15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 15:39–41

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

اس نے کہا : اے پروردگار میرے ! بسبب اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مج کو البتہ زینت دوں گا میں معصیت کو ان کے واسطے زمین میں، اور ضرور میں ان سب کو (دلوں میں وسوسہ ڈال کر) بےراہ کردوں گا

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

مگر جو ان میں تیرے خالص بندے ہیں (وہ میرے بہکانے میں آنے والے نہیں

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

خدا نے فرمایا : یہ ایک سیدھا رستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے

اللہ تعالیٰ کا حکم حاصل مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر یہ کہا : جب تک ہر انسان میں جان باقی ہے جس طرح اور جہاں تک مجھ سے ہوسکے گا ہر ایک آدمی کو بہکانے میں اور بہکاکر ہر طرح کے برے کام ان سے کرانے میں کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر شیطان کو جواب دیا کہ میں بھی جب تک مجھ سے وہ تیرے بہکائے ہوئے گنہگار توبہ و استغفار کریں گے، ان کو بخشے ہی جاؤں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان بہکانے سے نہیں تھکتا اور اللہ تعالیٰ بخشنے اور مغفرت اور توبہ کے قبول کرنے سے نہیں بس کرے گا۔ گنہگار بندہ ہی اپنی بدنصیبی سے توبہ و استغفار کرنے سے تھک جاوے تو تھک جاوے۔ آدمی کو چاہئے کہ نیک کام کی توفیق کے لئے ہر وقت اللہ کا شکر کرے اور برے کام کے خیال کے وقت لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اخلاص ہی ہمارا سیدھا راستہ ہے اور جو لوگ اس راستہ پر چلتے ہیں ان کی رعایت ہم کو منظور ہے۔
Ayahs 15:42–44

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

بیشک جو میرے بندے ہیں تیرا کچھ ان پر غلبہ نہیں سوائے ان گمراہوں کے کہ جو تیری پیروی کریں

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور بیشک جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ (میں سے جانے) کے لئے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میرے بندے خالص ہیں ان پر تجھ کو زور نہیں ہوگا کہ تتیرے بہکانے میں آجائی گے، ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائی گے۔ تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں۔ ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم کے ہیں۔ جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے اور اپنے کئے کی سزا پاویں گے۔
Ayahs 15:45–50

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار لوگ (اس دن) باغوں اور چشموں (کے عیش و راحت) میں ہوں گے

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

اور انہیں کہا جائے گا کہ اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو امن سے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب دور کردیئے، آپس میں بھائی ہیں ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

ان کو وہاں کچھ نہ تکلیف پہنچے گی نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) خبر دو میرے بندوں کو کہ بیشک میں ہی ہوں بخشنے والا مہربان

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور میرا ہی عذاب درد دینے والا ہے

دوزخ وجنت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم رہیں گے۔ کوئی رنج و تکلیف اور کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جتنی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی، اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے۔ جنت میں کسی قسم کی مشقست وغیرہ نہ ہوگی اور نہ لوگ وہاں سے نکلیں گے بلکہ آرام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بندوں کو یہ خبر دے دو کہ میں رحمت والا بھی ہوں اور میرا عذاب بھی سخت ہوا کرتا ہے۔
Ayahs 15:51–56

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

کہ جب وہ مہمان ان کے پاس آئے تو کہا تم پر سلامتی ہو ابراہیم نے کہا ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے (کہ تم کون لوگ ہو)

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا ڈرو مت ! ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا تم مجے اس حال میں بشارت دیتے ہو کہ مجھ پر بڑھاپا آگیا ہے پس اب کا ہے پر بشارت دیتے ہو

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

کہا ہم نے تمہیں سچی بشارت دی ہے پس تمہیں ناامید نہ ہونا چاہئے

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابراہیم نے) نے کہا کہ : اپنے پروردگار کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ جب اس کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے۔ مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قو لوط پر عذابب لے کر چلے ہیں اور تمہیں اولاد کی خوشی سنانے آئے ہیں۔ تمہارے گھر میں ایک ہوشیار لڑکا اسحٰق (علیہ السلام) پیدا ہوگا اور پھر تمہارا پوتا اسحٰق (علیہ السلام) کا بیٹا یعقوب علیہ السلام، اس کے جواب میں ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ میں بوڑھا ہوں، قریب قریب سو برس کی عمی آن پہنچی اور میری بیوی بھی نوے بانوے برس کی بوڑھی اور بانجھ بھی ہے اس صورت میں اولاد کی کیا خوشی سناتے ہو یہ امر تو تعجبات سے ہے، فرشتے بولے کہ یہ حق بات کی خوشی تم کو سنائی جارہی ہے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے اور یقینی اس کا ظہور ہوگا کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کبھی اس کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا۔ اسے ہر طرح کی قدرت حاصل ہے۔ اس کے نزدیک کیا دشوار ہے آپ اس خوشی سے ناامید نہ ہوں۔ اللہ پاک تو اس بات پر بھی قادر ہے کہ بےماں باپ کے بھی لڑکا پیدا کردے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات سن کر جواب دیا کہ بیشک خدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اس کی رحمت سے تو گمراہ لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔
Ayahs 15:57–60

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

(پھر ابراہیم نے) کہا : اے فرشتو ! تمہارا کیا کام ہے

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجر قوم (لوط) کی طرف (ہلاک ہونے والی ہے)

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے گھر والے ان سب کو ہم بچالیں گے

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

بجز اس کی بیوی کے۔ کہ ہم ٹھہراچکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

جب فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد کی خوشی سنادی اور ان کے دل سے خوف جاتا رہا تو انہوں نے فرشتوں سے پوچھا کہ اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تمہارا ارادہ کس کام کا ہے، فرشتوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے سب لوگ یعنی بستی کی بستی ہلاک ہوجائے گی۔ اسی میں لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ہلاک ہوگی۔
Ayahs 15:61–64

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب لوط کے گھر فرشتے پہنچے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو لوط نے کہا : تم لوگ اجنبی آدمی معلوم ہوتے ہو

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

(فرشتے) بولے : بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں یہ لوگ شبہ کرتے تھے (یعنی عذاب)

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس سچا حکم لائے ہیں اور ہم بیشک سچے ہیں

قوم لوط کی تباہی کا حال یہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا کہ رشتے خدا کے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہوکر یک بیک حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں پہنچے۔ وہ ان کو نوعم خوبصورت لڑکے دیکھ کر ڈرے کہ یہ لوگ کسی اور شہر کے رہنے والے ہیں جس اس طرح آئے ہیں۔ بڑی قباحت کی بات ہے میری قوم کو لڑکوں سے بدفعلی کی عادت ہے۔ جس وقت ان لوگوں کو ان نوعمر لڑکوں کے آنے کی خبر ہوگی تو فورا یہاں آجائیں گے اور مجھ سے سخت جھگڑا ہوگا، دیکھئے کیونکر ان سے پیچھا چھؤٹتا ہے۔ اس خیال سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے آنے والوں سے کہا کہ تم کون لوگ ہو ہم تمہیں نہیں پہچانتے، ان فرشتوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں آپ کچھ خوف نہ کریں۔ ہم اس قوم کی سرکوبی کے لئے آئے ہں۔ یہ لوگ آپ سے جھگڑتے ہیں کہ عذاب کیا ہے اور عذاب کے آنے میں شبہ کرتے ہیں، اس لئے ہم اللہ کے حکم سے آئے ہیں اور عذاب لے کر آئے ہیں۔ اب ان لوگوں کو عذاب کے آنے کا پورا یقین ہوجائے گا اور ہم جو کچھ کہتے ہیں اس میں ذرا بھی فرق نہیں ہے ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ ہلاد ہوں گے۔
Ayahs 15:65–66

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

پس آپ اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر چلے جائیں اور آپ ان کے پیچھے چلیں اور تم میں کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں کا حکم ہے سیدھے چلے جائیں (یعنی ملک شام کو)

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بذریعہ وحی اس حکم کا فیصلہ سنا دیا کہ اس قوم کی صبح ہوتے ہوتے جڑ کٹ جائے گی

مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ تم اپنے باپ بچوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جاؤ۔ گھر والوں کو آگے رکھو اور آپ ان کے پیچھے رہو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ کوئی عزیز پیچھے تو نہیں رہ گیا اور دیکھنا تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے کہ قوم پر کیا عذاب ہورہا ہے ورنہ رست طے کرنے میں دیر ہوجائے گی۔ پھر فرمایا کہ جہاں تم کو حکم ہوا ہے وہاں چلے جاؤ دیر نہ کرو، یعنی ملک شام کو چلے جاؤ۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے کہ بات ٹھہرادی کہ صبح ہوتے ہی اس قوم کی جڑ بنیاد بالکل نیست اور نابود ہوجاوے گی۔
Ayahs 15:67–71

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور (یہ باتیں ہورہی تھیں کہ) شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا : یہ میرے مہمان ہیں سو مجھے رسوا نہ کرو

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور اللہ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

کہنے لگے : کیا ہم نے تم کو دنیا بھر کی حمایت سے منع نہیں کردیا تھا

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

(لوط (علیہ السلام) نے) کہا : یہ (قوم کی عورتیں) میری بیٹیاں ہیں اگر تم کو کرنا ہے (تو ان سے نکاح کرلو)

جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کی نوعمری اور خوبصورتی کی خبر سن کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا بر خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے درپے ہورہے ہو، ان کی قوم نے جواب دیا کہ ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ لو۔ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو۔ پھر حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں لڑکوں کے ساتھ فعل بد کے مرتکب ہونے میں شرم نہیں آتی لو یہ قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں ان سے نکاح کرلو۔ خدا نے عورتوں کو مردوں کے واسطے پیدا کیا ہے ان سے نفع اٹھاؤ اور لڑکوں کی رغبت چھوڑ دو ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کی عادت سے کیوں اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہو۔ جب ان لوگوں نے حضرت (علیہ السلام) کی نصیحت نہ سنی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر کا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر گھس جانے اور ملمانوں کو چھین لینے کا ارادہ کیا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ایک پر مار کر ان سب کو اندھا کردیا۔ یہ لوگ صبح کو پھر آنے کی دھمکی کے کر وہاں سے چلے گئے اور صبح ہلاک ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی خبر دیتا ہے کہ اے ہمارے محبوب ﷺ ہم تمہاری حیات اور عمر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی بدمستی میں بےہوش ہورہے تھے وہ کب کسی کی سنتے۔
Ayahs 15:72–78

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) تمہاری جان کی قسم ! بیشک وہ کافر اپنے نشہ میں بھٹک رہے تھے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

پس دن نکلتے ان کو ہولناک آواز نے آپکڑا

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پس ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ اس کے نیچے کا حصہ کردیا اور ان پر ہم نے کنکر کی قسم کے پتھر برسائے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

البتہ اس قصہ میں اہل بصیرت کے لئے بڑی بشانیاں ہیں

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور بیشک یہ بستی ایک آباد سڑک پر ملتی ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور البتہ بن کے رہنے والے (شعیب کی امت کے لوگ) ضرور ظالم تھے

جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جاکر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک آدمی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت حاصل کرنے والوں اور غور فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ بستی سدوم ملک شام کی طرف بدبو دار پانی کے چشمہ کی صورت میں آج تک باقی ہے، اور دوسری بستی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مدین ہے وہاں کے لوگ بھی بڑے بدکار تھے اس قوم سے انتقام لیا جو زلزلہ وغیرہ سے ہلاک کئے گئے۔