Ayah 35:18اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے، یہ کلام ماقبل کلام سے الگ کی گئی ہے اصل میں یہ توزر تھا، یزر کی اتباع سے دائو کو حزف کردیا گیا۔ وازرۃ یہ محزوف موصوف کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے نفس وازرۃ اسی طرح۔ آیت : و ان تدع مثقلۃ الیٰ حملھا ہے فراء نے کہا : نفس مثقلۃ اودابۃ مثقلۃ اور کہا : یہ نفس مذکر اور مونث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اخفش نے کہا : اگر تدع کا مفعول بہ انسان ہو تو مراد اس کے گناہ ہوں گے (1) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 261) اور حمل سے مرا وہ چیز ہے جو کسی کی پشت پر ہو اور حمل یہ عورت کا حمل اور کھجور کا حمل ہے۔ کسائی نے دونوں کو فتحہ کے ساتھ بیان کیا ہے کسی اور طریقہ سے بیان نہیں کیا۔ ابن سکیت نے بیان کیا کہ حمل النخلہ کھجور کا حمل، یہ فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ ہے۔
آیت : لا یحمل منہ شیء ولوکان ذاقربی احفش کے قول کے مطابق تقدیر کلام یہ ہے و لو کان المد عو ذا قر بی (2) (معالم التنزیل، جلد 4، صفحہ 522) فراء نے اسے بھی جائز قرار دیا ہے آیت : و لو کان ذا قر بی سیبویہ کے نزدیک یہ جائز ہے، اس کی مثل۔ آیت : و ان کان ذوعسرۃ (البقرہ :280) ہے تو یہ کان، وقع کے معنی میں ہوگا یا خبر محذوف ہوگی۔ تقدیر کلام یہ ہوگی وان کان فیمن تطالبون ذوعسرۃ ستبویہ نے حکایت بیان کی ہے الناس مجزینون باعمالھمان حیرفخیر لوگوں کو ان کے عمال کی جزادی جائے گی اگر عمال اچھے ہوئے تو بدلہ بھی اطھا ملے گا ! یہ تعبیر دوسرے قول کے اعتبار سے ہے اور ان خیرافخیریہ ؟ پہلی تعبیر کی بنا پر ہے۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہودی اور نصرانی قیامت کے روز مسلمان کو دیکھے گا وہ مسلمان کو کہے گا : کیا میں نے تیری طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تھا ؟ کہا میں نے تجھ پر احسان نہیں کیا تھا ؟ مسلمان کہے گا : کیوں نہیں۔ یہودی کہے گا : مجھے کوئی نفع پہنچائو۔ مسلمان لگا تار اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا رہے گا یہاں تک کے اس کے عذاب میں کمی کردی جائے گی۔ ایک آدمی قیامت کے روز اپ نے ماں باپ کے پاس آئے گا، وہ عرض کرے گا : کیا میں تیرے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا تھا ؟ تجھ پر شفقت نہیں کرتا تھا ؟ تجھ پر احسان نہیں کرتا تھا ؟ جب کے تو دیکھ رہا ہے جس مصیبت میں، میں گرفتار ہوں، اپنی نیکیوں میں سے ایک نیکی مجھے عطا کر دے، ایک خطا اپنے ذمہ لے لو۔ باپ کہے گا : تو نے مجھ سے جو سوال کیا ہے وہ معمولی چیز ہے لیکن میں بھی اسی چیز سے ڈرتا ہوں جس سے تو ڈرتا ہے۔ باپ اپنے بیٹے سے اس کی مثل کہے گا، تو بیٹا بھی اپنے باپ کو اسی طرح کا جواب دے گا۔ مرد اپنی بیوی سے کہے گا : کیا میں تیرے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا تھا ؟ مجھ سے ایک خطا اٹھا لو ممکن ہے میں نجات پا جائوں بیوی کہے گی یہ معمولی چیز ہے لیکن میں اس چیز سے ڈرتی ہوں جس سے تو ڈرتا ہے پھر عکرمہ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ فضیل بن عیاض نے کہا : ہر عورت اپنے بچے سے ملے گی وہ کہے گی : اے بیٹا ! کیا میرا پیٹ تیرے لیے حفاظت کرنے والا برتن نہیں تھا ؟ کیا میرا پستان تیرے لیے مشکیزہ نہ تھا ؟ کیا میری گود تیری آرام گاہ نہ تھی ؟ وہ بچہ کہے گا : کیوں نہیں، اے میری ماں ! وہ کہے گی : اے میرے بیٹے ! میرے گناہ بوجھل ہو گے ہیں مجھ سے میرے ایک گناہ کو اٹھا لے، بچہ کہے گا : اے ماں ! مجھ سے دور ہوجا میں تیرے بجائے اپنے گناہوں میں مشغول ہوں۔
آیت : انما تنذرالذین یخشون ربھم بالغیب جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہی تیرے ڈرانے کو قبول کرتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : آیت : انما تنذ رمناتبع الذکروخشیالرحمن بالغیب (یاسین :11)
آیت : ومن تذ کی فانما یتذ کی لنفسہ جو ہدایت پاتا ہے وہ اپنے لیے ہدایت پاتا ہے۔ اس میں ایک قراءت یہ بھی ہے ومنازکیفانمایذ کی لنفسہ۔
والی اللہ المصیرتمام مخلوقات نے اس کی طرف لوٹنا ہے۔
Ayah 35:19آیت : وما یستوی الاعمی والبصیر یعنی کافر اور مومن، جاہل اور عالم برابر نہیں (1) ( معالم التنزیل، جلد 4، صفحۃ 523 ) ، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : قل لایستوی الخمیث وطیب (المائدہ :100)
Ayahs 35:20–21آیت : ولا الظلمت ولا النورا خفش اور سعید نے کہا : لا زائدہ ہے اس کا معنی ہے ولا الظلمات والنور ولا الظل والحر ورنہ تاریکیاں اور نور اور نہ سائے اور تپش۔ اخفش نے کہا : حرور (تپش) سورج کے ساتھ ہوتی ہے اور سموم رات کے ساتھ ہوتی ہے (2) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 469) ایک قول اس کے برعکس کیا گیا ہے۔ مہدوی نے حکایت بیان کی ہے، فراء نے کہا : سموم دن کے وقت ہوتی ہے اور حرور دن اور رات میں ہوتی ہے (3) (ایضا) ۔ نحاس نے کہا : یہ قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ حرور فعول کا وزن ہے یہ حر سے مشتق ہے اس میں کثرت کا معنی پایا جاتا ہے یعنی تکلیف دہ گری۔
میں کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ ؓ سے صحیح مسلم میں روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جہنم نے عرض کی : اے میرے رب ! میرے بعض نے بعض کو کھالیا ہے مجھے اجازت دیجیئے کہ میں دو سانس لے لوں ایک سانس موسم سرما میں اور ایک سانس موسم گرما میں۔ تم جو سردی یا سخت ٹھنڈک پاتے ہو تو یہ جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہے اور تم جو گرمی یا شدید گرمی پاتے ہو تو یہ جہنم کے سانس کی وجہ سے ہے “ (4) ( صحیح مسلم، کتاب المساجد، و مواضع الصلوۃ، استحباب الا براد با الظھر، جلد 1، صفحہ 224 ) ۔ زہری نے سعد سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ” تم جو گرمی پاتے ہو تو یہ اس کے سموم سے ہے اور تم جو شدت کی سردی پاتے ہو تو اس کی زمہریر سے ہے “ (5) (صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ۔۔۔۔۔۔ ، جلد 1، صفحہ 224 ) ۔ یہ ان تمام اقوال کے جامع ہے۔ سموم اور حرور یہ رات اور دن کو ہوتے ہیں۔ جنت دائمی سائے والی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : اکلھا دآم وظلھا (الرعد :35) جہنم گرمی والی ہے ؛ یہ معنی سدی نے کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : رات کا سایہ اور دن کے وقت سموم کی گرمی (6) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 469) قطرب نے کہا : حرور سے مراد گرمی اور ظل سے مراد سردی ہے۔
Ayah 35:22آیت : ومایستوی الاحیاء ولا الاموات ابن قتیبہ نے کہا : احیا سے مراد عقلاء ہیں اور اموات سے مراد جہلاء ہیں (1) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 262 ) ۔
قتادہ نے کہا : یہ سب امثال ہیں، یعنی جس طرح یہ اشیاء برابر نہیں ہو سکتیں اسی طرح کافر اور مومن برابر نہیں ہو سکتے۔ آیت : ان اللہ یسمع من یشاء اللہ تعالیٰ اپنے ان اولیاء کو سناتا ہے ج ہیں اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے پیدا کیا۔ آیت : وما انت بمسع من فی القبور یعنی وہ کفارجنکے دلوں کو کفر نے مار دیا۔ یعنی جس طرح جو مر چکا ہے اسے آپ نہیں سناتے اسی طرح جس کا دل مردہ ہے اسے آپ نہیں سناتے۔ حضرت حسن بصری، عیسیٰ ثقفی اور عمرو بن میمون نے بمسع من فی القبور تنوین کو حذف کرتے ہوئے تخفیف کے ساتھ قراءت کی ہے یعنی وہ اہل قبور کے قائم مقام ہیں کہ جسے سنتے ہیں اس سے نفع نہیں اٹھاتے اور اسے قبول نہیں کرتے۔
Ayah 35:23یعنی آپ ڈرانے والے رسول ہیں آپ کے ذمہ صرف تبلیغ ہے، آپ کے ذمہ ہدایت دینا نہیں، ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضہ قدرت میں رکھی ہے۔
Ayah 35:24یعنی اہل اطات کو جنت کی بشارت دینے والا (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 470) اور اہل معصیت کو جہنم سے ڈرانے والا ا۔ آیت : ان انت الا نذیر سے مراد ہے ہر امت میں نبی گزرا ہے۔ ابن جریج نے کہا : مگر عربوں میں نہیں گزرا۔
Ayah 35:25آیت : وان یکذبوک مراد قریش کے کفار ہیں یعنی قریش کے کفار تمہیں جھٹلائیں۔
آیت : فقد کذب الذین من قبلھم جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے انبیا کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے۔ آیت : جاء تھم رسلھم بالبینت ان کے پاس ان کے رسول ظاہر معجزات اور واضح شرعی احکامات لائے۔ آیت : ونالذبر سے مراد لکھی ہوئی کتب ہیں۔ آیت : و بالکتب المنیر سے مراد واضع کتاب ہے۔ زبر اور کتاب کو مکرر ذکر کیا کیونکہ لفظ مختلف ہیں جب کے دونوں ایک چیز ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : بینات، زبر اور کتاب سب ایک معنی کی طرف راجع ہیں۔ اس سے وہ کتب مراد ہیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں۔
Ayah 35:26آیت : ثم اخذت الذین کفروا فکیف کان نکیر میری ان کو سزا کیسی تھی ؟ ورش نے نافع سے جو روایت نقل کی ہے اور شیبہ نے نکیری میں یاء کو ثابت رکھا ہے جب وہ وصل میں واقع ہو وقف میں اسے ثابت نہیں رکھا، یعقوب نے اسے دونوں حالتوں میں اسے ثابت رکھا ہے۔ باقی قراء نے دونوں حالتوں میں اسے حذف کردیا ہے۔ یہ تمام بحث گزر چکی ہے۔ الحمدللہ
Ayah 35:27آیت : الم تراناللہ انزل منالسناء ماء یہ رویت دل اور علم کی رویت ہے۔ کیا آپ کا علم انتہا کو نہیں پہنچا اور تیرے دل نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر رویۃ کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ آیت : فا خرجنا بۃ ثمرت یہ التفات کے قاعدہ سے ہے۔
آیت : مختلفا الوانھا، مختلفا کو نصب دی ہے کیونکہ یہ ثمرات کی صفت ہے۔ الوانھا یہ مختلفا کی وجہ سے منصوب ہے۔
یہ ثمرات کی صفت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ اسی طرف لوٹتا ہے۔ قرآن کے علاوہ میں اسے مرفوع پڑھنا جائز ہے اس کی مثل یہ جملہ ہے : رایت رجلا خار ضا ابوہ۔
بہ ضمیر سے مراد پانی ہے یہ واحد ہے اور ثمرات مختلف ہیں۔ آیت : ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا (فاطر :27) جددیہ جدہ کی جمع ہے۔ یہ مختلف کیفیتوں کے راستے ہیں اگرچہ سب پتھر یا مٹی ہوتے ہیں۔ اخفش نے کہا : اگر یہ جدید کی جمع ہوتی تو ارشاد فرماتا : جدد۔ یعنی جیم اور دال پر ضمہ ہوتا جس طرح۔ ریر اور سرر ہے۔
زہیر نے کہا :
کا نہاسفع الخدینذو جددطار ویر تع بعد الصیف عریانا (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 470)
محل استدا لال ذو جدد ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جدد کا معنی ٹکڑے ہیں یہ جددت الشیء سے ماخوذ ہے جب تو اسے کاٹے (2) (ایضا): ابن بحر نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ جوہری نے کہا : جدد سے مراد وہ لکیر ہے جو گدھے کی پشت پر ہوتی ہے اور اس کے عمومی رنگ کے خلاف ہوتی ہے۔ جدہ کا معنی راستہ ہے اس کی جمع جدد ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : ومن الجبال جدد بیض و حمرمختلف الوانھا یعنی ایسے راستے جو پہاڑ کے رنگ کے خلاف ہوتے ہیں، اسی معنی میں ان کا قول ہے : رکب فلان جدۃ منالامریہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ کوئی رائے قائم کرے۔ کماء مجدد چادر میں مختلف لکیریں ہوں۔ زمحشری نے کہا : زہری نے پڑھا جُدُد، جدائد جس طرح سفینۃ، سُفُن اور سفائن۔ ابوذئویب کے قول نے اس کی تفسیر بیان کی ہے :
جونالمراۃ لہ جد ائد اربع
محل استدلال جدائد ہے۔
ان سے جدد دو فتحوں کے ساتھ مروی ہے، اس سے مراد واضح روشن راستہ ہے اسے طرائق اور واضح خطوط کی جگہ رکھا جو ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔
Ayah 35:28آیت : ومنالناس والدوآب اسے والدواب تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس تخفیف کی نظیر اس کی قراءت ہے جس نے پڑھا ولا الضالین کیونکہ ان میں سے ہر ایک اجتماع ساکنین سے بھا گا ہے۔ ولا الضالین میں اس نے پہلے ساکن یعنی الف کو حرکت دی اور والدواب میں اس نے دوسری باء کو حذف کردیا (3) ( تفسیرا لکشاف، جلد 3، صفحہ 610) ؛ یہ زمحشری کا قول ہے۔
آیت : والانعام مختلف الوانہ یعنی ان میں سرخ، سفید، سیاہ وغیرہ ہیں (4) (ایضا) ۔ ان میں سے ہر ایک صانع پر دال ہے جو مختار ہے۔ فرمایا : آیت : مختلف الوانہ من کی رعایت کرتے ہوئے ضمیر کو مذکر ذکر کیا ہے ؛ یہ مورج کا قول ہے۔ ابوبکر بن عیاش نے کہا : ضمیر مذکر ذکر کی کیونکہ یہ مام ضمرہ کی طرف منسوب ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی ومنالناس امن الدواب، ومن الانعام ماھو مختلف الوانہ لوگوں، چوپائو اور جانوروں میں سے مختلف رنگوں کے ہیں، یعنی کچھ سفید، کچھ سرخ، کچھ سیاہ۔
آیت : وغیرابیب سود ابو عبید نے کہا : غربیب سے مراد سخت سیاہ ہے، کلام میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے پہاڑوں میں سے سخت سیاہ ہیں۔ عرب شدید سیاہ چیز جس کا رنگ کوے کے رنگ جیسا ہو (5) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 471) اس بارے میں کہتے ہیں : اسو غربیب۔ جوہری نے کہا : تو کہتا ہے : ھذا اسود غربیب یہ سخت سیاہ ہے، جب تو کہے : غرابیب سود تو تو سود کو غرابیب سے بدل بنائے گا، کیونکہ رنگوں کی تاکید متقدم نہیں ہوتی۔ حدیث طیبہ میں ہے : ان اللہ یبغض الشیخ الغربیب (6) (ایضا) اللہ تعالیٰ اس بوڑھے کو ناپسند کرتا ہے جو سیاہ رنگ کا خضاب لگاتا ہے۔ امرء القیس نے کہا :
العینطامحۃ والید سابحۃ والرجللافحۃ والوجۃ غربیب (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 471)
نظر اٹھی ہوئی، اگلا پائوں تیر رہا ہے اور پائوں تیزی سے حرکت کر رہا ہے اور چہرہ سیاہ ہے۔
ایک اور شاعر کرم کی تعریف کرتا ہے :
ومن تعاجیب خلق اللہ غاطیۃ یعصرمنھاملا حیوغربیب
اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے عجوبہ روز گار وہ درخت ہے جس کی شاخیں لمبی ہیں جس سے سفید اور سیاہ رس نچوڑا جاتا ہے۔
محل استدلال غربیب ہے۔
آیت : کذلک یہاں کلام مکمل ہوجاتی ہے یعنی اس طرح خشیت میں بندوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔ پھر نئے سرے سے کلام کی اور فرمایا : آیت : انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا ان اللہ عزیز غفور یعنی وہ علماء جو اللہ تعالیٰ کی قدرات ڈرتے ہیں جس آدی کو علم ہوا للہ تعالیٰ قدیر ہے تو اسے یقین ہوگا کہ وہ مصیت پر سزا دینے پر قادر ہے (2) (ایضا ) ، جس طرح علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہاں علما سے مراد ہے جو یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ ربیع سے انس نے کہا : جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں (3) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 263 ) ۔ مجاہد نے کہا : بیشک علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے : اللہ تعالیی کی خشیت کے لیے علم کافی ہے اور دھوکہ کھانے کے لیے جہالت کافی ہے۔ سعد بن ابراہیم سے کہا گیا : اہل مدینہ میں سے کون سب سے زیادہ فقیہ ہے (4) (سنن داری، جلد 1، صفحہ 76) ؟ فرمایا : جو ان میں سے سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہو۔ مجاہد سے مروی ہے : فقیہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے (5) (ایضا، حدیث نمبر 302) ۔ حضرات علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے کہ حقیقی فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیی کی رحمت سے مایوس نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی رخصت نہیں دیتا، انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بےخوف نہیں کرتا اور قرآن چھوڑ کر کسی اور چیز میں رغبت نہیں کرتا۔ ایسی عبادت میں کوئی بھلائی نہیں جس میں علم نہ ہو۔ وہ علم علم نہیں جس میں فقہ نہ ہو، وہ قراءت قراءت نہیں جس میں تدبر نہ ہو (6) (ایضا، حدیث نمبر 303) ۔ داری ابو محمد نے مکحول سے رویت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :ـ” عالم کی عابد پر فضیلت اس طرح ہے جس طرح میری فضیلت تم میں سے ادنی آدی پر ہے (7) (ایضا، صفحہ 75، حدیث نمبر 295) ، پھر اس آیت کی تلاوت کی : آیت : انما یخشی اللہ من عبادہ بیشک اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے، اہل آسمان، اہل زمین اور سمندر میں مچھلیاں ان لوگوں پر درود پڑھتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتے ہیں “۔ خبر مرسل ہے (8) ( جامع ترمذی، باب ما جاء فی الفضل الفقہ، حدیث نمبر 2609، ضیاء القرآن پبلی کیشنز ) ۔
داری نے کہا : ابو نعمان، حماد بن زید سے وہ یزید بن حازم سے وہ اپنے چچا جر یر بن زید سے وہ تبیع سے وہ حضرت کعب سے روایت نقل کرتے ہیں۔ میں ایسی قوم کی صفت پاتا ہوں جو عمل کے بغیر علم حاصل کرتے ہیں (1) ( سنن دارمی، صفحہ 77، حدیث نمبر 305) ، عبا دت کے بغیر تفقہ حاصل کرتے ہیں، آخرت کے عمل کے ساتھ دنیا طلب کرتے ہیں، وہ بھیڑوں کی جلد پہنتے ہیں جب کہ ان کے دل مصبر سے زیادہ کڑوے ہوتے ہیں وہ میری وجہ سے دھوکہ کھاتے ہیں اور میرے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں، میں نے قسم اٹھا رکھی ہے میں ان کے لیے ایسا فتنہ مقدر کروں گا جو حلیم کو ان میں حیران و پریشان چھوڑے گا۔ امام ترمذی نے اسے ابو درداء سے مرفوع روایت کیا ہے ہم نے اسے کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تو کہے جو آدمی اس آیت میں لفظ اللہ پر رفع اور العلماء پر نصب پڑھتا ہے تو اس کی کیا تو جیہ ہو سکتی ہے (2) ْ ( تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 611) ؟ وہ قراءت کرنے والے حضرت عمر بن عبد العزیز ہیں، امام ابوحنیفہ سے بھی یہ قراءت بیان کی جاتی ہے۔ میں اس کا جواب دوں گا : اس قراءت میں خشیتہ، استعارہ ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے سامنے ان کی عزت برھائے گا، ان کو تعظیم عطا فرمائے گا جس طرح لوگوں میں سے اس کی عزت کی جاتی ہے جس سے ڈرا جاتا ہے۔
آیت : ان اللہ عزیز غفور یہ خشیتہ کے وجوب کی علت ہے، کیونکہ یہ نافرمانوں کی سزا اور ان کے قہر پر دلیل ہے۔ اور جو اہل طاعت ہیں ان کو اللہ تعالیٰ بدلہ عطا فرمائے گا، ان کو معاف کر دے گا جو سزا دے اور بدلہ دے اس کا حق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
Ayahs 35:29–30یہ ان قراء کے بارے میں آیت جو عمل کرنے والے ہیں، عالم ہیں جو فرض اور نفل نماز کو قائم کرتے ہیں۔ یہی حکم انفاق کے بارے میں ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں یہ بحث گزر چکی ہے قاری کو جن چیزوں سے آراستہ ہونا چاہیے۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : یرجون اپنے متعلقات سے مل کر ان کی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : زیادت سے مراد آخرت میں شفاعت ہے، یہ دوسری آیت کی طرح ہے آیت : رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ و اقام الصلوۃ و ایتاء الذکوۃ یخافون یو ما تتقلب فیہ القلوب و ابصار لیجذ یھم اللہ احسن ما عملوا و یذید ھم من فضلہ (النور : 37) سورة نساء کے آخر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : فا ما الذین امنوا و عملا الصلحت فیوفیھم اجورھم و یذید ھم من فضلہ (آیت : 173) وہاں ہم نے ان کی وضاحت کردی ہے۔ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخشنے والا ہے، وہ عمل خالص میں قلیل کو قبول کرتا ہے اور بہت بڑا ثواب عطا فرماتا ہے۔
Ayah 35:31کتاب سے مراد قرآن ہے لما بین یدیہ سے مراد کتب ہیں۔
Ayah 35:32اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 01 :۔ یہ آیت مشکل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اصطفینا من عبادنا پھر فرمایا : منھم ظالم النفسہ اس میں علماء جو صحابہ، تابعین اور ان کے بعد سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے گفتگو کی ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ فمنھم ظالم النفسہ سے مراد کافر ہے ؛ اسے ابن عیینہ نے عمر و بن دینار سے وہ عطا سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے ـ: آیت : فمنھم ظالم النفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق با لخیرات کہا : دو فرقے نجات پا گئے عر بی میں تقدیر کلام یہ ہوگی فمنھم من عبادنا ظالم النفسہ یہاں ظالم سے مراد کافر ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مراد فاسق ہے۔
ید خلو نھا میں جو ضمیر ہے وہ مقتصد اور سابق کی طرف لوٹے گی ظالم کی طرف نہیں لو ٹے گی۔ عکرمہ، قتادہ۔ ضحاک اور فراء نے کہا کہ مقتصد سے مراد مومن نافرمان ہے۔ اور سابق سے مراد مطلق متقی ہے۔ علماء نے کہا : یہ آیت سورة واقعہ کی آیت کی مثل ہے آیت : و کنتم ازواجا ثلثتہ علماء نے کہا : یہ بعید ہے کہ ظالم کو چنا جائے ؛ اسے مجاہد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ مجاہد نے کہا : آیت : فمنھم ظالم النفسہ سے مراد اصحاب مشامہ ہیں۔
آیت : ومنھم مقتصد سے مراد اصحاب میمنہ ہیں۔ آیت : ومنھم سابق بالخیرات تمام لوگوں سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ید خلونھا میں ضمیر تین اصناف کی طرف لو ٹتی ہے، اس شرط پر کہ یہاں ظالم سے مراد کافر اور فاسق نہیں۔ جن سے یہ قول مروی ہے وہ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت ابو درداء، حضرت ابن مسعود، حضرت عقبہ بن عمر و اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہیں۔ اس قول کے بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگی کہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا وہ جو چھوٹے گناہ کرتا ہے۔ مقتصد محمد بن یزید نے کہا : اس سے مراد وہ ہے جو دنیا کو اپنا حق دیتا ہے اور آخرت کو اس کا حق دیتا ہے۔ آیت : جنت عدن ید خلو نھا اس مضاف کی صورت میں ضمیر تمام کی طرف لو ٹے گی ؛ یہ حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے۔
کعب الاحبار نے کہا : کعبہ کے رب کی قسم ! وہ سب ہم مرتبہ ہیں اور انہوں نے اپنے اعمال کے ساتھ باہم فضیلت حاصل کی (1) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 266 ) ۔ ابو اسحاق سبیعی نے کہا : جو میں نے ساٹھ سال سے سنا ہے یہ ہے کہ وہ سب نجات پانے والے ہیں (2) ( جا مع تر مذی، جلد 2، صفحہ 155 ) ۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اس آیت کو پڑھا پھر کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم میں سے سبت لے جانے والاسبقت لے جانے والا ہے، ہم میں سے میانہ روی اختیار کرنے والا نجات پانے والا ہے اور ہمارا ظالم بخشا ہوا ہے (3) ( تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 613) ۔ اس قول کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : و اور ثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا میں اصطفینا کا مفعول مقدر ہوگا جو مضاف ہوگا اس کو اسی طرح حذف کردیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : و سئل القریتہ (الیوسف : 82) میں مضاف مقدر ہے یعنی اصطفینا دینھم مضاف کے حذف کے بعد اصطفینا ھم باقی بچا پھر ضمیر کو حذف کردیا جو اسم موصوف کی لوٹ رہی تھی جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : و لا اقول للذین تذدری اعینکم (ہود : 31) میں حذف ہے یہ اصل میں تذ دریھم تھا پس اصطفاء کو ان کے دین کی طرف پھیرا گیا ہے جس طرح فرمایا گیا : آیت : ان اللہ اصطفی لکم الدین (البقرہ : 132)
نحاس نے کہا : ایک تیسرا قول بھی ہے کہ ظالم سے مراد کبیرہ گناہ کرنے والا ہو اور مقتصد وہ ہو جو برایئوں پر زیادہ نیکیوں کے ساتھ جنت کا مستحق نہ ہوا۔ اور آیت : جنت عدن یدخلونھا یہ خوشخبری صرف ان لوگوں کے لیے ہو جو بھلائی میں سبقت لے گئے یہ کسی اور کے لیے نہ ہو ؛ یہ قول اہل نظر کی ایک جماعت کا ہے کیونکہ نظر و فکر کے اعتبار سے ضمیر کو قریب ترین مر جع کی طرف لو ٹانا زیادہ مناسب ہے۔
میں کہتا ہوں : درمیانہ قول زیادہ مناسب اور زیادہ صحیح ہے انشاء اللہ، کیونکہ کافر اور منافق اللہ تعالیٰ کی تعریف کے لیے چنے ہوئے نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کے دین کو چنا ؛ یہ چھ صحابہ ؓ کا قول ہے اور تیرے لیے یہی کافی ہے۔ ہم باقی ماندہ آیت میں اس کی مزید وضاحت کریں گے۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ آیت : اور ثنا الکتاب یعنی ہم نے کتاب عطا کی۔ میراث عطا ہی ہوتی ہے حقیقتہ ہو یا مجازا ہو (1) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 264 ) ، کیونکہ یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ چیز ایک انسان کی موت کے بعد دوسرے کے لیے ہو اور یہاں الکتاب سے مراد کتاب کے معانی، اس کا علم، اس کے احکام اور اس کے عقائد ہیں گویا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی امت کو قرآن عطا کیا جب کہ وہ نازل کردہ کتابوں کے معانی کو اپنے ضمن میں لیے ہوتے ہیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی امت کو اسی کتاب کا وارث بنایا جو ہم سے قبل امتوں میں سے تھا (2) (ایضا ) ۔
اصطفینا ہم نے چن لیا۔ یہ صفو سے مشتق ہے اس سے مراد ہے آلو دگیوں سے پاک ہونا۔ یہ اصل میں اصتفو نا تھا تاء کو طاء سے اور وائو کو یاء سے بدل دیا۔
من عبادنا ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت محمد ﷺ کی امت ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے (3) ( ایضا ) ۔ یہ لفظ ہر امت کے مومنوں کا احتمال رکھتا ہے مگر کتاب کا وارث بنانے کی وضاحت صرف حضرت محمد ﷺ کی امت کے لیے ہے جب کہ پہلی امتیں وارث نہ ہوئیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جن کو چنا گیا ہے وہ انبیاء ہیں (4) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 473) ۔ وہ کتاب کے وارث بنے اس کا معنی ہوگا یہ امر بعض سے بعض کی طرف منتقل ہوا للہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : و ورث سلیمان داود (النمل : 16) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : یر ثنی و یرث من آل یعقوب (مریم : 6) جب یہ جائز ہے کہ نبوت موروثی ہو تو کتاب بھی اسی طرح ہوئی۔
آیت : فمنھم ظالم النفسہ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو گناہ صغیرہ میں واقع ہوئے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ قول کئی وجوہ سے مروی ہے۔ ضحاک نے کہا : آیت : فمنھم ظالم النفسہ یعنی ان کی ذریت میں ایسا شخص ہوگا جو اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہوگا۔ وہ مشرک ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : ان کی امتوں میں سے کچھ ظالم ہوں گے، جس طرح ظالم کے بارے میں اختلاف پہلے گزر چکا ہے۔
یہ آیت : حضرت محمد ﷺ کی امت کے بارے میں ہے۔ صاحب دل لوگوں کی عبارات، ظالم، مقتصد اور سابق کے بارے میں مختلف ہیں۔ حضرت سہیل بن عبد اللہ نے کہا : سابق سے مراد عالم ہے (5) ، مقتصد سے مراد دل سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہے اور سابق سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہ بھو لے۔ انطا کی نے کہا : ظالم جو اقوال والا ہے، مقتصد جو افعال والا ہے اور سابق جو احوال والا ہے۔ ابن عطا نے کہا : ظالم وہ ہے جو دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے، مقتصد وہ ہے جو آخرت کے لیے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور سابق وہ ہے جو حق کی مراد کے ساتھ اپنی مراد ساقط کردیتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے ـ: ظالم سے مراد وہ ہے جو جہنم کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، مقتصد وہ ہے جو جنت کی طمع میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اور سابق وہ ہے جو محض اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے کسی اور سبب سے اس کی عبادت نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم وہ ہے جو دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اس کے حصہ کو ترک کردیا وہ معرفت اور محبت ہے، مقتصد سے مراد عارف ہے اور سابق سے مراد محب ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم سے مراد وہ ہے جو آزمائش کے وقت جزع فزع کرتا ہے، مقتصد وہ ہے جو آزمائش پر صبر کرتا ہے اور سابق وہ ہے جو آزمائش سے لذت حاصل کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم وہ ہے جو غفلت اور عادت کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، مقتصد وہ ہے جو رغبت اور خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم وہ جسے عطا کیا گیا تو اس نے مال روک لیا، مقتصد وہ ہے جس کو مال عطا کیا گیا تو اس نے خرچ کیا اور سابق وہ ہے جس سے مال روکا گیا تو اس نے شکر کیا اور دوسروں کو ترجیع دی۔
یہ روایت کی جاتی ہے کہ دو عبادت گزار آپس میں ملے ایک نے پوچھا : بصرہ میں تمہارے بھائیوں کا کیا حال ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا : اچھا حال ہے۔ اگر انہیں عطا کیا جائے تو شکر کرتے ہیں اگر انہیں کوئی چیز نہ ملے تو صبر کرتے ہیں تو پہلے نے کہا : ہمارے ہاں بلخ میں یہ کتوں کی حالت ہے۔ ہمارے دوستوں کو اگر کچھ نہ ملے تو شکر کرتے ہیں اگر انہیں کچھ عطا کیا جائے تو دوسروں کو ترجیع دیتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم وہ ہے اپنے مال کے ساتھ غنی ہو اور مقتصد وہ ہے جو اپنے دین کے ساتھ غنی ہو اور سابق وہ ہے جو اپنے رب کے ساتھ غنی ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم سے مراد وہ ہے جو قرآن کی تلاوت کرے اور اس پر عمل نہ کرے (1) ( معالم التنزیل، جلد 4، صفحہ 527) اور مقتصد وہ ہے جو قرآن کی تلاوت کرے اور اس پر عمل کرے اور سابق ایسا قاری ہے جو قرآن پر عمل کرے اور اس کا علم بھی حاصل کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سابق وہ ہے جو موذن کی آذان سے پہلے پہلے مسجد میں داخل ہوا اور مقتصد وہ ہے جو مسجد میں اس وقت داخل ہو جب آذان ہوچکی ہو اور ظالم وہ ہے جو مسجد میں اس وقت داخل ہو جب اقامت کہی جا چکی ہو، کیونکہ اس نے اجر میں کمی کر کے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اس نے اپنے نفس کو وہ چیزنہ دی جو غیر نے اپنے نفس کو دی تھی۔ بعض علماء نے اس بارے میں کہا : بلکہ سابق وہ ہے جو وقت اور جماعت دونوں پائے اور دونوں فضیلتیں حاصل کرے اور مقتصد وہ ہے اگر اس سے جماعت فوت ہوجائے تو وہ وقت کو فوت نہ کرے اور ظالم وہ ہے جو نماز سے غافل ہو یہاں تک کہ وقت اور جماعت دونوں فوت ہوجائیں تو یہ ظالم کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم وہ ہے جو اپنی ذات سے محبت کرتا ہو، مقتصد وہ ہے جو اپنے دین سے محبت کرتا ہو اور سابق وہ ہے جو اپنے رب سے محبت کرتا ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم وہ ہے جو انصاف چاہتا ہے اور وہ خود انصاف نہیں کرتا، مقتصد وہ ہے جو انصاف چاہتا ہے اور انصاف کرتا ہے اور سابق وہ ہے جو انصاف کرتا ہے اور اس سے انصاف نہیں کیا جاتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت مروی ہے : سابق وہ ہے جس نے ہجرت سے قبل اسلام قبول کیا، مقتصد وہ ہے جس نے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا اور ظالم وہ ہے جس نے تلوار کی وجہ سے اسلام قبول کیا یعنی مسلمانوں کے غلبہ کی وجہ سے اسلام قبول کیا، یہ سب مغفور ہیں۔
میں کہتا ہوں : ثعلبی نے اپنی تفسیر میں ان اقوال کو اور کچھ زائد اقوال کو ذکر کیا، خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ دونوں طرفیں اور واسطہ ہے مقتصد وہ ہے جو میانہ روی کو لازم پکڑتا ہے اس سے مراد کسی جانب مائل ہونے کو ترک کرتا ہے اس معنی میں جابر بن حنی تغلبی کا قول ہے :
نعاطی الملوک السلم ماقصدوا لنا ولیسعلیھنا قتلھم بحرم
مراد ہے جو ہمارے ساتھ میانہ روی کرے یعنی ہم پر ظلم نہ کرے تو ہم ان کے ساتھ صلح کرتے ہیں اگر وہ ظلم کریں تو ان کو قتل کرنا ہم پر حرام نہیں۔
اسی وجہ سے مقتصد دونوں منزلوں کے درمیان منزل ہے، یہ اپنی جان پر ظلم کرنے والے سے اوپر اور خیرات کی طرف سبقت لے جانے سے نیچے ہے۔
آیت : ذلک ھو الفضل الکبیر یعنی انہیں ہماری جانب سے کتاب کا دیا جانا بڑا فضل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے عیوب جاننے کے با وجود انہیں منتخب کرنا بڑا فضل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان تینوں طبقات کے ساتھ جنت کا وعدہ کرنا بڑا فضل ہے۔
مسئلہ نمبر 3 :۔ ظالم کو مقتصد اور سابق پر کیوں مقدم کیا گیا ہے : اس میں علماء نے گفتگو کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذکر میں مقدم ہونا یہ شرف کا تقاضا نہیں کرتا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : لا یستوی اصحب النار و اصحب الجنت (الحشر : 20) آیت میں اصحاب النار کو مقدم کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم کو مقدم اس لیا کیا گیا کیونکہ اکثر فاسق ان میں سے ہوتے ہیں اور ان کا غلبہ ہوتا ہے اور مقتصد ان کے مقابلے میں تھوڑے ہوتے ہیں اور سابقین تو بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں (1) ( تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 613) ؛ اسے زمحشری نے ذکر کیا ہے کیونکہ اس کے حق میں رجا مقدم ہے کیونکہ کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس پر بھروسہ کیا جائے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ہی بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ مقتصد حسن ظن پر اعتماد کرتا ہے اور سابق طاعت پر اعتماد کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظالم کو مقدم کیا گیا تاکہ اس کے حق میں امید کو مئو کد کیا جائے کیونکہ اس کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں جس پر وہ اعتماد کرے صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی چیز ہے جس پر وہ اعتماد کرسکتا ہے۔ سابق کو مئو خر کیا تاکہ وہ اپنے عمل عجب کا اظہار نہ کرے۔
جعفر بن محمد بن علی صادق ؓ نے کہا : ظالم کو متقدم کیا تاکہ اس بات کی خبر دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرسکتا مگر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم سے قرب حاصل کرسکتا ہے، کیونکہ جہاں عنایت ہو وہاں ظلم انتخاب میں موثر نہیں ہو سکتا پھر دوسرے نمبر پر مقتصدین کا ذکر کیا کیونکہ وہ خوف ورجاء کے درمیان ہیں پھر سابقین پر کلام کو ختم کیا تاکہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف نہ ہو۔ یہ سب کلمہ اخلاص کے باعث جنت میں ہیں، کلمہ اخلاص یہ ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
محمد بن علی ترمذی نے کہا : اصطفاء میں سب کو جمع کیا مقصود عطا سے جو رکاوٹیں ان کو زائل کرنا ہے کیونکہ اصطفاء یہ ارث کو ثابت کرتا ہے، ارث، اصطفاء کو ثابت نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے حکمت میں کہا : نسبت میں ثابت کر پھر میراث میں دعوی کر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سابق کو موخر کیا تاکہ وہ جنات اور ثواب کے زیادہ قریب ہو، جس طرح صوامع اور بیع کو سورة حج میں مساجد پر مقدم کیا تاکہ صوامع گرانے اور بر باد کیے جانے کے زیادہ قریب ہوجائیں اور مساجد اللہ کے ذکر کے زیادہ قریب ہوں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : بادشاہوں کا طریقہ یہ ہے جب وہ چند چیزوں کو اکھٹا ذکر کرنا چاہتے ہیں تو وہ ادنی ٰ کو پہلے لاتے ہیں جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : سریع العقاب و انہ لغفور رحیم (45) (الانعام) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : یھب لمن یشاء اناثا و یھب لمن یشاء الذکور (الشوری) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : لا یستوی اصحب النار و اصحاب الجنت (الحشر : 20)
میں کہتا ہوں جس نے کہا کتنا اچھا کہا :
و غایتہ الجود انت وانما یوانیالیالغایاتفیآخر الامر
اس سخاوت کی انتہا تو ہے بیشک امر کے آکر میں ہی غایات تک پہنچا جاتا ہے۔
Ayah 35:33مسئلہ نمبر 4 :۔ آیت : جنت عدن یدخلونھا جنت کے داخل ہونے کے امر میں سب کو جمع کیا کیونکہ یہ میراث ہے نافرمان اور طاعت گزار میراث میں برابر ہوتے ہیں جب وہ نسب کا اعتراف کریں نافرمان اور اطاعت گزار سب کا اقرار کرتے ہیں۔ اسے جنت عدن میں پڑھا گیا ہے (1) ( تفسیر الکشاف، جلد، صفحہ 613) گویا وہ ایسی جنت ہے جو سابقین کے لیے خاص ہے کیونکہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں، جس طرح پہلے گزرا ہے۔ اسے جنات عدن بھی پڑھا گیا ہے (2) ( ایضا، جلد 3، صفحہ 614) فعل مضمر ہے جس کی تفسیر ظاہر فعل کرتا ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی یدخلون جنات عدن یدخلونھا یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ قراءت کی ہے، اس نے یہ قول یحلون کی وجہ سے کیا ہے سورة حج میں اس بارے میں کلام گزر چکی ہے۔ آیت : یحلون فیھا من اساور من ذھب و لو لوا ولباسھم فیھا حریر (14) (الحج : 23 )
Ayah 35:34آیت : و قالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ابو چابت نے کہا : ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا تو اس نے یوں دعا کی ! اے اللہ ! میری مسافرت پر رحم فرما، میری تنہائی میں مجھ پر مہر بانی کر اور مجھے صالح ساتھی عطا فرما۔ حضرت ابو داودنے ارشاد فرمایا : اگر تو سچا ہے تو میں اس کے ساتھ تیری بنسبت زیادہ سعادت مند ہوں (1) (معالم التنزیل، جلد 4، صفحہ 526 ) ، میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوا سنا : آیت : ثم اور ثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا فمنھم ظالم النفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق با لخیرات کہا : وہ سبقت لے جانے وا ا آئے گا وہ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوگا۔ جہاں تک مقتصد کا تعلق ہے تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور جہاں تک اپنی جان پر ظلم کرنے والے کا تعلق ہے تو اسے اس کی جگہ محبوس رکھا جائے گا، اسے شرمندہ کیا جائے گا، اسے تنبیہ کی جائے گی پھر وہ جنت میں داخل کیا جائے گا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا : آیت : الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکو ر۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا انہیں میدان محشر میں طویل عرصہ تک مھبوس رکھا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی آغوش رحمت میں لے لے گا تو یہی وہ لوگ ہیں جو کہیں گے : آیت : الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن انا ربنا لغفور شکور الذی احلنا دارالمقامت من ٖفضلہ لا یمسنا فیھا نصب و لا یمسنا فیھا لغوب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہی وہ شخص ہے جس کو اسی جگہ پکڑ لیا جائے گا یہاں تک کہ جو اسے غم اور حزن پہنچے گا اس کے ساتھ اس کا کفارہ ادا ہوگا اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : من یعمل سوءا یجز بہ (النساء : 123) یعنی دنیا میں اسے بدلہ دے دیا جائے گا۔ ثعلبی نے کہا : یہ تاویل ظاہر کے زیادہ مشابہ ہے۔ کیونکہ ارشاد فرمایا : آیت : جنت عدن یدخلونھا اور ارشاد فرمایا آیت : الذین اصطفینا من عبادنا کافر اور منافق کو نہیں چنا گیا۔
Ayah 35:35میں کہتا ہوں : یہی صحیح ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ کی مثل ہے جس کی خو شبوعمدہ ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے (2) ( صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، جلد 2، صفحہ 757 ) ۔ خبر دی کہ منافق اسے پڑھے گا اور حق تعالیٰ نے یہ بھی خبر دی کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوگا۔ کفار، یہودیوں اور نصاری میں سے کثیر لوگ ہمارے زمانے میں اسے پڑھتے ہیں۔ امام مالک نے کہا : بعض اوقات قرآن ایسا شخص پڑھتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ نصب کا معنی تھکاوٹ ہے لغوب کا معنی تھکا دینا ہے (3) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 267 ) ۔
Ayah 35:36آیت : و لذین کفروا لھم نار جھنم جب اہل جنت، ان کے احوال اور ان کے قول کا ذکر کیا تو اہل نا ر، ان کے احوال اور ان کے قول کا ذکر کیا۔ آیت : لا یقضی علیھم فیموتو یہ اسی طرح ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے : آیت : لا یموت فیھا و لا یحییٰ (طہ) آیت : و لا یخلف عنھم من عذابھا یہ اسی کی مثل ہے جس طرح فرمایا : آیت : کلما نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب (النساء : 56) آیت : کذلک نجذی کل کفور یعنی اللہ اور اسکے رسول کا انکار انکار کرنے والا۔ حسن بصری (رح) نے فیموتون نون کے ساتھ قراءت کی ہے اس وقت یہ نفی کا جواب نہیں ہوگا اور فیموتون، یقضی پر معطوف ہوگا اس کی تقدیر یہ ہوگی لا یقضی علیھم و لا یموتون (1) ( تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 615) جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : و لا یوء ذن لھم فیعتذ رون (المرسلات) کسائی نے کہا : و لا یوذن لھم فیعتذرون مصحف میں نون کے ساتھ ہے کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے۔ آیت : لا یقضی عیلھم فیموتوا یہ آیت کا سرا نہیں۔ ان دونوں میں سے ہر ایک میں وہ صورت جائز ہے جو دوسری میں جائز ہے۔
Ayah 35:37آیت : و ھم یصطر خون فیھا وہ جہنم میں بلند آواز سے چیخیں گے۔ صراح سے مراد بلند آواز ہے صارخ سے مراد طلب کرنے والا اور مصرخ سے مراد مدد کرنے والا ہے۔ شاعر نے کہا :
کنا اذا ما اتانا صارخ فزع کان الصراخلہقرعالظنابیب
جب کوئی خوف زدہ مدد کا طالب ہمارے پاس آتا ہے تو اس کی چیخ کیل کا ٹھوکنا ہوتی ہے۔
آیت : ربنا اخرجنا وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم سے نکال دو اور ہمیں دنیا کی طرف لوٹا دو ۔ آیت : نعمل صالحا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ نقل کیا گیا ہے عمل صالح سے مراد لا الہ الاا للہ ہے۔ آیت : غیر الذی کنا نعمل جو ہم شرک کرتے تھے اس کے بر عکس ہے، یہی ان کے قول کا معنی ہے، یعنی ہم کفر کی بجائے ایمان لا تے ہیں، معصیت کی بجائے اطاعت کرتے ہیں اور رسولوں کی اطاعت کرتے ہیں۔
آیت : ا ولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکر یہ ان کی دعا کا جواب ہے، یعنی انہیں کہا جائے گا پس قول مضمر ہے۔ امام بخاری یہ باب باندھا ہے : باب من بلغ ستین سنتہ فقد اعذر اللہ الیدفی العمر لقولہ عز وجل، آیت : ا ولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکر و جاء کم النذیر، یہاں نذیر سے مراد بڑھاپا ہے۔ عبد السلام، عمر بن علی سے وہ معن بن محمد غفاری سے وہ سعید بن ابی سعید سے وہ حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لیے کوئی عذر نہیں چھو ڑا جس کی عمر کو لمبا کیا یہاں تک کہ اسے ساٹھ سال کردیا (2) ( صحیح بخاری، کتاب الرقاق، من بلغ ستین سنتہ فقد اعذر اللہ، جلد 2، صفحہ 950 ) ۔ خطابی نے کہا : اعذر الیہ اسے آخری عذر تک پہنچا دیا۔ اسی معنی میں ان کا قول ہے : قد اعذر من انذر جس کو خبر دار کیا جائے اس کے لیے کوئی عذر نہ چھوڑا۔
اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ساٹھ سال کی عمر عطا کی اس کے لیے کوئی عذر نہ چھوڑا کیونکہ ساٹھ سال کی عمر موتوں کا معرکہ ہے، یہ لوٹنے، عاجزی کا اظہار کرنے، موت کی تاڑ میں رہنے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی عمر ہے اس میں ایک عذر کے اختتام کے بعد دوسرے عذر کا اختتام ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : موت چالیس اور ساٹھ سال کی عمر کے درمیان ہے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : ا ولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکر کی تاویل میں کہا : اس سے مراد ساٹھ سال ہیں (1) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 476) ۔ نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک نصیحت میں فرمایا : جس ذات نے خبر دار کیا اس نے کوئی عذر نہیں چھوڑا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک منادی کرنے والا ساٹھ سال کی عمر کے لوگوں کو ندا کرتا ہے : آیت : ا ولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکر و جاء کم النذیر حکیم ترمذی، عطا بن ابی رباح کی حدیث سے نقل کرتے ہیں اور وہ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب قیامت کا روز ہوگا تو ساٹھ سال کے عمر کے لوگوں کو نداء کی جائے گی یہی وہ عمر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ا ولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکر (2) ( تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 339) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس سے مراد چالیس سال ہیں۔
حضرت حسن بصری (رح) اور مسروق سے اسی کی مثل مروی ہے۔ اسی قول کی وجہ سے بھی وہ صحیح ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : حتی اذا بلغ اشدہ و بلغ اربعین سنہ (الاحقاف : 15) چالیس سال کی عمر عقل مکمل ہوجاتی ہے اس سے قبل اور اس کے بعد اس میں کمی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ امام مالک نے کہا : میں نے اپنے شہر کے علماء کو پایا کہ وہ دنیا اور علم کے طالب ہوتے اور لوگوں سے میل جول رکھتے یہاں تک کہ ان میں سے کسی کی عمر چالیس سال ہوجاتی۔ جب اس کی عمر چالیس کی ہوجاتی تو وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہوجاتا اور قیامت کی تیاری میں مشغول ہوجاتا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی۔ سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ابن ما جہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : میری امت کی عمر ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہوگی جو لوگ اس عمر سے تجاوز کریں گے وہ بہت تھوڑے ہوں گے (3) ( معالم التنزیل، جلد 4، صفحہ 529۔ سنن ابن ماجہ، باب الا مل والا جل، حدیث نمبر 4225 )
آیت : و جاء کم النذیر اسے جاء تکم النذیر بھی پڑھا گیا ہے اس میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : النذیر سے مراد قرآن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول ہے : یہ زید بن علی اور ابن زید نے کہا (4) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 476) ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، عکرمہ، سفیان، وکیع، حسین بن فضل، فراء اور طبری نے کہا : اس سے مراد بڑھاپا ہے (5) (ایضا ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نذیر سے مراد بخار ہے (6) (ایضا ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اہل اور قریبی رشتہ داروں کی موت (7) (ایضا ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کمال عقل۔ اور نذیر انذار کے معنی میں ہے (8) (ایضا ) ۔
میں کہتا ہوں : بڑھا پا، بخار اور اہل کی موت سب موت سے خبر دار کرنے والے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بخار موت کی تلاش کرنے والا ہے (1) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 477) ۔ ازہری نے کہا : اس کا معنی ہے بخار موت کا پیغام لانے والا ہے، گویا یہ بخار موت کے آنے کا شعور لانے والا اور اس کے آنے سے خبر دار کرنے والا ہے۔ بڑھاپا (با لوں کا سفید ہونا) بھی نذیر ہے یہ پختگی کی عمر میں آتا ہے یہ بچپنے کی عمر کی جدا ہونے کی علامت ہے جو عمر لہو لعب کی عمر تھی۔ شاعر نے کہا :
رایت الشیب مننذرالمنایا لصاحبہو حسبک من نذیر
میں نے بالوں کی سفیدی کو سفیدبالوں والے کے لیے موتوں سے خبر دار کرنے والا خیال کیا تیرے لیے خبر دار کرنے والا کافی ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
فقلت لھا المشیب نذیرعمری و لست مسودا وجہ النذیر
میں نے اسے کہا : بالوں کی سفیدی خبر دار کرنے والی ہے، میں خبر دار کرنے والے کا چہرہ سیاہ کرنے والا نہیں۔
جہاں تک اہل، قریبی رشتہ داروں، اصحاب اور بھائیوں کی موت کا تعلق ہے تو یہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں کوچ کے بارے میں خبر دار کرنے والا امر ہے۔
شاعر نے کہا :
و اراکتحملھم و لست تر ذھم فکا ننی بکقدحملتفلم ترد
میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو انہیں اٹھاتا ہے اور تو انہیں واپس نہیں لاتا گویا مجھے تیرے ہاتھوں اٹھایا گیا تجھے واپس نہیں کی گیا۔
ایک اور شاعر نے کہا :
الموت فی کل حینینشرالکفنا و نحن فی غفلت عما یراد بنا
موت ہر لمحہ کفن کو کھولتی ہے اور ہمارے بارے میں جو ارادہ کیا جاتا ہے ہم اس سے غفلت میں ہیں۔
جہاں تک کمال عقل کا تعلق ہے تو اس کے ساتھ ہی امور کے حقائق کو پہچانا جاتا ہے اور نیکیوں اور برائیوں میں فرق کیا جاتا ہے عاقل آخرت کے لیے عمل کرتا ہے اور اس کے رب کے ہاں جو کچھ ہوتا ہے اس میں رغبت رکھتا ہے تو پس عقل خبر دار کرنے والا ہے۔ جہاں تک حضرت محمد کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنے بندوں کی طرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے مقصود ان کی حجتوں کو ختم کرنا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : لئلا یکون للناس علی اللہ ہے حجت بعد الرسل (النسائ : 165) اور فرمایا : آیت : و ما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (الا سرائ)
فذوقوا مراد جہنم کا عذاب ہے کیونکہ تم نے نہ عبرت حاصل کی اور نہ ہی تم نے نصیحت حاصل کی۔ آیت : فما لظالمین من نصیر ظالموں کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔
Ayah 35:38اس کی وضاحت کئی مواقع گزر چکی ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے اگر وہ تمہیں دنیا کی طرف لو ٹائے تو تم اچھے اعمال نہیں کرو گے، جس طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا : آیت : و لو ردوا لعادوا لما نھو عنہ (الانعام : 28) عالم، اسم فاعل کا صیغہ جب تنوین کے ساتھ نہ ہو تو یہ زمانہ ماضی اور زمانہ مستقبل کا معنی دیتا ہے اور جب تنوین کے ساتھ ہو تو صرف زمانہ ماضی کے لیے ہوگا۔
Ayah 35:39آیت : ھو الذی جعلکم خلئف فی الارض قتادہ نے کہا : نائب کے بعد نائب، قوم کے بعد قوم۔ خلف سے مراد متقدم کے بعد آنے والا ہوتا ہے، اسی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا گیا : اے اللہ کے خلیفہ ! میں تو اللہ کا خلیفہ نہیں بلکہ میں تو رسول اللہ کا خلیفہ ہوں اور میں اس پر راضی ہوں (1) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 477) ۔
آیت : فمن کفر فعلیہ کفرہ یعنی اس پر کفر کی جزا ہے اس سے مراد عقاب اور عذاب ہے۔ آیت : ولا یذید الکفرین کفرھم عند ربھم الا مقتا، مقت سے مراد بغض اور غضب ہے۔ آیت : و لا یذید الکفرین کفر ھم الا خسارا، خسارا سے مراد ہلاکت اور گمراہی ہے۔
Ayah 35:40آیت : قل ارء یتم شر کاء کم الذین تد عون، شرکاء کم فعل رویتہ کی وجہ سے منصوب ہے اس پر رفع دینا جائز نہیں۔ سیبویہ کے نزدیک رفع دینا جائز ہے ان کا قول ہے : قد علمت زیدا ابو من ھو ؟ زید مستفھم عنہ کے معنی میں ہے اگر تو کہے : اریت زیدا ابو من ھو ؟ اس صورت میں زید پر رفع دینا جائز نہیں۔ دونوں میں فعق یہ ہے اس کا معنی ہے مجھے اس کے بارے میں بتائیے اسی طرح اس آیت کا معنی ہے مجھے اپنے شریکوں کے بارے بتائو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو کیا تم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہو کیونکہ ان کا آسمانوں کی تخلیق میں کوئی حصہ ہے یا انہوں نے زمین کی کسی چیز کو پیدا کیا ہے ؟
آیت : ام اتینھم کتبا یا ان کے پاس کوئی کتاب ہے جسے ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے جس میں شرکت کا ذکر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت کرتا ہے اس کا اس میں رد ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کو نہیں پاتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہو کہ غیر اللہ کی عبادت کی جائے۔
آیت : فھم علی بینت منہ ابن کثیر، ابو عمرو، حمزہ اور حفص نے عاصم سے علی بینت واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ دونوں معنی قریب قریب ہیں مگر جمع کی قراءت زیادہ بہتر ہے، کیونکہ جس نے بینت قراءت کی وہ اس امر سے خالی نہیں کہ اس نے سودا اعظم کی مخالفت کی یا وہ اس آدمی کی لغت میں اسے لایا جو یہ کہتا ہے : جاءنی طلحت اور تاء پر وقف کرتا ہے، یہ لغت شاذ اور قلیل ہے : نحاس قول ہے۔ ابو حاتم اور ابو عنید نے کہا : جمع کا صیغہ ذکر کرنا اولی ہے کیونکہ یہ خط کے موافق ہے کیونکہ مصحف عثمانی میں یہ بینات الف تاء کے ساتھ ہے۔
آیت : بل ان یعد الظلمون بعضھم بعضا الا غرورا یعنی ایسی باطل چیزوں کا وعدہ کرتے جو سرا سر دھوکہ دینے والی تھیں ،۔ یہ سرداروں کے نچلے درجے کے لوگوں کے لیے قول تھا کہ یہ معبود تمہیں نفع پہنچائیں گے اور تمہیں قرب عطا کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : شیطان مشر کوں سے یہ وعدہ کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان سے وعدہ کیا ان کی مدد کی جائے گی (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 478) ۔
Ayah 35:41(آیت): ان اللہ یمسک السموت و لا رض ان تزولا جب اس امر کو واضح کیا کہ ان کے معبود آسمانوں اور زمین کی کسی چیز کا پیدا کرنے پر قادر نہیں تو اس امر کو بیان کیا کہ ان کا خالق اور ان کو انکی جگہ روکنے والا اللہ تعالیٰ ہے کوئی حادث چیز پیدا نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ ہی اسے پیدا فرماتا ہے اور کوئی چیز باقی نہیں رہتی مگر اس کی بقاء کے ساتھ باقی رہتی ہے۔ ان محل نصب میں ہے اور اس معنی میں ہے کر اھت ان تزولا یا لئلا تزولا یا اس معنی پر محمول ہوگا کیونکہ معنی ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو سرکنے سے روکتا ہے۔ اس کی تعبیر کی بناء پر اضمار کی کوئی ضرورت نہیں ؛ یہ زجاج کا قول ہے۔
(آیت): و لئن زالتا ان امنکھما من احد من بعدہ فراء نے کہا : یعنی اگر دونوں اپنی جگہ سے زائل ہوجائیں تو کوئی انہیں روکنے والا نہیں (1) ( زاد المسیر، جز 6، صفحہ 269 ) ۔ ان، ما کے معنی میں ہے۔ فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مثل ہے ـ: آیت : و لئن ارسلنا ریحا فراوہ مصفرا لظلوا من بعدہ یکفرون (الروم) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد قیامت کے روز دونوں کا اپنی جگہ سے زائل ہوجا نا ہے۔ ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا ایک شاگرد کعب الاحبار سے کیا سیکھا ؟ اس نے عرض کی : میں نے کعب کو کہتے ہوئے سنا : آسمان قطب پر گھوم رہا ہے جس طرح چکی کا قطب ہوتا ہے جو اس ستون میں ہے جو ایک فرشتے کے کندھے پر ہے۔ (2) ( تفسیر طبری، جز 22، صفحہ 170) ۔ حضرت عبد اللہ نے اسے فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ تو اپنی سواری اور اس کے کجاوے کو الٹادے کعب نے جھوٹ بولا اس نے اپنی یہودیت کو ترک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آیت : ان اللہ یمسک السموت و لا رض ان تذولا آسمان نہیں گھو متے اگر گھومتے ہوتے تو اپنی جگہ سے زائل ہوجاتے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اس کی مثل مروی ہے آپ نے شام سے آنے والے ایک آدمی سے فرمایا : تو وہاں کس سے ملا ؟ اس نے عرض کی : کعب سے۔ پو چھا : تو نے اسے کیا کہتے ہوئے سنا ؟ اس نے عرض کی : میں نے کعب کو کہتے ہوئے سنا : آسمان فرشتے کے کندھے پر ہیں۔ فرمایا کعب نے جھوٹ بولا ہے۔ کیا اس نے ابھی تک یہو دیت کو ترک نہیں کیا ؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے : آیت : ان اللہ یمسک السموت و لا رض ان تذولا آسمان سات ہیں اور زمینیں سات ہیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ ان دونوں کا ذکر فرماتا ہے تو ان کو دو چیزوں کی حیثیت سے ذکر فرما تا ہے تو پس ضمیر ان دو نوں کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : آیت : ان السموت و الا رض کا نتا رتقا ففتقنھما (الانبیاء : 30) پھر آیت کو اس ارشاد پر ختم کیا : آیت : انہ کان حلیما غفورا کیونکہ وہ معنی جسے بعض اہل تاویل نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان کو اس سے روکتا ہے کہ وہ کافروں کے کفر اور ان کے قول کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے کی وجہ سے زائل ہی نہ ہوجائیں۔ کلبی نے کہا : جب یہودیوں نے کہا : حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔ نصاری نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں تو قریب تھا کہ آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہل جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں روک لیا (3) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 269 ) ، اور اس بارے میں اس آیت کو نازل فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : آیت : لقد جئتم شیاء ادا (آیت) تکادالسموت یتفطرن منہ (المریم )