کیا گیا تو آپ غمگین ہوئے تو فرمایا : انہیں میرے پاس لائو تو گھوڑوں کو آپ پر دوبارہ پیش کیا گیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ان کی کونچیں کاٹ دیں ان میں سے سو گھوڑے بچ گئے آج لوگوں کے پاس جو اعلی نسل کے گھوڑے ہیں وہ انہیں گھوڑوں کی نسل میں سے ہیں۔ قشیری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے اس وقت نہ ظہر کی نماز تھی اور نہ عصر کی نماز ہوتی تھی بلکہ وہ نماز نفلی نماز تھی تو آپ اس سے غافل ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بڑے جاہ جلال والے تھے تو کسی نے بھی انہیں آگاہ نہیں کیا خواہ وہ فرض نماز تھی یا نفل نماز تھی تو انہوں نے گمان کیا کہ یہ تاخیر مباح ہے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے وہ فوت شدہ نماز یاد کی اور بطور افسوس کہا : انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی یہاں ذکر سے مراد نماز ہے (1) آپ نے گھوڑوں کو لوٹانے کا حکم دیا اور ان کی کونچیں اور ان کی گردنیں مارنے کا حکم دیا ‘ کوئی گھوڑے کو عذاب دینا نہیں تھا جب جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہو تو ان جانوروں کو ذبح کرنا جائز ہوتا ہے بلکہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالا تاکہ اس کے بعد گھورے آپ کی نماز سے غافل نہ کریں شاید آپ نے ان کی کونچیں اس لئے کاٹیں تاکہ ان کو ذبح کریں آپ نے انہیں بھاگنے سے روکنے کے لئے ان کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر انہیں اسی وقت ذبح کردیا تاکہ ان کا گوشت صدقہ کریں یا ان کی شریعت میں یہ امر مباح تھا تو جس چیز نے آپ کو اللہ کے ذکر سے غافل کردیا اس کو تلف کردیا تاکہ اس چیز کا تعلق اپنے آپ سے ختم کردیں جس نے انہیں اللہ تعالیٰ سے غافل کردیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ان کی تعریف کی اور واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں انہیں یہ بدلہ دیا کہ ان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا آپ ہوا کے دوش پر ایک دن میں اتنا سفر طے کرلیتے جتنا سفر گھوڑے پر دو ماہ صبح و شام سفر کرتے ہوئے طے کرتے تھے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ردوھا علی میں ھاء سورج کے لئے ہے گھوڑوں کے لئے نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : میں نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے اس آیات کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : تجھے اس بارے میں کیا خبر پہنچی ہے ؟ میں نے کہا کو کہتے ہوئے سنا ہے جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑے کے معائنہ میں مصروف ہوگئے یہاں تک کہ سورج حجاب میں چھپ گیا اور ان سے نماز فوت ہوگئی کہا : ان احببت جب الخیر من ذکر ربی یعنی میں نے ترجیح دی گھوڑوں کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے ردوھا علی یعنی گھوڑوں کو مجھ پر واپس لوٹائو۔ گھوڑے چودہ تھے تو آپ نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو تلوار سے کاٹ دیا اللہ تعالیٰ نے چودہ دن تک ان سے حکومت کو چھین لیا کیونکہ انہوں نے گھوڑوں پر ظلم کیا تھا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : کعب نے جھوٹ بولا لیکن حضرت سلیمان علیہ اسلام جہاد کی تیاری کی وجہ سے گھوروں کے معائنہ میں مصروف رہے یہاں تکہ سورج غروب ہوگیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے ان فرشتوں کو حکم دیا جو سورج پر معین ہیں : سورج کو لوٹائو تو فرشتوں نے سورج کو ان پر لوٹا دیا یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہالسلام نے عصر کے وقت نماز پڑھی اللہ تعالیٰ کے انبیاء ظلم نہیں کرتے کیونکہ وہ معصوم ہیں۔
میں کہتا ہوں : اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ جو چیز حجاب میں چھپی تھی وہ سورج تھا اور سورج کے ذکر کو ترک کردیا کیونکہ منافع کے لئے اس پر دلالت موجود ہے کیونکہ اسے ذکر کیا گیا ہے جس کا سورج کے ساتھ تعلق ہے جس طرح اس کا بیان گذر چکا ہے اکثر لوگ سورج کو ذکر کیے بغیر مضمر کردیتے ہیں لبید نے کہا :
حتی اذا القت یدا فی کافر واجن عورات الثغور ظلا مھا (1)
اس شعر میں بھی الشمس کے لئے ہے اور اس کے ذکر سے پہلے ضمیر لائی گئی ہے۔
ردوھا میں ھاگھوڑوں کے لئے ہے اور ان پر ہاتھ پھیرنے سے زہری اور ابن کیسان نے یہ مراد لیا ہے کہ آپ ان کی پنڈلیوں اور ان کی گردوں پر ہاتھ پھیرنے اور ان سے غبار کو دور کرتے کیونکہ آپ کو گھوڑوں سے محبت تھی ‘ یہ حضرت حسن بصری ‘ قتادہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا۔ حدیث طیبہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کو خواب دعکھایا گیا جب آپ اپنے گھوڑے کو اپنی چادر سے پونچھ رہے تھے اور فرمایا : ” آج رات مجھے گھوڑوں کے بارے میں عتاب کیا گیا (2) “ موطا میں یحی بن سعد سے مرسل روایت نقل کرتے ہوئے سورة الانفال میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گذر چکا ہے۔ وامسحوابنوا صیھا واکفالھا ابن وہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلواروں سے کاٹ دیا۔
میں کہتا ہوں : شبلی اور دوسرے صوبیاء نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اسی فعل سے کپڑوں کے پھاڑ دینے کا استدلال کیا ہے۔ یہ استدلال فاسد ہے کیونکہ یہ جائز نہیں کہ نبی معصوم کی طرف یہ منسوب کیا جائے کہ اس نے فساد والا فعل کیا ہے۔ مفسرین نے آیت کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ ان میں سے کسی نے کہا : آپ نے گھوڑوں کی تکریم کی خاطر ان کی گردوں اور ان کی پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرا اور کہا : تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف ہے تو یہ اچھا عمل ہے۔ ان میں سے کچھ نے کہا : آپ نے ان کو کونچیں کاٹیں پھر انہیں ذبح کردیا۔ گھوڑوں کو ذبح کرنا اور ان کا گوشت کھانا جائز ہے۔ سورة نحل میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر آپ نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس پر قدغن لگائی جاسکتی ہو۔ جہاں تک صحیح کپڑے کے پھاڑنے کا تعلق ہے جب کہ غرض صحیح نہ ہو تو یہ جائز نہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو کیا ہو وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شریعت میں جائز ہو جب کہ ہماری شریعت میں جائز نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ نے گھوڑوں کے ساتھ جو بھی کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مباح کردیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے گھوڑوں کے مسح کرنے سے مراد کا ویہ سے انہیں نشان لگانا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں معی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اس قول کو ضیعف قرار دیا گیا ہے کیونکہ پنڈلیاں کسی حال میں بھی نشان لگانے کا محل نہیں۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے : پنڈلی پر کا ویہ سے نشان لگانا علاط کہلاتا ہے اور گردن پر نشان لگانا وثاق کہلاتا ہے۔ جوہر کی صحاح میں ہے علط البعیر علطا اس نے اونٹ کی گردن میں نشان لگایا۔ علاطان سے مراد گردن کی دونوں جانبیں ہیں۔
میں کہتا ہوں : ردوھا میں ھاضمیر کو جس نے سورج کی طرف لوٹایا ہے تو یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معجزات میں سے ہے۔ اسی کی مثل ہمارے نبی ﷺ کے لئے بھی واقع ہوا امام طحاوی نے مشکل الحدیث میں حضرت اسماء بنت عمیس سے دو سندوں نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کی جا رہی تھی جب ہ حضور ﷺ کا سر مبارک حضرت علی شیر خدا کی گود میں تھا۔ حضرت علی شیر خدا نے عصر کی نماز نہ پڑھی تھی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا ” اے علی ! کیا تو نے نماز پڑھی ہے ؟ عرض کی : نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! اگر یہ تیری اطاعت اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا تو سورج کو اس پر لوٹا دے “۔ حضرت اسماء نے کہا : میں نے اسے غروب ہوتا ہوا دیکھا تھا پھر میں نے غروب ہونے کے بعد پہاڑوں اور زمین پر اسے طلوع حالت میں دیکھ جب کہ آپ خیبر میں صہباء کے مقام پر تھے طحاوی نے کہا : یہ دونوں حدیثیں ثابت ہیں ثقہ لوگوں نے انہیں روایت کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : ابو رفرج ابن جوزی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے کہا : حضرت علی شیر خدا کی محبت میں رافضیوں کے لئے غلو نے انہیں اس امر پر برانگینحتہ کیا کہ وہ آپ کے فضائل میں بیشمار احادیث وضع کریں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج غائب ہوگیا تو حضرت علی شیر خدا کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو آپ کے لئے سورج کو لوٹایا گیا (1) ۔ از روئے نقل کے محال ہے۔ اور معنی کے اعتبار سے بھی محال ہے کیونکہ وقت فوت ہوچکا تھا اور اس کا لوٹنا نیا طلوع تھا جو وقت کو نہیں لوٹاتا جس نے کہا تھا : خیر گھوڑوں کی طرف لوٹتی ہے وہ گھوڑے دوڑ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئے اس میں گھوڑوں کی دوڑ میں دلیل موجود ہے۔ یہ مشروع امر ہے اس کے بارے میں گفتگو سورة یوسف گذر چکی ہے۔