Ayah 59:7ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ و للرسول ولذی القربی والیتمی والمساکین و ابن السبیل کی لایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم وما اتاکم الرسول فخذ وہ وما نھاکم عنہ فانتھوا واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب .
( اس سے پہلی آیت میں فرمایا : ” اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا ‘ سو تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے ‘ نہ اونٹ لیکن اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت حاصل ہے “ ) جو کچھ اللہ (اس طور پر) اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے کافر لوگوں سے دلوائے سو وہ بھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا اور اس کے قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور غریبوں کا اور مسافروں کا تاکہ وہ (مال) تمہارے تونگروں ہی کے قبضہ میں نہ آجائے اور رسول تم کو جو کچھ دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس کو لینے سے تم کو روک دیں ‘ رک جایا کرو اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ (مخالفت کرنے پر) سخت سزا دینے والا ہے۔ “
مَآ اَفَآءَ اللہ .... یعنی اہل قری کا جو مال اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمایا۔ اہل القریٰ میں بنی نضیر بھی شامل ہیں اور دوسری بستیوں والے بھی۔
یہ جملہ سابق : وَمَآ اَفَآءَ اللہ عَلٰی رَسُوْلِہٖ کا بیان ہے ‘ اس لیے دونوں کے درمیان حرف عطف نہیں ذکر کیا گیا (معطوف اور معطوف علیہ الگ الگ ہوتے ہیں اس لیے اگر حرف عطف لایا جاتا تو سابق وَمَآ اَفَآءَ اللہ میں مراد دوسرا مال ہوتا اور اس جملہ میں دوسرا مال مراد ہوتا) البتہ اس جملہ میں عام اہل قریٰ مراد ہیں خواہ بنی نضیر ہوں یا دوسری بستیوں والے۔
ایک شبہ اگر یہ جملہ سابق جملہ کا بیان ہوتا تو بنی نضیر کے مال میں انصار کا بھی حق مانا جاتا (اور جس طرح دوسرے مال فے میں انصار کو حصہ دیا گیا اسی طرح اس مال میں بھی ان کو حصہ دار بنایا جاتا) لیکن رسول اللہ ﷺ نے تو سوائے تین آدمیوں کے اور کسی انصاری کو بنی نضیر کے متروکہ مال میں سے کچھ نہیں دیا۔
جواب حق اس مال میں بھی انصار کا تھا لیکن ان حضرات نے مہاجرین کو اپنے اوپر ترجیح دی اور ایثار کر کے اپنا حق ان کو دیدیا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اہل قریٰ کی تفصیل میں فرمایا : بنی قریظہ ‘ بنی نضیر ‘ اہل فدک ‘ سکان خیبر اور عرینہ کی بستیاں مراد ہیں۔
جلال الدین محلی نے کہا : صفراء ‘ وادی قریٰ اور یلع (کی بستیاں مراد ہیں میں کہتا ہوں صحیح بات یہ ہے کہ خیبر کی فتح (صلح سے نہیں بلکہ) زور یعنی جنگ سے ہوئی تھی اور مال غنیمت کے اٹھارہ سہام کر کے اہل حدیبیہ کو (یعنی ان لوگوں کو جو حدیبیہ میں شریک تھے) تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کی تفصیل سورة فتح میں گزر چکی ہے۔
فَلِلّٰہِ : اللہ کے لیے ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اللہ کا کوئی الگ حصہ مقرر کیا گیا کیونکہ دنیا اور آخرت سب اللہ ہی کی ہے (بنی نضیر کے مال ہی کیا خصوصیت ہے) بلکہ اس مال کی نسبت جو اپنی طرف کی اس سے اس مال کا بابرکت ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ قول حسن ‘ قتادہ ‘ عطاء ‘ ابراہیم ‘ نخعی ‘ عامر ‘ شعبی اور عام فقہاء مفسرین کا ہے۔ بعض کے نزدیک اللہ کا حصہ کعبہ کی اور دوسری مساجد کی تعمیر میں خرچ کیا جائے گا۔ (اللہ کا حصہ الگ ہونے کا یہی مطلب ہے) ۔
وَلِذِی الْقُرْبٰی : اس سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے قرابتدار یعنی بنی ہاشم اور بنی مطلب۔ امام شافعی (رح) کی روایت ہے کہ حضرت جبیر بن مطعم نے فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے اہل قرابت یعنی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو مال تقسیم کیا تو میں اور عثمان خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کو اللہ نے بنی ہاشم میں پیدا کیا ہے۔ اسلیے ہم اپنے ہاشمی بھائیوں کی برتری کا تو انکار نہیں کرتے لیکن ہمارے یہ بھائی بنی مطلب ہیں ‘ جن کی آپ سے قرابت اور ہماری قرابت برابر کی ہے پھر آپ ﷺ نے ان کو تو (تقسیم کے وقت) حصہ دیا اور ہم کو چھوڑ دیا۔ حضور ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر ایک جال سا بنا کر فرمایا : بنی ہاشم اور بنی مطلب اس طرح ایک ہیں۔
ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ (حضور ﷺ نے فرمایا :) میں اور اولاد مطلب نہ جاہلیت (کے زمانہ) میں الگ الگ تھے ‘ نہ اسلام (کے دور) میں۔ ہم اور وہ ایک ہی ہیں۔ حضور ﷺ نے انگلیوں کا جال بنا کر بتایا۔
وَالْیَتٰمٰی : چھوٹے بچے جن کا باپ مرگیا ہو۔
وَ ابْنِ السَّبِیْلِ : مسافر جس کے پاس مال نہ ہو (خواہ وطن میں مالدار ہو) ۔
سابق آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ مال فے خالص رسول اللہ ﷺ کا ہے اور اس آیت میں ذوی القربیٰ اور یتامیٰ اور مساکین اور ابناء السبیل کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل کردیا۔ اس سے یہ بات بتانی مقصود ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس مال کو کہاں کہاں صرف کریں گے ؟ مال غنیمت تو صرف مجاہدین میں تقسیم کرنا ضروری تھا لیکن مال فے کی تقسیم مال غنیمت کی تقسیم کی طرح نہیں تھی بلکہ اس کی تقسیم اللہ کے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلفاء کی صوابدید پر موقوف ہوئی اور ان کو اجازت دی گئی کہ اصناف مذکورہ میں سے جس کو چاہیں دیں۔
کَیْ لاَ یَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ : یعنی ایسا نہ ہو کہ مالدار اور دولت مند لوگ ہی اس مال کا لین دین آپس میں کرتے رہیں اور فقیر غریب محروم رہیں جیسا کہ دور جاہلیت میں کیا جاتا تھا بلکہ رسول کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ مصلحت کے مطابق جس طرح چاہیں تقسیم کریں۔
وَمَا اٰتٰٰکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ : یعنی مال فے میں سے رسول جو کچھ تم کو دیں ‘ اس کو لے لو۔ زیادہ کی طمع نہ کرو اور جس بات کی ممانعت کریں (یعنی مال فے میں سے کچھ چھپا کر رکھنا) اس سے باز رہو۔
یہ آیت اگرچہ مال فے کی تقسیم کے متعلق ہے لیکن (الفاظ کے عموم کے پیش نظر) رسول اللہ ﷺ کے تمام اوامرو نواہی پر کاربند رہنے کی ہدایت کو شامل ہے۔ بخاری کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور (سفید بال) نوچنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کی جھریاں بنانے والیوں پر اور تخلیق خداوندی کو بدلنے والوں پر۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے اس قول کی اطلاع بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی تو وہ آئی اور حضرت ابن مسعود ؓ سے کہا : مجھے تو خبر پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ نے جن پر لعنت کی ہے (یعنی جن کے احکام کی پابندی کی ہدایت ‘ اللہ کی کتاب میں موجود ہے انہوں نے لعنت کی) تو میں ایسی عورتوں پر لعنت کیسے نہ کروں۔ اس عورت نے کہا : دونوں لوحول کے درمیان جو کتاب موجود ہے ‘ میں نے وہ (ساری) پڑھی ‘ اس میں تو کہیں مجھے نہیں ملا (کہ رسول کے ہر حکم کی پابندی کرو) حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : تو نے کتاب اللہ پڑھی ہی نہیں ‘ اگر پڑھتی تو تجھے (یہ حکم) مل جاتا ‘ کیا تو نے نہیں پڑھا کہ اللہ نے فرمایا ہے : مَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا : عورت نے کہا : کیوں نہیں (یہ آیت تو میں نے پڑھی ہے) فرمایا : تو اللہ کے رسول ﷺ نے (ایسا کرنے کی) ممانعت کردی ہے۔
وَاتَّقُوا اللہ : یعنی اللہ کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف نہ کرو۔
Ayah 59:8للفقراء المھجرین الذین اخرجوا من دیارھم و اموالھم یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا و ینصرون اللہ و رسولہ اولئک ھم الصدقون . ” اور ان حاجت مند مہاجروں کا
(بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور (جبراً ) اپنے مالوں سے (جدا کردیئے گئے) وہ اللہ کے فضل اور رضامندی کے طالب ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے دین کی مدد کرتے ہیں ‘ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ “
لِلْفُقَرَآءِ الْمُھٰجِرِیْنَ...... یہ جملہ (للرسول سے بدل نہیں ہے بلکہ) ذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ سے بدل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو فقیر مہاجر نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے علاوہ اگلی آیت میں اللہ نے فرمایا ہے : یَنْصُرُوْنَ اللہ وَ رَسُوْلَہٗ اور ظاہر ہے کہ اگر رسول کو فقراء میں شامل کیا جائے گا تو یہ معنی ہوجائے گا کہ رسول اللہ ﷺ اور دوسرے فقراء مہاجرین اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یعنی رسول خود اپنی مدد کرتے ہیں۔
لِلْفُقَرَآءِ : میں الف لام عہدی ہے اور معہود وہ ہی لوگ ہوں گے جن کا ذکر اوپر کردیا گیا۔ یعنی ذوی القربیٰ اور یتامیٰ اور مساکین۔ پس یہ بدل الکل من الکل ہے۔
میرے نزدیک فقراء مہاجرین اور وہ لوگ جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے ان تمام مؤمنوں کو شامل ہیں جو قیامت تک آنے والے ہوں خواہ زردار ہوں یا نادار۔ جن لوگوں کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے یعنی ذوی القربیٰ وغیرہ وہ بھی انہیں لوگوں کے ذیل میں داخل ہیں۔ اس میں فقراء مہاجرین وغیرہ عام قرار پائیں گے اور پہلے جن کا ذکر آچکا ہے وہ خاص مانے جائیں گے اور یہ صورت بدل الکل من البعض کی ہوجائے گی۔
اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا .... مکہ کے کافروں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا تھا اور ان کے مال پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مہاجر اپنا جو مال چھوڑ آئے تھے اور کفار مکہ نے اس پر قبضہ کرلیا تھا وہ مال کافروں کا ہی ہوگیا۔ کفار اس کے مالک ہوگئے کیونکہ اللہ نے ایسے مہاجروں کو فقراء فرمایا ہے اور فقیر اسی کو کہتے ہیں جس کی ملکیت میں کچھ نہ ہو ‘ اس شخص کو فقیر نہیں کہا جاتا جس کی ملکیت میں مال تو ہو مگر اس کے قبضہ میں نہ ہو اور وہ ایسے مقام پر چلا گیا ہو کہ اپنے مال تک اس کی رسائی نہ ہوسکتی ہو بلکہ ایسے شخص کو خصوصیت کے ساتھ ابن السبیل (راہ گیر ‘ مسافر) کہا جاتا ہے۔ اس لیے آیت صدقات میں ابن السبیل کا فقراء پر عطف کیا گیا ہے۔
اسی بنیاد پر امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) نے فرمایا ہے کہ کافر اگر مسلمانوں کے مال پر قابض ہوجائیں تو شرعاً ان کو مالک قرار دیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے کفار کے مالک ہونے کی یہ شرط لگائی کہ دارالکفر میں کفار مسلمانوں کے مال پر منفرداً قابض ہوجائیں۔ امام مالک (رح) کے نزدیک انتقال ملکیت کے لیے کافروں کا مسلمانوں کے مال پر صرف تسلط اور غلبہ ہوجانا کافی ہے۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ قبضہ کرلینے اور تسلط حاصل کرلینے کے بعد بھی کفار مسلمانوں کے مال کے مالک نہیں ہوجاتے۔ ابن ہمام نے اس کے متعلق امام احمد (رح) کے دو متضاد قول نقل کیے ہیں ‘ ایک قول امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے موافق ہے اور دوسرا امام شافعی (رح) کے مسلک کے مطابق۔
ابن جوزی نے صرف ایک روایت لکھی ہے جس میں امام احمد (رح) کے قول کو امام شافعی (رح) کے قول کے موافق کہا گیا ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کی تائید چند احادیث سے ہوتی ہے۔ ابوداؤد نے مراسیل میں تمیم بن طرفہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے قبضہ میں اپنی اونٹنی پائی اور دعویٰ کیا کہ یہ اونٹنی میری ہے۔ دونوں اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ مدعی نے اپنے دعوے کے گواہ پیش کیے اور مدعٰی علیہ نے اس امر کے گواہ پیش کیے کہ میں نے یہ اونٹنی دشمن سے خریدی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدعی سے فرمایا : جس قیمت کو اس شخص نے یہ اونٹنی خریدی ہے اگر تو لینا چاہے تو وہ قیمت دے کر تو لے لے ورنہ اونٹنی اس کی ہے۔ یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن مرسل اکثر اہل علم کے نزدیک قابل استدلال ہے۔
طبرانی نے مسند میں بروایت تمیم بن طرفہ حضرت جابر بن سمرہ کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے لیکن اس روایت کی سند میں یاسین زیات ضعیف راوی ہے۔ دارقطنی اور بیہقی نے اپنی اپنی سنن میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مسلمان کا) جو مال دشمن نے اپنے قبضے میں لے لیا ہو۔ پھر مسلمان اس کو (کسی وقت) اپنے قبضہ میں (واپس) لے لیں اور چھڑا لیں اور (اصل) مالک اگر اس کو تقسیم کیے جانے سے قبل پالے تو وہی اس مال کا مستحق ہے اور اگر وہ مال تقسیم کردیا گیا ہو تو اصل مالک اگر چاہے تو قیمت دے کرلے سکتا ہے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے جس کو دارقطنی نے متروک کہا ہے۔ دارقطنی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرما رہے تھے کہ مال فے کی تقسیم سے پہلے اگر کسی کو اپنا مال اس میں مل جائے تو وہ مال اسی کا ہے (دوسروں کو تقسیم کے وقت نہ دیا جائے) اور اگر تقسیم کے بعد کسی کو اپنا مال اس مال فے میں دستیاب ہو ‘ تو اس کو اس مال کا کوئی حق نہیں۔ اس حدیث کی سند میں اسحاق بن عبداللہ بن فروہ ضعیف راوی ہے اور دوسری سند میں رشدین ضعیف ہے۔ طبرانی نے حضرت ابن عمر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ مال فے کے اندر تقسیم ہونے سے پہلے اگر کسی کو اپنا مال مل جائے تو اس مال کا مالک وہی ہے (کسی اور کو نہیں دیا جائے گا) اور اگر تقسیم کے بعد کسی کو اپنا مال فے میں ملا ہو تو وہ (اس کا نہیں مانا جائے گا بلکہ) قیمت ادا کر کے لینے کا زیادہ مستحق ہے۔ اس روایت میں یاسین راوی ضعیف ہے۔
امام شافعی (رح) نے احادیث مذکورہ کے مضمون کی تائید میں حضرت عمر کا قول پیش کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : دشمن نے مسلمانوں کا جو مال لے لیا ہو پھر وہ مال (کبھی) مسلمانوں کے ہاتھ آجائے اور کسی مسلمان کو اپنا سابق مال ‘ مال فے میں دستیاب ہوجائے تو مال فے کی تقسیم سے پہلے یہ شخص (اپنے سابق مال کا جو مال فے میں شامل ہو) مالک مانا جائے گا اور اگر تقسیم فے کے بعد دستیاب ہوا ہو تو بغیر قیمت ادا کیے اس مال میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ حضرت عمر کا یہ قول شعبی نے بھی نقل کیا ہے اور رجاء بن حیوہ نے بھی۔ دونوں راویوں نے حضرت عمر کا زمانہ پایا تھا۔ دونوں کی روایت مرسل ہے۔ طحاوی نے اپنی سند سے بروایت قبیصہ بن ذویب بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : مشرکوں نے مسلمانوں کا جو مال لے لیا ہو ‘ پھر (کسی وقت) وہ مال مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائے اور اس میں کوئی مسلمان اپنا مال شناخت کرلے اور ابھی تک اس مال (فے) کی تقسیم نہ ہوئی ہو تو وہ شناخت کردہ مال اسی مسلمان کا ہوگا اور تقسیم حصص کے بعد اگر وہ مال شناخت کیا گیا ہو تو اس صورت میں اس کو (بطور استحقاق سابق) وہ مال نہیں ملے گا۔ حضرت ابو عبیدہ کی روایت سے بھی حضرت عمر کا یہ قول مروی ہے۔ سلیمان بن یسار نے حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔
طحاوی نے بروایت قتادہ بوساطت جلاس بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : جس کسی کا مال دشمن نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہو تو (صاحب مال) مسلمان اس کو خرید سکتا ہے۔
مذکورۂ بالا احادیث میں بعض ضعیف ہیں ‘ بعض مرسل ہیں لیکن ایک کی دوسری سے تائید ہو کر قوّت پیدا ہوجاتی ہے۔ انہی احادیث کی بناء پر امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ دارالحرب میں مسلمان کے مال پر کافر کا قبضہ ہونا ضروری ہے پھر جب مسلمان غالب آجائیں اور اصل مالک اپنا (پچھلا) مال تقسم فے سے پہلے کافروں سے واپس لیے ہوئے مال میں پالے تو اس کو اس کا مالک مانا جائے گا اور تقسیم سہام کے بعد اگر اس کو اپنا کھویا ہوا مال فے میں ملے گا تو اس کو مالک نہیں مانا جائے گا بلکہ اس کو اگر لینا ہوگا تو قیمت دے کرلے گا۔
اسی طرح کوئی تاجر دارالحرب میں جا کر مسلمان کو لوٹا ہوا مال کافروں سے خرید کر دارالسلام میں لے آئے گا تو اصل مالک کو (ادا شدہ) قیمت دے کر اس کا مال مل سکتا ہے۔ اگر چاہے لے لے (سابق ملکیت کی بنا پر بلا قیمت لینے کا اس کو کوئی حق نہیں ہے) ۔
یہی حکم اس صورت میں ہوگا جب کافروں نے کسی مسلمان کو (کسی دوسرے مسلمان سے لوٹا ہوا مال) مفت ہبہ کردیا ہو۔ اس صورت میں بھی موہوب لہ مالک قرار پائے گا اور اصل مالک اگر لینا چاہے گا تو قیمت دے کرلے گا۔
بعض حنفیہ نے صحیحین کی مندرجہ ذیل حدیث کو استدلال میں پیش کیا ہے ‘ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کل کو حضور ﷺ مکہ میں کس مکان میں نزول اجلال فرمائیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا ہی کہاں ہے ؟
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیل نے جبکہ وہ کافر تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے مکان پر تسلط جما لیا تھا (یعنی مالک بن بیٹھے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس جابرانہ ملکیت کو تسلیم کرلیا تھا) بعض اہل علم نے کہا : اس حدیث سے (کافروں کے جابرانہ قبضہ کو تسلیم مالکیت پر دلیل نہیں لائی جاسکتی بلکہ اس سے) تو یہ ثابت ہو رہا ہے کہ مسلمان کافر کے مال کا وارث نہیں ہوتا (اور نہ کافر مسلمان کے مال کا) عقیل نے ابو طالب کی وراثت میں یہ مکان پائے تھے۔ ابو طالب کے چار بیٹے تھے : علی ؓ اور جعفر۔ یہ دونوں مسلمان ہوئے۔ عقیل اور طالب کافر رہے۔ پس عقیل اور طالب اپنے باپ کے ترکہ کے وارث قرار پائے۔
امام شافعی (رح) نے اپنے مسلک کے استدلال میں مندرجۂ ذیل حدیث ذکر کی ہے۔ یہ حدیث امام احمد (رح) نے بھی بیان کی اور مسلم نے اپنی صحیح میں بھی۔ حضرت عمران بن حصین راوی ہیں کہ بنی عقیل کے ایک آدمی کی ایک اونٹنی تھی ‘ جس کو عضباء کہا جاتا تھا۔ یہ اونٹنی حاجیوں کے قافلہ کے سارے اونٹوں سے آگے بڑھ جاتی تھی۔ اتفاقاً اونٹنی کا مالک مع اونٹنی کے گرفتار کرلیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے عضباء کو روک لیا ‘ کچھ مدت کے بعد مشرکوں نے مدینہ کے باہر چرنے والے اونٹوں پر حملہ کیا ‘ اونٹوں کو لوٹ کرلے گئے ‘ ان میں عضباء بھی تھی۔ مشرک ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ کرلے گئے ‘ راستہ میں جب یہ لوگ کسی منزل پر اترتے تو اونٹوں کو اپنے صحن میں رات کو رکھتے تھے ‘ ایک رات وہ مسلمان عورت اٹھی ‘ سب لوگ سو رہے تھے۔ عورت اونٹوں کی طرف گئی۔ جس اونٹ پر ہاتھ رکھتی وہ اونٹ بلبلانے لگتا تھا۔ آخر عضباء کے پاس گئی اور اس پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف چل دی اور اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ کافروں سے اس کو نجات دے دے گا تو وہ اللہ کے لیے عضباء ہی کی قربانی کر دے گی۔ جب مدینہ پہنچی تو اونٹنی پہچان لی گئی۔ لوگ اس کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ عورت نے (فرار ہو کر آنے اور) نذر ماننے کا ذکر کردیا۔ حضور ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا : اونٹنی نے تو میرے ساتھی کی خبر دی اور تو اسی کو قربان کر دے گی حالانکہ اللہ نے اسی پر بٹھا کر تجھے بچا دیا۔ پھر فرمایا : گناہ کی نذر کو پورا کرنا (جائز) نہیں اور نہ اس چیز کی نذر ماننی جائز ہے جو نذر ماننے والے کی ملک میں نہ ہو۔
دیکھو اگر مشرک اس اونٹنی کے مالک ہوگئے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ اس کو (خود)ؔ نہ لیتے اور نہ عورت کی نذر باطل ہوتی۔
ابوداؤد نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : میرا ایک گھوڑا چلا گیا اور کافروں نے اس کو پکڑ لیا ‘ کچھ مدت کے بعد مسلمانوں کا غلبہ ہوگیا اور وہ گھوڑا مجھے واپس دے دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کا ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عمرکا بیان ہے کہ میرا ایک غلام بھاگ کر روم پہنچ گیا۔ پھر جب مسلمانوں کا روم پر تسلط ہوا تو وہ غلام پکڑا ہوا آیا اور خالد بن ولید نے وہ غلام مجھے واپس کردیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کا ہے۔ یہ دونوں حدیثیں بھی امام شافعی (رح) نے اپنے مسلک کے ثبوت میں ذکر کی ہیں۔
اوّل حدیث کا جواب یہ ہے کہ مشرک اونٹنی کو لے کر دارالحرب میں نہیں پہنچے تھے اور دارالحرب کے اندر اونٹنی ان کے قبضے میں نہیں پہنچنے پائی تھی۔ حدیث میں صاف صراحت ہے کہ جہاں کہیں وہ لوگ کسی منزل پر اترتے تھے تو اونٹوں کو (اپنے پڑاؤ کی) انگنائیوں میں باندھتے تھے۔
رہی دوسری حدیث ‘ تو وہ ہمارے مسلک کے موافق ہے۔ ہمارا مسلک ہے کہ مشرک جب ہمارے مال پر غلبہ پا کر قابض ہوجائیں تو وہ اس مال کے مالک ہوجاتے ہیں پھر اگر مسلمان غالب آجائیں اور مال فے میں وہ مال بھی ہو جو کافر لے گئے تھے اور تقسیم سہام سے پہلے اصل مالک اپنے مال کو پہچان لے تو بلا قیمت (سابق استحقاق کی بناء پر) وہ مال اس کو دے دیا جائے گا اور تقسیم کے بعد قیمت ادا کر کے وہ اپنا مال لے سکتا ہے (چنانچہ گھوڑا حضرت ابن عمر کو واپس کردیا گیا کیونکہ تقسیم سہام اس وقت تک نہیں ہوئی تھی) رہا غلام تو وہ خود بھاگ کر دارالحرب میں چلا گیا تھا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک کفار اس کے مالک ہی نہیں ہوئے تھے۔ جب مسلمان رومیوں پر غلبہ پا کر اس کو پکڑ لائے تو اصل مالک کو دے دیا گیا۔
کافروں سے اگر مسلمان خرید لائے یا وہ بلا قیمت کسی مسلمان کو دے دیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ قیمت دے کر اصل مالک اس کو لے سکتا ہے۔
یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللہ : یعنی اپنے اعمال حسنہ کی مقدار سے کتنے ہی گنا زائد ثواب کی طلب کرتے ہیں۔
وَ یَنْصُرُوْنَ اللہ : یعنی اللہ کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ : یعنی مؤمن ہونے کے دعوے میں وہ سچے ہیں۔ بعض شیعہ کہتے ہیں کہ فقراء مہاجرین جن کو گھر بار چھوڑ کر نکلنا پڑا وہ مؤمن نہیں تھے ‘ منافق تھے۔ مؤمن ہونے کے دعوے میں جھوٹے تھے۔ آیت مذکورہ کی صراحت شیعہ کے مقولہ کے خلاف ہے اس لیے ایسا کہنا اور یہ عقیدہ رکھنا کفر ہے۔
قتادہ نے کہا : یہ وہ مہاجر تھے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں گھر بار ‘ مال و متاع اور کنبہ ‘ قبیلہ کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے اور راہ اسلام میں ان کو کتنی ہی شدائد برداشت کرنی پڑیں۔ مگر انہوں نے اسلام کو اختیار کیا۔ بعض آدمیوں کی تکلیفیں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ انتہائی بھوک کی وجہ سے وہ پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے تاکہ کمر سیدھی ہی رہ سکے۔ بعض آدمیوں کے پاس سردی سے بچنے کے لیے کوئی کپڑا نہیں تھا ‘ اس لیے وہ زمین میں گڑھے کھود کر ان میں پناہ لیتے تھے۔ میں کہتا ہوں وہ لوگ راہ خدا میں شہید ہونے کے مشتاق تھے۔
بغوی نے معالم اور شرح السنۃ میں امیّہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فقراء مہاجرین کے ذریعہ سے دعاء کشائش کیا کرتے تھے۔
مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن فقراء مہاجرین دولت مندوں سے چالیس سال پہلے جنت کی طرف بڑھیں گے۔
ابوداؤد نے حضرت ابوسعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے فقراء مہاجرین کے گروہ ! تم کو قیامت کے دن نور کامل حاصل ہونے کی بشارت ہو ‘ تم لوگ دولت مند آدمیوں سے نصف یوم پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ (نصف یوم) بقدر پانسو برس کے ہوگا۔ میں کہتا ہوں شاید فقراء مہاجرین مالدار مہاجرین سے چالیس سال پہلے اور دوسرے دولت مند لوگوں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
ابن المنذر نے حضرت یزید بن اصم کی روایت سے بیان کیا کہ انصار نے رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان زمین آدھی آدھی بانٹ دیجئے ‘ زمین سے مراد وہ زمین تھی جو انصار کی تھی (اور اس میں سے آدھی زمین وہ مہاجرین کو دینا چاہتے تھے) حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ! زمین تو تمہاری ہے (زمین کی ملکیت میں شرکت نہیں ہوگی) البتہ تم ان کی طرف سے محنت کا بار اٹھا لو اور پیداوار کی تقسیم کرلو (آدھی پیداوار ان کو دے دو ) انصار نے کہا : ہم اس پر راضی ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 59:9والذین تبو وا الدار والایمان من قبلھم یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا و یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون . ” اور ان لوگوں کا بھی حق ہے جو دارالسلام (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان مہاجروں کے آنے سے
پہلے جاگزین تھے (اور) جو مہاجر ان کے پاس ہجرت کر کے آتے ہیں ‘ ان سے یہ محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ لوگ اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور ان کو اپنے سے مقدم رکھتے ہیں۔ خواہ ان پر (خود) فاقہ ہی ہو اور جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے ‘ پس وہی لوگ کامیاب ہیں۔ “
بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے حدیث مذکور ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے ‘ انصار نے درخواست کی کہ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان کھجور کے درخت بانٹ دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں (بلکہ) تم ہماری جگہ محنت کرو اور ہم پھولوں میں تم کو (برابر کا) شریک بنا لیں گے۔ انصار نے کہا : بسر و چشم۔ آیت کے نزول کا ذکر اس سلسلہ میں صحیح نہیں ہے۔
تَبَوَّؤُ الدَّارَ : یعنی دار ہجرت میں مقیم رہے اور ایمان پر جمے رہے ‘ ایمان کو انصار کی قرار گاہ اس لیے فرمایا کہ انصار برابر ایمان پر قائم رہے (کبھی قرار گاہ ایمان سے نہ ہٹے) ۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الایمان فعل محذوف کا مفعول ہو یعنی انہوں نے ایمان کو خالص رکھا۔ یا الایمان سے پہلے لفظ دار محذوف ہے یعنی دارالایمان میں وہ جمے رہے۔ دارالایمان سے مراد ہے مدینہ طیبہ ‘ مدینہ کو دارالایمان کہنے کی یہ وجہ ہے کہ مدینہ مظہر ایمان ہے۔ حضرت جابر بن سمرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مدینہ کا نام طابہ مقرر کیا ہے۔ (مسلم) حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مدینہ بھٹی کی طرح ہے۔ میل کچیل کو باہر کردیتا ہے اور پاک صاف کو نکھار دیتا ہے۔ (متفق علیہ) حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی اسی مفہوم کی حدیث آئی ہے۔ (مسلم)
مِنْ قَبْلِھِمْ : یعنی مہاجرین کی ہجرت سے پہلے۔ بعض مفسرین کے نزدیک من قبلھم کا تعلق تبوؤُ الدار سے ہے۔
حَاجَۃً : بعض علماء نے کہا : جس چیز کی احتیاج ہو اس کو حاجت کہتے ہیں اس جگہ مضاف محذوف ہے۔ یعنی وہ اپنے دلوں میں کسی حاجت کی طلب نہیں پاتے۔ بعض نے کہا : حاجت سے مراد ہیں وہ تمام باتیں جن کا باعث حاجت ہوتی ہے یعنی مال کی طلب ‘ حسد ‘ غصہ وغیرہ۔
مِمَّا اُوْتُوْا : یعنی اس مال فے کی وجہ سے جو مہاجرین کو دیا گیا اور انصار کو نہیں دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کا سارا متروکہ مال مہاجرین کو تقسیم کردیا تھا اور سوائے تین انصاریوں کے کسی انصاری کو اس میں سے کچھ نہیں دیا اور انصار کو اس سے خوشی ہوئی ہے (ناگواری نہیں ہوئی) محمد بن یوسف صالحی نے سبیل الرشاد میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بنی عوف بن عمرو کی بستی سے منتقل ہو کر مدینہ تشریف لائے (تو آپ ﷺ کے ساتھ) مہاجرین بھی منتقل ہو کر مدینہ آگئے۔ ان مہاجرین کو مہمان رکھنے کے متعلق انصار کا باہم اختلاف ہوگیا۔ تمام انصار نے چاہا کہ مہاجرین ان کے گھروں میں اتریں۔ آخر نوبت قرعہ اندازی تک پہنچی اور جس انصاری کا نام قرعہ میں نکل آیا وہ اپنے مہمان کو گھر لے گیا۔ اس طرح مہاجرین انصار کے گھروں اور مالوں میں مقیم (شریک) ہوگئے۔ بنی نضیر کا مال غنیمت جب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ آیا تو آپ ﷺ نے ثابت بن قیس بن شماس کو طلب فرمایا اور حکم دیا : میرے پاس اپنی قوم والوں کو بلا لاؤ۔ ثابت نے عرض کیا : کیا خزرج کو ؟ فرمایا : (نہیں بلکہ) تمام انصار کو۔ حسب الحکم ثابت نے (تمام) اوس اور خزرج والوں کو بلا لیا (جب سب آگئے تو) حضور ﷺ نے کلام شروع کیا اور اللہ کی حمد وثناء کی پھر انصار کا اور مہاجرین کے ساتھ انصار کے حسن سلوک کا اور اپنے مکانوں اور مالوں میں مہاجرین کو جگہ دینے کا اور مہاجرین کے لیے انصار کے ایثار کرنے کا ذکر کیا ‘ اس کے بعد فرمایا : اللہ نے بنی نضیر کا جو متروکہ مال مجھے عنایت فرمایا ہے ‘ اگر تم چاہو تو میں وہ متروکہ مال تم کو اور مہاجروں کو (برابر) تقسیم کر دوں ؟ اس صورت میں مہاجرین ان حالات پر قائم رہیں گے جن پر اب ہیں یعنی تمہارے گھروں اور تمہارے مالوں میں سکونت و شرکت اور اگر تم پسند کرو تو میں یہ مال انہیں کو دے دوں (تم کو نہ دوں) اس صورت میں وہ تمہارے گھروں کو چھوڑ دیں گے اور چلے جائیں گے۔ یہ تقریر سن کر حضرت سعد ؓ بن عبادہ اور سعد ؓ بن معاذ نے باہم مشورہ کے بعد عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ﷺ یہ مال مہاجرین کو ہی تقسیم کردیں اور جیسے وہ اب ہمارے گھروں میں رہتے ہیں آئندہ بھی رہیں گے (دونوں سرداروں کا فیصلہ سن کر) انصار نے پکار کر کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم اسپر راضی ہیں ‘ ہم کو یہ منظور ہے۔ حضور ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! انصار پر رحمت (نازل) فرما۔ اس کے بعد بنی نضیر کا جو متروکہ مال اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو عنایت فرمایا تھا وہ آپ ﷺ نے تقسیم کردیا ‘ صرف مہاجرین کو عطا فرمایا اور انصار میں سے سوائے دو محتاج آدمیوں کے اور کسی کو نہیں دیا۔ ایک سہل بن حنیف دوسرے ابو دجانہ۔ البتہ سعد بن معاذ کو ابن ابی الحقیق کی تلوار عنایت کردی ‘ اس تلوار کی بڑی شہرت تھی۔
بلاذری نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا : تمہارے مہاجر بھائیوں کے پاس مال نہیں ہے ‘ اگر تمہاری مرضی ہو تو یہ (بنی نضیر کا متروکہ) مال تم کو اور ان کو میں تقسیم کر دوں اور جو تمہارا مال اب تقسیم شدہ ہے وہ بھی تمہارے اور ان کے درمیان بانٹ دوں ؟ اور اگر تم چاہو تو اپنا مال اپنے پاس رکھ لو (مہاجرین کو اس میں سے کچھ نہ دو ) اور یہ کُل مال فے میں انہیں کو بانٹ دوں (تم کو کچھ نہ دوں) انصار نے جواب دیا : حضور ﷺ ! یہ مال فے تو آپ ﷺ انہیں کو تقسیم کردیں اور ہمارے مال میں سے جتنا آپ ﷺ چاہیں بانٹ کر ان کو دے دیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ : یعنی اپنے مکانوں اور مالوں کے لیے مہاجرین کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں ‘ یہاں تک کہ جس انصاری کی دو بیبیاں تھیں ‘ اس نے ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائی کا اس سے نکاح کردیا۔
وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ : خواہ ان کو کیسا ہی فاقہ اور محتاجی ہو۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ بنی نضیر (کی جلا وطنی) کے دن رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا : باقی روایت اس طرح ہے جس طرح بلاذری نے بیان کیا۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے (فاقہ کی) سختتکلیف ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی بیبیوں کے گھر کسی کو بھیجا (کہ جو کچھ موجود ہو لے آئے) لیکن کسی بی بی کے گھر میں کچھ نہیں ملا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا کوئی ہے جو آج رات اس کی مہمانی کرے (یعنی کھانا کھلا دے) اللہ کی رحمت اس پر ‘ فوراً ایک انصاری کھڑا ہوگیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس کی ضیافت کروں گا۔ چناچہ مہمان کو لے کر یہ صاحب اپنے گھر پہنچے اور بی بی سے کہا : یہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کا مہمان ہے ‘ اس سے بچا کر کوئی چیز نہ رکھنا۔ بی بی نے کہا : خدا کی قسم ! میرے پاس تو سوائے بچوں کے کھانے کے اور کچھ نہیں ہے۔ انصاری نے کہا : جب بچے شام کا کھانا مانگیں تو حیلہ بہانہ کر کے ان کو سلا دینا اور پھر آکر چراغ بجھا دینا۔ ہم (دونوں) آج رات بھوکے رہیں گے ( اور بچوں کا کھانا مہمان کو کھلا دیں گے) بی بی نے ایسا ہی کیا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ بیوی نے کھانا تیار کیا اور بچوں کو سلا دیا ‘ پھر چراغ کی بتی درست کرنے کے بہانے سے اٹھی اور چراغ بجھا دیا اور (مہمان کے ساتھ دونوں جھوٹ موٹ کھانے میں شریک ہوگئے) مہمان پر ظاہر کرتے رہے کہ ہم کھانے میں شریک ہیں (لیکن کھایا کچھ نہیں) دونوں رات بھر خالی پیٹ رہے ‘ صبح کو وہ انصاری خدمت گرامی میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ فلاں مرد اور فلاں عورت سے بہت خوش ہوا ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
مسدد نے مسند میں اور ابن المنذر نے ابو المتوکل کی روایت سے لکھا ہے کہ وہ صاحب حضرت ثابت ابن قیس بن شماس تھے ‘ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
واحدی نے بروایت محارب بن دثار حضرت ابن عمر کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک صحابی کے پاس بکری کی سری بطور ہدیہ بھیجی گئی۔ انہوں نے فرمایا : میرا فلاں بھائی اور اس کے بچے اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ چناچہ ان بزرگ نے وہ سری دوسرے (مسلمان) کو بھیج دی اور پھر انہوں نے تیسرے کو اور تیسرے نے چوتھے کو ‘ اسی طرح وہ سری سات گھروں کا چکر کاٹ کر پھر جہاں سے چلی تھی ‘ وہیں لوٹ آئی اس پر یہ آیت : وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلُوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ : نازل ہوئی۔
بخاری نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بحرین میں جاگیریں عطا فرمانے کے لیے انصار کو طلب فرمایا ‘ انصار نے عرض کیا : ہمارے بھائی مہاجرین کے لیے بھی جاگیریں کاٹ دی جائیں تو ہم بھی اپنے لیے جاگیریں کٹوا لیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : (جب تم اتنا ایثار کر رہے ہو کہ بغیر مہاجرین کے جاگیریں نہیں لینا چاہتے) تو مجھ سے (قیامت کے دن) ملاقات کرنے کے وقت تک صبر رکھنا کیونکہ اس کا اثر میرے بعد تم پر پڑے گا (یعنی تمہاری حق تلفی کی جائے گی اور مہاجرین کو تم پر ترجیح دی جائے گی ‘ مگر تم صبر کرنا) ۔
وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : نفس کو مال سے محبت اور خرچ کرنے سے نفرت ہوتی ہے ‘ اسی محبت و نفرت کا اس پر غلبہ رہتا ہے جو لوگ نفس کے ان تقاضوں کے خلاف عمل کرتے ہیں ‘ وہی حقیقت میں فلاح یاب ہیں۔
شح کا معنی ہے بخل اور حرص (قاموس) جوہری نے صحاح میں شح کا معنی لکھا ہے : بخل مع حرص۔
بغوی نے لکھا ہے کہ علماء کے نزدیک شح اور بخل میں فرق ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابن مسعود ؓ سے کہا : مجھے اندیشہ ہے کہ (قیامت کے دن) میں تباہ ہوجاؤں گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : کیا بات ہے ‘ یہ اندیشہ تم کو کیسے ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا : میں سن رہا ہوں کہ اللہ فرما رہا ہے : وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : اور میں انتہائی بخیل ہوں ‘ میرے ہاتھ سے کوئی چیز نکل نہیں پاتی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : یہ وہ شح نہیں ہے جس کا ذکر اللہ نے فرمایا ہے ‘ شح تو یہ ہے تم اپنے بھائی کا مال ناجائز طور پر کھا جاؤ۔ ہاں ! یہ بخل ضرور ہے اور بخل بھی بری چیز ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : کوئی شخص اپنا مال روک کر رکھے تو یہ شح نہیں ہے۔ شح تو یہ ہے کہ دوسرے کے مال کو (ناجائز طور پر) آدمی لالچ کی نظر سے دیکھے۔ سعید بن جبیر نے فرمایا : شح (کا معنی) یہ ہے کہ آدمی حرام مال حاصل کرے اور زکوٰۃ نہ دے بعض اہل علم کا قول ہے کہ شح کا معنی ہے : ایسی شدید حرص جو ممنوعات کے ارتکاب کا موجب ہوتی ہے۔
ابن زید نے کہا : جس چیز (کو لینے) کی اللہ نے ممانعت کردی ہے اس کو نہ لے اور جس چیز کو دینے کا حکم دیا ہے اس کو روک رکھنے کا موجب بخل نہ ہو ایسے آدمی کو شح نفس سے محفوظ کہا جائے گا۔ (یعنی شح نفس سے بچنے کا یہی مفہوم ہے) ۔
حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ظلم کرنے سے پرہیز رکھو کیونکہ قیامت کے دن ظلم تاریکیاں ہو (جائے) گا اور شح سے بچو ‘ شح نے تم سے پہلے لوگوں کو تباہ کردیا۔ اسی کے باعث انہوں نے آپس میں خونریزیاں کیں اور حرام کو حلال بنا لیا۔ (رواہ مسلم و احمد)
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : میں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ کی راہ میں (اٹھتا ہوا) غبار اور (دوزخ کا) دھواں کسی بندہ کے جوف میں کبھی یکجا نہ ہوگا (یعنی جس مجاہد کے دماغ میں جہاد میں اٹھتا ہوا غبار پہنچ جائے گا اس کے دماغ میں دوزخ کا دھواں نہیں جائے گا) اور کسی ایک بندہ کے دل میں کبھی شح اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے (یعنی شح تقاضاء ایمان کے خلاف ہے) ۔
(رواہ البغوی و کذا رواہ النسائی)