Ayah 56:41اور جو بائیں طرف والے ہیں ‘ وہ بائیں طرف والے کیسے برے ہیں
Ayah 56:42وہ آگ میں ہوں گے اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے
سَمُوْمٍ : لو ‘ جو بدن کے مسامات میں گھستی ہے۔ حَمِیْمٍ : انتہائی گرم۔
Ayah 56:43اور دھویں کے سایہ میں ہوں گے
یَّحْمُوْمٍ : بہت کالا دھواں۔ یحموم بروزن یفعول حمۃ سے مشتق ہے ‘ بہت گہرا سیاہ ہو تو عرب اسکو اسود یحموم کہتے ہیں۔
ضحاک نے کہا : آگ کالی۔ اس میں رہنے والے کالے اور اس کی ہر چیز کالی۔ ابن کیسان نے کہا : یحموم دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Ayah 56:44جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش ہوگا
لَابَارِدٍ : یعنی دوسرے سایوں کی طرح ٹھنڈا نہ ہوگا۔
وَّلاَ کَرِیْمٍ : یعنی کسی طور پر سود مند نہ ہوگا یا دیکھنے میں بھی اچھا نہ ہوگا۔
Ayah 56:45وہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) بڑی خوشحالی سے رہتے تھے
مُتْرَفِیْنَ : عیش و راحت میں پڑے ہوئے ‘ خواہشات نفس میں ڈوبے ہوئے۔ اللہ کی اطاعت کی تکلیف نہ اٹھانے والے۔
Ayah 56:46اور بڑے بھاری گناہ (یعنی شرک و کفر) پر اصرار کیا کرتے تھے
اَلْحِنْثِ اَلْعَظِیْمِ : بڑا گناہ ‘ یعنی شرک۔ شعبی نے کہا : حنث عظیم سے مراد ہے دانستہ جھوٹی قسم یعنی وہ قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ ان کو دوبارہ زندہ کر کے نہ اٹھایا جائے گا اور ان کی یہ قسمیں جھوٹی تھیں۔
Ayah 56:47اور کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو کر رہ گئے تو کیا (اسکے بعد) ہم دوبارہ زندہ کیے جائینگے
اَءِذَامِتْنَا : استفہام انکاری ہے۔
Ayah 56:48یا ہمارے اگلے باپ دادا بھی زندہ کیے جائیں گے۔
اَوَ اٰبَاؤُنَا : باپ ‘ دادا کو مرے ہوئے زمانۂ دراز ہوگیا۔ ان کی دوبارہ زندگی کا تو ان کو اور بھی سخت انکار تھا۔
Ayah 56:49آپ کہہ دیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے
Ayah 56:50ایک معین تاریخ کی حد پر سب جمع کیے جائیں گے۔ “
لَمَجْمُوْعُوْنَ : یعنی حساب فہمی اور سزا جزا کے لیے سب اگلوں پچھلوں کو جمع کیا جائے گا۔
مِیْقَاتِ یَوْمٍ : یوم معلوم کی مقررہ حد پر۔ میقات یوم میں اضافت بحذف مِنْ ہے جیسے خاتم فِضَّۃٍ میں۔ میقات کسی چیز کی مقررہ حد جیسے میقات احرام ‘ احرام کے شروع ہونے کی مقررہ حد کہ اس حد سے آگے بغیر احرام کے جانا جائز نہیں۔ الیٰ میقات میں الیٰ بمعنی لام ہے۔ یوم معلوم سے مراد ہے روز قیامت جو معلوم ہے اور اس کا آنا یقینی ہے۔
Ayah 56:51جمع کرنے کے بعد کہا جائے گا) پھر اے گمراہو ! جھٹلانے والو
Ayah 56:52تم کو درخت زقوم سے کھانا ہوگا ‘
مِنْ شَجَرِ : میں مِنْ ابتدائیہ ہے مِنْ زَقُوْمٍ : میں مِنْ بیانیہ ‘ یعنی وہ درخت زقوم ہوگا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زقوم کے درخت سے اگر ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا کی معاش تباہ ہوجائے ‘ پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی غذا ہی زقوم ہوگا۔ (رواہ الترمذی والنسائی و ابن ماجہ والحاکم) ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔
عمرو خولانی نے کہا : ہم کو اطلاع ملی ہے کہ آدمی درخت زقوم کا جتنا حصہ نوچے گا اتنا ہی حصہ اس کے بدن کا بھی نوچ لیا جائے گا۔ (رواہ عبداللہ بن احمد فی زوائد الزہد و ابو نعیم)
Ayah 56:53پھر اس سے پیٹ بھرنا ہوگا
فَمَالِؤْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ : یعنی شدت بھوک کی وجہ سے تم زقوم سے پیٹ بھر لو گے۔
Ayah 56:54پھر اس پر کھولتا پانی پینا ہوگا
اَلْھِیْمِ : پیاسے اونٹ۔ شُرب اور شرب دونوں ہم معنی ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے شرب بفتح شین مصدر ہے اور بضم شین اسم مصدر جیسے ضعف اور ضعف۔
ابن ابی حاتم نے بطریق ابو طلحہ حضرت ابن عباس کی طرف اس ترجمہ کی نسبت کی ہے۔ ہیمان مذکر کے لیے اور ہیمی مؤنث کے لیے آتا ہے جیسے عطشان اور عطشی۔ بعض نے کہا : الھیمُ ان اونٹوں کو کہتے ہیں جن کو پیاس کی بیماری لگ جاتی ہے ‘ کتنا ہی پیتے ہیں ‘ سیرابی نہیں ہوتی۔ آخر مرجاتے ہیں۔ بیہقی نے مجاہد کا اور بغوی نے عکرمۃ و قتادہ کا یہی قول بیان کیا ہے۔
ضحاک نے کہا : ہیم نرم اور ریتیلی زمین کو کہتے ہیں ‘ بیضاوی نے لکھا ہے : ہیم ‘ ہیام کی جمع ہے۔ ہیام اس ریت کو کہتے ہیں ‘ جس میں باہم بستگی نہ ہو۔
Ayah 56:55پینا بھی پیاسے اونٹوں کا سا۔
Ayah 56:56قیامت کے روز یہ ان کی دعوت ہوگی۔
ھٰذَا نُزُلُھُمْ : نزل طعام مہمانی کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ لفظ بطور استہزاء استعمال کیا گیا ہے جیسے فبشرھم بعذاب الیم میں بشر کا لفظ استہزائیہ ہے کیونکہ عذاب الیم حقیقت میں خوشخبری کی چیز نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب سے پہلا کھانا ہوگا۔
یَوْمَ الدِّیْنِ : بدلہ کا دن۔
Ayah 56:57ہم نے ہی (اوّل بار) پیدا کیا ہے پھر (دوبارہ پیدا کرنے کی) تم تصدیق کیوں نہیں کرتے۔
نحن خلقنکم : یعنی جب تم کچھ بھی نہیں تھے ہم نے ہی تم کو پیدا کیا اور تم کو اس کا اقرار بھی ہے۔ پھر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔ جو ابتداء تخلیق پر قدرت رکھتا ہے ‘ کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوگا۔
Ayah 56:58بتلاؤ تم جو عورتوں کے رحم میں نطفہ ٹپکاتے ہو
مَا تُمْنُوْنَ : یعنی جو نطفہ تم رحم میں ڈالتے ہو۔
اَفَرَءَ یْتُمْ : میں رویت بمعنی علم ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ پیدا کرنے کا تو تم کو اعتراف ہے ‘ اب بتاؤ کہ خالق کون ہے ‘ تم خالق ہو یا ہم ہی انسان کو پیدا کرتے ہیں ؟ یقیناً تم تخلیق بشر نہیں کرتے ‘ ہم ہی کرتے ہیں۔
Ayah 56:59اس کو تم آدمی بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں
ءَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗ : یعنی کیا تم اس کو انسان بناتے ہو یا ہم ؟
Ayah 56:60ہم نے تمہارے درمیان (وقت مقررہ پر) موت کو ٹھہرا رکھا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں
نَحْنُ قَدَّرْنَا .... یعنی جس طرح اپنی مشیت کے مطابق ہم نے تمہارے لیے رزق تقسیم کردیا ہے ‘ اسی طرح تمہاری موت کو بھی تقسیم کردیا ہے ‘ اسی وجہ سے تم میں سے کسی کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے ‘ کسی کی بہت کم ‘ کسی کی درمیانی یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے تم میں سے ہر ایک کا وقت مقرر کردیا ہے ‘ جس سے تم آگے ‘ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
نَحْنُکو قَدَّرْنَا سے پہلے لانا مفید حصر و اختصاص ہے یعنی موت کی تقدیر و توقیت ہمارا ہی کام ہے جیسے ہر ایک کی تخلیق ہمارا ہی فعل ہے۔
وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ : یہ جملہ حالیہ ہے ‘ اس کے دو مطلب ہیں : 1: ایک یہ کہ تقدیر موت ہم نے ایسی حالت میں کی کہ ہم سے پہلے کوئی تقسیم موت نہیں کرچکا تھا۔ 2: ہم مغلوب نہیں ہیں ‘ ہم پر کوئی غالب نہیں ہے۔ سبقۃ علٰی کذا میں اس بات میں اس پر غالب آگیا اور اس کو عاجز کردیا۔ یہ عربی محاورہ ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کوئی ہم کو عاجز نہیں کرسکتا کہ موت سے بھاگ جائے یا وقت موت کو بدل دے۔
Ayah 56:61کہ تمہاری جگہ اور تم جیسے آدمی پیدا کردیں اور تم کو ایسی صورت میں پیدا کردیں جس کو تم جانتے بھی نہیں ہو
عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَکُمْ : یہ قدرنا کے فاعل سے حال ہے یعنی ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کردیا ہے اور ہم اس امر پر قادر ہیں کہ تمہاری جگہ تمہارے عوض دوسروں کو لے آئیں یا قدرنا سے اس کا تعلق ہے اور علیٰ بمعنی لازم کے ہے اور علیٰ ان قدرنا کی علت ہے یعنی ہم نے موت کو مقدر کردیا ہے اس لیے کہ تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئیں یا مسبوقین سے اس کا تعلق ہے یعنی ہم مغلوب نہیں ہیں کہ تمہارے عوض تمہاری جگہ دوسروں کو لانے کی ہم میں قدرت نہ ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امثال (بمعنی مقام و مکان نہ ہو بلکہ اس) کا معنی ہو صفت و حالت یعنی ہم اس امر سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری حالت اور صفت کو بدل دیں اور مرنے کے بعد تم کو ان احوال میں پیدا کریں جن کو تم نہیں جانتے یعنی ثواب و عذاب مثل بمعنی صفت دوسری آیت میں آیا ہے ‘ فرمایا ہے : مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ...... لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْءِ..... وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی
Ayah 56:62اور تم کو اوّل پیدائش کا علم ہے ‘ پھر تم کیوں نہیں سمجھتے۔
اَلنَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی : یعنی قطرہ سے انسان کی تخلیق اور نیست سے ہست ہونا۔
فَلَوْلاَ تَذَکَّرُوْنَ : یعنی تم کیوں نہیں سمجھتے کہ تخلیق اوّل کرنے والا تخلیق ثانی پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ دوسری بار تخلیق تو پہلی تخلیق سے آسان ہے اس میں نہ زیادہ صنعت کی ضرورت ہے ‘ نہ تخصیص اجزاء و اعضاء کی کیونکہ ایک نمونہ اور مثال کا پہلے وجود ہوچکا۔
فَلُوْلَا تَذَکَّرُوْنَ کا لفظ بتارہا ہے کہ شرعاً قیاس میں بھی ایک دلیل ہے۔
Ayah 56:63اچھا پھر یہ بتاؤ کہ تم جو کچھ (تخم وغیرہ) بوتے ہو
مَا تَحْرُثُوْنَ : جو دانے تم بکھیرتے ہو۔
Ayah 56:64اس کو تم
اُگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔
ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗ : کیا تم ان کو اگاتے ہو۔
Ayah 56:65اگر ہم چاہیں تو اس پیداوار کو چورا چورا کردیں پھر تم متعجب ہو کر رہ جاؤ گے۔
حُطَاماً : عطاء نے کہا : حطام وہ تنکے جس میں گیہوں نہ ہوں۔ بعض نے کہا وہ بھوسہ جو کسی غذائی کام کا نہیں ہوتا۔
تَفَکَّھُوْنَ : یعنی کھیتی پر نازل ہونے والی آفت سے تم تعجب میں پڑجاتے ہو۔ یہ ترجمہ عطاء اور کلبی اور مقاتل نے کیا۔ بعض نے کہا : تفکھون یعنی اپنی محنت اور کھیتی پر صرف ہونے والے روپیہ پر پشیمان ہوتے ہو یہ ایمانؔ کا قول ہے لیکن حسن نے کہا : اس گناہ پر پشیمان ہوتے ہو جو اس سزاکا موجب ہوا۔ عکرمہ نے کہا : تم باہر ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہو ‘ ابن کیسان نے کہا : تم غمگین ہو جاے ہو۔
کسائی نے کہا : تفکّہ ‘ فوت شدہ چیز پر افسوس۔ یہ اضداد میں سے ہے (یعنی اس کے دونوں معنی ہیں ‘ مزے اڑانا ‘ لذت حاصل کرنا اور افسوس کرنا ‘ غمگین ہونا) عرب کہتے ہیں : تفکہت میں خوش ہوا ‘ میں غمگین ہوا۔
میں کہتا ہوں تفکّہ کا اصل معنی ہے پھل کھانا اور پھل سے پرہیز کرنا ‘ اس جگہ استعمال مجازی ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے تفکّہ پر پشیمان ہوا۔ تفکّہ بہ ‘ اس سے مزہ اڑایا ‘ فائدہ اندوز ہوا ‘ پھل کھایا ‘ پھل سے پرہیز کیا۔
Ayah 56:66اب ہم پر تاوان ہی پڑ گیا
اِنَّا لَمُغْرُمُوْنَ : یعنی کہتے ہیں کہ ہم برباد ہوگئے ‘ ہم نے جو کچھ خرچ کیا تھا وہ تباہ ہوگیا۔ مغرم اس شخص کو کہتے ہیں جس کا مال بیکار چلا جائے۔ یہ مطلب ضحاک اور ابن کیسان نے بیان کیا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے فرمایا : ہم عذاب میں ماخوذ ہوگئے۔ ہم پر عذاب آگیا۔ غرام کا معنی ہے عذاب۔
Ayah 56:67بلکہ محروم ہی ہو کر رہ گئے۔
بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ : بلکہ ہم تو رزق سے بھی محروم ہوگئے۔ یہ کلام سابق سے اعراض ہے یعنی مال کا نقصان تو سہل تھا ‘ اب تو رزق سے بھی محروم ہوگئے ‘ جس سے بھوکوں مرجانے کا اندیشہ ہے۔
Ayah 56:68اچھا یہ بتلاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو
اَلْمَآءِ الَّذِیْ : یعنی آب شیریں۔
Ayah 56:69اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم برسانے
والے ہیں
الْمُزْنِ : بادل۔ بعض نے کہا : سفید بادل جس کا پانی میٹھا ہوتا ہے۔ مُزن جمع ہے اس کا واحد مُزْنَۃٌ ہے۔
Ayah 56:70اگر ہم چاہیں تو اس کو کڑوا کر ڈالیں ‘ سو تم شکر کیوں نہیں کرتے۔
اُجَاجًا : نمکین ‘ تلخ۔ (کذا فی القاموس) کہا گیا ہے : اجاج ‘ اجیج سے ماخوذ ہے۔ اجیج کا معنی ہے آگ بھڑکنا ‘ نمکین پانی بھی منہ میں سوزش کردیتا ہے ‘ اس لیے اس کو اجاج کہتے ہیں۔
فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ : انسان کو نیست سے ہست کرنا اور اس کی ہستی کو باقی رکھنا ضروری نعمت ہے ‘ ایسی نعمتوں کا تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے۔
Ayah 56:71پھر یہ بتاؤ کہ جس آگ کو تم سلگاتے ہو
تُوْرُوْنَ : یعنی تم روشن کرتے ہو۔ یہ داری النَّارَ وَرْیًا سے ماخوذ ہے (اس نے آگ جلائی) اَوْرَیْتُ النَّارَ (باب افعال) میں نے آگ روشن کی۔ آگ روشن کرتے ہو یعنی چقماق سے نکالتے ہو ‘ عرب دو لکڑیوں کو رگڑ کر آگ برآمد کرتے تھے ایک لکڑی کو دوسری لکڑی کے اوپر رکھتے تھے۔ اوپر والی کو زَنَد اور نیچے والی کو زَنَدہ کہتے تھے۔
Ayah 56:72کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم ہی پیدا
کرنے والے ہیں۔
شَجَرَتَھَا : آگ کا درخت۔ یعنی مرخ اور عفار ‘ مرخ کو اوپر سے رگڑتے تھے ‘ دونوں لکڑیاں ہری تھیں ‘ دونوں کے باہم رگڑنے سے پانی نکل آتا تھا اور آگ روشن ہوجاتی تھی۔
Ayah 56:73ہم نے ہی اس کو یاددہانی کی اور مسافروں کے فائدے کی شے بنایا ہے۔
تَذْکِرَۃً : قیامت کی یاد دہانی کی چیز کیونکہ جو خدا سبز لکڑی سے آگ برآمد کرتا ہے ‘ باوجودیکہ سبز تازہ لکڑی میں مائیت موجود ہوتی ہے جو کیفیت کے لحاظ سے آگ کی بالکل ضد ہے ‘ وہ خدا دوبارہ بھی انسان کو پیدا کرسکتا ہے کیونکہ انسان کی ہڈیاں پہلے اوّل زندگی میں تر تھیں ‘ ان میں رطوبت طبعیہ تھی ‘ پھر رطوبت خشک ہوگئی اور ہڈیاں فرسودہ ہوگئیں۔ بس اتنی بات ہوئی۔ خشک ہڈیوں میں دوبارہ رطوبت طبعیہ پیدا ہونا پانی سے آگ پیدا کرنے کے مقابلہ میں تو آسان ہے یا تذکرہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ تاریکی میں اس کے ذریعہ راستہ معلوم ہوجاتا ہے یا اس سے جہنم کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ‘ کیونکہ آگ عمومی ضرورت کی چیز ہے ‘ ہمارے اسباب معاشی اس سے وابستہ ہیں۔ اکثر اوقات لوگوں کی نظروں کے سامنے اس کا رہنا ضروری ہے اور چونکہ دنیوی آگ جہنم کی آگ کا ایک نمونہ ہے اس لیے اس آگ کو دیکھ کر جہنم کی آگ کی یاد لازم ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری آگ جہنم کی آگ کے ستّر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آگ (جلانے کے لیے) کافی ہے۔ فرمایا : جہنم کی آگ اس آگ سے انہتر حصے بڑھ کر ہے۔ دوزخ کی آگ کا ہر ایک جزء اس آگ کے برابر ہے۔ (رواہ البخاری و مسلم فی صحیحہما)
وَ مَتَاعًا : اور نفع کی چیز ‘ فائدہ رساں۔
لِّلْمُقْوِیْنَ : مقوین کا ترجمہ کیا گیا ہے : مسافر۔ یہ لفظ قوا سے مشتق ہے قوا کا معنی ہے ویران ‘ بیابان۔ جہاں کوئی عمارت نہ ہو ‘ آبادی سے دور ‘ بہ نسبت اہل اقامت کے مسافروں کو آگ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ‘ درندوں اور جنگلی جانوروں سے حفاظت کے لیے وہ اکثر رات کو آگ روشن رکھتے ہیں (کہیں ٹیلے یا پہاڑی پر) آگ جل رہی ہو تو مسافروں کو راستہ مل جاتا ہے پھر سردی کی وجہ سے ان کو تاپنے اور جسم کو سینکنے کی بھی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لیے مسافروں کے لیے فائدہ رساں ہونے کا ذکر کیا۔ اکثر اہل تفسیر نے مقوین کا یہی ترجمہ کیا ہے۔ مجاہدککرمہ کے نزدیک مقوین سے مراد ہیں فائدہ حاصل کرنے والے ‘ کوئی ہوں ‘ مقدیم ہوں یا مسافر سب لوگ تاریکی میں آگ سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ سردی میں آگ سے تاپتے ہیں اور آگ سے ہی کھانا پکاتے ہیں۔ ابن زید نے کہا : مقوین کا معنی ہے بھوکے ‘ یعنی وہ لوگ جن کے پیٹ کھانے سے خالی ہوں۔
اَقْوَتِ الدَّارُ : گھر ‘ رہنے والوں سے خالی ہوگیا۔ اقویت منذ کذا۔ میں نے اتنی مدت سے کچھ نہیں کھایا۔
بعض اہل علم نے کہا : مقوین سے مراد ہیں مالدار لوگ۔ اگر کوئی مالدار ہوجائے اور اس کے جانور قوی ہوجائیں تو کہا جاتا ہے : ” اقوی الرجل “ وہ آدمی قوّت والا ہوگیا اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ مالدار ہوں یا نادار آگ سب کے فائدے کی چیز ہے پھر خصوصیت کے ساتھ صرف مالداروں کے لیے فائدہ مند ‘ اس لیے کہا گیا کہ دولت مند طبقہ ہی بکثرت کھانا پکاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کثیر الرماد (زیادہ راکھ والا) بول کر مراد ہوتی ہے کہ اس کے پاس مہمان بہت آتے ہیں اور کھانا بہت پکایا جاتا ہے ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 56:74فسبح باسم ربک العظیم . ” سو آپ اپنے عظیم الشان رب کے نام کی تسبیح کیجئے۔ “
فَسَبِّحْ : میں ”“ سببیہ ہے یعنی جب تم کو اللہ کی پُر منفعت مصنوعات اور انعامات کا علم ہوگیا تو منکرین وحدانیت اور کفران نعمت کرنے والے جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں اللہ کو اس سے پاک قرار دو اور اس کی پاکی بیان کرو یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے شکریہ میں اسکی پاکی کا اظہار و اقرار کرو یا یہ معنی ہے کہ جو ظالم کفران نعمت کرتے ہیں ‘ تم اس پر تعجب کرتے ہوئے اسکی پاکی بیان کرو۔
بِاِسْمِ رَبِّکَ : اس میں لفظ اسم زائد ہے اور مراد ہے ذات یعنی اپنے رب کی پاکی بیان کرو۔ ” بَ “ زائد ہے (کیونکہ فعل تسبیح بغیر ب کے متعدی ہے) ۔
Ayah 56:75سو میں قسم کھاتا ہوں ‘ ستاروں کے چھپنے کی
فَلاَ اُقْسِمُ : میں قسم نہیں کھاتا کیونکہ یہ بات واضح ہے ‘ قسم کھا کر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے یا لَا اُقْسِمُ : میں لا زائد ہے ‘ کلام کو پرزور بنانے کیلئے اسکا اضافہ کیا گیا ہے۔ جیسے لئلا یعلم میں یعنی میں پختہ قسم کھاتا ہوں۔ بعض علماء نے کہا : لا . اُقسم سے علیحدہ ہے ‘ اس سے کافروں کی نفی مقصود ہے ‘ کافر قرآن کو جادو اور شعر اور کہانت کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسا نہیں ہے ‘ میں قسم کھا کر کہتا ہوں ‘ الخ۔
مَوَاقِعِ النُّجُوْمِ : ستاروں کے گرنے اور چھپنے کے مقامات۔ غروب کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لیے کیا کہ اس سے ستاروں کا حدوث اور امکان ظاہر ہوتا ہے اور کسی مؤثر ہستی کا ثبوت ملتا ہے جس کی تاثیر ستاروں کے غروب سے نمایاں ہوتی ہے۔
عطاء بن ابی رباح نے کہا : مواقع النجوم سے مراد ہیں ستاروں کی سیرگاہیں اور منزلیں۔ حسن نے کہا : قیامت کے دن ستاروں کا بکھر جانا اور بےنور ہوجانا مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نجوم سے مراد ہیں ‘ نجوم القرآن اور مواقع سے مراد ہیں نجوم القرآن کے اوقات نزول کیونکہ قرآن کا نزول رسول اللہ ﷺ پر نجماً نجماً یعنی تھوڑا تھوڑا (مختلف اوقات میں) ہوتا تھا۔
Ayah 56:76اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے
لَوْ تَعْلَمُوْنَ : یہ جملہ معترضہ ہے جو عظمت قسم کو ظاہر کر رہا ہے ‘ اس میں میں لَوْ تمنائی ہے یعنی کاش تم اس کی عظمت کو جانتے۔
عَظِیْمٌ : جس چیز کی قسم کھائی جا رہی ہے وہ اللہ کی ہمہ گیر قدرت اور حکمت کاملہ اور فرط رحمت پر دلالت کر رہی ہے اور رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو یونہی بیکار نہ چھوڑے۔
Ayah 56:77کہ یہ ایک معزز قرآن ہے
اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ : یعنی جس کلام کی محمد ﷺ تلاوت کر رہے ہیں وہ قرآن معزز ہے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اس لیے ہر کلام پر اس کی فوقیت اور عزت حاصل ہے جیسے اللہ کو مخلوق پر برتری حاصل ہے ‘ اسی طرح اس کے کلام کو مخلوق کے کلام پر برتری حاصل ہے۔ (رواہ الترمذی)
یا یہ مطلب ہے کہ اصلاح دنیا و آخرت کے تمام اصول اس کے اندر موجود ہیں ‘ اس لیے یہ کثیر الخیر اور بہت زیادہ فوائد رساں ہے۔ اہل معانی کا قول ہے کہ کریم وہ شخص ہوتا ہے جو کثیر الخیر ہو یا کریم کا معنی ہے اچھا اور پسندیدہ۔
Ayah 56:78جو ایک محفوظ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں درج ہے
مَکْنُوْنٍ : محفوظ ‘ اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔
Ayah 56:79اس کو بجز پاک ہستیوں (یعنی فرشتوں) کے اور کوئی نہیں چھوتا۔
لَا یَمَسُّہٗ : ہ ٗ ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے کیونکہ لفظ کتاب ہی قریب ہے یعنی لوح محفوظ کو فرشتے ہی چھوتے ہیں جو جسمانی آلائشوں اور کدورتوں سے پاک ہیں ‘ جسمانی آلائشیں ہی اکثر گناہوں کا باعث ہوتی ہیں۔
یہ تفسیر پسندیدہ نہیں ہے کیونکہ جسمانی کدورتوں سے منقطع ہوجانا موجب فضیلت نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی فضیلت ہے ‘ نہ اس کو پاک ہونا کہا جاسکتا ہے۔ ورنہ انسان پر فرشتوں کی فضیلت لازم آئے گی جو اجماع علماء کے خلاف ہے بلکہ جسمانی کدورتیں ہی تو خالص تجلیات ذاتیہ کی حامل ہیں ‘ اسی لیے نبوت کے لیے انسان کو مخصوص کیا گیا ہے۔ صحیح تفسیر یہ ہے کہ لا یمسہٗ کی ضمیر (لوح محفوظ کی طرف راجع نہیں ہے بلکہ) قرآن کی طرف لوٹ رہی ہے اور نفی بمعنی ممانعت ہے یعنی قرآن کو نہیں چھوتے (مراد یہ کہ قرآن کو نہ چھوئیں) مگر وہی لوگ جو پاک ہوں ‘ بےوضو نہ ہوں اور قرآن یعنی کلام اللہ تو حقیقتاً چھونے کی چیز ہی نہیں ہے ‘ نہ اس کو چھوا جاسکتا ہے اسلئے قرآن سے مراد ہے یہی لکھی ہوئی کتاب جو ہمارے پاس ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ دشمن کے ملک میں قرآن کو لے جانے کی رسول اللہ ﷺ نے ممانعت فرما دی ہے (یعنی اسی مصحف کو جو ہمارے ہاتھوں میں ہے) ۔ (متفق علیہ) حضرت ابن عمر ؓ اس حدیث کے راوی ہیں۔
علماء کا اجماعی قول ہے کہ جُنُب (جس کو غسل کرنا واجب ہے) اور حائضہ اور نفساء اور بےوضو شخص کو قرآن کا چھونا جائز نہیں ہے۔ داؤد ظاہری کا قول اس کے خلاف ہے ‘ انہوں نے حضرت ابو سفیان ؓ کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہرقل کو ایک خط لکھا جس میں آیت : یٰٓاَھُلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْٓا اِلٰی کَلِمَۃٍ... بھی لکھی ہے اور ظاہر ہے کہ ہرقل کافر تھا اور کافر (بحکم شریعت) نجس ہوتا ہے۔ ہم اسکے جواب میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت اس طور پر نہیں لکھی تھی کہ یہ قرآن کی آیت ہے بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں لکھی تھی اس لیے لفظ ” قل “ جو شروع آیت میں ہے ‘ آپ ﷺ نے نہیں لکھا اور اپنی جانب سے اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے : یٰٓاَھُلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْٓا .... تحریر کیا اگر کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے لکھتے تو لفظ ” قُل “ بھی لکھتے اس لفظ کو حذف کردینا جائز نہ ہوتا ‘ جیسا کہ نماز میں یا تلاوت کے وقت یہ آیت پڑھی جاتی ہے تو لفظ ” قل “ ضرور پڑھا جاتا تھا اور رسول اللہ بھی ضرور ہی پڑھتے تھے۔
ہمارے علماء اپنے قول کے استدلال میں حضرت عمرو کی روایت پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو لکھ کر بھیجا تھا کہ قرآن کو بجز پاک آدمی کے اور کوئی نہ چھوئے۔ (رواہ الدارقطنی و رواہ الحاکم فی المعرفۃ والبیہقی فی الخلافیات)
طبرانی نے حضرت حکیم بن حزام کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ حکیم کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کو بھیجا اور فرمایا تو قرآن کو اس حالت میں چھونا جب تو پاک ہو۔ یہ روایت صرف سوید بن حاتم کی سند سے آئی ہے اور سوید ضعیف ہے۔ اس موضوع کی حدیث حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے مرفوع بھی آئی ہے جس کو دارقطنی اور طبرانی نے بیان کیا ہے اور اس کی سند میں کوئی خرابی نہیں ہے۔
مسئلہ اگر غلاف اور جز دان قرآن سے علیحدہ ہو (یعنی کتاب کے کور کی طرح چسپاں نہ ہو) تو اس کو پکڑ کر قرآن کا چھونا اور اٹھانا امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جائز ہے۔ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کہتے ہیں جز دان کو پکڑ کر اٹھانا بھی ناجائز ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّہٗ لِقُرْاٰٰنٌ کَرِیْمٌ : اور دوسری جگہ فرمایا ہے : فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ اور تکریم کا تقاضا ہے کہ غلاف کے ساتھ بھی کوئی بےوضو آدمی اس کو ہاتھ نہ لگائے۔ ہم کہتے ہیں کہ تکریم قرآن چاہتی ہے کہ بےوضو قرآن کو نہ چھوا جائے اور مَس کا اطلاق اسی وقت ہوتا ہے جب بغیر غلاف اور جز دان کے چھوا جائے اور بیچ میں کوئی پردہ اور حجاب نہ ہو۔ تکریم اتنی ہی ہونا چاہیے جو شرع سے ثابت ہو ‘ اس سے زیادہ محض تکلف ہے۔
مسئلہ آستین یا دامن سے قرآن کو پکڑنا ‘ بےوضو آدمی کے لیے مکروہ ہے کیونکہ یہ دونوں ہاتھ کے تابع ہیں۔
جس سکّے پر قرآن کی کوئی سورة لکھی ہو اسکو بغیر ہمیانی یا بٹوے کے چھونا ناجائز ہے کیونکہ جس پر قرآن لکھا جائے وہ مصحف ہوجاتا ہے
مسئلہ اس آیت سے بدرجہ اولیٰ دلالتِ نص سے ثابت ہوتا ہے کہ جُنُب کے لیے قرآن پڑھنا جائز نہیں۔ اسی پر اجماع علماء ہے کیونکہ مصحف اس کو کہتے ہیں جس پر وہ نقوش و حروف لکھے ہوئے ہوں جو قرآن کے الفاظ پر دلالت کر رہے ہوں اور جب نقوش اور حروف کو بغیر طہارت کے چھونا ناجائز ہے تو الفاظ قرآن زبان پر لانا (اس شخص کے لیے جو طاہر نہ ہو) بدرجۂ اولیٰ ناجائز ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) :‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک حائضہ اور نفساء کا حکم جنت کی طرح ہے۔ امام مالک (رح) کے متعلق دو روایتیں آئیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق امام مالک (رح) کا قول یہ ہے کہ تھوڑی مختصر آیات حائضہ اور نفساء پڑھ سکتی ہے ‘ دوسری روایت جو امام مالک (رح) کے بیشتر شاگردوں نے بیان کی ہے یہ ہے کہ جتنا قرآن چاہے پڑھ سکتی ہے۔ داؤد ظاہر کا بھی یہی قول ہے۔ ہم نے جو اوپر دلیل ذکر کی ہے اس کی روشنی میں داؤد وغیرہ کا یہ مسلک غلط ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ حائضہ قرآن کی کوئی چیز (یعنی کوئی آیت) پڑھے نہ جنابت والا۔ (رواہ الدارقطنی والترمذی و ابن ماجہ) اس حدیث کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ جو ضعیف ہے۔ بعض نے اس کو قوی کہا ہے ‘ اس کی متابعت مغیرہ بن عبدالرحمن اور ابو معشر بن موسیٰ بن عقبہ نے کی ہے۔ ابن جوزی نے مغیرہ کو ضعیف کہا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا : ابن جوزی سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے مغیرہ بن عبدالرحمن کو ضعیف کہا ہے۔ مغیرہ ثقہ تھے۔ ہاں ! مغیرہ کے طریق سند میں عبدالملک بن مسلم راوی ضعیف ہے۔ رہا ابومعشر تو وہ خود بھی ضعیف ہے اور ابو معشر کے طریق سند میں ایک راوی متہم ہے۔
ابومعشر کی روایت کا ایک شاہد ہے جس نے حضرت جابر کی روایت سے حدیث نقل کی ہے۔ دارقطنی نے اس کو مرفوعاً بیان کیا ہے ‘ اس کی روایت میں ایک راوی محمد بن فضل ہے ‘ جو متروک ہے۔
مسئلہ قیاس ظاہر چاہتا ہے کہ بےوضو آدمی کے لیے بھی قرآن پڑھنا ناجائز ہو (ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ بےوضو قرآن کو چھو نہیں سکتا اور جب نقوش و حروف کو چھو نہیں سکتا تو قرآن کے الفاظ کو زبان پر کیسے لاسکتا ہے) لیکن استحسان نے بےوضو کے لیے قرآن کی تلاوت کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ بےوضو ہونے کا اثر منہ کے اندر نہیں پہنچتا ‘ اسی لیے وضو میں کلی کرنا واجب نہیں ہے ‘ ہاں ! جنابت کا اثر منہ کے اندر تک پہنچتا ہے ‘ اس لیے غسل جنابت میں کلی کرنی واجب ہے۔
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ میں ایک رات اپنی خالہ امّ المؤمنین حضرت میمونہ ؓ کے گھر رہا۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی بی بی تو بستر کے طول میں سوئے اور میں عرض میں سو گیا۔ جب کچھ کم و بیش آدھی رات ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوگئے اور اٹھ بیٹھے۔ اوّل آپ ﷺ نے چہرۂ مبارک سے نیند کا اثر (ہاتھوں سے) مل کر دور کیا۔ پھر سورة آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں ‘ اس کے بعد کھڑے ہو کر ایک معلّق مشکیزہ (کا دہانہ) کھول کر اس سے وضوء کیا ‘ الخ۔ (متفق علیہ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغیر وضوء کے تلاوت آیات جائز ہے۔ حضرت علی ؓ بن ابی طالب کی حدیث ہے کہ سوائے جنابت کے رسول اللہ ﷺ کو تلاوت قرآن سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی۔
(رواہ احمد و ابن خزیمہ و اصحاب السنن والحاکم و ابن الجارود و ابن السکن و عبدالحق و البغوی فی شرح السنۃ و صححہ الترمذی)
مسئلہ بغوی نے لکھا ہے کہ محمد بن فضل نے کلبی کا قول نقل کیا کہ مطھرون سے مراد ہیں موحد۔
میں کہتا ہوں صوفیہ کی اصطلاح میں موحد اس شخص کو کہتے ہیں جس کا مقصود سوائے اللہ کے اور کوئی نہ ہو۔ حضرت مجدد نے فرمایا : جو تیرا مقصود ہے ‘ وہی تیرا معبود ہے کیونکہ مقصود حاصل کرنے کے لیے آدمی ہر ذلّت ‘ مشقت اور فروتنی کو برداشت کرتا ہے اور تعبد کا یہی معنی ہے (عبادت کہتے ہیں انتہائی فروتنی اور غایت تضرع کو) ۔ (بیضاوی) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تک کسی کی خواہشات اس (دین) کے تابع نہ ہوجائیں جو میں لایا ہوں اس وقت تک وہ مؤمن نہیں ہوسکتا۔ (رواہ النووی فی الاربعین)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ یہودیوں اور عیسائیوں کو قرآن پڑھنے کی اجازت دینے سے منع کرتے تھے۔
فراء نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی لذت اسی کو ملے گی جو اس پر ایمان لائے گا۔ اسی کی تائید میں حضرت مجدد نے فرمایا کہ نفس کو فنا کرنے اور بری خصلتوں سے پاک ہوجانے کے بغیر صوفی کو قرآن کی برکات حاصل نہیں ہوتیں۔ فنائے نفس سے پہلے قراءت قرآن کا شمار نیکیوں کے اعمال میں ضرور ہوتا ہے لیکن نفس و نفسانیات کے فناء اور آثار نفس کے بعد درجات قرب کی طرف ترقی قراءت ِ قرآن سے وابستہ ہے۔ اس زندگی میں بھی اور آخرت میں جنت کے اندر داخلہ کے بعد بھی جیسا کہ آیت : وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَ میں آیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صاحب قرآن سے کہا جاے گا قرآن پڑھ اور چڑھتا چلا جا اور ترتیل کے ساتھ پڑھ جیسا تو دنیا میں پڑھتا تھا ‘ تیرا درجہ اس آخری آیت کے پاس ہوگا جو تو پڑے گا۔ (رواہ الترمذی و احمد و ابوداؤد والنسائی من حدیث عبداللہ بن عمر ؓ
Ayah 56:80یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔
تنزیل بمعنی منزل ہے۔ مصدر بمعنی اسم مفعول۔