Ayah 35:42آیت : و اقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جائھم نذیر قسم اٹھانے والوں سے مراد قریش ہیں (1) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 476) اس سے قبل کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمائے قریش نے یہ قسم اٹھائی تھی جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ اہل کتاب نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا قریش نے ان پر لعنت کی جنہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا تھا اور اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھائی تھی کہ اگر ان کے پاس نبی آیا۔
آیت : لیکونن اھدی من احدی الامم یعنی اہل کتاب میں سے جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ وہ ان سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔ عرب یہ آرزو کرتے تھے کہ کاش ان میں سے بھی کوئی رسول ہوتا جس طرح بنی اسرائیل میں سے رسول تھے۔ جب انہیں میں سے نذیر آگیا جس کی انہوں نے تمنا کی تھی تو انہوں نے اس سے نفرت کی اور اس پر ایمان نہ لائے۔ استکبارا یعنی ایمان سے س کشی کرتے ہوئے ایمان نہ لاتے۔
Ayah 35:43آیت : و مکر السیء برے عمل کا مکر۔ اس سے مراد کفر اور کمزور لوگوں کو دھوکہ دینا ہے اور ان کا ایمان سے لوگوں کو رو کنا ہے تاکہ ان کے پیرو کار زیادہ ہوں۔ امت کے مونث ہونے کی وجہ سے من احدی الا مم کو مونث ذکر کیا ؛ یہ اخفش کا قول ہے۔ حمزہ اور اخفش نے و مکر السی ولا یحیق المکر السیء پڑھا یعنی پہلے مکر سے اعراب کو حذف کیا اور دوسرے میں اسے ثابت رکھا۔ زجاج نے کہا : یہ لحن ہے، یہ لحن اس لیے ہوا کیونکہ اس سے اعراب کو حذف کیا گیا ہے۔ مبرد نے گمان کیا ہے : یہ انداز کلام اور شعر میں جائز نہیں کیونکہ اعراب کی حرکات کو حذف کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حرکات معانی میں فرق کرنے کے لیے داخل ہوئیں۔ بعض نحویوں اس امر کو بڑا عظیم جانا کہ اعمش اپنی حالت اور قیام و مرتبہ کے با وجود یہ اس طرح قراءت کرتا ہے : اعمش اس پر وقف کرتا، جس نے اس کی طرف سے تعبیر کی ہے اس نے غلطی کی۔ کہا : اس پر دلیل یہ ہے کہ اس پر کلام مکمل ہوتی ہے اور دوسرے پر کلام مکمل نہیں ہوتی تو با لاتفاق اس پر اعراب دیا جائے گا۔ دوسرے میں السییء میں حرکت پہلے السییء کی بنسبت زیادہ ثقیل ہے، کیونکہ یہ دو کسروں کے درمیان ضمہ ہے۔ بعض نحو یوں نے اس بارے میں سیبویہ کے قول سے استدلال کیا ہے۔ اس نے اور دوسروں نے یہ مصرعہ پڑھا :
اذا ا رو ججن قلت صاحب قوم
جب ان میں کجی واقع ہوگئی تو میں نے کہا : اے ساتھی ! انہیں سیدھا کر۔ محل استدلال صاحب ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
فا لیوم اشرب غیر مستحقب اثما من اللہ و لا دا خل (1) ( المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 443 )
آج میں پیوں گا میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوں گا اور نہ ہی دعوت کے بغیر داخل ہونے والا ہوں گا۔ محل استدلال کا شرب ہے۔ اس میں کوئی حجت نہیں، کیونکہ سیبویہ نے اس کو جائز نہیں قرار دیا۔ اس نے اسے بعض نحویوں سے حکایت کیا ہے۔ جب کوئی بات ایسی ہو جس میں علماء کا اعتراض ہو تو وہ حجت نہیں ہوتی تو یہ کیسے حجت ہو سکتی ہے جب وہ شاذ کے طور پر اور ضرورت شعری کے طور پر واقع ہو ؟ زجاج نے یہ گمان کیا ہے کہ ابو العباس نے یوں پڑھا۔ اذا اعوججن قلت صاح قوم۔
اور اس نے پڑھا : فا لیوم فا شرب غیر مستحقب
نحاس نے ان سب چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ زمحشری نے کہا : حمزہ نے و مکر السی ہمزہ کے سکون کے ساتھ قراءت کی ہے (2) ( تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 619) ۔ اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ اس پر حرکات ثقیل ہوتی ہیں۔ ممکن ہے اس نے اختلاس کا قاعدہ جاری کیا ہو تو اسے سکون گمان کیا گیا یا خفیف سا وقف کیا پھر ابتداء کی و لا یحیق۔ حضرت ابن مسعود نے و مکرا سیاء قراءت کی۔ مہدوی نے کہا : جس نے و مکر السی میں ہمزہ کو سکون دیا تو وہ وقف کے طریقہ پر ہے پھر وقف کے طریق پر وصل کو جاری کیا یا ہمزہ کو ساکن کیا کیونکہ کسرے پے در پے اور یا پے در پے ہیں۔ جس طرح کہا :
فا الیوم اشرب غیر مستحقب
قشیری نے کہا : حمزہ نے ومکر السی ہمزہ کے سکون کے ساتھ قراءت کی۔ لوگوں نے اس کی اس قراءت کو غلط قرار دیا ہے ایک قوم نے کہا : ممکن ہے اس نے اس پر وقف کیا ہو کیونکہ کلام اس پر مکمل ہوتی ہے۔ تو راوی نے غلطی کی۔ یہ امر ان سے ادراج میں روایت کیا گیا۔ اس کی مثل میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
ہم نے کہا : جو امر خبر مستفیض اور خبر متواتر سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے پڑھا تو یہ جائز ہے۔ یہ کہنا جائز نہیں کہ یہ لحن ہے۔ جس نے اس قراءت کو خطا پر محمول کیا ہے شاید اس کی مراد یہ ہو کہ دوسری قراءت افصح ہے اگرچہ یہ بھی فصیح ہے۔ آیت : و لا یحیق المکر السیء الا با ھلہ یعنی جس نے شرک کیا اس پر شرک کا عقاب نا زل ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد غزوہ بدر میں ان کا قتل ہے۔ شاعر نے کہا :
و قددفعوا السیتہ فا ستقلت ذراعا بعد ما کا نت تحیق (3) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 479)
اس شعر میں تحیق، تنزل کے معنی میں ہے : یہ قطرب کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : یحیق، یحیط کے معنی میں ہے (4) (ایضا) ۔ حوق کا معنی احاطہ کرنا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے : حاق بہ کذا یعنی اس کا احاطہ کرلیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کعب الا حبار نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : میں تو رات میں پاتا ہوں جس نے اپنے بھائی کے لیے گھڑھا کھو دا وہ خود اس میں گرگیا ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : میں یہ چیز تجھے قرآن میں دکھا سکتا ہوں۔ کعب الا حبار نے پوچھا : وہ کہاں ہے ؟ فرمایا : پڑھو آیت : و لا یحیق المکر السیء الا با ھلہ مثال عرب میں ہے : من حقر لا خیہ جبا و قع فیہ منکبا (1) ( المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 443) جو آدمی اپنے بھائی کے لیے کنواں کھو دتا ہے تو اس میں منہ کے بل گرتا ہے۔ زہری نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نہ مکر کرو اور نہی مکر کر نیوالے کی مدد کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرماتا ہے آیت : و لا یحیق المکر السیء الا با ھلہ نہ خود بغاوت کرو نہ ہی باغی کی مدد کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آیت : فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ( الفتح : 10) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : انما بغیکم علی انفسکم ( یونس : 23) ایک حیک نے کہا :
یایھا الظالم فی فعلہ ولقلم مردود علی من غلم
الی متی انت وحتی متی تحصی المصائب و تنسی البنعم
اے اپنے افعال میں ظلم بر تنے والے جب کہ ظلم ظالم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے : تو کب تک مصائب کا شمار کرتا رہے گا اور کب تک نعمتوں کو بھلائے رکھے گا۔
حدیث میں ہے : المکر والخدیعتہ فی النار مکر اور دھوکہ آگ میں ہیں۔ فی النار سے مراد یعنی آخرت میں مکر اور دھوکہ دینے والے جہنم میں ہوں گے، کیونکہ یہ کفار کے اخلاق میں سے ہے نیک مومنوں کے اخلاق میں سے نہیں اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ اس حدیث کے سیاق میں فرمایا : حدیث : و لیس من اخلاق المومن المکر ولخدیعتہ و الخیانتہ مکر، دھوکہ اور خیانت مومن کے اخلاق میں سے نہیں۔ اس حدیث میں ایسے مذموم اخلاق کو اپنا نے اور ایمان کے کریمانہ اخلاق کو چھوڑنے پر بلیغ ترین تحذیر ہے۔
آیت : فھل ینظرون الا سنت الا و لین وہ اس عذاب کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلے کفار پر نازل ہوا۔ آیت : فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا و لن تجد لسنت اللہ تحویلا اللہ تعالیٰ نے کفار پر عذاب کو جاری فرمایا اور کفار کے بارے اسی کو سنت بنائے گا جو اس عذاب کا مستحق بنے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کی مثل عذاب دے گا، سنت کا معنی طریقہ ہے اس کی جمع سنن ہے۔ آل عمران میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے۔ ایک اور موقع پر فرمایا : آیت : سنتہ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا (الاسراء : 77) قوم کی طرف مضاف کیا کیونکہ ایسا امر ہے جو جانبین سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ اجل کی طرح ہے کبھی اسے اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف کیا جاتا ہے اور کبھی قوم کی طرف مضاف کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : فان اجل اللہ لات (العنکبوت : 5) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : فا ذا جاء اجلھم (الاعراف : 34)
Ayah 35:44جس صفت کا ذکر کیا تھا اس کو بیان کیا گیا انہوں نے نہیں دیکھا جو ہم نے قوم عاد، قوم ثمود، مدین اور ان جیسی قوموں پر اسے نازل کیا ؟ جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اگر انہوں نے دیکھا ہے تو وہ ان کے مسکنوں اور گھروں کو دیکھ کر تدبر کرتے اور ان پر جو عذاب نازل ہوا اس کو تواتر سے سن کر غورو فکر کرتے کیا اس میں ان کے لیے عبرت اور ان کے لیے بیان نہیں یہ لوگ ان سے بہتر اور قوی نہیں بلکہ وہ زیادہ قوی تھے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : کانوا اشد منھم قوۃ و ما کان اللہ لیعجذہ من شیء فی السموت ولا فی الارض یعنی اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرلیتا ہے تو اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔ آیت : انہ کان علیما قدیرا وہ علم اور قدرت رکھنے ولا ہے۔
Ayah 35:45آیت : و لو یوء اخذا اللہ الناس بما کسبوا ما کسبو سے مراد گناہ ہیں (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 479) آیت : ما ترک علی ظھرھا من دابۃ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا مراد تمام حیوانات ہیں جو رینگ کر چلتے تھے یا کسی اور صورت میں چلتے تھے
(2) (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 444 ) ۔ قتادہ نے کہا : یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا۔ کلبی نے کہا : دابہ سے مراد جن اور انسان ہیں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں، کیونکہ دونوں عقل ہونے کی وجہ سے مکلف ہیں (3) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 619) ۔ ابن جریر، اخفش، اور حسین بن فضل نے کہا : یہاں دابہ سے مراد صرف لوگ ہیں کوئی اور نہیں۔
میں کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ وہ ایک جلیل القدر صحابی سے مروی ہے۔ حضرت ابن مسعد نے کہا : قریب ہے کہ سیاہ بھنورے کو اس کی بل میں انسان کے گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جائے (4) (ایضا) ۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا : ایک آدمی نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا۔ ایک آدمی نے اسے کہا : اپنا خیال کرو، کیونکہ ظالم اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : تو نے جھوٹ بولا ؟ واللہ الذی لا الہ الا ھو پھر کہا والذی نفسی بیدہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بیشک سر خاب ظالم کے ظلم کی وجہ سے اپنے گھونسلہ میں کمزوری کی وجہ سے مر جاتا ہے ٭ (تفسیر قرطبی نے اس کی مثل روایت نقل کی ہے ) ۔ ثمالی اور یحییٰ بن سلام نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : اللہ تعالیٰ بارش روک لیتا ہے اور ہر چیز ہلاک ہوجاتی ہے۔ سورة البقرہ میں آیت و یلعنھم اللعنون کی تفسیر میں عکرمہ اور مجاہد سے اس کی مثل روایت گزر چکی ہے کہ وہ حشرات اور چوپائے ہیں جنہیں ان علماء سو کے گناہوں کی وجہ سے خشک سالی آلیتی ہے جو حق کو چھپاتے ہیں تو یہ چیزیں ان پر لعنت کرتی ہیں۔ ہم نے وہاں حضرت براء بن عازب سے دوسری روایت نقل کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے و یلعنھم اللعنون کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : مرد زمین کے جانور ہیں (1) ( سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب لعقوبات، صفحہ 300) ۔ آیت : و لکن یوء خذ ھم الی اجل مسمی مقاتل نے کہا : اجل مسمی سے مراد وہ اجل ہے (2) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 480) لوح محفوظ ہیں جس کا وعدہ کیا گیا۔ یحییٰ نے کہا : اس سے مراد یوم قیامت ہے۔ آیت : فان اللہ کان بعبادہ بصیرا یعنی بندوں میں سے جو عذاب کے مستحق ہوتے ہیں ان کو دیکھنے والا ہے۔ اذا میں لفظ بصیر کو عامل بنانا جائز نہیں جس طرح اس مثال میں خارج کو الیوم میں عام بنانا جائز نہیں الیوم ان زیدا اعارج لیکن اس میں عامل جاء ہے کیونکہ اذا ایسے حروف مجازات اور اسماء مجازات کے مشابہ ہے جن کا مابعد ان میں عمل کرتا ہے۔ سیبویہ اذا کے ساتھ مجازات کو درست نہیں سمجھتے تھے مگر شعر میں مجازات جائز سمجھتے تھے، جس طرح کہا : اذا قصرت اسبا ننا کان و صلھا خطانا الی اعداننا فنضارب
محل استدلال فنضارب ہے جو اذا کی جزا ہے۔
الحمد للہ او لا و آخرا
اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنے حبیب کریم علیہ الف الف صلاۃ و تسلیم کے طفیل تفسیر قرطبی کے ترجمہ کو مکمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائی۔ ناچیز کے حصہ میں آخری چار جلدیں آئیں ان چار جلدوں میں سے آخری جلد کا ترجمہ پہلے ہوا اور ساتویں جلدی کا ترجمہ آخر میں ہوا۔ آج مورخہ 19 ستمبر 2008 بروز جمعتہ المبارک بمطابق 18 رمضان شریف طلوع فجر کے بعد اختتامی الفاظ لکھنے نصیب ہوئے
میں احکام الحاکمین جو ہم سب کا خالق ومالک ہے اور اس کی بارگاہ میں سب نے حاضر ہونا ہے، کی بارگاہ میں عرض گزار ہوں کہ میری اس کاوش کو میرے لیے توشہ آخرت بنائے۔ حضور ضیاء الامت کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے اور میرے والدین، میرے اساتذہ اور دوستوں اور تمام مومنین کی مغفرت فرمائے اس ترجمہ کو لوگوں کے لیے نفع مند بنائے۔ اسی کے فضل و کرم کا سہارا ہے اور بس۔