Ayah 59:20لا یستوی اصحب النار واصحاب الجنۃ اصحب الجنۃ ھم الفائزون .
دوزخی اور جنتی باہم برابر نہیں۔ اہل جنت ہی کامیاب ہیں۔ “
لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ....... یعنی جن لوگوں نے اپنے نفسوں کو ذلیل و حقیر کیا اور مستحق دوزخ ہوگئے اور جن لوگوں نے اپنے نفسوں کو کامل بنا دیا اور مستحق جنت ہوگئے ‘ یہ دونوں گروہ برابر نہیں ہیں۔
شافعیہ نے استدلال کیا کہ مسلم اور غیر مسلم برابر نہیں ‘ اس لیے مؤمن کو کافر کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
شافعیہ کا یہ استدلال غلط ہے کیونکہ آیت سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں مؤمن و کافر برابر نہیں ہیں کیونکہ اگلی آیت میں فرمایا ہے : اہل جنت ہی کامیاب ہیں (یعنی آخرت میں) ۔
Ayah 59:21لو انزلنا ھذا القران علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ و تلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون .
” اور اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو (اے مخاطب ! ) تو اس کو دیکھتا کہ خدا کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا اور ان مضامین عجیبہ کو ہم لوگوں کے فائدے کیلئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ “
لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ..... بعض اہل تفسیر کے نزدیک آیت میں ایک تمثیل ہے یعنی اللہ اگر پہاڑ میں قوت تمیز پیدا کردیتا اور پھر اس وقت اس پر قرآن اتارتا تو پہاڑ عاجزی سے دب جاتا ‘ خوف سے پھٹ جاتا اور عظمت قرآن سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ (وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَہِ اللہ ِ ) باوجودیکہ پہاڑ نہایت سخت ٹھوس اور باوزن ہیں لیکن ان کو خوف ہوتا کہ وہ تعظیم قرآن پوری طرح جیسا کہ حق ہے ادا نہ کر پاتے ‘ اس وجہ سے پارہ پارہ ہوجاتے لیکن کافر انسان جو صاحب علم و عرفان ہے قرآن کے اندر جو نصیحتیں اور عبرتیں ہیں ان کو جانتا پہچانتا ہے ‘ پھر بھی سنی اَن سنی کردیتا ہے (بالکل اثر پذیر نہیں ہوتا) یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جمادات (اور نباتات) بظاہر بےشعور اور عدیم الحس ہیں لیکن اپنے خالق کا شعور رکھتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے کہتا ہے : کیا تیرے اوپر کوئی بندۂ خدا اللہ کو یاد کرتا ہوا گزرا (صحیح تحقیق یہ ہے کہ قدماء یونان جو نباتات و جمادات کو بےحس اور عدیم الشعور کہتے ہیں وہ غلط ہے۔ موجودہ سائنس نے نباتات میں تو شعور ثابت کردیا اور عنقریب جمادات کا حساس ہونا بھی ظاہر ہوجائے گا۔ اللہ نے پہلے ہی فرما دیا ہے : وَاِنْ مِّنْ شَیْ ءٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ : یہ تسبیح مقالی ہے حالی نہیں۔ یہ مراد نہیں کہ ہر شئی تخلیقاً اپنے خالق کے بےعیب ہونے پر دلالت کر رہی ہے ہر مصنوع اپنے صانع پر دال ہے۔ یہ مطلب صراحت آیت کے خلاف ہے کیونکہ آیت کا آخری جزء بتارہا ہے کہ انسان تسبیح اشیاء کو نہیں سمجھتا۔ اب اگر تسبیح سے تسبیح حالی مراد لی جائے اور تسبیح حالی کا معنی یہ لیا جائے کہ ہر مخلوق فطرۃً اپنے خالق و فاطر کے بےعیب ہونے پر دلالت کر رہی ہے ‘ تو اس تسبیح اشیاء سے تو یونانی کافر بلکہ جاہل بےعلم بھی و اقف تھے اور ہیں۔ پھر نفی تفقہ کے کچھ معنی نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ تسبیح مقالی ہی مراد ہے مگر ہر چیز کی نوعی زبان جدا جدا ہے جس کو ہر نوع کے افراد ہی سمجھتے ہیں ‘ پہاڑ پہاڑ کی بولی سمجھتا ہے اور پانی پانی کی بات سمجھتا ہے ‘ انسان ان کی بولی نہیں سمجھتے۔ معجزۂ نبوت اس سے مستثنیٰ ہے۔ عام انسان اسی بولی کو سمجھتے ہیں جو مخارج حروف اور اوتاد الصوت کی مرہون ہے اور اسی کو وہ کلام اور مقال کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا بالکل صحیح ہے کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے کہتا ہے وغیرہ) اور سچ فرمایا اللہ نے یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ (مترجم)
لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ : اس آیت میں اشارہ اور توبیخ ہے ‘ اس امر پر کہ انسان غور و فکر سے کام نہیں لیتا اور اتنا سخت دل ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت اس کے اندر خشوع نہیں پیدا ہوتا۔
Ayah 59:22ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو علم الغیب والشھادۃ ھو الرحمن الرحیم
” وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود بننے کے لائق نہیں وہ جاننے والا ہے پوشیدہ باتوں کا اور ظاہر چیزوں کا وہی بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ : غیب اور شہادت کی تشریح تفصیل کے ساتھ سورة جن کی آیت : لَایُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا الاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ کے ذیل میں کردی گئی ہے۔
Ayah 59:23ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلم المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر سبحان اللہ عما یشرکون
وہ وہی اللہ ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے۔ سب عیبوں سے پاک ہے (آئندہ بھی ہر عیب و نقص سے) سلامت رہنے والا ہے۔ امن دینے والا ہے ‘ نگہبانی کرنے والا ہے۔ زبردست ہے ‘ خرابی کا درست کردینے والا ہے ‘ بڑی عظمت والا ہے ‘ پاک ہے اللہ ان (کافروں) کی شرک آفرینی سے ‘
اَلْقُدُّوْسُ : ہر عیب سے بالکل پاک اور ان تمام باتوں سے جو اس کی شان کے مناسب نہیں ‘ قطعاً منزہ۔
اَلسَّلٰمُ : ہر نقص اور خرابی سے سالم ‘ سلام مصدر ہے بطور مبالغہ صفت کی جگہ ذکر کیا گیا ہے۔
اَلْمُؤْمِنُ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : امن دینے والا ‘ کافروں کو ظلم سے اور مؤمنوں کو عذاب سے ‘ اس تفسیر پر المؤمن ‘ امان سے مشتق ہوگا اور امان کا مفہوم تخویف (خوفزدہ کرنا) کی ضد ہے ‘ بعض اہل علم نے المؤْمن کا ترجمہ کیا ہے تصدیق کرنے والا۔ یعنی معجزات عطا کر کے اپنے پیغمبروں کی تصدیق کرنے والا۔
اَلْمُھَیْمِنُ : اپنے بندوں کا نگران۔ ھَمَنَ نگرانی کی ‘ نگہبانی کی۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ قتادہ ‘ سدی اور مقاتل نے یہی ترجمہ کیا۔ قاموس میں بھی یہی معنی مذکور ہے۔ ہمن علی کذا کا معنی ہے حفاظت کی ‘ نگرانی کی ‘ نگہبانی کی۔ خلیل کا بھی یہی قول ہے۔ بعض علماء ادب کا قول ہے کہ مہیمن اصل میں مآمن تھا ساکن الف کو یاء سے بدل دیا یا لیمن ہوگیا پھر متحرک ہمزہ کو ہاء سے بدل دیا۔ مہیمن ہوگیا۔ اس تشریح پر مہیمن کا ترجمہ ہوگا مومن (امن دینے والا یا تصدیق کرنے والا) ابن زید کا یہی قول ہے۔ سعید بن مسیب ‘ ضحاک اور ابن کیسان نے کہا یہ اللہ کا ایک نام ہے آسمانی کتابوں میں آیا ہے ‘ اس کا معنی صرف وہی جانتا ہے۔
اَلْجَبَّارُ : بڑی عظمت والا۔ (کذا قال ابن عباس) جبروت اللہ ‘ اللہ کی عظمت ‘ اس توضیح پر الجبار اللہ کی صفت ذاتی ہوگی۔
بعض اہل عربیت کے نزدیک الجبر سے مشتق ہے اور جبر کا معنی ہے درست کرنا ‘ محاورہ میں کہا جاتا ہے : جبرت الامر ‘ میں نے وہ کام ٹھیک کردیا۔ جبرت العظم ‘ میں نے ہڈی کو جوڑ دیا۔ اللہ بھی فقیر کو غنی کردیتا ہے اور ٹوٹے کو جوڑ دیتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے : وہ ٹوٹی ہڈی کو جوڑ دینے والا ہے۔ سدی اور مقاتل نے کہا : جبار اس کو کہتے ہیں جو طاقت کے ساتھ سب لوگوں پر غالب ہو اور جو کچھ ارادہ کرلے اس کو اپنی غالب کل قوّت سے اس کو پورا کرلے۔ ایک عالم سے جبار کا معنی دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : جبار وہ غالب کل ہے جو اگر کسی کام کا ارادہ کرے تو اس کو پورا کرلے ‘ کوئی اس کو روک نہ سکے۔
اَلْمُتَکَبِّرُ : مبالغہ کا صیغہ ‘ باب تفعل میں استعمال مبالغہ کے لیے ہے۔ کبر اور کبریاء کا معنی ہے : محفوظ رہنا۔ اللہ ہر اس بات سے محفوظ ہے جو موجب احتیاج یا باعث نقص و عجز ہو۔ متکبر کا ترجمہ بڑی عظمت والا بھی کیا گیا ہے۔ بعض نے کہا : ذوالکبریاء بادشاہ کو کہتے ہیں۔
سُبْحَانَ اللہ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ : اللہ مشرکوں کی شرک آفرینی سے پاک ہے کیونکہ مذکورہ اوصاف میں اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 59:24ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی یسبح لہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم .
وہی معبود (برحق) ہے پیدا کرنے والا ‘ ٹھیک ٹھیک بنانے والا ‘ صورتیں بنانے والا ‘ اسی کے اچھے اچھے نام ہیں جو چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اس کی پاکی بیان کرتی ہیں اور وہی زبردست ہے (اور) حکمت والا ہے۔ “
اَلْخَالِقُ : ہر چیز کا اندازہ کرنے والا ‘ دوسری آیت میں آیا ہے : یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھَاتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ : قاموس میں ہے۔ (خالق) موجود ‘ بغیر مثال سابق کے اختراع کرنے والا۔
اَلْبَارِئُ : ٹھیک ٹھیک ‘ بغیر تفاوت کے ایجاد کرنے والا۔
اَلْمُصَوِّرُ : بغوی نے لکھا ہے : مخلوق کی ایسی تصویری علامات بنانے والا کہ ان میں باہم امتیاز ہوجائے۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے : ہذہ صورۃُ الامر ‘ یہ اس کام کی مثال ہے۔ شروع میں اللہ نے اندازہ کیا ‘ پھر وجود کا جامہ پہنایا ‘ پھر صورت گری کی۔ صحاح میں ہے کہ تصویر ‘ اشیاء کے ان نقوش کو کہتے ہیں جن کی وجہ سے ہر چیز دوسری سے ممتاز ہوجاتی ہے ‘ اس کی دو قسمیں ہیں ‘ محسوس اور محض عقلی۔ غیر محسوس ‘ محسوس کو تو تمام لوگ خواہ خاص ہوں یا عوام بلکہ ہر انسان اور بہت سے حیوانات جان لیتے ہیں ‘ سمجھ لیتے ہیں جیسے انسان کی ‘ گھوڑے کی اور جمادات کی محسوس صورتیں معاینہ کے بعد ہر شخص جان لیتا ہے میں کہتا ہوں انہی محسوس صورتوں کے ذریعہ سے ہی زید ‘ عمرو سے ممتاز ہوتا ہے۔ غیر محسوس تصویر کو صرف خاص خاص لوگ جانتے ہیں۔ عوام کے ادراک کی رسائی عقل وہاں تک نہیں ہوتی۔ جیسے انسان کے امتیازی افعال اور مختلف اشیاء کی وہ اندرونی خصوصیات جن کی وجہ سے ایک چیز دوسری چیز سے ممتاز ہوجاتی ہے ‘ ان دونوں صورتوں کی طرف آیات ذیل میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے :
خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ..... صَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ..... فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّاشَآءَ رَکَّبَکَ..... ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خلق آدم علی صورتہ ‘ اللہ نے آدم کو اپنی شکل پر بنایا۔ اس حدیث میں مراد ہے انسان کی وہ خاص ہیئت جو آنکھوں سے بھی دکھائی دیتی ہے اور چشم باطن سے بھی۔ وہ خصوصیت انسانیہ محسوس ہوتی ہے ‘ یہ وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے بکثرت مخلوق پر انسان کو برتری حاصل ہے ‘ صورتہٖ کے لفظ میں اللہ کی طرف صورت کی اضافت حقیقی نہیں کیونکہ اللہ ہر مشابہت سے پاک ہے ‘ نہ اس کا کوئی جزء ہے نہ ہیئت۔ اس جگہ اضافت سے مقصود ہے انسان کی فضیلت کا اظہار اور عزت افزائی۔ جیسے : ناقۃُ اللہ ‘ (اللہ کی اونٹنی) بیت اللہ (خانۂ خدا) میں ناقہ صالح اور کعبہ ابراہیمی کی فضیلت کا اظہار مقصود ہے۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ اپنی صورت پر بنانے سے مراد ہو اپنی صفات (علم ‘ قدرت ‘ ارادہ وغیرہ) عطا فرمانا کیونکہ یہی وہ صفات ہیں جن کی وجہ سے انسان نے خلعت خلافت زیب تین کی اور بار امانت برداشت کیا۔ یہ تمام تشریح اس وقت ضروری ہوگی جب صورتہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹائی جائے ‘ لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ ضمیر آدم کی طرف راجع ہو یعنی اللہ نے آدم کو ان کی خاص صورت پر بنایا اور وہ امتیازی شکل جو آدم کے سوا کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔
اَ لْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی : یعنی وہ نام جو اچھے اوصاف اور بہترین معانی پر دلالت کرتے ہیں (ان کے معانی میں کوئی عیب و نقص نہیں ہے) ۔
اَلْحَکِیْمُ : جامع کمالات ‘ اللہ کی قدرت کاملہ اور علم ہمہ گیر ہے اور تمام کمالات کا سرچشمہ اور مجموعہ یہی دونوں صفات ہیں۔
حضرت معقل بن یسار راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت تین بار اَعُوْذُ بِ اللہ ِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر سورة حشر کی آخر کی تین آیات پڑھے گا اللہ ستّر ہزار فرشتے مقرر کر دے گا جو شام تک اس کیے لیے دعاء رحمت کرتے رہیں گے۔ اگر وہ اس روز مرجائے گا تو شہید مرے گا اور (بجائے صبح کے) اگر شام کو پڑھے گا ‘ تب بھی اس کو یہی مرتبہ ملے گا۔
(رواہ الترمذی و قال حدیث غریب)
حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص رات کو یا دن کو سورة حشر کی آخری آیات پڑھے گا اور اس رات میں یا دن میں اس کی روح قبض کرلی جائے گی تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔