59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے

والذین جاء وا من بعد ھم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا ربنا انک رء وف رحیم . ” اور ان لوگوں کا بھی (مالِ فے میں) حق ہے جو ان کے بعد آئے ‘ بعد کو آنے والے ان اگلوں کے لیے (دعا کرتے اور) کہتے ہیں۔ اے ہمارے ربّ ! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ان ایمان والوں کے لیے کینہ نہ پیدا کردینا۔ اے ہمارے ربّ ! آپ بڑے شفیق ‘ رحیم ہیں۔ “ بَعْدِھِمْ : یعنی مہاجرین و انصار کے بعد۔ ان سے مراد ہیں وہ صحابی جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور وہ تمام مؤمن بھی مراد ہیں جو صحابی کے بعد قیامت تک آنے والے ہیں۔ لِاِخْوَانِنَا : یعنی ہمارے دینی بھائیوں کے لیے جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔ پہلوں کا پچھلوں پر بڑا حق ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے جن کو ہدایت ملی اور ایمان کی توفیق ہوئی ‘ انہی کے ذریعہ سے پیچھے آنے والے ہدایت یاب ہوئے۔ غِلاًّ : کینہ ‘ حسد ‘ بغض۔ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : ان سے مراد ہیں مہاجرین و انصار جو بعد کو آنے والوں سے پہلے ایمان لائے۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ اگر کسی کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے کسی طرح کا بغض ہو تو اس کا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوگا جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا (یعنی نواصب ‘ خوارج اور شیعہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ‘ مترجم) یہ ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے۔ مؤلف فصول نے جو امامیہ اثنا عشری فرقہ میں سے تھا لکھا ہے کہ ایک جماعت حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ پر نکتہ چینی کر رہی تھی۔ حضرت جعفر محمد بن علی باقر نے ان سے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں شامل نہیں ہو ‘ جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : وَالَّذِیْنَ جَآءُ وْا مِنْ بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِیْمَانِ. [ الاٰیۃ ] صحیفۂ کاملہ میں آیا ہے کہ حضرت امام زین العابدین یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ ! محمد ﷺ کے صحابہ ؓ پر خصوصیت کے ساتھ رحمت نازل فرما۔ جنہوں نے صحبت (رسول) کو اچھی طرح نباہا اور رسول اللہ ﷺ کی مدد کرنے میں اچھی طرح آزمائش میں پورے اترے ‘ تیزی کے ساتھ خدمت رسول میں حاضر ہوئے اور دعوت رسول کی طرف پیش قدمی کی اور جونہی آپ ﷺ نے اپنی رسالت کے دلائل بیان کیے فوراً انہوں نے قبول کرلیا اور کلمۂ توحید و رسالت کو ظاہر کرنے میں (تامل نہیں کیا بلکہ) اہل و عیال کو چھوڑ دیا اور نبوت کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے ماں ‘ باپ اور اولاد سے بھی لڑے اور آپ کی وجہ سے فتح یاب ہوئے اور اے اللہ ! ان لوگوں پر رحمت نازل فرما جو رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کی دوستی میں (جان و مال کی) اس تجارت کے امیدوار تھے جو خسران مآل نہیں تھی اور (ان لوگوں پر بھی رحمت نازل کر) جنہوں نے اسلام کا مضبوط قبضہ پکڑ کر اپنے قبائل کو چھوڑ دیا اور ان کی رشتہ داریاں (اور قرابتداریاں) منقطع ہوگئیں اور قرابت رسول کے سایہ میں وہ مسکن گزیں ہوگئے۔ اے اللہ ! جن چیزوں کو انہوں نے تیرے لیے اور تیرے راستہ میں قربان کردیا ‘ ان کو نظر انداز نہ کرنا اور اپنی خوشنودی عطا فرما کر ان کو خوش کرنا۔ اس بدلہ میں کہ انہوں نے تیرے دین پر لوگوں کو جمع کیا اور تیرے رسول کے ساتھ رہے اور تیری طرف آنے کی لوگوں کو دعوت دی اور ان کی قدر افزائی فرما۔ اس بناء پر کہ انہوں نے تیری راہ میں اپنی قوم کی بستیوں کو چھوڑا اور وسعت معاش سے نکل کر تنگ دستی میں پڑے۔ اے اللہ ! اور رحمت نازل فرما ان لوگوں پر بھی جو بخوبی صحابہ کی پیروی کرنے والے ہوں اور کہتے ہوں : رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِیْمَانِ..... (اے ہمارے ربّ ! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے ‘ الخ) ۔ مالک بن معول کا بیان ہے مجھ سے عامر بن شرحبیل شعبی نے کہا : مالک ! ایک بات میں یہودی اور عیسائی رافضیوں سے افضل ہیں ‘ جب یہودیوں سے دریافت کیا گیا کہ تمہاری ملّت میں سب سے افضل کون لوگ تھے ؟ تو انہوں نے کہا : موسیٰ کے صحابہ اور عیسائیوں سے پوچھا گیا : تمہاری امت میں سب سے برتر کون لوگ تھے تو انہوں نے کہا : عیسیٰ کے حواری لیکن جب رافضیوں سے سوال کیا گیا کہ تمہاری ملت میں سب سے برے کون لوگ ہیں ؟ تو کہنے لگے محمد ﷺ کے صحابی۔ ان کو حکم دیا گیا کہ صحابی کے لیے طلب مغفرت فرمائیں تو انہوں نے (بجائے دعا کرنے کے) صحابیوں کو برا کہا ‘ ان کے خلاف روز قیامت تک تلواریں کھچی رہیں گی۔ ان کا جھنڈا کبھی سربلند نہیں ہوگا ‘ نہ ان کے قدم جمیں گے ‘ نہ ایک رائے پر ان کا اتفاق ہوگا۔ جب بھی یہ (صحابہ کے خلاف) لڑائی کی آگ بھڑکائیں گے۔ اللہ ان کی جماعتوں کو منتشر کر کے اور ان کے خون بہا کی لڑائی کی آگ بجھا دے گا۔ اللہ ہم کو گمراہ کن خواہشات سے محفوظ رکھے۔ مالک بن انس ؓ نے فرمایا : جو شخص کسی صحابی سے بغض رکھے گا یا اس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے کینہ ہوگا اس کو مسلمانوں کے مال فئے میں حصہ پانے کا کوئی حق نہیں۔ یہ فرما کر امام مالک (رح) نے آیت : مَآ اَفَآءَ اللہ عُلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُوٰی ..... رَءُ وْفٌ رَحِیْمٌ تک تلاوت فرمائی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک تینوں اقسام کے لوگوں کے استحقاق فئے کے لیے فقیر ہونا شرط ہے۔ میرے نزدیک اَلَّذِیْنَ تَبَوَّ ؤُا الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ کا عطف اَلْفُقَرَآءَ پر ہے اور کسی مسلمان کے مستحق فئے قرار پانے کی شرط فقیر ہونا نہیں ہے۔ دیکھو ! مسافر بالاتفاق مال فئے کا مصرف ہے حالانکہ ہر مسافر کو فقیر نہیں کہا جاسکتا۔ مہاجرین کے ساتھ جو لفظ فقراء ذکر کیا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اکثر مہاجرین فقراء تھے۔ یہ قید احترازی نہیں ہے (بلکہ ایک واقعی حالت کا ذکر ہے) جیسے آیت : وَرَبَآءِبُکُمُ اللَّاتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ میں حجورکم کا لفظ محض واقعی بات کا اظہار ہے ‘ اکثر ایسا ہوتا ہی تھا کہ بیوی کے بطن سے گزشتہ شوہر کی جو لڑکی ہوتی تھی وہ سوتیلے باپ کی گود میں پرورش پاتی تھی۔ میرے قول کی وجہ یہ ہے کہ باجماع علماء مال فئے ہر قسم کے مسلمانوں کا حق ہے خواہ غنی ہوں یا فقیر ‘ تمام مسلمان حکام ‘ عمال اور علماء اس سے بہرہ یاب ہوسکتے ہیں (مشاہرات و وظائف اس میں سے ان کو دیئے جاسکتے ہیں) خواہ وہ مالدار ہوں یا نادار۔ اسی طرح اسلامی فوج کے مصارف اس سے کیے جاسکتے ہیں۔ فوجیوں کا نادار ہونا ضروری نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ مال فئے میں سے تمام مسلمانوں کو برابر حصہ دیتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فضیلت دینی اور خدمت اسلامی کے تفاوت کے پیش نظر تقسیم فئے میں بھی تفاوت کردیا تھا (لیکن مالداری اور ناداری کا لحاظ کسی نے نہیں کیا) ۔ امام ابو یوسف نے کتاب الخراج میں لکھا ہے کہ مجھ سے ابن ابی النجیح نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر کی خدمت میں (فئے کا) کچھ مال پیش کیا گیا ‘ آپ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے جس شخص سے کچھ مال دینے کا وعدہ کیا ہو ‘ وہ آجائے۔ یہ ارشاد سن کر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ آئے اور کہا : مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب بحرین کا مال آئے تو میں تجھے اتنا ‘ اتنا (دونوں لپ بھر کر اشارہ کیا) دوں گا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : دونوں ہاتھ بھر کرلے لو۔ میں نے لے لیا ‘ پھر اس کو گنا تو پانچ سو تھے پھر ارشاد فرمایا : ایک ہزار لے (کیونکہ حضور اقدس ﷺ نے دونوں ہاتھوں کو ملا کر اشارہ کرتے ہوئے اتنا کا لفظ مکرر فرمایا تھا) میں نے ہزار لے لیے۔ اس کے بعد آپ نے ہر اس شخص کو جس سے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ کیا تھا ‘ کچھ کچھ دیا ‘ اس کے بعد بھی کچھ مال باقی رہ گیا تو آپ نے ہر مرد ‘ عورت ‘ بچے ‘ بڑے ‘ آزاد ‘ غلام سب کو برابر بانٹ دیا۔ چناچہ ہر شخص کے حصہ میں 3/19 درہم آئے۔ جب دوسرا سال آیا تو اس سے زیادہ مال آیا ‘ آپ نے وہ بھی لوگوں کو تقسیم کردیا۔ اس بار ہر شخص کے حصہ میں بیس درہم آئے۔ یہ (مساویانہ تقسیم) دیکھ کر کچھ مسلمان حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور عرض کیا : اے رسول خدا کے جانشین ! آپ نے مال کی تقسیم کی اور سب کو برابر حصہ دیا۔ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو دوسروں پر فضیلت اور سبقت اسلامی اور پختگی حاصل ہے۔ آپ ان کی فضیلت اور اسلامی سبقت اور تقدم کو تقسیم میں ملحوظ رکھتے تو بہتر تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں اس بات کو خوب جانتا ہوں مگر اس کا ثواب تو (آخرت میں) اللہ دے گا اور یہ تقسیم معاشی ہے اس میں برابری ‘ کمی بیشی (بعض کو بعض پر ترجیح دینے) سے بہتر ہے۔ جب حضرت عمر کا دور خلافت آیا اور فتوحات کا مال آیا تو آپ نے تقسیم میں فضیلت اسلامی کا لحاظ رکھا اور فرمایا : جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے لڑے ان کو میں ان لوگوں کے برابر نہیں قرار دے سکتا جو رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہ کر آپ کے دشمنوں سے لڑے۔ چناچہ جن انصار و مہاجرین کو سبقت اسلام اور فضیلت حاصل تھی ان میں سے شرکاء بدر کو پانچ ہزار عطا کیے اور جن کو شرکاء بدر کی طرح صرف اسلامی برتری حاصل تھی ان کو ان کے فضائل کے مطابق حصہ دیا۔ امام ابو یوسف (رح) نے لکھا ہے کہ مجھ سے عفرہ کے غلام عمر نے اور بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ جب حضرت عمر کے پاس فتوحات کا مال (بکثرت) آیا تو فرمایا : اس مال کی تقسیم کے متعلق ابوبکر کی ایک رائے تھی اور میری رائے ان سے الگ ہے۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے لڑے ‘ ان کو میں ان لوگوں کے برابر نہیں رکھ سکتا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہ کر (دشمنوں سے) لڑے۔ چناچہ آپ نے مہاجرین و انصار میں سے ہر اس شخص کو جو غزوۂ بدر میں شریک رہا تھا ‘ چار چار ہزار دیئے اور سوائے حضرت صفیہ ؓ اور حضرت جویریہ ؓ کے حضور ﷺ کی ہر بی بی کو بارہ ہزار دیئے۔ حضرت صفیہ ؓ اور حضرت جویریہ کو صرف چھ چھ ہزار دیئے ‘ ان دونوں بیبیوں نے لینے سے انکار کردیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں نے دوسری بیبیوں کو جو دوگنا حصہ دیا ہے ‘ وہ ان کی ہجرت کی وجہ سے دیا ہے ‘ ان کو فضیلت ہجرت حاصل تھی) دونوں بیبیوں نے فرمایا : یہ وجہ نہیں بلکہ ترجیح کی یہ وجہ ہے کہ آپ کے خیال میں رسول اللہ ﷺ کی نظر میں ان کو ہم پر برتری حاصل تھی حالانکہ حضور ﷺ کی نظر میں ہمارا بھی وہی مرتبہ تھا جو ان کا تھا۔ یہ جواب سن کر حضرت عمر ؓ نے ان کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار کردیئے اور رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس کو بھی بارہ ہزار روپے دیئے۔ حضرت اسامہ بن زید کو چار ہزار دیئے اور حضرت عبداللہ بن عمر کو تین ہزار۔ عبداللہ ؓ نے عرض کیا : ابّا ! اسامہ کو مجھ سے ایک ہزار زائد کیوں دیئے ؟ اسامہ کے باپ کو کوئی ایسی فضیلت حاصل نہ تھی جو میرے باپ کو حاصل نہ ہو اور نہ اسامہ کو کوئی ایسی برتری حاصل ہے جو مجھے حاصل نہ ہو۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اسامہ کا باپ تیرے باپ سے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ پیارا تھا اور اسامہ ؓ حضور ﷺ کی نظر میں تجھ سے زائد محبوب تھا۔ حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو پانچ پانچ ہزار دیئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان کا مرتبہ اونچا تھا (باقی) انصار و مہاجرین کے لڑکوں کو دو ‘ دو ہزار دیئے لیکن جب عمرو بن ابی سلمہ سامنے سے گزرے تو فرمایا : ان کو ایک ہزار بڑھا دو ۔ اس پر محمد بن عبدالرحمن بن جحش نے کہا : ان کے باپ ابو سلمہ کو وہ فضیلت حاصل نہیں تھی جو ہمارے باپ کو حاصل نہ ہو اور نہ ان کو کوئی ایسی برتری حاصل ہے جو ہم کو نہ ملی ہو (پھر یہ حصہ میں بیشی کیوں کی گئی ؟ ) فرمایا : ابوسلمہ ؓ (کے بیٹے ہونے) کی وجہ سے تو میں نے ان کو دو ہزار دیئے اور حضرت ام سلمہ کی وجہ سے ایک ہزار (زائد دے دیئے) اگر تیری ماں بھی حضرت امّ سلمہ ؓ کے ہم پلہ ہوتی تو تجھے بھی ایک ہزار زائد دے دیتا۔ باقی لوگوں کو آپ نے آٹھ آٹھ سو دیئے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ اپنے بھائی کو لے کر آئے تو ان کو بھی آٹھ سو سے دیئے۔ نضر بن انس ؓ سامنے سے گزرے تو فرمایا : ان کو دو ہزار دے دو ۔ جنگ احد میں ان کے باپ کا (وہ) کارنامہ تھا ‘ جو دوسروں کا نہیں ہوا (شکست کے بعد) انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا : رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا ؟ میں نے کہا : میرے خیال میں حضور ﷺ کو شہید کردیا گیا۔ یہ بات سن کر انہوں نے تلوار سونت لی اور نیام توڑ کر کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے مگر اللہ تو زندہ ہے وہ تو نہیں مرے گا۔ یہ کہہ کر (مشرکوں سے) اتنا لڑے کہ شہید ہوگئے اور یہ فلاں فلاں مقام پر بکریاں چرا رہا تھا۔ حضرت عمر ؓ اپنے دور خلافت میں مال کی تقسیم اسی طرح کرتے رہے۔ امام ابو یوسف (رح) نے لکھا ہے کہ مجھ سے محمد بن اسحاق نے بروایت ابوجعفر بیان کیا حضرت عمر ؓ نے جب تقسیم مال کا ارادہ کیا اور آپ کی رائے دوسروں کی رائے کے مقابلہ میں آخری تھی تو لوگوں نے کہا کہ پہلے آپ اپنی ذات سے شروع کیجیے (یعنی پہلے اپنا حصہ مقرر کیجئے) فرمایا : نہیں۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے اقرب فالاقرب کے طریقہ سے تقسیم شروع کی۔ پہلے حضرت عباس ؓ سے ‘ پھر حضرت علی ؓ سے شروع کیا۔ اس طرح پانچ اصول تک ترتیب وار تقسیم کی ‘ یہاں تک کہ عدی بن کعب تک پہنچ گئے ‘ ہم سے مخالد بن سعید نے شعبی کا بیان نقل کیا اور شعبی نے ایسے شخص کا حوالہ دیا جو حضرت عمر ؓ کے دور میں موجود تھا کہ جب فارس اور روم کی فتوحات ہوئیں (اور مسلسل بکثرت مال آنے لگا) تو حضرت عمر ؓ نے کچھ صحابیوں کو جمع کر کے دریافت کیا ‘ آپ حضرات کی کیا رائے ہے ؟ میرا خیال تو یہ ہے کہ سالانہ لوگوں کے وظائف مقرر کر دوں اور سال بھر تک مال خزانہ میں جمع کرتا ہوں ‘ اس میں بڑی برکت ہوگی۔ صحابہ ؓ نے جواب دیا : آپ جب چاہیں کریں ‘ انشاء اللہ آپ کو اللہ کی طرف سے توفیق نصیب ہوگی۔ اس کے بعد آپ نے (سالانہ) عطیات مقرر کردیئے اور فرمایا : آغاز تقرر کس سے کروں ؟ عبد بن عوف نے کہا : اپنی ذات سے شروع کیجئے ‘ فرمایا : نہیں۔ خدا کی قسم ! (ایسا نہیں کروں گا) بلکہ بنی ہاشم سے شروع کروں گا جو رسول اللہ ﷺ کا (قریبی) قبیلہ ہے۔ چناچہ جو ہاشمی بدر میں شریک ہوئے تھے ان میں سے ہر ایک کو خواہ وہ غلام ہو (یعنی بنی ہاشم کا آزاد کردہ عجمی غلام یا عربی بہرحال) ہر ایک کے پانچ ہزار مقرر کیے۔ حضرت عباس ؓ کے بارہ ہزار مقرر ہوئے۔ بنی ہاشم کے بعد بنی امیّہ کے وظائف مقرر کیے۔ بنی امیّہ میں سے بھی ان لوگوں کو مقدم رکھا جو شرکاء بدر تھے اور بنی ہاشم سے قریب ترین رشتہ رکھتے تھے ان میں سے بھی ہر ایک کے پانچ ہزار مقرر کیے۔ انصار میں سے ہر ایک کے چار ‘ چار ہزار مقرر کیے ‘ انصاریوں میں سے پہلے محمد بن مسلمہ کا وظیفہ مقرر ہوا۔ امہات المؤمنین میں سے ہر ایک کے دس ہزار لیکن حضرت عائشہ ؓ کے بارہ ہزار مقرر کیے۔ حبش کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے ہر ایک کے چار ہزار اور عمرو بن ابو سلمہ کے چار ہزار مقررر ہوئے کیونکہ حضرت امّ سلمہ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے آپ کو ترجیح حاصل تھی۔ عبداللہ بن جحش نے کہا : آپ نے ان کو ہم پر کیوں فضیلت دی ؟ پورا سوال و جواب بیان سابق میں ذکر کردیا گیا ہے چونکہ حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو رسول اللہ ﷺ سے قرب مرتبہ حاصل تھا۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کے لیے پانچ ہزار مقرر کیا۔ پھر دوسرے لوگوں کے لیے عربی ہوں یا آزاد کردہ عجمی تین سو اور چار سو کا وظیفہ معین کیا گیا۔ مہاجرین اور انصار کی عورتوں کا وظیفہ چھ سو ‘ چار سو ‘ تین سو اور دو سو مقرر ہوا۔ کچھ مہاجرین کا وظیفہ دو ہزار ہوا۔ برقیل جب مسلمان ہوگئے تو ان کا وظیفہ بھی دو ہزار مقرر ہوگیا۔ برقیل نے کہا : میری زمین میرے ہی قبضہ میں رہنے دیجئے ‘ میں اس کا خراج ویسے ہی ادا کروں گا جیسے پہلے ادا کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اس کی درخواست منظور کرلی۔ امام ابو یوسف (رح) نے لکھا ہے ‘ مجھ سے محمد بن عمرو بن علقمہ نے بحوالہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ اس روایت میں آیا ہے کہ مہاجرین کا پانچ پانچ ہزار اور انصار کا تین تین ہزار اور امہات المؤمنین کا بارہ بارہ ہزار وظیفہ مقرر کیا۔ جب حضرت زینب ؓ بنت جحش کا وظیفہ ان کی خدمت میں پہنچا تو فرمایا : امیر المؤمنین کی اللہ مغفرت کرے اس روپیہ کی تقسیم تو میری ساتھ والیاں (یعنی دوسری امہات المؤمنین) مجھ سے زیادہ اچھی کرسکتی تھیں (حضرت زینب سمجھیں کہ یہ بار ہزار درہم مجھے اس لیے دیئے گئے ہیں تاکہ میں دوسری بیبیوں کو تقسیم کر دوں) لانے والے نے کہا : یہ ساری رقم تو آپ کی ہے۔ چناچہ وہ روپیہ آپ کے سامنے ڈال دیا گیا اور آپ نے اس کو کپڑے سے ڈھانک دیا۔ پھر جو عورت آپ کے پاس موجود تھی ‘ اس سے فرمایا : اس کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال اور جتنا ہاتھ میں آجائے اتنا اتنا (دوسری عورتوں کو) بانٹ دے۔ وہ عورت اسی طرح بانٹنے لگی۔ آخر اس تقسیم کنندہ عورت نے کہا : شاید آپ مجھے بھول گئیں حالانکہ آپ پر میرا حق (زائد) ہے۔ فرمایا : کپڑے کے نیچے جو باقی رہا ہے وہ تو لے لے۔ اس نے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو 85 درہم نکلے۔ اس کے بعد حضرت زینب ؓ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی : اے اللہ ! اس سال کے بعد کبھی عمر کا عطیہ مجھے نہ پائے (یعنی میں اگلے سال تک زندہ نہ رہوں) چناچہ امہات المؤمنین میں سب سے پہلے حضرت زینب ؓ کی موت ہوئی اور آپ ؓ رسول اللہ ﷺ سے جا ملیں۔ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت زینب بن جحش تمام بیبیوں سے زائد سخی تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت زید بن ثابت کو انصار کی تقسیم کا ذمہ دار بنا دیا۔ حضرت زید نے سکان عوالی مدینہ سے تقسیم کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے بنی عبدالاشہل کو دیا پھر قبیلہ اوس کو دیا کیونکہ ان کے گھر دوری پر تھے۔ اوس کے بعد قبیلہ خزرج کو۔ سب سے آخر میں آپ کا خود نمبر آیا۔ ان کا قبیلہ بنی مالک بنی نجار تھا۔ بنی نجار مسجد کے گردا گرد رہتے تھے۔ امام ابو یوسف (رح) نے لکھا ہے : مجھ سے مدینہ کے ایک شیخ نے بحوالہ اسماعیل بن سائب بن یزید بیان کیا اور اسماعیل نے اپنے باپ کی روایت سے کہا کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب فرما رہے تھے ‘ قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اس مال میں ہر شخص کا حق ہے۔ میں دیتا ہوں اور روکتا ہوں اور سوائے مملوک غلام کے اور کسی کا دوسرے سے زیادہ حق نہیں ہے اور میں بھی تم میں سے ایک فرد ہوں لیکن کتاب اللہ کی رو سے لوگوں کے مراتب مختلف ہیں ‘ کوئی موروث اسلام ہے ‘ کسی کو تقدم اسلامی حاصل ہے ‘ کوئی غنی ہے کوئی محتاج۔ خدا کی قسم ! اگر میں زندہ رہا تو ضرور ایسا ہوگا کہ کوہ صفاء پر جانور چرانے والے کو اس مال میں سے اس کا حصہ اس کی جگہ پر پہنچ جائے گا ‘ بغیر اس کے کہ (اپنے حصہ کی طلب میں) اس کا چہرہ سرخ ہو۔ قبائل حمیر کا رجسٹر اندراج الگ تھا۔ حضرت عمر ؓ سپہ سالار اعظم کا حصہ تو آٹھ اور سات ہزار کے درمیان مقرر کردیتے تھے تاکہ ان کی غذائی ضرورتوں کی تکمیل اور متعلقہ امور کی درستی ہو سکے۔ پیدا ہوتے ہی بچہ کا وظیفہ مقرر کردیا جاتا تھا ‘ نو خیز شباب ہونے پر دو سو وظیفہ ہوجاتا تھا اس سے آگے بڑھتا تھا تو اتنا ہی وظیفہ بڑھا دیا جاتا تھا۔ جب حضرت عمر ؓ نے دیکھا کہ مال بہت ہوگیا تو فرمایا : آئندہ سال اس تاریخ تک اگر میں زندہ رہا تو پچھلی جماعتوں کو ان کی اولاد سے ملا دوں گا یہاں تک کہ وظیفہ میں سب برابر ہوجائیں گے لیکن آپ کی وفات اس تاریخ کے آنے سے پہلے ہی ہوگئی۔ مسئلہ جو مال بغیر لڑائی کے حکومت اسلامیہ کو مل جائے جیسے : 1) جزیہ ‘ 2) تجارت کا عشر (ٹیکس یعنی 10 / 1) ‘ 3) وہ مال جو ڈر کے مارے کافر چھوڑ گئے ہوں ‘ 4) کافروں سے مصالحت کرنے کی بنا پر جو مال مسلمانوں کو کافروں سے حاصل ہوا ہو ‘ 5) زمین کا خراج ‘ 6) مرتد کا مال جس کو قتل کردیا گیا ہو یا وہ مرگیا ہو ‘ 7) لاوارث ذمی میت کا مال ‘ 8) بنی تغلب کی زکوٰۃ۔ کیا ان تمام اقسام کے مال کا خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا یا نہیں ؟ ائمہ کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک کی رائے ہے کہ خمس نہیں نکالا جائے گا بلکہ مسلمانوں کے سماجی و اجتماعی مصالح کے لیے کل مال صرف کیا جائے گا جیسے سرحدوں کی حفاظت و بندش ‘ پلوں کی تعمیر ‘ قاضیوں اور محتسبوں اور گورنروں اور کارندوں کی تنخواہیں اور بقدر کفایت علماء کے وظائف اور فوجیوں کی اور ان کے اہل و عیال کی معاشی ضرورتوں کی تکمیل۔ امام احمد کا بھی قوی الروایت قول یہی ہے۔ (کذا فی الہدایۃ) تجنیس میں ہے ‘ معلمین اور متعلمین کے وظائف اس مال سے دیئے جائے گے ‘ تمام طالب علم اسی حکم میں شامل ہیں۔ امام شافعی کا قدیم قول تھا کہ خمس صرف اس مال کا نکالا جائے گا جو کافر ڈر کر چھوڑ بھاگے ہوں باقی اقسام میں خمس نہیں نکالا جائے گا لیکن آخری قول یہ ہے کہ تمام اقسام کا خمس نکالا جائے گا پھر خمس کے پانچ حصے کیے جائیں گے۔ ایک حصہ (یعنی کل مال کا 25/1) بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو دیا جائے گا۔ مالدار اور نادار کی ان میں تفریق نہ ہوگی ‘ سب کو دیا جائے گا۔ ہاں ! مذکر کا مؤنث سے دوگنا حصہ ہوگا۔ دوسرا حصہ یتیموں کا ہوگا۔ یتیم اس نابالغ بچہ کو کہتے ہیں جس کا باپ مرگیا ہو۔ امام شافعی (رح) کے قول مشہور کی بناء پر یتیم کا حصہ اس وقت ہوگا جب وہ محتاج ہو۔ تیسرا حصہ مسکینوں کا اور چوتھا حصہ مسافروں کا ہوگا۔ برقول شافعی ان چاروں اصناف کو دینا ضروری ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ سب کو دینا ضروری نہیں بلکہ ان میں سے جو صنف اس مقام میں ہو ‘ اسی کو دینا کافی ہے۔ رہا پانچ سہام میں سے پانچواں حصہ تو وہ مسلمانوں کے (عمومی اور مشترک) مصالح میں صرف کیا جائے گا۔ مثلاً سرحدوں کی حفاظت اور استحکام۔ قاضیوں کی تنخواہیں اور علماء کے وظائف ‘ ان میں بھی جو احوال اور ضرورت کے لحاظ سے اہم ہوگا اس کو دیا جائے گا۔ رہے باقی چار خمس (یعنی 5/4 یا پچیس میں سے بیس سہام) تو زیادہ ظاہر یہی ہے کہ وہ ان لوگوں کی معاشی امداد میں صرف ہوگا جن کی معاشی کفالت ضروری ہے۔ یعنی وہ مجاہدین جو جہاد کے لیے تیار کیے گئے ہوں اور جہاد پر ان کو لگایا گیا ہو ‘ ان کے ناموں کا ایک رجسٹر رکھا جائے گا اور بقدر کفایت ہر ایک کو دیا جائے گا۔ ان میں قریش کا نمبر اوّل ہوگا اور قریش میں سے بھی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو مقدم رکھا جائے گا۔ پھر بنی عبد شمس کا پھر بنی نوفل کا پھر بنی عبدالعزیٰ کا۔ اس کے بعد قریش کی دوسری شاخوں کا نمبر آئے گا اور دوسری شاخوں میں وہ لوگ واجب التقدیم ہوں گے جو رسول اللہ ﷺ سے قرب اور قرابت رکھتے ہوں گے۔ اس کے بعد انصار کو پھر باقی عرب کو پھر عجم کو تقسیم کیا جائے گا۔ رجسٹر میں ان لوگوں کے ناموں کا اندراج نہیں ہوگا جو نابینا ہوں یا اپاہج ہوں یا جہاد کرنے اور دشمن سے لڑنے کے قابل نہ ہوں۔ اگر چاروں خمس (یعنی پچیس میں کے بیس) جہادی دستوں کے مصارف سے زائد ہوں تو ہر ایک کی محنت اور ذمہ داری کو ملحوظ رکھ کر انہی کو تقسیم کردیئے جائیں گے۔ مناسب یہ ہے کہ اس کا کچھ حصہ گھوڑوں کی خریداری اور سرحدوں کے استحکام کے لیے صرف کیا جائے۔ مذکورۂ بالا طریق تقسیم تو اموال منقولہ کے متعلق تھا ‘ زمین اور غیر منقولہ جائیداد کا حکم الگ ہے۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ (باغ ‘ زمین ‘ کنویں وغیرہ) غیر منقولہ جائیداد کو وقف کردیا جائے اور اس سے جو کچھ حاصل ہو ‘ اس کو منقولہ اموال کی طرح تقسیم کیا جائے۔ (کذا فی المنہاج) جمہور ائمہ (ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ احمد رحمہم اللہ تعالیٰ ) کے قول کی تائید محمد بن یوسف صالحی کے اس بیان سے ہوتی ہے جو سبیل الرشاد میں ذکر کیا گیا ہے اور اس میں بنی نضیر کے مال کا حکم نقل کیا گیا ہے۔ محمد ابن یو سف نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے خدمت گرامی میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ (بنی نضیر کے متروکہ مال میں) کیا آپ تقسیم سہام خمس نہیں کریں گے ؟ فرمایا : اللہ نے جس مال کو مؤمنوں کے سہام سے الگ رکھا ہے میں اس کو اس مال کی شکل نہیں دے سکتا جس میں تقسیم سہام ہوتی ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ امام شافعی (رح) جو جزیہ کو پانچ سہام پر تقسیم کرنے کے قائل ہیں ‘ علماء کے نزدیک امام کا یہ قول خلاف اجماع ہے۔ کرخی نے لکھا ہے کہ اس قول کا کوئی قائل نہیں ‘ نہ امام شافعی (رح) سے پہلے کسی نے یہ قول کہا ‘ نہ آپ کے زمانہ میں ‘ نہ آپ کے بعد۔ امام شافعی (رح) نے صرف مال غنیمت پر قیاس کیا ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر ؔ کے مجوسیوں سے اور نجرانؔ کے عیسائیوں سے جزیہ لیا اور اہل یمن پر جزیہ مقرر کیا مگر کسی روایت میں یہ نہیں آیا کہ اس جزیہ کو آپ نے پانچ سہام پر تقسیم کیا ہو ‘ اگر حضور ﷺ نے ایسا کیا ہوتا تو ضرور روایت میں آتا۔ ابوداؤد نے ضعیف سند سے بیان کیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے گورنروں کو لکھ بھیجا کہ عمر ؓ بن خطاب نے جو حکم دیا ‘ مسلمانوں نے اس کو مبنی بر انصاف اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے موافق جانا ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں

الم تر الی الذین نافقوا یقولون لاخوانھم الذین کفروا من اھل الکتب لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم احدا ابدا وان قولتم لنصرنکم واللہ یشھد انھم لکذبون ” کیا آپ نے ان منافقین (یعنی عبداللہ بن ابی وغیرہ) کی حالت نہیں دیکھی کہ اپنے (ہم مذہب) بھائیوں سے جو کفار اہل کتاب ہیں (یعنی بنی نضیر سے) کہتے ہیں کہ واللہ ! اگر تم نکالے گئے ‘ تو ہم تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے اور اگر تم سے (کسی کی) لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد ضرور کریں گے اور خدا گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں ‘ اَلَّذِیْنَ نَافَقُوْا : یعنی عبداللہ بن ابی سلول اور اس کے ساتھی۔ لِاِخْوَانِھِمْ : یعنی اپنے کافر بھائیوں سے جو کفر میں یا دوستی اور موالات کے لحاظ سے ان کے بھائی ہیں۔ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ : یعنی یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ۔ ہم بیان کرچکے ہیں کہ عبداللہ بن ابی سلول نے بنی نضیر کے پاس دو قاصد بھیج کر کہلوایا تھا۔ تم مدینہ سے مت نکلنا۔ میرے پاس دو ہزار آدمی ہیں جو تمہارے ساتھ قلعہ بند ہوجائیں گے۔ ابن ابی حاتم نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ بنی قریظہ میں سے کچھ لوگ (بظاہر) مسلمان ہوگئے ‘ ان میں سے کچھ لوگ منافق تھے۔ انہیں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ اس روایت کے بموجب بھائیوں سے نسبی بھائی مراد ہوں گے۔ یہ منافق بنی نضیر سے کہتے تھے کہ مدینہ میں اپنے گھروں کا تخلیہ نہ کرنا تم کو تمہارے گھروں سے (یعنی مدینہ سے) نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے۔ لَانُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا : یعنی رسول اللہ ﷺ کہیں یا کوئی مسلمان ‘ کسی کا کہا تمہارے معاملہ میں نہیں مانیں گے۔ نہ تمہارے ساتھ مل کر (مسلمانوں کی) لڑائی سے دست کش ہوں گے ‘ نہ تم کو بےمدد چھوڑنے کا مشورہ مانیں گے۔ اَحَدًا : یعنی نہ رسول اللہ ﷺ اور نہ دو سرے مسلمان۔ وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ : یعنی اگر رسول اللہ ﷺ اور مسلمان تم سے لڑیں گے۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اگر مدد کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ پھر ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی

لئن اخرجوا الا یخرجون معھم ولئن قوتلوا لا ینصرونھم ولئن نصروھم لیولن الادبار ثم لا ینصرون . اگر اہل کتاب (یعنی یہودی) نکالے گئے تو یہ (منافق) ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان (یہودیوں) سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر (بالفرض) ان کی مدد بھی کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہ ہوگی۔ “ لَءِنْ اُخْرِجُوْا : یعنی اگر یہودی نکالے گئے۔ لَا یَنْصُرُوْنَھُمْ : تو یہ منافق ان کی مدد نہیں کریں گے۔ یہ پیشین گوئی ایک معجزۂ نبوت ہے۔ پیشین گوئی کے مطابق واقعہ بھی یہی ہوا۔ بنی نضیر مدینہ سے نکالے گئے لیکن نہ عبداللہ بن سلول نے ان کا ساتھ دیا نہ بنی قریظہ کے منافقوں نے پھر بنو قریظہ سے جنگ ہوئی اور وہ مارے گئے تو مدینہ کے منافقوں نے ان کی مدد نہیں کی۔ وَلَءِنْ نَّصَرُوْا : اور بالفرض اگر منافقوں نے مدد بھی کی ‘ زجاج نے کہا : اس فقرہ کا معنی یہ ہے کہ اگر منافق یہودیوں کی مدد کا ارادہ کریں گے۔ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ : پھر یہودیوں کی مدد نہیں ہوگی یعنی جب یہودیوں کے مددگار شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے تو یہودی کامیاب نہیں ہوں گے (ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا) یہ بھی جائز ہے کہ : لَا یُنْصَرُوْنَ کی ضمیر منافقوں کی طرف راجع ہو۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(مسلمانو!) تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ سمجھ نہیں رکھتے

لا انتم اشد رھبۃ فی صدورھم من اللہ ذلک بانھم قوم لا یفقھون اے مسلمانو ! ) بیشک تمہارا خوف ان (منافقوں) کے دلوں میں اللہ کے خوف سے بھی زیادہ ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔ اَشَدُّ رَھْبَۃً فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنَ اللہ : یعنی لوگوں کے ڈر سے وہ بظاہر زبان سے تو ایمان لے آتے ہیں لیکن دلوں میں ان کے کفر رہتا ہے اور اللہ ان کے باطنی کفر کو جانتا ہے مگر وہ اللہ سے نہیں ڈرتے اور دل سے ایمان نہیں لاتے۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ..... یہ اللہ کی بہ نسبت تم سے زیادہ خوفزدہ ہونا اس سبب سے ہے کہ وہ اللہ کو نہیں پہچانتے۔ اس کی عظمت کو نہیں جانتے ‘ اتنا نہیں سمجھتے کہ : نفع اور ضرر پہنچانے والا اللہ ہی ہے ‘ بندوں کے سارے اعمال و افعال اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے اسی سے ڈرنا چاہیے۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

لا یقاتلونکم جمیعا الا فی قری محصنۃ او من وراء جدد باسھم بینھم شدید تحسبھم جمیعا و قلوبھم شی ذلک بانھم قوم لا یعقلون یہ لوگ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑیں گے۔ مگر حفاظت والی بستیوں میں یا (قلعے اور شہر پناہ کی) دیواروں کی آڑ میں ہو کر ان کی لڑائی آپس ہی میں بڑی تیز ہے۔ (اے مخاطب) تو انکو باہم متفق خیال کرتا ہے حالانکہ انکے دل غیر متفق (متفرق) ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں۔ “ لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ : یعنی کفار اور منافق تم سے نہیں لڑیں گے۔ جَمِیْعًا : یعنی کسی عزم اور متفقہ رائے پر جمع ہو کر۔ اِلاَّ فِیْ قُوًی مُّحَصَنَّۃٍ : مگر ان بستیوں میں رہ کو جو محفوظ ہیں ‘ قلعہ بند ہیں یا ان کے گردا گرد خندق کھود دیئے گئے ہوں۔ مراد یہ ہے کہ تمہارے مقابلہ پر آکر تم سے نہیں لڑیں گے کیونکہ وہ تم سے سخت خوفزدہ ہیں۔ بَاْسُھُمْ بَیْنَھُمْ شَدِیْدٌ : یعنی تمہارے مقابلہ پر آکر نہ لڑنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ فطرۃً اور تخلیقاً بزدل اور ڈرپوک ہیں کیونکہ جب وہ آپس میں لڑتے ہیں اور کافروں کی ایک جماعت دوسری جماعت سے لڑٹی ہے تو بڑی بہادری سے لڑتے ہیں بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں تمہارا خوف ڈال دیا ہے ‘ بڑے سے بڑا بہادر اور عزت والا جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقابلے پر لڑتا ہے تو بزدل اور خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ تَحْسَبُھُمْ جَمِیْعًا : یعنی تم خیال کرتے ہو کہ وہ تم سے لڑنے پر متفق ہیں۔ وَ قُلُوْبُھُمْ شَتّٰی : مگر ان کے دل متفرق ہیں ‘ اللہ نے ان کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیا ہے۔ ایک بات پر ان کے دل نہیں جمتے۔ دنیوی مصالح کے حصول کے پیش نظر کبھی لڑنا چاہتے ہیں اور تمہارے خوف کی وجہ سے کبھی بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہیں۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ.... یہ پراگندگی خیال اور ایک رائے پر نہ جمنا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ بےعقل ہیں ‘ حق و باطل میں امتیاز نہیں کرسکتے ‘ نہ غور کرتے ہیں ‘ نہ اتنا سمجھتے ہیں کہ یہ خوفزدہ ہونا صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دلوں پر کفر چھایا ہوا ہے اور نبی برحق کے مقابل وہ صف آراء ہیں۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

کمثل الذین من قبلھم قریبا ذاقوا وبال امرھم ولھم عذاب الیم . ” (ان کی) ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں کہ وہ (دنیا میں بھی) اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے اور (آخرت میں بھی) ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ “ کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَرِیْبًا : یعنی بنی نضیر کی مثال ویسی ہی ہے جیسی ان سے کچھ ہی پہلے والے لوگوں کی تھی۔ مجاہد کا قول ہے کہ : اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَرِیْبًاسے مراد وہ مشرکین ہیں جو بدر میں مسلمانوں سے لڑے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بنی قینقاع کے یہودی مراد ہیں۔ بنی قینقاع حضرت عبداللہ ؓ بن سلام کے قبیلہ والے تھے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی سلول یا عبادہ ابن صامت وغیرہ سے معاہدہ کر رکھا تھا ‘ یہ لوگ سناری کا کام کرتے تھے اور قوم یہود میں سب سے سے زیادہ بہادر تھے۔ ذَاتُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ : یعنی کفر اور عداوت رسول کی بد انجامی کا دنیا میں بھی انہوں نے مزہ چکھ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ کی سکونت چھوڑ کر مدینہ میں رونق افروز ہوئے تو تمام یہودیوں نے آپ ﷺ سے ایک معاہدہ کرلیا اور عہد نامہ لکھ دیا گیا اور جو لوگ یہودیوں کے ‘ یا رسول اللہ ﷺ کے معاہد اور حلیف تھے ان کو بھی معاہدہ نامہ کے اندر اسی فریق سے ملحق کردیا گیا جس کے وہ حلیف بنے۔ اس معاہدہ میں متعدد دفعات تھیں ‘ ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ اگر کسی فریق کا کوئی دشمن ہو تو اس فریق کے خلاف اس کے دشمن کی مدد فریق ثانی نہیں کرے گا۔ جب بدر کی لڑائی کفار مکہ سے ہوئی تو بنی قینقاع نے سب سے پہلے عہد شکنی اور معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ علی الاعلان باغی ہوگئے اور اندرونی عداوت کے مظاہرہ پر اتر آئے ‘ انہی حالات میں ایک مسلمان بدوی (عرب) عورت قینقاع کے بازار میں آئی اور ایک سنار کے پاس کسی زیور (کے خریدنے) کے لیے بیٹھی ‘ لوگوں نے اس کا چہرہ بےنقاب کرنا چاہا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ سنار نے پیچھے سے اس کے کپڑے کا ایک کونا کسی کانٹے میں الجھا دیا ‘ عورت کو پتہ بھی نہ ہوا۔ جب وہ اٹھی تو اس کا ستر کھل گیا ‘ لوگ ہنسنے لگے۔ وہ چیخ پڑی۔ یہ دیکھ کر ایک مسلمان نے سنار پر حملہ کردیا اور اس کو قتل کردیا۔ سنار یہودی تھا ‘ یہودیوں نے اس مسلمان کو قتل کردیا اور رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا معاہدہ (پس پشت) پھینک دیا۔ شہید مسلمان کے متعلقین نے مسلمانوں کو پکارا۔ مسلمان غضب ناک ہوگئے۔ اس طرح مسلمانوں میں اور بنی قینقاع کے یہودیوں میں فساد ہوگیا۔ اس پر آیت : . وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سُوَآءٍ نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے بنو قینقاع سے خیانت عہد کا اندیشہ ہے۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ (بنی قینقاع کی طرف) روانہ ہوگئے۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو جھنڈا سپرد کیا ‘ مدینہ میں ابو لبابہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہودی قلعہ بند ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ان کا سخت ترین محاصرہ پندرہ روز تک جاری رکھا ‘ آخر اللہ نے یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ حضور ﷺ کے حکم کے مطابق قلعہ سے اتر آئے اور شرط یہ کی کہ ان کا سارا مال تو رسول اللہ ﷺ کا ہوجائے گا لیکن ان کے اہل و عیال انہی کے رہیں گے (ان کو باندی ‘ غلام نہیں بنایا جائے گا) رسول اللہ ﷺ نے ان کی مشکیں باندھنے کا حکم دے دیا اور اس کام کو منذر بن قرامہ سلمی کے سپرد کیا۔ حضرت عبادہ بن صامت چل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرا مقصد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ میں ان کافروں کے معاہدۂ (موالات) سے دستبردار ہوتا ہوں۔ یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی سلول نے حضور ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا اور یہ اس وقت عرض کیا جب اللہ نے اپنے رسول کو یہودیوں پر قابو دے دیا ‘ کہنے لگا محمد ﷺ میرے دوستوں کے معاملہ میں مجھ پر احسان کیجئے (انکو معاف کر دیجئے) حضور ﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ عبداللہ نے آپ کے پیچھے سے آپ ﷺ کے گریبان میں ہاتھ رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ارے مجھے چھوڑ ‘ تیرا برا ہو۔ حضور ﷺ کو اتنا غصہ آیا کہ چہرۂ مبارک پر غضب کے آثار لوگوں نے دیکھے ‘ فرمایا ارے تیرا برا ہو ‘ مجھے چھوڑ۔ کہنے لگا : خدا کی قسم ! میں اس وقت تک آپ ﷺ کو نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ مجھ پر احسان کر کے میرے حلیفوں کے معاملہ میں حسن سلوک نہیں کریں گے۔ یہ سات سو ہیں ‘ چار سو غیر مسلح اور تین سو ہتھیار بند۔ آپ کل صبح کو یکدم ان کو کاٹ دیں گے۔ خدا کی قسم ! مجھے (زمانہ کی) گردشوں کا خوف ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو ‘ ان پر اللہ کی لعنت اور ان پر بھی لعنت جو ان کے ساتھی ہیں۔ غرض حضور ﷺ نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کردیا اور مدینہ سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ تین روز کے بعد وہ چلے گئے ‘ ان کو نکال دینے پر عبادہ بن صامت مامور ہوئے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا کہ مدینہ سے نکل کر ان کو اذرعات بھیج دیا۔ حضور ﷺ نے ان کے اسلحہ میں سے (اپنے لیے) دو زرہیں ‘ تین بھالے اور تین تلواریں لے لیں۔ انکے گھروں میں بہت اسلحہ اور سناری کے اوزار ملے۔ سب کا خمس (پانچواں حصہ) نکال کر باقی چار حصے ساتھیوں کو تقسیم کردیئے گئے۔ بدر کے بعد (مال غنیمت کا) یہ پہلا خمس تھا۔ ہجرت سے بیس ماہ کے خاتمہ پر نصف شوال 2 ھ کو بروز ہفتہ یہ واقعہ ہوا۔ عبداللہ بن ابی سلول اور عبادہ بن صامت کے متعلق آیات : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرآی اَوْلِیَآءَ...... ھُمُ الْغَالِبُوْنَ تک نازل ہوئیں۔ سورت مائدہ میں ہم اس کی تفصیل ذکر کرچکے ہیں۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : یعنی آخرت میں ان پر عذاب الیم ہوگا۔ دنیوی عذاب آخرت کے عذاب کو کم نہیں کر دے گا۔
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں۔ مجھ کو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

کمثل الشیطن اذ قال للانسان اکفر فلما کفر قال انی بری منک انی اخاف اللہ رب العالمین ” شیطان کی ایسی مثال ہے کہ (اوّل تو) انسان سے کہتا ہے کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو اس سے کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں اللہ ربّ العالمین سے ڈرتا ہوں۔ سو آخری انجام دونوں کا یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔ “ کَمَثِل الشَّیْطٰنِ..... یعنی عبداللہ بن ابی اور اس جیسے دوسرے منافق جو یہودیوں کو جنگ پر آمادہ کرتے تھے ‘ ان کی مثال شیطان جیسی ہے۔ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ.... بغوی نے لکھا ہے کہ عطاء وغیرہ نے بحوالۂ ابن عباس ؓ بیان کیا کہ ایّام فترت (انقطاع نبوت کا زمانہ جو حضرت عیسیٰ کے بعد سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک تھا) میں ایک راہب (تارک الدنیا درویش) تھا جس کو برصیصا کہا جاتا ہے۔ ستّر برس تک یہ راہب اپنے عبادت خانہ میں اللہ کی عبادت کرتا رہا ‘ کبھی ایک لمحہ کے لیے اللہ کی نافرمانی نہیں کیا اس کے سلسلہ میں ابلیس اپنی ساری تدبیریں کر کے عاجز آگیا۔ مگر اس کو نہیں بہکا سکا ‘ آخر ایک دن اس نے تمام خبیث شیطانوں کو جمع کیا اور کہنے لگا : مجھے کوئی بھی اب تک ایسا نہ ملا جو برصیصا کے معاملہ میں میرا کام پورا کردیتا۔ حاضرین میں ایک شیطان ابیض (گورا شیطان) بھی تھا۔ یہ شیطان وہی تھا جو انبیاء کے ساتھ لگا رہتا تھا اور جبرئیل کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھی آیا تاکہ برطریق وحی حضور ﷺ کے دل میں وسوسہ پیدا کرسکے۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے اس کو دھکے دے کر ہندوستان کے آخری حصہ تک بھکا دیا تھا ‘ اس گورے شیطان نے ابلیس سے کہا میں آپ کا کام پورا کر دوں گا۔ چناچہ وہ اس مجلس سے چلا اور راہبوں جیسا لباس پہنا اور وسط سر کے بال مونڈ کر برصیصا کے عبادت خانہ تک جا پہنچا اور (نیچے سے) برصیصا کو آواز دی ‘ برصیصا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ برصیصا دس دن میں صرف ایک دن نماز سے فاررغ اور دس ہی دن میں صرف ایک دن روزہ ناغہ کرتا تھا۔ گورے شیطان نے جب دیکھا کہ برصیصا نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا تو برصیصا کی خانقاہ کے نیچے ہی عبادت میں مشغول ہوگیا۔ عبادت سے (مقررہ وقت پر) فارغ ہو کر جب برصیصا نے اپنے عبادت خانے سے جھانک کر دیکھا تو گورے شیطان کو بہترین راہبانہ ہیئت میں نماز میں کھڑا ہوا پایا۔ یہ صورت دیکھ کر اس کو جواب نہ دینے پر اپنے دل میں پشیمانی ہوئی اور کہنے لگا : آپ نے مجھے پکارا تھا مگر میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوا ‘ آپ کا مجھ سے کیا کام ہے ؟ گورے شیطان نے کہا : میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے ساتھ مل کر عبادت کروں اور آپ کے علم و عمل سے بہرہ اندوز ہوں اور ہم دونوں عبادت میں لگ جائیں۔ آپ میرے لیے دعا کریں اور میں آپ کے لیے دعا کروں۔ راہب نے کہا : میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوسکتا ‘ اگر تم مؤمن ہو تو میں عام مؤمنوں کے لیے جو دعا کرتا ہوں اگر وہ دعا خدا قبول فرمائے گا تو تم کو بھی ان میں شامل کر دے گا۔ یہ کہہ کر برصیصا پھر نماز میں متوجہ ہوگیا اور گورے شیطان کو چھوڑ دیا۔ گورا شیطان بھی نماز میں مشغول ہوگیا۔ برصیصا نے چالیس روز تک اس کی طرف کوئی التفات نہیں کیا (نماز میں مشغول رہا) چالیس روز کے بعد جب نماز سے فارغ ہوا تو گورے شیطان کو نماز میں کھڑا پایا۔ آخر شیطان کی اتنی سخت کوشش دیکھ کر برصیصا نے پوچھا : تمہارا کیا مطلب ہے ؟ گورے شیطان نے کہا : میرا مقصد یہ ہے کہ آپ مجھے اجازت دے دیں۔ میں بھی اوپر آپ کے پاس آجاؤں۔ برصیصا نے اجازت دے دی۔ گورا شیطان اوپر برصیصا کے پاس خانقاہ میں آگیا اور اس کے ساتھ ایک سال تک عبادت میں مشغول رہا۔ پورا چلّہ ختم ہونے سے پہلے روزہ کا افطار (ناغہ) نہیں کرتا تھا اور نہ چالیس روز پورے ہونے سے پہلے نماز ختم کرتا تھا اور اکثر دو چلّے بھی یونہی گزر جاتے تھے۔ برصیصا نے جب (عبادت میں) اس کی یہ محنت دیکھی تو خود اپنی ذات اس کو حقیر معلوم ہونے لگی اور شیطان کی حالت پر اس کو تعجب ہوا۔ سال پورا ہوگیا تو گورے شیطان نے برصیصا سے کہا : اب میں جا رہا ہوں کیونکہ آپ کے علاوہ میرا ایک اور ساتھی ہے (میں اس کے پاس جاؤں گا) میرا خیال تو یہ تھا کہ آپ اس سے زیادہ عبادت گزار ہوں گے لیکن آپ کے متعلق جو کچھ میں نے سنا تھا ‘ آپ کی حالت اس سے غیر پائی۔ یہ بات سن کر برصیصا کو (اپنی محنت کے کم ہونے کی) شدید تکلیف ہوئی اور چونکہ شیطان ابیض کی شدید ریاضت دیکھ چکا تھا اس لیے اس کی جدائی راہب پر شاق گزری۔ رخصت ہوتے وقت گورے شیطان نے برصیصا سے کہا : مجھے کچھ دعائیں آتی ہیں ‘ میں آپ کو وہ سکھاتا ہوں ‘ جس مشغلہ میں آپ ہیں وہ دعائیں اس سے بہتر ہیں۔ آپ ان کو پڑھ کر اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ بیمار کو شفا عطا کرے گا۔ دکھی کو سکھی کر دے گا اور آسیب زدہ کو ٹھیک کر دے گا۔ برصیصا نے کہا : مجھے یہ مرتبہ پسند نہیں ‘ میرے لیے اپناہی مشغلہ (بہت کافی) ہے ‘ مجھے ڈر ہے کہ جب لوگ اس کی خبر پائیں گے تو میری عبادت میں خلل انداز ہوجائیں گے ‘ گورا شیطان برابر اصرار کرتا رہا آخر راہب کو وہ دعائیں سکھا کے چھوڑا۔ اس کے بعد چلا گیا اور ابلیس سے جا کر کہا : واللہ ! میں نے اس شخص کو تباہ کردیا ‘ پھر یہاں سے واپس چلا گیا ‘ راستہ میں ایک آدمی ملا۔ اس شیطان نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور طبیب کی ہیئت میں اس شخص کے گھر والوں سے جا کر کہا تمہارے ساتھی کو آسیب (یا جنون کا دورہ) ہے ‘ کیا میں اس کا علاج کر دوں ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! جا کر مریض کو دیکھا اور بولا اس پر چڑیل (جنات کی عورت) کا اثر ہے میں اس پر قابو نہیں پاسکتا ‘ البتہ تم کو ایک ایسے آدمی کا پتہ بتاتا ہوں جو اللہ سے دعا کر کے اس کو اچھا کرسکتا ہے۔ غرض اس نے برصیصا کا پتہ بتادیا اور کہا : تم اس کے پاس جاؤ۔ اس کے پاس اسم اعظم ہے جب وہ اسم اعظم لے کر دعا کرتا ہے تو اللہ قبول کرلیتا ہے۔ لوگ برصیصا کے پاس گئے اور اس سے دعا کرنے کی درخواست کی ‘ اس نے انہی الفاظ سے دعا کردی جو گورے شیطان نے اس کو سکھائے تھے ‘ فوراً مریض پر جس شیطان کا تسلط تھا وہ شیطان بھاگ گیا۔ گورے شیطان نے بہت سے لوگوں سے ایسی ہی حرکت کی اور برصیصا کا پتا بتاتا رہا اور لوگ اچھے ہوتے رہے۔ ایک بار شیطان ابیض بنی اسرائیل کی کسی شہزادی پر اثر انداز ہوا۔ اس لڑکی کے تین بھائی تھے اور باپ بادشاہ تھا۔ بادشاہ مرگیا اور اپنے بھائی کو اپنا جانشین بنا گیا ‘ لڑکوں کا چچا بادشاہ ہوگیا تو گورا شیطان اس شہزادی کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کو سخت اذیت دی اور گلا گھونٹ دیا پھر اس کے بھائیوں کے پاس طبیب کی شکل میں آیا اور بولا : کیا تم چاہتے ہو کہ میں اس کا علاج کر دوں ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں ! کہنے لگا : ایک بڑا خبیث اس کے درپئے آزار ہے اور مجھ میں اس کو دور کرنے کی طاقت نہیں۔ البتہ ایک شخص کا میں پتہ بتاتا ہوں جس پر تم اعتماد رکھتے ہو ‘ لڑکی کو اس کے پاس لے جاؤ ‘ جب اس پر وہ خبیث آئے گا اور وہ شخص اس کے لیے دعا کرے گا تو لڑکی اچھی ہوجائے گی۔ تم کو یہ بات معلوم ہوجائے گی اور لڑکی کو بعافیت واپس لے آؤ گے ‘ لوگوں نے کہا : وہ کون شخص ہے۔ گورے شیطان نے کہا : برصیصا زاہد۔ شہزادوں نے کہا : وہ ہماری بات کیسے مانیں گے ان کا مقام تو بہت بلند ہے ‘ شیطان نے کہا : اس کی خانقاہ کے برابر ایک اور عبادت خانہ تعمیر کرو ‘ اتنا اونچا کہ وہاں سے اس کی خانقاہ کے اندر جھانک سکو۔ پھر وہاں سے اپنا مقصد اس سے کہو ‘ اگر مان لے تو خیر ‘ نہ مانے تو اپنے تعمیر کردہ عبادت خانہ میں لڑکی کو چھوڑ آؤ اور برصیصا سے کہہ دو ‘ یہ (تمہاری نگرانی میں) ہماری امانت ہے۔ بغرض ثواب اس کی نگرانی رکھنا۔ الحاصل شہزادے برصیصا کی طرف گئے اور اس سے درخواست کی لیکن اس نے انکار کردیا۔ شیطان کے مشورے کے مطابق شہزادوں نے راہب کی خانقاہ کے برابر ایک عبادت خانہ تعمیر کرا دیا اور لڑکی کو اس میں رکھ دیا اور راہب سے کہا : یہ ہماری امانت ہے۔ بغرض ثواب اس کی نگرانی رکھنا۔ یہ کہہ کر واپس آگئے۔ جب (مقررہ ایّام گزرنے کے بعد) برصیصا نے نماز ختم کی تو ایک حسین لڑکی پر نظر پڑی اور ایسی نظر پڑی کہ وہ لڑکی اس کے دل نشین ہوگئی اور اس پر بڑی مصیبت آگئی اس کے بعد شیطان نے آکر اس لڑکی کا گلا گھونٹ دیا ‘ برصیصا نے اس کے لیے گورے شیطان کی بتائی ہوئی دعائیں کیں ‘ شیطان اتر گیا۔ برصیصا نماز میں مشغول ہوگیا ‘ شیطان نے آکر پھر اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اس مرتبہ بیہوشی میں وہ اپنا ستر بھی کھولنے لگی ‘ گورے شیطان نے آکر برصیصا سے کہا : اب تو اس پر جا پڑ۔ پھر توبہ کرلینا۔ اللہ گناہ معاف کرنے والا ہے ‘ معاف کر دے گا اور تیرا مقصد پورا ہوجائے گا۔ ردوکد کے بعد برصیصا لڑکی پر جا پڑا اور اس کے بعد مسلسل لڑکی کے پاس جاتا رہا ‘ آخر لڑکی حاملہ ہوگئی اور اس کا حمل نمایاں ہوگیا تو شیطان اس کے پاس آیا اور کہنے لگا : ارے برصیصا تو رسوا ہوگیا ‘ اب مناسب یہ ہے کہ تو لڑکی کو قتل کر دے پھر توبہ کرلینا ‘ اگر وہ لوگ پوچھیں تو کہنا اس کا جن اس کو لے گیا ‘ مجھ میں بچانے کی قدرت نہیں تھی ‘ برصیصا نے لڑکی کو قتل کردیا۔ پھر (رات کو) لے جا کر پہاڑی کے کنارے دفن کردیا۔ دفن کرتے وقت شیطان نے آکر لڑکی کی چادر کا ایک کونا پکڑ لیا۔ اس طرح چادر کا ایک گوشہ قبر کی مٹی سے باہر رہ گیا۔ برصیصا اپنی خانقاہ میں لوٹ آیا اور نماز میں مشغول ہوگیا ‘ لڑکی کے بھائی اپنی بہن کی خبر گیری کے لیے آئے اور وہ دریافت حال کے لیے آتے رہتے تھے۔ انہوں نے آکر دریافت کیا : برصیصا ہماری بہن کیا ہوئی ؟ برصیصا نے جواب دیا : شیطان آکر اس کو اڑا لے گیا اور مجھ میں بچانے کی قدرت نہیں تھی۔ ان لوگوں نے برصیصا کی بات پر یقین کرلیا۔ سب لوٹ آئے۔ شام ہوئی تو بھائی غم زدہ تو تھے ہی سوتے میں شیطان نے بڑے بھائی سے خواب میں کہا کہ برصیصا نے تمہاری بہن کے ساتھ یہ حرکتیں کیں پھر اس کو فلاں جگہ دفن کردیا۔ اس بھائی نے اپنے دل میں کہا : یہ خواب ہے اور شیطانی خیال ہے برصیصا تو بہت بزرگ آدمی ہے وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ تین رات برابر شیطان اس کو یہی خواب دکھاتا رہا لیکن اس نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ آخر شیطان خواب میں منجھلے بھائی کے پاس گیا اور ا سے بھی یہی بات کہی۔ مگر اس نے بھی وہی خیال کیا جو بڑے بھائی نے کیا تھا اور کسی سے کچھ بیان نہیں کیا۔ آخر میں تیسرے بھائی کے پاس خواب میں جا کر شیطان نے یہی بات کہی اس نے اپنے دونوں بھائیوں سے یہ خواب بیان کردیا۔ منجھلے اور بڑے نے بھی اپنے خواب ظاہر کردیئے۔ پھر تینوں برصیصا کے پاس گئے اور کہا : برصیصا ! ہماری بہن کیا ہوئی ؟ برصیصا نے کہا : میں تو تم کو پہلے ہی بتاچکا ہوں ‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم مجھے تہمت زدہ کرنا چاہتے ہو۔ یہ بات سن کر شہزادوں کو اس سے شرم آئی اور کہنے لگے : ہم آپ کو تہمت نہیں دھرتے ‘ یہ کہہ کر لوٹ آئے ‘ شیطان نے پھر (خواب میں آ کر) ان سے کہا : ارے تمہاری بہن تو فلاں مقام پر دفن ہے اور اس کی چادر کا ایک گوشہ قبر کی مٹی سے اوپر نظر آ رہا ہے ‘ ان لوگوں نے جا کر دیکھا تو جیسا خواب میں دیکھا تھا ویسا ہی پایا ‘ پھر تو مزدوروں اور غلاموں کو لے کر کسیوں اور کدالوں سے ان لوگوں نے برصیصا کا عبادت خانہ ڈھا دیا اور اس کو عبادت خانہ سے اتار کر مشکیں کس کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ ادھر گورے شیطان نے برصیصا سے کہا (تو انکار نہ کرنا) اگر تو نے انکار کیا تو تجھ پر دو جرم عائد ہوجائیں گے ‘ قتل کا اور پھر انکار قتل کا ‘ برصیصا نے اقرار کرلیا تو بادشاہ نے اس کو قتل کرنے اور سولی چڑھانے کا حکم دے دیا۔ سولی پر چڑھاتے وقت وہی گورا شیطان آیا اور برصیصا سے کہا : کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ برصیصا نے کہا : نہیں۔ بولا : میں وہی ہوں جس نے تجھے دعائیں سکھائی تھیں اور تیری دعائیں قبول ہوئیں ‘ امانت میں خیانت کرتے تجھے خدا سے ڈر نہیں لگا۔ تیرا تو دعویٰ تھا کہ میں تمام بنی اسرائیل سے بڑھ کر عبادت گزار ہوں مگر تجھے شرم نہیں آئی ‘ اسی طرح برابر شرم دلاتا رہا۔ پھر آخر میں کہنے لگا : کیا جو کچھ تو نے کیا وہی کافی نہ تھا کہ تو نے اقرار جرم کرلیا اور خود اپنے کو بھی رسوا کیا اور اپنے جیسے دوسرے (عبادت گزار) لوگوں کو بھی رسوا کیا ‘ اگر تو اسی حالت پر مرگیا تو تیری مثال دوسرے (عابد ‘ زاہد) لوگ کبھی فلاں یاب نہیں ہوں گے (ہر ایک عابد کو لوگ مکار ‘ دھوکہ باز کہیں گے) برصیصا نے پوچھا : تو اب میں کیا کروں ؟ کہنے لگا : میری ایک بات مان لے اگر وہ بات مان لے گا تو میں تجھے موجودہ حالات سے بچا کرلے جاؤں گا۔ میں لوگوں کی نظر بندی کر دوں گا اور تجھے اس جگہ سے نکال لے جاؤں گا۔ برصیصا نے پوچھا : وہ کیا بات ہے ؟ کہنے لگا : بس مجھے سجدہ کرلے۔ برصیصا نے کہا : میں ایسا کرتا ہوں۔ شیطان نے کہا : برصیصا میرا مقصد پورا ہوا میں یہی چاہتا تھا ‘ تیرا انجام یہی ہوا کہ تو کافر ہوگیا اب میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔ اِنِّیْ اَخَافُ اللہ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ : میں اللہ سے جو ربّ العالمین ہے ڈرتا ہوں ‘ شیطان نے یہ بات محض دکھاوے کے لیے کہی (سچے دل سے نہیں کہی) کیونکہ خدا کا خوف شیطانوں کی سرشت میں ہی نہیں رکھا گیا ہے۔ اہل تفسیر کے بعض اقوال میں آیا ہے کہ الانسان سے جنس انسان مراد ہے اور جس طرح آمر اپنے مامور کو حکم دے کر کسی کام پر آمادہ کرتا ہے اسی طرح شیطان انسان کو کفر پر برانگیختہ کرتا ہے اور اس اندیشہ سے کہ انسان کے ساتھ (اغوا کرنے کا) اس پر عذاب نہ ہو قیامت کے دن یہ بات کہے گا ‘ اس کی مثل دوسری آیات میں بھی آیا ہے۔ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : وَقَال الشَّیْطَانُ لِمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللہ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَمَا کَانْ لِیْ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطَانٍ اِلَّآ اَنْدَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلاَ تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْآ اَنْفُسَکُمْ ۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک الانسان سے ابوجہل مراد ہے۔ ابلیس نے (شیخ نجدی کی شکل میں آ کر) اس سے بدر کے دن کہا تھا : لَا غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ فَلَمَّا تَرَآءَ تِ الْفِءَتٰنِ لَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓ ءٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْٓ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللہ : اس آیت میں اخاف اللہ کا مطلب یہ ہوگا کہ میں اس دنیا میں ہلاک ہونے سے ڈرتا ہوں۔
Ayah 59:17

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

تو دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں (داخل ہوئے) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور بےانصافوں کی یہی سزا ہے

فکان عاقبتھما انھما فی النار خالدین فیھا و ذلک جزوا الظالمین .
Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والوں! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کل (یعنی فردائے قیامت) کے لئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور (ہم پھر کہتے ہیں کہ) خدا سے ڈرتے رہو بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون . ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ کل کے دن کے لیے اس نے کیا پہلے سے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو ‘ بلاشبہ اللہ اس سے باْخبر ہے۔ “ نَفْسٌ : یعنی ہر شخص کا نفس۔ مَّا قَدَّمَتْ : کیا چیز اس نے پہلے سے بھیجی ہے ‘ نیک عمل جو نجات آخرت کا سبب ہے یا برا عمل جو آخرت میں تباہ کن ہوگا۔ دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ نیک عمل کو اختیار کرنا اور برے عمل سے استغفار کرنا اور بچنا چاہیے۔ لِغَدٍ : یعنی قیامت کے دن کے لیے۔ روز قیامت کو کل کا دن کہنے کی یہ وجہ ہے کہ (کل کے دن کی طرح) روز قیامت قریب ہی ہے یا یہ کہ دنیا ایک دن ہے اور آخرت دوسرا دن۔ حدیث میں آیا ہے ‘ دنیا ایک دن ہے اور دنیا میں ہمارا روزہ ہے۔ وَاتَّقُوا اللہ : تکرار جملہ تاکید کے لیے ہے یا اوّل حکم تقویٰ سے مراد ہے ادائے فرض اور دوسرے سے مراد ہے ممنوعات سے بازداشت۔ اگلی آیت اس مرادی مفہوم کا قرینہ ہے کیونکہ اگلا جملہ نافرمانوں کے لیے وعید عذاب ہے۔
Ayah 59:19

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے۔ یہ بدکردار لوگ ہیں

ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانساھم انفسھم اولئک ھم الفسقون ” اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے اللہ (کے احکام) سے بےپروائی کی تو اللہ نے خود ان کو ان کی جانوں سے بےپروا بنا دیا یہی لوگ نافرمان ہیں ‘ نَسُوا اللہ : اللہ کو بھول گئے یعنی بےپروائی کے ساتھ ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہیں اور واجبات کو ترک کرتے ہیں ‘ اللہ کی پرواہ نہیں کرتے۔ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ : یعنی اللہ نے نفس کے آرام و راحت اور کامیابی سے بےپرواہ کردیا اس لیے نفسوں کی بھلائی اور فائدہ کے لیے کچھ نہیں کرتے یا یہ مراد ہے کہ قیامت کی ہولناکیاں ایسی ہوں گی جو ان سے خود ان کے نفسوں کو فراموش کردیں گی۔ اُوْلٰءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ : یعنی پورے پورے نافرمان ہیں۔