29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 29:28–35

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا اے میرے پروردگار (ان) مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انکو اور انکے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے (فرشتوں نے کہا) کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی

کسائی نے کہا : معنی ہے ہم نے حضرت لوط علیہ لسلام کو نجات دی یا ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ کہا : یہ توجیہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو لوط کو یاد کرو کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے کہا : ان میں قرأت اور اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة الاعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ڈاکو تھے، یہ ابن زید نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کو اٹھا لیتے تھے، ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : عورتوں سے مردوں کی طرف عدول کرنے سے نسل کو قطع کرنا ہے۔ ، یہ وہب بن منبہ کا قول ہے وہ مردوں کی وجہ سے عورتوں سے مستغنی ہوگئے۔ میں کہتا ہوں : شاید یہ سب بیماریاں ان میں موجود تھیں وہ ڈاکہ مارا کرتے تھے تاکہ اموال کو حاصل کریں اور بدفعلی کریں اور جس وجہ سے وہ عورتوں سے مستغنی ہوجائے۔ النادی سے مراد مجلس ہے وہ منکر جو کیا کرتے تھے اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک جماعت کا کہنا ہے : وہ عورتوں کو کنکریاں مارا کرتے تھے وہ اجنبی اور باہر سے آنے والے کو حقیر سمجھتے۔ حضرت ام ہانی نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے، حضرت ام ہانی نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : کے بارے میں پوچھا : فرمایا ” جوان کے پاس سے گزرتا وہ اس کو کنکریاں مارا کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑایا کرتے، یہی وہ منکر عمل تھا جو وہ کیا کرتے تھے (1) “ اسے ابو دائود طیالسی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، نحاس، ثعلبی، مہدوی اور ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے، ثعلبی نے ذکر کیا ہے : حضرت معاویہ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اپنی مجالس میں بیٹھا کرتی اور ہر آدمی کے پاس ایک پیالہ ہوتا جس میں مارنے کے لئے کنکریاں ہوتیں جب کوئی ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس پر کنکر کی پھینکتے جس کی کنکری اس کو لگتی تو وہ اس کا زیادہ مستحق ہوتا۔ “ یعنی وہ اس کو بدکاری کے لئے لے جاتے۔ تو یہی اللہ تعالیٰ کے فرمان سے مراد ہے، حضرت عائشہ صدیقہ حضرت ابن عباس قاسم بن ابی بزہ اور قاسم بن محمد نے کہا : وہ اپنی مجالس میں گوز کرتے تھے (1) ۔ منصور نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے وہ اپنی مجالس میں مردوں سے خواہش پوری کیا کرتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوتے تھے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے ان کا یہ معمول تھا وہ کبوتروں سے کھیلتے، انگلیوں کو مہندی سے رنگتے، سیٹیاں بجاتے اور تمام امور میں حیاء کو پس پشت ڈالتے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ امور حضرت محمد ﷺ کی امت کے بعض نافرمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان چیزوں سے رکنا واجب ہے، مکحول نے کہا : اس امت میں قوم لوط کے اخلاق میں سے دس باتیں پائی جاتی ہیں، مصطگی کو چبانا، انگلیوں کو مہندی سے رنگنا، تہبند کھول دینا، انگلیوں کے چٹخارے نکالنا، وہ پگڑی جو سر کے ارد گر لپیٹی جاتی ہے انگلیوں کا جال بنانا، بندوق جس کے ساتھ کسی چیز کو پھینکا جاتا ہے، سیٹی بجانا، کنکری مارنا، لواطت کا عمل کرنا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم میں فاشحہ کے علاوہ بھی گناہ تھے (2) ان میں سے ایک یہ تھا کہ باہم ظلم کرتے، ایک دوسرے کو گالیاں دیتے، مجالس میں گوز مارتے، کنکریاں مارتے، نرد اور شطرنج کھیلتے، رنگے ہوئے کپڑے پہنتے، وہ مرغوں کو لڑاتے، اپنی انگلیوں کو مہندی لگاتے، مرد عورتوں کا لباس پہنتے اور عورتیں مردوں کا لباس پہنتیں، وہ ہر گزرنے والے پر ٹیکس لگاتے، ان سب برائیوں کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے یہ پہلے لوگ تھے جن سے مردوں سے بدفعلی اور عورتوں کے ساتھ ہم جنسی کا فعل صادر ہوا۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں ان قبائح سے روکا تو وہ آپ کو جھٹلانے اور جھگڑنے کی طرف لوٹ آئے۔ انہوں نے کہا یہ نہیں ہوگا نہ وہ اس پر قادر ہے۔ انہوں نے یہ بات نہیں کی کہ مگر وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے جھوٹا ہونے کے اعتقاد پر سخت تھے۔ فطرت میں یہ صحیح نہیں ہے کہ معاندیہ کہے پھر حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے رب سے مدد طلب کریں اور اللہ تعالیٰ ان پر عذاب کے فرشتے بھیج دے۔ پہلے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے رہے تھے کہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی ان کی قوم کے خلاف مدد کرنے کے لئے آئے ہیں جس کی وضاحت سورة ھود وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ اعمش، یعقوب، حمزہ اور کسائی نے لننجینہ واھلہ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے اسے شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر، ابو بکر، حمزہ اور کسائی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے (3) باقی قراء نے اسے شد کے ساتھ پڑھا ہے انجی اور نخجی دونوں ایک لغت ہیں۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن عامر نے اسے انا منزلون تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کی قرأت ہے۔ باقی قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس آیت سے مراد وہ پتھر ہے جو باقی رکھا گیا (4) ، یہ ابو العالیہ کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس امت کی ایک جماعت کو اس کے ساتھ رجم کیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ ان کے کھنڈر گھروں کے آثار ہیں، مجاہد نے کہا : اس سے مراد روئے زمین پر سیاہ پانی ہے یہ سب باقی ہے اس میں کوئی تعارض نہیں۔
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے انکو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

یعنی ہم نے مدین کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ سورة اعراف اور ھود میں ان کا ذکر اور ان کے فساد کا ذکر گزر چکا ہے۔ یونس نحوی نے کہا : اس آخرت سے ڈرو جس میں اعمال پر جزا ہے۔ یعنی کفر نہ کرو کیونکہ کفر ہر فساد کی جڑ ہے۔ عشر اور عشی۔ شدید ترین فساد ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی یوم آخرت کی تصدیق کرو کیونکہ لوگ اس کا انکار کرتے تھے۔
Ayahs 29:38–39

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چناچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کردیا) اور انکے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ (ہمارے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

کسائی نے کہا : بعض نے کہا : یہ سورت کے آغاز کی طرف راجع ہے۔ یعنی ہم نے ان کو آزمایا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور ہم نے عاد اور ثمود کو آزمایا۔ انہوں نے کہا : مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اس کا عطف پر ہو یعنی رجفہ نے عاد اور ثمود کو پکڑ لیا۔ زجاج نے یہ گمان کیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے دعا کرو یاد کرو جب ہم نے ان کی طرف حضرت ھود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور قوم ثمود کی طرف ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ہم نے صحیحہ کے ساتھ انہیں ہلاک کردیا، جس طرح ہم نے عاد کو بانجھ ہوا کے ساتھ ہلاک کیا۔ اے کفار کی جماعت : حجر اور احقاف میں ان کی ہلاکت کے آثار ہیں : تبین کا فاعل حذف ہے۔ شیطان نے ان کے خسیس اعمال کو مزین کیا تو انہوں نے ان اعمال کو بلند گمان کیا۔ یعنی حق کے راستہ سے انہیں روک لیا۔ اس میں دو قول ہیں (1) وہ گمراہی میں بڑی بصیرت رکھنے والے تھے، یہ مجاہد کا قول ہے (2) وہ بصیرت والے تھے انہوں نے براہین کے ظاہر ہونے کی وجہ سے حق کو باطل سے پہچان لیا۔ یہ قول زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ کہا جاتا ہے : فلان مستبصر جب وہ کسی شے کو حقیقت کے طور پر پہچان لے۔ فراء نے کہا : وہ دانش مند اور صاحب بصیرت تھے ان کی بصیرتوں نے ان کو نفع نہ دیا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے کیا جو کیا جب کہ ان کے لئے یہ واضح ہوچکا تھا کہ ان کا انجام عذاب ہے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

کسائی نے کہا : اگر تو چاہے تو یہ عاد پر محمول ہو۔ اس میں ہوا جو ہوا۔ اگر تو چاہے تو پر محمول کرے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے ان کو ہلاک کیا بعد اس کے ان کے پاس رسل آئے۔ انہوں نے زمین میں حق اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تکبر کیا۔ وہ ہماری گرفت سے بچ جانے والے نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ کفر کی طرف سبقت لے جانے والے نہ تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ کفر کی طرف سبقت لے جانے والے نہ تھے بلکہ ان سے پہلے بیشمار لوگ کفر کی طرف سبقت لے جانے والے تھے تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ کسائی نے کہا : فکلا، اخذنا کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ہم نے ہر کسی کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا۔ مراد قوم لوط ہے۔ حاصب سے مراد ایسی ہوا ہے جو سنگریزے لاتی ہے حصباء سے مراد چھوٹے سنگریزے ہیں۔ یہ لفظ ہر عذاب میں استعمال ہوتا ہے۔ مراد قوم ثمود اور مدین ہے۔ من سے مراد قارون ہے۔ من سے مراد قوم نوح اور قوم فرعون ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ ظلم کرے، کیونکہ اسی نے ان کو ڈرایا، انہیں مہلت دی، ان کی طرف رسولوں کو معبوث کیا اور ان کے عذر کو ختم کردیا۔
Ayahs 29:41–43

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم یہ مثالیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اسے تو اہل دانش ہی سمجھتے ہیں

اخفش نے کہا : کمثل العنکبوت پر وقف تام ہے۔ پھر اس کے قصہ کو بیان کیا اور کہا : ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے : کیونکہ یہ عنکبوت کا صلہ ہے : گویا فرمایا : موصول کے بغیر صلہ پر وقف اچھا نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : (الجمعہ 5) یحمل، حمار کا صلہ ہے یحمل کی بجائے حمار پر وقف کرنا اچھا نہیں۔ فراء نے کہا : یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو معبود بناتا ہے جو نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان دیتے ہیں جس طرح مکڑی کا گھر نہ اسے گرمی سے بچاتا ہے اور نہ ٹھنڈ سے بچاتا ہے۔ عنکبوت پر وقف اچھا نہیں کیونکہ اس گھر جو اسے کسی چیز سے نہیں بچاتا اس کی تشبیہ کا قصد کیا تو معبود ان باطلہ جو نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان، ان کو اس کے گھر کے ساتھ تشبیہ دی۔ گھروں میں سے سب سے کمزور مکڑی کا گھر ہے۔ بیت العنکبوت کے متعلق ہے یعنی اگر وہ جانتے ہو کہ بتوں کی عبادت مکڑی کے گھر بنانے کی طرح ہے جو انہیں کچھ نفع نہیں دیتی تو وہ اس کی عبادت نہ کرتے یہ ان کی مثال ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کاش وہ جانتے کہ مکڑی کا گھر تو کمزور ہے۔ نحویوں نے کہا : عنکبوت کے آخر میں تاء زائدہ ہے کیونکہ یہ تصغیر ہے اور جمع بناتے وقت گر جاتی ہے، یہ لغت ہے فراء نے حکایت بیان کی کہ یہ مذکر ہے اور یہ کہا : ان کے پہاڑ پر گھر ہیں۔ گویا عنکبوت نے انہیں بنایا۔ محل استدلال قد ابتنا ھا۔ اسے روایت کیا گیا ہے : جوہری نے کہا : فطال پہاڑ کا نام ہے عنکبوت معروف کیڑا ہے جو ہوا میں باریک اور ہلکا سا جالا بناتا ہے۔ اس کی جمع عناکیب، عنکاب، اور اعکب آتی ہے اس عنکتب اور عنکبناۃ بھی حکایت کیا جاتا ہے، شاعر نے کہا : محل استدلال عکنابۃ ہے۔ اس کی تصغیر بنائی جاتی ہے تو عنکیب کہا جاتا ہے یزید بن میسرہ سے مروی ہے کہ عنکبوت شیطان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسخ کیا (2) ۔ عطا خراسانی نے کہا : عنکبوت نے دو دفعہ جالا بنایا ایک دفعہ حضرت دائود (علیہ السلام) پر جب جالوت آپ کی تلاش میں تھا اور ایک دفعہ نبی کریم ﷺ پر اس وجہ سے اس کے قتل سے منع کیا گیا ہے (3) حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے فرمایا : اپنے گھروں کو مکڑی کے جالوں سے پاک کرو کیونکہ گھروں میں اس کا چھوڑنا فقر کو لازم کرتا ہے اور خمیر نہ دینا یہ بھی فقر لاتا ہے۔ (4) مایہ الذی کے معنی میں ہے من یہ بعضیہ ہے۔ اگر تاکید کے لئے زائدہ ہوتا تو معنی بدل جاتا۔ معنی ہے جس کی وہ عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ضعف کو جانتا ہے۔ عاصم، ابو عمرو اور یعقوب نے پڑھا یدعون یاء کے ساتھ (5) یہ ابو عبیدہ کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ پہلے امتوں کا ذکر ہے باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے یہ خطاب کا صیغہ ہے۔ یہ مثال اور اس کے علاوہ سورة البقرہ، سورة حج اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ ہم انہیں بیان کرتے ہیں۔ اسے اللہ تعالیٰ سے آگاہی رکھنے والے ہی سمجھتے ہیں جس طرح حضرت جابر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے، عالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا عرفان رکھتا ہو، اس کے احکام کی اطاعت کرتا ہو اور اس کی ناراضگی سے بچتا ہو (6) ۔
Ayahs 29:44–45

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے جانتا ہے

حق سے مراد عدل و انصاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنی کلام اور قدرت کے ساتھ یہی حق ہے۔ آیۃ سے مراد علامت اور دلالت ہے۔ مومنین سے مراد تصدیق کرنے والے ہیں۔ ترجمہ : ” آپ تلاوت کیجئے اس کتاب کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور نماز صحیح صحیح ادا کیجئے۔ بیشک نماز منع کرتی ہے بےحیائی اور گناہ سے اور واقعی اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ “ اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر ا : اُتل تلاوت اور اس کو معمول بنانے کا حکم ہے سورة طہٰ میں اس آدمی کے لئے وعید گزر چکی ہے۔ جو اس سے اعراض کرتا ہے کتاب کے مقدمہ میں اس پر برانگختیہ کیا گیا ہے کتاب سے مراد قرآن حکیم ہے۔ مسئلہ نمبر 2:۔ خطاب نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو ہے۔ اقامۃ الصلاۃ سے مراد نماز کو اس کے اوقات میں اس کی قرأت، رکوع، سجود، قعود، تشہد اور تمام شروط کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے، اس لئے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سے مراد پانچ نمازیں ہیں جو درمیان کے گناہوں کو مٹا دیتی ہیں جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : (1) بتائو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ ہر روز پانچ دفعہ غسل کرے کیا میل باقی رہ جائے گی۔ صحابہ نے عرض کی : میل میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، فرمایا : اس کی مثل پانچ نمازیں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خطائوں کو مٹا دیتا ہے۔ امام ترمذی نے اسے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔ اس کے بارے میں فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : یہاں الصلاۃ سے مراد قرآن ہے۔ معنی ہے جو قرآن نماز میں تلاوت کیا جاتا ہے وہ فحشاء منکر زنا اور معاصی سے روکتا ہے۔ میں کہتا ہوں : اسی معنی میں صحیح حدیث ہے۔ ” نماز میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کردی ہے “ (3) مراد سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ حماد بن ابی سلیمان، ابن جریج اور کلبی نے کہا : بندہ جب تک نماز میں ہوتا ہے وہ فحشاء اور منکر پر عمل نہیں کرتا، یعنی جب تک تو نماز میں ہے اس وقت تک نماز تجھے روکتی ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ تو ابہام میں رکھنے والی بات ہے (4) یہ تعبیر اس روایت میں کیسے درست ہوگی جسے حضرت انس بن مالک ؓ نے روایت کیا ہے انصار میں سے ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتا وہ فواحش اور چوری میں سے جس کا موقع پاتا اسے نہ چھوڑتا اسے کر گزرتا (1) ۔ نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : ان الصلاۃ ستنھاہ نماز عنقریب اسے روک دے گی۔ تھوڑا عرصہ بھی نہ گزرا تھا کہ اس نے توبہ کرلی اور اس کا حال اچھا ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تم کو کہا نہیں تھا “ (2) مسئلہ نمبر 3:۔ آیت کی ایک تیسری تاویل بھی ہے جسے محقیقن نے پسند کیا ہے اور مشائخ صوفیہ نے بھی یہی کہا ہے اور مفسرین نے اس کا ذکر کیا ہے اس سے مراد نماز پر دوام اختیار کرنا اور اس کی حدود کو قائم کرنا ہے پھر اس کے حکم سے باخبر کیا کہ نماز پڑھنے والے اور اس کی بجا آوری کرنے والے کو فحشاء اور منکر سے روکتی ہے اس کی وجہ یہ یکہ اس میں قرآن حکمی کی تلاوت پائی جاتی ہے جو نصیحت پر مشتمل ہوتی ہے اور نماز نمازی کے تمام بدن کو مشغول رکھتی ہے جب نمازی نماز کی جگہ داخل ہوتا ہے خشوع کرتا ہے اپنے رب کے حضور عاجزی کا اظہار کرتا ہے اور اس امر کو یاد کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اس پر مطلع ہے اور اسے دیکھ رہی ہے اس کا نفس اس کے لئے خاص ہوجاتا ہے اور مطیع ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ کا قرب اس کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس کے اعضاء پر اس کی ہیبت ظاہر ہوجاتی ہے اس میں کوئی کمی نہیں آتی یہاں تک دوسری نماز کا وقت ہوجاتا ہے جس کے ساتھ وہ بہترین حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے ان روایات کا یہی معنی و مفہوم ہے کیونکہ مومن کی نماز ایسے ہی ہونی چاہیے۔ میں کہتا ہوں : خصوصاًً اگر وہ اپنے نفس کو احساس دلائے کہ اس کا یہ عمل اس کا آخری عمل بھی ہو سکتا ہے۔ یہ مقصود میں زیادہ بلیغ اور مراد میں کامل ہو سکتا ہے۔ موت کا کوئی معین وقت نہیں کوئی مخصوص زمانہ نہیں کوئی معلوم مرض نہیں یہ ایسی بات ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ بعض سلف صالحین سے مروی ہے کہ جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ان کا رنگ زرد پڑجاتا اور اس بارے میں ان سے بات کی گئی فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں جب میں دنیا کے بادشاہوں کے سامنے کھڑا ہوں تو میرا یہ حال ہوتا ہے تو بادشاہوں کے بادشاہ کے ساتھ میرا حال کیا ہونا چاہیے۔ یہ نماز روکتی ہے خصوصاً فحشاء اور منکر سے روکتی ہے جس کی نماز جو اس کے ارد گرد گھومتی ہے جس میں کوئی خشوع نہیں ہوتا، نہ نصیحت ہوتی ہے اور نہ ہی فضائل اس میں ہوتے ہیں جس طرح ہماری نماز ہوتی ہے کاش یہ جائز بھ یہو جائے تو وہ ایسی نماز ہے جو نمازی کو اس کے مقام پر ہی چھوڑے رکھتی ہے جہاں کہیں بھی وہ ہو اگر وہ نافرمانی کے راستے پر گامزن ہو، جو معصیت اس کو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہے تو نماز اس کو اس حال میں چھوڑے رکھتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دوری میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے اس معنی میں وہ حدیث بھی ہے حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور اعمش سے مروی ہے جس کی نماز اسے فحشاء اور منکر سے نہ روکے وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی دوری میں ہی اضافہ کرتی ہے۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت حسن بصری نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت کیا ہے اس کی سند صحیح نہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا جب ہم نے تحقیق کی اور اس کے معنی میں غورو فکر کیا تو یہ کہنا جائز ثابت نہ ہوا کہ کوئی یہ کہے کہ نفس نماز اسے اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہے گویا یہ معصیت ہے (1) جو معنی اخذ کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرنے میں موثر نہیں بلکہ یہ نماز اس کو اس حال اور معاصی پر چھوڑے رکھتی ہے وہ منکر ہو، فحشاء اور بعد ہو نماز اس میں اضافہ نہیں کرتی مگر اس بعد پر اسے قائم رکھتی ہے جو اس کا راستہ تھا، گویا ایسی نماز نے اسے اللہ تعالیٰ سے دور کیا جب اللہ تعالیٰ کے بعد سے اسے نہ روکا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے عرض کی گئی : فلاں آدمی کثرت سے نماز پڑھا کرتا تھا آپ نے فرمایا : یہ نماز نفع نہیں دیتی مگر اسے جو اس کی اطاعت کرے۔ (2) میں کہتا ہوں : خلاصہ کلام یہ ہے کہ حدیث کا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں اضافہ کا باعث ہوئی ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ فحشاء اور منکر کے مرتکب کی نماز کی کوئی قدر و منزلت نہیں کیونکہ معاصی اس بندے پر غالب ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ امر کے معنی میں خبر ہے یعنی نمازی کو فحشاء اور منکر سے رک جانا چاہیے نماز بذات خود اس سے نہیں روکتی بلکہ یہ رکنے کا سبب ہے۔ یہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (جاثیہ 20) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الروم) مسئلہ نمبر 4:۔ اللہ تعالیٰ تمہیں جو ثواب عطا فرماتا ہے اور جو تمہاری ثنا فرماتا ہے وہ تمہارے ذکر، جو تم عبادت میں اور اپنی نماز میں اس کا کرتے ہوخ اس سے بڑھ کر ہے، یہ بھی حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت ابو دردا، حضرت ابو قرہ، حضرت سلمان ؓ اور حضرت حسن بصری نے کہا ہے : یہی طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ موسیٰ بن عقبہ کی حدیثہ میں نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فرمان سے مراد اللہ تعالیٰ جو تمہارا ذکر کرتا ہے وہ اس ذکر سے بڑھ کر ہے جو تم اس کا ذکر کرتے ہو۔ “ (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تم اپنی نماز میں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو اور قرآن حکیم کی قرأت میں جو اس کا ذکر کرتے ہو وہ ہر شے سے افضل ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اللہ تعالیٰ کا ذکر جو دوام کی صورت میں کیا جائے یہ فحشاء اور منکر سے روکنے میں نماز سے بڑھ کر ہے ضحاک نے کہا : وہ چیز جو حرام ہو اس پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کو چھوڑ دینا یہ سب سے عظیم ذکر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے فحشاء اور منکر سے روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے بڑھ کر ہے۔ یہاں اکبر کبیر کے معنی میں ہے۔ ابن زید اور قیادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر شے سے بڑھ کر ہے یعنی ان تمام عبادات سے افضل ہے جس میں ذکر نہ ہو (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کا ذکر معصیت سے روکتا ہے کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا ہو وہ اس کی موافقت نہیں کرتا۔ ابن عطیہ نے کہا : میرے نزدیک اس کی تعبیر یہ ہے کہ اکبر کا معنی مطلق ہے یہی انسان کو فحشاء اور منکر سے روکتا ہے اور ذکر کا وہ جز جو نماز میں ہے وہ یہ عمل کرتا ہے اس طرح جو نماز کے علاوہ ہے وہ بھی یہی عمل کرتا ہے کیونکہ رکنا اس سے نہیں ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذاکر ہو اور اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہو اس کا ثواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد کرے جس طرح حدیث طیبہ میں ہے : (1) جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اس کو دل میں یاد کرتا ہوں اور جو کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے میں اس کا ذکر ایسی مجلس میں کرتا ہوں جو ان سے بہتر ہوتی ہے۔ نماز میں جو حرکات ہیں نہی میں ان کا کوئی اثر نہیں۔ نافع ذکر وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ علم، دل کی توجہ اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر امر سے فارغ ہونے کی صورت میں ہو۔ وہ ذکر جو زبان سے تجاوز نہیں کرتا تو اس کا رتبہ اور ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بندے کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ وہ ہدایت اور نور علم سے اسے نوازتا ہے۔ یہ حقیقت میں بندے کا اپنے رب کے ذکر کا ثمرہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (البقرہ 152) آیت کا باقی ماندہ حصہ وعید اور مراقبہ پر برانگخیۃ کرتا ہے۔
Ayahs 29:46–47

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو ان میں سے بےانصافی کریں (ان کے ساتھ اسی طرح کا مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1:۔ علماء نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : کی تعبیر میں اختلاف کیا ہے : مجاہد نے کہا : یہ آیت محکم ہے اہل کتاب سے مجادلہ اس طریقہ سے کرنا جائز ہے جو احسن ہے مراد یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی جائے، حج اور آیات پر آگاہ کیا جائے یہ امید رکھتے ہوئے کہ وہ ایمان کی دعوت قبول کریں گے۔ یہ مجادلہ سختی اور شدت کی صورت میں نہ ہو۔ اس تعبیر کی بناء پر معنی یہ ہوگا : اس کا معنی ہے مگر وہ جو تم پر ظلم کریں۔ ورنہ ظلم کا کلمہ عام ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے اہل کتاب میں سے جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ان کے ساتھ جھگڑا نہ کیا کرو، جس طرح حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی جو ایمان لائے۔ یعنی ان چیزوں میں موافقت کرنے کے ساتھ جو وہ پہلی قوموں کی خبریں تمہیں بیان کریں اور اس طرح کے دوسرے معاملات اس تاویل کی بناء پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان میں سے کفر پر باقی رہیں جس طرح بنو قریظہ، بنو نضیر وغیرہ ہم میں سے جو لوگ کفر پر ہیں اور دھوکہ کیا۔ اس تعبیر کی بناء پر یہ آیت محکم ہوگی : ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت آیت قتال سے منسوخ ہے۔ تو اس نے یہ استدلال کیا کہ یہ آیت مکی ہے اس وقت تو قتال فرض ہی نہ تھا اور نہ ہی جزیہ کا مطالبہ تھا اور نہ ہی اس کے علاوہ اور حکم تھا، مجاہد کا قول اچھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ منسوخ ہیں مگر ایسی خبر کے ساتھ جو عذر کو ختم کر دے یا کوئی عقلی دلیل ہو، ابن عربی نے اس قول کو پسند کیا ہے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان اس کا معنی ہے مگر وہ لوگ جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ جنگ شروع کی تو ان کے ساتھ جدال تلوار کے ساتھ ہوگا یہاں تک وہ ایمان لے آئیں یا جزیہ دیں۔ مسئلہ نمبر 2:۔ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور اہل اسلام کے لئے عربی زبان میں اس کی تفسیر بیان کرتے۔ (1) ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو۔ “ اور یہ کہا : اس پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف نازل کیا اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے روایت کی ہے : اہل کتاب سے کوئی چیز نہ پوچھو وہ تمہاری صحیح رہنمائی نہیں کریں گے وہ خود گمراہ ہوچکے ہیں یا تو تم حق کو جھٹلائو گے یا باطل کی تصدیق کرو گے (2) ۔ بخاری شریف میں ہے حمید بن عبدالرحمن نے حضرت معاویہ سے وہ مدینہ طیبہ میں موجو دقریش سے روایت نقل کرتے ہیں۔ (3) اور کعب الاحبار کا ذکر کیا گیا، اگرچہ یہ ان میں سے سب سے سچا ہے جو اہل کتاب میں سے تم پر بیان کرتے ہیں اس کے باوجود ہم اس پر جھوٹ کو پرکھتے ہیں اور آزماتے ہیں۔
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ قبلۃ کی ضمیر کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے جو قرآن ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔ اے محمد ﷺ آپ اس سے قبل اسے نہیں پڑھتے تھے اور اہل کتاب سے اختلاف نہیں کرتے تھے بلکہ ہم نے اسے اعجاز کے انتہائی درجہ پر فائز فرما کر غیوب کا ضامن بنا کر اور دوسرے مقاصد کے لئے اسے نازل کیا۔ اگر آپ کتاب پڑھتے ہوتے اور حروف لکھا کرتے تو اہل کتاب میں سے باطل پرست شک میں مبتلا ہوجاتے اور ان کے شک کی کوئی وجہ بھی ہوتی۔ وہ کہتے ہم نے اپنی کتابوں میں تو اسے امی پایا ہے جو نہ لکھا ہے اور نہ پڑھتا ہے پس یہ وہ نہیں : مجاہد نے کہا : اہل کتاب اپنی کتابوں میں پاتے کہ حضرت محمد ﷺ نہ لکھتے ہیں اور نہ پڑھتے ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ نحاس نے کہا : یہ قریش کے لئے آپ ﷺ کی نبوت پر دلیل ہے کیونکہ نہ آپ ﷺ پڑھتے، نہ لکھتے اور نہ ہی اہل کتاب کے ساتھ میل جول رکھتے اور نہ ہی مکہ مکرمہ میں کوئی اہل کتاب تھا جو ان کے پاس انبیاء اور امتوں کی خبریں لاتا۔ پس ریب اور شک زائل ہوگیا۔ مسئلہ نمبر 2:۔ نقاش نے اس آیت کی تفسیر میں امام شعبی سے یہ ذکر کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا وصال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ نے لکھا اور ابو کبشہ سلولی کی حدیث کو بھی ذکر کیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عینیہ بن حصن کا صحیفہ پڑھا اور اس کا معنی بیان کیا (1) ۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ سب ضعیف ہے اور باجبی رحمتہ اللہ تعالیٰ کا قول بھی اسی سے متعلق ہے۔ میں کہتا ہوں : صحیح مسلم میں حضرب براء ؓ کی حدیث میں ہے جو صلح حدیبیہ کے متعلق ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی شیر خدا کو فرمایا : ہمارے درمیان معاہدہ لکھو، (2) ۔ مشرکوں نے آپ ﷺ سے کہا : اگر ہم جانتے کہ اللہ کا رسول ہے تو ہم آپ کی اتباع کرتے۔ ایک روایت میں تابعنک کی جگہ بایعناک کے الفاظ ہیں بلکہ لکھو محمد بن عبداللہ، حضرت علی شیر خدا کو حکم دیا کہ وہ اس کو مٹا دے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے عرض کی۔ اللہ کی قسم : میں اسے نہیں مٹائوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کی جگہ دکھائو ” حضرت علی شیر خدا نے وہ جگہ دکھائی اور حضور نے اسے مٹا دیا۔ اور ابن عبداللہ لکھا۔ ہمارے علماء کہتے ہیں اس کا ظاہر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رسول اللہ کا کلمہ اپنے ہاتھ سے مٹایا اور اس کی جگہ ابن عبداللہ لکھا۔ امام بخاری نے اس سے بھی ظاہر روایت ذکر کی ہے کہا : یا رسول اللہ ﷺ نے مکتوب لیا اور لکھا (3) ۔ ایک او سند سے یہ اضافہ کیا : آپ اچھی طرح نہیں لکھتے تھے۔ ایک جماعت نے کہا : اس کے ظاہر سے کتاب کا جواز ثابت ہوتا ہے کہ حضور نے اپنے ہاتھ سے لکھا ان میں سے سمنانی، ابو ذر اور باجی ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ یہ آپ ﷺ کے امی ہونے میں قدح کا باعث نہیں اور کے خلاف نہیں اور نہ ہی حضور ﷺ کے ارشاد : (4) کے خلاف ہے۔ ہم ایسے لوگ ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ ہی حساب جانتے ہیں بلکہ انہوں نے اسے معجزات میں ایک اور اضافہ کے طور پر دیکھا ہے اور آپ کی صداقت اور رسالت کی صحت پر اظہار کے طور پر دیکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے کتابت سیکھے بغیر کتابت کی اور نہ ہی اس کے اسباب کو حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ہاتھ اور آپ کے قلم پر ایسی حرکات جاری کیں جن سے ایسے خطوط عیاں ہوتے جن کا مفہوم ابن عبداللہ تھا جس نے بھی اسے پڑھا۔ یہ عادت کے خلاف تھا۔ جس طرح حضور ﷺ کچھ سیکھے اور اکتساب کے بغیر اولین و آخرین کا علم رکھتے تھے۔ یہ آپ کے معجزات میں بلیغ ترین اور فضائل میں سب سے عظیم ہے اس کے ساتھ آپ سے ای کا نام زائل نہیں ہوتا، اسی وجہ سے اس حالت میں راوی آپ ﷺ کے بارے میں یہ کہتا ہے آپ اچھی طرح نہیں لکھتے تھے۔ پس لکھنے کے باوجود امی کا نام باقی رہا۔ ہمارے شیخ ابو العباس احمد بن عمر نے کہا : اندلس کے کثیر فقہاء اور دوسرے علماء نے اس کا انکار کیا۔ انکار میں شدت کا اظہار کیا اور اس کے قابل کی طرف کفر کی نسبت کی ہے۔ کفر کی یہ نسبت کرنا علوم نظریہ کے نہ ہونے اور مسلمانوں کو کافر قراردینے پر عدم آگاہی پر دلیل ہے اور وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے کیونکہ مسلمان کو کافر قرار دینا اس کے قتل کی طرح ہے جس طرح صحیح میں حضور ﷺ سے حدیت آئی ہے خصوصاً ایسے آدمی پر ایسا الزام دینا جس کے فضل، علم اور امامت پر لوگ گواہی دیتے ہوں کہ یہ مسئلہ قطعی نہیں بلکہ جس پر انحصار ہے وہ اخبار احادصحیہ کا ظاہر ہے مگر عقل اس کو محال قرار نہیں دیتی شریعت میں بھی کوئی ایسی قطعی دلیل نہیں جو اس کے وقوعہ کو محال قراردے۔ میں کہتا ہوں : بعض متاخرین نے کہا : جس نے یہ کہا یہ خارق للعادۃ امر کی نشانی ہے تو اسے کہا جائے گا۔ یہ ایسی نشانی ہوتی جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اگر یہ کسی اور آیت کے مناقض نہ ہوتی وہ یہ ہے کہ آپ امی ہیں آپ لکھتے نہیں آپ کے امی امت میں امی ہونے سے حجت قائم ہوجاتی ہے۔ انکار کرنے والوں کو خاموش کرایا جاسکتا ہے اور شبہ ختم ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کیسے آپ کے ہاتھ کو یہ موقع دیتا کہ وہ لکھے اور ایک علامت بنے آیت تو یہ ہوتی وہ ہاتھ نہ لکھتا۔ معجزات کے بارے میں یہ محال ہے کہ وہ ایک دوسرے کا مقابلہ کریں۔ کتب و اخذ القلم کا معنی ہے آپ نے اپنے کاتبوں میں سے کسی کو حکم دیا کہ وہ لکھے۔ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں 26 کاتب تھے۔ مسئلہ نمبر 3:۔ قاضی عیاض نے حضرت معاویہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں لکھا کرتے تھے (1) تو حضور ﷺ نے حضرت معاویہ ؓ کو فرمایا : دوات رکھو اور قلم کو باریک کرو، باء کو لمبا کر کے لکھو، سین دندانے دار لکھو اور میم کو کا نا کر کے نہ لکھو، اللہ کو خوبصورت لکھو، رحمن کو مد سے لکھو اور رحیم کو عمدگی سے لکھو۔ قاضی عیاض نے کہا : اس چیز کو ذہن نشین کرلو، اگرچہ یہ روایت ثابت نہیں کہ حضور ﷺ نے لکھا کہ یہ کوئی بعید نہیں کہ حضور ﷺ کو اس کا علم دیا گیا ہو اور قرأت کتابت سے آپ کو روک دیا گیا ہو۔ میں کہتا ہوں : اس بات میں یہی صحیح ہے کہ حضور ﷺ نے نہیں لکھا ایک حروف بھی نہیں لکھا آپ نے کاتب کو لکھنے کا حکم دیا اسی طرح آپ نے (کسی صحیفہ) کو نہیں پڑھا اور نہ ہی ہجے کئے۔ اگر یہ کہا جائے : جب حضور ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے ہجے کئے فرمایا ” اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ک، ا، ف، ر (1) ، جبکہ تم کہتے ہو کہ معجزہ اس صورت میں قائم ہے کہ آپ امی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور حضور ﷺ نے فرمایا : ہم امی لوگ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب جانتے ہیں تو پھر یہ کس طرح ؟ اس کا جواب وہ چیز ہے جو حضور ﷺ نے حضرت حذیفہ کی حدیث میں بیان کی ہے حدیث قرآن کی طرح ہے جس کا بعض بعض کی تفسیر بیان کرتا ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث میں ہے :” اسے ہر مومن کاتب اور غیر کاتب پڑھتا ہے “ (2) ۔ اس میں غیر کاتب جو امیوں میں سے پر نص قائم کی ہے جو امر جلی ہے اس میں یہ سب سے واضح ہے۔
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

اس سے مراد قرآن ہے : حضرت حسن بصری نے کہا : فراء نے حضرت عبداللہ کی قرأت میں گمان کیا ہے : معنی ہے بلکہ قرآن کی آیات، آیات بینات ہیں (3) حضرت حسن بصری نے کہا : اس کی مثل (الاعراف 203) ہے اگر یہ جائز ہے تو اس کی مثل (الکہف 98) بھی جائز ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس امت کی حفظ کی صلاحیت سے نوازا گیا اس امت سے پہلے کے لوگ اپنی کتابوں کو دیکھ کر ہی پڑھا کرتے تھے جب وہ اسے بند کرتے تو سوائے انبیاء کے کوئی انہیں یاد رکھنے والا نہ ہوتا۔ حضرت کعب نے اس امت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا : یہ علماء و حکماء ہیں اور فقہ میں انبیاء ہیں : یعنی یہ قرآن اس طرح نہیں جس طرح باطل پرست کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے یا شعر ہے بلکہ یہ ایسی علامات اور دلائل ہیں جن کی مدد سے اللہ کا دین، اس کے احکام کی پہچان ہے۔ یہ ان لوگوں کے سینوں میں اس طرح ہے جن کو علم عطا کیا گیا وہ حضور ﷺ کے صحابہ اور مومنین ہیں وہ اسے یاد کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے علم سے صفت بیان کی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ذہنوں سے اللہ تعالیٰ کے کلام انسانوں اور شیاطین کے کلام میں امتیاز کیا ہے۔ قتادہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ھو ضمیر سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے : مراد اہل کتاب ہے جو اپنے ہاں کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی یہ صفت ہے کہ آپ امی ہیں نہ پڑھتے ہیں نہ ہی لکھتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہوں نے بات کو چھپا دیا۔ یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ اس قول کی دلیل حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت اور ابن سمیقع کی قرأت ہے بل ہذا آیات بینات حضور ﷺ آیات تھے ایک آیت نہ تھے کیونکہ آپ دین کے معاملہ میں آیات کثیرہ پر دلالت کرتے تھے، اسی وجہ سے فرمایا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلکہ آیات بینات والے ہیں تو مضاف کو حذف کردیا گیا۔ ظالمون سے مراد کفار ہیں کیونکہ انہوں نے حضور ﷺ کی نبوت اور جو پیغام حق آپ لائے اس کا انکار کیا۔
Ayahs 29:50–52

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

یہ مشرکوں کا رسول اللہ ﷺ سے قول ہے : اس کا معنی ہے ان پر ایسی آیت کیوں نازل نہیں ہوئی جیسی آیات انبیاء پر نازل ہوئیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مردے زندہ کرنے کا معجزہ دیا گیا۔ قل اے محمد ﷺ آپ انہیں کہہ دیجیئے۔ معجزات تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو لاتا ہے، جب چاہتا ہے انہیں بھیج دیتا ہے یہ میرے قبضہ میں تو نہیں۔ ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے آیۃ پڑھا (1) ۔ باقی قراء نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یہ ان کے قول کا جواب ہے کیا مشرکوں کے لئے آیات میں سے یہ معجزہ کتاب کافی نہیں جس کے ساتھ آپ نے انہیں چیلنج کیا کہ وہ اس کی مثل لے آئیں یا اس کی ایک سورت کی مثل لے آئیں تو وہ عاجز آگئے۔ اگر آپ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) والے معجزات لے آتے تو وہ کہتے : یہ جادو ہے اور ہم جادو کو نہیں پہچانتے۔ کلام ان کی قدرت میں تھی اس کے باوجود وہ معارضہ سے عاجز آگئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس آیت کا سبب نزول اور وہ روایت ہے جسے ابو عینیہ نے عمرو بن دینار سے وہ حضرت یحییٰ بن جعدہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ آپ کے ہاتھ میں کتاب تھی فرمایا : کسی قوم کی گمراہی کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اس چیز سے اعراض کرے جو ان کا نبی ان کے پاس لایا اور اس چیز کی طرف رغبت کرے جسے ان کے نبی کے علاوہ کوئی اور نبی لایا ہے یا اس کی طرف رغبت کریں جو ان کی کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب لایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا “ (1) ۔ اسے ابو محمد دارمی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔ اہل تفسیر نے اسے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، اسی کی مثل حضور ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا : ” اگر حضرت موسیٰ بن عمران زندہ ہوتے تو ان کے لئے میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ کار نہ ہوتا “ (2) ۔ اس کی مثل نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کے ساتھ غیر سے غنی نہ ہوا “۔ یعنی اس کے ساتھ غیر مستغنی نہ ہوا۔ امام بخاری کی اس آیت کی تفسیر میں یہی تاویل ہے۔ جب قرآن کے ہر حروف کے عوض دس نیکیاں رب العالمین کی طرف سے ملتی ہیں تو کتاب کے کلام میں جو کچھ ہے اس کو کثرت سے پڑھو (اس قرآن) کو چھوڑ کر غیر کی طرف رغبت کرنا گمراہی خسارہ اور دھوکہ اور نقصان ہے۔ سے مراد قرآن ہے، الرحمۃ دنیا اور آخرت میں رحمت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں رحمت ہے کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو گمراہی سے بچایا ہے۔ دنیا میں نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ان کی حق کی طرف رہنمائی کی۔ جو لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں ان سے کہہ دیجئے، اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے میں جو دعویٰ کرتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور یہ قرآن اسی کی کتاب ہے وہ میری صداقت کی گواہی دیتا ہے۔ اس پر کوئی شے مخفی نہیں۔ یہ ان کے خلاف استدلال ہے تو اس نے اس کے بارے میں جو گواہی دی ہے وہ صحیح ہے۔ کیونکہ وہ اس کا علم کا اقرار کرتے ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی گواہی کا بھی اقرار کریں۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : باطل سے مراد ابلیس ہے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : مراد بتوں کی عبادت ہے : یہ ابن شجرہ نے کہا ہے کیونکہ وہ اس کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور اس کی کتابوں کو جھٹلاتے ہیں اس لئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا (4) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : کفر سے مراد جو انہوں نے بتوں کو اس کا شریک ٹھہرایا اور اس کی طرف اولاد اور اضداء کو منسوب کیا۔ وہ آخرت میں اپنی ذاتوں اور اپنے اعمال میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔
Ayahs 29:53–55

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو ان پر عذاب آ بھی گیا ہوتا اور وہ (کسی وقت میں) ان پر ضرور ناگہاں آ کر رہے گا اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب ان کو ان کے اوپر اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) ان کا مزہ چکھو

جب اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے انکار کی زیادتی کے طور پر کہا : وہ عذاب ہم پر جلدی لے آئیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بات کہنے والا نضر بن حارث اور ابو جہل تھا۔ دونوں نے کہا : (الانفال 32) اور ان کا یہ کہنا (ص) اللہ کا فرمان : اگر عذاب کے نازل ہونے میں معین وقت نہ ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد ہے جو میں نے تم سے وعدہ کیا کہ میں تیری قوم کو عذاب نہ دوں گا اور قیامت تک انہیں مہلت دوں گا۔ اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے (القمر 46) ضحاک نے کہا : یہ دنیا میں ان کی عمروں کی مدت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اجل مسمی سے مراد نفخہ اولیٰ ہے : یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ وقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت اور ان کے عذاب کے لئے مقدر کیا ہے، یہ ابن شجرہ کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ غزوہ بدر کے موقع پر قتل ہے خلاصہ کلام یہ ہے ہر عذاب کے لئے ایک اجل مقرر ہے نہ وہ پہلے ہوگی اور نہ ہی موخر ہوگی، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الانعام 67) یعنی وہ عذاب جس کی وہ جلدی مچاتے تھے وہ انہیں آپہنچے گا۔ اس کا معنی اچانک ہے۔ جب عذاب ان پر نازل ہوگا تو وہ اس کا علم نہ رکھیں گے۔ جو آپ سے عذاب کے جلد لانے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ان کے لئے جہنم تیار کی گئی ہے اور وہ انہیں ہر حال میں گھیرے گی، تو پھر جلدی مچانے کا فائدہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت عبداللہ بن ابی امیہ اور اس کے مشرک ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے یہ کہا تھا : (الاسر 92) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا تعلق ماقبل کلام سے ہے یعنی جس روز انہیں عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے نیچے سے آپہنچے گا۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب انہیں ڈھانپ لے گا تو جہنم ان کو گھیر لے گی۔ فرمایا : یہ مقاربہ کے لئے ورنہ غشیان عموماً اوپر سے ہوتا ہے : جس طرح شاعر نے کہا : میں نے اسے گھاس کھلائی اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ ایک اور شاعر نے کہا : دشمن کی طرف جانے والے گھوڑوں کی قیادت کرنے والوں پر نیزوں اور زر ہوں کا جنگل تھا۔ اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے نقول پڑھا۔ باقی قراء نے یاء کے ساتھ اسے پڑھا۔ ابعد عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الرعد 43) یہ بھی احتمال ہے کہ وہ ملک موکل انہیں کہے۔ دونوں قرأتیں ایک ہی معنی کی طرف راجع ہیں یعنی فرشتہ ہمارے حکم سے کہے گا : تم چکھو :
Ayahs 29:56–60

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلا ہے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

یہ آیت نازل ہوئی تاکہ جو مومن مکہ مکرمہ میں ہیں انہیں ہجرت پر برانگختیہ کیا جائے، یہ مقاتل، اور کلبی کا قول ہے : (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زمین کی وسعت کی خبرد یاور یہ یہ بتایا کہ ایسے علاقے میں رہنا جہاں کفار کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ درست نہیں بلکہ یہ درست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کے ساتھ اس کی زمین میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو تلاش کریں یعنی اگر تمہیں ایمان کے اظہار میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مدینہ کی طرف ہجرت کر جائو وہ وسیع ہے کیونکہ وہاں توحید کا اظہار کرنا ممکن ہے : ابن جبیر اور عطاء نے کہا : جہاں بھی ظلم اور منکر ہو وہاں اس آیت کا حکم مرتب ہوگا اور ایسے ملک کی طرف ہجرت کرنا لازم ہوگا جہاں حق ہو، یہ امام مالک کا قول ہے، مجاہد نے کہا : میری زمین وسیع ہے پس ہجرت کر جائو اور جہاد کرو مطرف بن شخیر نے کہا : معنی ہے میری رحمت وسیع ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے میرا رزق تمہارے لئے وسیع ہے اسے زمین میں تلاش کرو۔ سفیان ثوری نے کہا : جب تو ایسے علاقے میں ہو جہاں مہنگائی ہو تو اس کے علاوہ کسی ایسے علاقے کی طرف ہجرت کر جائو جہاں تیرا تھیلا ایک درہم کے بدلے میں روٹیوں سے بھر جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے میری زمین جو جنت کی زمین ہے وہ وسیع ہے۔ فاعبدون میری عبادت کرو تاکہ میں تمہیں اس کا مالک بنا دوں۔ ایای یہ فعل مضمر کے ساتھ منصوب ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے یہ ایک فعل کی وجہ سے دوسرے فعل سے مستغنی ہوگیا۔ فا ایای میں فاء شرط کے معنی میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی : یہ آل عمران میں گز چکا ہے۔ یہاں اسے ذکر کیا یہ دنیا کے امرا اور اس کے خوف کو حقیر ثابت کرنے کے لئے ہے، گویا بعض مومنوں نے انجام کے بارے میں یہ سوچا کہ اپنے وطن مکہ سے نکنے میں یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مرجائے اور اسے بھوک آئے یا اس طرح کی کوئی مصیبت آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے معاملہ کی حقارت بیان کی، یعنی تم لامحالہ مرو گے اور ہماری طرف اٹھائے جائو گے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کی طرف ہجرت اور اس کے احکام کی بجاآوری کی طرف جلدی کرنی چاہیے۔ پھر ان مومنوں سے وعدہ کیا جو عمل کرتے ہیں کہ انہیں جنت میں رہائش دی جائے گی مقصود اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں برانگختیہ کرنا ہے اس جزا کا ذکر کیا جس کو وہ پائیں گے پھر وہ اس ارشاد کے ساتھ ان کی صفت بیان کی، ابو عمر، یعقوب، حجدری، ابن اسحاق، ابن محیضن، اعمش، حمزہ کسائی اور خلف نے یاعبادی یاء کے سکون کے ساتھ پڑھا۔ باقی قراء نے اس یاء کو فتحہ بنا دیا۔ ابن عامر نے اسے فتحہ دیا اور باقی نے ہاء کو سکون دیا۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : السلام (1) جو اپنے دین کو بچانے کی خاطر ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف بھاگے اگرچہ بالشت بھر ہی ہو تو وہ جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ وہ حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا رفیق ہوگا۔ سلمیٰ اور ابوبکر نے عاصم سے یہ قرأت نقل کی۔ یرجعون یعنی یاء کے ساتھ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، باقی قراء نے اسے تاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بعض نے یہ اشعار پڑھے۔ موت ہر لمحہ کفن کر ذکر کرتی ہے اور ہمارے بارے میں جو ارادہ کیا جارہا ہو ہم اس سے غافل ہیں تو دنیا اور اس کی تروتازگی کی طرف مائل نہ ہو اگرچہ تو اس سے اچھے کپڑے زیب تن کئے ہوئے ہو، محبوب اور پڑوسی کہاں ہیں انہوں نے جو کچھ کہا وہ کہاں ہیں جن کے یہ مکانات ہیں۔ موت نے انہیں ایسا جام پلا دیا جو صاف نہ تھا موت نے انہیں مٹی کے نیچے رہن رکھ دیا ہے۔ حضرت ابن مسعود، اعمش، یحییٰ بن دثاب، حمزہ اور کسائی نے باء کی جگہ ثاء کی قرأت کی ہے (1) اس سے مراد اقامت ہے یعنی ہم انہیں ایسے کمرے عطا کریں گے جن میں یہ قیام کریں گے رویس نے یعقوب حجدری اور سلمی سے نون کی جگہ یاء کے ساتھ قرأت کی ہے۔ باقی قراء نے نون کے ساتھ قرأت کی ہے یعنی ہم انہیں ٹھہرائیں گے۔ غرفا یہ غرفہ کی جمع ہے اس سے مراد بالائی کمرہ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت سہل بن سعد سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جنتی اہل غرف کو اپنے اوپر یوں دیکھیں گے جس طرح تم روشن ستارہ دیکھتے ہو جو مشرق و مغرب کے افق میں باق یماندہ دیکھتے ہو۔ “ 2 ۔ صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ وہ انبیاء کی منازل ہیں کوئی اور ان تک نہیں پہنچ سکتا ؟ فرمایا :” کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں قدرت میں میری جان ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی۔ “ امام ترمذی نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جنت میں بالا خانے ہیں جن کے باہر والے حصے اندر سے اور اندر والے حصے باہر سے دکھائی دیتے ہیں “ (3) ایک بدو اٹھا عرض کی، یا رسول اللہ ! یہ کن کے لئے ہوں گے ؟ فرمایا : یہ ان کے لئے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، ہمیشہ روزے رکھے اور راتوں کو نماز پڑھے، جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ “ ہم نے کتاب ” تذکرہ “ میں کچھ زائد چیزیں ذکر کی ہیں، الحمد اللہ۔ واحدی نے یزید بن ہارون سے وہ حجاج بن منہال سے وہ زری یعنی عبدالرحمن بن عطاء سے وہ عطا سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ آپ ﷺ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ وہاں سے گرا ہوا پھل چننے لگے، اس سے کھانے لگے، فرمایا :” اے ابن عمر : تجھے کیا ہوگیا ہے تو کھاتا نہیں۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ مجھے طلب نہیں۔ فرمایا : لیکن مجھے طلب ہے یہ چوتھی صبح ہے میں نے کھانا چکھا تک نہیں اگر میں چاہتا تو اپنے رب سے دعا کرتا تو وہ مجھے قیصر و کسریٰ کے ملک جیسا ملک عطا کردیتا، اے ابن عمر : تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسی قوم میں باقی رہے گا جو سال بھر کا رزق چھپا کر رکھیں گے اور یقین ان کا کمزور ہوتا “ ، فرمایا : تھوڑا وقت بھی نہیں گزرا تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی : میں کہتا ہوں : یہ روایت ضعیف ہے اس کو ضعیف حضور ﷺ کا یہ معمول کرتا ہے کہ حضور ﷺ اپنے گھر والوں کے لئے سال بھر کا رزق ذخیرہ کرتے۔ امام بخاری اور امام مسلم اس پر متفق ہیں۔ صحابہ کرام بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے جبکہ وہ مقتدیٰ تھے، اہل یقین تھے اور بعد میں آنے والے متقین او متوکلین کے امام تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں مومنین سے فرمایا : جب مشرکوں نے انہیں اذیتیں دیں :” مدینہ طیبہ کی طرف نکل چلو، ہجرت کرو اور ظالموں کے پڑوس میں نہ رہوے “ عرض کی : وہاں ہمارا کوئی گھر نہیں، کوئی جانتا نہیں اور نہ ہی وہاں ہمارا کوئی ایسا رشتہ دار ہے جو ہمیں کھانا کھلائے اور ہمیں پانی پلائے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اس کے پاس ذخیرہ کیا ہوا رزق نہیں ہوتا، یہ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارا دار ہجرت میں رزق عطا فرمائے گا : یہ پہلے قول سے زیادہ مشابہ ہے : کاین کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ یہ ای اس پر کاف تشبیہ داخل ہے اور اس میں کم کا معنی پیدا ہوگیا ہے خلیل اور سیبیویہ کے نزدیک اس کی تقدیر عدد کی طرح ہے، یعنی چوپائوں میں سے کثیر تعداد۔ مجاہد نے کہا : یعنی پرندے اور چوپائے جو اپنے منہ سے کھاتے ہیں اور کوئی چیز اٹھا کر نہیں لاتے (1) حضرت حسن بصری نے کہا : وہ اس وقت ہی کھاتے ہیں اور کل کے لئے ذخیرہ نہیں کرتے۔ (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : وہ اپنے رزق پر قادر نہیں اللہ تعالیٰ جہاں بھی جائیں اللہ تعالیٰ انہیں رزق عطا فرماتا ہے وہ تمہیں بھی رزق عطا فرمائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حمل حمالہ کے معنی میں ہے، نقاش نے حکایت بیان کی ہے : مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے آپ کھاتے اور ذخیرہ نہ کرتے۔ (3) میں کہتا ہوں : یہ تعبیر کچھ بھی نہیں کیوں کہ دابۃ کا لفظ مطلق ہے عرف میں اس کا استعمال آدمی پر نہیں ہوتا تو نبی کریم ﷺ پر کیسے ہوگا ؟ سورة النمل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ (النمل 82) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : دواب سے مراد ہر وہ حیوان ہے جو رینگے ان میں سے انسان چیونٹی اور چوہے کے سوا کوئی بھی خوراک کا ذخیرہ نہیں کرتا۔ بعض لوگوں سے یہ مروی ہے کہ میں نے بلبل کو دیکھا وہ اپنے دامن میں ذخیرہ کررہی تھی، عقعق کو مخابئی کہا جاتا ہے مگر وہ اسے بھول جاتا ہے۔ حریص اور جو رزق میں توکل کرتا ہے، رغبت کرنے والا اور قانع، حیلہ کرنے والا اور عاجز میں برابری کرتا ہے تاکہ محنت کرنے والا دھوکہ میں مبتلا نہ ہوجائے کہ وہ اپنی کوشش کی وجہ سے رزق دیا جائے گا اور عاجز تصور نہ کرے کہ عجز کی وجہ سے اسے رزق سے روک دیا جائے گا۔ صحیح میں نبی کریم : سے مروی ہے : اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے جس طرح توکل کرنے کا کا حق تھا۔ تو وہ تمہیں رزق دیتا جس طرح وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح خالی پیٹ جاتے ہیں اور بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔ وہ تمہاری دعا قوال کو سنتا ہے کہ ہم مدینہ طیبہ میں ایسی کوئی چیز نہیں پاتے جس کو ہم خرچ کریں اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے بھی جانتا ہے۔