Ayah 30:28اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔
فرمایا، پھر فرمایا، پھر فرمایا پہلا من ابتدائیہ ہے گویا فرمایا : اس نے مثال اخذ کی اور تمہارے جو سب سے زیادہ قریبی شے ہے اس سے مثال کو اخذ کیا وہ تمہاری ذاتیں ہیں دوسرا من تبعیض کے لئے ہے تیسرا من زائدہ ہے استفہام کی تاکید کے لئے ہے آیت قریش کے کفار کے لئے نازل ہوئی۔ وہ تلبہ میں کہا کرتے تھے یہ سعید بن جبیر کا قول ہے : قتادہ نے کہا : یہ ایسی ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے لئے بیان فرمائی ہے معنی ہے کیا تم میں سے کوئی راضی ہے کہ اس کا مملوک اس کے مال اور نفس میں اس کی مثل ہو جب تم خود اس بات پر اپنے لئے راضی نہیں ہو تو تم نے اللہ تعالیٰ کے لئے کیسے شریک بنا لئے ؟
مسئلہ نمبر 2: بعض علماء نے کہا : یہ آیت مخلوق میں شرکت میں اصل ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور احتیاج کی اللہ تعالیٰ سے نفی میں اصل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو ضروری ہے کہ وہ کہیں : تو نے جو ہمیں رزق دیا ہے ہمارے غلام ہمارے شریک نہیں : انہیں کہا جاتا تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ تم اپنے آپ کو اپنے غلاموں کی مشارکت سے پاک ہونے کا کہتے ہو اور میرے بندوں کو میری مخلوق میں میرا شریک بنا دیتے ہو یہ حکم فاسد ہے قلت نظر کا باعث ہے اور دل کے اندھا ہونے پر وال ہے۔ جس کے سردار مالک ہیں جب کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں تو یہ امر باطل ہوگیا کہ عالم میں کوئی ایسی چیز بھی ہو جو اللہ تعالیٰ کے افعال میں سے کسی چیز میں شریک ہو، جب وہ ایک ہی باقی ہے تو یہ محال ہوگیا کہ اس کا کوئی شریک ہو کر کیونکہ شرکت معاونت کا تقاضا کرتی ہے جبکہ ہم ایک دوسرے کے مال اور عمل میں معاونت کے محتاج ہیں قدیم ازلی یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے منزہ ہے۔
یہ ایک مسئلہ طالب کے لئے اس چیز سے افضل ہے کہ وہ فقہ کا ایک پورا دیوان یاد کرے کیونکہ تمام عبادات بدنیہ درست نہیں ہوتیں مگر اسی صورت میں جب اس مسئلہ کو دل میں ثبت کیا جائے، اسی نقطہ کو یاد کرلو۔
Ayah 30:29جب حجت ان پر قائم ہوگئی تو یہ ذکر کیا کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان کی عبادت میں اپنی خواہشات کی اتباع کرتے ہیں اور اس میں اسلاف کی تقلید کرتے ہیں اللہ تعالیٰ جس کو گمراہ کر دے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں، اس آیت میں قدریہ کا رد ہے۔
Ayah 30:30اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔
زجاج نے کہا : فصرہ یہ منصوب ہے معنی ہے اتبع فطر اللہ کہا کیونکہ کا معن ی ہے دین حنیف کی اتباع کرو اور اللہ تعالیٰ کی فطرت کی اتباع کرو، طبری نے کہا : مفعول مطلق ہے (1) کے معنی میں ہے کیونکہ اس کا معنی ہے الناس علی ذلک فطرۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے اس اللہ کے دین کی اتباع کرو جس نے لوگوں کو اپنے لئے پیدا کیا اس قول کی بناء پر وقف حنیفا پر تام ہے پہلے دو قولوں کی بناء پر یہ متصل ہوگا حنیفا پر وقف نہیں ہوگا فطرۃ کو دین کا نام دیا گیا کیونکہ لوگوں کو اس کے لئے پیدا کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الذاریات) یہ کہا جاتا ہے : علیھا، لھا کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الاسرائ 7) کے ساتھ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے۔ دین مستقیم کے لئے اپنے رخ کو سیدھا کرنے کا حکم ہے۔ جس طرح فرمایا : (الروم 43) اس سے مراد دین اسلام ہے، اقامۃ الوجہ سے مراد مقصد اور قوت کو اعمال دین میں تگ و دو کی طرف متوجہ کرنا ہے : وجہ کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ یہ انسان کے حواس کو جامع ہے اور انسان کا اشرف حصہ ہے اہل تاویل کا اتفاق ہے کہ اس خطاب میں امت بھی داخل ہے حنیفا کا معنی ہے اعتدال پر ان تمام تحریف شدہ اور منسوخ ادیان سے اعراض کرتے ہوئے۔
مسئلہ نمبر 2:
صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر بچے کو فطرت پر پیدا کیا گیا “ (1) ایک روایت میں ہے : ” اس ملت پر پیدا کیا گیا اس کے والدین اسے یہودی بناتے ہیں، اسے نصرانی بناتے ہیں اور اسے مجوسی بناتے ہیں جس طرح چوپایہ ایک مکمل چوپایہ جنم دیتا ہے کیا تم اس میں کوئی چیز کٹی ہوئی پاتے ہو۔ “
پھر حضرت ابوہریرہ ؓ ارشاد فرماتے : چاہو تو یہ آیت پڑھو
ایک روایت میں ہے : ” تہاں تک کہ تم اسے کاٹتے ہو “ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اس بارے میں بتائے جو چھوٹی عمر میں فوت ہوجاتا ہے ؟ فرمایا ” اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔ “ الفاظ مسلم کے ہیں۔
مسئلہ نمبر 3:۔ علماء نے اس فطرت کے معنی میں اختلاف کیا ہے جو کتاب و سنت میں مذکور ہے اس میں علماء کے متعدد اقوال ہیں (1) اس سے مراد اسلام ہے یہ حضرت ابوہریرزہ ؓ ابن شہاب اور اس کے علاوہ دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ان علماء نے کہا : علماء تاویل میں سے عام سلف صالحین کا یہی نقطہ نظر ہے۔ انہوں نے آیت اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے اور حضرت عیاض بن حمار مجاشعی کی حدیت اس کی تائید کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز لوگوں سے کہا : کیا میں تمہیں بیان نہ کروں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں کو حنیف پیدا کیا۔ انہیں ایسا مال عطا کیا تھا اس میں کوئی حرام نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو مال عطا کیا اس کو انہوں نے حلال و حرام بنا دیا۔ اور حضور ﷺ کے ارشاد سے استدلال کیا ہے : ” پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں “ (2) ۔ ان پانچ چیزوں میں مونچھیں کانٹا شمار کیا، یہ اسلام کے طریقوں میں سے ہے، اس تاویل کی بناء پر حدیث کا معنی ہوگا : اللہ تعالیٰ نے بچے کو کفر سے پاک اس میثاق پر پیدا کیا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت سے لیا جب انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے لیا جب وہ بالغ ہونے سے پہلے مر جائیں تو وہ جنت میں ہوں گے : وہ مسلمانوں کی اولاد ہوں یا کفار کی اولاد ہوں۔
دوسرے علماء نے کہا : فطرت سے مراد وہ آغاز ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کا آغاز کیا یعنی جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں تخلیق فرمایا یعنی انہیں زندگی، موت، سعادت اور شقاوت کے لئے پیدا کیا اور بالغ ہونے کے بعد جس کی طرف وہ لوٹیں گے۔ ، علماء نے کہا : کلام عرب میں فطرت سے مراد شروع کرنا ہے اور فاطر سے مراد شروع کرنے والا ہے : انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کہ فاطر المسوات الراض سے کیا مراد ہے یہاں تک کہ دو بدو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑے ہوئے میرے پاس آئے، ایک نے کہا : میں نے اس کے کھودنے کی ابتداء کی : مروزی نے کہا : حضرت امام احمد بن حنبل اس قول کی طرف جاتے تھے پھر اس کو ترک کیا۔ ابو عمر نے اپنی کتاب ” لاتمہید “ میں کہا امام مالک نے اپنے موطا میں کہا : اسلوب ہے آپ نے باب القدر میں کچھ آثار نقل کئے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا اس میں یہ مذہب تھا : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے انہوں نے اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے جو کعب قرطنی سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مروی ہے۔ (الاعراف 30) کہا : اللہ تعالیٰ نے جس مخلوق کو گمراہی کے لئے پیدا کیا تو اسے گمراہی کی طرف لوٹا دے گا اگرچہ وہ ہدایت کے اعمال کرے اور اللہ تعالیٰ نے جس مخلوق کو ہدایت کے لئے پیدا کیا ہے اسے ہدایت کی طرف پھیر دے گا اگرچہ وہ گمراہی کے کام کرے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی تخلیق گمراہی پر کی اس نے فرشتوں کے ساتھ سعادت کے اعمال کئے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی طرف لوٹا دیا جس کے لئے اسے پیدا کیا تھا۔ فرمایا :
میں کہتا ہوں : سورة الاعراف میں کعب کا قول گزر چکا ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی مرفوع حدیث سے اس کی ہم معنی روایت آئی ہے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں انصار کے ایک بچے کی نماز جنازہ کی دعوت دی گئی میں نے عرض کی کیا رسول اللہ ﷺ اسے مبارک ہو یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑی ہے، اس نے براعمل نہیں کیا اور نہ اس حد تک پہنچا (1) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ : کیا اس کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جنت کے اہل کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا جبکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اور جہنم کے اہل کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا جبکہ وہ آباء کی پشتو میں تھے “۔ ابن عامر نے اسے سنن میں نقل کیا ہے : ابو عیسیٰ ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت نقل کی ہے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں فرمایا : کیا تم جانتے ہو، یہ دونوں کتابیں کیا ہیں ؟ “ ہم نے عرض کی نہیں : یا رسول اللہ ﷺ مگر یہ کہ آپ ہمیں خبر دیں وہ کتاب جو آپ کے دائیں ہاتھ میں تھی اس کے بارے میں فرمایا :” یہ رب العالمین کی جانب سے کتاب ہے اس میں جنتیوں کے نام ہیں ان کے آباء کے نام ہیں اور ان کے قبائل کے نام ہیں پھر آخر تک ان کا اجمالی ذکر کیا ان میں نہ اضافہ ہوگا اور نہ ان میں کمی ہوگی “ (2) حدیث کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں فرمایا : حدیث حسن ہے : ایک فرقہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرمان : اور حضور ﷺ کے فرمان : عموم سے مراد نہیں، الناس سے مراد مومن ہیں اگر تمام لوگوں کو اسلام پر پیدا کیا جاتا تو کوئی بھی کفر نہ کرتا یہ ثابت ہے کہ اس نے کچھ لوگوں کو آگ کے لئے پیدا کیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الاعراف 179) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی صلب سے ذریت کو سیاہ اور سفید نکلا۔ اس بچے کے بارے میں فرمایا جسے خضر نے قتل کیا : ” جس روز اسے پیدا کیا گیا کافر ہی پیدا کیا گیا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جبکہ دن بلند تھا۔ اس میں ہے ہم نے اس میں سے جو یاد رکھا وہ یہ ہے کہ فرمایا :” خبردار ! بنی آدم کو مختلف طبقات میں پیدا کیا گیا ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کو مومن کی حیثیت سے پیدا کیا جاتا ہے وہ مومن کی حیثیت سے رہتا ہے او مومن کی حیثیت سے مرتا ہے ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جن کو کافر کی حیثیت سے پیدا کیا جاتا ہے کافر کی حیثیت سے زندہ رکھا جاتا ہے اور کافر کی حیثیت سے مرتے ہیں ان میں کچھ وہ ہیں جن کو مومن کی حیثیت سے پیدا کیا جاتا ہے وہ مومن کی حیثیت سے مرتے ہیں ان میں کچھ وہ ہیں جو اچھی قضا اور اچھی طلب والے ہوتے ہیں۔ “ (1)
حماد بن زید بن سلمہ نے مسند طیالسی میں اسے ذکر کیا ہے : علی بن زید انضرہ سے وہ حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کرتے ہیں انہوں نے کہا : عربوں کی زبان میں عموم خصوصی کا معنی اکثثر استعمال ہوتا ہے کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف نہیں دیکھتے (الاحقاف :25) جبکہ اس نے آسمان اور زمین کو ہلاک نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الانعام 44) ان پر رحمت کے دروازے نہیں کھولے گا۔ اسحاق بن راہویہ حنظلی نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرمان (یونس 105) یہ کلام مکمل ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا تقدیر کلام یہ ہے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا یا تو جنت کے لئے یا جہنم کے لئے۔ اسی طرف نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد اشارہ کرتا ہے اسی وجہ سے فرمایا ہمارے شیخ ابو العباس ؓ نے کہا : جس نے کہا : اس سے مراد سعادت اور شقاوت کا پہلے سے ہونا ہے تو یہ اسی فطرت کے مناسب ہے جو قرآن میں مذکور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جہاں تک حدیث میں اس لفظ کا تعلق ہے تو وہ نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے باقی ماندہ حدیث میں خبر دی کہ اس میں تغیر و تبدیل ہوجاتا ہے۔
اہل فقہ اور اہل نظر میں سے ایک طائفہ نے کہا : فطرت سے مراد وہ خلقت ہے جس پر بچے کو پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے رب کو پہچان لے گویا فرمایا : یہ بچے کو ایسی خلقت پر پیدا کیا گیا جس کی مدد سے وہ اپنے رب کی پہچان کرسکتا ہے جب وہ معرفت کی حد تک پہنچتا ہے مراد ایسی خلقت ہے جو بہائم کی خلقت سے مختلف ہے جو جانور اپنی خلقت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت تک نہیں پہنچتے۔ ، انہوں نے یہ استدلال کیا کہ فطرت سے مراد خلقت ہے۔ فاطر سے مراد خالق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (فاطر 1) مراد ان کا خالق ہے اسی طرح یہ ارشاد ہے (یٰسین 22) یہاں بھی کے معنی میں ہے یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (الانبیائ 56) جس نے انہیں پیدا کیا۔ علماء نے کہا : فطرۃ سے مراد خلق ہے فاطر کا معنی خالق ہے انہوں نے اس چیز سے انکار کیا ہے کہ بچے کو کفر، ایمان، معرفت یا انکار پر پیدا کیا جائے۔ انہوں نے کہا : بچہ عموماً خلقت، طبع اور ڈھانچہ کے قابل ہوتے ہیں تو وہ کفر و ایمان کا اعتقاد اپناتے ہیں۔ انہوں نے حدیث میں اس ارشاد سے استدلال کیا ہے یعنی جس طرح ایک جانو کا بچہ کامل بچہ جنم دیتا ہے کیا تم اس میں کسی چیز کو کٹا ہوا محسوس کرتے ہو یعنی کیا تم اس کو کان کٹا دیکھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں کو چوپائوں سے تشبیہ دی کیونکہ وہ کامل بچے کو جنم دیتے ہیں اس میں کوئی نقص نہیں ہوتا۔ اس کے بعد ان کے کان او ناک کاٹ دیئے جاتے ہیں اور انہیں یہ نام دیئے جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : ’ اسی طرح بچوں کے دل میں جب وہ جنم لیتے ہیں تو ان کے لئے کفر ہوتا ہے اور نہ ہی ایمان معرفت ہوتی ہے اور نہ یانکار جس طر چرنے والے چوپائے، جب بالغ ہوتے ہیں تو شیاطین انہیں حیران اور مہبوت کردیتے ہیں تو ان میں سے اکثر کافر ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان میں سے کم افراد کو محفوظ و مامون رکھتا ہے انہوں نے کہا : اگر بچے ابتداء سے ہی کفر و ایمان میں سے کس یچیز پر پیدا کئے جاتے تو وہ اس سے کبھی بھی منتقل نہ ہوتے جبکہ ہم انہیں پاتے ہیں کہ وہ ایمان والے ہوتے ہیں پھر وہ کفر کرتے ہیں عقلی دلیل کے اعتبار سے یہ محال ہے کہ بچہ ولادت کے وقت کفر و ایمان کی سمجھ رکھتا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسے حال میں پیدا کیا ہے کہ وہ اس وقت کچھ بھی نہیں سمجھتے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النحل 78) جب وہ کسی بھی چیز کو کچھ نہ جانتا تو اس سے کفر و ایمان معرفت و انکار محال ہے۔
ابو عمر عبدالبر نے کہا : فطرت کا معنی جس پر بچے کو پیدا کیا جاتا ہے ان میں سے یہ صحیح ترین قول ہے اس بارے میں دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے (الطور) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (المدثر) جو عمل کے وقت تک نہ پہنچا وہ کسی چیز کا ذمہ دار نہیں : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الاسر) جب علماء نے اس پر اتفاق کیا تو وہ دنیا میں حدود و قصاص اور گناہ ان سے اٹھا دیئے گئے ہیں تو آخرت میں تو بدرجہ اولی ان کے لئے ایسا ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
یہ محال ہے کہ فطر قند کو رہ سے مراد اسلام ہو جس طرح ابن شہاب نے کہا : کیونکہ اسلام اور ایمان زبان سے قول، دل کا اعتقاد اور اعضاء کے ساتھ عمل ہے بچے سے یہ معدوم ہے عقل مند آدمی اس سے جاہل نہیں جہاں تک اوزاعی کا قول ہے : میں نے زہری سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے ذمہ ایک غلام کو آزاد کرنا لازم ہوگیا اس کی جانب سے بچہ کافی ہوگا کہ اسے آزاد کر دے جبکہ وہ ابھی دودھ پیتا ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں : کیونکہ وہ فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوا۔
اس کی آزادی اس کے نزدیک جائز ہے جو اس تعبیر کو جائز سمجھتا ہے کیونکہ اس کا حکم اس کے والدین کا حکم ہے : دوسرے علماء نے اس سے اختلاف کیا ہے انہوں نے کہا : اگر غلام آزاد کرنا واجب ہو تو اس میں ایسا غلام ہی آزاد کیا جاسکتا ہے جو روزہ رکھتا اور نماز پڑھتا ہو۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان (الاعراف) اور حدیث طیبہ : میں ایسی کوئی دلیل نہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ مومن یا کافر کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ عقول گواہ ہیں کہ اس وقت میں وہ ایمان و کفر کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا۔ وہ حدیث جس میں آیا ہے : یہ ان احادیث میں سے نہیں جس پر طعن نہ ہو کیونکہ علی بن زید بن جدعان اس کو روایت کرنے میں منفرد ہے شعبہ پر اعتراض کیا جاتا ہے ساتھ ہی ساتھ یولد مومنا میں یہ احتمال موجود ہے کہ مراد ہو اسے جنم دیا جاتا ہے تاکہ وہ مومن ہو، اسے جنم دیا جاتا ہے تاکہ وہ کافر ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے علم ہے حضور ﷺ کے فرمان : میں اس سے بڑھ کر کچھ نہیں جس پر ان خاتمہ ہوگا اس کی ان کے بارے میں رعایت کی جائے گی اس سے مراد نہیں کہ وہ اپنی طفولیت میں جنت یا جہنم کے مستحق ہیں یا وہ کفر و ایمان کی سمجھ بوجھ رکھتے تھے۔
میں کہتا ہوں : ابو عمرو نے جو نقطہ نظر اختیار کیا ہے اور اس کے لئے دلیل پیش کی ہے کئی محققین اس کی طرف گئے ہیں ان میں ابن عطیہ بھی ہے اور ہمارے شیخ ابو العباس بھی اسی طرف گئے ہیں ابن عطیہ نے کہا : اس لفظ کی تفسیر میں جس چیز پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد خلقت اور وہ ہیبت ہے جو طفل کے نفس میں ہوتی ہے وہ نفس اس کے لئے تیار کیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مصنوعات کو امتیاز دیا جاسکے اس کے ذریعے اس کے رب ہونے پر استدلال کیا جاسکتے شرائع کو پہچانا جاسکے اور اس پر ایمان لایا جاسکے گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اپنے چہرے کو اس دین کے لئے سیدھا کرلو جو دین دین حنیف ہے یہی اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے لیکن اسے عوارض لاحق ہوتے رہتے ہیں اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ہر بچے کو فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے : اس کے والدین اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں۔
ابوین کا ذکر یہ اس عوارض کی مثال ہے جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں ہمارے شیخ نے اپنی عبارت میں کہا : اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے دل بنائے جو قبول حق کی اہلیت رکھتے ہیں جس طرح ان کی آنکھیں اور کان بنائے جو دیکھی جانے والی اور سنی جانے والی چیزوں کو قبول کرتے ہیں جب تک وہ اس قبول اور اہلیت پر باقی رہتی ہے وہ حق دین اسلام کو پانے والی ہیں یہی دین حق ہے اس معنی کی صحت پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : یعنی چوپا یہ اپنے بچے کو کامل اور آفات سے محفوظ پیدا کرتا ہے اگر اسے اس خلقت پر چھوڑا جاتا تو وہ کامل اور عیوب سے بری ہوتا لیکن اس میں تصرف کیا جاتا ہے اس کے کان کاٹ دیئے جاتے ہیں اس کے چہرے پر نشان لگا دیا جاتا ہے اس پر آفات اور نقائص طاری ہوتے ہیں تو وہ اصل سے نکل جاتا ہے اسی طرح انسان ہے یہ ایسی تشبیہ ہے جو واقع ہے اور اس کی وجہ واضح ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ قول پہلے قول کے معنی میں موافق ہے اور یہ ادراک کے بعد ہے جب انہوں نے امور دنیا کو سمجھ لیا اور اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر اس سے موکد ہوگئی جو واضح آیات ان پر قائم کی گئیں جیسے آسمانوں زمین سورج چاند، خشکی تری کی تخلیق اور رات اور دن کا اختلاف جب ان میں ان کی خواہشات نے اپنا کردار ادا کیا شیاطین ان کے پاس آگئے انہوں نے انہیں یہودیت اور نصرانیت کی طرف دعوت دی تو وہ ان کی خواہشات کو دائیں بائیں لے گئے۔ اگر وہ چھوٹی عمر میں مر جاتے ہیں تو وہ جنت میں ہوتے۔ مراد تمام بچے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو آپ کی پشت سے چھوٹی چیونٹیوں کی صورت میں باہر نکالا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الاعراف 172) جب وہ اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کرچکے اور یہ اقرار کرچکے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر انہیں واپس ان کی پشتوں کی طرف لوٹا دیا پھر ماں کے پیٹ میں اس کے شقی یا سعید ہونے کے بارے میں لکھ دیا جاتا ہے جس طرح کتاب اول میں تھا جو آدمی کتاب اول میں شقی تھا اسے زندگی گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس پر قلم جاری ہوتا ہے تو وہ شرک کر کے اس میثاق کو توڑ دیتا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکال کر اس سے لیا گیا۔ جو آدمی کتاب اول میں سعید تھا اسے مہلت دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس پر قلم جاری ہوتا ہے تو وہ سعید ہوجاتا ہے مسلمانوں کے بچوں میں سے جو فوت ہوجاتا ہے جبکہ اس پر قلم جاری ہو تو وہ اپنے آباء کے ساتھ جنت میں ہوتا ہے۔ جو مشرکوں کی اولاد میں سے ہوتا ہے۔
اس پر قلم جاری ہونے سے پہلے ہی وہ مر جاتا ہے۔ تو وہ اپنے آباء کے ساتھ نہیں ہوں گے کیونکہ وہ پہلے میثاق پر ہی فوت ہوگئے جو ان سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکال کرلیا گیا تھا اور میثاق کو توڑا نہ گیا اہل تاویل کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے یہ تمام احادیث میں تطبیق کرنے والی ہیں۔
حضور ﷺ کا ارشاد جس میں آپ ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا : مراد اگر وہ بالغ ہوتے اس تاویل پر امام بخاری کی حدیث دلالت کرتی ہے جو آپ نے حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کی ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں حدیث طویل ہے جو حدیث رویاء ہے اس میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے : (1) وہ طویل آدمی جو روضہ میں ہوگا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے اور ان کے ارد گرد بچے ہوں گے وہ بچے جنہیں فطرہ پر پیدا کیا گیا۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ مشرکوں کی اولاد ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اور مشرکوں کی اولاد “ یہ ایسی نص ہے جو اختلاف کو ختم کردیتی ہے یہ وہ صحیح ترین چیز ہے جو باب میں روایت کی گئی ہے اس کے علاوہ احادیث میں علل ہیں۔ آئمہ احادیث فقہا نہیں، یہ ابو عمر بن عبدالبر کا قول ہے حضرت انس ؓ سے روایت مروی ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا : فرمایا :” ان کی نیکیاں نہیں کہ انہیں بدلہ دیا جائے تو وہ جنت کے بادشاہوں میں سے ہوجائیں۔ ان کی برائیاں نہیں کہ انہیں سزا دی جائے تو وہ جنہمیوں میں سے ہوجائیں۔ وہ جنتیوں کے خادم ہیں۔ “ (1) یحییٰ بن سلام نے اسے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے ہم نے کتاب ’ التذکرہ “ میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔ ہم نے موطاء مالک بن انس کی شرح کتاب ” المقتبس “ میں اسے ذکر کیا ہے جسے ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ الحمداللہ
اسحاق بن راہویہ نے ذکر کیا یحییٰ بن آدم، جریر بن حازم سے وہ ابو رجا عطاردی سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں اس امت کا معاملہ ہمیشہ قریب قریب رہے گا یا ایسا کلمہ ذکر کیا جو ان کے مشابہ ہے یہاں تک کہ وہ اطفال اور تقدیر کے بارے میں کلام کریں گے یا غور و فکر کریں گے ؟ یحییٰ بن آدم نے کہا : میں نے اس کا ذکر ابن مبارک سے کیا : فرمایا : کیا انسان جہالت پر خاموش رہ سکتا ہے : میں نے کہا : کیا آپ کلام کا حکم دیتے ہیں ؟ کہا : وہ خاموش ہوگئے۔ ابوبکر وراق نے کہا اس سے مراد فقر و فاقہ ہے ؎ یہ اچھی کلام ہے کیونکہ وہ ولادت سے لے کر موت تک محتاج ہوتا ہے ہاں اور آخرت میں (بھی)
یہ ایسی فطرت ہے خالق کی جانب سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، کسی صورت میں امر اس کے خلاف نہیں ہوتا جس کو اس نے سعید پیدا کیا وہ بدبخت نہیں ہوگا اور جس کو شقی پیدا کیا وہ سعید نہیں ہوگا۔ مجاہد نے کہا : معنی ہے اللہ تعالیٰ کے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی یہ قتادہ، ابن جبیر، ضحاک اور ابن زید اور نخعی کا قول ہے (2) ۔ انہوں نے کہا :
معتقدات میں یہی معنی ہے۔ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے معنی ہے : چوپائوں میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی تبدیلی درست نہیں کہ ان کے نروں کو خصی کردیا جائے معنی ہے کہ حیوانوں میں سے خصی کرنے سے نہیں یہ بحث سورة نساء میں گزر چکی ہے۔
وہ درست فیصلہ ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ( 3) مقاتل نے کہا : وہ واضح حساب ہے (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد دین اسلام ہے وہی دین قیم اور مستقیم ہے۔ وہ غورو فکر نہیں کرتے کہ وہ یہ جان لیں کہ ان کا خالق و معبود ہے اور قدیمی الہ ہے اس کی قضا سبقت لے جا چکی ہے اور اس کا حکم نافذ ہوچکا ہے۔
Ayahs 30:31–32اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے توبہ اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں : یحییٰ بن سلام اور فراء نے کہا : وہ اس کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں : عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس کی اطاعت کرنے والے ہیں : ایک قول یہ کیا گیا ہے، گناہوں سے توبہ کر کے اس کی طرف لوٹنے والے ہیں، اسی معنی میں ابو قیس بن اسلت کا قول ہے۔
اگر انہوں نے توبہ کی تو بنی سلیم اور ان کی قوم ہوازن نے توبہ کی۔
معنی ایک ہی ہے کیونکہ ناب، تاب، ثاب اور آب سب کا معنی لوٹنا ہے۔ ماوردی نے کہا : انابۃ کی اصل میں دو قول ہیں : (1) اس کا معنی کاٹنا ہے اسی سے ناب کا اسم ہے کیونکہ وہ کاٹنے والا ہوتا ہے، گویا انابۃ سے مراد اطاعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ہو رہنا (2) اس کا معنی لوٹنا ہے : یہ ناب ینوب ہے سے ماخوذ ہے جب وہ یکے بعد دیگرے لوٹے، اسی سے نوبہ ہے کیونکہ اس سے مراد عادت کی طرف لوٹنا ہے جوہری نے کہا : کا معنی ہے یہ نوب کا واحد ہے تو کہتا ہے : وغیرہ تیری باری آگئی وہ پانی وغیرہ میں باری کرتے ہیں یہ حال کی حیثیت میں منصوب ہے : محمد بن یزید نے کہا : کا معنی ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے تم اپنے چہروں کو سیدھا کرلو۔ فراء نے کہا : معنی ہے اپنے اور جو آپ کے ساتھ ہیں وہ توبہ کرتے ہوئے اپنے چہرے سیدھے کرلیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ماقبل کلام سے قطع کرتے ہوئے ا سے نصب دی ہے یعنی حضور ﷺ کے لئے جو امر ہے وہ آپ کی امت کے لئے امر ہے یہ کتنا اچھا ہے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (اطلاق 1)
اس سے ڈرو اور اس نے تمہیں جو حکم دیا ہے اس کی اطاعت کرو۔ اس امر کو واضح کیا کہ عبادت نفع نہیں دیتی مگر اخلاص کے ساتھ ہی نفع دیتی ہے اسی وجہ سے فرمایا یہ بحث سورة نساء اور الکہف وغیرہ میں مفصل گزر چکی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ، حضرت عائشہ صدیقیہ اور حضرت ابو امامہ ؓ نے کہا : اہل قبلہ میں سے اہل الاسواء اور اہل البدع ہیں۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
ربیع بن انس نے کہا : سے مراد یہود و نصاری میں سے اہل کتاب ہیں یہ قتادہ اور معمر کا قول ہے حمزہ اور کسائی نے پڑھا حضرت علی شیر خدا ؓ کی بھی یہی قرأت ہے وہ دین جس کی اتباع ضروری تھی اس میں انہوں نے تفرقہ کیا وہ توحید ہے وہ کئی گروہ تھے یہ کلبی کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ کئی دین تھے، یہ مقاتل کا قول ہے (1) وہ خوش خرم تھے کیونکہ انہوں نے حق کو نہ پہچانا جب کہ ان پر لازم تھا کہ وہ حق کو پہچانتے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرائض کے نازل ہونے سے پہلے کا مرحلہ تھا تیرا قول ہے : اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا بعض اوقات اس کی نافرماننی سے خوش ہوتا ہے یہی کیفیت شیطان اور ڈاکوئوں وغیرہ کی ہوتی ہے اللہ بہتر جانتا ہے، فراء نے گمان کیا کہ کلام پر مکمل ہو اور معنی ہو ان میں سے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ کیا وہ کئی گروہ تھے یہ جملہ مستانفہ ہو یہ بھی جائز ہے کہ کلام ماقبل کے ساتھ متصل ہونحاس نے کہا جب یہ کلام ماقبل کے ساتھ متصل ہو تو بصریوں کے نزدیک حروف کے اعادہ کے ساتھ بدل ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (اعراف 75) اگر یہ حرف کے بغیر ہو تو بھی جائز ہے۔
Ayahs 30:33–35اس سے مراد قحط اور شدت ہے۔ وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ عذاب اٹھا لے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنے دل سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ شرک نہیں کرتے۔ اس کلام کا معنی تعجب ہے اللہ تعالیٰ کے بنی نے مشرکوں پر تعجب کیا اظہار کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے جبکہ ان پر پے در پے دلائل واقع ہوتے ہیں یعنی جب ان کفار کو مرض یا شدت میں سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو دعوت دیتے ہیں یعنی جو مصیبت ان پر نازل ہوتی ہے وہ اس کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد لیتے ہیں وہ صرف اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کسی اور (بتوں) کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بتوں کے ہاں تکلیف سے رفع کی کوئی صورت نہیں۔
سے مراد عافیت اور نعمت ہے عبادت میں اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
”(اچھا) ناشکری کرلیں اس نعمت کی جو ہم نے دی ہے انہیں پس (اے ناشکرو) لطف اٹھا لو تو تمہیں (اس کا) انجام معلوم ہوجائے گا۔ “
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لام کی ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لام امر ہے اس میں تہدید کا معنی پایا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الکہف 29) اس میں تہدید اور وعید ہے۔ حضرت عبداللہ کے مصحف میں ہے ہم نے انہیں اس پر قادر بنایا تاکہ وہ لطف اندوز ہوں یہ غالب کی خبر ہے جس طرح مصحف کے خط کے مطابق غائب کی خبر دینے کے بعد خطاب ہے، اے یہ کرنے والو : لطف اندوز ہو لو۔
’ کیا ہم نے اتاری ہے ان پر کوئی دلیل پس وہ گواہی دیتی ہے اس مشرک (کی سچائی) کی جو وہ کرتے ہیں۔ “
یہ ایسا استفہام ہے جس میں توفیف کے معنی ہیں۔ ضحاک نے کہا : سے مراد کتاب ہے (1) یہ قول قتادہ اور ربیع بن انس نے کیا ہے مجاز اکلام کی نسبت کتاب کی طرف کی ہے فراء نے یہ گمان کیا کہ عرب سلطان کو مونث قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں جہاں تک بصریوں کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک مذکر بنانا افصح ہے قرآن حکیم میں بھی اسی طرح آیا ہے ان کے نزدیک تانیث جائز ہے کیونکہ یہ حجب کے معنی میں ہے۔ ایسی حجب جو تمہارے شرک کے بارے میں گویا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا بھی قول ہے : علی بن سلیمان نے ابو العباس محمد بن یزید سے روایت نقل کی ہے کہ سلطان سلطیط کی جمع ہے جس طرح رغیف کی جمع رغفان ہے اس کی تذکیر جمع کے معنی میں اور اس کی تانیث جماعت کے معنی میں ہے سلطان کے بارے میں کلام آل عمران میں مفصل گزر چکی ہے۔ سلطان سے مراد جس کے ساتھ انسان اپنی ذات سے ایسا امر دور کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ عقوبت کا مستحق ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النمل)
Ayah 30:36رحمت سے مراد سرسبزی، وسعت اور عافیت ہے یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے (2) نقاش نے کہا مراد نعمت اور بارش ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد امن ہے معنی قریب قریب ہے ہاضمیر سے مراد رحمت ہے سے مراد آزمائش اور عقوبت ہے یہ مجاہد کا قول ہے (3) سدی نے کہا بارش کا نہ ہونا ہے انہوں نے جو نافرمانیاں کیں۔ وہ رحمت اور وسعت و کشادگی سے مایوس ہوجاتے ہیں یہ جمورہ نقطہ نظر ہے حضرت حسن بصری نے کہا : قنوط سے مراد رازداری میں اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ترک کرنا ہے۔ یہ عام قرأت ہے یہ ابو عمرو، کسائی اور یعقوب کی قرأت ہے۔ اعمش نے دونوں میں کسرہ کے ساتھ قرأت کی ہے جس طرح آیت کافر کی صفت ہے وہ تنگی کے وقت مایوس ہوتا ہے اور نعمت کے وقت اتراتا ہے جس طرح کہا :
برے گدھے کی طرح اگر تو اسے چارہ کھلائے تو لوگوں کی لاتیں مارتا ہے اور بھوکا ہو تو ہینگتا ہے
بیشمار لوگ جن کے دل میں ایمان راسخ نہیں ہوا ان کی یہی حالت ہے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گزر چکی ہے جہاں تک مومن کا تعلق ہے وہ نعمت کے وقت اپنے رب کا شکر بجا لاتا ہے اور تکلیف کے وقت اس سے امید رکھتا ہے۔
Ayah 30:37جس کے لئے چاہتا ہے دنیا میں بھلائی کو وسیع کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے اس لئے کوئی ضروری نہیں کہ فقراء انہیں مایوسی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
Ayah 30:38اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔
جب یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق میں کمی کردیتا ہے جس کا رزق وسیع کیا گیا اس کو حکم دیا کہ وہ فقیر کو اس کی ضرورت کو چیز پہنچائے تاکہ غنی کے شکر کا امتحان لیا جائے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد آپ اور آپ کی امت ہے کیونکہ اس نے فرمایا : رشتہ داروں کو رشتہ داری کی وجہ سے مال دینے کا حکم دیا بہترین صدقہ وہ ہوتا ہے جو قریبی رشتہ دار کو دیا جائے، اس میں صلہ رحمی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے قریبی رشتہ داروں کو صدقہ دینے کو غلام آزاد کرنے پر فضلیت دی ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت میمونہ ؓ نے فرمایا جب کہ آپ نے ایک نو عمر لونڈی آزاد کی تھی “ اگر تو یہ اپنے ننہالی رشتہ داروں کو دے دیتی تو تیرے لئے زیادہ اجر ہوتا “ (1)
مسئلہ نمبر 2: اس آیت کی تعبیر میں اختلاف کیا گیا ہے یہ آیت میراث سے منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ منسوخ نہیں بلکہ قریبی رشتہ داروں کے حق میں ہر ال میں نیکی کرنا لازم ہے یہ قول صحیح ہے مجاہد اور قتادہ نے کہا : صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرض ہے یہاں تک کہ مجاہد نے کہا : کسی ایسے آدمی کا صدقہ قبول نہیں جس کا قریبی رشتہ دار محتاج ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قریبی سے مراد نبی کریم ﷺ نے کے قریبی ہیں پہلا زیادہ صحیح ہے کیونکہ ان کا حق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں واضح ہے (انفال :41)
ایک قول یہ کیا گیا ہے : قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم استجاب کے طریقہ پر ہے حضرت حسن بصرہ نے کہا : حقہ سے مراد خوشحالی میں ہمدردی کرنا ہے اور تنگ دستی میں اچھا قول کرنا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جو سائل گردش کناں ہو اس کو کھانا کھلا۔ ابن سبیل سے مراد مہمان ہے۔ ضیافت کو فرض قرار دیا۔ یہ تمام مباحث اپنے اپنے مقام پر مفصل گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ
مسئلہ نمبر 3: حق دینا روکنے سے افضل ہے جب اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کا ارادہ کیا جائے وہ اپنے مطلب کو پانے والا ہے یعنی آخرت کا ثواب سورة البقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے :
Ayah 30:39اس میں چار مسائل ہیں
مسئلہ نمبر 1:
جب اس چیز کا ذکر کیا جس کے ساتھ اس کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر بدلہ عطا فرماتا ہے اس کے علاوہ صفت کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے جمبور کی قرأت ہے یہ مد کے ساتھ ہے معنی ہے جو تم دیتے ہو۔ ابن کثیر، مجاہد اور حمید نے مد کے بغیر پڑھا ہے معنی ہے جو تم ربا کا عمل کرو تاکہ وہ بڑھے جس طرح تو کہتا ہے تو نے صحیح کام کیا اور تو نے غلط کام کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مد پر اتفاق کیا ہے۔ زکوۃ ریا کا معنی زیادتی ہے (2) سورة بقرہ میں اس کا معنی گزر چکا ہے، وہاں وہ حرام ہے یہاں حلال ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کی دو قسمیں ہیں : اس میں ایک قسم حلال ہے اور اس میں ایک قسم حرام ہے (1) عکرمہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : میں کہاں : ربا کی دو قسمیں ہیں ربا حلال اور ربا حرام
جہاں تک حلال ربا کا تعلق ہے اس سے مراد وہ ہے جو ہدیہ کے طور پر دیا جائے اور جو اس سے افضل ہو اس کو طلب کیا جائے اس آیت میں ضحاک سے مروی ہے : اس سے مراد حلال ربا ہے جو ہدیہ کے طور پر دیا جائے تاکہ اس سے جو افضل ہو وہ ہدیہ کے طور پر اسے لوٹایا جائے نہ اس کے حق میں ہو اور نہ اس کے خلاف ہو۔ اس میں اس کے لئے اجر نہیں اور اس میں اس پر کوئی گناہ نہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد کسی آدمی کو ہدیہ دینا جس کے ساتھ وہ یہ امید رکھتا ہے کہ اسے اس سے افضل لوٹایا جائے گا یہ ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتی اس کے مالک کو اجر نہیں دیا جاتا لیکن اس پر کوئی گناہ نہیں اسی معنی میں یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس، ابن جبیر، طائوس اور مجاہد نے کہا : یہ آیت ہبتۃ الثواب میں نازل ہوئی ابن عطیہ نے کہا : انسان جو ایسا کام کرتا ہے تاکہ اسے بدلہ دیا جائے جیسے سلام یا جو بھی اس کے قائم مقام جاری ہو تو یہ ایسی چیز ہے جس میں کوئی گناہ نہیں کوئی اجر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر کوئی بڑھوتری نہیں (2) یہی قول قاضی ابوبکر بن عربی نے کیا نسائی کی کتاب میں حضرت عبدالرحمن بن علقمہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ثقیف کا وفد آیا، ان کے پاس ہدیہ تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ہے “ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنی چاہیے اور ضرورت کو پورا کرنے کی نیت کرنی چاہیے اگر صدقہ ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرنی چاہیے “ انہوں نے عرض کی نہیں بلکہ یہ ہدیہ حضور ﷺ نے ان سے ہدیہ قبول کرلیا آپ ان کے ساتھ بیٹھ گئے وہ آپ سے سوال کرتے اور آپ ان سے سوال کرتے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا اور ابراہیم نخعی نے بھی یہ کہا ہے : یہ ایسے لوگوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی جو اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کو مال دیتے تاکہ انہیں نفع حاصل ہو وہ مال دار ہوجائیں اور ان پر مال دینے والوں کی فضلیت ثابت ہوجائے اور ان کے مال زیادہ ہوجائیں تاکہ انہیں نفع حاصل ہو (4) شعبی نے کہا : آیت کا معنی ہے جس انسان نے کسی انسان کی کسی چیز کے ساتھ خدمت کی اور اس کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کیا تاکہ اس کے ساتھ دنیا میں نفع اٹھائے تو وہ نفع جس کے بدلے میں اس نے خدمت کی اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ خصوصاً نبی کریم ﷺ کے لئے حرام ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (المدثر) آپ کو اس چیز سے منع کیا کہ کوئی چیز آپ عطا کریں اور اس کے عوض میں زیادہ چیز لیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے
اس سے مراد حرام شدہ ربا ہے، اللہ ک، اس قول کی بناء پر معنی ہے اس کے لینے والے کے بارے میں حکم نہیں بلکہ یہ حکم اس کے لئے ہے جس سے وہ مال لیا گیا ہو سدی نے کہا یہ آیت بنو ثقیف کے ربا کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ وہ سود کا کاروبار کیا کرتے تھے اور قریش ان کے ساتھ معاملہ کیا کرتے تھے۔
مسئلہ نمبر 2: قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : آیت کا صریح معنی اس آدمی کے بارے میں ہے جو کوئی چیز ہبہ کرتا ہے اور بدلہ میں لوگوں سے زیادہ کا مال کا طالب ہوتا ہے مہلب نے کہا : علماء نے اس آدمی کے بارے میں اختلاف کیا جو آدمی ہبہ کرتا ہے اور اس کے بدلے میں بدلہ کا طالب ہوتا ہے اور کہا : میں نے بدلہ کا ارادہ کیا : امام مالک نے کہا : اس میں غوروفکر کیا جائے گا اگر وہ جب موجوبلہ سے بدلہ کا طالب ہے وہ ایسا ہی ہے تو اس کے لئے وہ ہوگا جس طرح فقیر غنی کو ہبہ کرے خادم صاحب کو ہبہ کرے کوئی آدمی اپنے امیر اور اس سے بالا کو ہبہ کرے یہ امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے امام ابوحنیفہ نے کہا : اس کے لئے بدلہ نہ ہوگا جب اس نے شرط نہ لگائی ہو یہ امام شافعی کا دوسرا قول ہے فرمایا : بدلہ کے لئے ہبہ باطلہ ہے اسے کوئی نفع نہ دے گا کیونکہ یہ مجبول ثمن کے بدلے میں بیع ہے کوفہ سے علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ ہبہ اصل میں بطور نفل ہے اگر ہم اس میں عوض کو واجب کردیں تو اس میں فضل و احسان کا معنی باطل ہوجائے گا اور وہ معاونسات کے معنی میں ہوجائے گا عربوں نے لفظ بیع اور لفظ ہبہ میں فرق کیا ہے انہوں نے لفظ بیع کو اس کے لئے خاص کیا ہے جس میں وہ عوض کا مستحق ہوتا ہے اور ہبہ اس کے خلاف ہے ہماری دلیل وہ روایت ہے جسے امام مالک نے موطا میں روایت کیا ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا جس آدمی نے کوئی ہبہ کیا اس کی رائے تھی کہ یہ بدلہ کے طور پر ہے تو وہ ہبہ کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے یہاں تک کہ وہ بلا عوض ہدیہ پر راضی ہوجائے۔
اسی کی مثل حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے فرمایا : ہبہ تین قسم کے ہیں (1) ایسا ہبہ جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا جائے (2) ایسا ہبہ جس سے لوگوں کی رضا کا ارادہ کیا جائے (3) ایسا ہبہ جس سے بدلہ کا ارادہ کیا جائے بدلہ کے لئے جو بہبہ دیا جائے تو ہبہ کرنے والا اسے واپس لے سکتا ہے جب اسے بدلہ نہ دیا جائے۔ امام بخاری نے یہ عنوان باندھا ہے او حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث ذکر کی رسول اللہ ﷺ جو ہدیہ قبول فرماتے اور اس پر بدلہ دیا کرتے تھے دودھ دینے والی اونٹنی پر بدلہ دیا اور اس اونٹنی کے مالک نے جب بدلہ طلب کیا تو حضور ﷺ نے اس کا انکار نہ کیا اور بدلے کے لئے ناراضگی کو پسند نا کیا جبکہ وہ بدلہ ہدیہ کی قیمت پر زائد تھا۔
مسئلہ نمبر 3:
حضرت علی شیر خدا ؓ نے جو ذکر کیا اور ہبہ کی تفصیل بیان کی ہے وہ صحیح ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ میں تین احوالے سے خالی نہیں (1 ! وہ ہبہ کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے ہی بدلہ کا طالب ہو (2) وہ اس کے ذریعے لوگوں کی رضا چاہتا ہے اور وہ ریا کاری کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں اور اس ہبہ کی وجہ سے اس کی ثناء کریں۔ (3) وہ موہوب لہ سے اس کے ساتھ بدلہ کا ارادہ کرتا ہے اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : (1) اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ہر آدمی کے لئے وہ کچھ ہے جس کی وہ نیت کرے جب ایک آدمی اپنے ہبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کرے اور اس کی بارگاہ سے ثواب چاہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے فضل و رحمت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :۔
اسی طرح وہ آدمی جو اپنے قریبی رشتہ داروں کے صلہ رحمی کرتا ہے تاکہ وہ غنی ہوجائے اور کسی پر بوجھ نہ بنے تو اس میں بھی نیت کا اعتبار کیا جائے گا اگر وہ اس کے ساتھ دنیا چاہتا ہے تو یہ عمل اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں ہوگا اگر وہ اس کی مدد اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس کا اس پر حق قرابت ہے اور ان کے درمیان رشتہ داری ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہوگا۔ (2)
اور وہ شخص جو اپنے ہبہ کے ساتھ لوگوں کی رضا چاہتا ہے مقصود یا ریا کاری ہے تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں اور اس کی وجہ سے اس کی ثنا کریں تو اس کے ہبہ میں اس کے لئے کوئی نفع نہیں نہ دنیا میں بدلہ ہے اور نہ آخرت میں اجر ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : البقرہ 264)
جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جو موہوب لہ سے بدلہ کا طالب ہے تو اس کے لئے وہ کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ابن قاسم کا مذہب ہے اگر وہ شخص جس کو وہ چیز ہبہ کے طور پر دی گئی وہ ہبہ کرنے والے کو ایسی چیز نہ دے جو اس کی قیمت کی حامل ہو یا اس سے زیادہ قیمت پر وہ راضی ہو تو ہبہ واپس کرسکتا ہے۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی شیر خدا ؓ کے قول کا ظاہر وہی ہے۔
واضح میں مطرف کا قول بھی یہی ہے : ہبہ ایسی چیز ہو جس کی اصل قائم رہنے والیے ہو اگر زائد ہوجائے یا کم ہوجائے تو واہب کو اس میں رجوع کا حق ہے اگرچہ موہوب لہ اسے اس میں زیادہ دے ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ ایسی چیز جس کی اصل باقی رہنے والی ہے وہ متغیر نہ ہو تو جو چاہے لے لے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے قیمت لازم ہوگی جس طرح نکاح تفویض میں ہوتا ہے اگر ہبہ کے فوت ہونے کے بعد مقابلہ ہو تو اس کے لئے بالا اتفاق قیمت ہی ہوگی، یہ ابن عربی کا قول ہے (3)
مسئلہ نمبر 4:
جمہور قراء سبعہ نے اسے پڑھا یعنی یاء کے ساتھ پڑھا۔ فعل ربا کی طرف منسوب ہے صرف نافع نے تاء کے ضمہ اور وائو کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یہ مخاطب کا صیغہ ہے معنی ہوگا تم زیادتی والے ہو، یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری قتادہ اور شبعی کی قرأت ہے اب حاتم نے کہا : یہ ہماری قرأت ہے ابو مالک نے لتربوھا تانیث کی ضمیر کے ساتھ لکھا ہے وہ نہ بڑھتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس پر بدلہ دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اسی کو قبول فرماتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہوتا ہے۔ سورة النساء میں یہ بحث گزر چکی ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سے مراد صدقہ ہے : تو یہ یہی وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور اسے دس گناہ یا اس سے زیادہ بڑھا دیتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الحدید) فرمایا :
مفعفین کے معنی میں دو قول ہیں (1) ان کے لئے نیکیوں کو کئی گنا کردیا جاتا ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا (2) ان کے لئے خیر اور نعمتوں کو کئی گنا بڑھا دے گا یعنی وہ اصحاب اضعاف ہیں جس طرح یہ کہا جاتا ہے فلان مصعف یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اس کے اونٹ طاقتور ہوں یا اس کے ساتھی طاقتور ہوں۔ فلا مسمن اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کے اونٹ موٹے ہوتے ہیں فلان معطش اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کے اونٹ پیاسے ہوں فلاں مضعف جب اس کے اونٹ کمزور ہوں اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : (1) مخبث اسے کہتے ہیں جسے خبث لاحق ہو۔ یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں وہ خود رومی ہے فلاں مردنی اس کے ساتھ روی ہیں۔
Ayah 30:40یہ کلام مبتدا اور خبر ہے کلام مشرکوں کے خلاف استدلال کی طرف لوٹ رہی ہے وہ خالق، رزاق، زندگی عطا کرنے والا اور موت دینے والا ہے پھر استفہام کے طریقہ پر کہا یعنی اس کے شریکوں میں سے تو کوئی بھی کچھ نہیں کرتے پھر اپنی انداد، اضداد، بیوی اور اولاد سے پاکی بیان کی۔
شرکء کی نسبت ان کی طرف کی کیونکہ وہ مشرک انہیں الہ اور زشرکاء کا نام دیا کرتے تھے اور اپنے اموال کے لئے مختص کرتے ہیں۔
Ayah 30:41علماء نے فساد بر اور بحر کے معنی میں اختلاف کیا ہے : قتادہ اور سدی نے کہا : فساد کا معنی شرک ہے، یہ سب سے بڑا فساد ہے
حضرت ابن عباس ؓ عکرمہ اور مجاہد نے کہا : زمین میں فساد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے کا اپنے بھائی کو قتل کرنا ہے۔ قابیل نے حضرت ہابیل کو قتل کردیا تھا بحر میں فساد سے مراد یہ ہے کہ وہ بادشاہ جو ہر کشی کو غصب کرلیتا ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فساد سے مراد قحط نباتات کی کمی اور برکت کا چلا جانا ہے اسی کی مثل حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : فرمایا : اس سے مراد بندوں کے اعمال کی وجہ سے برکت کا کم ہوجانا ہے تاکہ وہ توبہ کرلیں۔
نحاس نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ کہا گیا اس میں سے بہترین تعبیر ہی ان سے یہ بھی مروی ہے کہ بحر میں فساد سے مراد یہ ہے کہ بندوں کے گناہوں کی وجہ سے اس کے شکار کا ختم ہوجانا 2 عطیہ نے کہا : جب بارش کم ہوتی ہے تو اس کی گہرائی میں کمی آجاتی ہے (3) شکاری پریشان ہوجاتے ہیں اور سمندر کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سمندر میں سیپیاں کھل جاتی ہیں بارش کا جو قطرہ ان میں گرتا ہے تو وہ موتی بن جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فساد سے مراد بھائو کی کساد بازاری اور معاش کی قلت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فساد سے مراد نافرمانیاں ڈاکہ ڈالنا اور ظلم ہے یعنی یہ عمل زراعت اعمارات اور تجارت سے مانع ہے سب کا معنی قریب قریب ہے
بر اور بحر لغت او لوگوں کے ہاں معروف و مشہور ہیں ان سے مراد وہ نہیں جو بعض لوگوں نے کہا کہ برسے مراد لسان ہے بحر سے مراد دل ہے کیونکہ زبان پر جو چیز ہوتی ہے وہ ظاہر ہوتی ہے اور دل میں جو چیز ہوتی ہے وہ مخفی ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے برسے مراد جنگل و صحرا اور بحر سے مراد سیپیاں ہیں یہ عکرمہ کا قول ہے عرب شہروں کو بحار کہتے ہیں قتادہ نے کہا : برسے مراد ستونوں والے ہیں اور بحر سے مراد سیتیوں اور سبزہ زاروں والے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : برسے مراد وہ شہر اور بستیوں والے ہیں جو دریا کے کنارے نہ ہوں اور بحر سے مراد وہ شہر اور بستیاں ہیں جو دریا کے کنارے ہوں (4) یہ مجاہدہ کا قول ہے فرمایا : خبردار اللہ کی قسم : دو بحر تمہارا یہ نہیں بلکہ ہر بستی جو جاری پانی پر ہو تو وہ بحر ہوتا ہے (5) یہی معنی نحاس نے بھی کیا ہے کہا : اس کے معنی میں دو قول ہیں (1) خشک سالی جنگوں اور دیہاتوں میں غالب آجائے اور فی البحر سے مراد مدن البحر ہے جو شہروں یا دریائوں کے کناروں پر آبادہوں۔ جس طرح (یوسف 82) یہاں بھی القرۃ سے پہلے مضاف مخذوف ہے فساد مراد ہے بارش کم ہوگئی اور بھائو بڑھ گئے
یہاں بعض سے پہلے عقاب کا لفظ مخدوف ہے : دوسرا قول یہ ہے معاصی غالب آگئیں کہ ڈاکے پڑنے لگے اور ظلم عام ہوگیا یہ حقیقت میں فساد ہے پہلا معنی مجاز ہے مگر دوسرے جو ابکی شرط پر کلام میں حذف اور اختصار ہوگا جس حذف پر مابعد کلام دلالت کرے گا معنی ہے خشکی اور تری میں معاصی غالب آگئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں سے بارش کو روک دیا اور ان کے بھائو بڑھ گئے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے بعض اعمال کا عقاب چکھائے۔
ممکن ہے وہ توبہ کریں ؎ آیت میں کہا کیونکہ بڑی جزا آخرت میں ہوگی۔
قرأت یاء کے ساتھ ہے حضرت ابن عباس ؓ نے نون کے ساتھ قرأت کی ہے یہ عمی ابن محمین قنبل اور یعقوب کی قرأت ہے جو برائے تعظیم ہے یعنی ہم انہیں ان کے بعض اعمال کی سزا چکھائیں گے۔
Ayahs 30:42–43اے محمد ﷺ انہیں کیسے زمین میں گھومو پھرو تاکہ پہلے لوگوں کے احوال سے عبرت حاصل کرسکو اور دیکھو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
” پس کرلو اپنا رخ اس قیم کی طرف اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جسے ٹلنا نہیں اس روز یہ لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ “
زجاج نے کہا : اپنے ارادہ سیدھا رکھو اور اپنی جہت کو دین قیم کی اتباع کی طرف رکھو۔ دین قیم سے مراد اسلام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے حق واضح کرو معذرت پیش کرنے میں مبالغہ سے کام لو جو کام کر رہے ہو اس میں مشغول رہو اور ان پر غمگین نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ اسے ان سے نہیں لوٹائے گا جب اللہ تعالیٰ انسے نہیں لوٹائے گا تو کسی کے بس میں نہ ہوگا کہ اس کو واپس کرسکے سیبویہ کے علاوہ کے نزدیک لامرد بھی جائز ہے سیبویہ کے نزدیک یہ تعبیر بعید ہے مگر اس صورت میں کہ کلام میں عطف ہو مراد یوم قیامت ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اس کا معنی ہے وہ بکھر جائیں گے : شاعر نے کہا :
ہم جذیمہ کے ایک عرصہ تک ندیم رہے یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا وہ جدا نہیں ہوں گے۔
اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الروم) (الشوری) یہ جملہ بولا جاتا ہے جب وہ بکھر جائے اسی سے الصداع مشتق ہے کیونکہ یہ سر کے اجزاء کو پھاڑتا ہے
Ayah 30:44کفر سے پہلے جزاء کا لفظ مخذوف ہے وہ اپنے لئے عمل صالحہ کے بدلہ میں بستر مسکن اور قرار کو تیار کریں گے اسی سے مہد الصبی ہے مہاد سے مراد فراش ہے میں نے بستر کو بچھا دیا سے مراد ان کو درست کرنا ہے مراد عذر کو پیش کرنا ہے اور اس کو قبول کرنا ہے کا معنی قدرت حاصل کرنا ہے ابن ابی نجبیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے۔ یعنی قبر میں بستر بچھاتے ہیں۔
Ayah 30:45اپنے لئے بستر بچھاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے بدلہ عطا کرے یعنی اس کلام کا تعلق انفسم کے ساتھ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا تعلق یصدعون کے ساتھ ہے کلام یوں ہوگی۔
تاکہ کافر کو مسلمان سے الگ کردے۔
Ayah 30:46اس کی کمال قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ ہوائوں کو بھیجے بارش کی خوشخبری دینے والیاں کیونکہ ہوائیں بارش سے پہلے آتی ہیں سورة الحجر میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے رحمت سے مراد بارش اور سر سبز وشادابی ہے تاکہ ہوائوں کے چلنے کے ساتھ سمندر میں کشیاں چلیں کو زیادہ کیا ہوائیں کبھی چلتی ہیں مگر موافق نہیں ہوتی اس لئے ضروری ہے کہ کشتیوں کو ساحل پر باندھا جائے اور ان کے روکنے کا حلیہ کیا جائے بعض اوقات ہوائیں چلتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتیوں کو غرق کردیتی ہیں یہاں فضل سے مراد تجارت سے رزق ہے۔ توحید اور اطاعت کے ساتھ ان نعمتوں پر شکر بجا لائو یہ سب کچھ مفصل گزر چکا ہے۔
Ayah 30:47بینات سے مراد معجزات اور روشن دلائل ہیں انہوں نے کفر کیا تو ہم نے کفر کرنے والے سے انتقام لیا۔ کان کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور نصر کان کا اسم ہے ابوبکر حقا پر وقف کرتے تقدیر کلام یہ ہے پھر فرمایا : یہ مبتدا اور خبر ہے یعنی اس نے خبر دی کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتی اور ہماری خبر بھی خلاف واقع نہیں ہو سکتی حضرت ابو درداء ؓ سے حدیث مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔
جو مسلمان بھی اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لے لیا ہے کہ قیامت کے روز اس سے جہنم کی آگ کو دور کر دے گا پھر اس آیت کی تلاوت نحاس، ثعلبی زمحشری وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔