Ayah 68:41ام لھم شرکاء فلیاتوا بشر کا ءھم . یعنی کیا کافروں کو قیامت کے دن مؤمنوں کے ہم رتبہ بنا دینے والے
کچھ شرکاء الوہیت ہیں ‘ اگر ایسا ہے تو ان شرکاء کو پیش کریں اور ثابت کریں کہ علم ‘ قدرت ‘ ارادہ اور تکوین (تخلیق) میں وہ خدا کی طرح ہیں۔ اس جگہ امر کا صیغہ (تکلیف بالمحال کے لیے نہیں بلکہ) کافروں کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے ہے اور فلیاتوا میں فاء سببی ہے۔
ان کانوا صدقین . اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ گزشتہ کلام جزاء پر دلالت کر رہا ہے۔ اس لیے اس جگہ
جملۂ شرطیہ کو جزاء کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 68:42یوم یکشف عن ساق . ظرف (زمان) کا تعلق اذکر محذوف سے ہے (یعنی اس روز کو یاد کرو) جب پنڈلی کھولی
جائے گی۔ پنڈلی کے کشف سے مراد ہے میدان حشر میں نور الٰہی کی ایک مخصوص پرتو اندازی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں بروایت حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کیا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہاں ! دوپہر کے وقت جب کہ ابر بھی نہ ہو کیا تم کو سورج کے دیکھنے میں کچھ اشتباہ ہوتا ہے یا چودہویں تاریخ کو جب ابر نہ ہو تم کو چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : نہیں ! اے رسول خدا۔ ارشاد فرمایا : جیسے تم کو سورج اور چاند کو دیکھنے میں اشتباہ نہیں ہوتا ہے ‘ اسی طرح قیامت کے دن اللہ کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ قیامت کا دن ہوگا تو ایک اعلانچی اعلان کرے گا کہ ہر گر وہ اپنے اپنے معبود کے پیچھے چلا جائے ‘ حکم ہوتے ہی مورتیوں اور استہانوں کی پوجا کرنے والے دوزخ میں گرنے لگیں گے۔ کوئی بغیر گرے نہ رہے گا (جب اللہ کی عبادت کرنے والوں کے سوا) کوئی باقی نہ رہے گا تو یہودیوں کو بلایا جائے گا اور دریافت کیا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے : اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ ارشاد ہوگا : تم جھوٹے ہو ‘ اللہ نے تو اپنے لیے نہ بیوی بنائی ‘ نہ اولاد پھر فرمان ہوگا : کیا چاہتے ہو ؟ وہ عرض کریں گے : پروردگار ! ہم پیاسے ہیں ‘ ہم کو پانی پلا۔ ارشاد ہوگا : کیا تم کو نظر نہیں آتا۔ جہنم اس وقت سراب کی طرح پانی (کا دھوکہ) ہوگا۔ سب کو ہنکا کر جہنم کی طرف لے جایا جائیگا (حقیقت میں جہنم کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ اس کا) ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہوگا ‘ سب جا کر اس میں گرپڑیں گے پھر عیسائیوں کو بلایا جائے گا اور پوچھا جائے گا : کس کی عبادت کرتے تھے ؟ عرض کریں گے : اللہ کے بیٹے مسیح کی۔ ارشاد ہوگا جھوٹے ہو۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے وہی بیان فرمایا جو یہودیوں کے متعلق فرمایا تھا۔
حاکم نے بروایت حضرت ابن مسعود بیان کیا ہے اور اس کی تصحیح دارقطنی وغیرہ نے بھی کی ہے کہ اللہ کے سوا جو کوئی جس کی پوجا کرتا تھا خواہ سورج ہو یا چاند یا مورتیاں اس کے معبودوں کو مجسم بنا کر اس کے سامنے لایا جائے گا جو عزیر کے پرستار تھے۔ ان کے سامنے عزیر کے شیطان کو (بصورت عزیر) اور جو مسیح کے پرستار تھے ‘ ان کے سامنے مسیح کے شیطان کو (بشکل مسیح) میں لایا جائے گا اور سب لوگ اپنے اپنے معبودوں کے ساتھ جہنم میں چلے جائیں گے۔
طبرانی ‘ ابو یعلی ‘ بیہقی وغیرہ نے بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کیا ہے کہ کسی فرشتہ کو عزیر کی شکل پر اور کسی فرشتہ کو مسیح کی شکل پر کردیا جائے گا۔ ایک کے پیچھے یہودی ہوجائیں گے اور دو سرے کے پیچھے عیسائی۔ پھر یہ معبود دوزخ کی طرف ان کی قیادت کریں گے۔ آیت : لو کان ھؤلاء الھۃ ما وردھا و کل فیھا خالدون کا یہی مطلب ہے۔ اب ہم صحیحین کی روایت (جو حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : غرض جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا جن میں نیک بھی ہوں گے اور بد بھی تو ربّ العالمین ان کے پاس تشریف فرما ہوگا اور ارشاد فرمائے گا : ہر امت اپنے اپنے معبود کے پیچھے جا رہی ہے تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ وہ عرض کریں گے : پروردگار ! جب دنیا میں ہم کو ان کی بہت زیادہ حاجت تھی اس وقت بھی ان سے الگ رہے ‘ ان کے ساتھی نہ ہوئے (اب بھی ان سے الگ ہیں) اللہ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ‘ وہ جواب دیں گے : نعوذ باللہ ہم کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیتے۔ یہ الفاظ دو یا تین بار کہیں گے یہاں تک کہ بعض لوگ پلٹ جانے والے ہی ہوں گے کہ اللہ فرمائے گا : کیا کوئی نشانی ہے جس سے تم اپنے رب کو پہچان لو ؟ وہ عرض کریں گے : جی ہاں ! اس وقت اللہ پنڈلی کھولے گا تو جو شخص خلوص دل سے (دنیا میں) سجدہ کرتا تھا اس کو سجدہ کرنے کی اجازت ملے گی اور جو شخص نفاق کے ساتھ یا دکھاوٹ کے لیے سجدہ کرتا تھا اس کی پشت کو اللہ تختہ سا کر دے گا وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو پشت کے بل گرپڑے گا۔ اس کے بعد جہنم پر پل لگایا جائے گا۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! حسبر (پل) کیا ہوگا ؟ فرمایا : پھسلوان دلدل ‘ جس پر آنکڑے ‘ لوہے کے کانٹے اور نجد میں پیدا ہونے والی خاردار گھاس یعنی سعدان کی طرح خمیدہ خار ہوں گے۔ اس وقت شفاعت کی اجازت ہوجائے گی اور انبیاء کہیں گے الٰہی بچا ‘ اہل ایمان حسبر کے اوپر سے نگاہ اور ہوا اور پرندوں اور تیز گھوڑوں اور اونٹوں کی طرح (مختلف مراتب کے لحاظ سے) گزر جائیں گے کچھ صحیح سالم بچ جائیں گے ‘ کچھ خراش اور کہر ونچ پا کر ‘ کچھ جہنم کی آگ میں گرپڑیں گے جب اہل ایمان دوزخ سے بچ جائیں گے تو قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ اپنے دوزخی بھائیوں کے لیے اللہ سے اتنا جھگڑا کریں گے کہ تم میں سے کوئی اپنے واضح حق کے لیے اس سے زیادہ نہیں جھگڑتا۔ عرض کریں گے : پروردگار ! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے۔ نمازیں پڑھتے تھے ‘ حج کرتے تھے۔ ارشاد ہوگا : شناخت کر کے ان کو نکال لو چونکہ ان کے چہرے دوزخ سے محفوظ ہونگے اس لیے (شناخت کر کے) بہت لوگوں کو دوزخ سے نکال لیں گے۔ پھر عرض کریں گے : پروردگار ! جن لوگوں کے متعلق تو نے اجازت دی تھی ان میں سے سے دوزخ کے اندر کوئی باقی نہیں رہا ‘ ارشاد ہوگا ‘ لوٹ کر جاؤ اور جس کے دل میں دنیا کی برابر خیر (ایمان اور نیک عمل کی نشانی) پاؤ ‘ اس کو نکال لو۔ یہ مؤمن بہتیرے آدمیوں کو نکال لینگے۔ اللہ فرمائے گا پھر لوٹو اور جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر خیر پاؤ اس کو نکال لو اس پر بہت لوگوں کو مؤمن نکال لینگے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیگا پھر لوٹو اور جس کے دل میں چیونٹی کے برابر خیر پاؤ اس کو بھی نکال لو۔ حسب الحکم بہت مخلوق کو نکال لیں گے اور عرض کریں گے : پروردگار دوزخ کے اندر اب اہم کو خیر نہیں ملتی۔ اللہ فرمائے گا : ملائکہ شفاعت کرچکے۔ اہل ایمان نے بھی شفاعت کرلی ‘ اب سوائے ارحم الراحمین کے کوئی نہیں رہا۔ چناچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود مٹھی بھر کر ان لوگوں کو دوزخ سے نکالے گا ‘ جنہوں نے کبھی نیکی نہ کی ہوگی اور (جل کر) کوئلہ بن گئے ہوں گے۔ جنت کے ایک دروازہ پر ایک دریا ہے جس کو زندگی کا دریا کہا جاتا ہے۔ اس نہر حیات میں ان کو ڈال دے گا ‘ نہر حیات سے وہ ایسے (تروتازہ) ہو کر نکلیں گے جیسے دانہ سیلاب کی کیچڑ میں سے (پھوٹ کر) نکلتا ہے گویا وہ موتی ہوں گے مگر ان کی گردنوں پر مہریں لگی ہوں گی۔ اہل جنت کہیں گے یہ ہیں رحمن کے آزاد کردہ جن کو بغیر کسی عمل اور سابق نیکی کے اللہ نے جنت میں داخل فرمایا ہے۔ حکم ہوگا جو کچھ تم کو نظر آئے وہ سب تمہارا ہے اور اتنا ہی اور بھی۔
کشف ساق کا ذکر حاکم وغیرہ کی نقل کردہ اس حدیث میں بھی آیا ہے جو ابن مسعود سے مروی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں جو حدیث ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے اس میں یہ لفظ ہیں کہ انکے پاس اللہ ایسی شکل میں تشریف فرما ہوگا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے۔
لالکائی نے کتاب السنۃ میں اور آجری نے کتاب الرویتہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ‘ قیامت کا دن ہوگا تو ہر قوم کے سامنے اس کا دنیوی معبود مجسم کر کے لایا جائے گا اور ہر قوم اپنے معبود کی طرف چلی جائے گی صرف اہل توحید رہ جائیں گے ‘ ان سے کہا جائے گا اور لوگ جا چکے (تم بھی جاؤ) وہ عرض کریں گے ہم جس رب کی دنیا میں عبادت کرتے تھے وہ نظر نہیں آتا (کس کے پاس جائیں) اللہ فرمائے گا : کیا تم اس کو دیکھ کر پہچان لو گے ؟ عرض کریں گے : (یہی اس کی شناخت ہے کہ) اس کی کوئی شکل نہیں۔ اللہ ان کے لیے حجاب کھول دے گا اور وہ دیکھ کر سجدہ میں گرپڑیں گے لیکن کچھ لوگ (کھڑے) رہ جائیں گے جن کی پشت کے مہرے بیل کی پشت کے مہروں کی طرح ہوجائیں گے (جھک نہ سکیں گے) وہ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر کر نہ سکیں گے۔ اس کے بعد اللہ فرمائے گا سروں کو اٹھاؤ میں نے تم میں سے ہر شخص کے عوض (دوزخ کے اندر) یہودیوں اور عیسائیوں میں سے ایک شخص کو کردیا (یعنی اگر تم مؤمن نہ ہوتے تو اس جگہ جاتے جہاں یہودی اور عیسائی داخل ہیں) ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی تجلیاں مختلف اقسام کی ہیں۔ ایک صورت کی پر تو اندازیاں ہیں جو عالم مثال میں ہوتی ہیں۔ حقیقت میں دیدارِ الٰہی نہیں ہوتا ‘ جیسے رسول اللہ ﷺ نے خواب میں اپنے رب کو امرد نوجوان کی شکل میں دیکھا تھا ‘ جس کے بال گھونگھریالے تھے اور پاؤں میں سنہری جوتیاں تھیں۔ اسی تجلی کو میدان حشر میں دیکھ کر کہنے والے کہیں گے : نعوذ باللہ ! ہم اپنے رب کا کسی کو ساجھی نہیں مانتے۔ دوسری تجلی میدان حشر میں بغیر کسی شکل اور صورت کے ہوگی لیکن اس میں کسی قدر پرچھائیں کی آمیزش ہوگی ‘ شاید کشف ساق سے تجلی ہی مراد ہے جس کو اچھے برے ‘ مؤمن بلا ابر ‘ مہر نیمروز اور چودہویں کے چاند کی طرح دیکھیں گے اور کافروں کو یہ تجلی نصیب نہ ہوگی ‘ اللہ نے فرمایا ہے : کَلاَّ اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَءِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ۔ حدیث میں بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور بد لوگوں کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا تو رب العالمین تشریف فرما ہو کر کشف ساق کریگا۔ ید (ہاتھ) اور وجہ (چہرہ) کی طرح لفظ ساق بھی متشابہات میں سے ہے ‘ جس کی حقیقی مراد سے سوائے اللہ کے کوئی واقف نہیں۔ پختہ علماء تو یہی کہتے ہیں کہ ہم حقیقت کو جانے بغیر اس کو مانتے ہیں۔
تیسری تجلی جنت میں ہوگی۔ اس میں پرچھائیں کی آمیزش بھی نہیں ہوگی (لفظ زیادۃ سے) اس آیت میں اسی کو بیان کیا گیا ہے۔ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ۔
و یدعون الی السجود . یعنی نیک اور بد اہل ایمان کو سجدہ کی دعوت دی جائے گی لیکن یہ سجدہ تکلیفی نہ ہوگا
آخرت دار تکلیف نہیں ہے بلکہ طبعی دعوت ہوگی۔ جب عظمت و جلال کے پردے اٹھ جائیں گے اور کوئی مانع نہ رہے تو حقیقت ممکن کا تقاضا ہے کہ واجب کے سامنے سربسجود ہوجائے۔
فلا یستطیعون . یعنی نافرمان (ریا کار) سجدہ نہ کرسکیں گے کیونکہ گناہوں کے بوجھ سے ان کی پشت ایک بےجوڑ
تختہ بن چکی ہوگی۔ لا یستطیعون کی ضمیر فاعل کل اہل دعوت کی طرف راجع نہیں ہے بلکہ بعض کی طرف لوٹتی ہے (یعنی ریا کار ‘ نافرمان مؤمن) جیسے والمطلقات یتربصن بانفسھن کے بعد ویعولتھن احق بردھن میں (اُن) بعض مطلقات کی طرف ھُنَّ کی ضمیر راجع ہے (جن کی عدت کامل نہ ہوگئی ہو) احادیث مذکورہ اسی پر دلالت کر رہی ہے۔ پس لا یستطیعون سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو نماز بالکل نہیں پڑھتے تھے یا جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے تھے اور پڑھتے بھی تھے تو تقیہ کے طور پر جیسے رافضی وغیرہ بدعتی پڑھتے ہیں یا دکھاوٹ کے لیے پڑھتے تھے ‘ ان کے عمل میں خلوص نہ تھا۔
ایک سوال حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت بعض طریقوں سے ثابت ہے کہ جب مؤمنوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہے گا اور مؤمنوں میں منافق بھی ہوں گے تو اللہ ان پر تشریف فرما ہوگا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ پنڈلی کھول دے گا اور تجلی فرمائے گا اور اس کی عظمت سے لوگ پہچانیں گے کہ وہ ان کا رب ہے تو منہ کے بل سجدہ میں گرپڑیں گے مگر ہر ایک منافق پشت کے بل گرے گا اور اللہ منافقوں کی پشت کو بیل کے کریوں کی طرح بنا دے گا۔
جواب بظاہر منافق سے مراد وہ شخص ہے جو اعمال اور فرعی عقائد کے لحاظ سے منافق ہو (یعنی جس کے اعمال کافرانہ ہوں اور اصل عقیدہ مؤمنانہ) اصول اعتقاد کے لحاظ سے منافق مراد نہیں ہے (یعنی جس کا اصل عقیدہ صحیح نہ ہو اور دکھاوٹ کے لیے اعمال مؤمنانہ ہوں) کیونکہ اصل اعتقاد کے لحاظ سے منافق تو بلاشبہ کافر ہیں اور دوزخ کے نچلے طبقہ میں ان کا مقام ہے اور جلوۂِ رب سے وہ محجوب ہوں گے۔ دیدارِ الٰہی کا شرف ان کو کس طرح حاصل ہوسکتا ہے۔ احادیث میں گنہگاروں پر بھی لفظ منافق کا اطلاق کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص میں چار باتیں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور جس میں ایک بات ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت رہے گی جب تک اس کو ترک نہ کر دے (چار باتیں یہ ہیں): 1) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ‘ 2) بات کرے تو جھوٹ بولے ‘ 3) کوئی معاہدہ کرے تو عہد شکنی کرے ‘ 4) اور جھگڑے کے وقت بیہودہ بکے۔ (بخاری ‘ مسلم ‘ بروایت عبداللہ بن عمر ؓ لیکن مسلم نے بروایت ابوہریرہ ؓ بیان کیا ہے کہ تین خصلتیں ہیں اس حدیث کے آخر میں ہے کہ خو اہ روزہ رکھتا ہو ‘ نماز پڑھتا ہو ‘ اور مسلمانی کا دعویٰ کرتا ہو اس روایت میں گزشتہ روایت کا آخری حصہ یعنی چوتھی خصلت مذکور نہیں ہے۔
Ayah 68:43خاشعۃ ابصارھم . (حقیقت میں) خشوع (عاجزی ‘ پستی) ان لوگوں کی صفت ہے جو صاحب بصر (و نظر) ہوں
لیکن خشوع کا ظہور چونکہ نظر میں ہوگا اس لئے مجازاً ابصار کی طرف نسبت کردی گئی۔
ترھقھم ذلۃٌ . ان کو ذلت لاحق ہوگی۔
وقد کانوا یدعون الی السجود . دنیا میں ان کو سجدہ کرنے کی دعوت دی جاتی تھی مگر اللہ کے حکم کے مطابق
خلوص کے ساتھ وہ سجدہ نہیں کرتے تھے۔
وھم سالمون . اس وقت تو وہ سالم تھے ‘ ان کی پشت سپاٹ تختہ نہ تھی۔ (جھک سکتے تھے مگر سجدہ نہ کرتے تھے) وقد
کانوا سے سالمون تک آخرت میں سجدہ نہ کرسکنے کی وجہ بیان کی ہے۔ وھم سالمون میں دوسرے یدعون کے فاعل کی حالت کا اظہار ہے اور خاشعۃ ابصارھم ترھقھم ذلۃ وقد کانوا یدعون الی السجود اوّل یدعون کے فاعل کے مختلف احوال ہیں۔
Ayah 68:44فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث . یہ جملہ معترضہ ہے۔ الحدیث سے مراد قرآن مجید ہے۔ اس جملہ
میں کافروں کے لیے وعید اور رسول اللہ ﷺ کے لیے تسکین بخش حکم ہے۔ یعنی اے پیغمبر ! آپ فکر مند نہ ہوں ‘ کافروں کا معاملہ میرے سپرد کردیں۔ میں آپ کی طرف سے ان سے نمٹ لوں گا۔
سنستدرجھم . ھُمْ کی ضمیر (جمع) مَنْ کی طرف معنوی اعتبار سے راجع ہے (یعنی من کا لفظ اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی
کے لحاظ سے جمع ہے اس لیے جمع کی ضمیر کا اس کی طرف رجوع صحیح ہے) ۔
دَرْجٌ (مصدر) کاغذ یا کپڑے کو لپیٹنا لیکن اسم مفعول کے معنی میں مستعمل ہے یعنی لپیٹا ہوا ‘ جس طرح لفظ طی سے موت مراد ہوجاتی ہے اسی طرح بطور استعارہ لفظ درج بھی موت کے لیے مستعمل ہے۔ جوہریؔ کا یہی قول ہے۔ جوہری نے آیت کے ترجمہ میں کہا ہے کہ ہم خط کی طرح ان کو لپیٹ دیں گے یعنی غافل رکھیں گے۔
بعض نے کہا : ہم ان کو زینہ بزینہ یعنی رفتہ رفتہ پکڑ لیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ہم ان کو آہستہ آہستہ عذاب میں گرفتار کرلیں گے۔
من حیث لا یعلمون . اس طرح سے کہ ان کے عذاب کے آنے کی کیفیت بھی معلوم نہ ہوگی۔
Ayah 68:45واملی لھم . اور میں ان کو ڈھیل دوں گا ‘ مہلت دوں گا۔
ان کیدی متین . میری تدبیر بڑی مضبوط ہے ‘ اس کو دفع نہیں کیا جاسکتا۔
کید کا معنی ہے مکر ‘ تدبیر ‘ دل کے اندر چھپے ہوئے ارادۂ بد کے خلاف اچھائی کا اظہار اللہ کے کید کا معنی ہے ‘ انتقام بشکل انعام۔
جوہری نے کہا کہ بعض کے نزدیک اس آیت میں کید سے مراد عذاب ہے مگر صحیح یہ ہے کہ کید سے مراد ہے مہلت دینا ‘ ڈھیل دینا ‘ یعنی دنیا میں جو نعمتیں ہم ان کو عطا کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے ڈھیل ہے۔ مسلمانوں پر ترجیح دینا مقصود نہیں ہے۔
فائدہ اگر گناہ کرنے کے بعد دنیا ہی میں کوئی مصیبت بطور سزا آجائے تو گناہ کی معافی کی امید ہوسکتی ہے لیکن ارتکاب معصیت کے بعد اگر نعمت کی افزونی ہو تو اندیشہ رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے کہیں ڈھیل نہ ہو۔
Ayah 68:46ام تسئلھم اجرا . کیا آپ ان سے تبلیغ احکام الٰہی کی کوئی اجرت مانگتے ہیں۔ م منقطعہ بمعنی بل ہے۔
فھم من مغرم مثقلون . کہ وہ تاوان کے بوجھ کے نیچے دبے جا رہے ہوں اور ڈانڈ کو دفع کرنے کے لیے بے
بے دلیل تمہاری طرف سے اعراض کر رہے ہوں۔ اس جملہ میں فاء سببی عاطفہ ہے۔
Ayah 68:47ام عندھم الغیب . یعنی لوح محفوظ یا امور غیبیہ۔
فھو یکتبون . یعنی کیا آپ ان سے اجرت مانگتے ہیں کہ وہ تاوان برداشت نہیں کرسکتے اور بےوجہ تم سے
کتراتے ہیں یا ان کے پاس لوح محفوظ یا غیبی اطلاعات ہیں کہ وہاں سے اپنی منشاء کے احکام لکھ لیتے ہیں گزشتہ آیات میں اللہ نے دلیل عقلی اور نقلی اور تقلید کی نفی کی تھی۔ تقلید عوام کے لیے باعث استدلال ہوتی ہے اس جگہ امور غیبیہ کے کشف اور الہام کی نفی کردی۔ کشف غیب اور الہام سے انبیاء اور ملائکہ کو علم حاصل ہوتا ہے بلکہ بعض اولیاء کو بھی لوح محفوظ اور امور غیبیہ کا کشف ہوجاتا ہے اور یہی ان کے علم کا ذریعہ ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ امور مذکورہ میں سے جب ان کے پاس کچھ نہیں تو ان کا فیصلہ محض بیہودہ اور بےحقیقت ہے۔
Ayah 68:48فاصبر . اے محمد ﷺ آپ ﷺ انکی ایذارسانی پر صبر کیجئے کیونکہ جو کچھ یہ کہتے ہیں ‘ بےدلیل کہتے ہیں۔
لحکم ربک . یعنی آپ ﷺ تنگ دل نہ ہوں ‘ جلدی نہ کریں۔ اللہ نے جو ڈھیل ان کو دی ہے اور ڈھیل دینے کے بعد ان کی گرفت کرے گا۔ اس فیصلۂ خداوندی پر صبر کریں۔
ولا تکن کصا حب الحوت . تنگ دلی اور عجلت پسندی میں یونس کی طرح نہ ہوجائیں۔
وہب (بن منبہ) نے بیان کیا ہے کہ حضرت یونس بن متی ایک نیک بندے تھے مگر طبیعت میں کچھ تنگی (عجلت پسندی) تھی ‘ جب ان پر نبوت کا بار ڈالا گیا تو ثقل محسوس کیا اور بار اٹھانے سے کسمسائے جیسے اونٹ کے بچہ پر جب بھاری بوجھ لادا جاتا ہے تو وہ پھینک کر بھاگ نکلتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ نے اولوالعزم انبیاء (کی فہرست) سے یونس کو خارج کردیا اور رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح برداشت کریں اور صاحب حوت (مچھلی والے یعنی یونس بن متی) کی طرح نہ ہوجائیں۔ یونس کا قصہ ابن مسعود ‘ سعید بن جبیر اور وہب کے بیان کے موافق اس طرح ہوا کہ نینوا علاقۂ موصل میں ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ لوگ آباد تھے ‘ ان کی ہدایت کیلئے اللہ نے یونس کو بھیجا۔ جب انہوں نے حکم نہ مانا تو یونس نے ان کو اطلاع دی کہ تین روز میں صبح کے وقت تم پر عذاب آئے گا اہل نینویٰ نے آپس میں کہا کہ یونس ( علیہ السلام) نے اللہ پر دروغ بندی تو نہیں کی ہے۔ اچھا دیکھتے رہو اگر یونس ( علیہ السلام) رات بھر ساتھ رہے تو سمجھ لو کچھ نہ ہوگا اور رات کو نہ رہے (کہیں نکل جائے) تو سمجھ لو سچا ہے ‘ صبح کو عذاب آئے گا۔ چناچہ یونس ( علیہ السلام) آدھی رات کو ہی نینویٰ سے نکل گئے اور صبح کو عذاب کا کچھ ظہور ہونے لگا ‘ سروں سے میل بھر اونچا کالا بادل بلکہ سخت دھواں چھا گیا اور پھر نیچے اتر کر شہر کو ڈھانپ لیا ‘ گھروں کی چھتیں تک کالی پڑگئیں۔ لوگوں نے یہ کیفیت دیکھی تو ہلاکت کا یقین ہوگیا۔ یونس کو تلاش کیا تو وہ نہ ملے مگر اللہ نے ان کے دلوں میں توبہ کا ارادہ پیدا کیا۔ سب مرد ‘ عورتیں ‘ بچے اور چوپائے شہر کے باہر میدان میں نکل کھڑے ہوئے۔ کمبل کا لباس پہن لیا ‘ ماں کو بچہ سے اور چوپائے کو اس کے بچہ سے الگ کردیا۔ خلوص نیت کے ساتھ ایمان لے آئے ‘ توبہ کی۔ بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑائے تو اللہ نے ان پر رحم فرما دیا۔ ان کی دعا قبول کرلی ‘ آیا ہوا عذاب دور کردیا۔ یہ واقعہ دس محرم کا ہے ادھر حضرت یونس ( علیہ السلام) بستی سے نکل کر نزول عذاب اور قوم کی بربادی کے منتظر تھے لیکن جب کچھ نظر نہ آیا اور انکا قول غلط ثابت ہوگیا (عذاب نازل نہ ہونے کی کوئی وجہ بھی ان کے پاس موجود نہ تھی) تو کہنے لگے ‘ اب میں جھوٹا ثابت ہوگیا۔ قوم کے سامنے کیسے جاؤں گا۔ یہ خیال کر کے چل دیئے اور سمندر پر پہنچ گئے۔ وہاں ایک کشتی پر کچھ لوگ سوار ہو رہے تھے۔ حضرت کو دیکھ کر بےکرایہ سوار کرلیا لیکن کشتی سمندر میں پہنچ کر کھڑی ہوگئی ‘ نہ آگے بڑھتی تھی ‘ نہ پیچھے ہٹتی تھی۔ لوگوں نے کہا : آج اس میں کوئی نئی بات پیدا ہوگئی۔ حضرت یونس ( علیہ السلام) نے فرمایا : مجھے اس کی بات معلوم ہے اس پر ایک گنہگار آدمی سوار ہے۔ لوگوں نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ فرمایا : میں ہوں۔ مجھے سمندر میں پھینک دو ۔ کہنے لگے : ہم خود آپ پر قربان ہوجائیں گے آپ کو نہیں پھینکیں گے۔ بالآخر باہم تین بار قرعہ ڈالا اور حضرت یونس کا نام نکلا۔ کشتی کے قریب ایک مچھلی منہ کھولے حکم ربی کی منتظر تھی۔ حضرت نے فرمایا : خدا کی قسم تم سب ہلاک ہوجاؤ گے ورنہ مجھے سمندر میں پھینک دو ‘ مجبوراً لوگوں نے پھینک دیا فوراً مچھلی نے لے لیا اور لوگ کشتی لے کر چل دیئے۔
حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے کہ جب کشتی کھڑی ہوگئی تو ملاحوں نے کہا : یہاں کوئی گناہگار آدمی یا بھاگا ہوا غلام کشتی میں ہے۔ کشتی کا یہی طریقہ ہے اور قرعہ ڈالنے کا ہمارا رواج ہے۔ چناچہ تین بار قرعہ ڈالا اور حضرت یونس کا نام نکلا۔ آپ خود پانی میں گرپڑے اور مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور اس مچھلی کو ایک اور بڑی مچھلی نے نگل لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو پیام بھیجا کہ ہم نے یونس کو تیرا رزق نہیں بنایا ہے بلکہ تیرے پیٹ کو اس کی پناہ گاہ اور مسجد بنایا ہے۔ دوسری روایت میں پناہ گاہ کی بجائے قید خانہ کا لفظ آیا ہے۔
یہ بھی منقول ہے کہ قرعہ اندازی سے پہلے یونس ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا میں ہی گناہگار بھاگا ہوا (غلام) ہوں۔ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جب تک ہم قرعہ نہ ڈالیں آپ کو پانی میں نہیں پھینکیں گے لیکن جب آپ کے نام کا قرعہ آگیا تو آپ خود پانی میں گرپڑے۔
قصہ میں یہ بات بھی منقول ہے کہ سمندر کے کنارے جب آپ پہنچے تو آپ کے ساتھ آپ کی بیوی اور دو لڑکے تھے۔ جہاز آگیا اور آپ نے چڑھنے کا ارادہ کیا تو سوار ہونے کے پہلے بیوی کو آگے بڑھایا لیکن جہاز اور آپ کے درمیان ایک لہر آگئی (اور بیوی کو بہا کرلے گئی اور دوسری لہر نے آکر بڑے بیٹے کو بھی لے لیا اور چھوٹے بیٹے کو (جو کنارہ پر) تنہا تھا۔ بھیڑیا لے گیا ‘ غرض دوسری کشتی میں آپ تنہا سوار ہوئے اور کشتی رک کر کھڑی ہوگئی۔
حضرت ابن مسعود نے فرمایا : مچھلی آپ کو نگل کر ساتویں زمین کے گڑھے میں لے گئی۔ اس کے پیٹ کے اندر آپ چالیس رات رہے۔ پھر پتھریوں کی تسبیح پڑھنے کی آواز سنی تو اندھیروں کے اندر ہی پکار اٹھے : لا الہ الاانت سبحٰنک انی کنت من الظالمین آیت ذیل میں اسی نداء کا بیان ہے۔
اذ نادی وھو مکظوم . یعنی گناہ میں پڑجانے اور تھکان ہوجانے کی وجہ سے رنجیدہ اور غضبناک ہونے کی حالت
میں اس نے (تسبیح کی) نداء کی۔
اذ اکا تعلق اذکر فعل محذوف سے ہے۔ نہی (لاتکن) کے ساتھ نہیں ہے۔ اللہ کو یونس کا پکارنا تو اچھا فعل تھا۔ اس کی ممانعت نہیں ہوسکتی۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں کے عذاب میں صاحب حوت کی طرح عجلت پسندی نہ کرو اور یاد کرو جب اس نے توبہ کے ساتھ غمگین ہونے کی حالت میں اللہ کو پکارا تھا کیونکہ صرف عجلت پسندی اور بےصبری کی وجہ سے اس کو غم کھانا پڑا۔
Ayah 68:49لولا ان تدار کہ . لَوْلَآ امتناعیہ ہے اور تدارک ماضی کا صیغہ ادراک کا ہم معنی ہے . (نِعْمَۃٌ) اس کا فاعل ہے
(اور نعمت اگرچہ مؤنث ہے اور تدارک مذکر ہے مگر) فعل اور فاعل میں ہٗ کی وجہ سے فصل ہوگیا ہے۔ اس لیے اس فعل کو مذکر لایا گیا یا ” تدارک “ فعل مضارع منصوب ہے۔ اصل میں تتدارک تھا۔ تفاعل کی تاء کو حذف کردیا گیا۔ اس وقت حال ماضی کی حکایت ہوگی اور اَنْ کی وجہ سے مضارع بمعنی مصدر ہوجائے گا (اوّل صورت میں ترجمہ ہوگا اگر نہ پہنچ گئی ہوتی ‘ اس کو رب کی طرف سے نعمت اور دوسری صورت میں ترجمہ یوں ہوگا اگر نہ ہوتا نعمت رب کا پہنچنا) ۔
نعمۃ . یعنی رحمت۔
من ربہ . صفت رحمت ہے یعنی اگر اس پر اللہ کی طرف سے رحمت نہ ہوتی اور توفیق توبہ نہ ملتی اور توبہ قبول نہ ہوجاتی ‘ تو۔
لنبذ بالعرا . ضرور پھینک دیا گیا ہوتا چٹیل میدان میں یعنی ایسی زمین میں جہاں نہ درخت ہوتے ‘ نہ عمارتیں۔
وھو مذموم . اور اس حال میں وہ مذموم ہوتا (اُس کی مذمت کی جاتی) یعنی اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو اس کو چٹیل
میدان میں پھینک دیا جاتا اور صبر نہ کرنے اور قوم کو چھوڑ کر بغیر اذان خدا چلے جانے پر اسکی مذمت کی جاتی۔ ترک اولیٰ اگرچہ واقعہ میں عصمت شکن گناہ نہیں ہے لیکن انبیاء کی شان بڑی ہوتی ہے۔ انکے مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے ترک اولیٰ کو بھی ان کے لیے گناہ شمار کیا جاتا ہے۔
لیکن رحمت خداوندی نے اس کو آلیا ‘ اس نے اللہ کو پکارا اور توبہ کی تو اس کو چٹیل میدان میں نکال کر پھینک تو دیا گیا ‘ پر اس وقت وہ قابل ذم تھا ‘ بیمار ضرو تھا مگر تھا مرحوم اور قابل ستائش حالت میں۔ جیسا کہ سورة الصافات میں آیا ہے۔
عوفی وغیرہ کی روایت سے ابن عباس کا قول منقول ہے کہ یونس ( علیہ السلام) اپنی قوم کے ساتھ فلسطین میں رہتے تھے۔ کسی بادشاہ نے ان پر حملہ کیا اور بارہ اسباط (قبائل) میں سے ساڑھے نو اسباط کو گرفتار کرلیا۔ صرف ڈھائی سبط (قبائل) رہ گئے۔ اللہ نے شعیا نبی کے پاس وحی بھیجی کہ شاہ حزقیا (بنی اسرائیل کے بادشاہ) سے جا کر کہو کہ (حملہ کرنے والے بادشاہ کے پاس) کسی قوی سنجیدہ آدمی کو بھیج دے ‘ میں ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کر دونگا کہ وہ بنی اسرائیل کو رہا کردیں۔ اس زمانہ میں حزقیا کی حکومت میں پانچ انبیاء تھے۔ بادشاہ نے یونس کو بلا کر جانے کی درخواست کی۔ یونس ( علیہ السلام) نے فرمایا : کیا تم کو اللہ نے میرے بھیجنے کا حکم دیا ہے ؟ بادشاہ نے کہا : نہیں۔ حضرت یونس ( علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ نے مجھے نامزد کیا ہے۔ بادشاہ نے کہا : نہیں۔ حضرت یونس ( علیہ السلام) نے فرمایا : تو پھر یہاں دوسرے طاقتور انبیاء موجود ہیں ‘ ان کو بھیجو۔ لوگوں نے جب زیادہ اصرار کیا تو آپ ناراض ہو کر نکل کھڑے ہوئے اور بحر روم کے کنارہ پر جا کر جہاز میں سوار ہوگئے ‘ الخ۔
Ayah 68:50فاجتبہ ربہ . اللہ نے پھر اس کو بزرگی عطا فرمائی اور دوبارہ اس کے پاس وحی بھیجی۔
فجعلہ من الصالحین . اور اس کو کامل اہل صلاح میں سے کردیا۔ یعنی غیر اولیٰ بات کہنے سے بھی محفوظ کردیا۔
یادداشت صوفی پر لازم ہے کہ مخلوق کی طرف سے جو دکھ پہنچے اس پر صبر کرے۔ منکروں کے حق میں بددعا کرنی جائز نہیں۔ منکرین نبی کے خلاف بددعا کرنے کی اللہ نے اجازت نہیں دی بلکہ صبر کرنے کا حکم دیا تو منکرین ولی کے خلاف بددعا کیسے ہوسکتی ہے۔
Ayah 68:51وان یکاد الذین کفروا . بغوی نے بیان کیا ہے کہ کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو نظر لگانی چاہی اور
قریشیوں کی ایک جماعت نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا ہم نے تو نہ ایسا شخص دیکھا ‘ نہ ایسی پختہ دلیلیں سنیں۔ منقول ہے کہ قبیلۂ بنی اسد کی نظر کی یہ کیفیت تھی کہ اگر ان میں سے کسی کے سامنے کوئی موٹی اونٹنی یا گائے گزر جاتی اور وہ اس کو دیکھ کر باندی سے کہتا : اری جاریہ ! ذرا ٹوکری اور درہم لے کر جانا اور اس کا گوشت لے آنا تو وہ جانور اسی جگہ گر کر فوراً مرجاتا تھا۔
کلبی نے بیان کیا ہے کہ عرب میں ایک آدمی تھا۔ جب دو تین روز تک بھوکا رہ کر اپنے خیمہ میں لوٹ کر آتا اور ادھر سے اونٹ یا بکریاں گزرتیں اور وہ کہہ دیتا کہ آج ان سے خوبصورت ہم نے اونٹ اور بکریاں نہیں دیکھیں تو وہ کچھ ہی دور جانے پاتے تھے کہ ان میں سے چند (جانور) گر (کر مر) جاتے تھے۔ کافروں نے اس شخص سے درخواست کی کہ رسول اللہ ﷺ کو نظر لگا دے لیکن اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کی حفاظت فرمائی اور مذکورہ آیت کا نزول ہوا۔
مذکورہ آیت میں چونکہ خبر (یعنی لیزلقونک) پر لام ہے اس لیے اِنْ ‘ اِنَّ کا مخفف ہے۔
لیز لقونک . یزلقون ‘ ازلاق سے (فعل مضارع) ہے اور نافع کے نزدیک یزلفون ‘ زلقٌ (مجرد) سے مشتق ہے۔
دونوں لغت ہم معنی (اور متعدی) ہیں۔ زلقٌ اور ازلاقٌ کا معنی ہے پار ہوجانا۔ زَلَقَ اَلْسِنَتُھُمْ (اُن کی زبانیں مؤثر ہوگئیں) ۔
سعدی نے نظر لگانے کے معنی بیان کیے ہیں اور کلبی نے پچھاڑ دینا (اور زمین پر گرا دینا) ترجمہ کیا ہے۔
بابصارھم لما سمعوا الذکر . بابصارھم کا تعلق یزلقون سے ہے۔ حضرت جابر کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا : نظر آدمی کو قبر میں لے جاتی ہے اور اونٹ کو ہانڈی میں (ابو نعیم فی الحلیۃ) ابن عدی نے حضرت ابوذر ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ نظر حق ہے۔ احمد اور مسلم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ نظر حق ہے۔ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھ سکتی تو نظر آگے بڑھ جاتی۔ اگر تم سے غسل کی درخواست کی جائے تو غسل کرلیا کرو (نظر لگانے والے کے غسل کا پانی اس شخص پر ڈالتے تھے جس پر اس کی نظر لگی ہوتی تھی) ۔
حضرت ابوہریرہ کی دوسری روایت میں آیا ہے ‘ نظر حق ہے ‘ نظر کے وقت شیطان آموجود ہوتا ہے اور آدمی پر حسد کرتا ہے۔
عبید ؓ بن رفاعہ کی روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ جعفر کے لڑکوں کو نظر لگ جاتی ہے۔ آپ انکے لیے کچھ افسون پڑھ دیجئے۔ فرمایا : ہاں اگر قضاء (الٰہی) سے کوئی چیز سبقت کرتی ‘ تو نظر کرتی۔ (بغوی) ابن قتیبہ نے بیان کیا ہے کہ آیت کی مراد یہ نہیں ہے کہ نظر لگانے والے کی طرح تم کو نظر بد لگانا چاہتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب تم قرآن پڑھتے ہو تو انتہائی دشمنی اور بغض کی وجہ سے وہ ایسی تیز نظر سے تم کو دیکھتے ہیں کہ زمین پر گویا تم کو گرا دیں گے۔ محاورہ میں بولا جاتا ہے : نظر الی نظرًا یکاد یصرعنی۔ اس نے ایسی نظر سے مجھے دیکھا کہ قریب تھا کہ مجھے زمین پر گرا دے۔ یکاد یصر عنی کی طرح یکاد یاکلنی (وہ مجھے نظر سے کھائے جاتا تھا) بھی آتا ہے۔ یہ محاورہ شدت عداوت سے کنایہ ہوتا ہے۔ اس مطلب کی صحت پر یہ امر دلالت کر رہا ہے کہ بیان کو سماع قرآن سے مقید کیا ہے (کہ قرآن سنتے وقت وہ ایسا کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن سننا ان کو سخت ناگوار تھا اور قراءت قرآن کے وقت وہ حضور ﷺ کیطرفبغض (اور غضب) کی نظر سے دیکھتے تھے۔
و یقولون انہ لمجنون . یعنی قرآن سنتے ہیں تو کہتے ہیں یہ پاگل ہے۔
Ayah 68:52وما ھو الا للعالمین . اور قرآن نہیں ہے مگر جہان کے لیے نصیحت۔
یعنی رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ‘ قرآن دیوانوں کا کلام نہیں بلکہ ہمہ گیر نصیحت ہے ‘ جو سب سے زیادہ کامل العقل اور صحیح الفہم ہوگا۔ اسی کی فکر رسائی قرآن تک ہوسکتی ہے۔
میرے شیخ اور امام مولانا یعقوب کرخی نے فرمایا ‘ ہوسکتا ہے کہ ھو کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہو یعنی رسول اللہ ﷺ سارے جہان کے لیے پیام ہدایت دینے والے اور ناصح ہیں۔ (ذکرٌ اگرچہ مصدر ہے لیکن بطور مبالغہ بمعنی اسم فاعل ہے جیسے زیدٌ عدلٌ‘ زید انصاف ہے یعنی اتنا انصاف کرنے والا ہے کہ گویا خود انصاف مجسم ہے) حضرت حنظلہ راوی ہیں کہ (راستہ میں) میری ملاقات حضرت ابوبکر ؓ سے ہوئی۔ انہوں نے پوچھا : حنظلہ کیسے ہو ؟ میں نے جواب دیا : حنظلہ منافق ہوگیا۔ ابوبکر ؓ نے کہا : سبحان اللہ ! یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ ﷺ ہم کو جنت و دوزخ کا بیان کر کے نصیحت فرماتے ہیں تو جنت و دوزخ گویا نظر کے سامنے آجاتے ہیں ‘ جب وہاں سے ہٹ کر ہم باہر آتے ہیں اور اہل و عیال اور جائیدادوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا : میں بھی ایسا ہی پاتا ہوں (میری بھی یہی حالت ہے) چناچہ میں اور ا بوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! حنظلہ منافق ہوگیا۔ فرمایاؔ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیاؔ ؔ ؔ : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ ﷺ جنت و دوزخ کا ذکر ہمارے سامنے کرتے ہیں تو گویا دوزخ و جنت ہماری نظر کے سامنے آجاتے ہیں لیکن یہاں سے نکل کر جب ہم بیوی ‘ بچوں اور جائیدادوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ ارشاد فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر تم اس حالت پر باقی رہو جو نصیحت کے وقت ہوتی ہے تو بستروں پر اور راستوں میں تم سے فرشتے مصافحہ کریں۔ مگر حنظلہ وقت ‘ وقت ہے۔ حضور ﷺ نے یہ الفاظ تین بار فرمائے۔
نتیجہ اولیاء اللہ کی علامت ہی یہ ہے کہ ان کے دیدار اور بیان سے اللہ کی یاد ہوجاتی ہے۔ بعض مرفوع احادیث میں آیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا ‘ اولیاء اللہ کون ہیں ؟ فرمایا : جن کے دیکھنے سے اللہ کی یاد ہو۔ یہ بھی روایت ہے کہ حضور پرنور صلوات اللہ و برکاتہٗ علیہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے اولیاء وہ بندے ہیں جن کی یاد میری یاد سے ہوجاتی ہے اور میری یاد انکی یاد سے ‘ واللہ اعلم۔
فائدہ حسن (بصری) (رح) نے فرمایا : نظر بد لگنے کا علاج اس آیت کی قراءت ہے (یعنی کوئی شخص یہ آیت پڑھ کر دَم کر دے یا یہ آیت پڑھے) ‘ واللہ اعلم بالصواب۔