15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 15:79–82

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بیشک یہ دونوں بستیاں (یعنی قوم لوط اور شعیب کی) کھلے راستے پر واقع ہیں

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور بیشک حجر کے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں پہنچائیں پھر وہ ان سے منہ پھیرے رہے

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر بےخوف گھر بناتے تھے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حجر کے رہنے والے قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کا قصہ مختصر طور پر بیان فرما کی قریش کو تنبیہ فرمائی کہ حجر والوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ہم نے ثمود کو قدرت کے دلائل بتلائے اور نشان قدرت کے دکھائے۔ پتھر سے اونٹنی کا نکلنا بہت عجیب و غریب باتوں پر شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ سب نشانیاں ہم نے ثمود کو دکھائی پھر انہوں نے اعتراض کیا اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ مکانوں کے منہدم ہونے کا اندیشہ نہ رہے اور نہ بھی خیال تھا کہ عذاب الٰہی سچ بھی ہوگا تو بھی ان مکانوں کی بدولت امن رہے گا مگر جب عذاب آیا تو ان کے کچھ فائدہ نہ دیا اور یک شنبہ (اتوار) کے دن آفتاب نکلتے ہی جبریل (علیہ السلام) کی چیخ سے ہلاک ہوئے جیسا کہ سورة ہود میں مذکور ہے۔ پس ان کی عقل آرائیوں نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمین اور اس کے اندر کی ہر چیز اور تغیرات ہماری قدرت کے کس قدر اور کتنی بڑی نشانیاں ہیں۔ غور کرنے والوں کے نزدیک ان سے بڑھ کر اور کون سے معجزات ہوسکتے ہیں پھر فرمایا کہ اب قیامت بہت قریب آلگی ہے۔ وہی سزا وجزا جلد ہوجاوے گی۔
Ayahs 15:83–85

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

پھر ان کو صبح ہوتے ہوتے ہولناک آواز نے آپکڑا

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

پس ان کی کمائی کچھ ان کے کام نہیں آئی

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور نہ پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر درست تدبیر سے اور بیشک قیامت آنے والی ہے، پس تم خوبی کے ساتھ (ان کی بےادبیوں سے) درگذر کرو

اس آیت کے ٹکڑے کا حاصل مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں کی تباہی کے قصے سنا کر ان مشرکین مکہ کو تنبیہ کردی گئی ہے۔ اس پر بھی یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آویں تو ضعف اسلام کے زمانے تک درگزر کو کام میں لایا جاوے۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب جو ہے وہی پیدا کرنے والا جاننے والا ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ قیامت ضرور قائم ہونے والی ہے۔ خدا ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے اس کو قیامت کے قائم کرنے پر کامل قدرت ہے کیونکہ وہ کسی چیز کے پیدا کرنے سے نہ پہلی دفعہ عاجز تھا نہ دوسری دفعہ عاجز ہے۔ اس کا علم بہت وسیع ہے دنیا میں کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
Ayahs 15:87–88

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تم کو دیں سات آیتیں جو نماز میں دہرائی جاتی ہیں (یعنی سورة فاتحہ) اور ہم نے تم کو عظمت والا قرآن دیا

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اپنی نظر نہ دوڑاؤ اس چیز کی طرف جو ہم نے ان کافروں کی مختلف جماعتوں کو برتنے کے لئے دے رکھی ہے، اور نہ ان لوگوں پر غم کرو اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ان آیتوں میں اللہ پاک نے ان نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے خاص اپنے رسول ﷺ برحق کو عطا کی ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے دیں تم کو سات آیتیں وظیفہ کی اور قرآن بڑے درجہ کا عنایت کیا۔ اس سے مراد سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور ہر نماز میں یہ دہرائی جاتی ہیں خواہ فرض ہو خواہ نفل، اور ہر ختم قرآن میں یہ دو دفعہ پڑھی جاتی ہے ایک ابتدا میں اور پھر ختم کرنے کے بعد۔ اس کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں بہرحال اس نعمت کا بیان کر کے اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اے مسلمانو ! دنیا میں جو اور لوگوں کو مال و دولت حاصل ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو شاید تمہیں اس کی رغبت ہوجائے تمہیں جو نعمت کے طور پر قرآن مجید عطا کیا گیا ہے اس کے سامنے دنیا کی دولت کیا حقیقت رکھتی ہے، یہ جلد ختم ہونے والی ہے۔ اب آگے آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ یہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ہیں نہ لائیں تم اس کا کچھ غم نہ کرو اس لئے کہ جو علم الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ کسی طرح راہ راست پر نہ آویں گے۔
Ayahs 15:89–93

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور فرماؤ : میں ہی ہوں صاف ڈر سنانے والا (اس عذاب سے)

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

جیسا کہ ہم نے اتارا عذاب بانٹنے والوں پر

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

جنہوں نے کلام الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے (یعنی مختلف حصے) کردئیے

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

پس قسم ہے تمہارے پروردگار کی۔ ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

جو کچھ وہ کرتے رہے

آنحضرت ﷺ کو نصیحت کرنے کا حکم اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسولوں نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے۔ آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلا جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورة النحل میں آوے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بانٹنے والوں سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں چونکہ وہ قرآن کریم کے کچھ حصہ پر ایمان لائے جو ان کے خیال میں ان کی کتابوں کے موافق تھا کچھ کے منکر ہوگئے۔ بعض مفسروں (مفسرین) نے یہ بیان کیا ہے کہ بانٹنے والون سے کفار قریش مراد ہیں۔ یہ چند آدمی تھے انہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم سے حج کے زمانے میں مکہ کے رستوں کو روکا کہ مسافر شخص ادھر سے گزرے تو اس کو محمد ﷺ کی طرف سے بہکایا جاوے اور یہ کہا جائے نعوذ باللہ من ذالک یہ شخص مجنون ہیں۔ ہمارے دین سے نکل گئے ہیں کوئی ان سے دھوکہ نہ کھائے اور کبھی جادوگر کہتے تھے اسی طرح کبھی قرآن کو جادو کہتے تھے کبھی پہلے لوگوں کی کہانیاں کہتے تھے، غرضیکہ انہیں کے اکثر لوگ طرح طرح کے مرضوں سے فورا ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے ان آیتوں میں فرمایا : اے محبوب ﷺ ان باقی لوگوں کو ڈر سنا دو کہ اگر یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے موافق راہ راست پر نہ آویں گے تو وہی انجام ان کا ہوگا اور پھر ان سب کو اپنے عملوں کے موافق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جواب دہی کرنی پڑے گی۔
Ayahs 15:94–98

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس علانیہ کہہ دو جس بات کا تم کو حکم ہے اور مشرکوں سے کنارہ کرو

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

پس ہم کافی ہیں تمہاری طرف سے ان ہنسی اڑانے والوں کے لئے

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں پس وہ عنقریب جان لیں گے

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور بیشک ہم کو معلوم ہے کہ تم دل تنگ ہوتے ہو ان کی باتوں سے

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کو اس کی تعریف کے ساتھ پاکی سے یاد کرو اور سجدہ کرنے والوں میں ہو

اللہ پاک ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن مجید جو کہ تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم ولوگوں کو پہنچا دو اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو، اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے۔ یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ وہ پانچ شخص تھے جو قبیلہ قریش میں رئیس شمار کئے جاتے تھے : (1) ولید بن مغیرہ (2) عاص بن وائل (3) حدی بن قیس (4) اسود عبدالمطلب (5) اسود بن عبدالغیوث۔ جب یہ لوگ شرارت اور ایذا رسانی میں حد سے گزرنے لگے تو یہ آیت اتری اور یہ لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں طرح طرح کے مرض میں گرفتار ہو کر آخرت میں بھگتیں گے۔ پھر فرمایا کہ یہ کفار خدا کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے ہیں، خدا کے سوا بتوں کو پوجتے ہیں اس کا خمیازہ آخرت میں بھگتیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ ان کفار کی باتوں سے تمہیں رنج پہنچتا ہے تم ذرا بھی ان کی طرف التفات نہ کرو ۔ تو سبحان اللہ سبحان اللہ کہے جاؤ اور نماز پڑھتے رہو۔
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اس کی عبادت میں مرتے دم تک لگے رہو

نماز کی تاکید اس آیت میں نبی کریم ﷺ اور امت کے لئے یہ قرار پایا کہ کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکیں تو بیٹھ کر، اور بیٹھ کر نہ ہوسکے تو لیٹ کر اشاروں سے بیماری میں، غرض جب تک جسم میں جان ہے، عبادت الٰہی کئے جاؤ، ہماری بندگی سے منہ نہ موڑو۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کوئی اہم واقعہ پیش آتا تو نماز میں مشغول ہوجاتے۔