Ayah 56:81سو کیا تم اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو
اَفَبِھٰذَ الْحَدِیْثِ : الحدیث سے مراد ہے قرآن۔
اَنْتُمْ : اہل مکہ کو خطاب ہے۔
مُدْھِنُوْنَ : ادہان کا لغوی معنی ہے ‘ نرم کرنے کے لیے تیل کا استعمال۔ مجازاً اخلاق اور معاملات کو بظاہر نرم کرنا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَدُّوْالَوْتُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ ۔ پھر اس لفظ کا استعمال بمعنی نفاق ہونے لگا اور اس جگہ یہی معنی مراد ہے۔ قاموس میں ہے : دَھَنَ ‘ نفاق کیا۔ مداہنَت اور ادہان (مفاعلت اور افعال) جو بات دل میں ہے اس کے خلاف ظاہر کرنا۔
پھر تکذیب کرنے والے اور جھٹلانے والے کو مُدْہِن کہا جانے لگا خواہ (وہ منافقت نہ کرے اور) کفر و تکذیب کو نہ چھپائے۔ بغوی نے اس کی صراحت کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے مدہنون کا ترجمہ کیا : جھٹلانے والے اور مقاتل بن حبان نے کہا : مدہنون یعنی انکار کرنے والے۔
Ayah 56:82اور اس کی تکذیب کو اپنا رزق بنا رہے ہوں۔
رِزْقَکُمْ : یعنی قرآن سے تم اپنا حصہ اور نصیب تکذیب کو قرار دیتے ہو۔ حسنؔ نے اس آیت کے سلسلے میں کہا : وہ بندہ تباہ ہوگیا جس کا کتاب اللہ سے نصیب صرف تکذیب ہے (یعنی کلام اللہ کی بس تکذیب کرتا ہے ‘ کوئی ہدایت حاصل نہیں کرتا) ۔
مفسرین نے ایک جگہ رزق کا معنی شکر بیان کیا ہے۔ امام احمد (رح) اور ترمذی (رح) نے حضرت علی کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہی ارشاد بیان کیا ہے۔ ہیثم بن عدی نے کہا : ازدشنوءہ کے محاورے میں لارَزَقَ کا معنی ہوتا ہے : مَا شَکَرَ : اس نے شکر نہیں کیا۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ رَزَقَ سے پہلے لفظ شکر محذوف ہے اور رزق سے مراد ہے بارش۔ جب بارش ہوتی تھی تو عرب کہتے تھے ہم پر ستاروں کی تاثیر سے بارش ہوئی۔ اللہ کے حکم سے بارش ہونے کے وہ قائل نہ تھے۔ مطلب یہ ہے کہ بارش ہونے کا تم شکریہ ‘ یہ ادا کرتے ہو کہ تکذیب کرنے لگتے ہو ‘ یعنی بجائے شکر کے کفران نعمت کرتے ہو۔ حضرت زید بن خالد جہنی کا بیان ہے کہ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو بارش ہوئی تھی ‘ جس کے کچھ نشانات تھے۔ حضور ﷺ والا نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ حاضرین نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی جانتے ہیں۔ فرمایا ‘ اللہ نے فرمایا : میرے بندوں میں کوئی مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور کوئی میرا انکار کرتا ہے ‘ جو شخص کہتا ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی ‘ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا منکر ہے اور جو شخص قائل ہے کہ نچھتر سے ہم پر بارش ہوئی ‘ وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔
مسلم کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بیان آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک بار بارش ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : (آج) صبح کو کچھ لوگ شکر گزار ہوئے اور کچھ کافر نعمت۔ بعض نے کہا : یہ اللہ کی رحمت ہے جو اللہ نے عطا فرمائی اور بعض نے کہا : نچھتر سچّا ثابت ہوا۔ اس پر آیت : فَلاَ اُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِ..... تُکَذِّبُوْنَ تک نازل ہوئی۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ غزوۂ تبوک (کے زمانہ) میں ایک انصاری شخص کے بارے میں ان آیات کا نزول ہوا ‘ بات یہ ہوئی کہ مسلمان مقام حجر میں اترے ‘ حضور ﷺ نے حکم دیا کوئی شخص یہاں کا پانی نہ لے ‘ پھر یہاں سے کوچ کر کے اگلی منزل پر فروکش ہوئے لیکن وہاں مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا۔ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت پیش کی۔ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی ‘ فوراً بارش ہوگئی اور اتنی موٹی ہوئی کہ سب سیراب ہوگئے۔ ایک شخص کو منافق سمجھا جاتا تھا۔ اس سے ایک انصاری نے کہا : دیکھو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ کر جونہی اللہ سے دعا کی فوراً بادل سے بارش ہوگئی وہ (منافق) بولا ہم پر تو ایسے ایے نچھتر سے بارش ہوئی۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی تھی۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ یہ واقعہ حجر میں ہوا تھا۔
مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بھی اللہ آسمان سے برکت (بارش) نازل فرماتا ہے ‘ آدمیوں کا ایک گروہ اسکی ناشکری کرنے لگتا ہے۔ بارش تو نازل کرتا ہے اللہ اور وہ کہتا ہے فلاں فلاں ستاروں کی تاثیر سے بارش ہوئی۔
Ayah 56:83سو جس وقت روح حلق تک آپہنچتی ہے
اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ : یعنی جان جب حلق میں آجاتی ہے۔
Ayah 56:84اور تم اس وقت تکا کرتے ہو
وَاَنْتُمْ حِیْنَءِذٍ تَنْظُرُوْنَ : اور اے لوگو ! تم مرتے آدمی کے گردا گرد اس کی حالت کو دیکھتے ہو کہ اس کی جان نکل رہی ہے اور اپنی بےبسی کو بھی دیکھتے ہو کہ اس کو بچا نہیں سکتے اور کچھ کام نہیں آسکتے۔
Ayah 56:85اور ہم اس وقت اس مرتے آدمی سے تم
سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں ہو۔
وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ : اور ہم اس مرتے آدمی کی حالت کو تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ بیضاوی نے کہا : قرب سے مراد ہے جاننا کیونکہ قرب ہی علم کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ ہم اس کی حالت کو جانتے ہیں۔ اس پر قدرت رکھنے والے اور اس کو دیکھنے میں تم سے زیادہ ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک قرب خدا سے مراد ہے اللہ کے فرشتوں کا قریب الموت آدمی سے قرب جو روح قبض کرتے ہیں اور ماحول کے آدمیوں کی بہ نسبت اس سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
اہل تفسیر کو قرب کی تاویلیں اس لیے کرنی پڑیں کہ ان کے نزدیک قرب صرف زمانی یا مکانی ہوتا ہے اور اللہ ہر زمان و مکان سے پاک ہے۔ یہ حضرات نہیں جانتے کہ ایک قرب بےکیف بھی ہوتا ہے جو شرعاً ثابت ہے جس کا ادراک مؤمن اپنی فراست سے کرتا ہے۔ عوام اس کو نہیں جانتے ‘ اسی لیے اگلے فقرے میں ہے : ” لیکن تم اس کو نہیں دیکھتے یعنی اس کے قرب کو نہیں دیکھتے۔ “
Ayah 56:86تو (فی الواقع) تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے
غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ : یعنی غیر مجرم ہو اور قیامت کے دن زندہ کر کے تمہاری حساب فہمی نہ ہوگی۔ یعنی تم کو تمہارے خیال کے بموجب دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔ یا مَدْیِنِیْنَ سے مراد ہیں ‘ مملوک ‘ عاجز ‘ ذلیل کہا جاتا ہے دانہ ‘ اس کو ذلیل کیا اور غلام بنا لیا۔
Ayah 56:87تو پھر اس روح کو (بدن کی طرف) نہیں لوٹاتے ہو اگر تم سچے ہو۔
تَرْجِعُوْنَ : یعنی جان کو اس کی قرار گاہ تک کیوں نہیں لوٹا دیتے کہ اس کے مقام تک موت کی رسائی نہ ہو سکے یا یہ معنی ہے کہ تم جب مجبور و مقہور نہ ہو تو پھر جان کو (بدن کے اندر) لوٹا کیوں نہیں لیتے۔
اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : یعنی اگر غیر مقہور ہونے کے دعوے میں تم سچے ہو تو جان کو اس کی قرار گاہ تک لوٹا کیوں نہیں دیتے (غیر مقہور اور عاجز نہ ہونے کا اگرچہ انہوں نے دعویٰ نہیں کیا تھا لیکن تصرفات خداوندی کا ان کو انکار تھا اور آیات الٰہیہ کی وہ تکذیب کرتے تھے ‘ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے غیر مقہور ہونے کے مدعی تھے) ۔
Ayah 56:88پھر (قیامت کے دن) جو شخص مقرب لوگوں میں سے ہوگا
مُقَرَّبِیْنَ سے مراد ہیں وہ سابقین جن کا ذکر آغاز سورت میں کیا گیا ہے اور جن کو تینوں گروہوں میں افضل بتایا گیا۔
Ayah 56:89تو اسکے لیے راحت ہے اور (فراغت کی) غذائیں ہیں اور آرام کی جنت ہے
فَرَوْحٌ : روح بفتح راء خوشی اور راحت۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کا یہی قول ہے۔ ضحاک نے مغفرت اور رحمت ترجمہ کیا ہے۔
وَّ رَیْحَانٌ : اور پاکیزہ رزق۔ مجاہد ‘ سعید بن جبیر اور مقاتل کا یہی قول ہے۔ مقاتل نے کہا : حمِیری (یمنی) بولی میں ریحان کا یہی معنی ہے۔ دوسرے لوگوں نے کہا : ریحان وہ (خوشبو دار) چیز ہے جو سونگھی جاتی ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : جو شخص مقربین میں ہوتا ہے اس کو دنیا چھوڑنے سے پہلے جنت کی کوئی خوشبودار چیز سنگھائی جاتی ہے پھر اس کی روح قبض کی جاتی ہے۔ ابوبکر ورّاق نے کہا : روح سے مراد ہے دوزخ سے نجات اور ریحان سے مراد ہے دارالقرار (آرام گاہ یعنی جنت) میں داخلہ۔
Ayah 56:90اور جو شخص دائیں طرف والوں میں سے ہوگا تو
Ayah 56:91(اس سے کہا جائیگا کہ) تیرے لیے امن وامان ہے کہ تو دائیں طرف والوں میں سے ہے
فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ : یعنی اے دائیں طرف والے تجھ پر تیرے بھائیوں کی طرف سے یعنی اصحاب الیمین کی جانب سے سلام ہو ‘ مطلب یہ ہے کہ دائیں طرف والے تجھے سلام کہتے ہیں۔ بغوی نے سَلَامٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اے محمد ! آپ ﷺ کو اصحاب الیمین کی طرف سے اطمینان رہے۔ آپ ﷺ ان کی کوئی فکر نہ کریں۔ وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ ہیں۔ آپ ﷺ ان کی سلامتی کو دیکھ کر خوش اور راضی ہوں گے۔
مقاتل نے کہا : اللہ ان کے قصوروں سے درگزر فرمائے گا اور نیکیوں کو قبول کرے گا۔ فراء وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا : اے محمد ﷺ آپ کو اصحاب الیمین کی طرف سے سلام ہو یا یہ مطلب ہے کہ صاحب الیمین سے کہا جائے گا تو اصحاب الیمین میں سے ہے ‘ تیرے لیے سلامتی ہو۔
Ayah 56:92اور جو شخص تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوگا
وَاَمَّآ اِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ : یعنی اگر وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا قرار دینے والوں میں سے اور
الضَّآلِّیْنَ : راہ حق سے بھٹکنے والوں یعنی اصحاب الشمال میں سے ہوگا جو تینوں مذکورہ اصناف میں بدترین گروہ ہوگا۔
اصحاب الشمال کے اللہ نے دو عمل (تکذیب اور ضلال) صراحت کے ساتھ اس لیے بیان کیے کہ ان کے ان افعال سے بازداشت اور زجر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ یہ افعال عذاب موعود کے موجب ہیں۔
Ayah 56:93تو کھولتے ہوئے پانی سے اسکی دعوت ہوگی
Ayah 56:94اور دوزخ میں اسکا داخلہ ہوگا۔
تَصْلِیَۃُ جَحِیْمٍ : بڑی آگ میں داخلہ۔
Ayah 56:95بیشک یہ (جو کچھ مذکور ہوا) تحقیق یقینی بات ہے۔
ان ھٰذا : یہ یعنی قریب الموت لوگوں کی یہ مذکورہ حالت۔
Ayah 56:96سو آپ اپنے عظیم الشان رب کی تسبیح کیجئے۔
فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّکَ : یعنی اپنے رب کی یاد کے ساتھ اور اس کے حکم کے مطابق نماز پڑھو یا یہ مطلب ہے کہ اس کے نام کے ذکر کے ساتھ ان باتوں سے اس کی پاکی بیان کرو جو ناشائستہ اور اس کی شان کے لائق نہیں یا (سادہ) مطلب یہ ہے کہ اپنے عظمت والے رب کی تسبیح کرو۔
رکوع اور سجود کی تسبیحات کے مسائل اور انکے متعلق احادیث اور اماموں کے اختلافات ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں ‘ اعادہ بیکار ہے۔
حضرت ابن مسعود کا بیان ہے ‘ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جو شخص ہر شب سورة واقعہ پڑھے گا ‘ اس کو کبھی فاقہ نہیں ستائے گا ‘ واللہ اعلم (رواہ البغوی و ابو یعلی فی سندہ والبیہقی بسند ضعیف فی شعب الایمان)