Ayah 53:39وان لیس للانسان الا ماسعٰی . اور یہ کہ (ایمان کے بارے میں) انسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی۔
وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاَنْسَانِ..... یعنی ہر انسان کو اس کی کوشش کا معاوضہ ملے گا۔ نہ دوسرے کے گناہ کی سزا اس کو ملے گی ‘ نہ دوسرے کی نیکی کا ثواب اس کو حاصل ہوگا۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : ” کسی کو دوسرے کی کی ہوئی نیکی کا ثواب نہیں ملے گا ‘ اس قول کی دلیل یہی آیت ہے۔ “ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک ‘ امام احمد اور تمام علمائے سلف و خلف (رحمہم اللہ تعالیٰ ) کا قول امام شافعی کے قول کے خلاف ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ آیت : وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاَنْسَانِ..... دوسری آیت : اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتُھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ.... سے منسوخ ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ آیت مذکورہ کا حکم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ کی امتوں کے لیے مخصوص تھا۔ امت اسلامیہ کو تو اپنے کئے ہوئے نیک اعمال کا بھی ثواب ملے گا اور ان نیکیوں کا بھی جو انکے لیے دوسرے کریں۔ ربیع بن انس نے کہا : آیت میں انسان سے مراد کافر انسان ہے ‘ یہ قول غلط ہے۔ کافر کو تو (آخرت میں) اپنی کی ہوئی نیکیوں کا ثواب بھی نہیں ملیگا۔
بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ لِلْاَنْسَان میں لام بمعنی علیٰ ہے۔ یعنی انسان کے لیے صرف اسی کا برا عمل ضرر رساں ہوگا۔ اس مطلب پر یہ آیت سابق آیت کی تفسیر ہوجائے گی اور عطف تفسیری ہوگا۔
جمہور کے نزدیک دوسروں کے اچھے اعمال کا ثواب بھی انسان کو پہنچ سکتا ہے۔ اس کی دلیل اجماع امت بھی ہے اور مندرجہ ذیل احادیث بھی۔
ابو نعیم نے لکھا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا کہ اللہ جب اپنے مؤمن بندے کی روح قبض کرلیتا ہے تو دو فرشتے اس کو آسمان تک چڑھا کرلے جاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں : اے ہمارے ربّ ! تو نے ہم کو اس مؤمن کے اعمال لکھنے کا ذمہ دار بنایا تھا۔ اب تو نے اس کو اپنے پاس بلا لیا۔ ہم کو اجازت عطا فرما کہ ہم زمین میں جا کر رہیں۔ اللہ فرماتا ہے : میری زمین تو میری مخلوق سے بھری پڑی ہے جو میری پاکی بیان کرتی ہے۔ اب تم دونوں جا کر میرے (اس) بندے کی قبر پر قیام کرو اور میری تسبیح و تہلیل اور تکبیر میں قیامت تک مشغول رہو اور اس کا ثواب میرے (اس) بندے کے لیے لکھ دو ۔
مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ‘ مگر تین چیزیں (ہیں کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے) صدقہ جاریہ۔ وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (مثلاً دینیات کا درس ‘ تصنیفات وغیرہ) یا صالح اولاد جو اس (میت) کے لیے دعا کرے۔
اسی طرح امام احمد نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔ صدقۂ جاریہ اور علم نافع اگرچہ انسان کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے لیکن نیک اولاد کی دعا میں انسان کے اپنے عمل کو کوئی دخل نہیں اس کے باوجود اس دعا کا نتیجہ اس کو ملتا ہے۔
طبرانی (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید ؓ کی مرفوع روایت بیان کی ہے کہ اللہ جنت کے اندر نیک بندے کے درجہ کو اونچا کر دے گا۔ بندہ عرض کرے گا : اے میرے ربّ ! میرے اس درجہ کی بلندی کیسے ہوئی ؟ اللہ فرمائے گا : تیرے بیٹے نے تیرے لیے مغفرت کی دعا کی تھی۔ (اس کی وجہ سے) تیرا درجہ بلند کردیا گیا۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبر کے اندر مردہ ایسا ہوتا ہے جیسا کوئی ڈوبتا آدمی ہوتا ہے۔ باپ یا ماں یا اولاد یا کسی معتمد دوست کی دعا کا انتظار کرتا رہتا ہے کہ کسی کی دعا اس کو پہنچ جائے۔ جب دعا اس کو پہنچ جاتی ہے تو وہ دنیا ومافیہا سے اس کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور زمین کے باشندوں کی دعا سے اللہ قبر والوں کے لیے پہاڑوں جیسا (ثواب) قبروں کے اندر پہنچا دیتا ہے۔ مردوں کے لیے زندوں کا ہدیہ استغفار ہے۔ (رواہ البیہقی والدیلمی)
طبرانی نے الاوسط میں مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : میری امت ‘ مرحومہ امت ہے۔ گناہ اپنے ساتھ لے کر قبروں میں جائے گی اور قبروں سے بےگناہ ہو کر نکلے گی ‘ مؤمن اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے۔ جس کی وجہ سے وہ گناہوں سے خالص (پاک) ہوجائے گی۔
سیوطی کا قول ہے کہ متعدد لوگوں نے اس بات پر اجماع کا ہونا بیان کیا ہے کہ (زندوں کی) دعا سے مردوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَالَّذِیْنَ جَآءُ وْا مِنْ بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا باِلْاِیْمَانِ ۔
مَیں کہتا ہوں ‘ یہ امر ظاہر ہے کہ زندوں کی دعا سے مردوں اور زندوں ‘ دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور یہ بات صرف اسی امت کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) نے دعا کی تھی : رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مَؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آذر سے فرمایا تھا : سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْٓاِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا : لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللہ لَکُمْ ۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے باپ سے درخواست کی تھی : یٰٓاَ اَبَتِ اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِءِیْنَ. قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُلَکُمْ رَبِّیْ اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۔
حضرت موسیٰ نے کہا تھا : رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ ۔
صحیح قول یہ ہے کہ صحف ابراہیم و موسیٰ میں جو لَّیْسَ لِلْاَنْسَان الاَّ مَا سَعٰی کا حکم تھا ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ نماز ‘ روزہ ‘ صدقہ ‘ حج اور تمام نیکیوں کا ثواب صرف کرنے والے کو ملے گا ‘ دوسرے کو نہیں پہنچے گا۔ لیکن یہ حکم امت موسیٰ و ابراہیم کے لیے مخصوص تھا ‘ امت اسلامیہ مرحومہ کے لیے اس حکم کو منسوخ کردیا گیا اور آیت : اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ اس کی ناسخ ہے۔
حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میری ماں بغیر کچھ وصیت کیے اچانک مرگئی اور میرا غالب خیال ہے کہ اور وہ بات کرسکتی تو کچھ خیرات کرتی ‘ اب اگر میں اس کی طرف سے کچھ خیرات کروں تو کیا اس کو ثواب پہنچے گا ؟ فرمایا : ” ہاں “۔ (متفق علیہ)
حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ کی غیر حاضری میں ان کی ماں کا انتقال ہوگیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میری ماں کا انتقال ہوگیا۔ میں موجود نہ تھا اگر اس کی طرف سے میں کچھ خیرات کر دوں تو کیا اس کو کچھ فائدہ پہنچے گا ؟ فرمایا : ہاں۔ سعد ؓ نے عرض کیا : تو میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا باغ میری ماں کی طرف سے خیرات ہے۔ (رواہ البخاری)
امام احمد (رح) اور چاروں اصحاب السنن نے لکھا ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ‘ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ‘ اب اس کے لیے کونسی خیرات سب سے بہتر ہوگی ؟ فرمایا : پانی ........ یہ فرمان سن کر حضرت سعد ؓ نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا : یہ سعد کی ماں کے لیے ہے۔ طبرانی نے صحیح سند سے حضرت انس کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی نفلی خیرات کرے تو ماں ‘ باپ کی طرف سے کرے ‘ اس خیرات کا ثواب اس کے ماں ‘ باپ کو ملے گا اور خود اس کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ دیلمی نے حضرت معاویہ بن جندب کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
حضرت انس کا بیان ہے ‘ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جس گھر میں کوئی مرجائے۔ پھر گھر والے اس کے لیے کچھ خیرات کریں تو جبرئیل ( علیہ السلام) نور کے ایک طباق میں اس کو لے کر میت کی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر کہتے ہیں : اے گہری قبر والے ! یہ تحفہ ہے جو تیرے گھر والوں نے تجھے بھیجا ہے۔ اس کو لے ‘ لے۔ اس طرح وہ مردہ وہ تحفہ لے کر قبر میں جاتا ہے اور خوش ہوتا ہے لیکن اس کے برابر قبر والے جن کو کچھ نہیں بھیجا جاتا وہ غمگین ہوتے ہیں۔ (رواہ طبرانی فی الاوسط)
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے ماں ‘ باپ کی طرف سے حج کرتا ہے۔ اللہ دوزخ سے آزادی اس کے والدین کے لیے لکھ دیتا ہے اور ان کے لیے حج کامل ہوجاتا ہے لیکن حج کرنے والے کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں آتی۔
یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے بڑھ کر صلۂ رحمی یہ ہے کہ ایک رشتہ دار کے مرنے کے بعد (حج کر کے اس) حج (کا ثواب) اس کو قبر میں پہنچائے۔ بیہقی اور اصبہانی نے یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس کی سند میں دو راوی مجہول ہیں۔
ابو عبداللہ ثقفی نے حضرت زید ؓ بن ارقم کی روایت سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ جس کے ماں ‘ باپ نے حج نہ کر پایا ہو اور وہ ماں ‘ باپ کے لیے حج کرلے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا : اس کے ماں ‘ باپ آزاد ہوجائیں گے اور آسمان میں ان کی روحوں کو بشارت دی جائے گی اور اللہ کے ہاں اس کو (ماں ‘ باپ کے ساتھ) نیکی لکھا جائے گا۔
حضرت عقبہ بن عامر راوی ہیں کہ ایک عورت نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا : میری ماں مرچکی ہے ‘ کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ بتا کہ اگر تیری ماں پر کچھ قرض ہو اور تو (اس کی طرف سے) ادا کرے تو کیا اد اہو جائے گا ؟ عورت نے عرض کیا : کیوں نہیں ‘ حضور ﷺ نے اس کو ماں کے لیے حج کرنے کا حکم دے دیا۔ (رواہ الطبرانی)
حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : میرا باپ مرگیا اور حج اسلام (یعنی فرض حج) نہ کر پایا (کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتا ہوں ؟ ) فرمایا : یہ بتا کہ اگر تیرے باپ پر قرض ہو (اور وہ ادا نہ کرسکا ہو تو) کیا تو اس کی طرف سے ادا کر دے گا ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : تو یہ بھی اس پر قرض تھا تو ادا کر دے۔ (رواہ البزار والطبرانی بسند حسن)
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی میت کی طرف سے حج کرے گا اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا میت کو ملے گا (یا میت کو بھی اتنا ہی ثواب پہنچ جائے گا جتنا کرنے والے کو ملے گا) ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
عطاء اور زید بن اسلم کی مرسل روایت ہے کہ ایک شخص نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرا باپ مرچکا ہے ‘ میں (اس کو ثواب پہنچانے کے لیے) اس کی طرف سے غلام آزاد کر دوں ؟ فرمایا : ہاں۔ ابن ابی شیبہ نے یہ دونوں حدیثیں بیان کی ہیں۔
حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سنا ایک شخص کہہ رہا تھا : لبیک عن شبرمۃ (یعنی اس نے احرام حج شبرمہ کیلئے یا شبرمہ کی طرف سے باندھا تھا) فرمایا : شبرمہ کون ؟ اس شخص نے جواب دیا : میرا بھائی یا میرا عزیز ‘ فرمایا : کیا تو اپنا حج کرچکا ہے ؟ اس نے عرض کیا : نہیں ‘ فرمایا : تو پہلے اپنا حج کر پھر شبرمہ کے لیے۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ والدارقطنی والبیہقی) بیہقی نے اسکی سند کو صحیح کہا ہے۔
ابو الشیخ کا بیان ہے کہ حضرت عمرو ؓ بن عاص نے خدمت گرامی میں عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! عاص نے وصیت کی تھی کہ اسکی طرف سے کوئی بردہ آزاد کیا جائے۔ چناچہ ہشام نے اسکے نام پر پچاس بردے آزاد کردیئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ! مسلمانوں کیلئے خیرات کی جاتی ہے اور حج کیا جاتا ہے اور بردے آزاد کیے جاتے ہیں (یعنی کافر کو نہ خیرات کا ثواب پہنچتا ہے ‘ نہ حج کا ‘ نہ غلام آزاد کرنے کا) ۔
حضرت حجاج بن دینار کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نیکی بالائے نیکی (یعنی دوہری نیکی) یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے ساتھ ماں ‘ باپ کے لیے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزے کے ساتھ ان کے لیے بھی روزہ رکھے اور اپنے لیے خیرات کرنے کے ساتھ ان کے لیے بھی خیرات کرے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
حضرت بریدہ ؓ کی حدیث ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ اگر میری ماں پر دو ماہ کے روزے ہوں (اور وہ مرجائے) اور میں اس کی طرف سے رکھ لوں ‘ تو کیا کافی ہوجائے گا ؟ فرمایا : ہاں۔ اس عورت نے عرض کیا : میری ماں نے کبھی حج نہیں کیا ‘ کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ فرمایا : ہاں۔ (رواہ مسلم)
حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص مرجائے اور اس پر روزے ہوں تو اس کا ولی ‘ اس کی طرف سے روزے رکھ لے۔ (متفق علیہ)
حضرت علی ؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ جو شخص قبرستان سے گزرے اور قل ھو اللہ احد گیارہ بار پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو بخش دے ‘ اللہ اس قبرستان کے (تمام) مردوں کی تعداد کے موافق اس کو ثواب عطا فرمائے گا۔ (رواہ ابومحمد السمرقندی)
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قبرستان میں داخل ہو ‘ پھر سورة فاتحہ اور قل ھو اللہ احد اور الہاکم التکاثر پڑھ کر کہے : میں نے جو تیرا کلام پڑھا ‘ اس کا ثواب اس قبرستان کے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو بخش دیاتو اللہ کی بارگاہ میں وہ مردے اس کی شفاعت کریں گے۔ (رواہ ابو القاسم و سعد بن علی)
حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قبرستان میں جائے ‘ پھر سورة یٰسین پڑھے تو اللہ ان مردوں سے عذاب ہلکا کر دے گا اور اس قبرستان کے مردوں کی تعداد کے موافق اس شخص کے لیے نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔
( اخرجہ عبدالعزیز صاحب الخلال بسندہٖ )
سیوطی نے لکھا ہے : دفن کے وقت میت کے سرہانے سورة فاتحہ اور پاؤں کی طرف سورة بقرہ کی آخری آیات پڑھنا وارد ہوا ہے۔ حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت میں آیا ہے لیکن حضرت علاء بن الجلاح کی مرفوع روایت میں پاؤں کی طرف سورة بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات کا پڑھنا آیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے اپنے مردوں پر سورة یٰسین پڑھو۔ قرطبی نے کہا : جمہور کے نزدیک اس کا مطلب ہے مرنے کے وقت سورة یٰسین کا پڑھنا۔ عبدالواحد مقدسی نے کہا : اس کا مطلب ہے قبرستان میں داخل ہونے کے وقت سورة یٰسین پڑھنا۔ محب طبری نے کہا : دونوں حالتوں میں پڑھنا مراد ہے۔
ابن ابی شیبہ نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ آدمی کے مرنے کے بعد (اس کے متعلقین کی طرف سے اس کے لیے) غلاموں کو آزاد کرنا اور حج کرنا اور خیرات کرنا ‘ اس کے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔
ابن سعد نے قاسم بن محمد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے اپنے بھائی عبدالرحمن کے لیے ان کے موروثی غلاموں میں سے ایک غلام کو آزاد کیا۔ آپ کو امید تھی کہ اس کا فائدہ حضرت عبدالرحمن کو مرنے کے بعد پہنچے گا۔
حافظ شمس الدین بن عبدالواحد نے کہا : لوگ ہمیشہ سے ہر شہر میں جمع ہو کر اپنے مردوں کے لیے قرآن پڑھتے رہے ہیں اور کسی نے اس کو ناجائز نہیں قرار دیا تو گویا اس پر اجماع ہوگیا۔
خلالی نے شعبی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ انصار میں جب کوئی شخص مرجاتا تھا تو لوگ اس کی قبر پر آتے جاتے ‘ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ احیاء العلوم میں امام احمد بن حنبل کی روایت سے آیا ہے کہ جب تم قبرستان میں داخل ہو تو سورة فاتحہ اور معوذتین اور قل ھو اللہ احد پڑھا کرو اور اس کا ثواب اس قبرستان کے مردوں کو بخش دیا کرو ‘ تمہارا پڑھنا (یعنی پڑھنے کا ثواب) ان کو پہنچ جائے گا۔
آیت کی توجیہ میں بیضاوی نے لکھا ہے کہ جو شخص حج اور خیرات کرنے کی نیت رکھتا ہو (اور بغیر کیے مرجائے تو وہ توبہ کرنے والے کی طرح ہوتا ہے ‘ متعلقین کا اس کے لیے حج اور خیرات کرنا گویا ایسا ہی ہوجاتا ہے جیسے اس نے خود کیا ہو) بعض علماء نے آیت کی تاویل اس طرح کی ہے کہ مؤمن کا دوسرے کی سعی سے فائدہ اندوز ہونا اس کے ایمان پر مبنی ہے اور ایمان اس کا اپنا فعل ہے ‘ لہٰذا اس کے لیے دوسروں کا کوئی عمل خیر کرنا خود اس کی اپنی سعی کے تابع ہوا۔
Ayah 53:40وان سعیہ سوف یرٰی . اور یہ کہ انسان کی کوشش بہت جلد دیکھی جائے گی۔
یعنی انسان اگر مؤمن ہے تو قیامت کے دن وزن اعمال کے وقت اس کی سعی سامنے آجائے گی اور دیکھ لی جائے گی۔ لیکن کافر کے اعمال اکارت جائیں گے کیونکہ اعمال کے بار آور ہونے کی اوّلین شرط خلوص نیت ہے اور اس کا عمل خیر لوجہ اللہ نہیں ہوتا یا اعمال کے اکارت جانے کی یہ وجہ ہوگی کہ دنیا میں ہی وہ اپنی بھلائیوں کا بدلہ پا چکتا ہے (کوئی نیکی باقی ہی نہیں رہتی) ۔
میں کہتا ہوں اولیٰ یہ ہے کہ اس جگہ سعی کا ترجمہ ارادہ کرنا ‘ کیا جائے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : سَعٰی سَعْیًا : بروزن رعٰی قصد کیا ‘ عمل کیا ‘ چلا ‘ دوڑا ‘ پورا ہوگیا ‘ کمایا۔
بعض محققین نے کہا کہ سعی کا (لغوی) معنی ہے تیز چلنا اور کسی کام کی کوشش کرنے کیلئے اسکا استعمال ہوتا ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان کو وہی ملے گا جسکے لیے اس نے اپنے عمل سے ارادہ کیا ہو (یعنی عمل کی نیت کے موافق عمل کا نتیجہ ہوگا) ایک صحیح حدیث ہے : انما الاعمال بالنیات وان لکل امرء مانوی فمن کانت ھجرتہ الی اللہ و رسولہ فھجرتہ الی اللہ و رسول ومن کانت ھجرتہ الی الدنیا یصیبھا او الی امراء ۃ نکحھا فھجرتہ الی اما ھاجر الیہ . [ متفق علیہ ] اعمال (کا نتیجہ) نیتوں کے مطابق ہوگا ‘ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی ‘ سو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت بیشک اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی مقصد کی طرف ہوگی ‘ جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہوگی۔ (بخاری و مسلم) بصورت مذکورہ آیت کا مطلب بھی اس حدیث کے موافق ہوگا۔ اس مطلب پر یہ لازم نہیں آتا کہ ایک کا عمل دوسرے کے لیے فائدہ بخش نہ ہو۔ دیکھو جنازہ کی نماز اور رسول اللہ ﷺ کے لیے درود پڑھنا واجب ہے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہی ان کو واجب کیا گیا ہے۔
Ayah 53:41ثم یجزاہ الجزاء الاوفی
پھر اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا
ثُمَّ یُجْزَاہُ : یعنی پھر مؤمن کو (اس کی نیکیوں کی) پوری پوری کامل جزا دی جائے گی۔
Ayah 53:42وان الی ربک المنتھی .
اور یہ کہ (سب کو) آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے۔
اَلْمُنْتَھٰی : مصدر ہے ‘ بمعنی انتہاء۔ یہ جملے تمام سابق جملوں کے صحف ابراہیم و صحف موسیٰ میں مندرج تھے۔
بغوی نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰیکی تشریح میں فرمایا : رب (کی ذات وصفات) میں کوئی غور نہیں ‘ یعنی ہر سوچ اور غور کی انتہاء رب پر ہے ‘ وہاں تک پہنچ کر ہر غور و فکر کی رفتار ختم ہوجاتی ہے۔ بغوی کی اس حدیث کا مضمون اس حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مخلوق میں غور کرو ‘ خالق (کی ذات وصفات) میں غور مت کرو کیونکہ خالق کا احاطہ کوئی عقل نہیں کرسکتی۔
ابو الشیخ نے العظمۃ میں اور بغوی نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے ‘ ہر چیز میں غور کرو مگر اللہ کی ذات میں غور نہ کرو کیونکہ ساتویں آسمان سے اوپر اللہ کی کرسی تک سات ہزار نور (کے طبقات) ہیں اور اللہ سب سے بالا ہے۔
میں کہتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی فکر اللہ کی کرسی تک نہیں پہنچ سکتی۔ اللہ کی ذات تک رسائی پانے کا تو ذکر ہی کیا ہے وہ تو سب سے اعلیٰ وبالا ہے۔
ایک اور روایت میں آیا ہے : مخلوق میں غور کرو ‘ خالق میں غور نہ کرو تم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
ابو نعیم نے الحلیہ میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے اللہ کی مخلوق میں غور کرو اللہ (کی ذات وصفات) میں غور مت کرو۔
ابو الشیخ نے حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے لکھا ہے ‘ اللہ کی مخلوق پر غور کرو مگر اللہ پر غور نہ کرو۔
میں کہتا ہوں فکر و غور کے معنی ہیں کسی نامعلوم نتیجہ کو معلوم کرنے کے لیے مقدمات (اور مبادی) کو مرتب کرنا اور ظاہر ہے کہ صرف اللہ کی آیات ‘ نشانات اور آثار صنعت و حکمت میں ترتیب کا تصوّر ممکن ہے اور مطلوب اللہ کی ذات ہے ‘ یہاں پہنچ کر ہر غور و فکر ختم ہوجاتا ہے۔ (آثار و آیات کی ترتیب سے فکر آگے نہیں بڑھتی) کیونکہ اللہ وہ حقیقت صمدیہ ہے جس کی گہرائی تک غور و خوض کی رسائی نہیں۔
خوض فی ذات اللہ کی ممانعت سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ ذات الٰہیہ تک بےکیف رسائی بھی ناممکن ہے۔ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰی کے الفاظ تو دلالت کر رہے ہیں کہ انتہاء سیر ذات تک ہے۔ صوفیہ کی اصطلاح میں سیر فی اللہ کا معنی ہے صفات شیون اور اعتبارات کی سیر۔ ذات محض جس کو لا تعین سے تعبیر کیا جاتا ہے مراد نہیں ہوتی۔ اکثر اہل تفسیر نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ مخلوق کی انتہاء اور آخری باز گشت اللہ ہی کی طرف ہے۔ بعض نے کہا : ابتداء احسان بھی اللہ ہی کی جانب سے ہے (اسی نے ابتدائی تخلیق کی) اور اسی سے آخری امید ہے (آخری امید گاہ خلائق وہی ہے) ۔
Ayah 53:43وانہ ھو اضحک وابکی . اور یہ کہ وہی ہنستا اور رلاتا ہے۔
یعنی بندے جو اعمال کرتے ہیں ‘ ان کا خالق اللہ ہی ہے ‘ یہاں تک کہ ہنسی اور گریہ بھی اسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ عطاء بن ابی مسلم نے کہا : یعنی وہی خوش کرتا ہے اور وہی غمگین کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا : یعنی وہی جنت کے اندر اہل جنت کو ہنسائے گا اور وہی دوزخ کے اندر دوزخیوں کو رلائے گا۔
ضحاک نے کہا : وہی زمین کو سبزہ پیدا کر کے ہنساتا ہے اور وہی بصورت بارش آسمان کو رلاتا ہے۔ بغوی نے حضرت جابر ؓ بن سمرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ صحابہ کرام ؓ (رسول اللہ ﷺ کے پاس) بیٹھ کر باہم شعر خوانی کرتے اور جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرتے اور ہنستے تھے۔ حضور ﷺ بھی ان کے ساتھ مسکرا دیتے تھے۔
مسلم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : لوگ باتیں کرتے تھے۔ جاہلیت کی کسی بات کا ذکر شروع کردیتے تھے۔ پھر ہنستے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی مسکرا دیتے تھے۔
ترمذی کی روایت ہے وہ باہم شعر خوانی کرتے تھے۔
بغوی نے شرح السنۃ میں قتادہ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ سے دریافت کیا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہنستے تھے ؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : ہاں ! باوجودیکہ ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بھی بڑا (اور مضبوط) تھا۔
بلال بن سعد کا بیان ہے (دن میں) صحابہ کرام ؓ مختلف اغراض میں خوب مشغول رہتے تھے لیکن جب رات ہوتی تو وہ راہب (تارک الدنیا عابد) ہوجاتے تھے۔
بخاری کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا منہ بھر کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کے حلق کا کوّ ا مجھے نظر آجاتا۔ حضور ﷺ صرف مسکرا دیتے تھے۔ صحیحین میں مذکور ہے کہ حضرت جریر ؓ نے فرمایا : جب سے میں مسلمان ہوا ‘ حضور ﷺ نے مجھ سے کوئی پردہ داری نہیں کی اور جب بھی آپ ﷺ نے مجھے دیکھا ‘ مسکرا دیئے۔
ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ بن الحارث بن الجزء نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مسکرانے والا کسی کو نہیں دیکھا۔
بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو روتے زیادہ ‘ ہنستے کم۔
امام احمد ‘ ترمذی (رح) اور ابن ماجہ (رح) نے حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے ایسی حدیث بیان کی ہے ‘ اس روایت میں اتنا زائد ہے (کہ حضور ﷺ نے فرمایا) اور (تم کو کسی چیز میں لطف نہیں آتا یہاں تک کہ) عورتوں سے بھی بستروں پر لذت یاب نہ ہوتے اور اونچی پہاڑیوں کی طرف نکل جاتے ‘ اللہ کی پناہ لینے کے لیے۔
Ayah 53:44وانہ ھو امات واحیا . اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے۔
یعنی وہی جاندار کو بےجان اور بےجان کو جاندار بناتا ہے۔ مثلاً نطفہ کے ایک نقطہ کو حیوان اور تخم کو درخت بنا دیتا ہے۔ بعض علماء نے اَمَاتَ وَاَحْیَا کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہی آباء و اسلاف کی زندگیاں سلب کرلیتا ہے اور اولاد کو زندگیاں عطا کرتا ہے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہی کافر کو ناشناسی کی موت دیتا اور مؤمن کو معرفت کی زندگی بخشتا ہے۔
Ayah 53:45وانہ خلق الزوجین الذکر الانثی
اور یہ کہ وہی دونوں قسم یعنی نر اور مادہ کو بناتا ہے
Ayah 53:46من نطفہ اذا تمنی
نطفہ سے ‘ جب نطفہ (رحم) میں ڈالا جاتا ہے
اِذَا تُمْنٰی : یعنی جب رحم میں قطرہ ٹپکایا جاتا ہے۔ منی الرجل اور امنی الرجل اس آدمی نے قطرہ ٹپکایا۔ یہ ترجمہ ضحاک اور عطاء بن ابی رباح کا ہے ‘ دوسروں نے تمنٰی کا ترجمہ کیا ‘ جب اسکا اندازہ کرلیا جاتا ہے۔ مَنَیْتُ الشَّیْ ءَ میں نے اس چیز کا اندازہ کرلیا۔
Ayah 53:47وان علیہ النشاۃ الاخری .
اور یہ کہ (حسب وعدہ) دوبارہ پیدا کرنا اس کے ذمہ ہے۔
النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی : دوسری تخلیق یعنی قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے اٹھانا۔
عَلٰی کا لفظ وجوب و لزوم کے معنی پر دلالت کر رہا ہے اور اللہ پر کوئی بات لازم نہیں ہے۔ اس لیے علٰی کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ وعدے کو پختہ کرنا مراد ہے۔ اللہ ضرور ‘ ضرور دوبارہ تخلیق کرے گا۔
Ayah 53:48وانہ ھو اغنی واقنی . اور یہ کہ وہی غنی کرتا ہے اور (سرمایہ دے کر محفوظ اور) باقی رکھتا ہے۔
اَغْنٰی : یعنی ضروری حاجت اور کفائی مصارف سے زیادہ مال دیتا ہے کہ لوگ اس کو جمع کرلیتے ہیں۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے تَغَنّٰی وہ غنی ہوگیا۔ یعنی اپنے مصارف پورے کرلیے اور پھر بھی کچھ مال رہ گیا ‘ جس کو اس نے جمع کرلیا۔
اَقْنٰی : اَغْنٰی کا ہم معنی ہے۔ اس کے بعد لفظ اَفْقَر محذوف ہے (وہی غنی اور دولت مند کرتا ہے اور وہی محتاج کرتا ہے) بیان کی ضرورت نہیں ہے افقر کو حذف کردیا ‘ قرینہ حال موجود ہے۔ فہم مطلب میں دشواری نہیں اس لیے افقر کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں۔ ضحاک نے کہا : اغنٰی یعنی چاندی ‘ سونا اور قسم قسم کے مال دے کر غنی کردیتا ہے اوراقنٰی یعنی اونٹ ‘ گائے ‘ بھینس ‘ بھیڑ ‘ بکریاں دے کر وہی حیثیت دار بنا دیتا ہے۔ قتادہ اور حسن نے کہا : اقنٰی یعنی وہی خدمت گار عطا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اغنٰی و اقنٰی یعنی مالدار اور فراخ دست بناتا ہے۔ مجاہد اور مقاتل نے کہا : اقنٰی یعنی جو کچھ دیتا ہے اس پر راضی اور قانع کردیتا ہے۔ ابن زید نے کہا : اغنٰی وہ بہت دیتا ہے۔ اقنٰی یعنی وہی کم دیتا ہے۔ ابن زید نے یہ مطلب بیان کر کے (استشہاد میں) آیت : یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ تلاوت کی۔ اخفش نے اقنٰی کا ترجمہ بیان کیا ‘ وہی محتاج کرتا ہے۔
Ayah 53:49وانہ ھو رب الشعری . اور یہ کہ وہی رب ہے شعریٰ (ستارہ) کا۔
شعریٰ ایک ستارے کا نام ہے جو جوزاؔ کے پیچھے واقع ہوا ہے۔ شعریٰ دو ستارے ہیں ‘ ایک کو عبور کہتے ہیں اور دوسرے کو قمیص۔ اس جگہ عبور مراد ہے۔ بنی خزاعہ عبور کی پوجا کرتے تھے۔ کوئی شخص تھا کبشہ ‘ یہ بنی خزاعہ کا ایک سردار تھا۔ اسی نے اس رسم بد کی ایجاد کی اور قریش کے بت پرستی کے رواج کی مخالفت کی۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی عرب اسی مناسبت سے ابن ابی کبشہ کہتے تھے کیونکہ آپ ﷺ نے بھی عرب کی بت پرستی کی مخالفت کی تھی۔ شعریٰ کے رب ہونے کا خصوصی ذکر اس وجہ سے کیا کہ وہ لوگ شعریٰ کو پوجتے تھے۔ اللہ
نے رب الشعریٰ فرما کر یہ بات ظاہر کردی کہ شعریٰ تو اللہ کی ایک مخلوق ہے وہ قابل عبادت نہیں ہے جیسا لاۃ و عزّٰی ویسا ہی شعریٰ ہے۔
شاید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی لوگ شعریٰ کی پوجا کرتے ہوں گے۔ اسی لیے صحف ابراہیم و موسیٰ (علیہما السلام) میں اس کا خصوصی ذکر کیا گیا تھا۔
Ayah 53:50وانہ اھل عاد الاولی . اور یہ کہ اسی نے قوم عاد کو (اس کے کفر کی وجہ سے) تباہ کیا۔
عاد اولیٰ حضرت ہود ( علیہ السلام) کی قوم تھی۔ حضرت نوح کی امت کے بعد سب سے پہلے اسی قوم کو طوفان کے جھکڑ بھیج کر ہلاک کیا گیا۔ اس کے بعد ایک اور قوم اس کی نسل سے ہوئی جس کو عاد ثانیہ کہا جاتا ہے۔
Ayah 53:51و ثمودا فما ابقی . اور ثمود کو بھی (ہلاک کیا) کہ ان میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا۔
قوم ثمود حضرت صالح کی قوم تھی جس کو ایک گرجدار چیخ سے اللہ نے ہلاک کردیا (ثمود ہی کو حقیقت میں عاد ثانیہ کہا جاتا ہے) ۔
فَمَآ اَبْقٰی : یعنی کافروں میں سے کسی کو اللہ نے باقی نہیں چھوڑا (سب کو عذاب سے ہلاک کردیا) ۔
Ayah 53:52و قوم نوح من قبل انھم کانوا ھم اظلم واطغی .
اور ان سے پہلے قوم نوح کو (ہلاک کیا) بیشک وہ سب سے زیادہ ظالم اور شریر تھے۔
یعنی عاد وثمود سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کردیا ‘ قوم نوح بڑی ظالم اور سرکش تھی۔ حضرت نوح نے ایک مدت دراز تک ان کو ایمان کی طرف بلایا لیکن انہوں نے نہ مانا۔ ہمیشہ نوح کو جھوٹا قرار دیتے رہے۔ حضرت نوح کو بار بار اتنا مارتے تھے کہ آپ بیہوش ہوجاتے تھے۔ اسی حالت میں چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔
Ayah 53:53والمو تفکۃ اھوی
” اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا
اَلْمُؤْتَفِکَۃَ : وہ بستیاں جن کو الٹ دیا گیا ‘ یعنی قوم لوط کی بستیاں۔
Ayah 53:54فغشھا ما غشی .
‘ پھر ان بستیوں کو گھیر لیا جس چیز نے گھیر لیا۔ “
مَا غَشّٰی : یعنی اوپر سے نامزد کنکر برسائے۔ لفظ ما کا ابہام عظمت عذاب اور تباہی کی ہولناکی پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 53:55فبای الا ربک تتماوی . سو تو اپنے رب کی کو نسی نعمت میں شک کرتا رہے گا۔
تَتَمَاوٰی کا معنی ہے تو شک کرے گا ‘ جھگڑا کرے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا تو کسی کس نعمت کو جھٹلائے گا۔ یہ ہر شخص کو خطاب ہے ‘ یعنی کسی کے لیے زیبا نہیں کہ اپنے رب کی کھلی ہوئی نعمتوں میں شک اور اس کی قدرت عامہ میں شبہ کرے۔
بعض علماء نے کہا : آیت میں مخاطب ولید بن مغیرہ ہے۔
Ayah 53:56ھذا نذیر من النذر اولٰی . یہ (یعنی محمد ﷺ یا قرآن) منجملہ پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ایک تنبیہ ہے۔
مِّنَ النُّذُرِ : یعنی انبیائے سابقین کی جنس میں سے ہیں اَ لْاُوْلٰی کو بصیغہ مؤنث ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ النذر سے مراد جماعت ہے۔
Ayah 53:57ازفت الازفۃ
” وہ جلدی آنے والی قریب آپہنچی ہے ‘
یعنی قیامت کی گھڑی قریب آگئی ‘ دوسری آیت میں : اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ فرمایا ہے۔
Ayah 53:58لیس لھا من دو اللہ کاشفہ .
اللہ کے سوا اس کو کوئی ذات ہٹانے والی نہیں ہے۔ “
کَاشِفَۃٌ : ظاہر کردینے والی (کھول دینے والی) دوسری آیت میں فرمایا ہے : لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَا الاَّ ھُوَ : قیامت کو اس کے مقررہ وقت پر بس اللہ ہی ظاہر کر دے گا۔ کاشفۃٌ میں تَ تانیث کی ہے اور موصوف محذوف ہے یعنی نفسٌکاشفۃٌ بات مبالغہ کی ہے یا کاشفۃٌ مصدر ہے (بمعنی کشفٌ کھول دینا ‘ ظاہر کردینا) یعنی اللہ کے سوا کوئی اور اس کو ظاہر نہیں کرسکتا۔ عطاء ‘ قتادہ اور ضحاک نے کہا یعنی قیامت کی ہولناکیاں اور شدت مصائب سواء اللہ کے مؤمنوں میں سے اور کوئی دور نہیں کرسکتا۔
Ayah 53:59افمن ھذا الحدیث تعجبون
سو کیا تم اس کلام (خداوندی سے تعجب کرتے پو
ھٰذَا الْحَدِیْثِ : سے مراد قرآن مجید ہے۔ افمن میں استفہام انکاری ہے یا سوال بطور زجر ہے۔ تضلحون یعنی ہنسی اڑاتے ہو۔ وَلاَ
Ayah 53:60و تضحلون ولا ثبکون
اور ہنستے ہو اور (خوف عذاب سے) روتے نہیں ہو
تَبْکُوْنَ : اور دل کی رقت سے روتے نہیں (یعنی دل میں رقت پیدا نہیں کرتے) ۔
تَضْحَکُوْنَ وَلاَ تَبْکُوْنَ کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے۔ دُنیوی لذتوں سے خوش ہوتے ہو اور طاعت کی کمی اور گناہوں کی کثرت کا غم نہیں کرتے۔
Ayah 53:61وانتم سامدون .
اور تکبّر کرتے ہو۔
سَامِدُوْنَ : یعنی غافل۔ سمودٍ کا معنی ہے کسی چیز سے غافل ہوجانا۔ عرب کہتے ہیں : دَعْ مِنَّا سَمُوْدَکَ : ہماری طرف سے اپنی غفلت ترک کر دو ۔ والبی اور عوفی کی روایت میں اسی کو حضرت ابن عباس کا قول قرار دیا گیا ہے۔ عکرمہ نے کہا : یمنی محاورے میں سمود کا معنی ہے گانا۔ جب کفار قرآن سنتے تھے تو گاتے اور کھیلتے تھے۔ ضحاک نے سامدون کا ترجمہ کیا ‘ اترانے والے۔ مجاہد نے کہا : غصہ کے ساتھ روگردانی کرنے والے۔ بعض نے کہا : سامدون کا معنی ہے غرور کرنے والے ‘ اپنے کو بڑا سمجھنے والے۔ جب اونٹ راستہ چلتے سر اوپر اٹھاتا ہے تو عرب کہتے ہیں : سمدا البعیر۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے اور بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تو کفار ناک چڑھا کر (غرور سے) نکل جاتے تھے اس پر آیت : وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ نازل ہوئی۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے : شمخ بانفہٖ ‘ اس نے ناک چڑھائی ‘ یعنی غرور کیا۔
Ayah 53:62فاسجدوا اللہ واعبدوا . ” سو اللہ کی اطاعت کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ “
یعنی خشوع و فروتنی کے ساتھ اور اللہ کے وعدۂ ثواب اور وعید عذاب پر یقین رکھتے ہوئے اسی کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔
حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ سورة النجم کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے ساتھ مسلمانوں نے ‘ مشرکوں نے اور جن و انس نے سجدہ کیا۔ (رواہ البخاری)
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے والنجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور جو لوگ آپ ﷺ کے ساتھ تھے ‘ انہوں نے بھی سجدہ کیا مگر قریش کے ایک بوڑھے شخص نے (سجدہ نہیں کیا بلکہ) ایک ہاتھ میں پتھریاں یا مٹی اٹھا کر پیشانی تک لے گیا اور بولا : میرے لیے یہی کافی ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ اس واقعہ کے بعد وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔ (متفق علیہ)
بخاری کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ وہ امیّہ بن خلف تھا۔ بخاری کے الفاظ یہ ہیں کہ اوّل ترین سورة جس میں (آیت) سجدہ کا نزول ہوا ‘ والنجم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سجدہ کیا۔ (الحدیث)
حضرت زید بن ثابت کا بیان ہے ‘ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے والنجم پڑھی اور آپ ﷺ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
جو لوگ سجدۂ تلاوت کو واجب نہیں قرار دیتے (بلکہ سنت کہتے ہیں) وہ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے اس وقت حضور ﷺ کا وضو نہ ہو (اس لیے سننے کے باوجود سجدہ نہیں کیا) یا سجدہ کرنے سے کوئی رکاوٹ ہو۔ حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور ﷺ نے (بعد کو بھی) کبھی (یہ) سجدہ نہیں کیا لیکن یہ جواب کمزور ہے کیونکہ اگر کسی عذر کی وجہ سے حضور ﷺ نے اس وقت سجدہ نہ کیا ہوتا تو آپ ﷺ ظاہر فرما دیتے۔ اس کے علاوہ حضرت عمر کا قول ہے کہ اللہ نے یہ سجدۂ تلاوت ہم پر لازم نہیں کیا ‘ مگر ہم چاہیں (تو کرلیں) سجدۂ تلاوت کی تفصیل سورة الانشقاق میں کردی گئی ہے۔
الحمد اللہ کہ سورة والنجم کی تفسیر کا اردو ترجمہ ختم ہوا