29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 29:61–62

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا ؟ تو کہہ دیں گے خدا نے، تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

جب مشرکوں نے مسلمانوں کو فقر کی عار دلائی اور کہا : اگر تم حق پر ہوتے تو تم فقراء نہ ہوتے یہ ملمع سازی تھی، کفار میں بھی فقراء تھے اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو زائل فرمایا : اس طرح اس کا قول جس نے یہ کہا : اگر ہم ہجرت کریں تو ہم ایسی کوئی چیز نہ پائیں جس کو ہم خرچ کریں، یعنی جب تم نے اس چیز کا اعتراف کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان اشیاء کا خالق ہے تو تم رزق میں کیسے شک کرتے ہو جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کی تخلیق ہے تو وہ بندے کو رزق دینے سے عاجز نہیں۔ اسی وجہ سے اپنے اس ارشاد کے ساتھ اس کو ملایا ہے : تم کیسے میری توحید کا انکار کرو گے اور میری عبادت سے پھرو گے ؟ یعنی ایمان اور کفر کے ساتھ رزق کا امر مختلف نہیں ہوت رزق میں وسعت اور اس میں کمی اس کی جانب سے ہے اس لئے فقر کی وجہ سے عار نہیں دلائی جاسکتی۔ ہر شے قضاو قدر کے ساتھ ہے وہ تمہارے احوال اور امور سے آگاہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مال میں کمی یا وسعت جو مناسب ہے اس کے بارے میں وہ جانتا ہے۔
Ayahs 29:63–66

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا ؟ تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ سے شرک کرنے لگ جاتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

یعنی بادل سے بارش، اس کو خش سالی اور اس کے اہل کے قحط میں مبتلا ہونے کے بعد۔ یعنی جب تم نے اس کا اقرار کرلیا تو تم اس کے ساتھ کیوں شرک کرتے ہو اور دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہو جب وہ اس پر قادر ہے تو مومنوں کو غنی کرنے پر بھی قادر ہے تو تاکید کے لئے اسے مکرر ذکر کیا۔ یعنی اس کی قدرت پر جو دلائل اور براہین واضح کئے گئے اس پر الحمداللہ لیکن اکثر ان دلائل میں تدبر نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اقرار کیا اس پر الحمداللہ : ایک قول یہ کیا گیا ہے : پانی کے نازل کرنے اور زمین کو زندہ کرنے پر الحمداللہ۔ یعنی دنیاوی زندگی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ لہو و لعب کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اغنیاء کو جو دنیا عطا فرماتا ہے وہ ایسی چیز ہے جو زائل ہوجاتی ہے جس طرح کھیل کود اس کی کوئی حقیقت نہیں اس میں کوئی ثبات نہیں۔ بعض نے کہا : دنیا اگر تیرے لئے باقی رہی تو تو اس کے لئے باقی نہیں رہے گا : یہ اشعار پڑھے۔ دنیا شام کو ہمارے لئے ایسی چیز لاتی ہے جو اس کے برعکس ہے : جس کو صبح لائی تھی اور اس کے بع نئے امور جنم لیتے ہیں۔ راتیں اجتماع اور فرقت کے ساتھ رواں رہتی ہیں اور اس میں ستارے طلوع ہوتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں جس نے یہ گمان کیا کہ زمانے کی خوشی باقی رہنے والی ہے یہ محال ہے اس کی خوشی ہمیشہ نہیں رہتی اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے جس سے غم ایک ہی بنا لیا ہے او اس نے یقین کرلیا کہ حادثات گردش کرتے رہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ سب کچھ امور دنیا کے متعلق ہے وہ مال ہوجا، جاہ و حشمت ہو، ضرورت سے زائد لباس ہو، ضرورت جس پر زندگی کا انحصار ہے اور طاعات پر قوت ہے ان میں سے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں توہ آخرت کی چیزوں میں سے ہیں وہ باقی رہیں گی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الرحمن) یعنی جس کے ساتھ اس کے لئے ثواب اور رضا کو چاہا جاتا ہے یعنی باقی رہنے والی زندگی کا گھر جو نہ زائل ہو نہ اس میں موت آئے۔ ابو عبیدہ نے گمان کیا ہے : حیوان، حیاۃ اور حیی جب حاء کے کسرہ کے ساتھ ہو تو سب ایک معنی میں ہیں (1) ۔ جس طرح فرمایا : توجانتا ہے کہ حیاۃ حی (زندگی) ہے۔ دوسرے علماء کہتے ہیں، حی یہ جمع کا صیغہ ہے فعول کے وزن پر ہے جس طرح عصی۔ حیوان کا لفظ ہر زندہ چیز پر واقع ہوتا ہے۔ حیوان جنت میں ایک چشمہ بھی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حیوان کی اصل خییان ہے ایک یاء کو وائو سے بدل دیا گیا کیونکہ دو حروف ایک جنس کے اکٹھے آئے ہیں۔ کاش وہ جانتے کہ یہ اس طرح ہے۔ ترجمہ : ” پھر جب سوار ہوتے ہیں کشتی میں تو دعا مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سے خاص کرتے ہوئے اس کے لئے اپنے ذہن کو پھر جب وہ سلامتی سے پہنچاتا ہے انہیں خشکی پر تو اسی وقت وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔ وہ ناشکری کرلیں جو نعمت ہم نے انہیں دی اور لطف اٹھا لیں (اس سے) وہ عنقریب جان لیں گے (حقیقت کو) “۔ فلک سے مراد کشتیاں ہیں جب وہ کشتیوں میں سوار ہوئے اور انہیں غرق ہونے کا خوف ہوا۔ اپنی نیتوں میں صادق بنتے ہوئے انہوں نے دعا کی بتوں کی عبادت اور ان کے پکارنے کو جب چھوڑا جب اللہ تعالیٰ انہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ اوروں کو پکارتے ہیں جبکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں فرمائی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان کا شرک یہ ہے کہ ان میں سے ایک قائل یہ کہتا ہے : اگر اللہ رئیس یا ملاح نہ ہوتا تو ہم غرق ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو نجات عطا فرمائی ہے اس کے فعل کو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں دونوں لام لام کی ہیں مراد ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکہ ان کے شرک کا ثمرہ یہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کریں اور دنیا سے لطف اندوز ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دونوں لام امر ہیں جس کا معنی تہدید اور وعید ہے یعنی ہم نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں اور تمہیں جو سمندر سے نجات عطا فرمائی ہے اس کا انکار کرو۔ اس کی دلیل حضرت ابی کی قرأت و تستعوا ہے۔ ابن انباری نے کہا : اعمش، نافع اور حمزہ کی قرأت اس کو قوت بہم پہنچاتی ہے۔ وہ لام کے جزم کے ساتھ ہے۔ نحاس نے کہا : لام کی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ لام امر ہو کیونکہ لام امر میں اصل کسرہ ہے مگر یہ ایسا امر ہے جس میں تہدید کا معنی پایا جاتا ہے۔ جس نے الام کے سکون کے ساتھ پڑھاے اس نے لام کی ساکن پڑھنا جائز نہیں۔ یہ ابن کثیر، مسیمیی، قانون کی ناع سے حمزہ کسائی اور حفص کی عاصم سے روایت ہے باقی قراء نے لام کے کسرہ کے ساتھ قرأت کی ہے۔ ابو العالیہ نے تعلمون قرأت کی اس میں تہدید اور وعید ہے۔
Ayahs 29:67–69

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور خدا تو نیکوکاروں کے ساتھ ہے

عبدالرحمن بن زید نے کہا : حرم سے مراد مکہ مکرمہ ہے وہ قریش ہیں مکر مکرمہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں امن دیا (1) ۔ ضحاک نے کہا : وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیتے ہیں۔ (2) ، خطف کا معنی تیزی سے اچک لینا ہے۔ سورة قصص اور دوسری صورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ نعمت یاد دلائی تاکہ وہ اس کی اطاعت بجا لائیں یعنی میں نے ان کے لئے امن والا حرم بنایا جس میں وہ قید، غارت گری اور قتل سے امن میں ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں خشکی سے نجات عطا فرمائی ہے۔ جس طرح سمندر میں انہیں نجات عطا فرمائی۔ وہ خشکی میں شرک کرتے ہیں اور سمندر میں شرک نہیں کرتے : یہ ان کے احوال کے تناقص پر تعجب کا اظہار ہے۔ قتادہ نے کہا : باطل سے مراد شرک ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : باطل سے مراد ابلیس ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : نعمت سے مراد عافیت ہے۔ ابن شجرہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کا احسان اور عطا مراد ہے۔ (4) ابن سلام نے کہا : اس سے مراد وہ ہدایت ہے جو نبی کریم ﷺ لائے۔ نقاش نے کہا : مراد بھوک میں انہیں کھانا کھلانے اور خوف سے امن دینے کا وہ انکار کرتے ہیں۔ (5) یہ تعجب و انکار ہے جو استفہام کے طریقہ پر کلام آئی ہے۔ جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا اور اس کا بچہ تسلیم کیا اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ جب بھی کوئی برا فعل کیا تو کہا : (الاعراف 28) ۔ ہم نے اپنے آباء کو ایسا کرتے ہوئے پایا اور اللہ تعالیٰ نے یہیں اس کا حکم دیا۔ بن سلام نے کہا : بالحق سے مراد قرآن ہے (5) سدی نے کہا : مراد توحید ہے (7) ابن شجرہ نے کہا : مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہغ۔ یہ قول دونوں قولوں کو جامع ہے۔ اس سے مراد مستقر ہے یہ استفہام تقریر ہے۔ ” اور جو (بلند ہمت) مصروف جہاد رہتے ہیں ہمیں راضی کرنے کے لئے ہم ضرور سکھا دیں گے انہیں اپنے راستے، اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ (ہر وقت) محسنین کے ساتھ ہے۔ “ یعنی جنہوں نے کفار سے ہماری رضا کی خاطر جہاد کیا سدی وغیرہ نے کہا : یہ آیت جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے نازل ہوئیں۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ جہاد عرفی سے پہلے نازل ہوئی (1) یہ اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی خاطر عام جہاد ہے۔ حضرت حسن بن ابی الحسن نے کہا : یہ آیت عبادت گزاروں کے حق میں نازل ہوئی (2) حضرت ابن عباس اور ابراہیم بن ادھم نے کہا : یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی جو جسے جانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : (3) جو اس پر عمل کرے وہ جانتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی تعلیم دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا۔ بعض علماء نے اسے اس ارشاد کی طرف منسوب کیا ہے : (البقرہ 282) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا : جس چیز کے علم سے ہم جاہل ہیں اس کے علم سے ہمیں اس چیز نے روک دیا جو ہم اس چیز پر عمل کرنے سے کوتاہی کرتے ہیں جس کا ہم علم رکھتے ہیں اگر ہم جو کچھ جانتے ہیں اس کے بعض پر بھی عمل کرتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس چیز کا علم عطا فرما دیتا کہ ہمارے بدن اس کو اٹھا نہ سکتے۔ (4) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (البقرہ 282) ابو سلیمان دارمی نے کہا : آیت میں جہاد کا مصداق صرف کفار سے جہاد نہیں بلکہ اس سے مراد دین کی مدد ہے اور باطل پرستوں کا رد ہے، ظالموں کا قلع قمع کرنا ہے، معروف کی نصیحت کرنا ہے اور منکر سے منع کرنا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں نفوس کا مجاہدہ ہے اور یہی جہاد اکبر ہے۔ سفیان بن عیینہ نے حضرت ابن مبارک سے کہا : جب تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اختلاف میں پڑگئے ہیں تو مجاہدین اور سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے ساتھ ہو جائو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ” ضحاک نے کہا : آیت کا معنی ہے جنہوں نے ہجرت میں جہاد کیا ہم انہیں ایمان پر ثابت قدم رہنے کے راستوں کی طرف ہدایت عطا فرمائیں گے۔ (5) پھر فرمایا : دنیا میں سنت ایسے ہی ہے جس طرح آخرت میں جنت، جو آخرت میں جنت میں داخل ہوگیا وہ سلامتی پا گیا اس طرح وہ آدمی جو دنیا میں سنت کو لازم پکڑتا ہے اور وہ سلامت رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا : جو لوگ ہماری اطاعت میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں اپنے ثواب کے راستوں کی طرف ہدایت فرمائیں گے یہ قول اطاعت کے عموم کی وجہ سے تمام اقوام کو شامل ہے، اسی کی مثل حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کا قول ہے : فرمایا : حکمت کہتی ہے جو مجھے تلاش کرلے اور مجھے نہ پائے تو وہ مجھے دو مواقع پر تلاش کرے (1) جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے اچھی پر عمل کرے (2) جو چیز جانتا ہے اس میں سے بری سے اجتناب کرے۔ حضرت حسن بن فضل نے کہا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے مراد ہے جن کو ہم نے ہدایت عطاء فرمائی وہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری رضا کی خاطر جہاد کیا۔ مراد جنت کا راستہ ہے، یہ سدی کا قول ہے، نقاش نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں دین حق کی توفیق نصیب فرماتا ہے۔ یوسف بن اسباط نے کہا : معنی ہے ہم ان کی نتیوں، صدقات، نمازوں اور روزوں کو خالص کردیں گے (1) ۔ لام تاکید کا ہے مع پر ودو وجوہ میں سے ایک وجہ سے داخل ہوا (1) مع اسم ہو اور لام تاکید اسماء پر داخل ہوتا ہے (2) یہ حرف ہے اور اس پر لام داخل ہوا ہے کیونکہ اس میں استقرار کا معنی پایا جاتا ہے۔ جس طرح تو کہتا ہے : مع کو جب تو ساکن پڑھے تو یہ حرف نہیں ہوگا کوئی اور چیز نہ ہوگی۔ جب تو اس کو فتحہ دے تو یہ جائز ہے کہ اسم اور حرف ہو۔ اکثر علماء کی رائے میں یہ حرف ہے : جو معنی کے لئے آیا ہے احسان اور محسنین کی وضاحت سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی معیت، نصرت، معونت، حفظ اور ہدایت کے ساتھ حاصل ہوتی ہے اور سب مخلوق کو معیت احاطہ اور قدرت کے ساتھ حاصل ہوتی ہے دونوں معیتوں میں بڑا فرق ہے۔