Ayah 54:41ولقد جاء ال فرعون النذر
” اور فرعون کے ساتھیوں کے پاس بھی ڈرانے کی بہت سی چیزیں پہنچیں۔ ان لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ سو ہم نے زبردست قدرت والے کی پکڑ کی طرح ان کو دھر پکڑا۔ “
النذُر : سے مراد ہیں حضرت موسیٰ ‘ حضرت ہارون اور ان کے ساتھی۔ بعض علماء کے نزدیک وہ معجزات مراد ہیں جو فرعون اور فرعونیوں کے ڈرانے کے لیے حضرت موسیٰ نے پیش کیے تھے۔ صرف آل فرعون کا ذکر کیا ‘ فرعون کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ تو معلوم ہی ہے کہ اصل فرعون ہی تھا ‘ اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔
اٰیات : سے مراد ہیں حضرت موسیٰ پر نازل شدہ نو احکام۔ حضرت صفوان بن عسال راوی ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا : چلو اس نبی کے پاس چلیں۔ ساتھی نے کہا : ارے نبی نہ کہو اگر وہ سن پائے گا (کہ تم نے بھی اس کو نبی کہا ہے) تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ غرض دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تسع آیات بینات (نو واضح احکام) کے متعلق سوال کیا (کہ وہ نو احکام کون سے تھے ؟ ) حضور ﷺ نے فرمایا : (نو احکام یہ تھے) کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ قرار دو ‘ چوری نہ کرو ‘ زنا نہ کرو۔ جس کو قتل کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو۔ کسی بےقصور کو حاکم کے پاس قتل کرانے کے لیے نہ لے جاؤ ‘ جادو نہ کرو ‘ سود نہ کھاؤ ‘ کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ۔ جہاد کے معرکہ سے بھاگنے کے لیے پشت نہ پھیرو اور اے یہودیو ! (ایک حکم) تمہارے لیے خاص طور پر یہ تھا کہ ہفتہ کے دن (کی حرمت) میں حد سے تجاوز نہ کرو (یعنی ہفتہ کے دن کی حرمت قائم رکھو۔ اس روز دنیوی کاروبار نہ کرو) یہ سنتے ہی دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پاؤں چوم لیے اور بولے : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے (سچے) نبی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر میرا اتباع کرنے سے تمہارے لیے کیا مانع ہے ؟ کہنے لگے : حضرت داؤد نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ (اے میرے ربّ ) میری ہی نسل میں سے ہمیشہ نبی ہوتا رہے (اور حضرت داؤد کی دعا کا قبول ہونا یقینی ہے) اور ہم کو یہ ڈر ہے کہ اگر ہم آپ ﷺ کا اتباع کریں گے تو یہودی ہم کو مار ڈالیں گے۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی والنسائی)
Ayah 54:42کذبوا بایتنا کلھا فاخذنھم اخذ عزیز مقتدر .
فَآخَذْنٰھُمْ : یعنی عذاب میں ہم نے ان کو دھر پکڑا ‘ دریا میں غرق کردیا ‘ پھر دوزخ میں داخل کردیا۔
اَخْذَ عَزِیْزٍ : یعنی ایسے غالب کی سی پکڑ جو کسی سے مغلوب نہ ہو۔
مُّقْتَدِرٍ : یعنی ایسا غالب جو انتقام لینے پر قادر ہو ‘ کوئی شخص اور کوئی چیز اس کو انتقام سے نہ روک سکے۔
Ayah 54:43اکفارکم خیر من اولئکم ام لکم براۃ فی الزبر ام یقولون نحن جمیع منتصر سیھزم الجمع و یولون الدبر . ” کیا تم میں ان کے کافران (گزشتہ کافروں) سے کچھ بہتر ہیں یا تمہارے لیے (آسمانی)
کتابوں میں کوئی معافی (آگئی) ہے یا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت ایسی ہے جو غالب ہی رہیں گے۔ عنقریب ان کی یہ جماعت شکست کھائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے گی۔ “
اَکُفَّارُکُمْ : یعنی اے مسلمانو ! کیا قبیلہ قریش کے تمہارے یہ کافر۔
خَیْرٌ مِّنْ اُوْلٰٓءِکُمْ : یعنی قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود ‘ قوم لوط اور آل فرعون سے قوّت اور تعداد یا عند اللہ مرتبے اور دین میں بہتر ہیں۔ سوال انکاری ہے یعنی یہ لوگ ان سے بہتر نہیں ہیں پھر جو عذاب اقوام مذکورہ پر نازل ہوا اس سے یہ لوگ کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اَمْ لَکُمْ بَرَآءَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ : یعنی اے اہل مکہ ! کیا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے عذاب سے امان لکھی ہوئی ہے کہ تم میں کوئی اگر کفر اور پیغمبروں کی تکذیب بھی کرے گا تب بھی اس کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔
Ayah 54:44نَحْنُ جَمِیْعٌ : ہمارا جتھا ہے یا ہمارا امر اجتماعی ہے۔
مُنْتَصِرٌ : یعنی مضبوط ‘ محفوظ ہیں کوئی ہم تک پہنچنے کا ارادہ بھی نہیں کرسکتا یا دشمنوں سے ہم انتقام لیتے اور غالب آتے ہیں ‘ کوئی ہم پر غالب نہیں آسکتا یا یہ مطلب ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں چونکہ لفظ جمیع واحد تھا اس لیے اس کی صفت منتصر بصیغۂ واحد ذکر کی ‘ اس کے علاوہ آیات کو جن الفاظ پر ختم کیا گیا ہے اس کا تقاضا بھی یہی تھا۔
ابن جریر نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کافروں نے بدر کے دن نحن جمیع منتصر کہا تھا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
بخاری نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ بدر (کی لڑائی) کے دن رسول اللہ ﷺ خیمہ میں تھے۔ آپ ﷺ نے (دعا کی اور) کہا : اے اللہ ! میں تجھے تیرے عہد اور وعدے کا واسطہ دیتا ہوں اگر تیری مشیت یہی ہے کہ (تیری عبادت نہ کی جائے تو) آج کے بعد تیری عبادت نہیں کی جائے گی (یعنی مسلمانوں کو شکست ہوگئی تو تیری عبادت کرنے والا باقی ہی نہیں رہے گا) حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے اپنے رب (سے مانگنے) پر بہت اصرار کرلیا اب بس کیجئے (اتنا ہی کافی ہے) اس کے بعد حضور ﷺ زرہ پہنے اچھلتے ہوئے :
Ayah 54:45سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوْلُّوْنَ الدُّبُرَ : کہتے ہوئے (خیمہ سے) برآمد ہوئے۔ مجھے اس وقت معلوم نہ ہوا کہ اس سے آپ ﷺ کی مراد کون سی جماعت تھی (مسلمانوں کی یا کافروں کی) بغوی نے اس کلام کو سعید بن مسیب کا قول قرار دیا ہے۔ سعید نے کہا تھا میں نے یہ بات عمر ؓ سے سنی تھی۔ عبدالرزاق ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے اس روایت کو مرسل عکرمہ کہا ہے۔ طبرانی نے بھی الاوسط میں اس کو نقل کیا ہے۔
Ayah 54:46بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر .
” بلکہ قیامت ان کیلئے (اصل) وعدہ (عذاب) ہے اور قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے۔ “
بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ : یعنی ان سب کے عذاب پانے کا مقرر وقت تو قیامت کا دن ہے۔ دنیا میں جو عذاب ان کو محیط ہوا ہے وہ تو آخرت کے عذاب کا پیش خیمہ ہے گویا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں یہ عذاب ہی نہیں ہے۔ اس لیے بعض کافروں پر دنیوی عذاب نہیں آتا باوجودیکہ وہ مستحق عذاب ہوتے ہیں مگر دنیوی عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔
اَدْھٰی : بہت سخت مصیبت ‘ جس کو کسی طرح دفع کرنا ممکن نہ ہو۔
اَمَرُّ : یعنی عذاب دنیا سے زیادہ بدمزہ اور تلخ۔
Ayah 54:47ان المجرمین فی ضلل و سعر
” بلاشبہ یہ مجرم بڑی غلطی اور بےعقلی میں ہیں
اَلْمُجْرِمِیْنَ : سے مراد ہیں عام کافر۔ پہلے صرف کفار مکہ کا ذکر کیا گیا تھا اس کے بعد اس آیت میں تمام کافروں کی حالت بیان فرما دی۔
فِیْ ضَلٰلٍ : یعنی دنیا میں حق سے بھٹکے ہوئے۔
وَّسُعُرٍ : یعنی آخرت میں (بھڑکتی) آگ کے اندر۔ بعض اہل تفسیر نے فی ضلال کی تشریح میں کہا : ” آخرت میں جنت کے راستہ سے کٹے ہوئے۔ “
وَّسُعْرٍ : اور بھڑکتی آگ میں داخل۔ (کذا قال الحسن بن فضل) قتادہ نے کہا : دُکھ اور عذاب یعنی ہے فی ضلال سے مراد دکھ اور سعر سے مراد عذاب۔ (سبب سے مسبب مراد ہے) ۔
Ayah 54:48یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذوا قوامس سقر .
جس روز منہ کے بل جہنم کے اندر ان کو گھسیٹا جائے گا (اور کہا جائے گا) آگ لگنے کا مزہ چکھو۔ “
مس سقر : یعنی آگ کی گرمی اور اس کے دکھ کا مزہ چکھو۔ مِسّ (چھونا اور لکچانا) تکلیف کا سبب ہے۔
Ayah 54:49انا کل شی خلقنہ بقدر . ” ہم نے ہر چیز کو اندازہ سے پیدا کیا۔ “
اِنَّا کُلَّ شَیْ ءٍ : تقدیر کے مسئلہ میں قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مباحثہ کیا تھا۔ ان کی تردید کے لیے یہ آیت بطور جملہ معترضہ ذکر کردی گئی۔ مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ قریشی مشرک تقدیر کے مسئلہ میں جھگڑا کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تھے۔ اس وقت یہ آیت : اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلاَلٍ وَّسُعُرٍ سے اِنَّا کُلَّ شَیْ ءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ : تک نازل ہوئی۔ قدر سے مراد ہے تخلیق سے پہلے اندازہ کرلینا یا قدر سے مراد ہے امر مقدر جو لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور ہر چیز کی پیدائش سے پہلے اللہ کو اس کا علم ہے۔ وہی اس شئے کی حالت اور (پیدائش کے) وقت سے واقف ہے۔ حسن نے کہا : قدر خداوندی سے مراد ہے ہر چیز کا وہ خاص اندازۂ تخلیق جو اللہ کی حکمت مقتضاء ہے اور ویسا ہی اس چیز کو ہونا چاہیے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ میں نے سنا : رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ نے تمام مخلوق کے اندازے لکھ دیئے تھے۔ اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ (رواہ مسلم)
بغوی نے اپنی سند سے طاؤس بن مسلم کا بیان نقل کیا ہے۔ طاؤس بن مسلم یمنی نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابی ایسے پائے جو کہہ رہے تھے کہ ہر چیز اندازہ کے مطابق ہے ‘ یہاں تک کہ نادانی اور دانائی بھی (حسب تقدیر خداوندی ہے) ۔
حضرت علی ؓ بن ابی طالب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تک چار باتوں پر ایمان نہ رکھتا ہو ‘ کوئی بندہ مؤمن نہیں ہوسکتا :
1) اس بات کی شہادت کے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
2) اور میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں ‘ اللہ نے مجھے برحق بھیجا ہے (یعنی سچا دین اور سچی شریعت دے کر بھیجا ہے۔ )
3) اور اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ مرنے کے بعد (دوبارہ) زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
4) اور تقدیر پر ایمان رکھتا ہو۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ)
حضرت ابن عمر کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے میری امت کے جو لوگ تقدیر کے منکر ہوں گے ان پر خسف (زمین میں دھنسا دینے) اور مسخ (صورتیں اور شکلیں بگاڑ دینے) کا عذاب ہوگا۔ (رواہ ابوداؤد و روی الترمذی نحوہ)
حضرت ابن عمر ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فرقہ) قدریہ (جو تقدیر خداوندی کا منکر ہے اور انسان کے اچھے برے افعال کا خالق انسان ہی کو جانتا ہے) اس امت کے مجوسی ہیں (مجوسی دو خالق مانتے ہیں ایک شر کا خالق جس کو اہرمن کہتے ہیں ‘ دوسرا خیر کا خالق جس کو یزدان کہتے ہیں) اگر وہ بیمار ہوں تو انکی عیادت مت کرو اور مرجائیں تو انکے جنازوں میں شرکت مت کرو۔ (رواہ احمد و ابوداؤد)
حضرت ابو خرامہ کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم (بیماری وغیرہ کے لیے) کچھ افسوں پڑھتے ہیں۔ دواء کے ذریعہ سے علاج بھی کرتے ہیں اور بچاؤ کی تدبیر (یعنی پرہیز) بھی کرتے ہیں ‘ کیا یہ چیزیں تقدیر خداوندی کو پلٹ سکتی ہیں ؟ حضور ؓ نے فرمایا : یہ بھی تقدیر (کا جزء) ہی ہیں۔ (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ)
اس موضوع کی احادیث بکثرت آئی ہیں۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد آنے والے علماء اہل سنت کا اس پر اتفاق بھی ہے۔
Ayah 54:50وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر
” اور ہمارا حکم یکبارگی ایسا ہوجائے گا ‘ جیسے آنکھوں کا جھپکانا
وَمَآ اَمْرُنَآ : یعنی کسی چیز کو پیدا کرنے اور معدوم کرنے اور دوبارہ موجود کرنے کا حکم۔
اِلاَّ وَاحِدَۃٌ : یعنی بغیر دشواری کے یکدم ایک فعل ہے خواہ موجود کرنا ہو یا معدوم کرنا یا یہ مطلب ہے کہ ہمارا حکم بس ایک کلمہ ہے پیدا کرنے کے لیے لفظ کُنْ (ہو جا) اور معدوم کرنے کے لیے ایک سخت آواز۔
کَلَمْحٍ بالْبَصَرِ : یعنی تیزی اور جلدی کے اعتبار سے بس پلک جھپکنے کی طرح ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تفسیر اس طرح کی : قیامت آجانے کا ہمارا حکم سرعت میں ایسا ہوگا جیسے پلک جھپکنا۔ (رواہ الکلبی) اس مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح بیان کیا ہے : وَمَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ الاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ھُوَ اَقْرَبُ : (حکم قیامت اتنا تیز ہوگا جیسے پلک جھپکنا یا اس سے بھی تیز) ۔
Ayah 54:51ولقد اھلکنا اشیا عکم فھل من مد کر .
اور ہم تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں ‘ سو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔ “
اَشْیَاعَکُمْ : اہل مکہ کو خطاب۔ اشیاع ‘ شیع کی جمع ہے اور شیع کے معنی ہے مثل۔ (کذا فی القاموس) یعنی تم سے پہلے لوگ جو کفر میں تمہاری طرح تھے ہم نے ان کو غارت کردیا۔
فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ : سو کیا (تم میں سے) کوئی نصیحت پذیر ہے جو اقوام ماضیہ کے حالات سے عبرت اندوز ہو۔ استفہام (طلب جواب کے لیے نہیں ہے بلکہ اس) سے مقصود نصیحت اندوزی اور وعظ پذیری پر برانگیختہ اور آمادہ کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جیسے گزشتہ کافروں کے حالات سے عبرت حاصل کرو اور نصیحت اندوز ہو۔
Ayah 54:52و کل شیء فعلوہ فی الزبر
” اور جو کچھ بھی یہ لوگ کرتے ہیں سب اعمالناموں میں (درج) ہے
یعنی اہل تکلیف جو کچھ کرتے ہیں اس کا اندراج کراماً کاتبین کے لکھے ہوئے اعمالناموں میں ہوتا ہے۔ کوئی چھوٹی ‘ بڑی حرکت تحریر ہونے سے نہیں رہ جاتی۔ اعمالناموں میں سب کچھ لکھ لیا جاتا ہے اور قیامت کے دن اسی کے مطابق سزا و جزاء ہوگی۔
یا الزبر سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی ہر فعل و عمل لوح محفوظ میں لکھا ہے۔
Ayah 54:53وکل صغیر و کبیر مستطر .
اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ “
کُلُّ صَغِیْرٍ وَّ کَبِیْرٍ : یعنی مکلفین کا ہر چھوٹا بڑا عمل یا تمام چھوٹی بڑی مخلوق اور اس کی مدت زندگی۔
مُسْتَطَرٌ : اعمالنامے لکھنے والے فرشتوں کے صحیفوں میں یا لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔ یہ جملہ سابقہ جملہ کی تاکید و تائید ہے یا اوّل جملہ میں ملائکہ کے اعمالناموں میں اندراج ہونا اور اس جملہ میں لوح محفوظ میں مکتوب ہونا مراد ہے۔
Ayah 54:54ان المتقین فی جنت و نھر
’ بیشک پرہیزگار لوگ باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔
نَھَرٍ : اسم جنس ہے ‘ اس سے مراد ہیں جنت کی نہریں ‘ دودھ کی ‘ شہد کی ‘ شراب کی اور پانی کی۔ ضحاک نے نہر کا ترجمہ کیا روشنی اور وسعت ‘ روشنی ہی کی وجہ سے دن کو نہار کہا جاتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اعرج کی قراءت میں نُھُر آیا ہے۔ نُھُر ‘ نہار کی جمع ہے یعنی متقی ہمیشہ دن کی روشنی میں رہیں گے ‘ رات ان کے لیے نہیں ہوگی۔
Ayah 54:55فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر .
’ ایک عمدہ مقام میں قدرت والے بادشاہ کے قرب میں۔ “
مَقْعَدِ صِدْقٍ : یعنی ایسا مقام جہاں نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی ‘ نہ گناہ (سچائی کا مقام) اس سے مراد جنت ہے یا مقعد صدق سے پسندیدہ مقام مراد ہے۔ جوہری نے لکھا ہے جو فعل اعلیٰ ہو ‘ نہ ظاہر میں اس کے اندر کوئی خرابی ہو نہ باطن میں کوئی نقص ‘ ایسے فعل کو صدق کہا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات میں صِدْق سے یہی معنی مراد ہیں : فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ. لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ. اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ ۔ بغوی نے لکھا ہے امام جعفر صادق نے فرمایا : آیت میں اللہ نے مقام کی صفت صدق کے لفظ سے کی ہے۔ پس اس مقام پر اہل صدق ہی بیٹھیں گے۔
عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ : یعنی اللہ کے پاس جو تمام چیزوں کا مالک اور حکمران اور ہر شئے پر قادر ہے کوئی چیز اس کی قدرت سے خارج نہیں۔ قرب خداوندی بےکیف ہے۔ دانش و فہم کی رسائی سے باہر ہے۔ ہاں ! اگر اللہ کسی کا پردۂ بصیرت ہٹا دے تو اس کو قرب خداوندی کا وجدان ہوجاتا ہے۔ واللہ اعلم