72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس سے ان کی آزمائش کریں۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا

لنفتنھم فیہ . یعنی اس سیرابی یا عطاء فراخی کی غرض تھی ‘ ان کی آزمائش ‘ ہم کو ان کا امتحان لینا مقصود تھا کہ (ہماری نعمت کا وہ) کس طرح شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سعید بن مسیب ‘ عطاء بن ابی رباح ‘ ضحاک ‘ قتادہ ‘ مقاتل اور حسن بصری (رح) نے آیت مندرجہ کی یہی تفسیر کی ہے لیکن ربیع بن انس ‘ زید بن اسلم کلبی اور ابن کیسان نے اس طرح تشریح مطلب کی ہے کہ اگر وہ کفر پر قائم رہیں گے تو ہم ان کو بکثرت مال عطا کریں گے تاکہ بطور سزا ان کو فتنہ میں ڈال دیں اور اتنی ڈھیل دیں کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہو کر تباہ ہوجائیں جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : فلما نسوا ما ذکروا بہٖ فتحنا علیھم ابواب کل شئ۔ جب وہ نصیحت کو بھول گئے تو ہم نے ان کے لیے ہر شے کے دروازے کھول دیئے۔ یہ مطلب درست نہیں ہے ‘ ورنہ لازم آئے گا کہ کفر وسعت رزق اور خوشی عیشی کا موجب ہو ‘ حالانکہ آیت : ولو انھم اقاموا التوراۃ ..... اور ولو ان اھل القرٰی امنوا .... میں اس کے خلاف صراحت ہے (ان دونوں آیات میں تو استقامت و ایمان کو وسعت رزق کا موجب قرار دیا ہے پھر کفر موجب کشائش کیسے ہوسکتا ہے) ایک اور آیت ہے : ولا لآ ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمٰن لبیوتھم سقفا من فضۃ ...... اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ کافروں کے مکانوں کے چھت چاندی کے نہ ہونے کی علت یہ ہے کہ اگر ان کے مکانوں کے چھت چاندی کے کردیئے جاتے تو کفر کو مواجب فراخی سمجھ کر سب لوگ ایک امت (کافرہ) بن جاتے کیونکہ لفظ لولا کا تقاضا ہے کہ امتناع اوّل (شرط) کی وجہ سے امتناع جملۂ دویم (جزاء) ہو (پس تمام انسانوں کا ایک جیسا گروہ نہ ہونا بتارہا ہے کہ کفر موجب فراخی نہیں ہے۔ اگر سب کو ایک جیسا گروہ بنانا مقصود ہوتا تو کفر کو موجب دولت بنا دیا جاتا) رہی آیت : فلما نسوا ما ذکروا ....... (جس سے بظاہر نسیان نصیحت ‘ کشائش رزق کا ذریعہ معلوم ہوتا ہے) تو یہ گزشتہ واقعہ کی حکایت ہے (ایک واقعہ ہوا تھا جس کو خدا نے بیان کردیا) عموم پر اس کی دلالت نہیں ورنہ ناقابل نسخ تعارض آیات لازم آئے گا۔ مزید یہ کہ اہل مکہ کے واقعات اوّل تفسیر کی تائید اور دوسری تفسیر کی تردید کر رہے ہیں۔ ابوجہل اور مکہ کے دوسرے کفار جب ایمان نہ لائے تو ہفت سالہ قحط میں مبتلا کردیئے گئے اور ایسا کال پڑا کہ لوگ گوبر کھانے لگے اور آخر بدترین حال میں جنگ بدر میں مارے گئے لیکن وہ ایماندار جو دین الٰہی پر قائم رہے ‘ اللہ نے ان کو قیصر و کسریٰ کی حکومتیں عطا فرمائیں۔ اس کے علاوہ تفسیر اوّل کے صحیح ہونے پر یہ امر بھی دلالت کر رہا ہے کہ آیت مذکورہ کے مقابلہ میں فرمایا ہے۔ ومن یعرض عن ذکر ربہ یسل کہ عذابا صعدا . اس آیت میں ذکر سے روگردانی کرنے والوں کے لیے عذاب کو لازم قرار دیا ہے ‘ اس کا اقتضاء ہے کہ جو لوگ اعراض نہیں کرنے والے ہیں یعنی شریعت اسلامیہ پر استقامت رکھنے والے ہیں ‘ انکے لیے اسکے خلاف حکم ہو یعنی ان کو حسن زندگانی عطا کیا جائے۔ کلام خداوندی میں اس طرح کے تقابل بیان کا معمول ہی ہے۔ عذابِ صع ‘ سخت عذاب ‘ اونچے درجے کا دکھ ‘ عذاب سے مراد عذاب دنیا ہے یا عذاب قبر یا عذاب آخرت ‘ بظاہر اوّل (احتمال) اس جگہ مراد ہے کیونکہ خوش عیشی کے مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے اسی طرح آیت : ومن اعرض عن ذکری فانہ لہ معیشۃً ضنکًا و نحشرہٗ یوم القیٰمۃ اعمٰی میں (اگرچہ تینوں احتمال ہیں لیکن) تنگ زندگی سے دنیا میں تنگی معاش مراد ہے کیونکہ و نعشرہ یوم القیٰمۃ اعمٰی کا اس پر عطف کیا گیا ہے (اور عطف میں اصل یہی ہے کہ معطوف علیہ اور معطف میں مغایرت ہو جب نحشرہٗ میں قیامت کے عذاب کا بیان ہے تو اس سے پہلے تنگی معاش سے دنیوی زندگی کی تلخی مراد ہونی چاہیے) جس طرح آیت : من عمل صالحًا من ذکرٍ او انثٰی وھو مؤمنٌ فلنحیینّہ حیاۃً و لنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون میں حیات طیبہ سے مراد دنیوی خوش عیشی ہے (کیونکہ ولنجزینھم اجرھم ..... سے اجر آخرت مراد ہے اور تقابل کا اقتضاء ہے کہ پہلے والے جملہ میں دنیوی فراخی مراد ہو) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مال تھوڑا ہو یا بہت ‘ اگر تقویٰ نہ ہو تو ایسے مال میں کوئی بھلائی نہیں ‘ یہی زندگی کی تنگی ہے جو لوگ حق سے روگرداں ہوتے ہیں ‘ خواہ وہ کتنے ہی مالدار اور کیسے ہی فراخ دست ہوں لیکن ان کی زندگی تنگ ہی ہوتی ہے کیونکہ ان کو خیال ہوتا ہے کہ (موجودہ مال صرف ہوگیا تو) اس کی جگہ دوسرا مال ان کو نہیں ملے گا۔ اللہ کے متعلق اس بدگمانی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی زندگیاں تنگ ہی گزرتی ہیں۔ سعید ابن جبیر نے کہا : قناعت ان سے چھین لی جاتی ہے۔ اس لیے ان کو سیری حاصل نہیں ہوتی۔ میں کہتا ہوں یہ بات بالکل کھلی ہوئی ہے ٗ دنیا والوں سے قناعت چھین لی جاتی ہے وہ ہمیشہ کمائی کی دھن میں لگے رہتے ہیں ‘ کماتے ہیں اور مال کا چوکیدارہ کرتے ہیں اور ہر وقت مال کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ باہمی بغض و حسد کی یہی بنیاد ہے۔ دشمنوں اور حاسدوں کی کثرت ان کو چین نہیں لینے دیتی۔ یہی عذاب الیم اور تنگی حیات ہے ‘ وہ نہیں جانتے کہ صوفیہ کی زندگی کیسی خوشگوار گزرتی ہے۔ ذکر الٰہی سے اطمینان قلب اور کشائش صدر کا حصول ‘ تھوڑے پر قناعت ‘ دنیا سے استغناء ‘ مخلوق پر مہربانی ‘ ان کے خصوصی اوصاف ہوتے ہیں۔ مصائب سے بھی خوش ہوتے ہیں اور شکر کرتے ہیں کیونکہ ان کو تکالیف سے گناہوں کے کفارہ اور حسن ثواب کے حصول کی امید ہوتی ہے۔ (فراخی حال اور آسائش کا تو ذکر ہی کیا ہے) اللہ جس کو چاہتا ہے دنیا اور آخرت کی راحت عطا فرماتا ہے۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو

وان المسجد للہ . اس جملہ کا عطف ان لو استقاموا پر ہے یعنی منجملہ دوسری وحی کے یہ بھی وحی آئی ہے کہ مسجدیں یعنی وہ مقامات جو نماز کے لیے بنائے جاتے ہیں ‘ اللہ کے لیے مخصوص ہیں (اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک قرار دینے کے لیے نہیں ہیں) ۔ فلا تدعوا مع اللہ احدا . قتادہ نے کہا کہ یہودی اور عیسائی عبادت خانوں میں جا کر عبادتِ الٰہی میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ اس پر اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ مسجدوں میں جائیں تو اپنی دعائیں خالص خدا ہی سے کریں۔ مساجد سے مراد تمام مسجدیں جن کو (شرک وغیرہ سے) پاک رکھنے کا اللہ نے حکم دیا تھا اور فرمایا تھا : طھرا بیتی للطآئفین .... رسول اللہ ﷺ نے بھی حکم دیا تھا کہ اپنے بچوں کو ‘ پاگلوں کو ‘ خدا کے (فرضی جھوٹے) شریکوں کو ‘ خریدو فروخت کو ‘ آپس کے جھگڑوں کو ‘ چیخ و پکار کو حدود (قصاص ‘ سنگساری ‘ سزا ‘ تازیانہ وغیرہ) کو اور تلواروں کو بےنیام رکھنے کو ہماری مسجدوں سے الگ رکھو۔ مسجدوں کے دروازوں پر لوٹے رکھو اور جمعہ میں مسجدوں کے اندر خوشبو سلگاؤ۔ یہ حدیث ابن ماجہ نے بروایت واصلہ مرفوعاً نقل کی ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی نے بسلسلۂ عمرو بن شعیب نقل کیا ہے کہ عمر کے دادا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے اندر بلند آواز سے شعر خوانی کی اور خریدو فروخت کی اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس گناہ کا اتار یہ ہے کہ تھوک کو مٹی میں دبا دیا جائے (اگر زمین خام ہو) ۔ (بخاری و مسلم) حضرت انس کی روایت ہے ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : میری امت کے نیک کام میرے سامنے لائے جائیں گے ‘ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص مسجد سے کوڑا نکال کر باہر پھینک دے گا (تو وہ بھی میری پیشی میں لایا جائے گا) ابوداؤد اور ترمذی نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنی گمشدہ اونٹنی کو مسجد میں ڈھونڈتے سنے تو کہے : اللہ تیری اونٹنی واپس نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی جاتی ہیں۔ مسلم بروایت ابوہریرہ ؓ ۔ ترمذی اور دارمی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اس میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ اگر تم کسی کو مسجد کے اندر خریدو فروخت کرتے دیکھو تو کہہ دو کہ خدا تجھے تجارت میں نفع نہ دے۔ حسن بصری (رح) نے کہا : المسٰجد سے مراد تمام مقامات ہیں کیونکہ اس امت کے لیے تمام زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ کسی کو اللہ کا ساجھی نہ قرار دو اور اللہ کی موجودگی میں کسی دوسرے سے دعا نہ کرو۔ ابن ابی حاتم (رح) نے بسلسلۂ ابو صالح حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جنات نے عرض کیا : (یا رسول اللہ : ﷺ ! ) کیا ہم کو اجازت ہے کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ آپ کی مسجد میں نماز میں حاضر ہوجایا کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر نے حضرت جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ جنات نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ ہم مسجد میں کیسے حاضر ہوں ؟ یا یہ عرض کیا کہ ہم نماز میں کیسے حاضر ہوں ؟ کیونکہ ہم آپ ﷺ سے بہت دور رہتے ہیں ‘ اس پر یہ آیت اتری۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ مسجد سے مراد ہیں اعضاء سجود (ہاتھ ‘ پاؤں ‘ زانو ‘ پیشانی) مطلب یہ ہے کہ یہ اعضاء اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں ‘ ان سے دوسروں کے لیے سجدہ نہ کرو۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے سات ہڈیوں سے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پیشانی ‘ دونوں ہاتھ ‘ دونوں زانو ‘ دونوں قدموں کے سرے اور یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ (نماز میں) کپڑوں کو سمیٹا جائے ‘ نہ بالوں کو۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب خدا کے بندے (محمدﷺ) اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے

وانہ لما قام عبد اللہ . یعنی رسول اللہ ﷺ بجائے رسول یا نبی کے عبداللہ کہنے کی وجہ اس جگہ محض تواضع ہے کیونکہ یہ کلام (اگرچہ خدا کا ہے مگر) ایسے موقع پر واقع ہے کہ گویا رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے متعلق فرمایا ‘ پھر لفظ عبداللہ میں قیام (نماز) کی وجہ بھی دردپردہ بتادی گئی (کہ عبدیت کا تقاضا نماز ہے ‘ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہونے کی وجہ ہی عبدیت ہے) حضرت مجدد قدس سرہٗ نے فرمایا : عبدیت کمال (بشری) کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ یدعوہ . دعا سے مراد ہے عبادت۔ کادوا یکون علیہ لبدا . ہشام کی قراءت میں لُبَد اور باقی قاریوں کے نزدیک لِبَد مروی ہے ‘ بہرحال یہ لِبْدَۃٌ کی جمع ہے۔ لَبْد کا اصل معنی ہے ایسی جماعتیں جن میں سے کچھ لوگ اوپر ہوں کچھ نیچے (ٹھٹ کے ٹھٹ) حسن ‘ قتادہ اور ابن زید نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ توحید کی دعوت دینے کے لیے جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا تو جن و انس سب کے سب دعوت توحید کو باطل کرنے کے لیے اکٹھے ہوگئے۔ وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونک سے بجھانا چاہتے تھے ‘ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ وہ اپنا نور پورا (پھیلا) کر رہے گا اور تمام دشمنوں کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کو کامیابی عطا فرمائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہو کہ جب نخلہ میں رسول اللہ ﷺ عبادت کرنے اور قرآن پڑھنے کھڑے ہوئے تو قرآن سننے کے شوق میں جنات حضور ﷺ کے پاس ہجوم ہو کر آئے اور ٹھٹ کے ٹھٹ جمع ہوگئے۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

قل انما ادعو ربی ولا اشرک بہ احدا . قُلْ بصیغہ امر ‘ عاصم ‘ حمزہ اور ابو جعفر کی قراءت میں ہے۔ باقی اہل قراءت نے قال بصیغۂ ماضی پڑھا ہے یعنی اللہ کے بندہ نے کہا : تم میرے کام کو تباہ کرنے کے لیے کیوں جمع ہوئے ہو ‘ میں تو صرف توحید رب کی طرف بلا رہا ہوں یا یہ مطلب ہے کہ جب جنات اس کا کلام سننے کے لیے شوق کے ساتھ جمع ہوئے تو اس نے کہا : میں صرف اپنے رب کو پکار رہا ہوں تم بھی میری دعا کی طرح رب ہی سے دعا کرو اور کسی کو اس کا ساجھی نہ بناؤ۔ مقاتل نے بیان کیا کہ مکہ کے کافروں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا تم نے حرکت بہت بڑی کی ہے ‘ اب اس سے باز آجاؤ تو ہم تم کو اپنی پناہ میں لے لیں گے ‘ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

قل انی لا املک لکم ضرا ولا رشدا . یعنی تمہارا نقصان و نفع یا گمراہی اور ہدایت میرے قبضہ میں نہیں ہے۔ بصورتِ اوّل رشد بمعنی نفع اور بصورتِ دوئم ضر بمعنی گمراہی ہے۔ بہرصورت ایک اسم کا اصل معنی اور دوسرے کا مجازی معنی مراد ہوگا۔ خواہ سبب بول کر مسبب مراد ہو یا مسبب کا اطلاق سبب پر ہو اس اطلاق سے دونوں معنی پر تنبیہ ہوجائے گی (کہ جس طرح انسان کے قابو میں گمراہی اور ہدایت نہیں ہے ‘ اسی طرح نفع و نقصان بھی اس کی قدرت سے باہر ہے) ۔
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا

قل انی لن یجیرنی من اللہ احد ولن اجد من دونہ ملتحدا . ملتحد ‘ جائے پناہ جس کی طرف رجوع کیا جائے۔ دونوں جملے ایک محذوف سوال کے جواب میں واقع ہوئے ہیں ‘ گویا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تھا کہ جو کفار میرے کام کو تباہ کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں ‘ جب وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ اگر تو پیغمبر ہے تو ہم پر عذاب لے آ ‘ یا کفار کہتے ہیں : اب اس کام سے باز آ جا۔ ہم تجھے اپنی پناہ میں لیتے ہیں تو میں ان کے جواب میں کیا کہوں ؟ (اس جواب کو بتانے کے لیے اللہ نے یہ دونوں جملے نازل فرمائے) یہ بھی ممکن ہے کہ پہلا جملہ سوال محذوف کا جواب ہو گویا رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے دیدار اور ملاقات کا جنات کی طرف سے اشتیاق ملاحظہ کیا تو سوال کیا کہ میں ان سے کیا کہوں ؟ وجہ یہ تھی کہ سب کا انتہائی شوق کے زیر اثر ہجوم کر آنا اس بات کی دلیل تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نقصان ونفع کا مالک خیال کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلا جملہ رسول اللہ ﷺ کی عاجزی کو ظاہر کرنے کے لیے اور دوسرا جملہ اسکے مضمون کی تاکید کے لیے لایا گیا ہو۔ ابن جریر نے حضرمی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جنابت کے کسی سردار نے اپنے گروہ سے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہم سے چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پناہ عطا کریں۔ اس لیے میں ان کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ اس پر آیت : قل انی لن یجیرنی ..... نازل ہوئی۔
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

الا بلغا من اللہ و رسلتہ . استثناء کا تعلق لا املک سے ہے اور درمیانی کلام نفی قدرت کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ حقیقت میں تبلیغ حکم بھی ہدایت اور نفع رسانی ہے (اور تبلیغ نبی کا فرض ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کرنا اور نفع پہنچانا نبی کے قبضہ میں ہے ‘ اس لیے تبلیغ حکم کو لا املک کی عمومی نفی سے مستثنیٰ کرلیا) مطلب یہ ہے کہ مجھ میں نقصان کو دور کرنے اور فائدہ پہنچانے کی اور کچھ طاقت نہیں ‘ صرف تبلیغ احکام اور پیام رسانی میری طاقت میں ہے یا استثناء کا تعلق احدٌ یا ملتحدًا سے ہے یعنی اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا میرے لیے کوئی پناہ گاہ ہے۔ ہاں وہ تبلیغ و پیام رسانی جو میرا فرض ہے وہی مجھے اللہ کے عذاب سے بچا لے گا اور اگر میں نے اس فرض کو ادا نہیں کیا تو اللہ مجھے عذاب دے گا۔ حسن (رح) اور مقاتل نے اس طرح مطلب بیان کیا ہے کہ میں نہ خیر کا مالک ہوں ‘ نہ شر کا ‘ نہ ہدایت کا ‘ ہاں تبلیغ احکام اور پیام رسانی کا فرض خدا کی طرف سے مجھ پر ہے (مطلب یہ ہے کہ الاّ استثنائیہ نہیں ہے بلکہ لکن کے معنی میں ہے) یہ بھی کہا گیا ہے کہ الا اصل میں اِنْ لَا تھا۔ ان شرطیہ اور لا نافیہ ہے اور جزاء محذوف ہے۔ یعنی اگر میں اللہ کا حکم اور پیام نہ پہنچاؤں تو اس کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچائے گا۔ ومن یعص اللہ و رسولہ . یعنی توحید کے معاملہ میں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا اور رسول پر ایمان نہیں لائے گا۔ فان لہ نار جھنم خلدین فیھا ابدا . تو جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہے گا۔ جہنم اسی کے لیے ہے لفظ مَنْ کی رعایت سے یَعْصِ اور کَ کی مفرد ضمیریں لائی گئی اور معنی کے لحاظ سے لفظ خلدین بصورت جمع ذکر کیا گیا اور من یعص کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا کہ میرے اختیار میں صرف تبلیغ احکام ہے۔ میں حکم پہنچا رہا ہوں ‘ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت یاب ہوگا ‘ جو نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے دوامی جہنم ہے۔ اگر کفار کے اجتماع سے ابطال امر رسالت کے لیے کافروں کا اجتماع مراد لیا جائے تو حَتّٰی اِذَا رَاَوْ (جو آگے آ رہا ہے) یکوتون علیہ لبدًا کی غایت ہوگا (یعنی ابطال امر رسالت کے لیے کافروں کا اجتماع اس وقت تک ہے جب تک انہوں نے عذاب کو نہیں دیکھا ہے۔ جب عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو یہ اجتماع ختم ہوجائے گا) اور اگر اجتماع سے مراد جذبہ اشتیاق کے تحت جنات کا اجتماع ہو تو حَتّٰی کا تعلق کلام محذوف سے ہوگا جس پر کفار کی حالت دلالت کر رہی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو ضعیف سمجھ کر آپ ﷺ کی نافرمانی کرتے تھے۔ اصل کلام یوں تھا کہ یہ لوگ برابر رسول کی نافرمانی کرتے رہیں گے اور آپ کو ضعیف سمجھتے رہیں گے یہاں تک کہ عذاب کو دیکھیں گے۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے

حتی اذا راوا ما یوعدون . ما یوعدون سے مراد یا دنیوی عذاب ہے جیسے بدر کا واقعہ (اور اس میں کفار کا قتل) یا قیامت مراد ہے یعنی ساعت موت ‘ کیونکہ جو مرگیا اس کی قیامت آگئی اور قیامت کے دن جہنم کو دکھایا جائے گا (پس جو مرگیا اس نے جہنم دیکھ لیا) ۔ فسیعلمون . جب عذاب آپڑے گا اس وقت ان کو معلوم ہوگا۔ من اضعف ناصرا واقل عددا . کہ مددگاروں کے لحاظ سے کون کمزور ہے اور تعداد کس کی کم ہے ‘ ان کی یا رسول اللہ ﷺ کی۔ یہ پورا سوالیہ جملہ فسیعلمون کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ (عن) قریب (آنے والا ہے) یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کر دی ہے

قل . اے محمد ﷺ کہہدو۔ ان ادری . میں نہیں جانتا کہ۔ اقریب . بعض کافروں نے وعید عذاب کے پورا ہونے کی طلب کی اور کہا یہ وعدۂ عذاب کب پورا ہوگا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ قریبٌ خبر مقدم اور ما تو عدون مبتداء مؤخر ہے یا قریبٌ مبتداء از قسم فعل مشبہ اور ما تو عدون اس کا فاعل ہے۔ ما تو عدون . یعنی (دنیوی) عذاب یا قیامت۔ ام یجعل لہ ربی امدا . امد بمعنی انتہاء اور مقررہ وقت جس سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں۔
Ayah 72:26

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا

علم الغیب . یہ رِبِّیْ کی صفت ہے یا مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہی عالم الغیب ہے ‘ اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ غیب سے مراد ہے وہ چیز جو ابھی تک نہیں آئی جیسے معاد کی خبریں یا وہ چیز جو موجود ہونے کے بعد معدوم ہوگئی جیسے آغاز آفرنیش کی اطلاعات اور وہ گزشتہ واقعات جو صفحات تاریخ پر بھی موجود نہیں یا غیب سے مراد ہیں اللہ تعالیٰ کے وہ اسماء اور صفات جو بندوں کو معلوم نہیں اور کسی دلیل سے بھی ان کا پتہ نہیں ملتا لیکن جن صفات و اسماء پر برہان قائم اور دلیل موجود ہے جیسے اللہ کی ہستی ‘ اس کا ناقابل زوال ہونا ‘ اس کا واحد ہونا ‘ اس کے اندر صفات کمال کا موجود ہونا اور صفات نقص وزوال سے اس کا پاک ہونا تو یہ چیزیں عالم شہادت کی ہوگئیں ‘ ان کا شمار غیب میں نہیں ہے کیونکہ ان کے دلائل موجود ہیں۔ اسی طرح حدوث عالم کا مسئلہ بھی غیبی مسئلہ نہیں بلکہ عالم شہادت کا ہے کیونکہ عالم کا تغیر پذیر ہونا محسوس ہے اور تغیر حدوث پر دلالت کر رہا ہے ‘ ان تمام اقسام غیب کا علم اللہ کی توفیق سے ممکن ہے۔ کچھ چیزیں بعض افراد کے اعتبار سے غیب ہوتی ہیں اور بعض کے لحاظ سے نہیں ہوتیں مثلاً جنات کے احوال اور دور کی چیزوں کا علم انسانوں کے لیے غیب ہے ‘ جنات کے لیے شہادت ہے۔ اسی لیے (حضرت سلیمان کے زمانہ میں) کچھ لوگ خیال کرتے تھے کہ جن غیب سے واقف ہوتے ہیں حالانکہ جنات صرف شہادت کو جانتے تھے (جو چیز انسانوں کے لیے غیب تھی وہ جنات کے سامنے حاضر تھی اس لیے جنات کو غیب کا نہیں بلکہ حاضر کا علم تھا) اللہ نے حضرت سلیمان کے قصہ میں (جنات کے عالم الغیب ہونے کی تردید میں) فرمایا فلما خرتبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المھین۔ یا جیسے زمین والوں کے لیے آسمان کے احوال ‘ مشرق والوں کے لیے مغرب کے احوال اور مغرب والوں کے لیے مشرق کے احوال غیب ہیں ‘ اس قسم کا علم غیب کبھی وحی الہام سے حاصل ہوجاتا ہے اور کبھی درمیانی پردے اٹھ جانے اور وسطی حجابات کے شفاف ہوجانے کی وجہ سے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : میں حجر میں موجود تھا اور قریش مجھ سے سیر شب (معراج) کی کیفیت پوچھ رہے تھے ‘ انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی بعض ایسی باتیں پوچھیں جو مجھے ٹھیک یاد نہ تھیں اس وقت مجھے ایسی پریشانی ہوئی کہ ویسی پریشانی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ پھر اللہ نے میری نگاہ سے حجاب اٹھا دیا ‘ اب جو کچھ وہ مجھ سے پوچھتے تھے میں ان کو بتادیتا تھا۔ بیہقی نے بروایت ابو عمر ؓ بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ایک لشکر بھیجا اور ساریہ نام کے ایک شخص کو اس کا کمانڈر مقرر کیا۔ ایک روز حضرت عمر ؓ خطبہ دے رہے تھے ‘ دوران خطبہ میں بلند آواز سے پکارنے لگے : اے ساریہ ! پہاڑ (کی طرف) دیکھ۔ ابو داؤد (رح) نے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ نجاشی کی وفات کے بعد ہم آپس میں تذکرہ کرتے تھے کہ ان کی قبر پر پیہم ایک نور نظر آتا ہے۔ حجابات اٹھنے کے بعد یہ علم بھی علم نہیں رہتا بلکہ علم الشہادۃ ہوجاتا ہے۔ اگرچہ معجزہ اور کرامت کے طور پر ہی اس کا حصول ہوتا ہے۔ فلا یظھر علی غیبہ احدا . یعنی وہ اپنے غیب پر کسی مخلوق کو مطلع نہیں فرماتا۔
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے

الا من ارتضی . مگر جن کو وہ پسند کرلیتا ہے ان کو واقف کردیتا ہے تاکہ یہ علم ان کا معجزہ ہو جائے اور وہ فرمانبرداروں کو بشارت دے سکیں اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈرائیں۔ من رسول . رسول کا لفظ عام ہے ‘ انسان ہو یا فرشتہ دونوں اس میں داخل ہیں ‘ لفظ رسول انبیاء کو بھی شامل ہے۔ تمام انبیاء تبلیغ احکام کے لیے خدا ہی کے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں۔ صرف ایسے نبی کو رسول کہنا جس کو جدید شریعت اور کتاب دے کر بھیجا گیا ہو ‘ محض اصطلاح ہے (باعتبار حقیقت و لغت ہر نبی رسول ہوتا ہے) بعض علماء کا قول ہے کہ بطور عموم مجاز اولیاء کو بھی لفظ رسول شامل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤ ‘ ابن ماجہ ‘ دارمی بروایت کثیر بن قیس و ابن البخاری بروایت انس ؓ اور ابن عدی بروایت علی ؓ مؤخر الذکر دونوں راویوں کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : علماء زمین کے چراغ اور انبیاء (علیہم السلام) کے جانشین ہیں ‘ یا یہ فرمایا کہ علماء میرے وارث اور انبیاء (علیہم السلام) کے وارث ہیں۔ ابن عقیل نے بروایت انس ؓ یہ الفاظ نقل کیے کہ علماء اس وقت تک پیغمبروں کی طرف سے امین ہیں جب تک بادشاہ کے ساتھ نہ مل جائیں اور دنیا میں نہ گھس جائیں۔ اہل السنت والجماعت قائل ہیں کہ اولیاء کی کرامتیں (حقیقت میں) ان کے پیغمبر ہی کا معجزہ ہوتی ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہٖ ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں ہی پیام رساں بنا کر بھیجا ہے اور چونکہ حضور خاتم النبیین ﷺ کو تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے (اور تمام انسان آپ کی قوم قرار پائی) اس لیے جو علماء و اولیاء آپ ﷺ کے پیرو ہوئے ‘ اہل سنت کے نزدیک وہ آپ ﷺ ہی کی زبان ہوئے تاکہ حضر درست ہوجائے اور لسان قومہ میں اضافت کا عموم صحیح قرار پائے (پس علماء امت اور اولیاء اسلام سے جو کرامتیں ظاہر ہوئیں وہ حضور ﷺ ہی کا معجزہ ہوئیں) اب اگر لفظ رسول اولیاء کو شامل مانا جائے اور اولیاء کو بطور کرامت علم غیب حاصل ہوجائے تو کوئی خرابی نہیں (گویا اولیاء کو علم غیب ‘ رسول مرتضیٰ کا علم غیب ہوا اور رسول مرتضیٰ کے لیے علم غیب کا عطا ہونا آیت سے ثابت ہے) لیکن اگر اولیاء کو لفظ رسول شامل نہ بھی ہو تو اولیاء کو جو علم غیب حاصل ہوتا ہے حکم آیت کا ناقص نہیں ہے کیونکہ اولیاء کو جو علم وہ قطعی یقینی نہیں ہوتا ‘ ظنی ہوتا ہے (جس میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے) اسی لیے صوفیہ کا قول ہے کہ صوفیہ کے مکاشفات کا کتاب و سنت (قرآن و حدیث) سے مقابلہ کرنا ضروری ہے ہے اگر قرآن و حدیث کے موافق ہوں تو قبول کیے جائیں کیونکہ قطعی کے موافق کا بھی قطعی ہونا ضروری ہے اگر مخالف ہوں تو قبول نہ کیے جائیں۔ یہ بھی صوفیہ کا قول ہے کہ جس چیز کو شریعت نے رد کردیا ‘ وہ گمراہی ہے اور اگر شریعت اس چیز میں خاموش ہو تو اس کو قبول کرلیا جائے گا مگر (وہ چیز یقینی نہیں قرار پائے گی) غلطی کا احتمال اس میں باقی رہے گا اور آیت میں علم غیب سے مراد وہ علم ہے جو یقینی اور قطعی ہو۔ ہماری اس توضیح سے زمخشری صاحب کشاف کا وہ اعتراض دفع ہوگیا جس کی بناء اعتزال پر ہے کہ اس آیت سے کرامات اولیاء کا بےحقیقت ہونا ثابت ہوتا ہے (کیونکہ آیت سے عطاء علم غیب صرف رسولوں کے لیے مستفاد ہوتا ہے) جن اولیاء کی طرف کرامتوں کی نسبت کی جاتی ہے ‘ وہ یقیناً پیغمبر نہیں ہوتے۔ ان بدعتیوں کی تکذیب کے لیے مندرجہ ذیل آیات کافی ہیں (جن میں ایسے لوگوں کو علوم غیب عطا کرنے کا تذکرہ ہے جو انبیاء نہ تھے) مثلاً اللہ نے فرمایا ہے : واوحینا الٰی ام موسیٰ ان رضعیہ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولاتخافی ولا تخزنی انا ارادوہ الیک وجا علوہ من المرسلین۔ ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام کیا کہ موسیٰ کو دودھ پلا۔ اگر اس کے متعلق تجھے کچھ خطرہ ہو تو اس کو دریا میں پھینک دینا اور کچھ اندیشہ و رنج نہ کرنا۔ ہم ضرور اس کو دوبارہ تیرے پاس لوٹا دیں گے اور پیغمبروں میں سے بنائیں گے (یہ سب آئندہ کی باتیں حضرت موسیٰ کی والدہ کو الہام کی گئیں باوجودیکہ وہ پیغمبر نہ تھیں) ۔ ایک اور آیت ہے (جس میں حضرت مریم کا تذکرہ ہے اور مریم پیغمبر نہیں تھیں) فنادٰھا من تحتھا ان لا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریا و ھزی الیک بجزع النخلۃ تساقط علیک رطبا جن یا فکلی واشربی و قری عینا فاما ترین من البشر احدا فقولی الی نذرت للرحمٰن صوما فلن اکلم الیوم انسیا۔ فرشتہ نے نشیبی جانب سے مریم کو پکارا کہ کچھ رنجیدہ نہ ہو تیرے خدا نے تیرے نیچے نہر جاری کردی اور درخت کھجور کے تنہ کو ہلا (باوجود خشک ہونے کے) اس سے تازہ کھجوریں گریں گی ‘ کھجوریں کھا پی ‘ بچہ سے آنکھیں ٹھنڈی کر۔ اب اگر تجھے کوئی آدمی دکھائی دے تو اس سے بات نہ کر اور اشارہ سے بتادے کہ میں نے آج اللہ کی نذر کا روزہ رکھا ہے اس لیے کسی شخص سے آج بات نہیں کروں گا۔ ایک اور آیت میں فرمایا : واذاوحیت الی الحواریین ان اٰمنوا بی و برسولی۔ میں نے حواریوں کو الہام کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ۔ تنبیہ اولیاء کے جس علم کو ہم نے ظنی کہا ہے اس سے مراد علم حصولی ہے جو کبھی الہام سے حاصل ہوتا ہے۔ خواہ بتوسط ملائکہ ہو یا براہ راست اور کبھی درمیانی حجابات اٹھ جانے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے جیسے ساریہ والی حدیث میں حضرت عمر کا قول ہم نقل کرچکے ہیں۔ اسی قسم میں اس انکشاف کو داخل قرار دیا گیا ہے جو بعض اولیاء کو کسی وقت لوح محفوظ کا ہوجاتا ہے اور وہ قضاء مبرم و معلق کا مطالعہ کرتے ہیں اور کبھی کشف علمی خواب یا مراقبہ کی حالت میں عالم مثال کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : صالح خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہیں۔ (بخاری و مسلم) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سوائے مبشرات کے نبوت کا اور کوئی حصہ باقی نہیں رہا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : مبشرات کیا ؟ فرمایا : صالح خواب۔ (بخاری) علم کے ان تمام اقسام میں انبیاء کے علاوہ اوروں سے غلطی واقع ہوسکتی ہے کیونکہ الہام میں شیطان گڑبڑ کرسکتا ہے ‘ آدمی کے دل کے دو خانے ہیں : ایک فرشتہ کا ‘ دوسرا شیطان کا۔ کبھی کشف شیطانی ملکی چمکارے کی شکل میں نمودار ہوجاتا ہے کیونکہ وہم دخل انداز ہوجاتا ہے یا شیطان کشف اور عالم مثال کے مطالعہ میں دھوکہ دے دیتا ہے۔ حضرت ابو قتادہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نیک خواب اللہ کی طرف سے اور بد خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ (بخاری و مسلم) محمد بن سیرین کا قول ہے کہ خواب تین ہوتے ہیں : 1) نفس کا تخیل ‘ 2) شیطان کی طرف سے ڈراوا ‘ 3) اللہ کی طرف سے بشارت۔ (متفق علیہ) کبھی خواب کی تعبیر میں غلطی ہوجاتی ہے۔ کشف اولیاء میں اگرچہ غلطی کا امکان ہوتا ہے مگر غلطی کا وقوع بہت ہی نادر ہے کیونکہ اولیاء انبیاء سے مشابہت رکھتے ہیں (فرق یہ ہے کہ) انبیاء ہمیشہ معصوم ہیں اور اولیاء اکثر (خطاء علمی سے) محفوظ ہوتے ہیں۔ رہا اولیاء کا علم حضوری بلکہ حضور سے بھی زیادہ کاشف۔ جس کو علم لدنی کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق اللہ کی ذات وصفات سے ہوتا ہے تو اس میں خطا کا امکان نہیں ہوتا ہے وہ وجدانی اور قطعی ہوتا ہے بلکہ اس علم کا درجہ عام قطعی علوم سے اونچا ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذات کا علم حضوری و وجدانی ہوتا ہے کیونکہ خود ہی عالم ہے اور خود ہی معلوم۔ اپنی ذات کو جاننے کے لیے کسی تصور کی ضرورت نہیں پڑتی اور اللہ کی ذات سے تعلق رکھنے والے صوفی کا وجدانی علم اس سے بھی بالاتر ہوتا ہے۔ اللہ تو آدمی سے اتنا قریب ہے کہ وہ خود بھی اپنی ذات سے اتنا قرب نہیں رکھتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : نحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ یعنی ہم تم سے اتنا قرب رکھتے ہیں کہ تم خود اپنے سے اتنا قرب نہیں رکھتے ‘ مگر اے عوامی نظر رکھنے والو ! ہم تم کو نظر نہیں آتے۔ پس یہ لدنی علم اولیاء کو پیغمبروں کے توسل سے حاصل ہوتا ہے اگرچہ پیغمبر تک پہنچنے کے درمیانی وسائل کتنے ہی زیادہ ہوں۔ ایک شبہ آیت : نحن اقرب الیہ منکم ...... میں روئے خطاب سب آدمیوں کی طرف ہے اور اس عمومی خطاب کا تقاضا ہے کہ سب لوگوں کو اللہ کی ذات کا حضوری علم بلکہ حضوری سے بالاتر علم حاصل ہوجائے۔ ازالہ علم زندگی کے تابع ہے بغیر حیات کے علم کا امکان نہیں اور سورة ملک کی تفسیر میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ زندگی کی چار قسمیں ہیں جن میں سے ایک قسم کی زندگی وہ ہے جو اپنے ساتھ معرفت کو لاتی ہے ‘ یہ زندگی ذاتی اور صفاتی تجلی سے وابستہ ہے ‘ اسی زندگی کو حاصل کرنے کے لیے کسی علم اور تصوف کی ضرورت ہوتی ہے (یعنی عوام کو حیات معرفت آفریں حاصل نہیں) ۔ سوال اگر صوفیہ کا علم حضوری و وجدانی قطعی ہے اور اس میں غلطی کا امکان نہیں تو پھر اقوال صوفیہ میں تعارض کیوں ہوتا ہے ؟ اور کیوں صوفیہ علم حضوری میں خطا کرتے ہیں ؟ تعارض اقوال کے لیے تو مثبت و منفی دو علموں میں سے کسی ایک کا غلط ہونا لازم ہے ‘ کوئی توحید وجودی کا قائل ہے اور کوئی توحید شہودی کا (اور ظاہر ہے کہ یہ علم وجدانی اور قطعی ہے۔ پھر شہودی اور وجودی کا فرق کیوں ہے اور ایک غلط کیوں ہے ؟ ) جواب علم حضوری کو بیان کرنے کے لیے الفاظ وضع ہی نہیں کیے گئے ‘ اس لیے الفاظ کے ذریعہ اس کی تصویر کشی میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ چیز ایک ہی ہے ‘ بیان مختلف ہیں۔ اختلاف علم حضوری میں نہیں بلکہ علم حضوری کو جاننے میں ہے ‘ اس لیے خطا اگر ہوتی ہے تو علم حضوری میں نہیں ہوتی بلکہ علم حضوری کے بیان میں ہوتی ہے۔ ایک فارسی شاعر کہتا ہے ؂ گفتگوئے کفر و دیں آخر بیک جامی کشد خواب یک خوابست باشد مختلف تعبیرہا اس شعر میں کفر سے مراد ہے کفر طریقت اور دین سے مراد ہے شریعت اور کفر طریقت کا نام ہے توحید وجودی۔ خلاصۂ مقام یہ ہے کہ خالق و مخلوق کا باہمی تعلق وہ ہے جو کسی دو چیزوں میں نہیں ہے ‘ کیونکہ کوئی شئے کسی شئے کی خالق نہیں۔ خالق صرف خدا ہے ‘ پس کسی چیز کی کسی چیز سے ایسی نسبت نہیں جو خالق کی مخلوق سے ہے۔ نقش کی نقاش سے اور لکڑی کے پیالہ کی صناع سے بھی نسبت ہے مگر ویسی نہیں جو مخلوق کی خالق سے ہے۔ نقش کا مادہ رنگ اور لکڑی کے پیالہ کا مادہ لکڑی ہے اور نقاش نہ رنگ کا خالق ہے ‘ نہ صناع لکڑی کا بلکہ دونوں مادے خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں پھر فعل نقاش و صناع کے بعد صورت نقشیہ اور ہیئت قدحیہ بھی خدا ہی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ کوئی نقاش و صناع اس ہیئت کا بھی خالق نہیں (بلکہ آلۂ تخلیق اور ایجادِ ہیئت کی درمیانی کڑی ہے۔ خالق ہر صورت کا بھی خدا ہی ہے) بلکہ صناع و نقاش کا عمل بھی خدا ہی کا پیدا کردہ ہے۔ خواہ معتزلہ اس کو تسلیم نہ کریں (اور انسانی اعمال کا خالق انسان کو قرار دیں) مگر حقیقت یہی ہے کہ ہر صناع (خالق نہیں بلکہ) بعض افعال کا کا سب ہے اور دو خارجی یا ذہنی چیزوں میں نسبت یا عینیت کی ہوتی ہے غیریت کی یا طلیت کی یا کچھ اور (مثلاً انسان اور حیوان ناطق دونوں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ حقیقت میں دونوں ایک ہیں اور انسان پتھر سے غیر ہے اور فوٹو کی نسبت انسان سے ظلیت اور عکسیت کی ہے) اور خالق و مخلوق کے درمیان جو نسبت ہے وہ ان سب سے الگ ہے۔ اس کو بیان کرنے سے ہر لفظ قاصر ہے ‘ کوئی لفظ اس کو ظاہر کرنے کے لیے کسی زبان میں بنا ہی نہیں۔ پس اگر ہم کہتے ہیں کہ خالق مخلوق کا عین نہیں تو خیال کیا جاتا ہے کہ جب عین نہیں تو ضرور غیر ہوگا یا مخلوق کی اس سے نسبت ظلیت کی ہوگی ‘ حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے یا اگر ہم کہیں کہ مخلوق خالق سے غیر نہیں تو چونکہ غیریت اور عینیت میں لزوم ہے اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ جب مخلوق غیر خالق نہیں تو ضرور عین خالق ہوگی حالانکہ یہ بھی غلط ہے ‘ اسی طرح نفی عینیت سے وجود ظلیت پر استدلال کیا جاتا ہے ‘ حالانکہ مخلوق کی نسبت ظلیت کی بھی نہیں ہے ‘ مگر غیر نہ ہونا یعنی عین ہونا یا عین نہ ہونا یعنی غیر ہونا یا ظل ہونا صرف لفظی تعارض رکھتا ہے۔ علم حضوری میں نہ کوئی اختلاف ہے ‘ نہ تعارض۔ مخلوق اور خالق کے درمیان جو نسبت ہے اس کو ظاہر کرنے سے ہر تعبیر اور ہر کلام قاصر ہے۔ پس سب سے اعلیٰ تعبیر یہ ہے کہ یوں کہا جائے : لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ءٌ وَّھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ اور ہر علم حصولی کی اصل غرض اس علم لدنی کا حصول ہے۔ علم حصولی اصل مقصود نہیں۔ یہ تو ظنی ہے اور ظن کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ظن سے واقعی قطعی علم حاصل نہیں ہوتا اس لیے بذات خود علم حصولی مقصود نہیں۔ شبہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ علم اولیاء ‘ علم انبیاء میں داخل ہے یا ظنی ہونے کی وجہ سے آیت کا حکم اس کو شامل ہی نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کہانت ‘ نجوم اور طبّ ایسے علوم ہیں جن کی بعض اوقات صداقت تجربہ سے ثابت ہوتی ہے (پھر کیا ان علوم کو قطعی علم غیب کہا جائے گا باوجودیکہ ان علوم کے جاننے والوں کو انبیاء نہیں کہا جاتا ‘ نہ وہ انبیاء ہوتے ہیں) بخاری نے بروایت ابو الغاظور حاکم ایلیاء کی بیان کردہ حدیث نقل کی ہے۔ حاکم ایلیاء مسلمان ہوچکا تھا ‘ اس کا بیان ہے کہ جس زمانہ میں ہرقل ایلیا میں آیا تھا تو ایک روز صبح کو کچھ پریشان تھا۔ کسی سردار نے پوچھا : آج آپ کی حالت ہم غیر پاتے ہیں ‘ کیا وجہ ہے ؟ ہرقل نجومی تھا۔ سوال کے جواب میں بولا : آج رات جب میں نے نجوم کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ختنہ کرنے والی قوم کا بادشاہ برآمد ہوگیا ہے۔ ہرقل نے اپنے اس مطالعہ کی اطلاع اپنے کسی دوسرے ساتھی کو بھی لکھ بھیجی جو ہرقل کی طرح ہی ماہر نجوم تھا ‘ اس کے خط سے بھی ہرقل کی رائے کی تائید ہوگئی اور اس نے لکھ دیا کہ نبی ﷺ برآمدہو گیا اور وہ واقعی نبی ﷺ ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ کاہنوں اور نجومیوں نے فرعون کو اطلاع دے دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا اور فرعون کی حکومت کا زوال اسی کے ہاتھ سے ہوگا ‘ یہی وجہ تھی کہ فرعون بنی اسرائیل کے نو زائیدہ لڑکوں کو قتل کرا دیتا تھا اور لڑکیوں کو قتل نہ کراتا تھا۔ طبیب بھی مرض کی کیفیت اور مریض کو شفاء دینے والی دوا اور جڑی بوٹیوں کے خواص سے واقف ہوتے ہیں اور ان کا یہ علم کبھی قطعی ہوتا ہے۔ ازالہ کاہن کی دی ہوئی خبر اگر صحیح نکلتی ہے تو وہی ہوتی ہے جو ملائکہ کی باہمی گفتگو سے چوری کے ساتھ جنات سن کر کاہن سے آکر کہہ دیتے ہیں اور ملائکہ بہرحال اللہ کے رسول ہیں مگر کاہن اور شیطان اس ایک سچی بات میں بکثرت جھوٹ کی آمیزش کردیتے ہیں ‘ اسی لیے شریعت نے کاہنوں کی تصدیق کی ممانعت فرمائی ہے۔ حضور اقدس ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو چوری چھپے سننے ہی کی یا تو بالکل یا غالباً ممانعت ہوگئی۔ اس لیے اب کہانت بےحقیقت ہوگئی۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیا گیا۔ فرمایا : وہ کبھی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو سچی ہوتی ہے اور وہ بات (خدا کی طرف سے) حق ہوتی ہے۔ جس کو کوئی جن لے جھپٹتا ہے اور مرغی کی ٹھونگ کی طرح اپنے دوست (کاہن) کے کان میں کٹ کٹ کردیتا ہے۔ وہ سو سے زیادہ جھوٹ اس میں ملا دیتے ہیں۔ (بخاری و مسلم) رہا علم نجوم اور فن طبّ ‘ تو ان کی بنیاد تجربہ پر ہے اور تجربہ علم غیب نہیں ‘ علم شہادت ہے اور یہ امر زیادہ واضح ہے کہ دواؤں کی خاصیت و طبیعت کی شناخت اور ستاروں کے خواص یعنی سعادت و نحوست وغیرہ کی پہچان ‘ غرض یہ کہ علم طب اور علم نجوم دونوں علوم انبیاء سے حاصل کردہ چمکارے ہیں۔ نبوت کے چراغ کی کرنیں ہیں۔ روایت کا سلسلہ تو معدوم ہوگیا ‘ کتابوں میں ان کا وجود باقی رہ گیا اور لوگوں نے تجربہ کی شہادت پر ان دونوں علموں میں اکتفا کرلیا۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا ہے : فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقیم۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں پر غور کی نظرڈالی اور کہا : میں بیمار ہوں یعنی عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔ بغوی نے سورة سباء کی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ بیت المقدس کی محراب میں جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) ہوتے تھے تو روزانہ ایک درخت وہاں اگتا تھا۔ آپ پوچھتے تھے : تیرا کیا نام ہے ؟ وہ اپنا نام بتاتا تھا ‘ پھر آپ دریافت کرتے تھے : تو کس کام کے لیے ہے ؟ وہ جواب دیتا تھا ٗ ایسے ایسے کام کے لیے ‘ پھر آپ اس کو کاٹ دینے کا حکم دے دیتے تھے ‘ اگر وہ بوئے جانے کے قابل ہوتا تو اس کا پودا بو دیا جاتا تھا اور اگر کوئی دوا ہوتی تھی تو اس کو (نام اور خاصیت کے ساتھ) لکھ لیا جاتا تھا۔ آخر خروبہ بوٹی پیدا ہوئی۔ آپ نے اس کا نام پوچھا ‘ اس نے خروبہ بتایا۔ آپ نے پوچھا : تو کس کام کے لیے ہے ؟ اس نے جواب دیا : آپ کی مسجد کی ویرانی کے لیے۔ یہ قصہ امام غزالی (رح) نے اپنی کتاب منقذ من الضلال میں ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ علم طبّ اور نجوم یقینی علوم نہیں کیونکہ دواؤں اور ستاروں کی تاثیر (بذات خود کچھ نہیں) ایک عادی امر ہے۔ اللہ کا معمول ہے کہ دواؤں کو استعمال کرنے اور ستاروں کے طلوع ہونے کے بعد اللہ کچھ تاثیریں پیدا کردیتا ہے لیکن بہت مرتبہ وہ تاثیریں نمودار نہیں بھی ہوتیں۔ یہ تو اللہ کی مشیت ہے جیسا چاہتا ہے ‘ کردیتا ہے ( دواء کا استعمال یا ستارہ کا طلوع بذات خود یقینی طور پر اثر آفریں نہیں) اس تقریر سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی نجوم کا قائل ہو اور یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ کا معمول یہ ہے کہ اس ستارہ کے طلوع کے بعد اللہ یہ اثر پیدا کردیتا ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر نہیں ہوجاتا۔ یہ بات تو ایسی ہی ہے جیسے کسی کا عقیدہ ہو کہ دواء پینے سے اللہ شفاء عطا کرتا ہے اور زہر پینے سے موت مسلط کردیتا ہے۔ ہاں ! جس شخص کا عقیدہ ہو کہ ستاروں کے طلوع و غروب سے براہ راست کسی اثر کی پیدائش وابستہ ہے (اور ستاروں کا طلوع و غروب واقعات کا موجود اور علّت تامہ ہے) تو ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہوجائے گا۔ جیسے دواء کو شفاء کی علّت تامہ سمجھنے والا کافر ہوجائے گا۔ حضرت زید بن خالد ؓ جہنی نے فرمایا کہ ایک روز حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز ہم کو پڑھائی۔ رات کو بارش ہوچکی تھی ‘ نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا : کیا تم واقف ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ہیبخوبی علم ہے (حضور ﷺ نے فرمایا) اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے بندوں میں سے کچھ لوگ مؤمن رہے اور کچھ کافر ہوگئے۔ جنہوں نے کہا : اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے اور ستاروں (کی تاثیر حقیقی) کے منکر ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ فلاں ‘ فلاں ستارے کے طلوع کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی وہ میرے منکر اور ستاروں کے عقیدت مند ہوئے۔ (بخاری و مسلم) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤخر الذکر عقیدہ والا کافر ہے اور اوّل عقیدہ والا کافر نہیں۔ مگر فن نجوم میں مشغول ہونا مطلقاً مکروہ ہے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے علم نجوم سے اقتباس کیا ‘ اس نے سحر کی ایک شاخ سے اقتباس کیا ‘ اس نے (بظاہر علم میں) زیادتی کی اور (حقیقت میں) کچھ زیادتی نہیں کی۔ یہ حدیث حضرت ابن عباس کی روایت سے احمد ‘ ابوداؤد اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے۔ اسی طرح علم خطوط و نقاط (علم رمل) بھی تعلیم انبیاء کا خوشہ چیں ہے مگر مفید ظن ہے ‘ قطعی نہیں ہے ‘ باقی بدشگونی بالکل بےحقیقت ہے۔ حضرت معاویہ بن حکم ؓ نے بیان کیا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم جاہلیت کے زمانہ میں کچھ کیا کرتے تھے (مثلاً ) کاہنوں کے پاس جاتے تھے (اب کیا حکم ہے ؟ ) فرمایا : کاہنوں کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کیا : ہم بدشگونی لیتے تھے ‘ فرمایا : یہ تمہارا ذاتی تاثر ہوتا ہے ‘ اب یہ (شگون) تم کو (کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے سے) نہ روکے۔ میں نے عرض کیا : ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں (اور اس طرح آئندہ کی خبر معلوم کرنا چاہتے ہیں) فرمایا : ایک پیغمبر خط کشی (فن رمل کا عمل) کیا کرتے تھے ‘ اب جس کی کھینچی ہوئی لکیر اس کے موافق ہوجاتی ہے تو وہی ہوجاتا ہے۔ (مسلم) اسی طرح علم سحر بھی آسمان سے اترا تھا لیکن (اس کو کرنا) کفر ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت و ماروت و ما یعلمٰن من احد حتّٰی یقولا انما نحن فتنۃ فلا تکفر۔ سورة بقر میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ سوال کبھی ان کافروں کو بھی غیب کی اطلاع ہوجاتی ہے جو سادھو بن کر بھوکے رہتے اور ریاضت کرتے ہیں۔ جواب علم غیب کی اصل بنیاد کشف حجابات یا مطالعہ عالم مثال ہے لیکن درمیانی حجابات کیسے ہٹتے ہیں یا عالم مثال کا مطالعہ کس طرح ہوجاتا ہے ‘ اس کی دو صورتیں ہیں : 1) صوفی جب شریعت کا اتباع کرتا ہے اور سنت پر چلتا ہے تو اس کے ظاہری اور باطنی حواس روشن ہوجاتے ہیں ‘ یہی روشنی اس کے لیے علم غیب کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اسی کو فراست مؤمن کہا گیا ہے۔ 2) بھوکا رہ کر ریاضت اور نفس کشی کر کے بھی بعض اوقات درمیانی حجابات اٹھ جاتے ہیں اور مثالی شکلیں (یعنی غیر مادی عالم بالا کی تصویریں) نظر کے سامنے آجاتی ہیں مگر حقیقت میں یہ علم غیب نہیں ہوتا علم بالشہادۃ ہوتا ہے (جس چیز کا علم ہوجاتا ہے وہ یا اس کی مثالی صورت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے) پھر یہ بھی سمجھنے کی بات ہے کہ جب اولیاء کا علم کشفی و مثالی ظنی ہوتا ہے (یقینی نہیں ہوتا) اور اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے تو پھر ان شیطانوں کے چیلوں کے علم کی کیا وقعت ہے ‘ جن کو بہکانے کے لیے شیطان پرفریب القا کرتا ہے ‘ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ ایسا نہ کرسکتے مگر اللہ جو چاہتا ہے ‘ کرتا ہے۔ آیت میں علم غیب سے مراد ہے ظہور قطعی جو شیطان کی دخل اندازی سے بالکل پاک ہو ‘ اس کا ثبوت آئندہ آیت میں ہے ‘ فرمایا ہے۔ فا نہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا . رسول کے آگے ‘ پیچھے یعنی ہر طرف اللہ کچھ نگران ‘ چوکیدار مقرر کردیتا ہے۔ رَصَد جمع ہے راصد کی یعنی نگہداشت کرنے والے ملائکہ جو اس بات کی نگرانی رکھتے ہیں کہ کوئی شیطان چوری سے نہ سن لے یا وحی کے اندر کسی غیر وحی کو شامل نہ کر دے۔ مقاتل وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ کسی پیغمبر کو مبعوث فرماتا ہے تو ابلیس فرشتہ کی شکل میں نمودار ہو کر اس پیغمبر کو (کچھ اپنی طرف سے) اطلاع دے دیا کرتا تھا ‘ اس کی روک کے لیے اللہ نے کچھ فرشتے مامور کردیئے جو شیطانوں کو مار بھگاتے تھے اور حامل وحی فرشتہ کے پاس بھی نہیں آنے دیتے تھے۔ اب اگر شیطان فرشتہ کی شکل میں اس پیغمبر کے پاس آتا تھا تو یہ ملائکہ پیغمبر سے کہہ دیتے تھے ‘ یہ شیطان ہے اس سے احتیاط رکھو اور اگر اصل فرشتہ آتا تھا تو بتا دیتے تھے یہ اللہ کا فرستادہ ہے۔ آیت مذکورہ کے ہم معنی ایک اور آیت ہے ‘ فرمایا ہے : لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

لیعلم ان قد ابلغوا رسلت ربھم . تاکہ اللہ جان لے (یوں تو اللہ کو ہر چیز کا علم پہلے سے ہے یہاں) جاننے سے مراد ہے علمی تعلق کا کسی موجود کے ساتھ ظاہر ہوجانا۔ یہی مراد آیت : لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب میں بھی ہے۔ شیاطین سے بھی حفاظت کرنے کے لیے ملائکہ کو مامور کرنے کی یہ علّت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حفاظت وحی کے بعد اللہ کو معلوم ہوجائے کہ پیغمبروں نے اپنے رب کے پیام بلا کم و بیش پہنچا دیئے۔ حاصل کلام یہ کہ پیغمبر اللہ کے پیام کو بغیر تبدیل و تغیر اور آمیزش کے پہنچا سکیں۔ اسی غرض کے لیے اللہ نے حفاظت وحی کے لیے فرشتوں کو مقرر کردیا ہے۔ بعض لوگوں نے لیعلم کا فاعل رسول کو قرار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کو معلوم ہوجائے کہ اس نے اور اسکے دوسرے پیغمبر بھائیوں نے صحیح صحیح اللہ کے پیغام پہنچا دیئے اور شیطان اس میں کوئی مداخلت نہ کرسکا ‘ نہ اسکو بگاڑ سکا ‘ نہ اس میں آمیزش کرسکا یا ابلغواکا فاعل ملائکہ ہیں۔ مطلب یہ کہ پیغمبر کو معلوم ہوجائے کہ ملائکہ نے اللہ کا پیام ‘ صحیح سالم ‘ بغیر شیطان کی دخل اندازی کے مجھ تک پہنچا دیا۔ واحاط بما لدیھم . یعنی پیغمبروں کو جو علم دیا گیا ہے۔ اللہ اس کو محیط ہے ‘ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ واحصی کل شیء عددا . اللہ نے ہر چیز کا عددی احاطہ کر رکھا ہے ‘ پہاڑوں کے وزن کی تعداد ‘ دریاؤں کے ناپ کی تعداد ‘ بارش کے قطروں کی تعداد ‘ درختوں کے پتوں کی تعداد ‘ غرض ان تمام چیزوں کی تعداد جو رات کے اندھیرے یا دن کی روشنی میں ہوں ‘ اللہ کو معلوم ہے ‘ واللہ اعلم۔ سورة جن ختم ہوئی۔ بحمد اللہ تعالیٰ