Ayahs 38:34–4034 ۔ 40:۔
وہ لقد فتنا سلیمن ایک قول یہ کیا گیا : حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بادشاہ بنے بیس سال گزر چکے تھے کہ آپ کو فتنہ میں ڈالا گیا اور آزمائش کے بعد آپ بیس سال تک حاکم رہے ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے۔ فتنا یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور ہم نے سزا دی (1) اس کے سبب وہ روایت ہے جو سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں دو فریق حاضر ہوئے ان میں سے ایک فریق جرادہ کے خاندان سے تھا جو آپ کی بیوی تھی۔ حضرت سلیمان اس سے محبت کرتے تھے تو آپ نے خواہش کی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہو۔ پھر دونوں کے درمیان فیصلہ انصاف سے کیا۔ آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی اسی خواہش کی بنا پر تھی۔
سعید بن مسیب نے کہا : حضرت سلیمان علیہ اسلام تین دن تک لوگوں سے حجاب میں رہے آپ نے کسی کے درمیان فیصلہ نہ یا نہ مظلوم کو ظالم سے انصاف دلایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی طرف وحی کی : میں نے تجھے خلیفہ اس لئے نہیں بنایا کہ تو میرے بندوں پر حجاب کرے بلکہ اس لئے خلیفہ بنایا ہے کہ تو ان کے درمیان فیصلہ کرے اور مظلوم کو انصاف دلائے۔
شہر بن حوشب اور روہب بن منبہ نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک بادشاہ کی بیٹی کو گرفتار کیا جس کے ساتھ سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں جہاد کیا تھا (2) جس بادشاہ کو صیداون کہتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں اس کی محبت ڈال دی گئی جب کہ وہ آپ سے اعراض کرتی تھی ‘ وہ ترچھی نظروں سے آپ کو دیکھتی اور الٹی سیدھی باتیں کرتی تھی ‘ اس کی آنکھوں سے اپنے والد کے غم میں آنسو نہ پھوٹتا تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی پھر اس نے یہ سوال کیا کہ وہ اس کے باپ کا اس کی صورت مطابق بت بنا دے تاکہ وہ اسے دیکھا کرے۔ حضرت سلیمان نے اس کا حکم دیا تو اس کے لئے مجسمہ بنا دیا گیا اس عورت نے اس کی تعظیم کی اور اسے کے سامنے سجدہ کیا اور اس کی لونڈیوں نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا۔ وہ ایک ایسا بن بن گیا جس کی حضرت سلیمان علیہ اسلام کے گھر میں عبادت کی جا رہی تھی مگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم نہ تھا یہاں تک کہ چالیس دن گذر گئے۔ اس کی کبر بنی اسرائیل میں عام ہوگئی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی علم ہوگیا تو آپ نے اسے توڑ دیا پھر اسے جلا دیا پھر اس کے ذرات سمندر میں بکھیر دیئے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت سلیمان نے صیدون کی بیٹی و پایا جس کا نام جرادہ تھا جس طرح کہ زمحشری نے ذکر کیا ہے تو وہ عورت آپ کو بہت اچھی لگی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس پر اسلام کو پیش کیا تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے ڈرایا تو اس عورت نے کہا : مجھے قتل کرو دو میں اسلام قبول نہیں کروں گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے شادی کرلی جب کہ وہ مشرک تھی۔ وہ یاقوت کے بنے بت کی چالیس روزہ تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے پوشیدہ عبادت کرتی رہی یہاں تک وہ مسلمان ہوگئی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چالیس روز تک حکومت کے زوال کے ساتھ سزادی گئی۔ کعب الاحبار نے کہا : کعبہ الاحبار نے کہا : جب حضرت سلیمان علیہ السلما نے گھوڑوں کو قتل کر کے گھوڑوں پر ظلم کیا تو آپ کی حکومت سلب کرلی گئی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حیض یا کسی اور عارضہ کی صورت میں اپنی کسی بیوی کے ساتھ حق زوجیت ادا کیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی عورت سے شادی نہ کریں تو آپ نے ان کے علاوہ کسی اور عورت سے شادی کرلی تو اس جہ سے انہیں سزا دی گی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
والقینا علی کرسیہ جسدا اکثر مفسرین کے نزدیک وہ شیطان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی شبیہ اس پر ڈالی اس کا نام صنحر بن عمیر صاحب السحر تھا یہی وہ تھا جس نے حضرت سلیمان علیہ السما کی رہنمائی الماس) ہیرہ ( پر کی تھی جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بتی المقدس بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ جب پتھروں کو لوہے سے تراشا جاتا ہے تو ان میں آواز پیدا ہوتی انہوں نے الماس) ہیرہ ( لیا اور اس کے ساتھ پتھر ‘ نگینے اور دوسیری چیزیں کاٹنے لگے تو کوئی اواز پیدا نہ ہوتی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ سرکش جن تھا تمام شیاطین بھی اس پر غالب نہ آتے وہ ہمیشہ حیلہ سازی کرتا رہتا تھا یہاں تک کہ وہ حضرت سلیمان بن دائود (علیہما السلام) کی انگوٹھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بیت الخلا میں انگوٹھی کے ساتھ داخل نہیں ہوتے تھے۔ صخر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں آیا تو اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عورتوں سے ایک عورت ‘ جسے امینہ کہا جاتا ‘ سے انگوٹھی لی جو آپ کی تھی ‘ یہ شہر بن حوشب اور وہب کا قول ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر نے کہا : اس کا نام جرادہ تھا وہ چالیس روز تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت پر قابض رہا جب کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھاگے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انگوٹھی اور بادشاہت انہیں واپس کردی۔
سعید بن مسیب نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی اپنے بستر کے نیچے رکھ دی اور شیطان نے اسے اٹھالیا۔ مجاہد نے کہا : شیطان نے انگوٹھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ سے لے لی تھی کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے شیطان نے پوچھا جب کہ اس کا نام آصف تھا : تم لوگوں کو کس طرح گمراہ کرتے ہو ؟ شیطان نے آپ نے آپ سے کہا : مجھے اپنی انگوٹھی دو تاکہ میں تمہیں بتا دوں تو حضرت سلیمان علیہ اسلام نے اسے اپنی انگوٹھی دے دی۔ جب شیطان نے انگوٹھی لے لی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل بنا کر آپ کی کرسی پر بیٹھ گیا وہ آپ کی بیویوں کے پاس جاتا ناحق فیصلے کرتا اور غلط احکامات دیتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیوں کے پاس جانے کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور وہب بن منبہ سے مروی ہے کہ وہ ان کے پاس ان کے حیض کے دنوں میں آیا تھا۔ مجاہد نے کہا : اسے آپ کی بیویوں کے پاس آنے سے منع کردیا گیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے حکومت زائل ہوگئی تو آپ ساحل سمندر کی طرف بھاگ نکلے آپ وہاں لوگوں سے ضیافت طلب کرتے اور اجرت پر شکاریوں کی مچھلیاں اٹھایا کرتے تھے جب وہ لوگوں کو بتاتے کہ وہ سلیان بن دائود ہیں تو لوگ انہیں جھٹلاتے تھے۔
قتادہ نے کہا ; جب بنی اسرائیل نے شیطان کے احکامات کو عجیب و غریب جانا تو آپ نے شکاری سے ایک مچھلی ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ آپ نے وہ کھانے کے لئے لی تھی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مچھلیاں اٹھانے کی اجرت کے طور پر لی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے شکار کیا تھا ‘ جب اس کے پیٹ کو چیرا تو اپنی انگوٹھی اس میں موجود پائی تھی۔ یہ واقعہ آپ کی بادشاہت کے زائل ہونے سے چالیس دن بعد ہوا تھا یہ دونوں کی وہی تعداد ہے جتنے دنوں میں آپ کے گھر میں بت کی عبادت کی گئی تھی آپ نے وہ انگوٹھی مچھلی کے پیٹ میں پائی تھی کیونکہ شیطان نے وہ انگوٹھی سمندر میں پھینک دی تھی۔
حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے : اسی اثناء میں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے انگوٹھی سے کھیل رہے تھے کہ وہ انگوٹھی سمندر میں گر گئی جب کہ ان کی حکومت اس انگوٹھی میں تھی۔
حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کا نقش لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تھا یحییٰ بن ابی عمر و شیبانی نے حکایت بیان کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تو وہاں سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تواضع کی خاطر بیت المقدس کی طرف پیدال گئے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملک لوٹایا تو آپ نے صنحر کو پکڑ لیا جس نے انگوٹھی لی تھی اس کے لئے چٹان میں سراخ کیا اور اس میں اسے داخل کیا اور دوسری چٹان کے ساتھ اسے بند کردیا اور لوہے اور سکہ کے ساتھ اسے جوڑ دیا اور اس پر اپنی مہر لگائی اور سمندر میں پھینک دیا فرمایا : قیامت تک یہ تیرا قید خانہ ہے۔
حضرت علی شیر خدا ؓ ‘ نے کہا : جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے انگوٹھی لے لی تو شیاطین ‘ جن ‘ انسان ‘ پرندے ‘ وحشی جانور اور ہوا اپ کی طرف متوجہ ہوئے اور وہ شیطان بھاگ گیا جو آپ کا نائب بنا تھا وہ سمندر میں ایک جزیرہ میں آیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے شیاطین کو اس کے پاس بھیجا انہوں نے کہا : ہم اس پر قادر نہیں لیکن وہ ہفتہ میں ایک روز جزیرہ کے ایک چشمہ پر آتا ہے ہم اس پر قابو نہیں پا سکتے جب تک وہ نشے میں نہ ہو کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے پانی نکلوایا اور اس میں شراب ڈال دی وہ اس چشمہ پر آنے والے دن اس پر آیا تو اس میں شراب تھی اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تو عمدہ مشروب ہے مگر تو حلیم کو جوش دلاتی ہے ‘ جاہل کی جہالت میں اضافہ کرتی ہے پھر اسے شدید پیاس لگی پھر وہ اسی چشمہ کے پاس آیا اور اسی جیسی گفتگو کی پھر اسے پیا تو شراب اس کی عقل پر عالب آگئی ان شیاطین نے اسے انگوٹھی تو اس نے کہا ; ہر حکم سنو گا اور اطاعت بھی کروں گا۔ وہ اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس لے آئے آپ نے اسے جکڑ دیا اور ایک پہاڑ کی طرف بھیج دیا۔ علماء نے ذکر کیا ہے کہ وہ دھویں کا پہاڑ ہے انہوں نے کہا : وہ دھواں جو تم دیکھتے ہو یہ اس کی سانسیں ہیں اور وہ پانی جو اس پہاڑ سے نکلتا ہے وہ اس کا پیشاب ہے۔
مجاہد نے کہا : اس شیطان کا نام آصف ہے۔ سدی نے کہا اس کا نام جبقیق ہے ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اس قول کو ضعیف قرار دیا گیا ہے کیونکہ شیطان انبیاء کی صورت نہیں اپنا سکتا ‘ پھر یہ بھی محال ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مملکت کے لوگوں پر شیطان حضرت سلماے ن (علیہ السلام) کی صورت اپنا کر معاملہ خلط ملط کر دے یہاں تک کہ وہ اسے یہ گمان کریں کہ یہ نبی برحق اور وہ شیطان کے ساتھ ملک کر باطل کام شروع کردیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جسد سے مراد بچہ ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاں پیدا ہوا جب وہ پیدا ہوا تو شیاطین جمع ہوگئے ان میں سے بعض نے بعض سے کہا : اگر اس کا بیٹا زندہ رہا تو ہم اس کی غلامی اور تسخیر سے آزادنہ ہونگے آئو ہم اس کے بیٹے کو قتل کردیں یا اسے بگاڑ دیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم ہوگیا آپ نے ہوا کو حک دیا تو وہ بچے کو بادلوں میں لے گئی ان کا بیٹا شیاطین کے خاف سے بادلوں میں رہا تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین سے خوفزدہ ہونے کی بنا پر آپ کو سزا دی آپ نے محسوس ہی نہ کیا کہ وہ آپ کے تخت پر مردہ پڑا ہوا تھا ‘ یہ معنی شبعی نے بیان کیا ہے یہی وہ جسد ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے والقینا علی کرسیہ جسدا میں بیان کیا ہے۔
نقاش اور دوسرے علماء نے بیان کیا ہے : اکثر لونڈیاں جن سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس لیے وطی کی تھی کہ ان سے اولاد ہوگی تو آپ کا آدھے جسم والا بچہ پیدا ہوا تو اس کی حیثیت اس جسم والی تھی جس کو آپ کے تخت پر پھینک دیا گیا ہو۔ دائی اسے لائی تھی اور اس نے وہاں پھینک دیا تھا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : آج رات میں نوے عورتوں کے پاس چکر لگائوں گا ان میں سے ہر ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے گا آپ کے مصاحب نے کہا : انشاء اللہ کہو تو آپ نے انشاء اللہ نہ کہا ‘ آپ نے رات کے وقت اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا تو ایک عورت کے سوا کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی وہ بھی آدھا بچہ لائی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! اگر وہ انشاء اللہ کہہ دیتے تو وہ سب شاہسوار کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے “ (1) ۔
ایک قول یہ کیا گیا : جسد سے مراد آصف بر خیا صدیق تھے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کاتب تھے۔ اس کی وجہ یہ نبی جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آزمایا گیا تو انگوٹھی آپ کے ہاتھ سے گر پڑی اس میں آپ کی بادشاہت تھی آپ نے دوبارہ اسے اپنے ہاتھ میں ڈالا تو وہ پھر گر پڑی تو آپ کو آزمائش کا یقین ہوگیا۔ آصف بن برخیا نے آپ سے عرض کی : آپ کو آزمائش میں ڈالا گیا ہے اس لئے وہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ٹھہرتی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تائب ہونے کی حیثیت سے رجوع کرو میں تیری حکومت میں تیرے قائم مقام رہوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کی توبہ قبول کرلے۔ آپ کی آزمائش کے چودہ دور ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔ آصف بن برخیا نے انگوٹھی لے لی اسے اپنے ہاتھ میں رکھا تو وہ وہاں ٹھہر گئی ان کے پاس کتاب کا علم تھا آصف بن برخیا حضرت سلامگن (علیہ السلام) کی خدمت اور آپ کے عیال میں قئام مقام رہے جیسی حال حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تھی ایسی حال چلتے اور جو عمل حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تھا ایسا ہی عمل آصف کا ہوتا یہاں تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے گھر تائب ہو کر لوٹ ائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ملک انہیں لوٹا دیا۔ آصف بن برخیا آپ کی مجلس میں رہے آپ کی کرسی پر بیٹھے اور انگوٹھی اپنے ہاتھ میں رکھی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جسد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تھا ‘ اس کی وجہ یہ بنی کہ آپ شدید بیمار ہوئے یہاں تک کہ محض ایک جسم کی حیثیت سے ہوگئے ایک کمزور مریض کی یوں صف بیان کی جاتی ہے : کالجسد الملقی۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی اور آپ کا ملک
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے چھ سو کرسیاں بچھائی جاتیں پھر انسانوں سے معززین حاضر خدمت ہوتے تو وہ آپ کے قریب بیٹھ جاتے پھر جنوں میں سے معززین آتے تو وہ انسانوں کے قریب بیٹھ جاتے پھر پرندے آتے جو ان کو سایہ کر لتے ھ پھر آپ کو ہوا کو بلاتے جو ان سب کو اٹھا لیتی وہ ایک دن میں ایک ماہ کی مسافت طے کرلیتی۔ وہب ‘ کعب اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اپنے باپ کے بعد حاکم بنے تو آپ نے کرسی بنانے کا حکم دیا تاکہ فیصلہ کرنے کے لئے اس پر بیٹھیں اور یہ حکم دیا کہ ایسے خوفناک انداز میں بنایا جائے کہ جب باطل پرست یا جھوٹا گواہ اسے دیکھے تو کا نپ جائے اور خوف زدہ ہوجائے آپ نے یہ حکم دیا کہ اس کرسی کو ہاتھی کے دانتوں سے بنایا جائے جس پر موتی ‘ یاقوت اور زبر جد کے نگینے جڑے ہوئے ہوں اسے سونے کے بنے چار درختوں سے گھیرا گیا ہوا سے سونے کی بنی چار کھجوروں کے ساتھ گھیرا گیا جس کی ٹہنیاں سرخ یاقوت اور سبز زبرجد کی تھیں دو کھجوروں کے سروں پر سونے کے دو مور تھے اور دو کھجوروں کے سروں پر سونے کی دو گدھیں تھیں جو ایک دوسرے کے مقابل تھے کرسی بنانے والوں نے کرسی کی دونوں جانب سونے کے دوشیر بنائے ان دونوں میں سے ہر ایک کے سر پر سبز زمرد کا ستون تھا ‘ انہوں نے کھجوروں کے درختوں پر سرخ سونے کی بیلیں جوڑ دیں ان کے گچھے سرخ یا قوت کے تھے اس طرح ان بیلوں نے کھجوروں اور کرسی کو سایہ کیا ہوا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اس پر چڑھنے کا ارادہ کرتے تو اس کے نیچے والے زینہ پر اپنے دونوں قدم رکھتے تو کرسی اتنی تیزی سے گھوم جاتی جس طرح تیز چکی گھومتی ہے وہ گدھیں اور مور اپنے پر پھیلا دیتے دونوں شیر اپنے ہاتھ پھیلا لیتے اور اپنی دمیں زمین پر مارتے ‘ جس زینے پر بھی آپ چڑھتے یہ چیزیں اس طرح کا ہی عمل کرتیں جب اس کے آخری زینے پر بیٹھ جاتے تو وہ دونوں گدھیں جو کھجور کے درختوں کے اوپر ہوتیں وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تاج پکڑتیں اور اسے آپ کے سر پر رکھ دیتیں پھر کر سی گھوم جاتی اسی کے ساتھ دونوں گدیں ‘ دونوں مور اور دونوں شیر اپنے سروں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جھکاتے ہوئے گھوم جاتے اور اپنے پیٹوں سے کستوری اور عنبر کو چھڑکتے پھر وہ کبوتری 7 جو سونے کی بنی ہوئی تھی جو کرسی کے اوپر موتیوں اور جواہرات سے بنے ستونوں پر ہوتی تو رات حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پکڑاتی حضرت سلیمان (علیہ السلام) اسے کھولتے اسے لوگوں پر پڑھتے اور لوگوں کو فیصلہ کی طرف دعوت دیتے۔
انہوں نے یہ بھی کہا : بنی اسرائیل کے علماء سونے کی بنی کرسیوں پر بیٹھتے جن پر جواہرات جڑھے ہوتے یہ آپ کی دائیں جانب ہزار کرسیاں تھیں اور جنوں کے معززین چاندی کی کرسیوں پر بیٹھتے جو ہزار کرسیاں تھیں پھر پرندے انہیں سایہ کرتے ہوئے گھیر لیتے لوگ فیصلوں کے لئے آگے بڑھتے جب گواہ گواہیوں کے لئے آگے برھتے تو کرسی اپنے تمام متعلقات کے ساتھ تیز چکی کے گھومنے کے ساتھ گھوم جاتی دونوں شیر اپنے ہاتھوں کو پھیلا لیتے اور اپنی دمیں زمین پر ماتے دونوں گدھیں اور دونوں مور اپنے پروں کو پھیلا لیتے گواہ ڈر جاتے اور حق بات کی گواہی دیتے وہ چیز جو اس کی کرسی کو گھماتی وہ سونے کی بنی مچھلی تھی وہ کرسی اس پر تھی۔ صنحر جنی نے جو آپ کے لئے چیزیں بنائی تھیں ان میں سے یہ ایک عظیم چیز تھی۔
جب کرسی کے گھومنے کا احساس ان گدھوں ‘ شیروں اور موروں کو ہوتا جو کرسی کے اوپر سے نیچے تک تھے تو وہ سب چیزیں گھوم جاتیں جب ٹہھرتیں تو سب چیزیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سر پر ٹھہر جاتیں جب کہ آپ بیٹھے ہوتے پھر ان کے پیٹوں میں مشک اور عنبر میں سے جو ہوتا انہیں آپ پر نچھاور کرتے۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا تو بخت نصر نے آدمی بھیجے جو کرسی کو لے آئے جب اسے انطاکیہ لے جایا گیا اس نے ارادہ کیا کہ اس پر چڑھے اسے یہ علم نہیں تھا کیسے اس پر چڑھنا ہے جب اس نے ایک قدم اس پر رکھا تو شیر نے اس کے پائوں پر ضرب لگا دی اور اسے توڑ دیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اس چڑھتے تو دونوں قدم رکھتے بخت نصر مرگیا اور کرسی بیت المقدس کی طرف واپس کردی گئی کوئی بادشاہ اس پر نہ بیٹھ سکا لیکن کوئی اس کے انجام سے بھی آگاہ نہیں ممکن ہے اسے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا ہو۔
ثم اناب۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ قال رب اغفرلی یعنی میرے گناہ بخش دو ‘ و ھب لی ملکا لا یتبغی لا حد من بعدی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کیسے دنیا کی طلب کیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کی ‘ اس سے ناراضگی کی اور اپنی بارگاہ میں اسے حقیر جانا ہے ؟۔
اس کا جواب یہ ہے : علماء کے نزدیک یہ طلب اس پر محمول ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کریں گے ‘ ملک کے امور اچھے انداز میں چلائیں گے ‘ مخلوقات کی منازل کی ترتیب سے رکھیں گے ‘ اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کریں گے ‘ اس کی رسوم کی حفاظت کریں گے ‘ اس کے شعائر کی تعظیم کریں گے ‘ اس کی عبادت ظاہر کریں گے ‘ اس کی اطاعت کو لازم پکڑیں گے جو حکم اس پر نافذ ہوگا ‘ اس کے قانوں کو منظم کریں گے ‘ وعدوں کو ثابت کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ جانتا ہے جسے مخلوقات میں سے کوئی نہیں جانتا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے سامنے تصریح کی ہے : انی اعلم مالا تعلمون۔ ) البقرہ (
حاشاو کلا کہ حضرت سلیان (علیہ السلام) کا یہ سوال محض دنیا کی طلب کے لئے ہو کیونکہ آپ اور انبیاء تمام مخلوقات پر زیادہ زاہد ہوتے ہیں آپ نے مملکت کا سوال محض اللہ تعالیٰ کے لئے کیا تھا جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کی تباہی اور ہلاکت کا سوال اللہ تعالیٰ کے لئے کیا تھا دونوں سوال پسندیدہ تھے اور دونوں مقبول ہوئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عرضداشت مقبول ہوئی تو جو بھی روئے زمین پر تھا اسے ہلاک کردیا گیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو مملکت عطا کردی گئی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ مطالبہ اللہ تعالیٰ کے امر سے کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ تمام بندوں میں سے صرف آپ ہی ان امور کو چلا سکتے ہیں یا یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ کہیں : عظیم ملک کو تو کہا : لا یتبغی لا حد من بعدی اس میں اعتراض کی گنجائش موجود ہے پہلی تعبیر زیادہ مناسب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : ھذا عطاء و نا فا منن او امسک بغیر حساب۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کوئی بھی آدمی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا بار ہے مگر حضرت سلیمان بن دائود کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ھذا عطا ئو نا۔
میں کہتا ہوں : یہ چیز اس کو رد کردیتی ہے جو ایک روایت میں مروی ہے کہ جنت میں تمام انبیاء کرام میں سے سب سے آخر میں داخل ہونے والے حضرت دائود (علیہ السلام) ہیں کیونکہ دنیا میں ان کی بادشاہت ملی۔ بعض روایات میں ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) انبیائ کے جنت میں داخل ہونے کے چالیس سال بعد جنت میں داخل ہونگے اسے صاحب قوت نے ذکر کیا ہے۔
یہ ایسی روایت ہے جس کی اصل نہیں کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے تو اس پر کوئی بوجھ نہیں کیونکہ یہ بطریق احسان انہیں نصیب ہوئی ہے تو پھر وہ کیسے جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونگے جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : و ان لہ عندنا لرلفی و حسن ماب۔ صححہ میں ہے لکل نبی دعوۃ مستجابۃ فتعجل کل نبی دعوتہ ہر نبی کے لئے ایک مقبول حاجت بنا دی گئی اس وجہ سے ان پر اس کا کوئی بوجھ نہیں۔
لا ینبغی لا حد من بعدی کا معنی ہے میرے کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس کا سوال کرے گویا انہوں نے ایسا سوال کیا جس کا سوال بعد میں ممنوع قرار دیا گیا یہاں تک کہ کسی کی امید اس کے ساتھ متعلق نہ ہوئی اور قبولیت کے ممنوع ہونے کی وجہ سے اس نے اس کا سوال بھی نہ کیا۔
ایک قول یہ کیا گیا : ان کا بادشاہت کا سوال کرنا آپ کے بعد کسی کے لئے مناسب نہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ آسمان و زمین کی تخلیق میں ظاہر وعیاں رہے کو ین کہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام و مرتبہ میں ایک سبقت موجود ہے ہر ایک پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے خصوصیت ہو ‘ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے مقام و مرتبہ پر استدلال کیا جاسکے یہی وجہ ہے جب نبی کریم ﷺ نے عفریت کو پکڑا جس نے یہ ارادہ کیا تھا کہ آپ کی نماز کو قطع کرے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس عفریت پر آپ کو قدرت بھی دے دی تو حضرت ﷺ نے اسے باندھنے کا ارادہ کیا پھر اپنے بھائی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول یاد آگیا : رب اغفرلی و ھب ملکا لا ینبی لا حد من بعدی (1) تو حضور ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد بھی کسی کو یہ حکومت عطا کی جاتی تو خصوصیت ختم ہوجاتی گویا حضرت ﷺ نے اس خصوصیات میں مزاحمت کو ناپسند کیا اس کے بعد کہ آپ نے اس چیز کو جان لیا تھا کہ یہی وجہ ہے جو آپ کی خصوصیت ہے کہ شیاطین کو آپ کے لئے مسخر کردیا گیا ہے اور آپ کی یہ دعا قبول ہوگئی ہے کہ آپ کے بعد کسی کے لئے ایسی حکومت نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
فسخر نا لہ الریح تجری بامرہ رخاء۔ رخاء کا معنی ہے نرم جب کہ اس میں قوت اور شدت موجد ہے یہاں تک کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ ہوا آپ کے چھائونی ‘ آپ کے لشکروں اور آپ کے تخت کو اٹھالیتی تھی جس طرح روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ کا تخف فرسخ در فرسخ تھا اس میں سو (100) درجے تھے جو ایک کے اوپر نیچے تھے ہر درجہ میں ایک قسم کے لوگ ہوتے تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سب سے اوپر والے درجہ میں اپنی عورتوں اور خدام کے ساتھ رہتے تھے۔
ابو نعیم حافظ نے ذکر کیا ہے احمد بن جعفر ‘ عبداللہ بن احمد بن خنبل سے وہ احمد بن ایوب وہ ابوبکر بن عیاش سے وہ ادریس بن وہب بن منبہ سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سو کمرے تھے ان میں سے سب سے اونچا شیشے کا تھا اور سب سے نچلے والا لوہے کا تھا ‘ ایک روز آپ ہوا کے دوش پر سوار ہوئے تو آپ ایک کسان کے پاس سے گزرے تو کسان نے ان کی طرف دیکھا تو کہا : آل دائود کو عظیم بادشاہت دی گئی ہے ‘ ہوا نے اس کی گفتگو سن لی ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کان میں ڈالی آپ اترے یہاں تک کہ اس کسان کے پاس آئے فرمایا : میں نے تیری بات سنی ہے میں تیرے پاس اس لیے چل کر آیا ہوں تاکہ تو اس چیز کی تمنا نہ کرے جس پر تو قادر نہیں تیرا ایک دفعہ سبحان اللہ کہنا جسے اللہ تعالیٰ قبول کرلے اس حکومت سے بہتر ہے جو آل دائود کو دی گئی ہے ‘ کسان نے کہا اللہ تعالیٰ تیرے غم کو دور کرے تو نے میرے غم کو دور کیا۔
حیث اصاب۔ اصاب کا معنی ارادہ کیا ‘ یہ مجاہد کا قول ہے عرب کہتے ہیں : اصاب الصواب و اخطا الجواب (2) ۔ صحیح کا ارادہ کیا اور جواب میں غلطی کی ‘ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ شاعر نے کہا :
اصاب الکلام فلم یستطع فاخطا الجواب لدی المفصل
اس نے گفتگو کا ارادہ کیا تو اس نے طاقت نہ رکھی اس نے فیصلہ کے وقت جواب میں غلطی کی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : حمیر لی لغت میں اصاب کا معنی اراد ہے۔ قتادہ نے کہا ؟ یہ ہجر کی زبان میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؟ حیث اصاب کا معنی ہے حینما قصد یہ اصل میں اصابۃ السھم الغرض المقصود سے ماخوز ہے تیر ٹارگٹ پر جا لگا۔
والشیطین کل بناء و غواص۔ یعنی ہم نے اس کے لئے شیاطین کو مسخر کردیا (1) جب کہ اس سے قبل کسی کے لئے یہ مسخر نہ تھے کل بناء یہ شیاطین سے بدل ہیں اصل کلام یوں ہے کل بناء منھم وہ اس کے لئے وہ چیز بناتے ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) چاہتے ہیں۔ شاعر نے کہا
الا سلیمان اذ قال الالہ لہ قم فی البریۃ فاحددھا عن الفند
و خیس الجن انی قد اذنت لھم یبنون تدمر بالصفاح والعمد
مگر سلیمان (علیہ السلام) ‘ جب اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : جنگل میں کھڑے ہو جائو ‘ اسے خطا سے پاک کر دو ‘ جنوں کو ذلیل و رسوا کر دو میں نے انہیں حکم دے دیا ہے وہ باریک پتلے پتھروں اور ستونوں کے ساتھ عمارتیں بنائیں گے۔ و غواص وہ سمندر سے ان کے لئے موتی نکالیں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پہلے شخص تھے جن کے لئے سمندر سے موتی نکالے گئے۔ آخرین مقرنین فی الاصفاد۔ ہم نے ان کے لئے سرکش شیاطین کو مسخر کیا یہاں تک کہ آپ نے لوہے کی زنجیروں اور بیڑیوں میں انہیں جکڑ دیا ‘ یہ قتادہ نے کہا۔ سدی نے کہا : اس سے مراد طوق ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کرسیاں ہیں ‘ اسی معنی میں شاعر کا عول ہے
قابوا بالنھاب و بالشبایا و ابنا بالملوک مصفدینا
وہ چھینے ہوئے مال ‘ قیدیوں کے ساتھ لوٹے اور ہم رسیوں میں جکڑے ہوئے بادشاہوں کے بیٹوں کے ساتھ واپس لوٹے۔
یحییٰ بن سلام نے کہا : آپ یہ معاملہ ان کے کفار کے ساتھ کرتے تھے جب وہ ایمان لے آتے تو آپ انہیں آزاد چھوڑ دیتے انہیں اپنا مطیع نہیں بناتے۔
ھذا عطا ئو نا اسم اشارہ سے مراد بادشاہت ہے ‘ یہ بادشاہت ہماری عطا ہے جسے چاہیں آپ عطا کریں اور جسے چاہیں نہ دیں آپ پر کوئی حساب نہیں۔ حضرت حسن بصری ‘ صحاک اور دوسرے علماء سے مروی ہے ‘ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جس پر بھی جو نعمت کی ہے اس پر اس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی بوجھ ہوگا مگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے مستثنی تھے کو ن کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے : ھذا عطا ئونا فامنن او امسک بغیر حساب۔ قتادہ نے کہا : اسم اشارہ سے مراد حقوق زوجیت ادا کرنے پر قوت ہے آپ تین سو بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں آپ کی پشت میں سو آدمیوں کی قوت تھی ‘ یہ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے ‘ اسی کی ہم معنی روایت بخاری میں موجود ہے اس تاویل کی بناء پر فامنن منی سے مشتق ہوگا (2) یہ کہا جاتا ہے : امنی یمنی ‘ منی یمنی دونوں لغتیں ہیں جب تو امنی سے امر کا صیغہ بنائے گا تو تو کہے گا امن اور منی یمنی کا صیغہ امن ہوگا جب تو فعل کے نون کے ساتھ خفیہ لائے تو کہے گا امنن۔
جو احسان کی طرف گیا ہے اس نے کہا : یہ من غلیہ سے مشتق ہے ‘ جب وہ اس سے امر کا صیغہ بنائے گا تو دونوں نونوں کو ظاہر کرے گا کیونکہ یہ مضاعف ہے تو اس نے کہا : امنن حدیث میں روایت کیا گیا ہے کہ آپ کے لئے شیاطین کو مسخر کیا گیا جس کے حق میں آپ چاہیں اسے آزاد کردیں اور چھوڑ دیں اور جس کے بارے میں چاہیں اپ اسے روکے رکھیں ‘ یہ قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے جو روایت نقل کی ہے اس کی تعبیر یہ ہے اپنی عورتوں میں سے جس کے ساتھ چاہو حقوق زوجیت ادا کرو اور جس کے بارے چاہو اس کے ساتھ حقوق زوجیت سے رکے رہو آپ پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔
و ان لہ عند نا لزلفی و حسن ماب۔ یعنی اگر ہم نے ان پر دنیا میں انعما کیا ہے تو اس کے لئے آخرت میں بھی قربت اور لوٹنے کی بہترین جگہ ہوگی۔
Ayahs 38:41–43واذکر عبدنا ایوب یہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ مشکلات میں صبر پر ان کی اقتدا کریں ایوب یہ عبدنا سے بدل ہے۔
اذا نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصیب و عذاب۔ عیسیٰ بن عمر نے ان ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : قراء نے بنصب پر اتفاق کیا ہے یعنی نون مضموم اور صاد ساکن ہے شد نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ علط ہے ا کے بعد مناقض ہے اور وہ بھی غلط ہے کیونکہ اس نے کہا : قراء نے اس پر اجماع کیا اس کے بعد یہ حکایت کی کہ قراء نے یزید بن قعقاع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے بنصب پڑھا ہے اور ابو جعفر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے ‘ ابو جعفر نے بنصب پڑھا ہے ‘ اب عبید اور ددوسرے قراء نے اسی طرح بیان کیا ہے ‘ حضرت حسن بصری سے اسی طرح مروی ہے جہاں تک بنصب کا تعلق ہے یہ عاصم جحدری اور یعقوب حضرمی کی قراءت ہے ‘ حضرت حسن بصری سے بھی یہی قراءت مروی ہے بنصب ابو جعفر سے بھی مروی ہے۔ اکثر نحفویوں کے نزدیک سے یہ سب نصب کے معنی میں ہیں نصب اور نصب ‘ حزن اور حزن کی طرح ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ نصب ‘ نصب کی جامع ہو جس طرح وثن کی جمع و ثن آتی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ نصب ‘ نصب کے معنی میں ہو اس سے ضمہ حذف ہے جہاں تک وما ذبح علی النصب) المائدہ (3: کا تعلق ہے تو ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نصاب کی جمع ہے۔ ابو عبید اور دوسرے علماء نے کہا : نصب کے معنی شر اور آزمائش ہے اور نصب کا معنی تھکاوٹ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں کا معنی ایک ہی ہے ‘ اس آیت سے مراد ہے شیطان جو وسوسہ لاحق کرتا ہے اس نے مجھے وہی پہنچایا ہے۔ کوئی اور چیز اس نے مجھے لاحق نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ‘ یہ نحاس نے زکر کیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نصب سے مراد وہ چیز ہے جو اس کے بدن کو لاحق ہو اور عذاب سے مراد وہ چیز ہے جو اس کے مال کو لاحق ہو اس میں حقیقت سے بعید ہے۔
مفسرین نے کہا : ایوب رومی تھے یہ بثنیہ سے تعلق رکھتے تھے ان کی کنیت ابو عبداللہ تعھی ‘ یہ واقدی کی قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت کے لئے چن لیا ان کے پاس ال اور اولاد کی کثرت تھی وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر بجا لانے والے تھے اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ہمدردی کرتے ‘ نیک ‘ رحم دل تھے۔ تین افراد کے علاوہ کوئی ان پر ایمان نہ لایا۔ دونوں میں ایک دن ابلیس کے لئے ساتویں آسمان میں ٹھہرنے کا موقع بنا ابلیس اپنی عادت کے مطابق وہاں بیٹھا اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا یا اسے کہا گیا : کیا تو میرے بندے ایوب پر کوئی قدرت رکھتا ہے ؟ ابلیس نے عرض کی اے میرے رب ’ میں اس پر کس طرح قادر ہو سکتا ہوں جب کہ تو نے اسے مال اور عافیت کے ساتھ آزمائش میں ڈال رکھا ہے اگر تو نے آزمائش اور فقر کے ذریعے آزمائے اور جو کچھ تو نے اسے عطا کر رکھا ہے وہ اس سے واپس لے لے تو وہ اپنی حالت سے بدل جائے گا اور تیری اطاعت سے نکل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تجھے اس کے اہل اور مال پر تسلط دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دشمن آسمان سے نیچے اترا اس نے جنوں میں سے سرکش جنوں کو اکٹھا کیا اور انہیں سب کچھ بتایا ‘ ان میں سے ایک نے کہا : میں ایک بگولہ بنوں گا جس میں آگ ہوگی تو میں اس کا مال ہلاک کر دوں گا وہ حضرت ایوب کی خدمت میں مال کے منتظم کی صورت میں آیا اس کے مال پر جو کچھ واقع ہوا تھا وہ سب بتایا تو حضرت ایوب نے کہا : الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے ہی مال عطا کیا ہے اور اسی نے مال روک لیا ہے۔ پھر وہ آپ کے اس محل میں آیا جہاں آپ کے گھر والے اور آپ کی اولاد تھی اس نے محل کو اطراف سے اٹھایا اور اسے آپ کے ابل و اولاد پر دے مارا پھر وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو حضرت ایوب نے مٹی اپنے سر پر ڈالی ابلیس آسمان کی طرف چڑھا تو حضرت ایوب (علیہ السلام) کی توبہ اس سے سبقت لے جا چکی تھی۔
ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اس کے بدن پر غلبہ عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میں نے تجھے اس کے بدن پر مسلط کیا مگر اس کی زبان ‘ اس کے بدل میں اس کی آنکھ پر تسلط عطا نہیں کیا۔ اس نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جسم پر ایک پھونک ماری جس کی وجہ سے آپ کا جسم جل گیا تو آپ کے جسم میں م سے نکل آئے آپ نے انہیں اپنے ناخنوں سے رگڑایہاں تک کہ ان سے خون نکلنے لگا پھر ٹھیکری کے ساتھ ملا تو آپ کا گوشت گرگیا اس موقع پر کہا تھا : مسی الشیطن پیٹ کے اندر تک کوئی بیماری نہ پہنچی کیونکہ نفس کی بقاء پیٹ کے اندرونی حصہ سے ہوا کرتی ہے آپ کھاتے اور پیتے آپ تین سال تک اسی طرح جب حضرب ایوب (علیہ السلام) اس پر غالب آگئے تو وہ اپ کی بیوی کے پاس انسانوں میں سے خوبصورت ترین اور معزز ترین فرد کی صورت میں آیا اس نے آپ کی بیوی سے کہا : میں زمین کا معبود ہوں ‘ میں نے ہی تیرے خاوند کے ساتھ کیا جو کچھ کیا اگر تو مجھے ایک سجدہ کر دے تو میں اس اہل ابل اور اس کا مال اس کی طرف لوٹا دونگا جب کہ وہ سب میرے پاس ہیں اسی شیطان نے وہ تمام چیزیں ایک وادی میں آپ کی بیوی کے سامنے کردیں اس عورت نے وہ تمام باتیں حضرت ایوب کو بتائیں تو حضرت ایوب نے قسم اٹھائی اگر وہ صحت مند ہوئے تو ضرور اس بیوی کو ماریں گے۔ مفسرین نے ان کی آزمائش کے سبب ‘ اپنے رب کی طرف مراجعت ‘ اس مصیب سے چھٹکارا جو مصیب ان پر واقع ہوئی تھی اور وہ تین افراد جو آپ پر ایمان لائے جنہوں نے اپ کو اس سے منع کیا تھا اور آپ پر اعتراض کیا تھا پر طویل گفتگو کی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک مظلوم نے آپ سے مدد طلب کی تھی تو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اسکی مدد نہ کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک دن آپ نے لوگوں کو کھانے پر بلایا تو آپ نے ایک فقر کو داخل ہونے سے روک دیا اس وجہ سے وہ آزمائش میں مبتلا ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : آپ ایک بادشاہ سے برسرپیکار تھے جب کہ آپ کے ریوڑ اس کی مملکت میں تھے تو اس ریوڑ کی وجہ سے اس کے ساتھ غزوہ کو ترک کر کے اس کے ساتھ نری کی تو اس وجہ سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگ آپ کی بیوی سے مرض کے پھیل جانے سے دور رہتے وہ کہتے : ہم عدوی سے ڈرتے ہیں جب کہ وہ آپ کی بیوی سے نفرت کرتے اسی وجہ سے فرمایا : مسنی الشیطن آپ کی بیوی لیا بنت یعقوب تھی۔ حضرت ایوب ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دور میں تھے ان کی ماں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ایوب کی بیوی رحمہ بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب (علیہم السلام) تھی ‘ ان دونوں قولوں کو طبری نے ذکر کیا ہے۔
ابن عربی نے کہا : مفسرین نے جو یہ کہا کہ ابلیس کا سال میں ایک دن ساتویں آسمان میں بیٹھنے کی جگہ تھی تو یہ قول باطل ہے کیونکہ شیطان کو زمین کی طرف لعنت اور ناراضگی کے ساتھ اتارا گیا تو محل رضا کی طرف کیسے بلند ہو سکتا ہے ؟ انبیئا کے مقامات میں کیسے گھوم پھر سکتا تھا ؟ وہ آسمانوں کو پھاڑتا تو انبیاء کی منازل کی طرف ساتویں آسمان کی طرف بلند ہوتا اور حضرت خلیل کی جگہ جا کر ٹھہر تا بیشک یہ بہت بڑی غلطی ہے اور جہالت کی پیداوار ہے۔
جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تجھے اس کے مال اور اس کی اولاد پر تلسط عطا کردیا ہے یہ قدرت میں ممکن ہے لیکن اس قصہ میں بعید ہے اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ شیطان نے اپ کے جسم میں پھونک ماری جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ان کے جسم پر غلبہ دیا یہ بھی حقیقت سے بہت ہی بعید بات ہے اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو پیدا فرمائے جب کہ شیطان کا اس میں کوئی عمل دخل نہ ہو یہاں تک کہ شیطان کی اس بات سے آنکھ ٹھنڈی ہو کہ اسے انبیاء کے اموال ‘ ان کے اہل اور ان کی ذاتوں میں قدرت حاصل ہوئی ہے۔ جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ شیطان نے آپ کی زوجہ سے یہ بات کی کہ وہ زمین کا الہ ہے اگر تو اللہ کا ذکر چھوڑ دے اور تو مجھے سجدہ کرے تو میں اسے درست کروں گا۔ یہ بات ذہن نشین کرلو اور تم خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ اگر وہ تم میں سے کسی کے سامنے آئے جب کہ اس انسان کو درد ہو اور شیطان ن سے یہ بات کرے تو اس کے نزدیک یہ جائز نہیں ہوگا کہ اس کا زمین میں ایک خدا ہو اس کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ سیطان کو سجدہ کرے اور شیطان اسے مصیبت سے عافیت دلائے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کی زوجہ اس سے شک میں مبلتا ہو ؟ اگرچہ وہ دیہاتی بیوی ہو یا کم عقل بربری عورت ہو اس کے لئے یہ جائز نہیں۔
جہاں تک شیطان کے اس معاملہ کا تعلق ہے کہ اس نے حضرت ایوب کی بیوی کے لئے اموال اور ان کے اہل کو ایک وادی میں مثالی صورت میں پیش کئے ابلیس کسی حال میں بھی اس پر قادر نہیں نہ ہی وہ جاجادو کے طریقہ پر ایسا کرسکتا ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس جنس سے تھا۔ اگر یہ تصور کیا جائے تو آپ کی بیوی پہچان جاتی کہ یہ جادو ہے جس طرح ہم جان لیتے ہیں جب کہ وہ ہماری بنسبت اس بارے میں زیادہ پہچان رکھتی تھی کیونکہ جادو ‘ اس کے بارے میں گفتگو ‘ لوگوں کے درمیان اس کے جاری ہونے اور اس کی تصویر کشی سے کوئی زمانہ آج تک خالی نہیں رہا۔
قاضی نے کہا : جس چیز نے ان اقوال پر جری کردیا ہے اور انہوں نے اس کے بارے میں زیادہ گفتگو کی وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصیب و عذاب۔ جب انہوں نے ایہ دیکھا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے شیطان کے مس کرنے کی شکایت کی تو انہوں نے اپنی رائے سے ان چیزوں کو ملا دیا جن اقوال کا ذکر پہلے گزر چکا ہے جب کہ معاملہ اس طرح کا ننیں جس طرح انہوں نے گمان کیا ہے جب کہ تمام افعال اچھے ہوں یا برے ہوں ایمان ہو یا کفر ‘ اطاعت ہو یا نافرمانی سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ان کے خالق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ان کے علاوہ چیزوں کی تخلیق میں بھی کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں لیکن شرک ذکر میں اس کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا اگرچہ خلق میں اسی سے موجد ہے یہ بطور ادب ہے جس کی بطور ادب ہیں تعلیم دی گئی اور بطور حمد جو ہمیں سکھایا گیا نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد اسی معنی میں ہے : والخیر فی یدیک والشر یس الیک۔ اسی معنی میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے : و اذا مرضت فھو یشفین۔ ) الشعرائ ( نوجوان نے حضرت کلیم سے یہ کیا تھا : وما انسنیہ الا شیطان) الکہف (63:
جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ ایک مظلوم نے مدد طلب کی تو آپ نے اس کی مدد نہ کی کون ہمارے لئے اس قول کی صحبت کو ثابت کرے یہ امر اس سے خالی نہ ہوگا کہ آپ اس کی مدد پر قادر تھے تو کسی کے لئے بھی اس کو ترک کرنا حلال کرنا پس اس پر ملامت کی جائے گی کہ انہوں نے نافرمانی کی جب کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) اس سے منزہ تھے یا وہ مدد کرنے سے عاجز تھے تو پھر اس وجہ سے ان پر کوئی قدغن نہ ہوئی اسی طرح ان کا یہ قول بھی ہے کہ آپ نے فقیر کو داخل ہونے سے روکا تھا اگر آپ کے علم ہوتا تو یہ ان کے بارے میں کہنا ہے اگر جانتے ہی نہ تھے تو ان پر کوئی قدغن نہیں۔
جہاں تک یہ کہنا ہے کہ بھیڑ بکریوں کی وجہ سے کافر بادشاہ سے نرمی کی تھی تو تو داھن کا لفظ نہ کہہ بلکہ داری کا لفظ کہہ۔ کافر اور ظالم کو نفس اور مال سے مال کے ذریعے دور کرنا جائز ہے ہاں اچھی گفتگو سے کرنا بھی جائز ہے۔
ابن عربی قاضی ابوبکر نے کہا : حضرت ایوب کے بارے میں کچھ ثابت نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان دو آیات میں جو خبری دی ہے : و ایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر) الانبیائ (83 دوسری سورت میں ہے : انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب۔
جہاں تک نبی کریم ﷺ کا تعلق ہے تو آپ سے کوئی چیز صحیح سند کے ثابت نہیں مگر یہ قول ملتا ہے بینا ایوب یغتسل اذخر علیہ رجل من جراد من ذہب (1) ۔
جب حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بارے میں آپ سے نہ قرآن اور نہ حدیث سے کوئی چیز ثابت ہے مگر جس کا ہم نے زکر کیا ہے تو وہ کون ہے جو سامع تک اپنی خبر پہنچا دیتا ہے یا کس زبان سے اس نے یہ بات سنی ہے۔ علماء کے نزدیک اسرائیل روایات قطعی طور پر ترک کردی گئی ہیں ان کی تحریروں سے اپنی نظر کو دور رکھو اور ان کے سننے سے اپنے کانوں کو بند رکھو کیونکہ اسرائیلیات تجھے صرف خیال عطا کریں گی اور تیرے دل میں سوائے فساد کسی کسی چیز کا اضافہ نہ کریں گی۔
صحیح میں ہے جب کہ الفاظ امام بخاری کے ہیں کہ حضرت ابن عباس ﷺ نے کہا : اے مسلمانوں کی جماعت ! اہل کتاب سے سوال کرتے ہو جب کہ تمہاری وہ کتاب جو تمہارے نبی پر نازل کی گئی یہ اللہ تعالیٰ کی خبریں دیے میں سے سب سے نئی ہے تم اسے خالص پڑھتے ہو اس میں کسی چیز کی آمیزش نہیں اس نے تمہارے سامنے یہ بیان کیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں تبدیلی کی ہے اپنے ہاتھوں سے کتابیں لکھیں اور کہا : ھذا من عند اللہ لیشترو بہ ثمنا قلیلا) البقرہ (79:
تمہارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے سوال کرنے سے نہیں روکتا نہیں ہر گز نہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی قسم ! ہم نے ان میں سے کسی ایک آدی کو بھی نہیں دیکھا جو تم سے اس چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے جو تم پر نازل ہوا جب کہ مٔوطا کی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اس امر کو عجیب جانا کہ حضرت عمر تو رات کی قراءت کر رہے تھے۔
ارکض برجلک ‘ رکض سے مراد ہے پائوں سے دھکیلنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : رکض الدابۃ و رکض ثوابہ برجلہ اس نے جانور کو پائوں مارا۔ اس نے کپڑے کو اپنے پائوں سے پرے کیا۔ مبرد نے کہا : رکض کا معنی حرکت دینا ہے اسی وجہ سے اصمعی نے کہا : یہ کہا جاتا ہے رکضت الدابۃ یہ نہیں کہا جاتا : رکضت ھی کیونکہ رکض کا معنی ہے سوار کا اپنی ٹانگوں کو حرکت دینا۔ اس سواری کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
سیبویہ نے کہا : رکضت الدابۃ فراکضت جس طرح یہ جملہ ہے جبرت العظیم فجبر و حزتنہ فخرن میں نے سواری کو حرکت دی تو اس نے حرکت کی میں نے ہڈی کو جوڑا تو وہ جڑ گئی ‘ میں نے اسے غمگین کیا تو وہ غمگین ہوگیا ‘ کلام میں اضما رہے یعنی ہم نے نے کہا : ارکض یہ کسائی کا قول ہے۔
ھذا مغتسل بارد و شراب۔ یہ اس وقت کہا جب اللہ تعالیٰ نے اسے عافیت عطا کردی۔ حضرت ایوب نے پائوں مارا تو اس کی وجہ سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا تو آپ نے اس سے غسل کیا تو ظاہر سے بیماری چلی گئی پھر آپ نے اس سے غسل کیا تو ظاہر سے بیماری چلی گئی پھر آپ نے اس سے پانی پیا تو باطن سے بھی بیماری رفع ہوگئی۔ قتادہ نے کہا : یہ دنوں شام کی سرزمین میں دو چشمے ہیں جس سر زمین کو جابیہ کہتے ہیں آپ نے ان میں سے ایک سے غسل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ظاہر سے بیماری کو دور کردیا اور دوسرے چشمے سے پانی پیا تو اللہ نے ان کے باطن سے بیماری کو دور کردیا (1) ‘ اسی کی مثل حضرت حسن بصری اور مقاتل سے مروی ہے کہ مقاتل نے کہا : گرم چشمہ پھوٹ پڑا آپ نے اس کے پانی سے غسل کیا تو صحیح وسالم وہاں سے نکلے پھر دوسرا چشمہ پھوٹا تو آپ نے اس سے میٹھا پانی پیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پائوں مارنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ آپ کے جسم میں جو بھی بیماری ہے وہ جھڑ جائے۔
مغتسل سے مراد وہ پانی ہے جس سے غسل کیا جاتا ہے ‘ یہ قتبی نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں غسل کیا جاتا ہے۔ مقاتل کا قول ہے جوہری نے کہا : اغتسلت بالماء ‘ غسول اس پانی کو کہتے ہیں جس پانی سے غسل کیا جاتا ہے اس طرح مغتسل بھی وہ پانی ہے جس کے ساتھ غسل کیا جاتا ہے مغسل اور مغسل مردوں کے غسل کی وجہ کو کہتے اس کی جمع مغاسل ہے۔
اس امر میں اختلاف ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کتنا عرصہ آزمائش میں مبتلا رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سات سال ‘ سات ماہ ‘ سات دن اور سات گھنٹے (1) ۔
وہب بن منبہ نے کہا : حضرت ایوب (علیہ السلام) نے سات سال تک بیماری پائی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) سات سال تک قید میں رہے بختصر کو عذاب دیا گیا اور سات تک اسے درندوں میں محبوس کیا گیا ‘ یہ ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دس سال تک آپ کی بیماری رہی۔ ایک قول یہ کیا گیا : آٹھ سال تک آپ کی بیماری رہے ‘ اسے حضرت انس نے مرفوع نقل کیا ہے جسے ماوردی نے نقل کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : اسے ابن مبارک نے ذکر کیا ہے۔ یونس بن یزید ‘ عقیل سے وہ ابن شہاب سے روایت ہے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز حضرت ایوب (علیہ السلام) اور انہیں جو آزمائش آئی اس کا ذکر کیا اور یہ ذکر کیا کہ آزمائش جو آپ کو پہنچی تھی وہ اٹھارہ سال تک رہی ‘ قشیری نے اس حدیث کا زکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ عرصہ چالیس سال تھا۔
وو ھبنا لہ اھلہ و مثلھم معھم اس کے بارے گفتگو سورة الانبیاء میں گذر چکی ہے۔ رحمۃ سے مراد نعمت ہے ‘ یہ دانشمندوں کے لئے عبرت ہے۔