Ayahs 30:48–49ابن محیصن، ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے السیح کو واحد پڑھا باقی قراء نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے ابو عمر نے کہا : ریح کا لفظ جہاں بھی رحمت کے معنی میں ہو وہ جمع کا صیغہ ہے اور جو عذاب کے معنی میں ہو وہ واحد ہے سورة بقرہ وغیرہ میں آیت کا معنی گزر چکا ہے۔
کسفۃ کی جمع ہے جس کا معنی قطعہ ہے حضرت حسن بصری، ابو جعفر، عبدالرحمن الاعراج اور ابن عامر نے کسفا سین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی کسفۃ کی جمع ہے جس طرح کہا جاتا ہے سدرۃ سدارا قرأت کی بناء پر وہ ضمیر جو اس کے بعد ہے اس کی طرف لوٹے گی یعنی تو بارش کو دیھ کے گا جو بادل کے درمیان سے نکلتی ہے کیونکہ جمع اور واحد کے درمیان صرف ہاء کا فرق ہے اس لئے اسے مذکر ذکر کرنا اچھا ہے ضحاک : ابو العالیہ اور ابن عالیہ اور حضرت ابن عباسی ؓ نے خللہ پڑھا ہے یہ بھی جائز ہے کہ خلل خلال کی جمع ہے۔
ہاء ضمیر سے مراد بارش ہے۔ وہ بارش کے نازل ہونے سے خوش ہوتے ہیں وہ اس سے قبل مایوس اور رنجیدہ ہوچکے تھے۔ ان پر غم عیاں تھا کیونکہ ان سے بارش رک چکی تھی اخفش کے نزدیک یہ مکرر ہے تاکید کے لئے آئی ہے اکثر نحویوں کا یہی قول ہے یہ نحاس کا قول ہے
قطرب نے کہا : پہلا قبل انزال ہے اور دوسرا بارش کے لئے ہے اس کی وضاحت یہ ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان پر بارش نازل ہونے سے پہلے کھیتی سے پہلے زراع پر بارش دلالت کرتی ہے کیونکہ کھیتی بارش کے سبب سے ہی ہوتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد دلالت کرتا ہے (الروم 51) جس طرح اس کی وضاحت آگے آگے آئے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے بادل سے پہلے اس کو دیکھنے سے قبل اس قول کو نحاس نے پسند کیا یعنی بادل دیکھنے سے قبل، یعنی مایوس، سحاب کا ذکر گزر چکا ہے۔
Ayah 30:50یعنی بارش کی طرف دیکھو یعنی عبرت اور استدلال کی نظر سے دیکھو یعنی اس سے یہ استدلال کرو کہ جو اس پر قادر ہے تو وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے ابن عامر حفص اور حمزہ اور کسائی نے آثار جمع کا صیغہ پڑھا ہے باقی قراء نے واحد کا صیغہ پڑھا ہے کیونکہ یہ مضرد کی طرف مضاف ہے کا فاعل ہے یہ بھی جائز ہے کہ فاعل اللہ تعالیٰ کا اسم ہو جس نے آثار جمع کا صیغہ پڑھا ہے تو وہ اس لئے کہ رحمت سے مراد کثرت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (النحل 18) حجدری، ابو حیوہ اور دوسرے علماء نے پڑھا کے ساتھ پڑھا ہے تانیث لفظ رحمۃ کے اعتبار سے ہے کیونکہ رحمت کا اثر اس کے قائم مقام ہوتا ہے گویا یہ بھی رحمت ہی ہے یعنی رحمت زمین اور آثار کو کیسے زندہ کرتی ہے جس نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے تو فاعل اللہ تعالیٰ بارش اور اثر ہوگا۔ معنی پر محمول کرتے ہوئے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ لفظ لفظ استفہام ہے او حال خبر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی :
شاہد سے غائب پر استدلال ہے۔
Ayah 30:51ضمیر سے مراد الریح ہے اور الریح کو مذکر پڑھنا بھی جائز ہے محمد بن یزید نے کہا ہر مونث جو غیر حقیقی ہو اسے مذکر قرار دینا ممتنع نہیں جس طرح اعلعجزی الدار اور اس کے مشابہ جو دوسرے جملے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ضمیر سے مراد الزرع ہے یہی اثر ہے معنی ہوگا وہ اثر کو زرد دیکھیں گے کھیتی کے سبز ہونے کے بعد اس کا زرد ہونا اس کے خشک ہونے پر رال ہے اسی طرح سحاب اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بارش نہیں برسائے گا اور ہوا ملاقحہ کا عمل نہیں کرے گی۔
یعنی فعل مضارع کی جگہ فعل ماضی ذکر کرنا اچھا ہے کیونکہ کلام میں کا معنی ہے اور مجازہ مستقبل میں نہیں ہوتا یہ خلیل وغیرہ کا قول ہے
Ayahs 30:52–53اے محمد ﷺ آپ نے دلائل کو واضح کردیا لیکن وہ کفر میں اپنے اسلاف کی تقلید سے محبت کرتے ہیں اس وجہ سے ان کی معقول مر گئی ہیں اور ان کی بصیرتیں ناپید ہوگئی ہیں انہیں یہ پیغام حق سناتا اور انہیں ہدایت آپ کے لئے ممکن نہیں (1) یہ قدریہ کا رد ہے یعنی آپ مومنوں کو ہی وعظ سنا سکتے ہو جو توحید کے اولہ کو توجہ سے سنتے ہیں اور میں نے ان کے لئے ہدایت کو تخلیق فرمایا ہے سورة نمل میں یہ بحث گزر چکی ہے یہاں کا لفظ یاء کے بغیر واقع ہوا ہے۔
Ayahs 30:54–55انسان کی ذات میں موجود اس کی قدرت پر ایک اور استدلال کا ذکر کیا ہے کہ وہ عبرت حاصل کرے۔ کا معنی ہے کمزور نطفہ سے ایک قول یہ کیا گیا ہے کا معنی ہے کمزور حالت میں اس سے مراد ہے جب وہ ابتدا میں طفولت اور چھوٹی عمر میں تھے مراد جوانی ہے مراد بڑھاپا ہے عاصم اور حمزہ نے اسے پڑھا سب میں ضاد مفتوح ہے باقی قراء نے ضاد پر ضمہ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔
ضمہ پر نبی کریم ﷺ کی لغت ہے ضعفا یہ ضمہ کے ساتھ خاص ہے۔ ارادہ یہ کیا کہ دونوں لغتوں کو جمع کردے فراء نے کہا : ضاد پر ضمہ یہ قریش کی لغت ہے اور فتحہ یہ بنو تمیم کی لغت ہے جوہری نے کہا یہ قوت کی ضد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جب ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہو تو رائے میں کمزوری کو کہتے ہیں اور ضمہ کے ساتھ ہو تو جسم میں کمزوری کو کہتے ہیں اسی معنی میں وہ حدیث ہے جو اس آدمی کے بارے میں ہے جو بیوع میں دھوکہ کھا جاتا تھا وہ خریدو فروخت کرتا ہے اور اس کے عقد کرنے میں کمزوری ہے الشب کی طرح مصدر ہے مصدر سب کے لئے کافی ہے اسی طرح ضعف اور قوت میں قول ہے قوت و ضعف میں سے جو چاہتا ہے اسے پیدا کرتا ہے وہ تدبیر کو جانتا ہے اور اپنے ارادہ میں قوی ہے 2 کوفہ کے نحویوں نے عین کے فتحہ کو جائز قرار دیا ہے ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر اس لفظ میں ہے جس کا عین یا لام کلمہ حف حلقی ہو۔
” اور جس روز قیامت قائم ہوگی قسمیں اٹھائیں گے مجرم کہ نہیں ٹھہرے وہ دنیا میں (مگر) ایک گھڑی یونہی وہ (پہلے بھی) غلط بیانی کیا کرتے تھے۔ “
مشرک قسم اٹھائیں گے۔ اس میں عذاب قبر کا رد نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ سے کئی سندوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی اور پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ ان روایات میں سے ایک یہ ہے کہ جسے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی زوجہ حضرت ام حبیبہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا : اے اللہ : مجھے میرے خاوند جو رسول اللہ ہیں میرے باپ حضرت ابو سفیان اور میرے بھائی حضرت معاویہ (کی زندگی) سے لطف اندوز کر۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تحقیق تو نے بیان کی گئی آ جال اور تقسیم کئے گئے رزقوں کے بارے میں پوچھا بلکہ تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر کہ وہ تجھے عذاب جہنم سے پناہ دے اور عذاب قبر سے پناہ دے “ (1) یہ احادیث مشہورہ میں سے ہے جنہیں امام بخاری، امام مسلم اور دوسرے محدثین نے بیان کیا ہے۔ ہم نے ان تمام احادیث کو کتاب ” التذکرۃ “ میں ذکر کردیا ہے۔
مالمثوا غیر ساعۃ میں دو قول ہیں : (1) یوم قیامت سے قبل بےہوشی کا ہونا ضروری ہے اسی وجہ سے انہوں نے کہا : ما لبشنا غیر ساعۃ ہم ساعت بھر رہے ہیں۔ (2) مراد وہ دنیا لیتے ہیں کیونکہ وہ زائل اور منقطع ہونے والی ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کا نھم یوم یرونھا لم یلبثوا الا عشیۃ اوضحھا۔ (النازعات) گویا وہ دن کی کچھ گھڑیاں ٹھہر ییں اگرچہ انہوں نے امور غیب پر اور اس چیز پر قسم اٹھائی جس کو نہیں جانتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کذلک کانوا یوفکون وہ دنیا میں جھوٹ بولا کرتے تھے (2) یہ جملہ بولا جاتا ہے : انک الرجل جب اسے صدق اور خیر سے پھیر دیا جائے۔ ارض مافوکۃ ایسا علاقہ جس سے بارش کو روک دیا گیا ہو۔ اہل نظر کی ایک جماعت نے گمان کیا کہ قیامت میں جھوٹ جائز نہیں کیونکہ وہ اس میں ہوں گے جب کہ قرآن اس کے برعکس پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کذلک کانوا یوفکون جس طرح انہیں ان کی قسموں میں حق سے پھیر دیا گیا کہ وہ صرف ایک لمحہ بھر اس میں ٹھہرے اسی طرح وہ دنیا میں حق سے پھیر دیئے گئے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم یبعثھم اللہ جمیعاً فیجلفون لہ کما یحلفون لکم ویحسبون انھم علی شیء الا انھم ھم الکذبون۔ (المجادلہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ثم لم تکن فتنتھم الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ انظر کی کذبوا (الانعام : 23 )
Ayahs 30:56–57وقال الذین اوتوا العلم والایمان لقد لبثتم فی کتب اللہ الی یوم البعث الذین اوتوا العلم۔ کی تعبیر میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ملائکہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد انبیاء ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد امتوں کے علماء ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد اس امت کے مومن ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تمام مومن ہیں یعنی کافر مومنوں سے کہیں گے، مقصود ان کا رد کرنا ہوگا : تم اپنی قبروں میں یوم بعث تک رہے۔ فھذا یوم البعث میں فاء شرط محذوف کے جواب کے لئے ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے۔ معنی یہ بنتا ہے : ان کنتم منکرین البعث فھذا یوم البعث۔
یعقوب نے بعض قراء سے بیان کیا جب کہ یہ حضرت حسن بصری کی قرات ہے الی یوم البعث یعنی عین متحرک ہے۔ یہ ان تمام الفاظ میں قاعدہ جاری ہوتا ہے جس میں حرف حلقی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی کتب اللہ مراد اللہ کے حکم میں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ بنیگی قال الذین او توا العلم فی کتاب اللہ والایمان لقد لبثتم لی یوم البعث (1) یہ مقاتل، قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ قشیری نے کہا : اس تعبیر کی بناء پر اوتوا العلم، کتب اللہ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی وہ لوگ جن کے حق میں کتاب میں علم کا فیصلہ کیا گیا۔
فھذا یوم البعث یعنی یہ وہ دن ہے جس کا تم انکار کرتے تھے۔
فیومئذ لاینفع الذین ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعتبون
” پس اسی دن نہ نفع دے گی ظالموں کو ان کی عذر خواہی اور نہ انہیں اجازت ہوگی کہ توبہ کر کے اللہ کو راضی کرلیں۔ “
قیامت کا علم اور اس دن کی مذرت انہیں کوئی نفع نہ دے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب مومنوں نے ان کو رد کردیا انہوں نے دنیا کی طرف لوٹ جانے کا سوال کیا اور انہوں نے معذرت پیش کی تو ان کا عذر قبول نہ کیا گیا۔
ولا ھم یستعتبون ان کی وہ حالت نہیں جو رجوع کرنے والے کی ہوتی ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے : استعتبتہ فاعتبنی میں نے اس رضا کو طلب کیا پس اس نے مجھے راضی کرلیا۔ یہ اس صورت میں ہے جب تو اس پر جنایت کرنے والا ہوا عتبتہ کی حقیقت یہ ہے تو نے اس کی ناراضگی کو زائل کیا سورة فصلت میں اس کا بیان آئیگا۔ عاصم، حمزہ اور کسائی نے فیومئذ لاینفع یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھتا ہے۔
Ayahs 30:58–60ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ہر قسم کی مثال جو ان کی رہنمائی کرتی ہے جس کے وہ محتاج ہیں اور انہیں توحید اور رسولوں کی صداقت پر آگاہ کرتی ہے۔ ولئن جئتھم بایت آیہ سے مراد معجزہ ہے جس طرح سمندر کا پھٹنا، عصا اور دوسرے معجزات۔ لیقولن الذین کفروا ان انتم الا مبطلون کافر مومنوں کہیں گے : تم باطل اور جادو کی اتباع کرتے ہو۔ کذلک جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونے والی آیات کو نہیں سمجھتے، اسی طرح یطبع اللہ علی قلوب الذین لایعلمون اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو توحید کے اولہ کو نہیں جانتے۔ فاصبر ان وعد اللہ حق ان کی اذیتوں پر صبر کرو بیشک اللہ تعالیٰ تیری مدد فرمائے گا۔ ولا یستخفنک تجھے تیرے دین سے نہ پھسلا دیں جو یقین نہیں رکھتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مرادنضربن حارث ہے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مرادآپ کی امت ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے : استخفف فلان فلانافلاں نے فلاں کو حقیر جانا یہاں تک کہ اسے سرکشی میں اپنی اتباع پر برانیگختہ کیا، یہ نہی کی وجہ سے محل جزم میں ہے اسے نون ثقلیہ کے ساتھ موکد کیا تو اسے مبنی برفتحہ بنا دیا گیا جس طرح دو چیزوں کو مبنی برفتحہ بنایا جاتا ہے جب ان میں سے ایک کو دوری کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔ الذین لایوقنون یہ محل رفع میں ہے عربوں میں سے کچھ کہتے ہیں الاذن یہ محل رفع میں ہے۔ سورة فاتحہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔