53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا

افرء یتیم اللت والعزی . بھلا کیا تم نے لات اور عزّٰی اور مناۃ کی حالت پر بھی غور کیا۔ اَفَرَءَ یْتُمُ : استفہام انکاری تنبیہی ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا ‘ کیا تم نے اپنے معبودوں کو دیکھا اور کیا لاۃ اور عزّٰی کا (غور کی نظر سے) مشاہدہ کیا۔ اَللاَّتَ وَالْعُزّٰی : یہ بتوں کے نام تھے۔ مشرک جن کی پوجا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ بت ملائکہ کے ہیکل ہیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ جنات کی عورتیں (پریاں) خدا کی بیٹیاں ہیں اور یہ بت ان کے مسکن ہیں۔ اس لیے ان بتوں کو بصیغۂ مؤنث کہتے تھے۔ اللہ کا مؤنث اللات اور اعز (صیغۂ اسم تفصیل مذکر) سے عزیٰ بتوں کے ناموں کا اشتقاق کیا تھا۔ بعض اہل لغت کے نزدیک اللّات (مصدر ہے) اصل میں لویتہ بروزن فعلۃ ہے۔ لویتہ لوی یلوی کا مصدر ہے جس کا مرادی معنی ہے : طواف کرنا۔ مشرک ان بتوں کا طواف کیا کرتے تھے۔ لویتہ کے واؤ کو الف ؔ سے تبدیل کر کے خلاف قیاس یاء کو حذف کردیا گیا پھر تاء تانیث لے آئی گئی اور اس کو طویل کردیا گیا۔ لات ہوگیا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ رویس اور ابوصالح ؓ نے اللاتّ بتشدید تاء پڑھا ہے اور صراحت کی ہے کہ یہ بت ایک مرد کی شکل کا تھا جو حاجیوں کو گھی ‘ ستو ملا کر کھلایا کرتا تھا۔ جب وہ مرگیا تو لوگ اس کی قبر پر معتکف ہوئے پھر اس کو پوجنے لگے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ اللاّت طائف میں بنی ثقیف کا بت تھا۔ ابن زید نے کہا : اللاّت نخلہ میں ایک کوٹھڑی تھی ‘ قریش اس کو پوجتے تھے۔ مجاہدؔ کا بیان ہے کہ عزیٰ غطفان کی آبادی میں ایک درخت تھا۔ بنی غطفان اس کو پوجتے تھے۔ ابن اسحاق نے کہا : عزّٰی نخلہ میں ایک کوٹھڑی (کمرہ ‘ مکان) تھی۔ اس کا مجاور و دربان بنی شیبان تھے اور بنی شیبان ‘ بنی ہاشم کے حلیف (معاہد) تھے۔ قریش اور تمام بنی کنانہ کا یہ سب سے بڑا بت تھا۔ عمرو بن لحی نے بنی کنانہ اور قریش سے کہہ دیا تھا کہ تمہارا رب سردی کے موسم میں طائف میں لات کے پاس اور موسم گرما میں عزّٰی کے پاس رہتا ہے اسلئے لوگ ان دونوں کی تعظیم کرتے تھے اور ہر ایک کیلئے ایک حجرہ بنا دیا تھا اور جس طرح کعبہ کو قربانی کا جانور بھیجتے تھے۔ اسی طرح ان دونوں بتوں کو بھی قربانی کے جانور بھیجتے تھے۔ (جن کو وہاں بھینٹ چڑھایا جاتا تھا) ۔ بیہقی نے حضرت ابو الطفیل کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے حضرت خالد ؓ بن ولید وہاں گئے اور کیکر کے درختوں (یعنی جھاڑیوں) کو کاٹ دیا اور عزّٰی کو ڈھا دیا ‘ پھر واپس آکر رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم کو وہاں کچھ نظر آیا ؟ حضرت خالد ؓ نے جواب دیا : کچھ بھی نہیں۔ فرمایا : تو تم نے اس کو نہیں ڈھایا۔ حضرت خالد ؓ دوبارہ گئے اور برابر چوکنے رہے۔ جب مجاوروں نے خالد کو دیکھا تو پہاڑوں پر پھیل گئے اور کہنے لگے : عزیٰ اس کو لے ‘ اس کو ہلاک کر دے ورنہ ذلت کے ساتھ مرجا۔ فوراً ایک کالی بھجنگ ‘ سر ننگی ‘ بکھرے ہوئے بالوں والی عورت سر اور منہ پر خاک اڑاتی ہوئی برآمد ہوئی۔ خالد ؓ نے تلوار سونت لی اور فرمایا : میں تجھے نہیں مانتا۔ میں تجھے پاک نہیں جانتا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ نے تجھے ذلیل کیا ہے۔ پھر تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کردیئے اور رسول اللہ ﷺ کو واپس آکر اطلاع دے دی ‘ فرمایا : ہاں ! وہ عزّٰی تھی۔ اب وہ تمہارے شہر میں پوجے جانے سے ہمیشہ کے لیے ناامید ہوگئی۔ ضحاک کا بیان ہے کہ عزیٰ بن غطفان کی آبادی میں ایک بت تھا۔ جس کو سعید بن ظالم غطفانی نے قائم کیا تھا۔ اس کا واقعہ یہ ہوا کہ سعید بن ظالم مکہ کو گیا۔ وہاں اس نے صفا اور مروہ کی پہاڑیاں دیکھیں۔ جن کے درمیان لوگ چکر لگاتے تھے۔ جب مکہ سے وادئی نخلہ میں واپس آیا تو اس نے اپنی قوم والوں سے کہا : مکہ والوں کا صفاء اور مروہ ہے اور تمہارے پاس کوئی صفاء اور مروہ نہیں ہے اور ان کا ایک معبود ہے ‘ جس کی وہ پوجا کرتے ہیں اور تمہارا کوئی معبود نہیں۔ لوگوں نے کہا : پھر آپ کا کیا حکم ہے ؟ سعید نے کہا : میں بھی تمہارے لیے ایسا ہی بنا دوں گا۔ چناچہ وہ ایک پتھر صفا کا اور ایک مروہ کالا یا۔ صفا کے پتھر کو ایک جگہ رکھ دیا اور کہا : یہ تمہارے لیے صفا ہے اور مروہ والے پتھر کو کچھ فاصلے سے رکھ کر کہا : یہ تمہارا مروہ ہے۔ پھر ایک درخت کے سہارے سے تین پتھر کھڑے کئے اور کہا : یہ تمہارا رب ہے۔ اس طرح لوگ دونوں پتھروں کے درمیان چکر لگانے اور پتھروں کی پوجا کرنے لگے۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا اور پتھر اٹھوا دیئے اور حضرت خالد کو عزیٰ (کے درخت) کو کاٹ دینے پر مامور کیا (اور انہوں نے حسب الحکم جا کر درخت کو کاٹ دیا) ۔
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)

ومنوۃ الثالثۃ الاخرٰی . مَنَاۃ : ابن کثیر کی قراءت میں مناۃ مد اور ہمزہ کے ساتھ آیا ہے۔ اس صورت میں مناۃ کا وزن مفعلۃ ہوگا اور اس کا اشتقاق نَوْءٌ سے ہوگا۔ گویا لوگ اس بت کے پاس جمع ہو کر اس سے تبرک حاصل کرتے تھے اور نچھتر (انواء) ستاروں سے بارش مانگتے تھے اس صورت میں مناۃ اصل میں منوۃ تھا۔ واؤ کی حرکت نقل کر کے نون کو دے دی پھر واؤ کو الفؔ سے بدل دیا گیا۔ ابن کثیر (رح) کے علاوہ باقی قراء نے بغیر مد اور الف کے پڑھا ہے۔ اس صورت میں اس کا وزن فعلۃ ہوگا اور (میم اصلی ہوگا اور) اس کا اشتقاق مَنَّاہ ہوگا۔ مناہ کا ترجمہ ہے اس کو قطع کیا۔ مشرکین قربانی کے جانور مناۃ کے پاس لے جا کر ذبح کرتے تھے۔ قتادہ کا قول ہے ” منات “ قدیہ میں خزاعہ کا بت تھا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : منات انصار کا بت تھا۔ انصار (اسلام سے پہلے) مناۃ کا احرام باندھتے تھے۔ یہ قدید کے سامنے تھا۔ ابن زید نے کہا : ” مناۃ “ مشلل میں ایک کوٹھڑی تھی۔ بنی کعب اس کو پوجتے تھے۔ ضحاک نے کہا : بنی خزاعہ اور بنی ہذیل کا ایک بت تھا جس کو اہل مکہ پوجتے تھے۔ بعض نے کہا یہ تینوں بت کعبہ میں تھے ‘ مشرکین ان کی پوجا کرتے تھے۔ محمد بن یوسف صالحی نے سبیل الرشاد میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا تو فتح کے درمیان ہی سعد بن زید اشہلی کو مناۃ کی طرف جو کوہ مشلل پر تھا ‘ بھیجا۔ مشلل وہ پہاڑ تھا جس سے اتر کر وادئ قدید میں آتے ہیں۔ مناتؔ‘ اوسؔ و خزرجؔ اور غسان کا (بت) تھا ‘ ایک مجاور اس پر مقرر تھا۔ سعد بن زید بیس سواروں کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے ‘ مجاور نے پوچھا : تم کیا چاہتے ہو ؟ سعد نے کہا : منات کو ڈھا دینا۔ مجاور نے کہا : تم جانو اور وہ جانے سعد پیدل چل کر منات کی طرف بڑھے۔ ایک عورت برہنہ بدن سیاہ فام ‘ پراگندہ سر ‘ سینہ پیٹتی اور موت کو پکارتی برآمد ہوئی۔ حضرت سعد ؓ اس کو تلوار سے مارنے لگے ‘ یہاں تک کہ قتل کردیا اور پھر اپنے ساتھیوں کو لے کر بت کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس کو ڈھا دیا۔ لات اور منات پر وقف کرنے والے قاریوں میں اختلاف ہے ‘ کوئی تاء پر وقف کرتا ہے (اور اللاّت اور مناتْ پڑھتا ہے) اور کوئی ہاء پر وقف کرتا ہے (ا لّٰہ اور مناۃ پڑھتا ہے) بعض لوگ کہتے ہیں مصحف عثمانی میں جس کی کتابت لمبی تاء سے ہے اس کو تَ پر وقف کرنا چاہیے یعنی اللاّت پڑھنا چاہیے اور جس کی کتابت ہ کے ساتھ ہو (یعنی مناہ) اس ہاء پر وقف کرنا چاہیے (یعنی مناہ پڑھنا چاہیے) ۔ اَ لْاُخْرٰی : الثالثۃ کی تاکید اور منات کی دوسری صفت ہے یا الاخریٰ سے مراد ہے مرتبہ میں مؤخر۔ کلبیؔ نے کہا : مکہ میں مشرک بتوں کو اور ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اگر کسی کو لڑکی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی تھی تو اس کو ناگوار ہوتا تھا۔ اللہ نے ان کی مذمت میں آیت ذیل نازل فرمائی۔
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

(مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں

الکم الذکر ولہ الانثی کیا تمہارے لیے تو بیٹے (تجویز) ہوں اور خدا کے لیے بیٹیاں۔
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

تلک اذا قسمۃ ضیری . یہ تو بہت بےڈھنگی تقسیم ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے قسمۃ ضیزیٰ کا ترجمہ کیا : قِسْمَۃٌ جَائرۃٌ : (ٹیڑھی ‘ بےجا تقسیم) کہ جو چیز تم کو اپنے لیے پسند نہیں اللہ کے لیے وہ چیز ثابت کر رہے ہو۔ مجاہد اور مقاتل نے ضیزٰی کا ترجمہ ٹیڑھی کیا ہے۔ حسن نے کہا : غیر معتدل۔ ابن کثیر نے ضیزٰی پڑھا ہے۔ ضَءَزَہٗ اس پر ظلم کیا۔ یعنی یہ تقسیم غیر منصفانہ ہے۔ باقی قراء نے یاء کے ساتھ ضیزیٰ پڑھا ہے۔ کسائی نے کہا : ضَازَ یَضِیْزُ ضَازًا (ضرب یضرب) اور ضاز یَضُوْزُ ضَوْزًا (نصر ینصر) اور ضاز یَضَازُ ضَازًا (سمع یسمع) تینوں (ابواب) کا معنی ہے ‘ ظلم کیا ‘ حق تلفی کی۔ میں کہتا ہوں ‘ ضیزٰی (صفت کا صیغہ) باب نصر سے نہیں ہے بلکہ باع یبیع یعنی ضرب یضرب سے ہے یا نال ینال (یعنی باب فتح) سے ہے۔ ضِیْزٰی : اصل میں بضم ضاد تھا کیونکہ یہ صفت کا صیغہ ہے اور صفت کا صیغہ فاء کلمہ کے کسرہ کے ساتھ یعنی بروزن فعلٰی نہیں آتا یا بضم فاء آتا ہے جیسے حبلٰی اور انثٰی یا بفتح باء بروزن فعلٰی آتا ہے۔ جیسے غضبٰی ‘ سکرٰی ‘ عطشٰی۔ ہاں اسماء میں بکسر فاء یعنی بروزن فعلٰی آتا ہے جیسے ذکرٰی ‘ شعرٰی (باوجود صیغۂ صفت ہونے کے) اس جگہ ضاد کو کسرہ دیا گیا کہ اگر ضاد کو ضمہ دیا جاتا تو یاء کو واؤ سے بدلنا پڑتا اور ضوزٰی ہوجاتا اور اس صورت میں معلوم نہ ہوا کہ اصل مادۂ اشتقاق وادی ہے یا یائی۔ (اسی طرح ابیض کی جمع بیض بکسر ب آتی ہے اور اصل میں یہ بھی بضم ب ہے جیسے حمر ‘ صفر کیونکہ بضم بَ ہونے سے ی کو واؤ سے بدلنا لازم ہوجاتا اور پھر معلوم نہ ہوتا کہ اس کا مادہ وادی ہے یا یائی) ۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

انھی الا اسماء سمیتموھا انتم واباء وکم ما انزل اللہ بھا من سلطن ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس . یہ (فرضی معبود) صرف نام ہی نام ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے ٹھہرا لیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے تو ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل بھیجی نہیں ‘ یہ صرف بےاصل خیالات اور اپنے نفس کی خواہش پر چل رہے ہیں۔ اِنْ ھِیَ : ہی ضمیر اصنام کی طرف راجع ہے یعنی یہ اصنام محض سنگی اجسام ہیں ‘ کسی طرح الوہیت کے قابل نہیں ‘ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے ان کو اِلٰہ (معبود) کا نام بغیر کسی وجہ کے دے رکھا ہے۔ اللہ نے ان کی الوہیت اور استحقاق معبودیت کی کوئی دلیل قائم نہیں کی۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم نے جو ان اصنام کو اللہ کی بیٹیاں اور اپنے سفارشی سمجھ رکھا ہے حقیقت میں یہ کچھ بھی نہیں ہیں ‘ یہ تمہاری محض خیال آفرینی ہے کہ تم نے ان کو یہ نام دے رکھے ہیں ‘ کسی کو لات اور کسی کو عزیٰ کہتے ہو اور ان کو خدا کی بیٹیاں اور اپنے سفارش اور ملائکہ کے مظہرقرار دیتے ہو۔ اللہ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہی ضمیر اسماء کی طرف راجع ہو یعنی یہ لات اور عزیٰ جو تم نے ان پتھروں کے نام قرار دے رکھے ہیں اور استحقاق الوہیت کی وجہ سے ایک کو لات اور معزز ہونے کی وجہ سے دو سرے کو عزی اور قربانیوں کی وجہ سے تیسرے کو مستحق تقرب جان کر منات کہتے ہو واقع میں یہ اوصاف ان کے اندر نہیں ہیں۔ صرف تمہارے خود تراشیدہ ہیں ‘ نہ لات میں استحقاق معبودیت ہے نہ عزی میں کوئی عزت ‘ نہ منات میں قابلیت تقرب۔ اللہ نے ان کے اندر کوئی وصف ایسا نہیں پیدا کیا ‘ جس کو اس تسمیہ کی دلیل قرار دیا جاسکے۔ ِ ان یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ : یعنی باپ دادا کی تقلید کی وجہ سے ان کو ظن پیدا ہوگیا ہے (جس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے) بس اسی گمان کی یہ پیروی کرتے ہیں یا ظن سے مراد ہے باطل توہم ‘ یعنی یہ لوگ محض اپنے باطل توہمات کے پیچھے چلتے ہیں۔ وَمَا تَھْوَی الْاَنْفُسُ : اور اپنی خود پسند نفسانی خواہشات پر یہ لوگ چلتے ہیں۔ ولقد جاء ھم من ربھم الھدی . حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے (بواسطۂ رسول اللہ ﷺ ہدایت آچکی ہے ‘ وَلَقَدْ جَآءَ ھُمْ .... یعنی رب کی طرف سے ان کے پاس رسول اور قرآن آچکا ہے جو یقینی راہ حق بتاتا ہے لیکن انہوں نے اس کی پیروی نہیں کی۔
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے

ام للانسان ما تمنی کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے ‘ اَمْ لِلْاَنْسَان : ام منقطعہ ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی (کافر) انسان کو وہ نہیں مل سکتا جس کی وہ تمنا کیے ہوئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرک انسان جو بتوں کی شفاعت کا امیدوار بنا ہوا ہے اور کہتا ہے : لَءِنْ رَّجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لِلْحُسْنٰی اگر مجھے اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا پڑا تو وہاں میرے لیے بھلائی ہوگی اور یہ بھی کہتا ہے : لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ۔ یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ و طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ یہ باتیں صرف اس کی تمنا ہی تمنا ہیں ‘ جو اس کو حاصل نہیں ہوں گی۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے

فللہ الاخرۃ والاولی سو خدا ہی کے اختیار میں ہے آخرت اور دنیا۔ فَلِلّٰہِ الْاَخِرَۃُ وَالْاُوْلٰی : یعنی دنیا اور آخرت دونوں جہان اللہ ہی کے ہیں۔ وہ جس کو جو کچھ چاہے دے ‘ نہ چاہے نہ دے ‘ اس کے دینے نہ دینے میں نہ کسی کی تمنا کو دخل ہے نہ سوائے اس کے ارادے کے کسی اور کے ارادہ پر اس کی بناء ہے۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

وکم من ملک فی السموات لا تغنی شفاعتھم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضی . اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں ‘ ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی مگر بعد اس کے کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت دے اور (اس کی شفاعت کو) پسند کرے۔ شَیْءًا : یعنی کسی قسم کا اور کسی وقت کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ اَنْ یَّاْذَنَ اللہ : کہ اللہ شفاعت کی اجازت دے۔ لِمَنْ یَّشَآءُ : یعنی جس فرشتے کو شفاعت کرنے کی یا جس آدمی کے لیے شفاعت کرنے کی اجازت دے۔ وَیَرْضٰی اور اس کے لیے شفاعت کو پسند کرے۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے باوجودیکہ اللہ کے معزز و مقرب بندے ہیں پھر بھی اللہ کی اجازت کے بغیر وہ شفاعت نہیں کریں گے۔ پس کس طرح یہ لوگ بتوں کی شفاعت کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ مشرک کہتے تھے کہ اللہ سے یہ بت ہماری سفارش کریں گے ‘ اس آیت سے ان کے اس قول کی تردید ہوگئی۔ بغوی نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ بہت سے وہ فرشتے جن کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں اور ان سے یہ شفاعت کی امید لگائے ہوئے ہیں ‘ وہ ان کی شفاعت (اللہ کی اجازت کے بغیر) نہیں کرسکتے (اور اللہ کی اجازت مشرکوں کے لیے ہوگی نہیں) ۔
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

ان الذین لا یومنون بالاخرۃ لیسمون الملٰئکۃ تسمیۃ الانثی . جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ : یعنی کفار مکہ۔ لَیُسَمُّوْنَ : یعنی ان میں سے ہر شخص فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتا ہے۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا

ومالھم بہ من علم ان یتبعون الا الظن وان الظن لا یغنی من الحق شیئا حالانکہ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور بیشک بےاصل خیالات امر حق کے (اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔ مَالَھُمْ بِہٖ : حالانکہ ان کو اس بات کا علم نہیں ہے۔ اِلاَّ الظَّنَّ : یعنی یہ جاہل کافر صرف گمان غالب پر جو تقلید آباء سے حاصل ہوا ہے چلتے ہیں یا ظن سے مراد ہیں بےاصل خیالات جن کی کوئی دلیل نہیں۔ حق سے مراد ہے علم (اصطلاح شرع میں) علم کا معنی ہے ایسا عقیدہ جو پختہ ‘ ناقابل رشک اور واقع کے مطابق (یعنی صحیح) ہو اور امر واقعی ہی کو حق کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ غالب گمان صحیح علم کے لیے مفید نہیں ہوتا ‘ یعنی جو ظن تقلید آباء وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے وہ اس علم کے قائم مقام نہیں ہوسکتا جو قطعی ‘ ناقابل شک دلیل سے حاصل ہوتا ہے۔ دلیل شرعی مسموع ہو یا عقلی برہان۔ اس لیے دانشمندوں کے لیے اتباع ظن جائز نہیں بلکہ یقین اور علم کی طلب لازم ہے۔ اِنَّ الظَّنَّ.... جملۂ معترضہ ہے اور کافروں کے اتباع ظن کرنے کی قباحت کو اس میں ظاہر کیا گیا ہے لیکن کافر تقلید آباء اور اتباع ظن میں چونکہ غرق تھے اور یہ صلابت خیال علامت تھی اس بات کی کہ وہ اتباع ظن کو علم کے قائم مقام جانتے ہیں اور ظن کے غیر مفید ہونے کے منکر ہیں اس لیے جملہ کو (لفظ اِنَّ سے) مؤکد کیا۔ ایک عظیم شبہ عملیات میں اتباع ظن شرعاً جائز ہے اکثر مسائل فقہیّہ کا استنباط ظنی دلائل سے ہی کیا جاتا ہے۔ نیز احادیث آحاد وغیرہ سے گزشتہ اقوام و انبیاء کے قصّے ‘ جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی تکلیفوں کا بیان اور واقعات حشر کی : تفصیلیں بتائی گئی ہیں اگر ظن کو مفید علم نہ مانا جائے تو اکثر فقہی استنباط اور اوہام پارینہ کا بیان اور واقعات قیامت کا اظہار بیکار ہوجائے گا ‘ نہ ان کا سیکھنا ‘ سکھانا جائز ہوگا ‘ نہ ان پر عمل کرنا ‘ نہ ان کو بیان کرنا ‘ نہ ان پر عقیدہ رکھنا۔ ازالۂ شبہ اتباع ظن جائز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ظن اس علم کے خلاف ہو جو دلیل قطعی یقینی سے حاصل ہوا ہو تو ایسے ظن کا اتباع ناجائز ہے۔ اس قسم کا ظن مفید علم نہیں ہوسکتا۔ علم قوی ہے اور ظن کا درجہ کمزور۔ باہم تقابل کے وقت ضعیف پر قوی کو ترجیح ضروری ہے۔ آیت کا مقتضی یہ ہے کہ جن یقینی قطعی عقائد کا ثبوت صحیح عقلی براہین یا آیات محکمات یا متواتر احادیث سے ہو رہا ہو ان کو ترک کرنا ‘ ان کے مخالف ظنیات کے پیچھے پڑجانا جائز نہیں۔ جہاں تک ممکن ہو قطعی دلائل سے علم حاصل کرنا واجب ہے لیکن اگر قطعی دلیل نہ مل سکے تو عقل فیصلہ کن ہوگی اور دلیل ظنی سے جو حکم مستفاد ہو (یا خبر معلوم ہو) اس پر احتیاطاً عمل کرنا واجب ہوگا۔ دلیل ظنی سے مراد ہے ایسی دلیل جو صحیح طریق سے غلبہ ظن پیدا کر دے۔ مثلاً دلیل ظنی سے ثابت ہوگیا ہے کہ وتر واجب ہے اور چاشت کی نماز سنت ہے اور بھنگ حرام ہے اور بیع کو اگر فاسد شرط کے ساتھ مشروط کردیا جائے تو ایسی بیع ممنوع ہے اور اس کے خلاف حکم دینے والی کوئی قطعی دلیل موجود نہیں ہے لہٰذا بنظر احتیاط عقل کا بالجزم فیصلہ ہے کہ وتر کو چھوڑا نہ جائے ‘ بھنگ نہ پی جائے۔ بشرط فاسد بیع نہ کی جائے اور بامید ثواب چاشت کی نماز پڑھی جائے کیونکہ جب تعمیل حکم میں ضرر نہ ہونے کا یقین ہو تو حصول نفع کا احتمال بھی اس حکم کی تعمیل کے لیے کافی ہے اور اگر مضرت کا احتمال ہو تو اس عمل سے پرہیز رکھنے کے لیے یہ احتمال بھی کافی ہے۔ کسی سوراخ میں سانپ کے موجود ہونے کا احتمال اس میں انگلیاں نہ ڈالنے کا موجب ہے۔ اگر کوئی قطعی دلیل معارض نہ ہو یعنی احادیث آحاد اور قیاس سے ٹکرانے والی کوئی بھی قطعی دلیل موجود نہ ہو تو جو حکم احادیث آحاد یا قیاس سے مستفاد ہو رہا ہے اس پر عمل کرنا اور تفقہ سے کام لینا ان احادیث سے بھی ثابت ہے جو باجماع امت متواتر المعنی ہیں اور قرآنی آیات سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فلو لا نفر من کل فرقۃٍ منھم طائفۃٌ لیتفقھو فی الدین۔ دوسری آیت ہے : فاعتبروا یاولی الابصار۔ (تفقہ اور اعتبار کے معنی ہی قیاس کرنے کے ہیں) ۔ مسائل فقہیہ میں دراصل ظن طریق (استنباط) میں ہوتا ہے لیکن جب ظن کا صحیح ہونا ثابت ہوجائے تو پھر بدلیل قطعی اس پر عمل واجب ہے ‘ اسی طرح مبداء اور معاد کے متعلق جو خبریں اخبار آحاد میں آئی ہیں وہ اگرچہ ظنی ہیں لیکن تمام آحاد ہیں۔ یہ قدر مشترک ہے ‘ اتنی حد تک تو وہ قطعی اور موجب علم ہیں ‘ رہی ان کی تفصیل تو اگر زیادہ قوی دلیل یعنی نص قطعی سے اس کا تصادم نہ ہوتا ہو تو اس سے ترغیب و ترہیب کا استفادہ جائز ہے (کیونکہ اس صورت میں مؤعظت و نصیحت سے فائدہ حاصل ہونے کی امید ہے اور کسی نص کی مخالفت نہیں ہے) ‘ واللہ اعلم۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ آیت میں حق سے عذاب مراد ہے (علم مراد نہیں ہے) اور الظن میں الف لام عہدی ہے یعنی کافروں کا ظن جو باپ دادا کی تقلید سے حاصل ہوا ہے یا ان کا خود تو ہم اور بےاصل خیال ہے وہ واقعی عذاب کو دفع نہیں کرسکتا۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

فاعرض عن من تولی عن ذکرنا ولم یرد الا الحیٰوۃ الدنیا . تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ ذِکْرِنَا : ذکر سے مراد ہے قرآن یا ایمان یا اللہ کی یاد۔ اِلاَّ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا : یعنی سوائے حیات دنیوی کی خواہشات کے اور کسی چیز کا طلبگار نہیں ‘ دنیوی خواہشات میں ہر وقت منہمک رہتا ہے۔ اس کا منتہائے مقصد اور مبلغ علم صرف دنیا ہے۔ یعنی جب ان مشرکوں کی جہالت ‘ خفت دانش اور سبک سری معلوم ہوگئی اور یہ امر ظاہر ہوگیا کہ یہ اپنے بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور رب کی طرف سے عطا کردہ ہدایت کی پرواہ نہیں کرتے اور ان پتھروں کو پوجتے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں ‘ نہ نقصان اور اللہ کی یاد سے روگرداں اور گریز پا ہیں تو اب آپ بھی ان کو ہدایت کرنے کی پروا نہ کیجئے۔ ان کو سمجھانا اور حق کو قبول کرنے کی دعوت دینا بیکار ہے کیونکہ یہ لوگ چوپایوں کی طرح بےعقل بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہیں۔ لیکن دنیوی مفاد حاصل کرنے کے لیے ان کی کچھ حرکات و سکنات اور کوششیں یہ خیال پیدا کرتی ہیں کہ ان کو بھی عقل و فہم اور بصیرت کا کچھ حصہ ملا ہوا ہے ‘ اس خیال کو دور کرنے کے لیے اگلی آیت میں فرمایا :
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا

ذلک مبلغھم من العلم ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھدتدی . ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دُنیوی زندگی) ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی (تمہارا ربّ ) خوب جانتا ہے کہ کون راہ راست پر ہے۔ اَلْعِلْمِ : یعنی ان کی علمی رسائی پس دنیوی امور تک ہے ‘ معاشیات کی سمجھ سے آگے ان کی عقل نارسا اور دانش و علم ناکارہ ہے۔ یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ علم ہو یا عقل دونوں اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اللہ نے اپنی مشیت و ارادہ کے ماتحت ان کو پیدا کیا ہے ‘ رہے اسباب تو وہ حقیقی اسباب نہیں ہیں ‘ صرف ظاہری اسباب ہیں۔ اگرچہ فلاسفہ ان اسباب کو حقیقی اسباب (یعنی علل موجبہ) جانتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ جب چاہتا ہے تو آیات کے ذریعہ سے علم پیدا کردیتا ہے اور نہیں چاہتا تو باوجود علمی اسباب کے علم عطا نہیں فرماتا۔ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ...... یعنی کون گمراہ اور بھٹکا ہوا ہے اور کون ہدایت یاب اور برسر راہ ہے۔ اس کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ پس وہی گمراہی اور ہدایت یابی کے مطابق سزا و جزا دے گا۔ اس جملے میں (ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے) فلاح و جزا کا وعدہ ہے اور (گمراہوں کے لیے سزا کی) وعید ہے اور گزشتہ مضمون کی علّت کا اظہار ہے یعنی آپ ﷺ ان کی پروا نہ کیجئے۔ ان کو سزا دینے کے لیے ہم کافی ہیں۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

واللہ ما فی السموات وما فی الارض لیجزی الذین اساء وا بما عملوا و یجزی الذین احسنوا بالحسنی . اور جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے ‘ انجام کار یہ ہے کہ برے کام کرنے والوں کو انکے کیے (ہوئے برے کاموں) کی سزا دیگا اور نیک کام کرنے والوں کو انکے نیک کاموں کے بدلہ میں اچھی جزا دیگا۔ وَِ ﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ : یعنی سارے جہان کا خالق اور مالک اللہ ہی ہے ‘ وہ معبود برحق ہے ‘ جو چاہتا اور جیسا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے ‘ ویسا کرتا ہے۔ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ : اس نے ساری کائنات کو پیدا کیا اور گمراہوں سے ہدایت یافتہ لوگوں کو الگ کردیا اور ان کے اچھے ‘ برے احوال کو محفوظ رکھا تاکہ مشرکوں اور گناہگاروں کو ان کے کیے کی سزا دے اور مخلص نیکو کاروں کو اچھا ثواب یعنی جنت عطا کرے یا بالحسْنٰی کا یہ مطلب ہے کہ ان کے سب سے اچھے عمل یعنی اخلاص کی جزا دے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

الذین یحتنبون کبائر الاثم والفواحش الا اللھم ان ربک واسع المغفرۃ . یہ وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں۔ سوائے ہلکے ہلکے گناہوں کے ‘ بلاشبہ آپ کے رب کی مغفرت بڑی وسیع ہے۔ کبیرہ گناہ کون کونسے ہیں ؟ سورة نساء کی آیت : اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ... کی تفسیر میں ہم اس کی تفصیل کرچکے ہیں۔ اَلْفَوَاحِشَ : اس سے مراد یا تو کبیرہ گناہ ہی ہیں اور عطف تفسیری ہے یا حد سے بڑھے ہوئے کبیرہ گناہ مراد ہیں ‘ بعض کے نزدیک وہ کبیرہ گناہ مراد ہیں جن کی حد شرعی مقرر ہے۔ اِلاَّ اللَّمَمَ : : لمم سے وہ گناہ مراد ہیں جو کبھی آدمی سے صادر ہوجائیں پھر وہ ان پر جما نہ رہے بلکہ توبہ کرلے ‘ گناہ اس کا معمول نہ بن جائے۔ عادت نہ ہوجائے۔ کبھی کبھی صدور ہوجائے۔ کذا قال الجوہری۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ‘ مجاہد (رح) اور حسن کا یہی قول ہے۔ بروایت عطاء حضرت ابن عباس کا بھی یہی مقولہ منقول ہے۔ سدی کا بیان ہے کہ ابو صالح نے کہا مجھ سے الاَّ اللَّمَمَ کی تفسیر پوچھی گئی ہے۔ میں نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی گناہ کے قریب تو ہوجائے ‘ بار بار نہ کرے (عادی نہ ہوجائے) پھر میں نے اپنے اس قول کا حضرت ابن عباس ؓ سے تذکرہ کیا۔ فرمایا : معزز فرشتے نے آیت کا مطلب بیان کرنے میں تمہاری مدد کی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بروایت عطاء حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ شعر پڑھا تھا۔ ؂ . ان تغفر اللھم تغفرجما وای عبد لک لا الما اے اللہ ! اگر تو معاف کر دے گا تو بہت گناہ معاف کر دے گا۔ تیرا کونسا بندہ گناہ پر نہیں اترا (یعنی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا) ۔ مذکورۂ بالا مطلب پر استثناء متصل ہوگا اور استثناء متصل ہی اصل ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے لمم چھوٹے گناہ ‘ صغیرہ گناہ کی مثال بیان کی گئی ہے ‘ جیسے نامحرم پر ایک نظر ‘ آنکھ کا اشارہ ‘ بوسہ یعنی زنا سے کم درجہ کا گناہ۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابوہریرہ ‘ مسروق اور شعبی کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ طاؤس نے حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول قرار دیا ہے۔ بخاری کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لمم کی تشریح میں ابوہریرہ ؓ کے اس قول سے زیادہ صحیح قول میں نے نہیں پایا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے ابن آدم کے لیے زنا کا ایک حصہ لکھ دیا ہے جس کو وہ ضرور پاتا ہے ‘ آنکھ کا زنا (نامحرم کی طرف) نظر کرنا ہے۔ زبان کا زنا (ناجائز) بات کرنا ہے۔ نفس آرزو کرتا اور خواہش مند ہوتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ سہل بن ابی صالح کی روایت اس طرح ہے : آنکھوں کا زنا نظر ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا قدم اٹھانا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا : لمم سے مراد بےارادہ نظر پڑجانا ہے ‘ یہ معاف ہے۔ اگر دوبارہ نظر ڈالے گا تو یہ لمم نہ ہوگا۔ اس تشریح پر لمم کا مفہوم خاص ہوگا اور صغیرہ گناہ کا مفہوم عام۔ سعید بن مسیب نے کہا : اَلَّمَ عَلَی الْقَلْبِ : (دل پر اترا) یعنی دل میں خیال پیدا ہوا۔ یہ قول جوہری کے قول کے قریب ہے کیونکہ جوہری کے نزدیک اَلْمَمْتُ کا معنی ہے ‘ میں قریب ہوگیا ‘ پاس پہنچ گیا۔ یعنی کرنے کے قریب پہنچ گیا ‘ عملی اقدام نہیں کیا ‘ ان تمام اقوال پر استثناء منقطع ہوگا۔ کلبی نے کہا : لمم کی دو صورتیں ہیں : 1) وُ ہ گناہ جس کی دنیوی سزا اللہ نے نہیں بیان کی ‘ نہ آخرت میں اس کے عذاب کی کوئی صراحت کی۔ ایسا گناہ اگر کبیرہ اور فاحش کی حد تک نہ پہنچے تو نماز سے اس کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ 2) وہ بڑا گناہ جس میں ایک بار مسلمان مبتلا ہوجاتا ہے پھر اس سے توبہ کرلیتا ہے ‘ یہ بھی لمم میں داخل ہے۔ میں کہتا ہوں ‘ کلبی کا یہ قول دوسرے اقوال سے الگ نہیں ہے ‘ ورنہ عموم مشترک یا حقیقت و مجاز کا اجتماع لازم آئے گا بلکہ پہلے دونوں کو بصورت احتمال اختیار کیا گیا ہے جس طرح حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کے دو ‘ دو قول روایت میں آئے ہیں۔ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ : یعنی اللہ وسیع مغفرت والا ہے ‘ جس کے چاہے گا گناہ معاف کر دے گا۔ کبیرہ ‘ صغیرہ ‘ توبہ کے بعد اور توبہ کے بغیر۔ سابق آیت میں بدکاروں اور گناہگاروں کے لیے عذاب کی وعید تھی۔ اس آیت میں وسعت مغفرت کی صراحت کر کے امیدوار رحمت بنا دیا تاکہ مرتکب کبیرہ رحمت سے بالکل مایوس نہ ہوجائے اور یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہر کبیرہ گناہ کا عذاب واجب ہے (جیسا کہ معتزلہ اور خوارج کا خیال ہے) ۔ ابو نعیم نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کے پاس وحی بھیجی کہ : ” اپنی امت کے اطاعت گزاروں سے کہہ دو کہ وہ اپنے (نیک) اعمال پر بھروسہ نہ کرلیں کیونکہ قیامت کے دن حساب کے وقت جب میں کھڑا کروں گا تو جس کو عذاب دینا چاہوں گا ‘ ضرور عذاب دوں گا اور اپنی امت کے گناہگاروں کو کہہ دو نراس نہ ہوں ‘ میں بڑے (بڑے) گناہ بخش دوں گا ‘ اور مجھے پروا بھی نہ ہوگی۔ ھو اعلم بکم اذ نشاکم من الارض . وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا تھا۔ یعنی جس وقت تمہارے باپ آدم کو اللہ نے زمین (یعنی مٹی) سے پیدا کیا ‘ اس وقت اللہ تمہارے حالات کو خوب جانتا تھا۔ تمہاری خوش نصیبی اور تمہارے اچھے ‘ برے انجام سے وہ واقف تھا۔ اَعْلَمُ : اگرچہ اسم تفضیل کا صیغہ ہے لیکن تفضیلی معنی مراد نہیں ہے (یعنی یہ مطلب نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی تم کو پیش آنے والے واقعات و حالات سے واقف تھا مگر اللہ سب سے بڑھ کر واقف کار تھا) کیونکہ کوئی انسان بھی اپنی پیدائش سے پہلے اپنی زندگی کے احوال سے واقف نہیں ہوسکتا۔ اگلے جملہ سے بھی اس مطلب کی تائید ہو رہی ہے (کیونکہ حضرت آدم کی پیدائش کے وقت کوئی شخص بھی اپنی زندگی کے احوال سے واقف نہیں تھا) ۔ مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمانوں کی اور زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ نے مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھیں اور اس کا تخت پانی پر تھا۔ ترمذی نے حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور حکم دیا کہ لکھ۔ قلم نے عرض کیا : کیا لکھوں ؟ فرمایا : تقدیر کو لکھ۔ حسب الحکم قلم نے ان تمام چیزوں کو جو ہو چکیں اور جو آخر تک ہونے والی ہیں لکھ دیا۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ امام مالک ‘ ترمذی اور ابوداؤد نے حضرت عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے آدم کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر کچھ نسل (یعنی روحوں) کو برآمد کیا اور فرمایا : میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جنت کے عمل کریں گے۔ پھر آدم کی پشت پر اپنا بایاں ہاتھ پھیر کر کچھ نسل کو برآمد کیا اور فرمایا : ان کو میں نے دوزخ کے لیے پیدا کیا اور یہ دوزخیوں کے عمل کریں گے۔ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! پھر عمل کس کام کے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ جس بندہ کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے اس سے کام بھی جنت والوں کے کراتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ اہل جنت کے عمل پر ہی مرجاتا ہے اور اللہ اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور جس بندہ کو دوزخ کے لیے پیدا کرتا ہے اس سے عمل بھی دوزخیوں کے کراتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ مرتے وقت تک دوزخیوں کا کوئی عمل کرتا ہے اور اللہ ‘ اس کو دوزخ میں داخل کردیتا ہے۔ واذا انتم اجنۃ فی بطون امھاتکم . اور جب تم ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا کہ تم میں سے (ہر) ایک کا مادۂ تخلیق بصورت نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک جمع ہوتا ہے پھر اتنی ہی مدت بستہ خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت تک بوٹی کی شکل میں رہتا ہے۔ پھر چار باتیں لکھنے کے لیے اللہ فرشتے کو بھیج دیتا ہے پھر فرشتہ اس کے (ہونے والے) عمل کو ‘ اس کی مدت زندگی کو ‘ اس کے رزق کو اور اس بات کو لکھ دیتا ہے کہ وہ خوش نصیب ہے یا بدبخت ؟ پھر اس کے اندر روح پھونک دی جاتی ہے۔ پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے بعض لوگ اہل جنت کے کام (ساری عمر) کرتے رہتے ہیں ‘ یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان ایک ذراع کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ دوزخیوں کا عمل کرتے ہیں اور دوزخ میں چلے جاتے ہیں اور تم میں کچھ لوگ (ساری عمر) دوزخیوں کے کام کرتے ہیں اور دوزخ کے اتنے قریب پہنچ جاتے ہیں کہ ان کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ آخر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ اہل جنت کا عمل کرتے ہیں اور جنت میں چلے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ) فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی . سو تم اپنے کو مقدس مت سمجھا کرو ‘ تقویٰ والوں کو وہی خوب جانتا ہے۔ فَلاَ تُزَکُّوْا .... : یعنی اپنے عمل کی پاکیزگی اور نیکی کی زیادتی کی بناء پر خود اپنی تعریف نہ کرو یا گناہوں اور بری باتوں سے پاک دامن رہنے پر اپنی تعریف نہ کرو کیونکہ انجام کا تم کو علم نہیں۔ احسن نے کہا : اللہ کو معلوم ہے کہ بندہ کیا کرے گا اور اس کا کیا انجام ہوگا۔ اس لیے تم اپنے نفسوں کو گناہوں سے پاک نہ قرار دو اور نیک اعمال پر خود اپنی ستائش نہ کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : لوگ اچھے عمل کرتے تھے پھر (بطور غرور) کہتے تھے : ہماری نماز ‘ ہمارا روزہ ‘ ہمارا حج۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ واحدی ‘ طبرانی ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ثابت ؓ بن حارث انصاری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب یہودیوں کا کوئی چھوٹا بچہ مرجاتا تھا تو وہ اس کو صدیق کہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو فرمایا : یہودی جھوٹے ہیں۔ ماں کے پیٹ کے اندر ہی اللہ جس جان کو پیدا کرتا ہے اس کو اسی وقت خوش نصیب یا بدبخت لکھ دیا جاتا ہے۔ اس پر اللہ نے آیت : ھُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَکُمْ.... نازل فرمائی۔ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی : پشت آدم سے باہر لانے سے پہلے ہی اللہ جانتا تھا کہ کس کا خاتمہ تقویٰ اور خلوص عمل پر ہوگا۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا

افرء یت الذی تولی کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی اَفَرَءَ یْتَ : استفہام : تعجبی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ اَلَّذِیْ تَوَلّٰی : جس نے اتباع حق کی طرف سے پشت پھیرلی ‘ مُنہ موڑ لیا اور حق پر ثابت قدم اور قائم رہنے سے اعراض کیا۔ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ ولید رسول اللہ ﷺ کا متبع ہوگیا تھا ‘ لیکن بعض مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا : تم نے باپ ‘ دادا کے مذہب کو چھوڑ دیا اور ان کو گمراہ سمجھنے لگا۔ ولید نے کہا : مجھے اللہ کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔ ایک شخص بولا : اگر تم باپ ‘ دادا کے مذہب کی طرف لوٹ آئے تو میں تم کو اتنا مال دوں گا اور اگر اللہ کا عذاب تم پر آیا تو تمہاری جگہ میں اپنے اوپر اس کو برداشت کرلوں گا۔ ولید شرک کی طرف لوٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیا
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا

واعطی قلیلا واکدی . اور تھوڑا مال دیا اور (پھر بالکل) بند کردیا۔ وَاَعْطٰی قَلِیْلاً : یعنی اس مشرک نے جو مال دینے کا وعدہ کیا تھا ‘ اس کا کچھ حصہ تو دے دیا اور کچھ نہیں دیا۔ وَّاَکْدٰی : یعنی باقی حصہ دینے میں بخل کیا ‘ نہیں دیا۔ بغوی نے یہی ترجمہ کیا ہے۔ ابن جریر نے بحوالہ ابن زید بیان کیا کہ ایک شخص مسلمان ہوگیا ‘ کسی نے اس کو غیرت دلائی کہ تو نے بزرگوں کے دین کو چھوڑ دیا اور ان کو گمراہ سمجھا اور دوزخی قرار دیا ؟ مسلمان ہونے والے نے کہا : مجھے اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ غیرت دلانے والے نے کہا : تو مجھے کچھ مال دے دے تجھ پر جو عذاب آئے گا میں اس کو اٹھا لوں گا۔ اس شخص نے اس کو کچھ دے دیا ‘ اس نے کچھ اور مانگا اس شخص نے کچھ بڑھا دیا۔ مانگنے والے نے ایک تحریر لکھ دی اور گواہی بھی اس پر ثبت کردی۔ اس پر آیت : اَفَرَءَ یْتَ اَلَّذِیْ تَوَلّٰی نازل ہوئی۔ سدی کا بیان ہے کہ یہ آیت عاص بن واہل سہمی کے حق میں نازل ہوئی جو بعض باتوں میں رسول اللہ ﷺ کے موافق تھا (اور بعض امور میں مخالف) محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول ابوجہل کے بارے میں ہوا۔ ابوجہل نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہم کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں لیکن اس قول کے باوجود وہ ایمان نہیں لایا ‘ تھوڑا دینے کا یہی مطلب ہے کہ کسی قدر حق کا اس نے اقرار کیا اور اکدٰی سے مراد ہے ‘ ایمان نہ لانا۔ اکدٰی کا لغوی معنی ہے قَطَعَ ۔ یہ لفظ کُدْیَۃٌسے مشتق ہے کہ یہ اس سخت چٹان کو کہتے ہیں جو کنواں کھودنے میں آجاتی ہے اور مزید کھودنے سے روک دیتی ہے۔ عرب کہتے ہیں : اکدی الحافر والجبل یعنی کنواں کھودنے والے کو کسی حائل ہونے والی چٹان یا پہاڑ نے روک دیا۔ مقاتل نے کہا : ولید نے زبان سے تو مال دینے کا اقرار کرلیا تھا لیکن دیتے وقت کچھ دیا ‘ کچھ نہیں دیا ‘ روک لیا۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے

اعندہ علم الغیب فھو یری . کیا اسکے پاس (کسی صحیح ذریعہ سے) علم غیب ہے کہ اسکو دیکھ رہا ہے (یعنی جانتا ہے) ۔ اَعِنْدَہٗ : استفہام انکاری ہے اور فَھُوَسببی ہے۔ یعنی کیا اس کو علم غیب ہے جس کی وجہ سے وہ جانتا ہے کہ میں اگر کچھ مال دے دوں گا تو وہ شخص میرے اوپر سے شرک کا عذاب اٹھا کر اپنے اوپر لاد لے گا۔
Ayah 53:36

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی

ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ یا اس کو اس مضمون کی خبر نہیں جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے صُحُفِ مُوْسٰی : یعنی توریت کے مکتوبات میں اور ابراہیم کے صحیفوں میں۔
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا

و ابراھیم الذی وفی اور (نیز) ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں جس نے احکام کی پوری بجا آوری کی تھی اَلَّذِیْ وَفّٰی : یعنی اللہ کے احکام کی پوری پوری تعمیل کی تھی۔ بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ رب کے پیام مخلوق تک پہنچائے۔ طرح طرح کی تکلیفیں لوگوں کے ہاتھوں سے اٹھائیں اور صبر کیا یہاں تک کہ غرور کی آگ میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اللہ نے متعدد احکام دے کر آزمائش کی اور تمام احکام کو آپ نے پورا پورا ادا کیا۔ توفیہ (باب تفعیل) کا معنی ہے کسی کام کو پورا پورا کرنا۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابو امامہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : وَ اِبْرٰھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی کے سلسلے میں فرمایا کہ دن کے اوّل حصہ میں ابراہیم (علیہ السلام) نے چار رکعتیں پڑھیں۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت معاذ بن انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے متعلق اَلَّذِیْ وَفّٰی کیوں فرمایا ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم ہر صبح اور شام کو فَسُبْحٰنَ اللہ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ الی آخر الآیات پڑھا کرتے تھے۔ ترمذی نے حضرت ابودرداء اور حضرت ابوذر کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا بیان نقل کیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! دن کے ابتدائی حصہ میں تو میرے لیے چار رکعتیں پڑھ ‘ میں پچھلے دن کے تیرے کام پورے کر دوں گا۔ ابوداؤد اور دارمی نے یہ حدیث نعیم غطفانی کی وساطت سے نیز امام احمد نے بھی بحوالۂ سابقہ نقل کی ہے۔ صحف ابراہیم (علیہ السلام) سے صحف موسیٰ کا ذکر پہلے اس وجہ سے کیا کہ صحف ابراہیم سے توریت زیادہ مشہور تھی۔ اَمْ منقطعہ ہے (متصلہ نہیں ہے) کیونکہ متصلہ ہونے کی صورت میں یہ ضروری ہے کہ دو مساوی امور میں سے ایک ہمزۂ استفہام کے متصل ہو اور دوسرا اَمْ کے متصل ہو اور اس جگہ ایسا نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں آیت کا مطلب اس طور پر بھی ہوسکتا ہے ‘ کیا کتب الٰہیہ کی اطلاع کی وساطت یا بلا وساطت کے اس کو علم غیب ہے کہ دوسرا شخص اس کا بار شرک اٹھا لے گا یا کتب الٰہیہ کی وساطت سے اس کو یہ علم نہیں ہے کہ کوئی کسی کا بار اپنے اوپر نہیں اٹھا سکے گا بلکہ تواتر اور شہرت کی بناء پر اس کو معلوم ہے کہ کتب سماویہ میں صراحت کردی گئی ہے کہ کوئی کسی کا بار نہیں اٹھائے گا۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

الا تزرو وازرۃ وزر اخری . کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا۔ اَلاَّ تَزِرُ : یعنی کسی شخص کو دوسرے کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا۔ بغوی نے بوساطت عکرمہ ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے جو لوگ مجرم کے جرم کی پاداش میں غیر مجرم کو پکڑلیتے تھے اور اگر کسی کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا بیوی یا غلام نے قتل کیا ہو تو اس کے عوض اس شخص کو قتل کردیا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں کو اس حرکت سے روکا اور اللہ کا حکم پہنچایا کہ کسی کے جرم کا بار دوسرے پر نہ ڈالا جائے۔ میں کہتا ہوں ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کا رواج کوئی شرعی قانون نہیں تھا بلکہ ایک جاہلی رواج تھا ‘ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے قبائل اوس و خزرج کا رواج تھا ‘ ایک قبیلہ جب دوسرے قبیلہ سے زیادہ باعزت اور مالدار ہوتا تھا اور اس کی کسی عورت کو حریف قبیلہ مار ڈالتا تھا تو شریف قبیلہ والے کمزور قبیلہ کے کسی مرد کو مقتول عورت کے عوض قتل کرتے تھے اور غلام مارا جاتا تھا تو دوسرے قبیلے کے کسی آزاد مرد کو قتل کرتے تھے اور ایک مرد مارا جاتا تھا تو انتقام میں دو آدمیوں کو قتل کرتے تھے۔ اس رواج کو منسوخ کرنے کے لیے آیت : اَلْحُرُّ بالْحُرِّ وَالْعَبْدِ بالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بالْاُنْثٰی نازل ہوئی۔ سورة بقرہ میں ہم نے اس آیت کی تشریح کردی ہے۔ شبہ ایک اور آیت آئی ہے : کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓاِسْرَآءِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْفَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا بظاہر آیت : لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی اس آیت کے مخالف ہے۔ اس کے علاوہ امام احمد (رح) اور امام مسلم (رح) نے حضرت جریر بن عبداللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّءَۃً فَلَہٗ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا اِلٰی یَوْمِ الْقَیٰمَۃِ ۔ (جس نے کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر خود اس طریقہ پر عمل کرنے کا بھی گناہ ہوگا اور قیامت تک جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی اس پر ہوگا) یہ حدیث بھی آیت لا تزر کے خلاف ہے۔ ازالہ آیت مَنْ قَتَلَ نَفْسًا .... اور حدیث مَنْ سَنَّ سُنَّۃً .... کا مقصد یہ ہے کہ مرتکب قتل اور سنت سیۂ کا موجد خود تو گناہگار ہوتا ہی ہے لیکن اس کا فعل چونکہ دوسروں کے مجرم اور گناہگار بننے کا سب ہوتا ہے ‘ اس لیے اس کا جرم دوگنا ہوجاتا ہے (یہ مطلب نہیں کہ آنے والے مجرموں کا جرم اس پر ڈال دیا جائے گا اور ان کو گناہ سے آزاد کردیا جائے گا) اسی لیے حدیث کے آخر میں فرمایا ہے : من غیر ان ینقص من اوزارھم شیءًا (بغیر اس کے کہ آئندہ اس طریقہ قبیحہ پر چلنے والوں کے بارے میں کوئی تخفیف کی جائے) ایک اور آیت آئی ہے : وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَۃً (اُس عذاب سے ڈرو جو صرف ظالموں پر ہی نہیں آئے گا بلکہ عمومی ہوگا ظالم اور غیر ظالم سب پر آئے گا۔ ) اسی طرح ایک حدیث مبارک میں آیا ہے جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو (اچھے ‘ برے) جو لوگ بھی اس کے اندر ہوتے ہیں سب پر وہ عذاب آتا ہے۔ پھر قیامت کے دن ان کے اعمال کے موافق (الگ ‘ الگ) ان کو اٹھا لیا جائے گا۔ (رواہ البخاری و مسلم من حدیث ابن عمر) حضرت ابوبکر ؓ کی روایت سے اصحاب السنن الاربعہ نے ایک حدیث نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ظالم کو ظلم کرتے دیکھ کر جب لوگ اس کا ہاتھ نہیں پکڑیں گے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ کا عذاب سب پر عموماً آجائے۔ ان دونوں حدیثوں کا اور آیت : وَاتَّقُوْا فِتْنَۃُ.... . . .. کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے خود تو گناہوں کا ارتکاب نہیں کیا لیکن امر بالمعروف کو ترک کردیا اور مجرموں کو گناہ سے نہیں روکا وہ بھی عذاب کے دائرے میں آجائیں گے۔ مسئلہ : کیا میّت کے گھر والوں کے رونے سے میّت پر عذاب ہوتا ہے ؟ علماء سلف کا اس میں اختلاف ہے ‘ صحیحین میں حضرت عبداللہ ؓ بن ملیکہ کی روایت سے آیا ہے کہ حضرت عثمان ؓ بن عفان کی ایک لڑکی کا مکہ میں انتقال ہوگیا۔ ہم جنازہ میں شرکت کے لیے گئے۔ وہاں حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابن عباس بھی موجود تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے عمر بن عثمان سے کہا : کیا تم رونے سے باز نہیں آؤ گے ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ گھر والوں کے رونے سے میّت پر عذاب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضور ﷺ ایسا فرماتے تو تھے۔ پھر حضرت ابن عباس کی ایک حدیث بیان کی اور فرمایا : جب حضرت عمر ؓ زخمی ہوگئے تو صہیب ؓ رونے لگے اور کہنے لگے : ہائے بھائی ! ہائے بھائی ! حضرت عمر ؓ نے فرمایا : صہیب ؓ ! کیا تم مجھ پر رو رہے ہو باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ گھر والوں کے بعض کے گریہ کرنے سے میّت پر عذاب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب حضرت عمر کی وفات ہوگئی تو میں نے اس حدیث کا ذکر حضرت عائشہ ؓ سے کیا۔ امّ المؤمنین نے فرمایا : عمر ؓ پر اللہ کی رحمت ہو۔ خدا کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میّت پر عذاب ہوتا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ کافر کے گھر والوں کے رونے سے اللہ کافر کا عذاب بڑھا دیتا ہے۔ پھر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : تمہارے لیے قرآن کی یہ آیت کافی ہے : لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے اس پر حضرت عمر ؓ نے کچھ نہیں کہا (یعنی تردید نہیں کی) ۔ میں کہتا ہوں حضرت عائشہ ؓ نے جو حضرت عمر ؓ کے بیان کی تغلیط کی ‘ وہ کمزور ہے کیونکہ حضرت عمر ؓ ‘ حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ فقیہ (واقف شریعت) تھے اور حضرت عمر ؓ کی شہادت ‘ شہادت اثبات ہے (جو شہادت نفی کے مقابلہ میں قابل ترجیح ہے) اس کے علاوہ حضرت عمر ؓ کی روایت کی تائید دوسری احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ کا بیان ہے ‘ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ‘ جس پر نوحہ کیا جاتا ہے اس نوحہ کی بقدر اس پر عذاب ہوتا ہے۔ ابو یعلی نے حضرت ابوبکر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مردہ کے) کنبہ والوں کے رونے کی وجہ سے میّت پر گرم پانی ڈالا جاتا ہے۔ اسی قسم کی احادیث ابن حبان کی صحیح میں حضرت انس ؓ اور حضرت عمران بن حصین کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت سمرہ بن جندب کی روایت سے اور ابو یعلی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ والی حدیث صحیح ہے۔ رہا احادیث مذکورہ کا آیت مذکورہ سے تعارض تو اس کو دور کرنے کے لیے بعض اہل علم نے کہا ہے کہ متعلقین کے رونے سے میت پر عذاب ہونا کافر کے لیے ہوتا ہے یا رونے کی وصیت کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ محض رونے کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ بِبُکَاءِ اَھْلِہٖ میں با حالیہ ہے۔ یعنی گھر والوں کے رونے کے وقت میت پر عذاب ہوتا ہے۔ (بَ سببیہ نہیں ہے) ۔ امّ المؤمنین کے دونوں قول ناقابل فہم ہیں۔ اگر متعلقین کے رونے کی وجہ سے میت پر عذاب ہونا صرف کافروں کے لیے مخصوص قرار دیا جائے تو آیت سے تعارض اس صورت میں بھی دور نہیں ہوتا۔ آیت کا حکم تو ہر مؤمن و کافر کے لیے عام ہے اور بعض روایات کے لحاظ سے حدیث مذکور کے بعض الفاظ ایسے ہیں کہ ببکاءِ کی بَ کو حالیہ کہنا درست نہیں ہوسکتا۔ متعلقین کے رونے کی وجہ سے میت پر گرم پانی کا عذاب مسلط ہونا تو آخرت ہی میں ہوسکتا ہے۔ یہ عذاب دوزخ ہی میں ہوگا بکاء متعلقین کے وقت یہ عذاب ہونا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ عذاب دینے سے مراد ہے ملائکہ کا میت کو زجر و تنبیہ کرنا۔ ترمذی ‘ حاکم اور ابن ماجہ نے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ جس میت پر نوحہ کرنے والی عورت نوحہ کرتی اور کہتی ہے : واجبلاہ ‘ واسیداہ اور اس قسم کے دوسرے الفاظ تو اللہ کی طرف سے دو فرشتے اس پر مقرر کیے جاتے ہیں جو میت کو جھڑکتے ہیں اور کہتے ہیں کیا تو ایسا تھا۔ میں کہتا ہوں اس تاویل پر بھی تعارض دفع نہیں ہوتا کیونکہ دوسرے کے فعل پر میت کو جھڑکنا بھی لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی کے خلاف ہے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ عذاب دینے سے مراد یہ ہے کہ متعلقین کے فعل سے میت کو رنج اور دکھ ہوتا ہے۔ طبرانی اور ابن ابی شیبہ نے قیلہ بنت مخرمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قیلہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنے مرے ہوئے لڑکے کا ذکر کیا اور رونے لگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کوئی ہے جو اس چیخنے والی کو زبردستی چپ کرا دے۔ اللہ کے بندو ! اپنے مردوں کو تکلیف نہ دو ۔ ابن جریر نے اسی قول کو پسند کیا ہے اور تمام ائمہ (رح) نے جن میں ابن تیمیہ (رح) : بھی ہیں ‘ اسی تاویل کو اختیار کیا ہے۔ سعید بن منصور راوی ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے کچھ عورتوں کو ایک جنازہ کے ساتھ دیکھا ‘ فرمایا : (لوٹ جاؤ ‘ بار گناہ اٹھانے والیو ‘ ثواب نہ پانے والیو ‘ زندوں سے آگے بڑھ کر مردوں کو دکھ نہ پہنچاؤ۔ “ دفع تعارض کی صحیح صورت یہ ہے کہ حدیث میں میت پر عذاب ہونے سے اس میت پر عذاب ہونا مراد ہو جو (اپنی زندگی میں) مردے پر رونے کا عادی تھا یا جس نے اپنے مرنے کے بعد گھر والوں کو نوحہ کرنے کی وصیت کی ہو یا وصیت نہ بھی کی ہو لیکن اس کو معلوم ہو کہ میرے مرنے کے بعد گھر والے نوحہ کریں گے اور باوجود اس علم کے ان کو پس مرگ نوحہ کرنے سے منع نہ کیا ہو۔ اس توجیہ پر میت پر عذاب ہوگا وہ میت کے اپنے جرم کی وجہ سے ہوگا ‘ دوسرے کے گناہ کا بار اس پر نہ ہوگا۔ امام بخاری (رح) نے اسی قول کو پسند کیا ہے۔